🌹47 سلطنت امیہ🌹
✍️تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی✍️
🌹قسط نمبر 47🌹
🌻ا93ھجری : خوارزم شاہ سے صلح، خوارزم شاہ کے دشمن کا قتل، رومیوں سے جہاد شہرصغد کا محاصرہ، شہر صغد پر قبضہ، سمر قند کی فتح، سمرقند اور خوارزم پر گورنر کی تقرری، موسیٰ بن نصیر کی دعا کی قبولیت، اُندلس (اسپین) کی فتح میں موسیٰ بن نصیر بھی شامل، حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کی معزولی، آخرت کا خوف، ہندوستان میں محمد بن قاسم کی فتوحات، 93 ھجری کا اختتام، حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ کا انتقال، 93 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 🌻
🌹ا93 ھجری : خوارزم شاہ سے صلح🌹
🌻اِس سال قتیبہ بن مسلم نے بادشاہ خوارزم کی درخواست پر اُس کے ملک پر حملہ کرنے کے لئے فوج لیکر چلا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : 93 ھجری میں قتیبہ بن مسلم نے فوجیں مرتب کیں اور جنگ کے لئے ‘‘مرو’’ سے نکلا ۔ اہل خوارزم نے نہ تو جنگ کی تیاری کی اور نہ ہی مورچے قائم کئے اور نہ ہی دھس اور دمدمے باندھے ۔ قتیبہ بن مسلم نے خوارزم کے قریب پہنچ کر ‘‘ہرارب’’ میں پڑاؤ ڈال دیا ۔ اُس وقت بادشاہ خوارزم کے مشیروں کی آنکھیں کھلیں اور انہوں نے خوارزم شاہ کو قتیبہ بن مسلم سے جنگ کرنے کو کہا ۔ بادشاہ خوارزم نے جواب دیا : ‘‘ ہم میں اُس سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے ،ہاں! یہ ہو سکتا ہے کہ کچھ دے کر ہم صلح کر لیں جیسا کہ دوسرے ملکوں کے بادشاہوں نے کیا ہے ۔’’ اراکین حکومت نے اس سے اتفاق کیا ۔ بادشاہ خوارزم صلح کرنے کی غرض سے شہر قیل میں آیا جو ایک نہر کے کنارے آباد ہے اور اُس کے مضبوط بلاد (شہروں) میں سے تھا ۔ نہر کے دوسرے کنارے پر قتیبہ بن مسلم اپنا لشکر لئے ہوئے قیام پذیر تھا ۔ دونوں میں خط و کتابت ہونے لگی ۔ آخر کار دس ہزار غلام اور اسی قدر قیمتی کپڑے و اسباب پر صلح ہو گئی اور اِس صلح نامہ کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ ‘‘خام جرد’’ کے خلاف جنگ میں بادشاہ خوارزم مسلمانوں کی فوجی امداد کرے گا ۔
🌹خوارزم شاہ کے دشمن کا قتل🌹
🌻قتیبہ بن مسلم نے خو ارزم شاہ کے دشمن کی طرف ایک لشکر روانہ کیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : بادشاہ خوارزم سے صلح کرنے کے بعد قتیبہ بن مسلم نے اپنے بھائی عبدالرحمن بن مسلم کو خوارزم شاہ کے دشمن ‘‘خام جرد’’ کی طرف روانہ کیا ۔ عبدالرحمن بن مسلم نے اُس کے ملک پر زبردست حملہ کیا ۔ خام جرد نے مقابلہ کیا اور جنگ کے دوران عبدالرحمن بن مسلم نے اُسے قتل کر دیا اور اُس کے ملک پر قبض ہو گیا اور اُس کے چار ہزار سپاہیوں کو قتل کر ڈالا۔ادھر قتیبہ بن مسلم نے بادشاہ خوارزم کو اُس کے بھائی خرزاد اور اُس کے مخالفین کو گرفتار کر کے اُس کے حوالے کر دیا ۔ بادشاہ خوارزم نے اُن سب کو قتل کر ڈالا اور اُن کے مال و اسباب جمع کر کے قتیبہ بن مسلم کو دے دیئے ۔
🌹رومیوں سے جہاد🌹
اِ س سال 93 ھجری میں مسلمانوں نے رومیوں کے کئی شہر اور قلعے فتح کئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال عباس بن ولید نے رومیوں کے علاقہ میں جہاد کیا اور شہر ‘‘رسمسطیہ’’ فتح کر لیا ۔ اور مروان بن ولید نے رومیوں کے دوسرے علاقے میں فوج کشی کی اور فتح حاصل کرتا ہوا ‘‘حجرہ’’ تک جا پہنچا ۔ اس کے علاوہ مسلمہ بن عبدالملک نے جدید قلعے ‘‘غزالہ اور برجمعہ ’’ کو ‘‘عطیہ’’ کی سمت سے گھس کر فتح کر لیا ۔
🌹شہرصغد کا محاصرہ🌹
🌻قتیبہ بن مسلم خوارزم سے آگے بڑھا اورشہر صغد کا محاصرہ کر لیا ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس کے بعد محشر بن محازم سلمی نے شہر صغد پر حملہ کرنے کی رائے دی اور کہا: ‘‘ اگر شہر صغد پر تمہارا قصد حملہ کرنے کا ہے تو یہ موقع بہت ہی مناسب ہے کیونکہ ان لوگوں کا خیال ہے کہ تمہارے اور اُن کے درمیان بہت بڑی مسافت ہے ۔’’ قتیبہ بن مسلم نے یہ رائے پسند کی اور بات کو خفیہ رکھنے کو کہا۔ دوسرے دن اپنے بھائی عبدالرحمن بن مسلم کو ایک تجربے کار سواروں اور تیر اندازوں کا لشکر دے کر آگے بڑھنے کا حکم دیا ۔ اُس کی روانگی کے بعد قتیبہ بن مسلم نے اپنے لشکر کو جمع کر کے خطبہ دیا اور شہر صغد کی زرخیزی اور سر سبزی کا ذکرکے اﷲ کے دشمنوں سے اُس کو چھین لینے کی ترغیب دی اور سب کے سب لبیک پکار اُٹھے ۔ قتیبہ نے تیاریاں کر کے کوچ کر دیا اور عبدالرحمن بن مسلم کے پہنچنے کے تین دن بعد شہر صغد پہنچ کر محاصرہ کر لیا ۔ اہل شہر نے حصار سے گھبرا کر بادشاہ شاش ، خاقان اور اخشاد فرغانہ سے امداد طلب کی ۔ ان لوگوں نے نامور مشہور شہزادوں ، مر زبانوں اور شہسواروں کو منتخب کر کے خاقان کے بیٹے کی زیر قیادت مسلمانوں پر شب خون مارنے کے لئے روانہ ہوئے ۔ قتیبہ بن مسلم کو اس فوج کے آنے کی اطلاع ہوگئی اور اُس نے بھی اپنے لشکر سے چھ سو سواروں کو منتخب کر کے اپنے بھائی صالح بن مسلم کی زیر قیادت اس لشکر سے مقابلہ کے لئے آگے بھیج دیا ۔ رات کے وقت فریقین میں مڈ بھیڑ ہوئی اور بہت زبردست مقابلہ ہوا ۔ چار گھنٹہ تک کامل جنگ ہوتی رہی اور آخر کار سخت خونریزی کے بعد خاقان کا بیٹا مارا گیا اور دشمن بھاگ گئے ۔ مسلمان طلوع آفتاب کے وقت اپنے لشکر میں واپس آگئے ۔
🌹شہر صغد پر قبضہ🌹
🌻قتیبہ بن مسلم شہر صغد کا محاصرہ کئے ہوئے تھا اور شہر والوں سے باہری مدد ملنے کے ہر امکان کا ختم کر دیا تھا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: قتیبہ بن مسلم کی قلعہ شکن منجنیقیں جو قلعہ کے محاذات پر نصب کی گئی تھیں ۔اُن سے ‘‘شہر پناہ’’ کی فصیل پر سنگ باری یعنی پتھروں کی بارش کر نے لگا ۔میدان کار زار مسلمان مجاہدین سے بھرا ہوا تھا ۔ فصیل پر دھڑا دھڑ پتھر پڑ رہے تھے اور اہل شہر فصیل پر سے مسلمانوں پر تیروں کی بارش کر رہے تھے ۔ مگر مسلمانوں کو اِن تیروں کی پرواہ نہیں تھی اور وہ سینہ سپر ہو کر فصیل کی طرف دوڑتے چلے جاتے تھے ۔ تھوڑی دیر بعد سنگ باری کی وجہ سے قلعہ کی دیوار میں ایک شگاف ہو گیا ۔ جس پر کمال تیزی سے مسلمانوں نے پہنچ کو قبضہ کر لیا ۔ اُس وقت اہل شہر نے مجبور ہو کر صلح کی درخواست پیش کی اور بائیس لاکھ سالانہ مصالحت کر لی۔ اس کے علاوہ تیس ہزار غلام قتیبہ بن مسلم نے لئے ۔ اِس کے بعد اُس نے شہریوں سے کہا کہ وہ مسلمان مجاہدین کے لئے شہر میں جگہ بنائیں اور پھر وہاں پر جامع مسجد بنائی گئی ۔ بعض کا بیان ہے کہ اہل شہر سے یہ اقرار بھی لے لیا گیا تھا کہ وہ بت اور آتشکدوں کے اسباب بھی مسلمانوں کو دے دیں ۔ انہوں نے پچاسی ہزار مثقال سونے کے زیورات اور اسبا ب دیئے ساتھ ہی سونے اور چاندی کے بنے بت بھی تھے جنہیں مسلمانوں پگھلا ڈالا۔ فتح کی بشارت کے ساتھ قتیبہ بن مسلم نے حجاج بن یوسف کے پاس ایک عورت بھی جو آخری کسریٰ یزد گرد کی نسل سے تھی بھیج دیا اور حجاج بن یوسف نے اُسے ولید بن عبدالملک کی خدمت میں بھیج دیا جس سے یزید بن ولید پیدا ہوا۔
🌹سمر قند کی فتح🌹
🌻اِس سال قتیبہ بن مسلم نے سمر قند فتح کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : باہلی کی روایت میں ہے کہ جب قتیبہ بن مسلم جہاد کے لئے روانہ ہوا تو دریا کو اپنے داہیں طرف چھوڑ کر بخارا آیا ۔ اہل بخارا کو اپنے ساتھ جہاد میں شریک ہونے کی دعوت دی اور اُن سب کو لیکر شہر اربجن پہنچا ۔ اِس مقام پر ترکوں کے بادشاہ غوزک نے جس کے ہمراہ ترک ، اہل شاش اور فرغانہ کی ایک کثیر تعداد تھی مسلمانوں سے مقابلہ کیا ۔ کافروں اور مسلمانوں کے درمیان کئی بار جھڑپ ہوئی مگر کوئی بڑی فیصلہ کن جنگ نہیں ہوئی ۔ پھر بھی تمام لڑائیوں میں مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا اور کفار برابر پیچھے ہٹتے گئے ۔ اِس طرح مسلمان بڑھتے بڑھتے ‘‘سمر قند’’ کے سامنے پہنچ گئے ۔ یہاں پر دونوں قریقین کے درمیان اصلی جنگ ہوئی ۔ پہلے تو کافروں نے مسلمانوں پر نہایت ہی جرأت اور بے جگری سے حملہ کیا کہ مسلمانوں کی صفیں درہم برہم ہو گئیں اور کافربڑھتے بڑھتے مسلمانوں کے پڑاؤ تک پہنچ گئے ۔ مگر پھر مسلمانوں نے جوابی حملہ کر کے کافروں کو پھر اُن کے پڑاؤ تک پسپا کر دیا ۔ اِس جنگ میں کافروں کا سخت جانی نقصان ہوا اور انہیں شکست ہوئی اور مسلمان شہر میں داخل ہو گئے ۔ پھر شہر والوں نے مسلمانوں سے صلح کر لی ۔ قتیبہ بن مسلم کے ایک قریبی ساتھی نے بیان کیا ہے کہ جب کافروں نے مسلمانوں کو پیچھے دھکیلنا شروع کیا تو اُس وقت قتیبہ بن مسلم میدان جنگ میں کھلی جگہ پر اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا اور اپنی تلوار سے گاتی باندھے ہوئے تھا ۔جب کفار مسلمانوں کو دباتے ہوئے قتیبہ بن مسلم سے بھی آگے بڑھ گئے تو وہ بھی آگے بڑھ آیا لیکن ابھی وہ تلوار کی گاتی بھی نہیں کھولنے پایا تھا کہ ہمارے لشکر کے دونوں بازوؤں (میمنہ اور میسرہ) نے کافروں پر جس نے ہمارے قلب کو پسپا کر دیا تھا گھیرے میں لیکر حملہ کر دیا اور اُسے شکست دی اور پھر اُن ہی کے لشکر تک پسپا ہونے پر مجبور کر دیا ۔ اُس دن کافروں کے بے شمار آدمی مارے گئے اور مسلمان سمرقند میں داخل ہوگئے اور شہر کے باشندوں نے صلح کر لی۔ بادشاہ غوزک نے مسلمانوں کے لئے کھانا پکوایا اور قتیبہ بن مسلم کو دعوت دی ۔ قتیبہ اپنے لشکر کو لیکر دعوت کھانے آیا اور کھانا کھانے کے بعد قتیبہ بن مسلم نے غوزک سے کہا: ‘‘ اب تم یہاں سے اپنا بوریہ بستر باندھ کر نکل جاؤ ۔’’ اب غوزک مجبور تھا کیا کرتا مجبوراً وہ اپنے اہل و عیال اور محافظوں کو لیکر چلا گیا ۔ اُس وقت قتیبہ بن مسلم نے یہ آیت تلاوت کی :ترجمہ۔‘‘ اﷲ ہی وہ ہے کہ جس نے پہلی قوم عاد کو ہلاک کر ڈالااور قوم ثمود کو بھی باقی نہیں چھوڑا۔’’
🌹سمرقند اور خوارزم پر گورنر کی تقرری🌹
🌻قتیبہ بن مسلم نے سمرقند اور خوارزم کی فتح کے بعد اُن دونوں پر شہروں پر اپنا گورنر مقرر کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : قتیبہ بن مسلم نے اپنے بھائی عبداﷲ بن مسلم کو سمر قند اور خوارزم کا گورنر مقرر کردیا اور ایک زبردست فوج اُس کے پاس متعین کر دیا اور اپنے گورنر کو حکم دیا:‘‘ کسی مشرک کو اُس کے ہاتھ پر مہر لگائے بغیر شہر میں نہیں آنے دینا اور صرف اُس وقت تک اُسے شہر میں رہنے کی اجازت دینا جب تک کہ چکنی مٹی اُس کے ہاتھ پر گیلی رہے ۔ اگر خشک ہونے کے بعد کوئی مشرک شہر میں نظر آئے تو اُسے قتل کر دینا ۔ اِسی طرح اگر کوئی چھرا یا خنجر وغیرہ اُس کے پاس برآمد ہو تو بھی فوراً قتل کر دینا ۔ رات کو ‘‘شہر پناہ’’ کا دروازہ بند ہونے کے بعد اگر کوئی مشرک شہر میں نظر آئے تو اُسے بھی قتل کر دینا ۔’’ چونکہ قتیبہ بن مسلم نے دونوں شہروں کو ایک ہی سال میں فتح کیا تھا اِس لئے اُس نے کہا: ‘‘ اصل میں یہ دوڑ ، دوڑ ہے نہ کہ دو جنگلی گدھوں کے مقابلہ کی دوڑ ۔ کیونکہ مثل یہ ہے کہ اگر کوئی شہسوار ایک ہی دوڑ میں دو گدھوں کا مار گرائے تو کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص دو جنگلی گدھوں کے درمیان دوڑا۔’’ پھر قتیبہ بن مسلم سمر قند سے ‘‘مرو’’ واپس آگیا ۔
🌹موسیٰ بن نصیر کی دعا کی قبولیت🌹
🌻موسیٰ بن نصیر مسلسل کئی سال سے بلادِ مغرب یعنی افریقہ (آج کل کا شمالی افریقہ) میں مسلسل جہاد میں مصروف تھا اور اﷲ تعالیٰ کامیابیاں عطا فرما رہے تھے ۔ اِ س سال 93 ھجری میں اُن علاقوں میں سخت قحط پڑا اور موسیٰ بن نصیر نے نماز استسقاء ادا کی اور اﷲ تعالیٰ سے دعا کی تو اﷲ تعالیٰ نے اُس کی دعا قبول کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال افریقہ میں سخت خشک سالی ہوئی اور اس کی وجہ سے قحط پڑا جس سے افریقہ کے باشندوں کو بہت تکلیف برداشت کرنی پڑی ۔ موسیٰ بن نصیر مسلمانوں کے ساتھ شہر سے باہر نکلا اور نماز استسقاء پڑھائی اور نصف النہار تک دعا میں مصروف رہا ۔ خطبہ بھی پڑھا ۔ جب منبر پر سے اُترنے لگا تو لوگوں نے کہا: ‘‘ آپ نے امیر المومنین کے لئے دعا کیوں نہیں مانگی؟’’ موسیٰ بن نصیر نے کہا: ‘‘ یہ وقت اُن کے لئے دعا کرنے کا نہیں ہے ۔’’ اﷲ تعالیٰ نے موسیٰ بن نصیر کی دعا کو قبول فرمایا اور اتنی بارش برسائی کہ کچھ عرصہ بعد اِس علاقے میں ہر طرف سر سبزی ہوگئی ۔
🌹اُندلس (اسپین) کی فتح میں موسیٰ بن نصیر بھی شامل🌹
🌻طارق بن زیاد اُندلس یعنی اسپین میں مسلسل فتوحات حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھتا جارہا تھا ۔ موسیٰ بن نصیر نے اُسے حکم دیا تھا کہ وہ جہاں ہے وہیں رُکے لیکن اسپین میں حالات ایسے تھے کہ طارق بن زیاد کو مسلسل جہاد میں رہنا پڑ رہا تھا ۔ اِسی لئے وہ نہیں رُکا جس کی وجہ سے موسیٰ بن نصیر اُس سے ناراض ہو گیا اور خود بھی لشکر لیکر اسپین پہنچا ۔ جب طارق بن زیاد نے اُس سے ملاقات کر کے تمام حالات بتائے تو اُس کی ناراضگی ختم ہوگئی اور دونوں سپہ سالار الگ الگ علاقوں سے اسپین پر حملہ آور ہوئے اور مسلسل فتوحات حاصل کرنے لگے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: 93 ھجری میں موسیٰ بن نصیر اپنے سپہ سالار طارق بن زیاد سے ناراض ہوا اور ماہ رجب المرجب میں اُس کے پاس جانے کے لئے روانہ ہوا ۔ موسیٰ بن نصیر کے ساتھ حبیب بن نافع فہری بھی تھا ۔ قیروان سے روانہ ہوتے وقت موسیٰ بن نصیر نے اپنے بیٹے عبداﷲ بن موسیٰ کو اپنی جگہ گورنر بنایا اور دس ہزار فوج لیکر آبنائے ‘‘جبل االطارق’’ کو عبور کر کے اُندلس (اسپین) کی سرزمین پر قدم رکھا ۔ طارق بن زیاد نے اُس کا استقبال کیا اور اُس کی ناراضی کو دور کر دیا ۔ موسیٰ بن نصیر بھی اُس سے خوش ہو گیا اور اُسے ‘‘طلیطلہ’’ (جو اندلس کا ایک بہت بڑا شہر تھا) کی طرف حملہ کرنے کے لئے بھیج دیا اور خود دوسری طرف سے حملہ کرنا شروع کر دیا ۔ اب اسپین میں ایک طرف سے طارق بن زیادشہروں کو فتح کرتا جارہا تھا اور دوسری طرف سے موسیٰ بن نصیر شہروں کو فتح کرتا جا رہا تھا ۔ طارق بن زیاد نے جب ‘‘طیطلہ’’ کو فتح کیا تو اُسے حضرت سلیمان علہ السلام کا وہ دستر خوان ملا جس میں اِس قدر سونا اور چاندی لگا ہوا تھا کہ اُن کی قیمت کا اندازہ صرف اﷲ تعالیٰ ہی خوب کر سکتا ہے ۔
🌹حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کی معزولی🌹
🌻اِس سال ولید بن عبدالملک نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کو ایسا عمل کرنے کا حکم دیا جسے آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے انتہائی بے دلی اور ناراضگی سے انجام دیا ۔ اِس کے بعد آپ رحمتہ اﷲ علیہ کا دل اِس عہدے سے پھیکا پڑ گیا اور آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے ظلم کے خلاف آواز اُٹھائی تو ولید بن عبدالملک نے آپ رحمتہ اﷲ علیہ کو معزول کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ولید بن عبدالملک کے حکم سے حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے خبیب بن عبداﷲ بن زبیر کو پچاس کوڑے لگوائے اور سخت سردی میں پانی کی پکھال اُن کے اُوپر ڈلوائی اور پھر انہیں مسجد کے دروازے پر کھڑا رکھا اور اِس کی وجہ سے اُن کا انتقال ہو گیا ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے یہ حکم بے دلی سے پورا تو کر دیا لیکن اِس کے بعد آپ نے ظلم کے خلاف آواز اُٹھائی ۔ حجاج بن یوسف کے مظالم کے شکار جب حج کرنے آتے تھے تو حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو حجاج بن یوسف کے مظالم کے بارے میں بتاتے تھے ۔ آپ نے ولید بن عبد الملک کو حجاج بن یوسف کے مظالم سے آ گاہ کیا کہ وہ عوام پر بلا وجہ بے قصور مظالم کرتا ہے۔ حجاج بن یوسف کو بھی اِس کی اطلاع مل گئی اور اُس نے ولید بن عبدالملک کو لکھا: ‘‘ اہل عراق میں سے جو ہمارے خلاف تھے اور آپس میں پھوٹ اور نفاق ڈلوانا چاہتے تھے ۔ وہ ملک عراق سے جِلا وطن کر دیئے گئے ہیں اور انہوں نے مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ میں جا کر پناہ لی ہے مگر اِس کے نتائج خطر ناک ہوں گے ۔’’ عبدالملک بن مروان نے وصیت کی تھی کہ حجاج بن یوسف پر ہمیشہ بھروسہ کرنا ۔اِسی لئے ولید بن عبدالملک نے اپنے چچا زاد بھائی اور بہنوئی حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو معزول کرنے کا فیصلہ کر لیا اور حجاج بن یوسف کو لکھا: ‘‘ تم گورنری کے لئے دو شخصوں کا نام پیش کرو۔’’ حجاج بن یوسف نے عثمان بن حیان اور خالد بن عبداﷲ کے نام پیش کئے ۔ ولید بن عبدالملک نے خالد بن عبداﷲ کو مکۂ مکرمہ کا اور عثمان بن حیان کو مدینۂ منورہ کا گورنر مقرر کر دیا اور حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کو معزول کر دیا ۔
🌹آخرت کا خوف🌹
🌻حضرت عُمر بن عبد العزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے ولید بن عبدالملک کے حکم کو انتہائی بیزاری سے پورا کیا لیکن اِس حکم کو پورا کرنے میں حضرت خبیب بن عبداﷲ بن زبیر کی جان چلی گئی ۔ اِس واقعہ نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ پر اتنا گہرا اثر ڈالا کہ آپ اِس کے بعد ہمیشہ آخرت کے خوف سے روتے رہے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت خبیب بن عبداﷲ بن زبیر کی موت کے بعد حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ سخت خوف زدہ رہنے لگے تھے اور جب کوئی شخص آخرت کی بشارت دیتا تھا تو وہ کہتے تھے :‘‘ کیا کہتے ہو؟ حضرت خبیب بن عبداﷲ بن زبیر میرے راستے میں ہیں۔’’ اور پھر اِس طرح گریہ و زاری کر کے رونے لگتے تھے جیسے کوئی نامراد بیوہ عورت روتی ہے ۔ جب لوگ اُن کی تعریف و توصیف کرتے تھے تو آپ کہتے تھے:‘‘ اگر میں حضرت خبیب بن عبداﷲ بن زبیر کی وجہ سے پکڑ میں نہ آؤں تو سمجھ لو کہ خیر ہے ورنہ میرا انجام نہ جانے کیا ہوگا؟’’ وہ مدینۂ منورہ کے گورنر تھے اور حضرت خبیب بن عبداﷲ بن زبیر کے کوڑے لگنے تک رہے مگر اِس واقعہ نے آپ کی زندگی کو بالکل ہی بدل دیا اور ہمیشہ ملول و اُداس رہنے لگے اور عبادت کے ساتھ گریہ و زاری میں زندگی گزار دی ۔ اِس حزن و ملا ل اور سخت خوف نے اُن کی زندگی کو یکسر بدل دیا تھا اور وہ پہلے سے زیادہ عدل و انصاف ، صدقہ و خیرات اور غلاموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کی طرف مائل ہو گئے تھے ۔
🌹ہندوستان میں محمد بن قاسم کی فتوحات🌹
🌻محمد بن قاسم ہندوستان میں مسلسل فتوحات حاصل کر رہا تھا اور آگے بڑھتا چلا جارہا تھا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اِس سال 93 ھجری میں حجاج بن یوسف کے رشتہ دار محمد بن قاسم نے ‘‘دیبل’’ ( کراچی) اور سندھ کے دوسرے شہر فتح کئے ۔ حجاج بن یوسف نے جب محمد بن قاسم کو ہندوستان کی مہم پر سپہ سالار بنا کر بھیجا تو اُس وقت اُس کی عُمر صرف سترہ(۱۷) سال کی تھی ۔وہ سندھ میں برابر پیش قدمی کر رہا تھا کہ اُس کے مقابلے پر راجہ داہر اپنی فوج لیکر آگیا جس میں ہاتھی بھی تھے ۔ داہر کی فوج میں اُس وقت بڑے جنگجو اور بہادر لوگ تھے اور ستائیس(27) منتخب اور چیدہ ہاتھی بھی تھے ۔ جب دونوں فوجیں آمنے سامنے آئیں تو گھمسان کا رن پڑا اور داہر اور اُس کی فوج کے بہت سے سپاہی مارے گئے ۔ مسلمانوں نے بھاگتے ہوئے کافروں کا تعاقب کیا اور اُن کو بھی موت کے گھاٹ اُتار دیا ۔ اِس کے بعد محمد بن قاسم کیرج اور برہا کو فتح کرنے کے لئے آگے بڑھا اور بہت سا مال غنیمت اور بے شمار زرو جواہر حاصل کیا ۔
🌹93 ھجری کا اختتام🌹
🌻93 ھجری کے اختتام پر مسلمان تین بڑے علاقوں میں مسلسل جہاد میں مصروف تھے ۔ محمد بن قاسم ہندوستان میں مسلسل فتوحات حاصل کرتا جا رہا تھا ۔ قتیبہ بن مسلم روسی ترکستان میں مسلسل فتوحات حاصل کرتا جارہا تھا اور موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد اُندلس یعنی اسپین میں مسلسل فتوحات حاصل کرتے جارہے تھے ۔ اِس سال کے اختتام پر حجاج بن یوسف ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر تھا ۔ ملک مصر کا گورنر عبداﷲ بن عبدالملک تھا ۔ افریقہ کا گورنر موسیٰ بن نصیر تھا ۔ خراسان کا گورنر قتیبہ بن مسلم تھا ۔ مکۂ مکرمہ کا گورنر خالد بن عبداﷲ تھا اور مدینۂ منورہ کا گورنر عثمان بن حیان تھا ۔ اِس سال مسلمانوں کو حج عبدالعزیز بن ولید نے کرایا۔
🌹حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ کا انتقال🌹
🌻اِس سال 93 ھجری میں رسول اﷲ صلی علیہ وسلم کے خاص خادم حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار کے ہیں آپ رضی اﷲ عنہ کی والدہ محترمہ سیدہ اُم سُلیم رضی اﷲ عنہا ہیں جن کا نام ملیکۃ بنت ملجان ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہا کا شوہر مالک کافر تھا اور آپ رضی اﷲ عنہا کے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے طلاق دے دیا تھا ۔ بعد میں حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ عنہ نے نکاح کر لیا ۔ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے کافی احادیث بیان کی ہیں اور اہم علوم سے بھی واقف تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرات ابوبکر صدیق ، عُمر فاروق ، عثمان غنی اور عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہم سے بھی روایات بیان کی ہیں اور اُن سے تابعین نے روایات بیان کی ہیں۔ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں :‘‘ جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مدینۂ منورہ تشریف لائے تو میری عُمر دس سال تھی اور جب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو میری عُمر بیس سال تھی ۔’’ حضرت ثمامہ رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں:کسی نے آپ رضی اﷲ عنہ سے پوچھا: ‘‘ کیا آپ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے ؟’’ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ میں بھلا غزوہ بدر سے کیسے غائب ہو سکتا ہوں؟’’ ایک انصاری نے کہا: ‘‘ یہ غزوۂ بدر میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت کر رہے تھے ۔’’ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں: ‘‘ مجھے میری والدہ محترمہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں ۔ اُس وقت میں لڑکا تھا ۔اِس لئے انہوں نے مجھے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے عرض کیا: ‘‘ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم!یہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ادنیٰ خادم ہے ۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اِس کے لئے دعا کر دیں۔’’ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ‘‘ اے اﷲ!اِس کو کثیر مال و اولاد دے اور جنت میں داخل کر۔’’ایک روایت کے مطابق اُن کے چچا حضرت ابوطلحہ رضی اﷲ عنہ نے انہیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں لیکر آئے اور عرض کیا: ‘‘ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! اِس کی والدہ محترمہ نے اِسے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت کے لئے پیش کیا ہے اورکہا ہے کہ یہ انس بہت سمجھ دار ہے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت کرے گا اور میں نے انس کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے وقف کر دیا ہے ۔’’ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا ۔ پھر عرض کیا :‘‘ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! اِس کے لئے دعا کردیں۔’’ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دعا فرمائی :‘‘ اے اﷲ! تُو انس کو کثیر مال اور اولاد دے اور جنت میں داخل کر۔’’ حضرت انس رضی اﷲعنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بصرہ منتقل ہو گئے تھے اور وہاں آپ رضی اﷲ عنہ کے چار مکانات تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کو حجاج بن یوسف نے کافی تکلیفیں پہنچائیں اور یہ عبدالرحمن بن اشعث کی بغاوت کے سبب سے تھا ۔ حجاج بن یوسف کو وہم ہو گیا تھا کہ شاید آپ رضی اﷲ عنہ کا بھی اِس معاملہ سے کچھ تعلق ہے یا آپ رضی اﷲ عنہ نے اِس سلسلے میں کوئی فتویٰ دیا ہے ۔ جس کی وجہ سے اُس نے آپ رضی اﷲ عنہ پر کافی سختی کی جس کی شکایت آپ رضی اﷲ عنہ نے عبدالملک بن مروان سے کی ۔ اُس نے اِس بارے حجاج بن یوسف کو بہت سخت خط لکھا جس سے وہ گھبرا گیا اور مصالحت کر لی ۔ موسیٰ سنبلاوی کہتے ہیں : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے عرض کیا : ‘‘ آپ رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے باقی رہ جانے والے آخری صحابی ہیں؟’’ اِس کا جواب انہوں نے یہ دیا : ‘‘ یوں تو پوری عرب قوم باقی ہے البتہ صحابہ رضی اﷲ عنہم میں سے میں آخری زندہ رہنے والا ہوں۔’’ عُمر بن سبہ وغیرہ کہتے ہیں :‘‘ انتقال کے وقت حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ کی عُمر ایک سو سات (107) سال تھی ۔ امام احمد نے اپنی مسند میں چورانوے (94) سال لکھی ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کے سنہ انتقال میں لوگوں کا اختلاف ہے ۔ بعض نے کہا کہ 90 ھجری سے قبل انتقال ہوا ۔ بعض نے 91 ھجری ، بعض نے 92 ھجری اور بعض نے 93 ھجری بتائی ہے ۔ واﷲ و اعلم۔
🌹93 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان🌹
🌻اِس سال 93 ھجری میں جن کا انتقال ہوا اُن میں سے چند یہ ہیں ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 93 ھجری میں بلال بن ابی الدردا ء کا انتقال ہوا ۔ یہ پہلے دمشق کے گورنر بنے ، پھر انہیں وہیں ‘‘عہدۂ قضاء’’ ( سُپریم کورٹ کا جج) پر مامور ہوئے ۔ اِس کے بعد عبدالملک بن مروان نے انہیں اِس عہدے سے معزول کر کے ابو ادریس خولانی کا تقرر کر دیا ۔ بلال بن ابی الدرداء عمدہ سیرت و کردار کے آدمی تھے اور کثیر العبادت بھی تھے اور بظاہر جو قبر دمشق کے ‘‘باب الصغیر’’ کے پاس ہے وہ انہی ‘‘ابوالدرداء’’ کی ہے یعنی بلال بن ابو الدرادء کی۔ نہ کہ بلال بن حمامہ کی جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے مؤذن تھے کیونکہ مؤذن بلال داریا میں دفن ہیں۔ واﷲ و اعلم۔اِس سال بشر بن سعید مزنی کا انتقال ہوا ۔ آپ سید الفقیہ اور عابد تھے ۔ آپ کا شمار متقی اور نہایت عبادت گذاروں میں ہوتا تھا ۔ مدینۂ منورہ میں انتقال ہوا۔ اِس سال زراہ بن اوفی کا انتقال ہوا ۔ یہ ابن حاجب عامری کہلاتے تھے ۔ بصرہ کے قاضی تھے اور اہل بصرہ میں علماء کبار اور صالحین میں شمار ہوتے تھے ۔ اِن سے کثیر روایات منسوب ہیں ۔ ایک دن صبح کی نماز میں سورہ المدثر تلاوت کر رہے تھے ۔ جب آیت :ترجمہ‘‘ جب صور پھونکا جائے گا۔’’ پر پہنچے تو گر پڑے اور اﷲ کو پیارے ہو گئے ۔ اِن کا انتقال بصرہ میں اور اُس وقت عُمر ستر (70) سال تھی ۔ اِس سال حضرت خبیب بن عبداﷲ بن زبیر کا انتقال ہوا۔ اِن کو ولید بن عبدالملک نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے ہاتھوں پٹوایا تھا ۔ اِس عمل پر وہ زندگی بھر افسوس کر کے روتے رہے ۔ حضرت خبیب بن عبداﷲ بن زبیر کا انتقال مدینۂ منورہ میں ہوا۔ اِس سال حفص بن عاصم کا انتقال ہوا ۔ یہ عُمر بن خطاب مدنی کے بیٹے ہیں۔ اِن سے کثیر روایات منسوب ہیں ۔ صالحین میں سے تھے اور مدینہ منورہ میں انتقال ہوا۔ اِس سال سعید بن عبدالرحمن کا انتقال ہوا ۔ یہ عتاب بن اُسید کے بیٹے ہیں ۔ بصرہ کے شرفاء میں سے تھے ۔ نہایت سخی اور فیاض الطبع شخص تھے اور سخاوت و کرم کے لئے اُن کی مثال دی جاتی تھی ۔ اِس سال فروہ بن مجاہد کا انتقال ہوا۔ اِس سال ابو الشعثا جابر بن یزید کا انتقال ہوا ۔ ابوالشعثا کہتے تھے :‘‘ کسی مسکین پر خرچ کیا ہوا ایک حبہ مجھے حج سے زیادہ محبوب ہے ۔ ابوالشعثا اُن لوگوں میں سے تھے جو صاحب علم ہوتے ہیں ۔ یہ بصرہ میں فتوے بھی دیا کرتے تھے ۔ حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ جیسے صحابی سے جب اہل عراق کوئی مسئلہ دریافت کرتے تو آپ رضی اﷲ عنہ فرماتے : ‘‘ جب تمہارے یہاں ابو الشعثا جیسے لوگ موجود ہیں تو ہم سے مسئلہ پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟’’ابولشعثا نے صحابۂ کرام کی متعد بہ جماعت سے روایات بیان کی ہیں اور اِن کی اکثر و بیشتر روایات حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اور حضرت عبداﷲ بن عباس رضی عنہ سے منقول ہیں۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں