پیر، 26 اگست، 2024

46 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya 46



 ا46 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 46

آل مہلب کی ولید بن عبدالملک کے پاس روانگی، سلیمان بن عبدالملک کا خط، آل مہلب کو معافی، 90 ھجری کا اختتام، 90 ھجری میں جن اعیان کا انتقال ہوا، موسیٰ بن نصیر کی بلاد مغرب ( شمالی افریقہ)میں فتح، مسجد نبوی کی توسیع کا جائزہ، حضرت سعید بن مسیب کا مرتبہ، ولید بن عبدالملک کا مسجد نبوی میں خطبہ، 91 ھجری کا اختتام، حضرت سہل بن ساعدی رضی اﷲ عنہ کا انتقال، 92 ھجری : فتح اُندلس (اسپین)، سجستان پر حملہ، خوارزم شاہ کی درخواست، 92 ھجری کا اختتام، 

آل مہلب کی ولید بن عبدالملک کے پاس روانگی

سلیمان بن عبدالملک نے آل مہلب کو پناہ دے دی اور اِس کی اطلاع اپنے بھائی ولید بن عبدالملک کو بھی دے دی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حجاج بن یوسف نے ولید بن عبدالملک کو لکھا :‘‘ آل مہلب نے اﷲ کے مال میں خیانت کی ہے اور مجھ سے بھاگ کر سلیمان بن عبدالملک کے پاس پناہ لی ہے ۔’’ اِس سے پہلے ولید بن عبدالملک اور حجاج بن یوسف نے یہ احکامات دے دیئے تھے کہ تمام فوجیں خراسان میں جمع ہو جائیں کیونکہ ہر شخص کا یہی خیال تھا یزید بن مہلب کے بہت سارے طرفدار خراسان میں ہیں اِس لئے وہ وہیں جائے گا ۔ جب ولید بن عبدالملک کو یہ بات معلوم ہوئی کہ یزید بن مہلب پناہ کے لئے سلیمان بن عبدالملک کے پاس آیا ہے تو اُس کے دل میں جو اندیشہ تھا وہ ختم ہوگیا اور روپیہ کے متعلق جو اُسے یزیدبن مہلب کے بارے میں معلوم ہوا تھا اُس تعلق سے بھی غصہ ختم ہو گیا ۔ سلیمان بن عبدالملک نے اپنے بھائی ولید بن عبدالملک کو لکھا : ‘‘ آل مہلب نے میرے پاس آ کر پناہ لی ہے ۔ اُن پر صرف تیس لاکھ درہم واجب الادا ہیں مگر حجاج بن یوسف نے ساٹھ لاکھ کا مطالبہ کیا ہے ۔ اُن لوگوں نے تیس لاکھ تو ادا کر دیئے ہیں اور بقیہ رقم میں اپنے ذمہ لیتا ہوں۔’’ ولید بن عبدالملک نے سلیمان بن عبدالملک کو لکھا :‘‘ جب تک تم آل مہلب کو میرے پاس نہیں بھیجو گے اُس وقت تک میں انہیں امان نہیں دوں گا ۔’’ سلیمان بن عبداللک نے جواب میں لکھا :‘‘ اگر میں آل مہلب کو آپ کی خدمت میں بھیجوں گا تو خود میں بھی اُن کے ہمراہ حاضر خدمت ہوں گا اور آپ سے اﷲ کا واسطہ دے کر عرض کروں گا کہ آپ مجھے رسوا نہ کریں اور جو وعدہ ٔ امان میں نے انہیں دیا ہے اُس میں دست اندازی نہ کریں۔’’ ولید بن عبدالملک نے لکھا: ‘‘ اگر تم اُن کے ہمراہ آؤ گے تو اﷲ کی قسم! میں ہر گز امان نہیں دوں گا۔’’ جب معاملہ کی نزاکت اِس حد تک پہنچ گئی تو یزید بن مہلب نے سلیمان بن عبدالملک سے کہا: ‘‘ آپ مجھے بھیج دیجیئے کیونکہ میں یہ ہر گز نہیں چاہتا کہ محض میری وجہ سے آپ کے اور ان کے تعلقات خراب ہو جائیں اور لوگوں کو میرے متعلق چہ مگوئیاں کرنے کا موقع ملے کہ بھائی بھائی میں پھوٹ ڈلوا دی ۔ آپ مجھے بھیج دیں اور میرے ساتھ اپنے بیٹے کو بھی بھیج دیں اور ایک خط نہایت نرم اور نلائم لہجہ میں لکھ کر اپنے بیٹے کے ہاتھ امیر المومنین کو میری سفارش کے لئے بھیج دیں۔’’ سلیمان بن عبدالملک نے آل مہلب کے ساتھ اپنے بیٹے ایوب بن سلیمان کو بھی ولید بن عبدالملک کی خدمت میں روانہ کیا ۔ 

سلیمان بن عبدالملک کا خط

ولید بن عبدالملک کے حکم کے مطابق سلیمان بن عبدالملک نے آل مہلب کو اُس کے دربار میں روانہ کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ولید بن عبدالملک کا حکم تھا کہ آل مہلب کو بیڑیاں پہنا کر دربار میں حاضر کیا جائے ۔ اِس لئے سلیمان بن عبدالملک نے اُن کو بیڑیاں ڈال کر روانہ کردیا اور اپنے بیٹے ایوب بن سلیمان سے کہا: ‘‘ جب امیر المومنین کی خدمت میں جانے لگنا تو تم بھی آل مہلب کی طرح تم بھی بیڑیاں پہن لینا ۔’’جب یہ سب ولید بن عبدالملک کے پاس پہنچے تو ایوب بن سلیمان نے اپنے والد کے حکم کی تعمیل کی اور تمام آل مہلب کے ساتھ خود بھی بیڑیاں پہنے ہوئے دربار میں حاضر ہوا ۔ جب ولید بن عبدالملک نے اپنے بھتیجے کو بھی بیڑیاں پہنے ہوئے دیکھا تو بولا :‘‘ سلیمان نے تو انتہا کر دی ۔’’پھر ایوب بن سلیمان نے اپنے والد کا خط اپنے چچا کو دیا اور بولا:‘‘ اے امیر المومنین! میں آپ پر قربان ہوجاؤں کہ آپ اس عہد کی حفاظت کریں ۔ آپ اس شخص کی اُمیدوں کو خاک میں نہ ملائیں جس نے صرف ہمارے آپ کے تعلقات ہی کی وجہ سے ہماری پناہ لی اور اُس شخص کو رسوا نہ کریں جو ،محض اِس وجہ سے کہ آپ ہماری عزت کرتے ہیں باقی ساری دنیا کو چھوڑ کر ہمارے پاس اپنی عزت و آبرو بچانے کی اُمید لے کر آیا ہے ۔ پھر ایوب بن سلیمان نے اپنے والد کا خط پڑھ کر سنایا : ‘‘ یہ خط ولید بن عبدالملک کے نام سلیمان بن عبدالملک کی جانب سے ! حمد و ثناء کے بعد ! امیر المومنین! میرا خیال تھا کہ اگر آپ کسی ایسے شخص کو بھی جس نے آپ کے خلاف سر کشی اور بغاوت کی ہو ،پناہ اور وعدۂ امان دے دوں گا تو آپ میرے اِس وعدۂ امان اور حفاظت کے ذمہ کو کالعدم کر کے مجھے رسوا نہیں کریں گے ۔ حلانکہ اس وقت تو میں نے ایسے شخص کو پناہ دی ہے جو ہمیشہ فرمانبردار اور اطاعت شعار رہا ہے ۔ اس نے اور اس کے والد نے اور تمام خاندان نے اسلام کی خدمت میں وہ کارہائے نمایاں کئے ہیں جنہیں سب جانتے ہیں ۔ میں نے اسے آپ کی خدمت میں بھیج دیا ہے اور اب آپ مختار ہیں ۔ چاہیں تو جو کچھ وعدۂ امان اور ذمۂ حفاظت میں نے اپنے سر لیا ہے اُسے توڑ دالیں اور اِس طرح مجھے سخت رنج پہنچائیں اور تعلقات کو منقطع کر دیں ۔ مگر میں آپ سے اﷲ کا واسطہ دے کر عرض کرتا ہوں کہ آپ تعلقات ہر گز منقطع نہ کریں اور میرے حال پر آپ کی جو مہربانیاں اور عنایتیں ہیں انہیں ترک نہ کریں ۔’’

آل مہلب کو معافی

سلیمان بن عبدلملک نے اپنے بھائی سے انتہائی درد مندانہ اپیل کی جس کی وجہ سے ولید بن عبدالملک بھی بہت متاثر ہوا اور آل مہلب کو معاف کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : خط پڑھ کر ولید بن عبدالملک نے کہا: اچھا ہم نے سلیمان بن عبدالملک پر عنایت اور مہر بانی کی ۔’’ پھر اپنے بھتیجے کو اپنے پاس بلا کر بٹھایا ۔ اب یزید بن مہلب نے تقریر شروع کی:‘‘ اﷲ کی حمد اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ثناء کے بعد اُس نے کہا: ‘‘ اے امیر المومنین! ہم پر آپ کے احسانات بہت زیادہ ہیں ۔ چاہے کوئی اور انہیں بھول جائے مگر ہم نہیں بھول سکتے ۔چاہے لوگ مانیں یا نہ مانیں مگر ہم ہمیشہ معترف رہیں گے ۔ ہمارے خاندان نے آپ کی اطاعت و فرمانبرداری میں مشرق و مغرب میں آپ کے دشمنوں کے خلاف جو نمایاں خدمات انجام دی ہیں وہ ظاہر ہیں۔ مگر پھر بھی آپ ہی کے احسانات ہم پر زیادہ ہیں جس کا کوئی معاوضہ نہیں ہو سکتا ہے ۔ ’’ ولید بن عبدالملک نے یزید بن مہلب سے کہا: ‘‘ بیٹھ جاؤ ۔’’ یزید بن مہلب بیٹھ گیا ۔ ولید بن عبدالملک نے اُسے معافی دے دی اور یزید بن مہلب واپس سلیمان بن عبدالملک کے پاس آگیا ۔ ولید بن عبدالملک نے حجاج بن یوسف کو لکھ دیا کہ چونکہ آل مہلب سلیمان بن عبدالملک کے پاس ہیں اِس لئے میں اُن کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرنا چاہتا ۔ تم بھی اُسے اُس کے حال پر چھوڑ دو اور اب آئندہ اس کے بارے میں کوئی خط وغیرہ مجھے نہیں لکھنا۔

ا90 ھجری کا اختتام

ا90 ھجری کا اختتام ہوا تو حجاج بن یوسف ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر تھا ۔ ملک مصر کا گورنر عبداﷲ بن عبدالملک تھا ۔ خراسان کا گورنر قتیبہ بن مسلم تھا ۔ مکۂ مکرمہ کا گورنر خالد بن قسری تھا اور مدینۂ منورہ کے گورنر حضرت عُمر بن عبدالعزیز تھے اور آپ نے ہی مسلمانوں کو حج کرایا۔

ا90 ھجری میں جن اعیان کا انتقال ہوا

اِس سا ل جن لوگوں کا انتقال ہو اُان میں سے چند یہ ہیں ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 90 ھجری میں بتاذوق طبیب کا انتقال ہوا۔ آپ طبیب حاذق تھے اور فن طبابت ( حکیمی)پر آپ نے متعدد تصانیف لکھی ہیں ۔ حجاج بن یوسف کے دربار میں ان کا بڑا مرتبہ تھا ۔ شہر واسط میں ان کا انتقال ہوا ۔ اِس سال عبدالرحمن بن مسور بن مخرمہ اور سنان بن سلمہ جو ان میں سب سے بہادر تھے کا بھی انتقال ہوا اور وہ ‘‘یوم الفتح’’ کے دن ایمان لائے تھے ۔ اس سال محمد بن یوسف ثقفی کا بھی انتقال ہوا جو حجاج بن یوسف کا بھائی ہے ۔یہ یمن کا گورنر تھا اور منبر پر خلیفۂ چہارم حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی شان میں گستاخی کرتا تھا ۔ اِسی نے حضرت حجر بن عدی کو بھی یہی حکم دیا تو انہوں کہا اﷲ تعالیٰ تجھ پر لعنت بھیجے ۔ اِس لعنت کے سبب اُس کے پیٹ میں زخم ہو گئے تھے ۔ 

ا91 ھجری: مسلمہ بن عبدالملک آذر بائیجان کا گورنر

اِس سال رومیوں سے جہاد کرنے مسلمہ بن عبدالملک اور عبدالعزیز بن ولید گئے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : 91 ھجری میں مسلمہ بن عبدالملک اور اُس کے بھتیجے عبدالعزیز بن ولید نے جنگ کی تیاریاں شروع کیں اور اِن جنگی تیاریوں کے سلسلے میں مسلمہ بن عبدالملک نے بلاد ترک کا رخ کیا اور مارچ کرتا ہوا آذربائیجان کی جانب سے ‘‘باب’’ تک پہنچ گیا اور مدائین کے علاوہ بہت سے قلعے فتح کر لئے ۔ ولید بن عبدالملک نے اپنے چچا محمد بن مروان کو معزول کر کے اپنے بھائی مسلمہ بن عبدالملک کو آذربائیجان کا گورنر بنا دیا ۔ 

موسیٰ بن نصیر کی بلاد مغرب ( شمالی افریقہ)میں فتح

اِس سال 91 ھجری میں افریقہ(آج کل کا شمالی افریقہ) کے سپہ سالار موسیٰ بن نصیر نے کافی فتوحات حاصل کیں۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 91 ھجری میں موسیٰ بن نصیر نے بلاد مغرب (افریقہ) پر حملہ کر کے بہت سے شہروں کو فتح کر لیا اور وہ اُن ملکوں میں اندر تک گھستا چلا گیا ۔ حتیٰ کہ وہ دوردراز کی آبادیوں اور بستیوں تک پہنچ گیا جہاں ایسے محلات اور مکانات تھے جو بالکل غیر آباد پڑے تھے ۔ وہاں اُس نے اس ملک کی نعمتوں اور مال و دولت کے عظیم آثار و نشانات دیکھے جو ہر طرف نظر آ رہے تھے جن سے معلوم ہوتا تھے کہ یہاں کے باشندے کس قدر خوشحال و متمول تھے لیکن سب ہلاک ہو چکے تھے اور اُن کے متعلق بتانے والا کوئی نہیں تھا ۔ 

مسجد نبوی کی توسیع کا جائزہ

اِ س سال 91 ھجری میں ولید بن عبدالملک مسجد نبوی کی توسیع کا جائزہ لینے کے لئے مدینۂ منورہ آیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: 91 ھجری میں ولید بن عبدالملک حج کرنے کے ارادے سے نکلا ۔ جب اُس کے حج کے لئے آنے کی خبر مدینۂ منورہ کے گورنر حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو ہوئی تو انہوں نے قریش کے دس آدمیوں سے کہا کہ میرے ساتھ امیر المومنین کے استقبال کو چلیں ۔ آپ کے ساتھ ابوبکر بن عبدالرحمن اور اُ سکا بھائی محمد بن عبدالحمن اور عبداﷲ بن عمرو بن عثمان بن عفان بھی تھے ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے ساتھ اور بھی

 خدام وغیرہ آئے تھے اور یہ سب گھوڑوں پر سوار تھے ۔ جب ولید بن عبدالملک سامنے آیا اور وہ بھی گھوڑے پر سوار تھا تو خداموں کے حاجب نے کہا :‘‘ امیر المومنین کی خاطر سواریوں سے اُتر جائیں ۔ ’’ سب لوگ اُتر گئے مگر ولید بن عبدالملک نے خود ہی ان سب کو سوار ہونے کا حکم دیا ۔ اُس کے ساتھ ساتھ حضرت عِمر بن عبدا لعزیز اپنے گھوڑے پر سوار چل رہے تھے اور اِس طرح یہ سب مقام ‘‘ذی خشب’’ پر آکر قیام پذیر ہو گئے ۔ یہاں ولید بن عبدالملک کے لئے کھانا منگوایا گیا اور سب نے کھانا کھایا ۔ شام کے وقت ولید بن عبدالملک یہاں سے روانہ ہوا اور مدینۂ منورہ میں داخل ہوا اور دوسرے دن صبح مسجد نبوی کی توسیع کا جائزہ لینے کے لئے گیا ۔ 

حضرت سعید بن مسیب کا مرتبہ

ولید بن عبدالملک جب مسجد نبوی کی توسیع کا جائزہ لینے کے لئے آیا تو اُس سے پہلے مسجد نبوی کو خالی کر لیا گیا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جس قدر لوگ اُس وقت مسجد نبوی میں تھے سب کو باہر نکال دیا گیا لیکن حضرت سعید بن مسیب رضی اﷲ اپنی جگہ ہی بیٹھے رہے اور اُن کے رتبہ کے اعتبار سے کسی سپاہی کی یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ انہیں اُٹھا دیتا ۔ حضرت سعید بن مسیب اپنی جگہ دو معمولی چادریں جن کی قیمت پانچ درہم ہو گی زیب تن کئے بیٹھے تھے ۔ کسی شخص نے اُن سے درخواست کی کہ آپ یہاں سے اُٹھ جائیں۔ آپ نے فرمایا: ‘‘ جو میرا اُٹھنے کا وقت ہے اُس سے پہلے تو میں ہرگز نہیں اُٹھوں گا ۔’’ پھر اُن سے کہا گیا: ‘‘ آپ اُٹھ کر امیر المومنین سے سلام تو کر لیں۔’’ آپ نے فرمایا: ‘‘ میں خود اُسے سلام کرنے نہیں جاؤں گا۔’’ ادھر حضرت عُمر بن عبدالعزیز امیرالمومنین ولیدبن عبدالملک کو مسجد نبوی میں پھرا رہے تھے اور توسیع کی تفصیلات بھی بتاتے جا رہے تھے اور چاہتے تھے کہ ولید کی نظر حضرت سعید بن مسیب پر نہ پڑے اور جب تک وہ اُٹھ جائیں۔ مگر اچانک ولید بن عبدالملک کی نظر قبلہ رُخ پڑی تو اُس نے پوچھا: ‘‘ یہ کون صاحب بیٹھے ہوئے ہیں؟ کہیں یہ سعید بن مسیب تو نہیں ہیں؟’’ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے کہا: ‘‘ ہاں ! یہ سعید بن مسیب ہی ہیں۔’’ اتنے میں ایک سپاہی نے کہا: ‘‘ انہیں دکھائی کم دیتا ہے ۔’’ولید بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ ہاں! ہمیں ان کا حال معلوم ہوا تھا اور ہم خود جاکر انہیں سلام کریں گے ۔’’ اِس کے بعد اُس نے تمام مسجد کا جائزہ لیا اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے روضۂ اطہر پر آکر کھڑا ہوگیا ۔ پھر حضرت سید بن مسیب کے پاس آیا اور انہیں سلام کر کے خیریت دریافت کی ۔ آپ نے جواب دیا :‘‘الحمدﷲ !خیریت سے ہوں۔’’ اور اپنی جگہ سے ہلے نہیں اور فرمایا: ‘‘ امیر المومنین کا مزاج کیسا ہے؟ ’’ولید بن عبدالملک نے جواب دیا: ‘‘ الحمد ﷲ! خیریت سے ہوں۔’’ اتنی گفتگو کرنے کے بعد وہ وہاں سے چلا آیااور حضرت عُمر بن عبدالعزیز سے کہا: ‘‘ اب یہ ہی سلف صالحین کا ایک نمونہ باقی رہ گئے ہیں۔’’ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے فرمایا: ‘‘ امیر المومنین بجا فرماتے ہیں۔’’ ولید بن عبدلملک نے مدینۂ منورہ چاندی کے برتن اور نقد روپیہ لوگوں میں تقسیم کیا ۔

ولید بن عبدالملک کا مسجد نبوی میں خطبہ

مدینۂ منورہ میں مسجد نبوی میں ولید بن عبدالملک نے جمعہ کا خطبہ دیا اور جمعہ کی نماز پڑھائی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ولید بن عبدالملک نے جمعہ کے دن خطبہ بھی پڑھا اور نماز بھی پڑھائی ۔ اُس نے مسجد نبوی میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے منبر مبارک پر چڑھ کر ایام حج میں جمعہ کے دن خطبہ دیا ۔ منبر سے لیکر مسجد نبوی کے اندرونی صحن کی آخری دیوار تک فوج کی دو صفیں تھیں ۔ اُن کے ہاتھوں میں شاہی عصا اور کندھوں پر گرز تھے ۔ ولید بن عبدالملک ایک معمولی سا چوغا اور ٹوپی پہنے منبر پر چڑھا اور کوئی شال اُس پر نہیں تھی ۔ منبر پر چڑھ کر لوگوں کو سلام کیا اور بیٹھ گیا ۔ مؤذن کو اذان دینے کی اجازت دی ،جب اذان ختم ہوئی تو پہلا خطبہ بیٹھے بیٹھے ہی پڑھا اور دوسرا خطبہ کھڑے ہوکر پڑھا ۔ اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے رجاء بن حیوٰۃ سے مل کر پوچھا :‘‘ کیا اِس خاندان کا یہی طرز عمل رہا ہے؟’’ رجاء بن حیاۃ نے کہا: ‘‘ہاں!

 حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا تھا اور اُن کے بعد کے تمام اِس خاندان کے حکمراں ایسا ہی کرتے آئے ہیں ۔’’ میں نے کہا: ‘‘ کیا آپ نے اِس معاملے میں کبھی اُن سے گفتگو نہیں کی؟’’ رجاء بن حیاۃ نے کہا: ‘‘ قبیصہ بن ذوئیب مجھ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عبدالملک بن مروان سے اِس کے متعلق اعتراض کیا تھا مگر اُس نے کسی قسم کی تبدیلی کرنے سے انکار کر دیا اور کہا: ‘‘ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا ہے ۔’’ اِس پر میں نے کہا: ‘‘ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ ہمیشہ کھڑے ہو کر خطبہ دیا ہے ۔’’ رجاء بن حیوۃ نے کہا: ‘‘ مگر کیا کیا جائے اِن لوگوں سے اِسی طرح بیان کیا گیا ہے اور یہ اسی پر عمل کرتے ہیں۔’’ 

ا 91ھجری کا اختتا

ا91 ھجری میں ولید بن عبدالملک نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : محم بن عمرو کہتے ہیں کہ ولید بن عبدالملک مسجد نبوی کے لئے خوشبوئیں اور انگیٹھی بھی لایا تھا ۔ احرام مسجد نبوی میں کھول کر پھیلا دیا گیا جو نہایت ہی بیش بہا دیباج کا بنا ہوا تھا ۔ ایک دن پھیلا رہا پھر لپیٹ کر اُٹھا لیا گیا ۔ اِس سال ولید بن عبدالملک نے ہی مسلمانوں کو حج کرایا ۔ 91 ھجری کے اختتام پر حجاج بن یوسف ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر تھا ۔ خراسان کا گورنر قتیبہ بن مسلم تھا ۔ ملک مصر کا گورنر عبداﷲ بن عبدالملک تھا ۔ مکۂ مکرمہ کا گورنر خالد بن عبداﷲ قسری تھا اور مدینۂ منورہ کے گورنر حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ تھے ۔

حضرت سہل بن ساعدی رضی اﷲ عنہ کا انتقال

اِس سال 91 ھجری میں حضرت سہل بن ساعدی رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال حضرت سہل بن ساعدی رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ آپ جلیل القدر صحابی اور مدنی ہیں ۔ جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ رضی اﷲ عنہ کی عُمر پندرہ سال تھی ۔ یہ اُن لوگوں میں سے ہیں جن کو حجاج بن یوسف نے عوام کے درمیان بولنے اور زبان کھولنے منع کر رکھا تھا تاکہ لوگ ان کی آراء اور مشوروں سے مستفید نہ ہو سکیں ۔ یہ لوگ حضرت سہل بن ساعدی رضی اﷲ عنہ کے علاوہ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ اور حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ تھے ۔ امام واقدی کا بیان ہے کہ یہ آخری شخص ہیں جن کا مدینۂ منورہ میں سو سال کی عُمر میں 91 ھجری میں انتقال ہوا۔ امام محمد بن سعد نے کہا ہے کہ اِس میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور امام بخاری وغیرہ نے ان کا سنہ وفات 88 ھجری بتایا ہے ۔ واﷲ اعلم۔

ا92 ھجری : فتح اُندلس (اسپین)

اِس سال 92 ھجری میں مسلمانوں نے اُندلُس یعنی اسپین کی فتح کی شروعات کی ۔ اُدھر محمد بن قاسم ہندستان میں فتوحات حاصل کر رہے تھے ۔ قتیبہ بن مسلم ترکستان اور چین کی طرف فتوحات جاری رکھے ہوئے تھے اور موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد مغرب میں اور اُندلُس یعنی اسپین میں فتوحات حاصل کر رہے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اِس سال 92 ھجری میں موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد نے بارہ ہزار فوج کے ساتھ اُندلس(اسپین) پر حملہ کیا اور بادشاہ اُندلس سے اس کا مقابلہ ہوا ۔ امام واقدی کا قول ہے کہ اس بادشاہ کا نام نیوق (راڈرک) تھا جو اہل اصبہان میں سے تھا اور یہ عجمی بادشاہان اندلس تھے ۔ طارق بن زیاد نے اپنی پوری قوت سے حملہ کیا ادھر بادشاہ اپنے تخت پر بیٹھ کر حملہ آور ہوا ۔ اُس کے سر پر تاج جواہر نگار رکھا ہوا تھا ۔ ہاتھ میں فولادی دستانے چڑھے ہوئے تھے اور وہ تمام مرصع زیور جن کا جنگ کے موقع پر پہننے کا ان بادشاہوں کا دستور چلا آرہا تھا اُس کے جسم پر سجے ہوئے تھے ۔ دونوں حریفوں نے خوب شجاعت اور داد مردانگی دکھائی اور نہایت سخت رن پڑا ۔ آخر کار اﷲ تعالیٰ نے نیوق کو ہلاک کیا اور اندلس فتح ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : موسیٰ بن نصیر کے آزاد کردہ غلام طارق بن زیاد نے اُندلس (اسپین) کے شہروں میں بارہ ہزار فوج سے جنگ کا آغاز کیا تو اُس کے مقابلے کے لئے وہاں کا

 بادشاہ آرذیقون نکل کر میدان میں آگیا اور وہ بڑے تام جھام اور احتشام کے ساتھ آیا ۔ اُس کی سواری کے ساتھ اُس کا تخت بھی تھا اور سر پر تاج بھی ۔ طارق بن زیاد نے اُس کو شکست دے کر فرار ہونے پر مجبور کر دیا اور جو کچھ اُس کے لشکر کے پاس تھا وہ بھی بطور مال غنیمت ملا جس میں تخت وغیرہ بھی شامل تھا ۔غرض یہ کہ اُندلس کے شہروں پر طارق بن زیاد کا قبضہ ہو گیا ۔

نوٹ

یہاں ہم اُندلس یعنی اسپین میں فتح کا مختصراً حال پیش کر رہے ہیں ۔طارق بن زیاد اور موسیٰ بن نصیر نے کئی سال میں اندلس یعنی اسپین کو مکمل طرح سے فتح کیا تھا ۔ اِس مکمل فتح کا حال ہم انشاء اﷲسلسلہ ‘‘اسپین میں اسلام اور مسلمان’’ میں انتہائی تفصیل سے پیش کریں گے ۔

سجستان پر حملہ

اس سال قتیبہ بن مسلم نے ترکوں پر حملہ کیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال قتیبہ بن مسلم نے ترک بادشاہ رتبیل سے جنگ کا آغاز کیا ۔ جب وہ فوج لیکر رتبیل کے علاقے میں داخل ہوا تو اُس نے صلح کرنے کے لئے قاصد اور اُس کے ساتھ بہت سال مال دینے کے لئے گفتگو کرنے کی نیت سے قتیبہ بن مسلم سے آکر ملے اور جو مال انہوں نے صلح کی شرط کے بطور پیش کیا اُس میں زر نقد کے علاوہ گھوڑے غلام ، عورتیں اور علاقہ کے بادشاہوں کی بیٹیاں بھی شامل تھیں ۔ جب یہ سب چیزیں قتیبہ بن مسلم کے پاس پہنچ گئیں تو اُس نے صلح کر لی ۔

خوارزم شاہ کی درخواست

اِ س سال قتیبہ بن مسلم کو بادشاہ خوارزم نے اُس کے ملک پر حملہ کرنے کی درخواست کی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : قتیبہ بن مسلم 92 ھجری میں سجستان کی طرف رتبیل کے قصد سے روانہ ہوا ۔رتبیل نے فورا! صلح کر لی اور جب قتیبہ اِس مہم سے واپس ہوا تو بادشاہ خوارزم پر اُس کا بھائی خرزاد جو اُس سے چھوٹا تھا اِس قدر غالب ہو چکا تھا کہ بادشاہ خوارزم شطرنج کے مہرے کی طرح صرف نام کا بادشاہ رہ گیا تھا ۔خرزاد جو چاہتا تھا کرتا تھا ، رعایا کے مال و عزت پر دست درازی کرتا تھا اور اُن کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتا تھا ۔ بادشاہ خوارزم چونکہ مدافعت نہیں کر سکتا تھا اِس لئے اُس نے خفیہ طور سے قتیبہ بن مسلم کو اپنے ملک کے حالات لکھ بھیجے اور یہ لکھا: ‘‘ اگر تم میں قوت ہے تو میرے ملک میں آکر میرے بھائی اور مخالفین سے لڑ کر قبضہ لے لو۔’’ قتیبہ بن مسلم نے درخواست کو منظور کر لیا اور بادشاہ خوارزم نے اِس راز سے اپنے ملک کے کسی فرد کو مطلع نہ کیا۔ 

ا92 ھجری کا اختتام

ا92 ھجری کا اختتام ہوا اور اِس سال حجاج بن یوسف ملک عراق ، ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر تھا ۔ ملک مصر کا گورنر عبداﷲ بن عبدالملک تھا ۔ خراسان کا گورنر قتیبہ بن مسلم تھا ۔ مکۂ مکرمہ کا گورنر خالد بن عبداﷲ قسری تھا اور مدینۂ منورہ کے گورنر حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ تھے اور آپ نے ہی مسلمانوں کو اِس سال حج کرایا ۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں