اتوار، 25 اگست، 2024

48 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya 48

 


 🌹48 سلطنت امیہ🌹 

🌹تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی🌹

🌹قسط نمبر 48🌹

🌻94 ھجری : رومیوں سے جہاد، شاش اور خجندہ کی فتح، ہندوستان سے اہل عراق کی واپسی، حضرت سعید بن جبیر کی گرفتاری، حضرت سعید بن جیر کی شہادت، 94 ھجری کا اختتام، 94 ھجری میں جن کا انتقال ہوا، حضرت سعید بن مسیب کا انتقال، حضرت طلق بن حبیب فزی کا انتقال، حضرت عُروہ بن زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت علی (اوسط) بن حسین رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن کا انتقال، 95 ھجری : لشکروں کی واپسی، حجاج بن یوسف کا انتقال، 95 ھجری کا اختتام، 95 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان

🌹94 ھجری : رومیوں سے جہاد🌹

🌻94 ھجری میں ہر سال کی طرح مسلمانوں نے رومیوں سے جہاد کیا بلکہ اِس سال تو رومیوں کے کئی علاقوں پر الگ الگ حملے کئے ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اِس سال 94 ھجری میں عباس بن ولید نے ارض روم میں جہاد کا آغاز کیا اور انطاکیہ فتح کیا ۔ اُس کے بھائی عبدالعزیز بن ولید نے دوسری طرف سے ارض روم پر حملہ کیا شہر عزالہ تک پہنچ گیا ۔ ولید بن ہشام معیطی نے ‘‘میرج الحمام’’ کی سر زمین پر دھاوا بول دیا اور یزید بن ابی کشید ملک شام کی اُس سرزمین پر اتر گا جہاں زلزلہ آیا اوراِسی سال میں مسلمہ بن عبدالملک نے ارض روم میں پہنچ کر سندرہ کو فتح کر لیا ۔ غرض کہ اِسی مبارک سال میں اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ہاتھوں ولید بن عبدالملک کے عہد میں اور اُس کی اولاد و اقرباء و امراء کے دور میں ایسی شاندار اور عظیم کامیابیاں عطا فرمائیں کہ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا مبارک دور کا نقشہ نگاہوں کے سامنے آ گیا ۔ 

🌹شاش اور خجندہ کی فتح🌹

🌻قتیبہ بن مسلمہ ہر سال گرمیوں میں بلاد ترک یا روسی ترکستان پر حملہ کرتا تھا اور کوئی نہ کوئی علاقہ فتح کر لیتا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : 94 ھجری میں قتیبہ بن مسلم جہاد کے لئے لشکر لیکر روانہ ہوا ۔ دریائے جیجون کو عبور کرنے کے بعد اُس نے لازمی فوجی خدمت کے طریقہ پر اہل بخارا ، اہل کش ، اہل نسف اور اہل خوارزم سے بیس ہزار جنگجو سپاہی بھرتی کر لئے ۔ یہ سب کے سب اُس کے ساتھ صغد آئے ۔ یہاں سے اُس نے اور فوجیں تو شاش کی طرف بھیج دیں اور وہ خود لشکر لیکر فرغانہ کی طرف بڑھا ۔ راستے میں شہرخجندہ پہنچا تو وہاں کے حکمراں نے جنگ کی تیاری کر لی ۔ دونوں فوجیں آمنے سامنے آئیں اور کئی لڑائیاں ہوئیں مگر ہر معرکہ میں فتح نے مسلمانوں کا ہی ساتھ دیا ۔ ایک روز لڑائی ختم ہونے کے بعد مسلمان اپنے گھوڑوں پر تفریحاً سواری کرنے لگے ۔ ایک بلند مقام پر ایک بوڑھا شخص ملا اور بولا: ‘‘ آج ہم پر حملہ کرنے کا اچھا موقع تھا ۔ اگر اِس انتشار کی حالت میں ہم سے جنگ ہوتی تو ہمیں شکست کی ذلت نصیب ہوتی ۔ اِس پر ایک دوسرے شخص نے جو اُس کے پہلو میں کھڑا تھا کہا: ‘‘ تمہارا خیال غلط ہے ہم ہر وقت اور ہر حالت میں دشمن سے لڑنے کے لئے مستعد ہیں۔’’بعد ازاں قتیبہ بن مسلم فرغانہ کے شہر کشان آیا ۔ اِس مقام پر وہ تمام فوجیں بھی جنہیں اُس نے شاش پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا تھا اپنا کام پورا کر کے اُس سے آ ملیں ۔ اِن فوجوں نے شہر شاش کو فتح کر لیا تھا اور بہت سارا مال غنیمت لیکر آئے تھے ۔ 

🌹ہندوستان سے اہل عراق کی واپسی🌹

🌻اہل عراق پر حجاج بن یوسف کے مطالم کی وجہ سے حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے آواز اُٹھائی تھی تو انہیں مدینۂ منورہ کی گورنری سے معزول ہونا پڑا تھا ۔اِس کی وجہ حجاج بن یوسف نے یہ سمجھا کہ اہل عراق ہر جگہ اُس کے خلاف سازش کر رہے ہیں ۔ اُس نے مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ میں اپنی پسند کے گورنر مقرر کرائے اور وہاں بھی اہل عراق پر ظلم ہونے لگے ۔ اِس کے علاوہ جو اہل عراق محمد بن قاسم کے ساتھ ہندوستان یعنی سندھ جہاد کرنے کے لئے گئے تھے انہیں بھی حجاج بن یوسف نے واپس بلوا لیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف نے محمد بن قاسم ثقفی کو لکھا کہ اہل عراق کو قتیبہ بن مسلم کے پاس بھیج دو اور جہم بن زحر بن قیس کو اُن کا کمانڈر بنا کر بھیج دوکیونکہ اُس کا اثر اہل شام کے مقابلے میں اہل عراق پر زیادہ ہے ۔ محمد بن قاسم کا مخلص دوست جہم بن زحر تھا۔ اُس نے جہم بن زحر اور سلیمان بن صعصعہ کو اہل عراق کے ساتھ قتیبہ بن مسلم کی طرف روانہ کیا ۔ جہم بن زحر کو رخصت کرتے وقت محمد بن قاسم فرط ِ محبت سے رونے لگا اور کہا: ‘‘ اے جہم بن زحر! آج ہم اور تم جدا ہورہے ہیں ۔’’ جہم بن زحر نے کہا: ‘‘ کیا کیا جائے ! ایک نہ ایک دن جدائی ہونے ہی والی تھی ۔’’

🌹حضرت سعید بن جبیر کی گرفتاری🌹

🌻حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ جب مدینۂ منورہ اور مکۂ مکرمہ کے گورنر تھے تو یہاں بہت امن و سکون تھا اور مسلمانوں کے ساتھ عدل و انصاف کیا جاتا تھا اِسی لئے حجاج بن یوسف کے مظالم کے شکار انہیں دونوں شہروں میں آ کر مقیم ہوتے تھے ۔عثمان بن حیان جب مدینۂ منورہ کا گورنر بنا تو اُس نے حجاج بن یوسف کے حکم کے مطابق مدینۂ منورہ میں موجود اہل عراق پر ظلم و تشدد کیا اور انہیں نکال دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عثمان بن حیان نے ریاح بن عبیداﷲ اور منقذ عراقی کو گرفتار کر کے قید کردیا اور انہیں طرح طرح کی تکلیفیں دیں اور پھر بیڑیاں پہنا کر حجاج بن یوسف کے پاس بھیج دیا ۔ اِس کے علاوہ اُس نے مدینۂ منورہ میں جتنے اہل عراق تھے چاہے تاجر ہوں یا نہ ہوں سب کو نکال دیا ۔ایسا ہی مکۂ مکرمہ کے گورنر خالد بن عبداﷲ نے بھی کیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی گورنری کے زمانے میں اکثر اہل عراق حجاج بن یوسف کے ظلم و جور سے تنگ آ کر مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ چلے آتے تھے اور یہاں اُس کے ہر شر سے بچ جاتے تھے اِن میں حضرت سعید بن جبیر بھی تھے ۔ اُن کو حجاج بن یوسف نے اُس فوج کے وظائف و رسد دینے پر مامور کیا تھا جس فوج کو عبدالرحمن بن اشعث کی سپہ سالاری میں رتبیل سے جنگ کرنے کے لئے بھیجا تھا ۔جب عبدالرحمن بن اشعث نے حجاج بن یوسف کی مخالفت پر کمر باندھی تو سعید بن جبیر بھی اُس کے ہم آہنگ ہو گئے ۔ عبدالرحمن بن اشعث شکست کھا کر رتبیل کے ملک بھاگ گیا تھا اور سعید بن جبیر اصفہان چلے آئے تھے ۔ حجاج بن یوسف نے اصفہان کے گورنر کو لکھا کہ اُن کو گرفتار کر لیا جائے ۔ اصفہان کے گورنر نے سعید بن جبیر کو در پردہ حجاج بن یوسف کے حکم سے آگاہ کردیا تو وہ آذربائیجان چلے آئے ۔ ایک مدت تک وہیں مقیم رہے پھر مکۂ مکرمہ چلے آئے ۔مکۂ مکرمہ میں اُن جیسے بہت سے آدمی حجاج بن یوسف کے کوفہ سے بھاگ آئے تھے ۔ جب خالد بن عبداﷲ مکۂ مکرمہ کا گورنر بنا تو ولید بن عبدالملک نے حکم دیا کہ اہل عراق کو گرفتار کر کے حجاج بن یوسف کے پاس بھیج دو ۔ اُس نے حضرت سعید بن جبیر ، مجاہد اور طلق بن حبیب کو گرفتار کر کے حجاج بن یوسف کے پاس روانہ کیا ۔ طلق بن حبیب کا تو راستے میں ہی انتقال ہوگیا اور مجاہد اور حضرت سعید بن جبیر حجاج بن یوسف کے سامنے پیش کئے گئے ۔

🌹حضرت سعید بن جیر کی شہادت🌹

🌻حضرت سعید بن جبیر جب حجاج بن یوسف کے دربار میں پیش کئے گئے تو اُس نے آپ کو شہید کر دیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف نے حضرت سعید بن جبیر کو گالیاں دیں اور سخت سست کہا پھر بولا: ‘‘ میں جانتا تھا کہ تُو مکۂ مکرمہ میں ہے اور فلاں مکان میں رہ رہا ہے ۔ کیا میں نے تجھے اپنے کام میں شریک نہیں کیا تھا ؟ اور کیا میں نے تجھے عزت نہیں دی تھی ؟ ’’ حضرت سعید بن جبیر نے اِن سب باتوں کو تسلیم کیا ۔ حجاج بن یوسف پھر بولا: ‘‘ اچھا کس چیز نے تجھے میری مخالفت پر اُبھارا؟’’ انہوں نے جواب دیا : ‘‘ میں بھی ایک انسان ہوں اور انسان سے کبھی غلطی ہو جاتی ہے ۔’’ حجاج بن یسف یہ سن کر خوش ہو گیا اور تھوڑی دیر تک اِدھر اُدھر کی باتیں کرتا رہا ۔باتوں کے دوران حضرت سعید بن جبیر کے منہ سے نکل گیا :‘‘ میری گردن میں اُس کی(عبدالرحمن بن اشعث کی) بیعت تھی ۔’’ یہ سن کر حجاج بن یوسف کا چہرہ غصہ سے سرخ ہوگیا اور غضبناک ہو کر بولا: ‘‘ میا میں نے تجھ سے مکۂ مکرمہ میں عبداﷲ بن زبیر کے قتل کے بعد عبدالملک بن مروان کی بیعت نہیں لی تھی ؟ اور پھر اُس کی تجدید میں نے کوفہ میں نہیں کی تھی ؟ ’’ حضرت سعید بن جبیر نے اقرار کیا ۔ حجاج بن یوسف بولا: ‘‘ تُو نے امیر المومنین کی دو بیعتیں توڑ دیں اور اُس رذیل ( عبدالرحمن) کی ایک بیعت کا حق ادا کیا ۔اﷲ کی قسم! میں تجھے مارڈالوں گا ۔’’ حضرت سعید بن جبیر نے کہا: ‘‘ بے شک میں سعید ہوں جیسا کہ میری والدہ نے میرا نام رکھا ہے ۔’’ حجاج بن یوسف نے لپک کر تلوار کا ہاتھ مار کر گردن اُڑا دی اور جوش مسرت سے تین بار تہلیل کی پہلی بار نہایت فصاحت سے اور دو بار جلدی جلدی ۔بیان کیا جاتا ہے کہ حجاج بن یوسف اُس دن بالکل مخبوط ہو گیا تھا اور بار بار ‘‘قیود نا قیودنا’’ کہتا تھا ۔ اِس واقعہ کے بعد حجاج بن یوسف جب بھی سوتا تھا تو حضرت سعید بن جبیر کو خواب میں دیکھتا تھا ۔ وہ اُس کا دامن پکڑ کر کہتے تھے :‘‘ اے اﷲ کے دشمن! تُو نے مجھے کیوں قتل کیا ہے؟’’ اور حجاج بن یوسف خوف زدہ ہو کر جاگ اُٹھتا تھا اور کہتا تھا :‘‘ میرے اور سعید کے درمیان کیا معاملہ ہے؟’’ 

🌹94 ھجری کا اختتام🌹

🌻94 ھجری کے اختتام ہو اور اِس سال کئی گورنر تبدیل ہوئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں:اِس سال کے اختتام پر مکۂ مکرمہ کا گورنر خالد بن عبداﷲ قسری تھا ۔ مدینۂ منورہ کا گورنر عثمان بن حیان تھا ۔ کوفہ کا گورنر زیاد بن جریر تھا ۔ ابوبکر بن موسیٰ کوفہ کے قاضی تھے ۔ بصرہ کا گورنر جراح بن عبداﷲ تھا ۔بصرہ کے قاضی عبدارحمن بن اذینہ تھے ۔ قتیبہ بن مسلم خراسان کا گورنر تھا ۔ ملک مصر کا گورنر قرۃ بن شریک تھا ۔ حجاج بن یوسف ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر تھا اور اِن تمام صوبوں میں وہی گورنر مقرر کرتا تھا ۔ اِس سال کس نے مسلمانوں کو حج کرایا ؟ اِس بارے میں ارباب سیر کا اختلاف ہے ۔امام اسحاق بن عیسیٰ کے مطابق مسلمہ بن عبدالملک نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ امام واقدی کے مطابق اِس سال عبدالعزیز بن ولید نے مسلمانوں کو حج کرایا اور یہ بھی بیان کیا کہ مسلمہ بن عبدالملک نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔

🌹94 ھجری میں جن کا انتقال ہوا🌹

🌻94 ھجری میں کئی بڑے بڑے علماء و فقہا کا انتقال ہوا۔ یہ سال عالم اسلام کے لئے بہت ساری تبدیلیوں والا ثابت ہوا ۔ اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مسلمان مجاہدین چاروں طرف اسلام کا بول بالا کر رہے تھے اور نئے نئے علاقوں میں اسلام کا پیغام پہنچا رہے تھے ۔ قتیبہ بن مسلم روسی ترکستان میں اسلام پہنچا رہا تھا ۔ محمد بن قسم ہندوستان میں اسلام پہنچا رہا تھا اور موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد شمالی افریقہ میں اسلام کو پہنچانے کے بعد اسپین میں اسلام کا پیغام پہنچا رہے تھے۔ مملکت اسلامیہ میں اِس سال گورنروں کی بڑے پیمانے پر تبدیلی ہوئی اور عالم اسلام کے بڑے بڑے رہنماؤں کا اِس سال انتقال ہوا۔

🌹حضرت سعید بن جبیر کی شہادت🌹

🌻اِس سال جلیل القدر تابعی حضرت سعید بن جبیر شہید ہوئے اِس کی تفصیل ہم اوپر لکھ چکے ہیں ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت سعید بن جبیر اسدی کوفی اور مکی ہیں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کے شاگرد ہیں ۔ آپ نہایت ہی نیک اور صالح تھے اور تفسیر وفقیہ اور مختلف علوم کے امام تھے۔ آپ نے کثیر صحابۂ کرام کو دیکھا ہے اور اُن سے روایات بھی بیان کی ہیں ۔ آپ سے بہت سے تابعین نے احادیث روایت کی ہیں ۔آپ کی عُمر کے بارے میں قدرے اختلاف ہے ۔بعض کے مطابق اُنچاس (49) سال تھی اور بعض کے مطابق ستاون (57) سال تھی ۔

🌹حضرت سعید بن مسیب کا انتقال🌹

🌻اِس سال جلیل القدر تابعی حضرت سعید بن مسیب کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت سعید بن مسیب بن حزن مخزومی فرشی سید التابعین میں سے ہیں ۔ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی شہادت سے دو چار سال پہلے پیدا ہوئے ۔ امام حاکم عبداﷲ بیان کرتے ہیں انہوں نے ‘‘عشرۂ مبشرہ’’ کا زمانہ پایا ہے ۔ انہوں نے حضرت عثمان غنی ، حضرت علی المرتضیٰ ، حضرت سعید اور حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہم سے حدیث سماعت کی ہے ۔آپ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ کے داماد ہیں ۔حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں :‘‘ حضرت سعید بن مسیب بڑے متقی اور مطیع الٰہی ہیں۔امام زہری بیان کرتے ہیں : ‘‘میں اُن کے ساتھ سات سال تک رہا ہوں اور اُن سے زیادہ علم میں نے کسی کے پاس نہیں دیکھا ۔’’ امام مکحول بیان کرتے ہیں : ‘‘ میں نے طلب علم کے لئے دنیا بھر کا چکر لگایا

لیکن سعید بن مسیب سے زیادہ کس کو عالم نہیں پایا۔’’ امام ربیع نے امام شافعی کے حوالہ سے کہا ہے کہ حضرت سعید بن مسیب سے منقول ‘‘مرسل’’ کا درجہ بھی ‘‘حسن’’ کے برابر ہے اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک ‘‘صحیح’’ کے برابر ہے ۔ امام واقدی نے کہا :‘‘ حضرت سعید بن مسیب ‘‘فقہا کے انتقال کے سال’’ انتقال کر گئے ۔’’ انتقال کے وقت آپ کی عُمر پچھتر (75) سال تھی ۔

🌹لحضرت طلق بن حبیب فزی کا انتقال🌹

🌻اِس سال 94 ھجری میں حضرت طلق بن حبیب کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت طلق بن حبیب فزی جلیل القدر تابعی ہیں ۔آپ نے حضرت انس بن مالک ، حضرت جابر بن عبداﷲ ، حضرت عبداﷲ بن عباس اور حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے روایات بیان کی ہیں۔ اُن سے حمید الطویل ، الاعمش اور طاؤس نے جو اُن کے ہم عصر تھے روایات بیان کی ہیں۔ آپ کہا کرتے تھے:‘‘ اﷲ کے حقوق اتنے عظیم اور اعلیٰ ہیں کہ بندے اِن کو ادا ہی نہیں کر سکتے اور اﷲ کی نعمتیں حد ِ شمار سے باہر ہیں اور اُن کا شکر بھی انسان ادا نہیں کر سکتا ہے ۔ اِس لئے بندوں پر فرض کے کہ صبح ہو تو توبہ کریں اور شام ہو تو توبہ کریں ۔’’ ۹۴ ؁ ھجری میں جب آپ کو حضرت سعید بن مسیب کے ساتھ گرفتار کر کے حجاج بن یوسف کے پاس بیڑیاں پہنا کر مکۂ مکرمہ سے ملک عراق بھیجا جا رہا تھا تو راستے میں آپ کا انتقال ہو گیا ۔

🌹حضرت عُروہ بن زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کا انتقال🌹

🌻اِس سال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ‘‘حواری’’ اور پھوپھی زاد بھائی حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کے بیٹے حضرت عُروہ بن زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عُروہ بن زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ جلیل القدر تابعی ہیں۔ انہوں نے اپنے والد حضرت زبیر بن عوام ، والدہ سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق ، خالہ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ، اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں۔ تابعین کی کثیر جماعت نے اِن سے بہت سی احادیث بیان کی ہیں۔ امام محمد بن سعدکا بیان ہے کہ حضرت عُروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کثیر الحدیث تھے اور ایسے عالم تھے جن کے متعلق اطمینان کیا جا سکتا ہے ۔امام واقدی لکھتے ہیں : حضرت عُروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ فقیہ ، عالم ، حافظ ، لائق حجت اور سیرت کے عالم تھے اور پہلے شخص ہیں جس نے مغازی تصنیف کی ۔ 

🌹حضرت علی (اوسط) بن حسین رضی اﷲ عنہ کا انتقال🌹

🌻اِس سال 94 حضرت علی اوسط بن حسین رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت علی بن حسین بن علی بن ابی طالب قریشی ہاشمی رضی اﷲ عنہ ‘‘امام زین العابدین’’ کے نام سے مشہور ہیں ۔ حضرت علی اوسط بن حسین رضی اﷲ عنہ اپنے والد ِ محترم کے ساتھ ‘‘کربلا’’ میں تھے اور اتنے زیادہ بیمار تھے کہ کھڑے نہیں ہو سکتے تھے جس کی وجہ سے جنگ میں حصہ نہیں لے سکے اور زندہ رہے ۔ عبیداﷲ بن زیاد نے آپ رضی اﷲ عنہ کو قتل کرنا چاہا لیکن اﷲ کے حکم سے نہیں کر سکا۔ حضرت امام زین العابدین یعنی علی اوسط بن حسین رضی اﷲ عنہ بہت زیادہ متقی ، عبادت گذار اور اﷲ کا خوف رکھنے والے اﷲ کے بندے تھے ۔ جب چلتے تو زمین پر عاجز بندے کی طرح چلتے تھے اُن کی چال میں فخر و غرور کا شائیبہ بھی نہیں تھا ۔ ان کی کنیت ‘‘ابو الحسن’’ تھی ،بعض کے مطابق ‘‘ابو محمد’’ تھی اور بعض کے مطابق ‘‘ابو عبداﷲ’’ تھی ۔ امام طاؤس کہتے ہیں : ‘‘ میں نے دیکھا کہ حضرت علی اوسط بن حسین حجر اسود کے پاس سجدے میں پڑے ہوئے کہہ رہے ہیں:‘‘ اے اﷲ! تیرا بندہ تیرے گھر میں پڑا ہوا ہے ،تیرا بندہ سائل بنا ہوا ہے ، تیرے گھر کے احاطہ میں تجھ سے سوال کر رہا ہے ۔ تیرا فقیر تیرے گھر کی چوکھٹ پر پڑا ہوا تجھ سے بھیک مانگتا ہے ۔ ’’حضرت علی بن حسین رضی اﷲ عنہ رات کو (چھپا کر) صدقات خیرات دیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: ‘‘ رات کا صدقہ و خیرات اﷲ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے ،قلب (دل) کو منور کرتا ہے، قیامت کے دن بندہ کی تاریکی کو دور کرتا ہے اور اﷲ تعالیٰ اِس کے عوض بندہ کو دو مرتبہ عنایت فرماتا ہے ۔’’ جب انتقال ہوا تو لوگوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کی کمر اور کندھوں پر اُس بوجھ کو لاد کر لے جانے کے نشانات دیکھے جو وہ غریبوں اور ناداروں اور مسکینوں کے گھروں تک رات کی تاریکی میں پہنچاتے تھے ۔ امام عبدالرزاق کہتے ہیں : ایک کنیز اُن کے ہاتھ دھلا رہی تھی کہ لوٹا اُس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے نظر اُٹھا کر اُس کی طرف دیکھا تو کنیز نے قرآن پاک کی آیت پڑھی : ترجمہ‘‘ اور غصہ کو ضبط کرنے والے ’’ اِس پر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ میں نے اپنا غصہ ضبط کر لیا ۔ پھر کنیز نے دوسری آیت پڑھی :ترجمہ‘‘ اور لوگوں کو معاف کرنے والے’’ اِس پر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ میں نے معاف کر دیا۔’’ اُس کنیز نے آخری آیت پڑھی :ترجمہ ‘‘ اور اﷲ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے’’ اِس پر حضرت علی بن حسین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ جا تجھے اﷲ کے لئے آزاد کیا۔’’امام ابی الدنیا روایت کرتے ہیں: ایک غلام کے ہاتھ سے گوشت بھوننے کی کڑھائی حضرت علی اوسط بن حسین رضی اﷲ عنہ کے بیٹے کے سر پر گر پڑی ،جس سے وہ مر گیا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ بھاگے ہوئے غلام کے پاس آئے اور اس سے صرف اتنا فرمایا: ‘‘ تم ناقابل اعتماد ہو ، جاؤ آج سے تم آزاد ہو ۔’’ اور بچہ کی تجہیز و تکفین میں لگ گئے ۔اہل تاریخ نے حضرت علی بن حسین رضی اﷲ عنہ کے سنہ انتقال میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن صحیح اور مشہور یہی ہے کہ اُن کا انتقال 94 ھجری میں ہوا اور جنت البقیع میں دفن کیا گیا ۔

🌹حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن کا انتقال🌹

🌻اِس سال فقیہ تابعی حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن بن ہشام بن مغیرہ مدینۂ منورہ کے ساتھ بڑے فقہاء میں سے تھے ۔آپ جلیل القدر تابعی ہیں اور حضرت ابوہریرہ ، سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق ، اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ اور اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا سے احادیث روایت کی ہیں۔ اُن سے بہت سے تابعی جن میں امام زہری اور امام مجاہد قابل ذکر ہیں نے روایات بیان کی ہیں۔ یہ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خلافت کے دور میں پیدا ہوئے اور لوگ انہیں ‘‘قریش کا راہب’’ بھی کہتے تھے ۔ یہ اِس لئے کہ آپ کثرت سے نمازیں پڑھتے تھے ، نابینا تھے اور ‘‘صائم الدھر’’ تھے ۔ ثقہ ، امین ، فقیہ اور صحیح الروایت بھی تھے ۔صحیح یہ ہے کہ ان کا انتقال ۹۴ ؁ ھجری میں ہوا ، کچھ مؤرخین اِن کی سنہ وفات کی تاریخ آگے کی بتاتے ہیں۔واﷲ اعلم۔ 

🌹چند اور فقیہ حضرات کا انتقال🌹

🌻اِس سال 94 ھجری میں چند اور فقیہ حضرات کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال فضل بن فریاد قرشی کا انتقال ہوا جو بڑے عابد و زاہد تھے ۔ ان کے بڑے فضائل و مناقب ہیں ۔اِن کا قول ہے :‘‘ اے شخص! تجھے دنیا ولے بہکا کر تیرے نفس سے تجھے بیگانہ نہ بنا دیں کیونکہ اِس معاملہ کا تعلق خالصتاً تیری ذات سے ہے ،اس لئے تو اپنی صبح کسی کے کہنے سننے سے ضائع نہ کرے جو کچھ تو کرے گا ، وہ تیرے ہی لئے محفوظ رہے گا ۔’’ اِس سال ابو سلمہ بن عوف زہری کا انتقال ہوا ۔ آپ مدینۂ منورہ کے فقہا میں سے تھے اور امام اور عالم تھے ۔انہوں نے بھی بہت سی روایات صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے نقل کی ہیں۔ یہ وسیع العلم تھے اور انتقال مدینۂ منورہ میں ہوا۔ اِس سال عبدالرحمن بن عائذازدی کا انتقال ہوا ۔ آپ بھی عالم تھے اور کثیر الروایات تھے ۔ بہت سی کتابیں ان کی یادگار ہیں ۔صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے انہوں روایات بیان کی ہیں ۔ عبدالرحمن بن اشعث کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا تھا ،اِس میں حجاج بن یوسف نے آپ کو قید کر دیا تھا مگر پھر چھوڑ دیا ۔ اِس سال عبدالرحمن بن معاویہ کو انتقال ہوا ۔ یہ بڑے عالم و فاضل تھے اور اِن سے تابعین نے روایات بیان کی ہیں ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کی مدینۂ منورہ میں گورنری کے زمانے میں آپ قاضی اور پولیس کے سربراہ تھے ۔ 

🌹95 ھجری : لشکروں کی واپسی🌹

🌻95 ھجری کا سال جب شروع ہوا تو چاروں سمت مسلمان مجاہدین فتوحات حاصل کر رہے تھے اور کئی مہینوں تک فتوحات حاصل کرتے اور آگے بڑھتے رہے لیکن اچانک حجاج بن یوسف کا انتقال ہو گیا اور مسلمان مجاہدین کی واپسی شروع ہوگئی ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 95 ھجری میں عباس بن ولید نے بلاد روم میں جنگ کا آغاز کیا اور بہت سے قلعے فتح کر لئے ۔ مسلمہ بن عبدالملک نے بلاد روم کا ایک شہر فتح کیا ۔ اِس سال میں محمد بن قاسم نے ملتان شہر فتح کیا جہاں سے اُس کو بہت سا مال اور دولت حاصل ہوئی ۔ اِس سال موسیٰ بن نصیر اندلس سے واپس آیا اور اندلس سے وہ بہت سارا مال و دولت اور تیس ہزار غلام بھی لیکر آیا ۔ اِس سال قتیبہ بن مسلم نے بلاد شناش فتح کر کے وہاں کے بہت سے شہروں اور علاقوں پر قبضہ کر لیا ۔ جب یہ سب کچھ ہورہا تھا تو حجاج بن یوسف کا انتقال ہوگیا اور اُس کی موت کی خبر ہر طرف پھیل گئی ۔ جس نے سب چیزوں پر پانی پھیر دیا اور مسلمان مجاہدین اپنے شہروں کی طرف واپس ہونے لگے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِ س سال موسیٰ بن نصیر اندلس سے قیروان واپس آیا اور قیروان سے ایک میل کے فاصلے پر ‘‘قصر المامین’’ میں عید الضحیٰ ’’ کی قربانی کی۔ حجاج بن یوسف نے ملک عراق سے ایک فوج قتیبہ بن مسلم کی امداد کے لئے بھیجی تھی وہ فوج ۹۵ ؁ ھجری میں اُس کے پاس پہنچی ۔ اُس نے اُس فوج کو لیکر جہاد کیا اور جب وہ شاش یا کشماہن میں تھا تو اُسے حجاج بن یوسف کے مرنے کی خبر ملی ۔ اِس خبر سے اُسے بہت صدمہ ہوا اور وہ ‘‘مرو’’ کی طرف واپس پلٹا ۔ واپسی میں تمام فوجوں کو منتشر کرتاآ ّیا ۔ کچھ فوج بخارا میں چھوڑی ، کچھ فوج کو کش میں چھوڑا اور کچھ فوج کو نسف میں بھیج دیا اور پھر ‘‘مرو’’ چلا آیا ۔ 

🌹حجاج بن یوسف کا انتقال🌹

🌻اِس سال 95 ھجری میں حجاج بن یوسف کا انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال حجاج بن یوسف کا ماہ شوال المکرم میں انتقال ہو گیا ۔اُس کی عُمر تریپن ( 53) یا چون (54) سال تھی ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ولید بن عبدالملک نے قتیبہ بن مسلم کو لکھا کہ حالات کو جوں کا توں رکھا جائے اور دشمنوں سے جنگ کے بجائے صلح کی بنیاد ڈالی جائے ۔ ولید بن عبدالملک نے قتیبہ بن مسلم کے جنگی کارناموں اور فتوحات اور کامیابیوں کی تعریف کے ساتھ اُس کو انعام سے نوازنے کی خوشخبری بھی سنائی ۔حجاج بن یوسف نے نماز کے علاوہ کوفہ اور بصرہ کا گورنر اپنے بیٹے کو بنا دیا تھا ۔ ولید بن عبدالملک نے اس کی جگہ یزید بن کثیر کو یہ ذمہ داری سونپی اور خراج کی وصولی کاانچارج دونوں صوبوں کے لئے یزید بن مسلم کو بنا دیا ۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ انتظام حجاج بن یوسف خود کر گیا تھا جس کو ولید بن عبدالملک نے برقرار رکھا اور باقی شہروں میں بھی حجاج بن یوسف کے قائم کئے ہوئے گورنروں کو برقرار رکھا گیا ۔ 

🌹95 ھجری کا اختتام🌹

🌻95 ھجری کا اختتام ہوا ۔ اِس سال مکۂ مکرمہ کا گورنر خالد بن عبداﷲ تھا ۔ مدینۂ منورہ کا گورنر عثمان بن حیان تھا ۔ ابوبکر بن موسیٰ کوفہ کے قاضی تھے ۔ بصرہ کا گورنر جراح بن عبداﷲ تھا ۔بصرہ کے قاضی عبدالرحمن بن اذینہ تھے ۔ قتیبہ بن مسلم خراسان کا گورنر تھا ۔ ملک مصر کا گورنر قرۃ بن شریک تھا ۔خراسان کا گورنر قتیبہ بن مسلم تھا ۔ اِس سال عباس بن ولید نے شہر قنسرین فتح کیا اور وضاحی اور اُن کے ہمراہ ایک ہزار آدمی رومیوں کے علاقہ میں ہوئے ۔اِس سال بشر بن ولید نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔

🌹95 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان🌹

🌻اِس سال 95 ھجری میں جن کا انتقال ہوا اُن میں سے چند کے بارے میں پیش ہے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال حسن بن حنفیہ کا انتقال ہوا ۔ اِن کی کنیت ‘‘ابو محمد’’ ہے اور بھائیوں میں سب سے بڑے تھے ۔فقیہ ،عالم تھے اور فقہی اختلافات سے باخبر تھے ۔ ہر چیز کا روشن پہلو دیکھتے تھے ۔ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے مسئلہ ارجاء پر گفتگو کی اور اُس کے متعلق کتابچہ لکھا اور اس پر نادم ہوئے ۔ یہ حضرات عثمان غنی ،علی المرتضیٰ ، طلحہ بن عبید اﷲ اور زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم کے معاملہ میں توقف کے قائل تھے ۔ نہ اُن کے دوست تھے اور نہ اُن کی برائی کرتے تھے ۔ جب اِس کی اطلاع اُن کے والد محمد بن حنفیہ کو ہوئی تو انہوں نے اُن کو مارا اور نہایت برا بھلا کہا اور کہا: ‘‘ افسوس ہے کہ تُو اپنے باپ حضرت علی المرتضیٰ کا بھی دوست نہیں ہے ۔ ابو عبید کے بقول ان کا انتقال 95ھجری میں ہوا اور خلیفہ نے کہا کہ عُمر بن عبدالعزیز کے زمانہ میں ہوا۔ اِس سال حمید بن عبدالرحمن بن عوف کا انتقال ہوا ۔ان کی والدہ اُم کلثوم بنت عتبہ بن ابی معیط تھیں اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی خالہ ہیں ۔ حمید بن عبدالرحمن فقیہ اور جید عالم تھے ،ان سے بہت روایتیں منسوب ہیں ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں