ہفتہ، 31 اگست، 2024

Saltanat e Umayya part 31



ا31 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 31

عبیداﷲ بن زیاد کے مقابلے پر لشکر کی روانگی، ھ66 ہجری کا اختتام، ھ67 ہجری : عبیداﷲ بن زیاد کا انجام، حضرت مصعب بن زبیر بصرہ کے گورنر، حضرت مصعب بن زبیر کے پاس شکست خوردہ کا اجتماع، حضرت مصعب بن زبیر کی کوفہ کی طرف پیش قدمی، مختار ثقفی کی شکست اور قتل، ابراہیم بن اشتر کا فیصلہ، حضرت مصعب بن زبیر کی معزولی، حمزہ بن عبداﷲ کی نااہلی، 



عبیداﷲ بن زیاد کے مقابلے پر لشکر کی روانگی


حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے شہید کرنے کا حکم عبیداﷲ بن زیاد نے دیا تھا ۔ اﷲ تعالیٰ نے دنیا میں اُس کا بہت بھیانک انجام کیا اور آخرت کا انجام ابھی باقی ہے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مختار بن ابی عبید ثقفی کو 66 ہجری کے اواخر میں کچھ فراغت حاصل ہوئی تو اُس نے 66 ہجری کے آخری مہینے ذی الحجہ کی بائیس (22) تاریخ کو ابراہیم بن اشتر کو لشکر دے کر عبیداﷲ بن زیاد کے مقابلے پر روانہ کیا اور اپنے نامی گرامی مصاحبوں ، شہسواروں اور جنگ آوروں کو اسی کرسی سمیت اُس کے ہمراہ کر دیا جس سے ضرورت کے وقت وہ مدد طلب کیا کرتا تھا ۔ یہ کرسی سونے کی منڈھی ہوئی تھی اور مختار نے اپنے متبعین کو یہ سمجھا رکھا تھا کہ جیسا بنی اسرائیل میں ‘‘تابوت سکینہ’’ تھا ویسی ہی یہ کرسی ہے ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ کرسی حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کی تھی ۔ جس کو مختار نے جعدہ بن ہنیرہ سے خرید لیا تھا جو سیدہ اُم ہانی بنت ابی طالب رضی اﷲ عنہا کا بیٹا تھا ۔ 


ھ66 ہجری کا اختتام


اِس سال 66 ہجری کا یہ آخری واقعہ تھا ۔ اِس کے بعد 67 ہجری کی شروعات میں عبیداﷲ بن زیاد کے لشکر کو شکست ہوئی اور اُسے قتل کیا گیا ۔ یہ جنگ 67 ہجری میں ہوئی اِس لئے ہم آگے اِس جنگ کے بارے میں حلات پیش کریں گے ۔ اِس سال 66 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ مدینۂ منورہ میں آپ رضی اﷲ عنہ کا بھائی مصعب بن زبیر گورنر تھا ۔بصرہ کا گورنر حارث بن عبداﷲ بن ابی ربیعہ تھا ۔ کوفہ کا گورنر مختار بن ابی عبید ثقفی تھا ۔ اور بلاد خراسان کا گورنر عبداﷲ بن حازم مستولی تھا ۔ 


ھ67 ہجری : عبیداﷲ بن زیاد کا انجام


اِس سال 67 ہجری میں عبیداﷲ بن زیاد اپنے انجام کو پہنچا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : ابراہیم بن اشتر کوفہ سے روانہ ہوکر ملک عراق کو چھوڑتا ہوا سر زمین موصل میں پہنچا ۔ جس کے زیادہ تر حصے پر عبیداﷲ بن زیاد نے قبضہ کر لیا تھا ۔ ابراہیم بن اشتر نے نہر حازم (خازر) پر قیام کر کے طفیل بن یقط نخعی کو بطور ‘‘مقدمۃ الجیش’’ آگے بڑھایا ۔ عبید اﷲ بن زیادنے بھی اِس لشکر کے آنے کی اطلاع پا کر اپنے لشکر کے ساتھ جو ملک شام سے لیکر آیا تھا نہر کے قریب آ کر پڑاؤ ڈال دیا ۔ عبداﷲ بن زیاد کا میسرہ کمانڈرعمیر بن حباب خفیہ طور سے ابراہیم بن اشتر سے ملنے کے لئے آیا اور وعدہ کیا کہ جنگ کے وقت میں میسرہ کو لیکر بھاگ کھڑا ہوں گا اور تم جنگ میں تاخیر نہیں کرنا کیونکہ تمہارے تاخیر کرنے سے عبیداﷲ بن زیاد کی طاقت بڑھ جائے گی ۔ اِس قرارداد کی وجہ سے ابھی صبح بھی نہیں ہونے پائی تھی کہ ابراہیم بن اشتر خیمہ سے نکل کر اپنے لشکر کو جنگ کے لئے اُبھارنے لگا ۔ جں ہی سپیدۂ سحر نمودار ہوا اُس نے باجماعت نماز پڑھا کر اپنے لشکر کی صفیں مرتب کر دیں ۔ عبیداﷲ بن زیاد نے بھی اپنے لشکر کو مرتب کیا اور سورج نکلتے نکلتے جنگ شروع ہو گئی ۔ حصین بن نمیر نے جو میمنہ کا کمانڈر تھا ابراہیم کے میسرہ پر حملہ کردیا ۔ علی بن مالک قتل ہوگیا تو قرد بن علی نے لپک کر جھنڈا اُٹھا لیا اور لڑنے لگا ۔ جب یہ بھی قتل ہوگیا تو ابراہیم کے میسرہ میں بھگڈر مچ گئی ۔عبداﷲ بن ورقا سلولی نے جھنڈا (علم) اُٹھایا اور اپنے ساتھیوں کو للکارااور بھاگنے والے ایک نئے جوش کے ساتھ پلٹے اور عبیداﷲ بن زیاد کے میسرہ پر حملہ کر دیا ۔ وعدہ کے مطابق عبیداﷲ بن زیاد کے میسرہ کا کمانڈر عمیر بن حباب اپنے سپاہیوں کے ساتھ بھاگ گیا ۔ اب ابراہیم کے لشکر کا پلہ بھاری ہوگیا اور انہوں نے عبداﷲ بن زیاد کے لشکر کو گاجر مولی کی طرح کاٹنا شروع کر دیا ۔ ہر طرف آہ و زاری کے نعرے بلند ہورہے تھے اوزخمیوں کے خون کے فوارے بلند ہو رہے تھے ۔ نیزوں اور تلواروں کی آوازوں سے کان کے پردے پھٹے جاتے تھے ۔ آخر کار ابراہیم بن اشتر کو فتح حاصل ہوئی ۔ جنگ ختم ہونے کے بعد ابراہیم بن اشتر نے کہا: ‘‘ میں نے ایک جھنڈے والے شخص کو قتل کیا ہے جو بہت زیادہ خوشبو لگائے ہوئے تھا اور میں اپنی تلوار سے اُس کے نصفا نصف دو ٹکڑے کر دیئے ۔ذرا دیکھو تو وہ شخص کون ہے ؟’’ لوگوں نے تلاش کیا تو وہ عبید اﷲ بن زیاد تھا ۔ اُس کا سر کاٹ کر اُس کی لاش جلا دی گئی ۔ حصین بن نمیر بھی اُس لشکر کا ایک کمانڈر تھا جس نے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو شہید کیا تھا ۔ حضرت شریک بن جدیر جو حضرت علی بن ابی طالب کے ساتھ ہر جنگ میں شریک تھے انہوں نے حصین بن نمیر کو عبیداﷲ بن زیاد سمجھ کر پکڑ لیا اور اپنے ساتھیوں سے بولے کہ حملہ کرو ۔ اُن کے ساتھیوں نے حصین بن نمیر کو قتل کردیا ۔ بعض کا بیان ہے کہ حضرت شریک بن جدیر نے عبیداﷲ بن زیاد کو قتل کیا اور عبداﷲ بن زہی سلمی کا دعویٰ ہے کہ اُس نے عبیداﷲ بن زیاد کو قتل کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب شامی لشکر یعنی عبیداﷲ بن زیاد کا لشکر شکست کھا کر بھاگا ابراہیم بن اشتر کے لشکر نے اُن کا تعاقب کیا اور ملک شام کے سپاہی مقتولین سے زیادہ بھاگنے کے فراق میں دریا میں ڈوب کر مر گئے ۔ پھر ابراہیم بن اشتر کے لشکر نے ملک شام کے لشکر گاہ پر قبضہ کر لیا جس میں ہر قسم کی اشیاء موجود تھیں ۔ 


حضرت مصعب بن زبیر بصرہ کے گورنر


ملک شام کے لشکر کو شکست دینے کے بعد ابراہیم بن اشتر نے وہیں ‘‘موصل’’ میں رہائش اختیار کر لی اور وہیں سے مختلف علاقوں میں اپنے گورنر بھیجے ۔ علامہ محمدبن جریر طبری لکھتے ہیں : مختار کوفہ واپس آگیا اور ابراہیم بن اشتر موصل میں قیام پذیر ہو گیا اور اُس کے تمام علاقوں پر اپنے گورنروں کو روانہ کیا ۔ اپنے بھائی عبدالرحمن بن اشتر کو نصیبن کا گورنر بنا کر بھیجا ۔ اِس کے علاوہ سنجار ، ودار اور اُس سے متصل ملک جزیرہ کا جو علاقہ تھا اُس پر بھی قبضہ کر لیا ۔ اِس سال 67 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے بصرہ کے گورنر قباع کو معزول کر دیا اور اپنے بھائی حضرت مصعب بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو بصرہ کا گورنر مقرر کیا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے آزاد کردہ غلام کہتے ہیں کہ ‘‘میں بھی اُن لوگوں میں تھا جو مکۂ مکرمہ سے حضرت مصعب بن زبیر کے ساتھ بصرہ آئے تھے ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے اپنے چہرے کو نقاب میں پوشیدہ رکھا تھا اور جب بصرہ کی جامع مسجد کے دروازے پر اُترے اور مسجد میں داخل ہو کر منبر پر چڑھے اور بصرہ کے لوگوں نے کہا : ‘‘ گورنر آگئے ۔’’ اتنے میں حارث بن ابی ربیعہ یعنی قباع جو پہلے بصرہ کے گورنر تھے مسجد میں داخل ہوئے ۔ مصعب بن زبیر نے اپنا چہرہ بے نقاب کیا تب لوگوں نے انہیں شناخت کیا اور کہا : ‘‘ آپ حضرت مصعب بن زبیر ہیں ۔’’ حضرت مصعب بن زبیر نے حارث بن ابی ربیعہ کہا : ‘‘ منبر پر آؤ۔’’ حارث بن ابی ربیعہ منبر پر چڑھ گیا اور حضرت مصعب بن زبیر سے ایک سیڑھی نیچے بیٹھا ۔ حضرت مصعب بن زبیر خطبے کے لئے کھڑے ہوئے اور حمد ثنا کے بعد بولے :‘‘ طسم ۔ یہ اﷲ کی روشن کتاب کی آیات ہیں ۔ ہم تمہارے سامنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حال بیان کرتے ہیں ۔ بے شک فرعون فساد کرنے والوں میں سے تھا ۔’’ یہاں تک تلاوت کرنے کے بعد ملک شام کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور پھر یہ آیت تلاوت کی:‘‘ اور ہم چاہتے ہیں ان لوگوں پر احسان کریں جو اس شرزمین پر ذلیل کئے گئے ہیں ۔ ہم انہیں سردار بنا دیں گے اور انہیں کو وارث کریں گے ۔’’ یہ آیت تلاوت کرنے کے بعد ملک حجاز کی طرف اشارہ کیا پھر یہ آیت تلاوت کی :‘‘ اور ہم فرعون و ہامان اور اُن کے لشکروں کو ان کی جانب سے وہ دکھائیں گے جن کا ڈر انہیں لگا ہوا تھا ۔’’ اور پھر ملک شام کی طرف اشارہ کیا ۔ عوانتہ کہتے ہیں کہ حضرت مصعب بن زبیر نے بصرہ میں اپنے پہلے خطبے میں اہل بصرہ کو مخاطب کر کے کہا : ‘‘ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم اپنے گورنروں کے نام رکھ لیا کرتے ہو اور اِس لئے میں نے اپنا نام ‘‘قصاب’’ رکھا ہے ۔’’ 


حضرت مصعب بن زبیر کے پاس شکست خوردہ کا اجتماع


بصرہ کا انتظام حضرت مصعب بن زبیر نے سنبھال لیا تو اُس کے پاس کوفہ کے مختار سے شکست کھائے ہوئے لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے ۔ علامہ محمد بن جری طبری لکھتے ہیں : اہل کوفہ جن سے مختار پہلے لڑ چکا تھا اور انہیں شکست دے چکا تھا وہ اب حضرت مصعب بن زبیر سے بصرہ میں آ کر مل گئے ۔ جب شبث بن ربعی بصرہ میں حضرت مصعب بن زبیر کے پاس آیا تو اُس کی یہ حالت تھی کہ ایک خچر پر سوار تھا جس کی دم اور کان چیر دیئے تھے اور اپنی قبا کو چاک کر دیا تھا اور پکار رہا تھا ۔ ‘‘ میری فریاد سنیئے ، میری فریاد سنیئے ۔’’ حضرت مصعب کو اس کی اطلاع ہوئی انہوں نے کہا : ‘‘ بے شک یہ شبث بن ربعی ہے ،اس کے سوا کوئی اور یہ ہیئت نہیں بنا سکتا ۔اسے اندر بلا لو ۔’’ شبث بن ربعی اندر آیا اور کوفہ کے سربر آوردہ اشخاص بھی آئے ۔ اپنے آنے کا حل بیان کیا مصیبت کی داستان سنائی اور کہا : ‘‘ ہمارے ہی غلام اور آزاد غلام ہم پر چڑھ آئے ہیں ۔ اب آپ ہماری اعانت کریں اور ہمارے ساتھ مختار پر حملہ کریں ۔ ’’محمد بن اشعث بن قیس بھی حضرت مصعب بن زبیر کے پاس آیا ۔ یہ کوفے کی جنگ میں موجود نہیں تھا بلکہ اُس وقت اپنے قلعے ‘‘طیزناباز’’ میں جو قادسیہ کے قریب تھا مقیم تھا ۔ جب اہل کوفہ کی شکست کی اور مختار کی فتح کی اطلاع اُسے ملی تو نکل بھاگنے کا ارادہ کیا ۔ مختار نے سو گھڑ سواروں کو اُس کی طرف روانہ کیا ۔ جب محمد بن اشعث کو دشمن کے آنے کی اطلاع ملی تو وہ فوراً بے آب و گیاہ جنگل کے راستے بصرہ کی طرف روانہ ہوگیا اور حضرت مصعب بن زبیر سے جا ملا اور انہیں مختار کے خلاف جنگ کے لئے اُبھارا ۔ اُدھر مختار نے لشکر بھیج کر محمد بن اشعث کے قلعے کو منہدم کرا دیا ۔


حضرت مصعب بن زبیر کی کوفہ کی طرف پیش قدمی


بصرہ میں حضرت مصعب بن زبیر کے پاس ایک بہت بڑا لشکر جمع ہو گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ‘‘ جب حضرت مصعب بن زبیر کے جھنڈے تلے ایک بہت بڑا لشکر جمع ہو گیا تو محمد بن اشعث نے رائے دی کہ مہلب بن ابی صفرہ کو بھی بلا لیا جائے ۔ مہلب بن ابی صفرہ نے خراج وصول کرنے کا بہانہ بنایا لیکن حضرت مصعب بن زبیر کی طلبی پر اُسے حاضر ہونا پڑا اور وہ بھی ایک بہت بڑا لشکر لیکر آیا ۔ اِس کے بعد حضرت مصعب نے سب کو بڑے پل کے پاس چھاونی کے میدان میں جمع ہونے کا حکم دیا اور عبدالرحمن بن مخنف کو بلا کر کہا : ‘‘ تم کوفہ جاؤ اور جس قدر لوگوں پر تمہارا بس چل سکے انہیں میرے لشکر میں شامل کرنے کی کوشش کرو اور انہیں خفیہ طور سے مختار کے خلاف ترغیب دو ۔’’ عبدالرحمن آیا اور چپکے سے اپنے گھر میں بیٹھ گیا ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے بنو تمیم کے عباد بن حصین بن معمر کو میمنہ کا کمانڈر بنایا ۔ مہلب بن ابی صفرہ کو میسرہ کا کمانڈر بنایا ۔ بنو بکر بن وائل کے لشکر کا کمانڈر مالک بن مسمع کو بنایا ۔ بنو عبد قیس کے لشکر کا کمانڈر مالک بن منذر کو بنایا ۔ بنو تمیم کے لشکر کا کمانڈر احنف بن قیس کو بنایا ۔ بنو ازد کے لشکر کا کمانڈر زیاد بن عمر ازدی کو بنایا اور اہل نجد کے لشکر کا کمانڈر قیس بن ہیثم کو بنایا ۔ اِس طرح اپنا لشکر مرتب کر کے حضرت مصعب بن زبیر نے اپنے لشکر کے ساتھ کوفہ کی طرف پیش قدمی شروع کر دی ۔ 


مختار نے مقابلے کے لئے لشکر روانہ کیا


حضرت مصعب بن زبیر کے لشکر کی کوفہ کی طرف پیش قدمی کی اطلاع مختار بن ابی عبید ثقفی کو ہوئی تو اُس نے بھی مقابلے کے لئے ایک لشکر تیار کر کے روانہ کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب مختار کو اِن واقعات کی خبر پہنچی تو وہ اپنے ساتھیوں میں خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا اور حمد و ثناء کے بعد اُس نے کہا : ‘‘ اے کوفہ والو! اے دین والو! صداقت اور کمزوروں کے مدد گارو! اور اے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اور آل رسول کے حامی گروہ! تم نے ان باغیوں کو بھگا دیا جنہوں نے سرکشی کی تھی ۔ اب وہ اپنے ہی جیسے فاسقوں کے پاس آئے اور تمہارے خلاف اُبھار کر لائے تاکہ حق مٹ جائے اور باطل کو عروج حاصل ہو اور اﷲ کی جماعت بدل جائے ۔ اﷲ کی قسم! اگر تم ہلاک ہو گئے تو اﷲ کی پرستش صرف اِس طرح ہو گی کہ اُس پر بہتان لگائے جائیں گے اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے اہل بیت پر لعن طعن کیا جائے گا ۔ اِس لئے تم فوراً احمر بن شمیط کے ساتھ میدان جنگ میں جانے کے لئے مستعد ہو جاؤ ۔ کیونکہ مجھے پورا یقین ہے کہ اگر تم ان سے لڑو گے تو انشاء اﷲ تم اس طرح انہیں ہلاک کر دو گے جس طرح عاد اور ارم ہلاک ہوئے تھے ۔ ’’احمر بن شمیط کی سپہ سالاری میں مقام ‘‘حمام اعین’’ پر لشکر جمع کیا گیا ۔ مختار نے اُن تمام کمانڈروں کو بلایا جو ابراہیم بن اشتر کے ساتھ تھے اور اُسی ترتیب سے احمر بن شمیط کے ساتھ روانہ کیا ۔ یہ تمام کمانڈر ابراہیم بن اشتر سے علیحدگی اختیار کر چکے تھے کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ ابراہم بن اشتر اپنی من مانی کرتا ہے اور مختا کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتا ہے ۔ مختار نے اِن کمانڈروں کو ایک زبردست لشکر دے کر اضمر بن شمیط کے ساتھ روانہ کیا ۔ 


احمر بن شمیط کی شکست


بصرہ سے اور کوفہ سے دو لشکر ایکدوسرے کے مقابلے کے لئے نکلے اور دونوں لشکروں کا سامنا ایک چشمہ پر ہوا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : احمر بن شمیط جنگ کے لئے لشکر لیکر روانہ ہوا ۔اُس نے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ پر عبداﷲ بن کامل کو کمانڈر بنایا ۔ چشمۂ مذار کے پاس لشکر پہنچا تو احمر بن شمیط نے پڑاؤ ڈال دینے کا حکم دے دیا ۔ دوسری طرف سے حضرت مصعب بن زبیر بھی اپنے لشکر کو لیکر آگئے اور پڑاؤ ڈال دیا ۔ احمر بن شمیط نے میمنہ پر عبداﷲ بن کامل شاکری کو کمانڈر بنایا ۔ میسرہ پر عبداﷲ بن وہب بن نضلہ کو کمانڈر بنایا ۔ رزیں عبدالسلولی کو گھڑ سواروں کا کمانڈر بنایا ۔ پیدل سپایوں کا کمانڈر کثیر بن اسماعیل کو بنایا ۔ کیسان بن ابی عمرو کے آزاد غلام کو موالیوں کا کمانڈر بنایا ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے عباد بن حصین کو سمجھانے کے لئے بھیجا ۔ وہ اپنے دستے کے ساتھ آیا اور کہا: ‘‘ ہم آپ کو کتاب اﷲ اور اس کے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت اور امیر المومنین حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی دعوت دیتے ہیں ۔ ’’ احمر بن شمیط نے کہا : ‘‘ ہم تمہیں لتاب اﷲ اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت اور امیر مختار کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ ہم آل رسول میں سے کسی شخص کو آپسی مشورہ کے لئے امیر مقرر کر لیں ۔ اگر کوئی اور شخص اِس بات کا مطالبہ کرے گا کہ وہ آل رسول پر حکمرانی کرے گا تو ہمارا اُس سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ہم اُس کے خلاف جہاد کریں گے ۔ ’’ اِس کے بعد دونوں لشکروں نے ایکدوسرے پر حملہ کر دیا اور بہت شدید جنگ ہونے لگی حضرت مصعب بن زبیر کے لشکر نے اتنا زبردست حملہ کیا کہ احمر بن شمیط قتل ہوگیا اور اُس کے لشکر کو شکست ہو گئی ۔ اُس کے سپاہی میدان جنگ چھوڑ کر بھاگنے لگے تو انہیں چن چن کر قتل کیا جانے لگا اور اُن کا صفایا کر دیا گیا ۔ 


حضرت مصعب بن زبیر کی کوفہ روانگی


حضرت مصعب بن زبیر کو چشمۂ مذار پر فتح حاصل ہوئی اور وہ اپنے لشکر کو لیکر کوفہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت مصعب بن زبیر اپنے لشکر کو لیکر روانہ ہوئے اور جس جگہ اب ‘‘واسط القصب’’ ہے اُس مقام سے دریا کو عبور کیا ۔ پھر بیاباں کو طے کرنا شروع کیا ۔اِس کے بعد حضرت مصعب بن زبیر نے پیدل سپاہیوں کو اُن کے ساز و سامان کے ساتھ اور ضیعف العمر لوگوں کو کشتیوں میں سوار کردیا اور دریائے خرشاذ سے ہوتے ہوئے دریائے قوسان کو عبور کیا اور اِسی دریا کے راستے سے دریائے فرات میں پہنچ گئے ۔ اہل بصرہ جب کشتیاں چلا رہے تھے تو یہ کہتے جا رہے تھے ۔حضرت مصعب بن زبیر نے ہمیں لانبے کوزہ پشت جہازوں کے اور اُن کی رسی کھینچنے کا عادی بنا دیا ۔’’ جب مختار کو معلوم ہوا کہ دشمن گھوڑوں ،اونٹوں اور کشتیوں پر چلا آرہا ہے تو وہ خود مقابلے کے لئے آگے بڑھا اور مقام ‘‘سلیحسین’’ پر آکر اپنے ڈیرے ڈال دیئے ۔اِس مقام کو دیکھ کر معلوم ہو گیا کہ یہ مختلف دریاؤں کا سنگم ہے ۔ اِس مقام پر دریائے حیرہ ، دریائے سلیحین ، دریائے قادسیہ اور دریائے یوسف آکر دریائے فرات سے ملتے ہیں ۔(اِسے ‘‘مجمع الانہار’’ کہتے ہیں)مختار نے اِسی سنگم پر ایک بند بنا کر دریائے فرات کا پانی روک دیا ۔اِس طرح دریائے فرات کا تمام پانی معاون دریاؤں میں چڑھ گیا ۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بصرہ سے کشتیوں پر سوار ہو کر جو لشکر آرہا تھا اُس کی کشتیاں کیچڑ میں پھنس گئیں ۔ بصرہ والوں نے یہ حالت دیکھی تو کشتیاں چھوڑ دیں اور پا پیادہ کوچ کرنا شروع کیا ۔ اُن کا ‘‘مقدمۃ الجیش’’ اُن سے پہلے دریائے فرات کے اُس بند تک پہنچ گیا اور اُسے منہدم کر کے کوفہ کی طرف اُس نے اپنی باگیں اُٹھا دیں ۔ 


مختار ثقفی کی شکست اور قتل


بصرہ سے حضرت مصعب بن زبیر لشکر لیکر کوفہ پر حملہ کرنے کے لئے آرہے تھے اور ادھر مختار بھی مقابلے کی تیاری کر رہا تھا ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مختار نے ‘‘مجمع الانہار ’’سے مُڑ کر ‘‘دار الامارت’’ اور جامع مسد کی قلعہ بندی کرنے کے بعد ‘‘حروراء’’ میں قیام کیا ۔ اِسی دوران میں حضرت مصعب بن زبیر بھی لشکر لیکر آگئے ۔ اُن کے میمنہ کا کمانڈر مہلب بن ابی صفرہ ، میسرہ کا کمانڈر عمر بن عبید اﷲ اور گھڑ سواروں کا کمانڈر عبد بن حصین تھا ۔ مختار کے لشکر کے میمنہ کا کمانڈر سلیم بن یزید کندی ، میسرہ کا کمانڈر سعید بن منقذ ہمدانی اور گھڑ سوراوں کا کمانڈر عمر بن عبیدا ﷲ نہدی تھا ۔ محمد بن اشعث اہل کوفہ کے اُس گروہ کا کمانڈر تھا جو مختار کے مقابلے ہر بھاگ کھڑے ہوئے تھے دونوں لشکروں کے درمیان پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا ۔ جنگ شروع ہوئی اور فریقین نے ایکدوسرے پر حملہ کیا ، ہر شخص جاں فروشی کے لئے تیار ہو گیا ۔ عبداﷲ بن جعدہ نے اپنے مد مقابل لشکر پر حملہ کر دیا ۔ وہ لوگ پیچھے ہٹتے ہوئے حضرت مصعب بن زبیر سے جا ملے ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے ایک پر جوش تقریر سے اپنے سپاہیوں کو للکارا اور آگے بڑھایا ۔ انہوں نے زبردست حملہ کیا اور مختار کا لشکر اُسے چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا ۔ شام ہوتے ہوتے مالک بن عبداﷲ نہدی نے پیدلوں کو لیکر محمد بن اشعث پر حملہ کیا ۔ وہ اور اُس کے ساتھی کام آگئے ۔حضرت عبید اﷲ بن علی بن ابی طالب شہید ہو گئے ۔ تمام رات جنگ ہوتی رہی ، چاروں طرف ایک شور ِ قیامت برپا تھا ۔ صبح ہونے سے کچھ پہلے مختار کے سپاہی آنکھیں بچا بچا کر علیحدہ ہونے لگے ۔ مختار نے اپنے لشکر کا یہ حال دیکھا تو ‘‘دار الامارت’’ میں جا چھپا ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے میدان جنگ سے ‘‘سنجہ’’پہنچ کر پڑاؤ ڈال دیا اور ‘‘دار الامارت’’ کا محاصرہ کر کے رسدو غلہ بند کر دیا ۔ مختار اور اُس کے ساتھیوں کا بھوک اور پیاس سے برا حال ہو گیا ۔ آخر کار مختار اپنے ساتھیوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے آیا ۔ جنگ ہونے لگی اور عبداﷲ بن وجاجہ کے بیٹوں نے اُسے قتل کردیا ۔مختار کے  مارے جانے کے بعد شہر والوں نے دروازے کھول دیئے اور کوفہ پر حضرت مصعب بن زبیر کا قبضہ ہو گیا ۔ اِس کے بعد مختار کے ہاتھ کاٹ کر مسجد کے دروازے پر لٹکا دیئے گئے ، جس کو حجاج بن یوسف نے اپنے زمانہ ٔ حکومت میں اتروایا ۔ 


ابراہیم بن اشتر کا فیصلہ


کوفہ سے فارغ ہونے کے بعد حضرت مصعب بن زبیر نے ابراہیم بن اشتر کو اطاعت کرنے کا خط لکھ کر بھیجا اور اُدھر ملک شام سے بھی عبدالملک بن مروان نے اپنی اطاعت کرنے کا خط لکھ کر بھیجا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت مصعب بن زبیر نے اپنے گورنروں کو کوہستانی علاقوں اور میدانی علاقوں کی طرف روانہ کر دیا اور ابراہیم بن اشتر کو خط لکھا ۔ جس میں اُسے دعوت دی گئی کہ تم میری اطاعت کر لو تو میں تمہیں ملک شام تمہیں دے دوں گا اور وہاں کے سپہ سالار بنا دیئے جاؤ گے اور وہ تمام علاقہ جس پر تم نے تسلط کر لیا ہے بدستور تمہارے ہی حیطہ اقتدار میں اُس وقت تک رہے گا جب تک حکومت ‘‘خاندان زبیر ’’میں رہے گی ۔ دوسری جانب عبدالملک بن مروان نے بھی ابراہیم بن اشتر کو اِسی مضمون کا ایک خط لکھا کہ تم میری اطاعت قبول کرلو گے تو ملک عراق کا تما م علاقہ تمہارے قبضہ و تصرف میں دے دیا جائے گا ۔ ابراہیم بن اشتر نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیاتو بعض ساتھیوں نے حضرت مصعب بن زبیر کیا اطاعت کرنے کا مشورہ دیا اور بعض ساتھیوں نے عبدالملک بن مروان کی اطاعت کرنے کا مشورہ دیا ۔ ابراہیم بن اشتر نے کہا : ‘‘ اگر میں نے عبید اﷲ بن زیاد اور اہل شام کے دوسرے سرداروں کو قتل نہیں کیا ہوتا تو عبدالملک بن مروان کی دعوت کو قبول کر لیتا ۔ اِس کے علاوہ میں اسے بھی پسند نہیں کرتا کہ اپنے شہر یا قبیلے پر دوسروں کو ترجیح دوں ۔’’ اِس کے بعد ابراہیم بن اشتر نے حضرت مصعب بن زبیر کو لکھا کہ میں آپ کی اطاعت قبول کرتا ہوں اور حاضر ہو کر ‘‘حلف اطاعت’’ اُٹھایا ۔ 


حضرت مصعب بن زبیر کی معزولی


اِس سال 67 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بھائی حضرت مصعب بن زبیر کو بصرہ کی گورنری سے معزول کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 67 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بھائی حضرت مصعب بن زبیر کو معزول کر کے اپنے بیٹے حمزہ بن عبداﷲ بن زبیر کو بصرہ کا گورنر بنا دیا ۔ حضرت مصعب بن زبیر کیوں اور کس طرح معزول ہوئے اِس بارے میں مؤرخین کا اختلاف ہے ۔ ایک روایت تو اِس کے متعلق یہ ہے کہ جب حضرت مصعب بن زبیر لشکر لیکر مختار بن ابی عبید ثقفی کے مقابلے کے لئے چلے تو بصرہ پر عبیداﷲ بن عبداﷲ بن معمر کو اپنا قائم مقام بنادیا تھا ۔ مختار کے قتل کے بعد حضرت مصعب بن زبیر اپنے بھائی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے نہ صرف اُن کو عہدے سے برطرف کر دیا بلکہ اپنے پاس نظر بند بھی کر لیا ۔ اِس کا یہ عذر پیش کیا کہ باوجودیکہ میں اِس بات کو خوب جانتا ہوں کہ تم حمزہ بن عبداﷲ سے کہیں زیادہ گورنری کے مستحق اور اہل ہو۔ مگر میرے سامنے حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کی مثال موجود ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ جیسے شخص کو برطرف کردیا تھا اور اُن کی جگہ عبداﷲ بن عامر کو گورنر مقرر کردیا تھا ۔ 


حمزہ بن عبداﷲ کی نااہلی


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بیٹے کو بصرہ کا گورنر بنایا لیکن وہ بہت ہی نااہل ثابت ہوا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حمزہ بن عبداﷲ بن زبیر کو بصرہ کا گورنر بنا دیا گیا ۔ یہ حالانکہ بہت ہی سخی تھا لیکن اِس کے مزاج میں استقلال نہیں تھا ۔ جب سخاوت پر آتا تھا تو اپنا سب کچھ لُٹا دیتا تھا اور جب بخل کتنے لگتا تھا اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ بصرہ میں اس سے بعض خفیف اور سبک حرکتیں ظاہر ہوئیں ۔ ایک روز حمزہ بن عبداﷲ اہواز گیا اور اس کا پہاڑ دیکھ کر کہا : یہ مکۂ مکرمہ کے کوہ قیعقان کے مشابہ ہے ۔ اِس بنا پر اس کا نام بھی قیعقان رکھ دیا ۔ حمزہ بن عبداﷲ نے مروان شاہ کو اپنے وکیل کے ذریعے خراج ادا کرنے کا حکم دیا ۔ مروان شاہ نے کچھ تساہل کیا تو حمزہ بن عبداﷲ نے اسے تلوار کے ایک ہی وار سے قتل کر ڈالا ۔ حمزہ بن عبداﷲ نے بصرہ میں کچھ ایسی بد نظمیاں پیدا کردیں اور ایسی بد عنوانیاں کیں کہ بصرہ کے لوگوں نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے درخواست کی کہ حمزہ بن عبداﷲ کو معزول کر کے حضر ت مصعب بن زیر کو بصرہ کا گورنر بنا دیا جائے ۔ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


Saltanat e Umayya part 32


 ا32 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 32

حضرت مصعب بن زبیر کی بحالی، ھ67 ہجری کا اختتام، ھ68 ہجری کی شروعات، خارجیوں سے سابور میں جنگ، خارجیوں کی اہوازکی طرف روانگی، خوارج کا ظلم و ستم، خوارج کی پسپائی، ملک شام میں قحط، ھ68 ہجری کا اختتام، سید المفسرین’’ حضرت عبداﷲ بن عباس ؓ کا انتقال، ھ69 ہجری : عمرو بن سعید کا دمشق پر قبضہ، عمرو بن سعید کا قتل، یحییٰ بن سعید کا حملہ، یحییٰ بن سعید کی گرفتاری، 


حضرت مصعب بن زبیر کی بحالی


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بیٹے کو معزول کر کے واپس اپنے بھائی کو بصرہ کا گورنر بنا دیا ۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں :جب حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بیٹے حمزہ بن عبداﷲ کو بصرہ کی گورنری سے معزول کر دیا تو یہ بصرہ سے بہت سارا خزانہ لیکر چلا ۔ مالک من مسمع نے اِس پر اعتراض کیا اور کہا : ‘‘ تم ہماری تنخواہوں کی رقم بھی لے جا رہے ہو ۔ اِس طرح ہم تمہیں جانے نہیں دیں گے ۔ ’’ جب عبیداﷲ بن عبداﷲ بن معمر نے تنخواہوں کی ادائیگی کی ضمانت لی تو مالک بن مسمع خاموش ہو گیا ۔ حمزہ بن عبداﷲ یہ روپیہ لیکر اپنے والد کے پاس نہیں گیا بلکہ مدینۂ منورہ ّآیا اور یہ روپیہ کئی شخصوں کے پاس بطور امانت رکھوا دیا اور یہ سب لوگ وہ روپیہ کھا گئے۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو اِن تمام واقعات کی اطلاع ملی تو انہوں نے فرمایا: ‘‘ اﷲ اُسے دور کرے میں چاہتا تھا کہ حمزہ کی وجہ سے میں بنو مروان کے مقابلے میں فخر کروں گا ۔مگر وہ تو نکما نکلا ۔’’ حضرت مصعب بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے بصرہ جا کر پھر سے اپنا عہدہ سنبھال لیا اور بہترین طریقے سے انتظام چلانے لگے ۔ 


ھ67 ہجری کا اختتام


اِس سال 67 ہجری کے خاتمے پر بدستور مملکت اسلامیہ میں دو حکومتیں چل رہی تھیں ۔ ملک حجاز اور ملک عراق و ملک ایران پر حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی حکومت تھی اور ملک شام اور ملک مصر پر عبدالملک بن مروان کی حکومت تھی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کروایا ۔ بصرہ کے گورنر حضرت مصعب بن زبیر تھے ۔ کوفہ کے قاضی عبداﷲ بن عتبہ بن مسعود تھے ۔ ہشام بن ہبیرہ بصرہ کے قاضی تھے ۔ عبدالملک بن مروان ملک شام اور ملک مصر کا حکمراں تھا اور عبداﷲ بن خازم خراسان کے گورنر تھے ۔ 


ھ68 ہجری کی شروعات


اِس سال 68 ہجری کی شروعات میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی حکومت کافی وسیع ہو چکی تھی جبکہ عبدالملک بن مروان کی حکومت سِمٹتی جا رہی تھی ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : 68 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے بھائی حضرت مصعب بن زبیر کو دوبارہ بصرہ کا گورنر بنا دیا اور انہوں نے وہیں آکر اقامت اختیار کر لی ۔ کوفہ کا گورنر حارث بن عبداﷲ بن ابی ربیعہ مخزومی المعروف قباع کو بنایا ۔ مدینہ منورہ کا گورنر جابر بن اسود زہری کو بنایا ۔ اِسی سال شاہ قسطنطین بن قسطنطین اپنے ملک میں فوت ہو گیا اور اِسی میں ازارقہ کا معرکہ ہوا۔


خارجیوں سے سابور میں جنگ


اِس سال 68 ہجری میں حضرت مصعب بن زبیر نے مہلب بن ابی صفرہ کو جو فارس کا گورنر تھا اُسے موصل اور اُس کے مضافات کا گورنر بنا کر بھیجا اور اُس کی جگہ فارس کا گورنر عمر بن عبیداﷲ بن معمر کو بنا دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اہواز میں مہلب بن ابی صفرہ کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد خارجی ، فارس ، کرمان اور مضافات اصبہان میں مقیم تھے ۔ جب مہلب کو موصل اور اس کے مضافات کا گورنر بنا کر بھیجا گیا تو اُس کی جگہ حضرت مصعب بن زبیر نے عمر بن عبیداﷲ  بن معمر کو فارس کا گورنر بنا دیا ۔ خارجیوں نے اِس موقع کو غنیمت سمجھا اور زبیر بن موحوز کی قیادت میں عمر بن عبیداﷲ پر ٹوٹ پڑے ۔ مقام ‘‘سابور’’ پر دونوں کے لشکروں میں شدید جنگ ہوئی اور عمر بن عبیداﷲ نے نمایاں فتح حاصل کی لیکن اِس جنگ میں زیادہ خارجی قتل نہیں ہوئے اور وہ بہت باقاعدگی اور ترتیب سے پسپا ہوگئے ۔ 


خارجیوں کی اہوازکی طرف روانگی


سابور میں شکست کے بعد خارجی پیچھے ہٹے تو عمر بن عبیداﷲ نے اُس کا تعاقب کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :عمر بن عبیداﷲ نے خارجیوں کا تعاقب جاری رکھا مگر خارجی بچ کر نکل گئے اور اصنخر پہنچے ۔ عمر بن عبیداﷲ بھی اپنے لشکر کے ساتھ وہاں پہنچ گیا اور طمستان کے پل پر دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا ۔ شدید جنگ ہوئی اور اِس جنگ میں عمر بن عبیداﷲ کا بیٹا کام آیا اور عمر بن عبیداﷲ کو فتح حاصل ہوئی ۔ خوارج نے طمستان کے پل کو توڑ ڈالا اور اصبہان اور کرمان کے پہاڑوں پر چڑھ گئے ۔ یہاں انہوں نے اپنے نقصانات کی تلافی کی اور جب اُن کی تعداد بڑھ گئی تو وہ پھر فارس کی طرف آئے ۔ اِس مرتبہ خوارج نے اُس راستے کو چھوڑ کر جو انہوں نے سابور پر حملہ کرنے کے وقت استعمال کیا تھا ۔ اس کے بجائے انہوں نے دوسرے راستے سے جرجان کی سمت چلے ۔ عمر بن عبیداﷲ کو جب معلوم ہوا کہ خوارج کا رخ بالا ہی بالا بصرہ کی طرف ہے تو اُسے خوف ہوا کہ کہیں حضرت مصعب بن زبیر اُس سے ناراض نہ ہوجائیں ۔ اِسی لئے وہ نہایت سرعت سے خوارج کے پیچھے چلا لیکن جب وہ جرجان پہنچا تو معلوم ہوا کہ خوارج یہاں سے آگے بڑھ کر اہواز کی سمت جارہے ہیں ۔ دوسری طرف حضرت مصعب بن زبیر کو بھی خوارج کی روانگی کی اطلاع ہوئی اور انہوں نے بڑے پل پر لشکر کی صف آرائی کی۔ 


خوارج کا ظلم و ستم


خوارج مسلسل اہواز کی سمت سفر کر رہے تھے کہ انہیں اطلاع ملی کہ عمر بن عبیداﷲ اپنے لشکر کے ساتھ تعاقب میں ہے اور حضرت مصعب بن زبیر بصرہ سے لشکر لیکر مقابلے کے لئے آرہے ہیں تو انہوں نے عام مسلمانوں پر ظلم ستم کرنا شروع کردیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : خوارج زبیر بن ماحوز کی قیادت میں بڑھتے بڑھتے اہواز تک پہنچ گئے ۔ یہاں اُن کے جاسوسوں نے اطلاع دی کہ عمر بن عبیداﷲ تمہارے پیچھے لشکر لیکر چلا آرہا ہے اور حضرت مصعب بن زبیر بصرہ سے لشکر لیکر تمہارے مقابلے کے لئے نکل کھڑے ہوئے ہیں ۔ اِس خطرے کو محسوس کر کے زبیر بن ماحوز نے اپنے لشکر سے کہا : ‘‘ دشمنوں کے درمیان واقع ہونا ہمارے لئے نہایت خطرناک ہے اِس لئے ہمیں فوراً ایک طرف کے دشمن سے نپٹ لینا چاہیئے ۔’’ اِس کے بعد وہ خوارج کا لشکر لیکر چلا اور علاقہ جوخی کو طے کرتا ہوا نہروانات پر آیا اور یہاں سے دریائے دجلہ کے کنارے کنارے مدائن آدھمکا ۔ کروم بن مرثد مدائن کا گورنر تھا ۔ وہ اپنی جان بچا کر فرار ہوگیااور خوارج نے مدائن میں سخت غارت گری کی ۔ بچوں ،عورتوں اور مردوں کو قتل کر ڈالااور حاملہ عورتوں کے رحموں کو چیر ڈالا۔ اِس کے بعد خوارج ساباط میں آئے اور وہاں کے تمام لوگوں کا قتل عام کرنے لگے ۔یہاں بھی انہوں نے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں اور بچوں کا بھی قتل عام کیا ۔ 


خوارج کی پسپائی


مملکت اسلامیہ میں خوارج مسلسل بد نظمی پھیلا رہے تھے اور عام مسلمانوں پر ظلم و ستم کر رہے تھے ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : پس کوفہ کے گورنر حارث بن ابی ربیعہ نے لشکر لیکر اُن کا قصد کیا اور اُس کے ساتھ کوفہ کے باشندے اور اس کے اشراف کی جماعتیں بھی تھیں جن میں ابراہیم بن اشتر اور شبث بن ربعی بھی شامل تھے ۔ جب وہ صراۃ کے پل پر پہنچے تو خوارج نے اپنے اور اُن کے درمیان اُس پل کو کاٹ دیا ۔ حارث بن ابی ربیعہ اسے دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم دیا تو خوارج اس دوران بھا گ کھڑے ہوئے ۔ عبدالرحمن بن مخنف نے چھ ہزار کے لشکر کے ساتھ اُن کا تعاقب کیا اور وہ کوفہ سے گزرے پھر اصبہان کے علاقے کی طرف چلے گئے اور وہ انہیں چھوڑ کر واپس آگیا ۔پھر خوارج نے ایک مہینے تک جیا شہر میں عتاب بن ورقہ کا محاصرہ کئے رکھا ۔ حتیٰ کہ انہوں نے لوگوں کو تنگ کردیا اور شہر والوں نے باہر نکل کر خوارج سے جنگ کی اور اُن کے سپہ سالار زبیر بن ماحوز کو قتل کر دیا اور جو کچھ اُن کے پڑاؤ میں تھا حاصل کر لیا ۔ خوارج نے فطری بن فجارہ کو اپنا سپہ سالار بنا لیا اور بلاد اہواز کی طرف بھاگ گئے ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے مہلب بن ابی صفرہ کو حکم دیا کہ وہ خوارج سے جنگ کرے ۔ مہلب بن ابی صفرہ نے اپنی جگہ موصل میں ابراہیم بن اشتر کو بھیج دیا اور لشکر لیکر اہواز آیا ۔ اُس نے آٹھ مہینوں تک خوارج سے ایسی جنگ کی جس کی مثال نہیں ملتی ہے ۔ آخر کار خوارج پسپا ہوگئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مہلب بن ابی صفرہ بصرہ آیا اور منتخب بہادروں کو اپنے ساتھ لیکر خارجیوں کے مقابلے کے لئے نکلا ۔مقام سولاف پر دونوں لشکروں کا سامنا ہوا اور جنگ شروع ہوئی ۔ مسلسل آٹھ مہینے تک ایسی شدید جنگ ہوئی اور طرفین میں ایسا سخت رن پڑا کہ جس کی نظیر نہیں ملتی ۔ 


ملک شام میں قحط


اِس سال 68 ہجری میں ملک شام میں بہت زبردست قحط پڑا جس کی وجہ سے اہل شام بہت تکلیف میں رہے اور اِسی وجہ سے عبدالملک بن مروان بیرونی علاقوں پر کوئی توجہ نہیں دے سکا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 68 ہجری میں ملک شام میں شدید قحط پڑا ۔ قحط کی شدت کا اندازہ اِس امر سے ہو سکتا ہے کہ اِسی وجہ سے اِ س سال عبدالملک بن مروان کہیں بھی لشکر نہیں بھیج سکا ۔اِ س سال میں عبدالملک بن مروان قنسرین میں مقام ‘‘بطنان’’ میں اپنے لشکر کے ساتھ مقیم رہا ۔ جب بارش ہوئی توکیچڑ بہت زیادہ ہوئی ۔اِسی وجہ سے اِس مقام کا نام ‘‘بطنان الطین’’ پڑ گیا ۔ عبدالملک بن مروان نے موسم سرما بھی اِسی مقام پر بسر کیا اور پھر وہاں سے دمشق کا رخ کیا ۔

 

ھ68 ہجری کا اختتام


68 ہجری میں حج کے دوران اختلاف صاف نظر آیا اور میدان عرفات میں چارالگ جھنڈے نظر آئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 68 ہجری میں عرفات میں چار جھنڈے چار مختلف لوگوں کے آئے ۔ محمد بن حنفیہ کا جھنڈا ‘‘کوہ مشاۃ’’ کے قریب نصب تھا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کا جھنڈا اُس مقام پر نصب تھا جہاں عرفات کے اجتماع کے دن امام کھڑا ہوتا ہے ۔ بعد میں محمد بن حنفیہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ آئے اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے مقام پر ٹھہر گئے ۔ نجدہ حروری کا جھنڈا اُن دونوں کے پیچھے تھا اور بنو اُمیہ کا جھنڈا اُن دونوں کے بائیں جانب نصب تھا ۔ سب سے پہلے محمد بن حنفیہ کا گروہ مزدلفہ روانہ ہوا ۔ پھر نجدہ کا گروہ ،اُس کے بعد بنو اُمیہ کا گروہ روانہ ہوا اور سب سے آخر میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کا گروہ روانہ ہوا اور مسلمانوں کی اکثریت نے آپ رضی اﷲ عنہ کی ہی پیروی کی ۔ حضرت عبداﷲ بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ بھی اُس وقت تک روانہ نہیں ہوئے جب تک کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ روانہ نہیں ہوئے تھے ۔ حضرت عبداﷲ بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ ایام جاہلیت کے طریقے پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔’’ یہ فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ روانہ ہو گئے اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ تمام مسلمانوں کو لیکر اُن کے پیچھے روانہ ہوگئے


سید المفسرین’’ حضرت عبداﷲ بن عباس ؓ کا انتقال


اِس سال 68 ہجری میں اسلام کے سب سے پہلے ‘‘مفسر قرآن ’’ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی ہیں اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہ کے بیٹے ہیں ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو گلے سے لگا کر اﷲ تعالیٰ سے دعا فرمائی تھی :‘‘ اے اﷲ ! اِسے قرآن پاک کی سمجھ عطا فرما۔’’ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن عباس بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی کنیت ابو العباس ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی ہیں ۔اِس اُمت کے عالم اور کتاب اﷲ (قرآن پاک) کے مفسر اور ترجمان ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کو عالم اور ‘‘علم کاسمندر’’ کہا جاتا تھا ۔ بہت سے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم اور تابعین کی جماعتوں نے آپ رضی اﷲ عنہ سے سیکھا ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کو اپنے وسعت ِ علم و فہم اور کمال ِ عقل اور وسعت فضل اور اپنے اصل کی شرافت کی وجہ سے بعض ایسی یکتا خوبیاں حاصل ہیں جو کسی دوسرے صحابی رضی اﷲ عنہ کو حاصل نہیں ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کی والدہ محترمہ سیدہ اُم الفضل لبابہ بنت حارث ہلالیہ ہیں جو اُم المومنین سیدہ میمونہ رضی اﷲ عنہا کی بہن ہیں ۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ عباسی حکمرانوں کے جد امجد ہیں اور آپ رضی اﷲ عنہ کی اولاد میں عباسی حکمراں ہوئے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہ کے ہاں سیدہ اُم الفضل سے دس بھائیوں میں پیدائش کے لحاظ سے سب سے چھوٹے ہیں ۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں :‘‘ جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم شعب ابی طالب میں تھے تو میرے والد حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہ ،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا :‘‘ میں نے ام الفضل کو حاملہ پایا ہے ۔’’ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : شاید اﷲ تعالیٰ تمہاری آنکھوں کو ٹھنڈا کرے ۔’’ جب میری والدہ نے مجھے جنا تو مجھے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اور میں ایک چیتھڑے میں لپٹا ہوا تھا ۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے لعاب دہن سے مجھے گھٹی دی ۔’’ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ ہجرت کے سال پیدا ہوئے اور حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کی خود کی روایت میں ہے کہ ‘‘میں ہجرت سے تین سال پہلے پیدا ہوا اور ہم سب شعب ابی طالب میں محصور تھے اور جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو میں تیرہ (۱۳) سال کا تھا ۔ ’’ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کے فضائل بہت زیادہ ہیں ۔ہم اِسی پر بس کرتے ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ آخری عمر میں نابینا ہو گئے تھے اور حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو کوفہ جانے سے بہت منع فرمایا ۔جب اُن کی شہادت کی خبر ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ کو بہت زیادہ غم ہوا اور گوشۂ تنہائی اختیار کرلی اور اِسی حالت میں طائف میں انتقال ہوگیا ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کی نماز جنازہ حضرت محمد بن حنفیہ نے پڑھائی۔ 


ھ69 ہجری : عمرو بن سعید کا دمشق پر قبضہ


اِس سال 69 ہجری کی شروعات میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی طرف سے مدینۂ منورہ کا گورنر جابر بن اسود تھا کوفہ اور بصرہ کے گورنر حضرت مصعب بن زبیر تھے ۔ خراسان کا گورنر عبداﷲ بن خازم تھا اور ملک شام میں عبدالملک بن مروان کی حکومت تھی لیکن یہ بھی ڈانواڈول ہو رہی تھی کیونکہ عمرو بن سعید نے عبدالملک بن مروان سے دشمنی کر لی تھی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالملک بن مروان جب اپنے باپ مروان بن حکم کے بعد ملک شام کا بادشاہ بناتو عمرو بن سعید کہا کرتا تھا کہ تمہارے باپ نے مجھے ‘‘ولی عہد’’بنایا تھا لیکن تم میری جگہ بادشاہ بن گئے ہو ۔اِس لئے میری ‘‘ولی عہدی’’ کا اعلان کرو ۔لیکن عبد الملک بن مروان کوئی توجہ نہیں دیتا تھا ۔ جب عبدالملک بن مروان بطنان سے دمشق واپس آیا اور کچھ عرصہ قیام کر کے ملک عراق کی جانب حضرت مصعب بن زبیر کی طرف لشکر لیکر روانہ ہوا تو عمرو بن سعید نے کہا : ‘‘ تم خود عراق جا رہے ہو حالانکہ تمہارے والد نے اپنے بعد مجھے خلافت دینے کا وعدہ کیا تھا اور اِسی وجہ سے میں لڑتا رہا ہوں اور جس طرح کی خدمات انجام دی ہیں اس سے سب واقف ہیں ۔ بہتر ہے کہ مجھے تم اپنا ‘‘والی عہد’’ نامزد کر دو ۔’’ عبدالملک نے کوئی جواب نہیں دیا تو عمرو بن سعید وہیں سے ناراض ہو کر دمشق کی طرف پلٹا ۔ عبدالملک بن مروان نے عبدالرحمن بن ام حکم کو دمشق پر اپنا نائب بنایا تھا ۔جب اُسے معلوم ہوا کہ عمرو بن سعید لشکر لیکر دمشق آرہا ہے تو وہ فرار ہو گیا اور عمرو بن سعید نے دمشق پر قضہ کر لیا اور جس قدر خزانے تھے سب پر قبضہ کر لیا ۔ عبدالملک بن مروان اپنا لشکر لیکر اُس کے پیچھے آیا اور دمشق کا محاصرہ کر لیا ۔


عمرو بن سعید کا قتل


دمشق کا عبدالملک بن مروان نے محاصرہ کر رکھا تھا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : عبدالملک بن مروان کو خبر ہوئی تو وہ بھی عمرو بن سعید کے پیچھے ہی پیچھے آیا اور دمشق کا محاصرہ کر لیا ۔ مدتوں دونوں میں لڑائی ہوتی رہی آخر کار مصالحت ہو گئی ۔ صلح نامہ لکھا گیا اور عبدالملک بن مروان نے عمرو بن سعید کو پناہ دے دی ۔ عمرو بن سعید دمشق سے نکل کر عبدالملک بن مروان کے خیمے میں آیا اور اُس کو اپنے ساتھ دمشق میں لے گیا ۔ چار دن بعد عبد الملک بن مروان نے عمرو بن سعید کو بلا بھیجا ، اتفاقاً اُُسوقت عبداﷲ بن یزید (اُس کا داماد) اُس کے پاس بیٹھا ہوا تھا ۔ اُس نے عبدالملک بن مروان کے پاس جانے سے روکا ۔عمرو بن سعید نے کہا : ‘‘ اﷲ کی قسم! مجھے کسی بات کا اندیشہ نہیں ہے ،اگر میں سوتا بھی ہوتا تو عبدالملک بن مروان مجھے جگانے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ ’’ اِس کے بعد پیامبر سے کہا: ‘‘ تم جاؤ میں شام کے وقت آؤں گا۔’’شام کا وقت آیا تو اُس نے زرہ پہنی ، اوپر قبا کو زیب تن کیا اور تلوار کمر سے لٹکائی اور ایک سو خدام کو لیکر عبدالملک بن مروان سے ملنے کے لئے چلا ۔ عبدالملک بن مروان نے اپنے پاس تمام بنو مروان وغیرہ کو جمع کر رکھا تھا ۔ عمرو بن سعید پہنچا تو اُسے حاضری کی اجازت دی گئی ،جوں جوں وہ اندر جاتا گیا عبدالملک بن مروان کے مصاحبین دروازے بند کرتے گئے ۔ یہاں تک کہ شہ نشین کے دروازے پر پہنچا تو اُس کے ساتھ صرف ایک غلام باقی رہ گیا تھا ۔ عبدالملک بن مروان کے پاس بنو مروان کو جمع دیکھ کرعمرو بن سعید کو خدشہ پیدا ہوا اور اُس نے غلام کو کہا : ‘‘ میرے بھائی یحییٰ کے پاس جا اور اُسے بلا لا۔’’ غلام کچھ سمجھ نہیں سکا ۔ عمرو بن سعید نے پھر کہا تو غلام نے لبیک کہا لیکن کچھ سمجھ نہیں سکا ۔عمرو بن سعید نے جھلا کر کہا :‘‘ جا دور ہو جا ۔’’ غلام چلا گیا ۔ عبدالملک بن مروان نے استقبال کیا اور تخت پر بٹھایا ۔ باتیں ہونے لگیں اور کچھ دیر بعد عبدالملک بن مروان نے اُس کی تلوار بھی لے لینے کا حکم دیا تو عمرو بن سعید کو ناگوار گذرا ۔ اُس نے کہا :‘‘ اے امیر المومنین ْ اﷲ سے ڈریئے ۔’’ عبدالملک بن مروان نے کہا : ‘‘ کیا تم اِس کی اُمید رکھتے ہو کہ میرے ساتھ تخت پر تلوار لیکر بیٹھو گے ؟’’ عمرو بن سعید خاموش ہو گیا ۔ غلاموں نے اُس کی تلوار لے لی ۔ تھوڑی دیر کے بعد عبدالملک بن مروان نے کہا : ‘‘ اے ابو امیہ ( عمرو بن سعید کی کنیت ہے) جس وقت تم نے میری مخالفت کی تھی اُسی وقت میں نے قسم کھائی تھی کہ جب میں تمہیں اپنے قبضۂ اقتدار میں پاؤں گا تو تمہیں ہتھکڑی پہناؤں گا ۔’’ بنو مروان نے کہا: ‘‘ کیا پھر امیر المومنین انہیں رہا کر دیں گے ؟’’ عبدالملک نے کہا: ‘‘ ہاں ! میں ابو امیہ کے ساتھ برائی نہیں کروں گا ۔’’ بنو مروان نے عمرو بن سعید سے کہا: ‘‘ ابو امیہ ! امیر المومنین کی قسم پوری کرو ۔’’ عمرو بن سعید دبی زبان سے بولا : ‘‘ بے شک اﷲ تعالیٰ نے امیر المومنین کی قسم سچائی کے ساتھ پوری کر دی ۔’’ عبدالملک نے فوراً قالین کے نیچے سے زنجیر نکالی اور غلام کو دے کر کہا : ‘‘ ابو امیہ کے ہاتھ پاؤں اور گردن میں ڈال دو ۔’’ عمرو بن سعید بولا: ‘‘ میں امیر المو منین کو اﷲ کی قسم دلاتا ہوں کہ مجھے لوگوں کے رو برو یونہی لیکر نہیں چلنا۔’’ عبدالملک بن مروان بوالا: ‘‘ مجھ سے یہ نہ ہوگا کیا تم مرتے وقت دھوکا دینا چاہتے ہو؟’’ عمرو بن سعید یہ سن کر خاموش ہو گیا ۔ عبدالملک نے اتنی زور سے زنجیر کو کھینچا کہ اُس کا منہ تخت سے ٹکرا گیا اور اگلے دو دانت ٹوٹ گئے ۔ عبدالملک بن مروان نے کہا : ‘‘ اﷲ کی قسم! اگر یہ مجھے معلوم ہوتا کہ تیرے زندہ رہنے سے میری بہتری ہے اور قریش کی حالت درست ہو جائے گی تو میں بے شک تجھے زندہ رکھتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک ملک میں ہمارے اور تیرے جیسے دو شخص نہیں رہ سکتے۔ ’’ عمرو بن سعید اُسے برا بھلا کہنے لگا تو عبدالملک بن مروان نے اپنے بھائی عبدالعزیز بن مروان کو حکم دیا کہ اُسے قتل کردے اور نماز پڑھنے چلا گیا ۔ عبدالعزیز بن مروان نے اُسے قتل نہیں کیا ۔ عبدالملک بن مروان جب نماز پڑ ھ کر واپس آیا اور عمرو بن سعید کو زندہ دیکھاتو اپنے بھائی پر سخت برہم ہوا اور ایک ہتھیار لیکر عمرو بن سعید کو ذبح کرڈالا۔ بعض کا بیان ہے کہ عبدالملک بن مروان نے اپنے غلام زغیر کو قتل پر مامور کیا تو اُس نے اُسے قتل کر دیا ۔


یحییٰ بن سعید کا حملہ


جب عمرو بن سعید کے بارے میں اُس کے بھائی یحییٰ بن سعید کو خبر ہوئی تو اُس نے عبدالملک بن مروان کے محل کو گھیر لیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حاضرین میں سے کسی نے جا کر عمرو بن سعید کا حال اُس کے بھائی یحییٰ بن سعید سے جا کرکہہ دیا ۔ وہ ایک ہزار غلاموں اور ساتھیوں کا لشکر لیکر آیا اور عبدالملک بن مروان کے محل پر حملہ بول دیا ۔ اُس کے ساتھ حمید بن حریث اور زہیر بن ابرد تھے انہوں نے عمرو بن سعید کا نام لیکر پکارنا شروع کر دیا ۔ جب اُس کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا تو محل کا دروازہ توڑ ڈالا اور محل کے لوگوں پر دیوانہ وار حملہ کرنے لگے ۔ ولید بن عبدالملک نے نکل کر مقابلہ کیا کچھ عرصہ تک لڑائی ہوتی رہی ۔اِسی دوران عبدالرحمن بن ام حکم نے عمرو بن سعید کا سر لوگوں کے سامنے پھینک دیا اور عبدالعزیز بن مروان درہم اور دینار پھینکنے لگا ۔ یحییٰ بن سعید کے ساتھی اور غلام لڑائی چھوڑ کردرہموں اور دیناروں کو لوٹنے لگے اور لوٹ کر سب بھاگ گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یحییٰ بن سعید کے کے ساتھیوں نے محل کا صدر دروازہ توڑ دیا اور شمشیر زنی شروع کردی ۔ عمرو بن سعید کے غلام مصقلہ نے ولید بن عبدالملک کے سر پر تلورا کا ایک ہاتھ مارا جس سے وہ زخمی ہوگیا اور ابراہیم بن عربی میر منشی اُسے اُٹھا کر منشی خانہ لے گیا ۔ 


یحییٰ بن سعید کی گرفتاری


بنو اُمیہ آپس میں ہی لڑ رہے تھے اور ایک دوسرے کا خون بہا رہے تھے ۔ جب یحییٰ بن سعید اور اُس کے ساتھی چلے گئے تو عبدالملک بن مروان نے اپنے محل کے باہرجامع مسجد کے قریب اپنا دربار لگایا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالملک بن مروان نے حکم دیا کہ تخت باہر لایا جائے ۔ اُس کے حکم کے مطابق مسجد کے قریب تخت بچھایا گیا اور وہیں عبدالملک بن مروان نے اپنا دربار لگایا ۔ اُس نے دیکھا کہ ولید بن عبدالملک نہیں ہے تو اُس نے پوچھا کہ ولید کہاں ہے؟ اور ساتھ ہی قسم کھا کر کہا کہ اگر باغیوں نے ولید کو قتل کر ڈال ہے تو وہ اُن سے اپنا قصاص ضرور لے گا ۔ ابراہیم بن عربی آگے بڑھا اور بولا : آپ ولید کی فکر نہ کریں وہ میرے پاس محفوظ ہے ۔اُسے ایک زخم آگیا تھا جس سے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔’’ عبدالملک بن مروان نے یحییٰ بن سعید کی گرفتاری کا حکم دیا اور جب اُسے گرفتا کر کے اُس کے سامنے لایا گیا تو عبدالملک بن مروان نے اُس کے قتل کا حکم دے دیا ۔ عبدالعزیز بن مروان کھڑا ہوا بولا: ‘‘ اﷲ مجھے امیر المومنین پر قربان کردے ! کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تمام بنو اُمیہ کو ایک ہی دن میں قتل کر ڈالو؟’’ یہ سن کر عبدالملک بن مروان بن حکم دیا : ‘‘ اچھا ! یحییٰ بن سعید کو قید میں ڈال دو۔ ’’ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

Saltanat e Umayya part 33


 ا33 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 33

یحییٰ بن سعید کو جنگ کے لئے بھیجا، 69 ہجری کا اختتام، ابو الاسود الدؤلی تابعی کا انتقال، سیدہ اسما بنت یزید رضی اﷲ عنہا کا انتقال، 70 ہجری کے واقعات، حضرت عاصم بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا انتقال، دو کبار تابعین کا انتقال، ھ71 ہجری : عبدالملک کی بصرہ میں خفیہ چال، اہل عراق کی غداری، دونوں لشکروں میں جنگ، عبدالملک بن مروان کی فتح، عبدالملک کے ملک عراق میں گورنر، حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کا خطبہ، ھ71 ہجری کا اختتام، 




یحییٰ بن سعید کو جنگ کے لئے بھیجا


قید کرنے کے بعد عبدالملک بن مروان نے یحییٰ بن سعید کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا تو لوگوں نے کہا کہ اُسے جنگ پر بھیج دو ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یحییٰ بن سعید کو قید ہوئے ایک مہینہ یا اُس سے کچھ زیادہ ہوا ہوگا کہ عبدالملک بن مروان نے اُس کے قتل کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا تو ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا : ‘‘ اے امیر المومنین ! سانپ سے ہمیشہ سنپولیا ہی پیدا ہوتا ہے اِس لئے ہماری رائے یہ ہے کہ آپ اُسے قتل کر ڈالیں ۔وہ منافق اور دشمن ہے ۔’’ پھر ایک دوسرا شخص کھڑا ہوا اور بولا: ‘‘ اے امیر المومنین ! یحییٰ بن سعید آپ کے چچا کا بیٹا ہے اور آپ سے اُس کی رشتہ داری ہے ۔جو کچھ اُس نے کیا اور جواب میں آپ نے کیا وہ بھی معلوم ہے ۔ مگر میں آپ کو یہ رائے نہیں دوں گا کہ آپ اُسے قتل کر ڈالیں بلکہ اِس کی سب سے اچھی صورت یہ ہے کہ اُسے اپنے دشمن کے مقابلے پر جنگ کرنے کے لئے بھیج دیں ۔ اگر وہ جنگ میں کام آیا تو اُس کے قتل کی ذمہ داری سے آپ بچ جائیں گے اور اگر وہ صحیح و سالم بچ کر آگیا تو جیسا آپ مناسب سمجھیں کیجیئے۔’’ عبدالملک بن مروان نے اِس رائے کو پسند کیا یحییٰ بن سعید کو حضرت مصعب بن زبیر سے جنگ کرنے والے لشکر کے ساتھ بھیج دیا ۔ 


ھ69 ہجری کا اختتام


ھ69 ہجری میں بھی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 69 ہجری میں حج کے موقع پر مقا خیف منیٰ میں ایک خارجی نے اپنا شعار ‘‘لَا حکم الا اﷲ’’ کا نعرہ لگایا ۔مگر جمرہ کے پاس اُسے قتل کردیا گیا ۔ ایک صا حب بیان کرتے ہیں کہ میں نے اُسے جمرہ کے پاس تلوار کھینچتے دیکھا ۔وہ اکیلا نہیں تھا بلکہ خارجیوں کی ایک جماعت اُس کے ساتھ تھی ۔ اﷲ تعالیٰ نے اُن کے ہاتھ روکے رکھے ۔ یہ شخص اُن میں سے آگے بڑھا اور اپنا شعار ‘‘لا حکم الااﷲ ’’ پکارنے لگا ۔اُس کی آواز سن کر لوگ اُس پر ٹوٹ پڑے اور اُسے قتل کر ڈالا ۔ اِس سال بھی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ 


ابو الاسود الدؤلی تابعی کا انتقال


اِس سال ابو اسود الدؤلی تابعی کا انتقال ہوا ۔ اِن کا ذکر خاص طور سے اِس لئے کیا جارہا ہے کیونکہ انہوں نے ‘‘ علم نحو’’ حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے سیکھا اور لوگوں کو سیکھایا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : انہیں ‘‘الدیلی’’ بھی کہا جاتا ہے کوفہ کے قاضی اور جلیل القدر تابعی ہیں ۔ اِن کا نام ظالم بن عمرو بھی کہا جاتا ہے اور بعض اِس کے اُلٹ یعنی عمرو بن ظالم بھی بتاتے ہیں ۔ اِن کی طرف ‘‘علم نحو’’ منسوب کیا جاتا ہے کہ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ‘‘علم نحو’’ کے بارے میں گفتگو کی ۔ انہوں نے امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے ‘‘علم نحو’’ کو حاصل کیا ۔ ایک روایت میں ہے کہ اِن کا نام عویمر بن ظویلم ہے اور انہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام قبول کیا تھا لیکن آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے ملاقات نہیں کی تھی اور جنگ جمل میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کی طرف سے شرکت کی تھی اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے دور حکومت میں انتقال ہوگیا ۔


سیدہ اسما بنت یزید رضی اﷲ عنہا کا انتقال


اِس سال 69 ہجری میں سیدہ اسما بنت یزید رضی اﷲ عنہا کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت اسما بنت یزید بنت سکن انصاریہ رضی اﷲ عنہا نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے بیعت کی ہے ۔آپ رضی اﷲ عنہا جنگ یرموک میں شریک تھیں ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے انہیں مسلمان خواتین کے ساتھ مسلمانوں کے لشکر کے پیچھے لکڑیاں دے کر متعین کیا تھا اور حکم دیا تھا کہ جو بھی مسلمان پیچھے ہٹنے کی کوشش کرے گا تو انہیں شرم دلانا اور لکڑیوں سے خبر لینا ۔آپ رضی اﷲ عنہا نے مسلمانوں کو تو واپس بھیجا ہی تھا اِسکے علاوہ جو لکڑی آپ رضی اﷲ عنہا کے پاس تھی اُس سے مار مار کا نو رومیوں کو قتل کر دیا تھا ۔ ملک شام فتح ہونے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہا نے دمشق میں سکونت اختیار کر لی اور 69 ہجری میں آپ رضی اﷲ عنہا کا انتقال ہوگیا اور ‘‘باب الصغیر ’’ میں آپ رضی اﷲ عنہا کو دفن کیا گیا ۔


ھ70 ہجری کے واقعات


اِ س سال 70 ہجری میں مسلمانوں کی آپسی لڑائی کا فائدہ رومیوں نے اُٹھایا اور عبدالملک بن مروان کو اُن سے دب کر صلح کرنی پڑی ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 70 ہجری میں رومیوں نے حملہ کیا اور شامیوں کے خلاف لشکر جمع کیا اور عبدالملک بن مروان اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے درمیان اختلاف دیکھ کر انہیں کمزور سمجھ لیا ۔ پس عبدالملک بن مروان نے روم کے بادشاہ سے اِس شرط پر مصالحت کر لی کہ وہ رومیوں کو ہر جمعہ ہزار دینار ادا کرے گا ۔ اِس سال ملک مصر میں وبا پھیلی اور عبدالعزیز بن مروان اِس وبا سے بھاگ کر مشرقی مصر میں آگیا اور حلوان میں اترا جو قاہرہ سے ایک دن کی مسافت پر واقع ہے ۔ اس نے اسے اپنی فرو گاہ بنا لیا اور اسے قبیلوں سے دس ہزار دینار میں خرید لیا اور وہاں ‘‘دارالامارت’’ اور ‘‘جامع مسجد’’ تعمیر کی اور اپنے لشکروں کو وہیں اُتارا۔ اِس سال حضرت مصعب بن زبیر بصرہ سے مکۂ مکرمہ گئے اور اُن کے ساتھ بہت سارے اموال تھے جو انہوں نے حجاز کے لوگوں میں تقسیم کئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں اِس سال بھی حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا اور تمام علاقوں میں وہی گورنر تھے جو پچھلے سال تھے ۔ 


حضرت عاصم بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 70 ہجری میں حضرت عاصم بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عاصم بن عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کی والدہ کا نام جمیلہ بنت ثابت بن ابی افلح ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں پیدا ہوئے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے والد محترم سے صرف ایک حدیث ‘‘جب رات اُس طرف سے آجائے’’ روایت کی ہے اور آپ رضی اﷲ عنہ سے آپ رضی اﷲ عنہ کے دونوں بیٹوں حفص بن عاص اور عبداﷲ بن عاصم نے روایت کی ہے اور ان دونوں کے علاوہ حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے بھی روایت کی ہے ۔کئی مورخین نے بیان کیا ہے کہ حضرت عاصم بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ اور حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے درمیان کسی زمین پر تنازعہ ہو گیا اور جب حضرت عاصم بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کو ناراض دیکھا تو عرض کیا : ‘‘یہ زمین آپ کی ہوئی اور میرا اِس پر کوئی حق نہیں ہے۔’’ یہ سن کر حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ نہیں ! یہ زمین آپ کی ہے ۔’’ اور اُس زمین کو دونوں نے چھوڑ دیا اور اُن کی اولاد نے بھی اُس زمین کو چھوڑ دیا ۔یہاں تک کہ دوسرے لوگوں نے اس پر قبضہ کر لیا ۔ حضرت عاصم بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ باوقار ، شریف اور فاضل رئیس تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ۷۰ ؁ ہجری میں ہوا ۔ 


دو کبار تابعین کا انتقال


اِس سال بہت سے تابعین کا انتقال ہوا لیکن دو کبار تابعین ایسے ہیں جن کا ذکر کرنا ضروری ہے ۔ یہ حضرت قبیصہ بن دؤیب خزاعی اور حضرت مالک بن یخامر ہیں ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت قبیصہ بن دؤیب خزاعی کی کنیت ‘‘ابو العلاء’’ ہے اور یہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے رضاعی بھائی ہیں ۔ آپ اہل مدینہ کے فقہا اور صالحین میں سے تھے ۔ اور آپ کتاب ( قرآن پاک) کے معلم تھے ۔ آخری وقت میں آپ ملک شام منتقل ہوگئے تھے اور وہیں ۷۰ ؁ ہجری میں انتقال ہوا ۔حضر ت مالک بن یخامر حمصی جلیل القدر تابعی ہیں ۔ امام بخاری نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲعنہ کے طریق سے آپ سے بحوالہ حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ کے ‘‘حق پر غالب طائفہ’’ کی حدیث روایت کی ہے ۔آپ حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ کے شاگرد ہیں۔ اِن دونوں حضرات نے ۷۰ ؁ ہجری میں وفات پائی۔


ھ71 ہجری : عبدالملک کی بصرہ میں خفیہ چال


اِس سال 71 ہجری میں عبدالملک بن مروان نے حضرت مصعب بن زبیر کے خلاف بصرہ میں خفیہ چال چلی ۔ علامہ محمدد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ۷۱ ؁ ہجری میں عبدالملک بن مروان ، حضرت مصعب بن زبیر کے مقابلے کے لئے ملک عراق کی طرف چلا ۔ ابھی تک یہ ہوا تھا کہ عبدالملک بن مروان لشکر لیکر بطنان حبیب پہنچتا اور حضرت مصعب بن زبیر مقام ‘‘ با جمیرا ’’ تک بڑھ آتے تھے تو موسم سرما شروع ہو جاتا تھا اور دونوں اپنے اپنے لشکر کو لیکر اپنے اپنے مقامات پر واپس ہو جاتے اور پھر آئندہ سال اسی طرح مقابلے کی تیاریاں کرتے تھے ۔ اِس سال خالد بن اسید نے عبدالملک سے کہا : ‘‘ اگر آپ مجھے کچھ سواروں کے ساتھ بصرہ بھیج دیں تو میں اُمید کرتا ہوں کہ اُس پر قبضہ کر لوں گا ۔ عبدالملک بن مروان نے اُس کی خواہش کے مطابق روانہ کردیا ۔خالد بن اُسید پوشیدہ طور پر اپنے ساتھیوں کو لیکر بصرہ آیا اور عمرو بن اصمع باہلی کے یہاں قیام پذیر ہوگیا ۔ حضرت مصعب بن زبیر اُس وقت مکۂ مکرمہ گئے ہوئے تھے اور اپنی جگہ عبیداﷲ بن عبیداﷲ بن معمر کو بصرہ پر جانشین مقرر کیا تھا اور عباد بن حصین پولیس کا اعلیٰ افسر تھا ۔ خالد بن اُسید نے عباد بن حصین کو خفیہ پیغام بھیجا تو اُس نے انکار کر دیا ۔ خالد وہاں سے بھاگا اور مالک بن مسمع کے پاس پہنچا ۔اُس نے بنو بکر بن وائل اور بنو ازد کو اپنی حمایت کے لئے بلایا۔ اس کے بعد خالد بن اُسید سے بنو تمیم آکر مل گئے ۔ حضرت مصعب بن زبیر کو اطلاع ملی تو انہوں نے زحر بن قیس جعفی کو مدد کے لئے ایک ہزار گھڑ سوار کا لشکر دے کر بھیجا ۔ اس کے مقابلے پر عبدالملک بن مروان نے عبیداﷲ بن زیاد بن ظیبان کو خالد کی مدد کے لئے بھیجا ۔ اِسی دوران خالد بن اُسید بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھاگ نکلا تھا ۔ عبیداﷲ بن ظبیان بصرہ میں داخل نہیں ہوا اور مطر بن توام کو دریافت حال کے لئے روانہ کیا ۔ مطر بن توام نے واپس آکر اطلاع دی کہ ہمارے ساتھی منتشر ہو گئے ہیں ۔ یہ سن کر عبیدﷲ بن زیاد بن ظبیان چپکے سے عبدالملک بن مروان کے پاس واپس آگیا ۔ حضرت مصعب بن زبیر جب بصرہ واپس آئے تو جن جن کے پاس خالد بن اُسید گیا تھا اُن سب کو ڈانٹا اور خالد کے ساتھیوں کو پکڑ کر قتل کردیا ۔ اِس کے بعد کوفہ چلے گئے 


اہل عراق کی غداری


اہل عراق نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کے ساتھ بھی دھوکہ کیا تھا ۔اُن کے بعد اُن کے بڑے بیٹے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے ساتھ دھوکہ کیا ۔جس کے بعد حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ خلافت سے دستبردا ہو کرحضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ سے صلح کر کے مدینۂ منورہ چلے گئے۔ اِس کے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو اہل عراق نے پھر دھوکہ دیا اور آپ رضی اﷲ عنہ کو شہید کردیا تھا ۔ اب یہی اہل عراق حضرت مصعب بن زبیر کو بھی دھوکہ دے رہے تھے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : جس وقت ملک شام پر عبدالملک بن مروان کا مکمل تسلط ہوگیا اور کوئی اُس کا مخالف نہیں رہا تو اُس نے ملک عراق پر حملے کی تیاری شروع کردی ۔اُس زمانے میں بعض شرفائے عراق کے خطوط بھی اُس کے پاس آئے جس میں انہوں نے عبدالملک بن مروان کو ملک عراق پر قبضہ کر لینے کو لکھا تھا ۔ عبدالملک بن مروان کے مشیروں نے ملک عراق پر حملے کی مخالفت و ممانعت کی لیکن وہ اُن کے مشوروں کو نظر انداز کرتے ہوئے لشکر لیکر ملک عراق کی طرف روانہ ہو گیا ۔اِدھر حضرت مصعب بن زبیر کو ملک شام سے لشکر کی روانگی کی اطلاع ملی تو وہ بھی لشکر لیکر کوفہ سے روانہ ہوئے اور مہلب کو خوارج سے جنگ پر بھیج دیا ۔مہلب نے کہا بھی تھا :‘‘ اہل عراق نے عبدالملک بن مروان سے خط و کتابت کر کے سازش کر لی ہے ۔’’لیکن حضرت مصعب بن زبیر نے پھر بھی اُسے بھیج دیا اور ابراہیم بن اشتر کو بلا کر اپنے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کا کمانڈر بنا دیا ۔ 


دونوں لشکروں میں جنگ


ملک شام اور ملک عراق کے لشکر ایکدوسرے کے آمنے سامنے آگئے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : عبدالملک بن مروان کے لشکر کے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ پر اُس کا بھائی محمد بن مروان تھا ۔ اُس نے قرقیسی کے قریب پہنچ کر پڑاؤ ڈال دیا ۔وہاں ذفر بن کلابی نے حاضر ہو کر مصالحت کر دی اور اپنے لڑکے ہذیل کو ایک لشکر کے ساتھ اُس کے ہمراہ کر دیا ۔ پھر عبدالملک بن مروان اپنے لشکر کے ساتھ کوچ کر کے حضرت مصعب بن زبیر کے لشکر کے سامنے پہنچا تو یذیل بن زفر بھاگ کر حضرت مصعب بن زبیر سے آملا ۔ عبدالملک بن مروان اہل عراق سے خط و کتابت کرنے لگا اور اصفہان دینے کا وعدہ کرنے لگا ۔ حضرت مصعب بن زبیر کو معلوم ہوگیا تھا کہ اہل عراق اُن کے ساتھ غداری کر رہے ہیں ۔پھر بھی وہ جنگ کرنے کے لئے تیار ہو گئے ۔ جس وقت دونوں لشکروں میں صف آرائی ہوئی تو عبدالملک بن مروان نے کہا : ‘‘ خون ریزی سے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔آؤہم تم اِس کام کو شوریٰ کے سپرد کر دیتے ہیں ۔ ’’ حضرت مصعب بن زبیر نے جواب دیا : ‘‘ ہمارے اور تمہارے درمیان تلوار ہی فیصلہ کرے گی ۔’’جنگ بہت شدت پر آگئی ۔عبدالملک بن مروان نے اپنے بھائی محمد بن مروان کو حملہ کرنے کا حکم دیا اور حضرت مصعب بن زبیر نے ابراہیم بن اشتر کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ حضرت مصعب بن زبیر نے تازہ دم لشکر سے ابراہیم بن اشتر کی مدد کی جس نے محمد بن مروان کو پیچھے دھکیل دیا ۔ عبدالملک بن مروان نے محمد بن مروان کی مدد کے لئے عبیداﷲ بن یزید کو مامور کیا میدان کار زار بہت تیزی سے گرم ہو گیا ۔ حضرت مصعب بن زبیر کے ساتھیوں میں سے مسلمہ بن عمر باہلی ( قتیبہ بن مسلمہ کے والد) اِس معرکے میں کام آگئے ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے فوراً عتاب بن ورقا کو ابراہیم بن اشتر کی مدد کے لئے بھیجا ۔ عتاب بن ورقا نے پہلے ہی عبدالملک بن مروان سے وعدہ کر لیا تھا کہ عین جنگ کے وقت وہ بھاگ کھڑا ہو گا ۔ اس لئے اُس نے ابراہیم بن اشتر کی مدد کرنے کے بجائے لشکر کو لیکر بھاگ گیا ۔ جبکہ ابراہیم بن اشتر نہایت استقلال سے لڑتا رہا ۔یہاں تک کہ میدان جنگ میں کام آگیا ۔ قتل کے بعد اُس کا سر عبدالملک بن مروان کے پاس بھیج دیا گیا ۔ 


عبدالملک بن مروان کی فتح


اہل عراق نے ایک بار پھر اپنی روایتی غداری کا ثبوت دیا اور حضرت مصعب بن زبیر کو چھوڑ چھوڑ کر الگ جاکھڑے ہوگئے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اہل شام کے لشکر کے حوصلے ابراہیم بن اشتر کے مارے جانے سے بڑھ گئے اور وہ بڑھ چڑھ کر حملے کرنے لگے ۔ حضرت مصعب بن زبیر نے کمانڈروں کو لڑنے کا حکم دیا تو سب نے حیلہ کر کے ٹال دیا ۔ اب اس وقت حضرت مصعب بن زبیر تن تنہا اپنے گنتی کے چند ساتھیوں کے ساتھ لڑ رہے تھے اور باقی اہل عراق دور کھڑے ہو کر تماشا دیکھ رہے تھے ۔ محمد بن مروان نے حضرت مصعب بن زبیر کے قریب پہنچ کر بلند آواز سے کہا : ‘‘ میں تمہارا چچا زاد بھائی ہوں ، تم امیر المومنین عبدالملک بن مروان کی امان قبول کر لو۔’’ حضرت مصعب بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے امان لینے سے انکار کر دیا ۔ محمد بن مروان نے اہل عراق کی سازش کا حال بتایا لیکن حضرت مصعب بن زبیر نے کوئی توجہ نہیں کی ۔ اِس کے بعد محمد بن مروان نے اُن کے بیٹے عیسیٰ بن مصعب کو کہا : ‘‘ تم کو اور تمہارے باپ کو امان دی جاتی ہے ۔’’ عیسیٰ نے اپنے والد کو بتایا تو انہوں نے جواب دیا : ‘‘ میرا خیال ہے کہ اہل شام اپنے وعدے کو وفا کریں گے ۔ اگر تم کو امان لینی منظور ہو تو بسمہ اﷲ کرو اور امان حاصل کر لو۔’’عیسیٰ بن مصعب بولا : ‘‘ مجھے یہ گوارا نہیں ہے کہ کل قریش کی عورتیں یہ کہیں کہ میں نے اپنے آپ کو بچانے کے لئے اپنے والد کو چھوڑ دیا ۔’’ حضرت مصعب بن زبیر نے کہا : ‘‘ پھر تم اپنے چچا حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے پاس چلے جاؤ اور اُن کی اہل عراق کی غداری کی خبر دے دینا ۔ مجھے اِسی حالت میں چھوڑ جاؤ کیونکہ میں نے اپنے آپ کو مُردہ سمجھ لیا ہے ۔ ’’عیسیٰ بن مصعب نے کہا : ‘‘ میں قریش کو ہر گز یہ خبر نہیں پہنچاؤں گا ،بہتر ہوگہ کہ آپ بصرہ چلیں ،وہاں لوگ آپ کی اطاعت کریں گے یا پھر ہم امیر المومنین حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے جا ملتے ہیں ۔’’ حضرت مصعب بن زبیر نے سرد آہ کھینچ کر کہا : ‘‘ یہ مجھ سے نہیں ہوگا کیونکہ کل قریش میرے بھاگنے کا ذکر کریں گے ۔ اے بیٹے ! تم آگے بڑھو ! میں تمہاری مدد پر ہوں ۔’’ یہ حکم سنتے ہی عیسیٰ بن مصعب اپنے ساتھیوں کو لیکر آگے بڑھا اور اہل شام کے لشکر پر حملہ کر دیا ۔ شامیوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا مگر عیسیٰ بن مصعب کی چمکتی ہوئی تلوار اُن کی گردنیں کاٹ رہی تھی ۔ بالآخر وہ بھی قتل ہو گیا ۔ اِس کے بعد حضرت مصعب بن زبیر کے ساتھ صرف سات آدمی باقی رہ گئے تھے ۔حضرت مصعب بن زبیر بڑھ بڑھ کر حملہ کرنے لگے تو شامی دور دور سے تیر چلانے لگے تھے ۔ آخر کار حضرت مصعب بن زبیر زخموں سے چور ہو کر گر پڑے تو اُن کا سر کاٹ لیا گیا اور عبدالملک کے سامنے پیش کیا ۔ جنگ ختم ہونے کے بعد عبدالملک بن مروان نے حضرت مصعب بن زبیر اور اُن کے بیٹے کو نہر رجیل کے قریب دفن کردیا ۔یہ جنگ 71 ہجری میں ہوئی۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اہل عراق نے حضرت مصعب بن زبیر کے متعلق اختلاف کیا اور انہوں نے اُن کی مدد کرنا چھوڑ دیا تو وہ سوچ بچار کرنے لگے اور انہوں نے اپنے آپ کو مردانہ وار وقتل کے لئے پیش کردیا ۔ اور اپنے دل کو مطمئن کیا اور فرمایا: ‘‘ بیعت کے لئے ہاتھ نہ دینے اور عبیداﷲ بن زیاد کی ذلت سے بچنے کے لئے حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ میرے لئے ‘‘اسوۂ حسنہ’’ ہیں ۔ بے شک آل ہاشم کے پہلے طبقہ نے صبر کیا اور شرفاء کے لئے ‘‘اُسوۂ حسنہ’’ قائم کردیا۔’’اِس کے بعد شدید جنگ کی اور قتل ہو گئے۔ 


عبدالملک کے ملک عراق میں گورنر


حضرت مصعب بن زبیر سے جنگ جیتنے کے بعد عبدالملک بن مروان نے ملک عراق میں اپنے گورنر مقرر کرنے شروع کر دیئے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس کے بعد عبدالملک بن مروان اپنا لشکر لیکر عراق سے بیعت لیکر کوفہ کی جانب روابہ ہوا اور مقام نخیلہ پر پہنچ کر چالیس روز تک ٹھہرا رہا ،اِس کے بعد کوفہ میں داخل ہوا۔ اُس نے لوگوں سے حسن سلوک اور انعام و وظائف مقرر کرنے کا وعدہ کیا ۔ یحییٰ بن سعید کو جعفر سے طلب کرکے امان دے دی ۔ یہ لوگ اس کے ماموں ہوتے تھے ۔ عبدالملک بن مروان نے اپنے بھائی بشر بن مروان کو کوفہ کا گورنر بنادیا ۔ محمد بن نمیر کو ہمدان کا گورنر بنایا ۔ یزید بن ورقا کو ‘‘رے’’ کا گورنر بنایا۔تمام اہل کوفہ کوعبدالملک بن مروان نے امان دے دی ۔عبداﷲ بن حازم کو عبدالملک بن مروان کی فتح کا حال معلوم ہوا تو اُس نے پوچھا : ‘‘ کیا اُس کے ساتھ عمر بن معمر بھی ہے؟’’ جواب دیا گیا : ‘‘ نہیں ! وہ فارس میں ہے۔’’پھر اُس نے پوچھا :‘‘ کیا مہلب اُس کے ساتھ ہے؟’’ حاضرین نے کہا: ‘‘ وہ خوارج سے جنگ پر مامور ہے۔’’ پھر پوچھا :‘‘ ’’ کیا عباد بن حصین اُس کے ساتھ ہے؟’’ کہا گیا :‘‘ وہ بصرہ میں ہے۔’’ عبداﷲ بن حازم نے سرد آہ کھنچ کر کہا: ‘‘ اور میں خراسان میں ہوں۔’’ عبدالملک بن مروان کی فتح کی خبر جب مہلب کو ملی تو اُس نے سب لوگوں سے عبدالملک بن مروان کے لئے بیعت لے لیاور اُسے اپنا حکمراں تسلیم کر لیا۔ 


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کا خطبہ


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو اہل عراق کی غداری ،اپنے بھائی اور بھتیجے کے قتل اورعبدالملک بن مروان کی فتح کی اطلاع ملی آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو جمع کیا اور اُن کے سامنے خطبہ پڑھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو اپنے بھائی حضرت مصعب بن زبیر کے قتل کی خبر ملی تو خطبہ پڑھا اور فرمایا: ‘‘تمام تعریف اُسی اﷲ کے لئے ہے جس نے سب کو پیدا کیا ، جس کے ہاتھ میں حکومت ہے ۔وہ جسے چاہتا ہے سلطنت عطا کرتا ہے ،جس سے چاہتا ہے لے لیتا ہے ۔جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے ،جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے ۔ جان لو حق و صداقت جس کے ساتھ ہے وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتا ،چاہے وہ تنہا ہی کیوں نہ ہو۔ہمیں ملک عراق سے ایک خبر معلوم ہوئی ہے جس نے ہمیں رنجیدہ بھی کیا ہے اور خوش بھی کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت مصعب بن زبیر اﷲ انہیں اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے شہید ہو گئے ہیں ۔ہمیں خوشی اِس لئے ہوئی کہ انہیں شہادت نصیب ہوئی اور غم اِس لئے ہے کہ ایک محب صادق ہم سے جدا ہوگیا ہے ۔ اِس وقت مجھے اپنے بھائی مصعب کی موت کا صدمہ اُٹھانا پڑ رہا ہے ۔ حالانکہ اِس سے پہلے میں اپنے والد حضرت زبیر بن عوام کی موت کا صدمہ سہ چکا ہوں اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی موت کا رنج بھی میں نے فراموش نہیں کیا ہے ۔حضرت مصعب بن زبیر اﷲ کے بندے اور میرے دست و بازو تھے ۔ مگر صدمہ اِس بات کا ہے کہ اہل عراق نے اُن کے ساتھ غداری کی ،منافقت کی اور بہت تھوڑی سی قیمت کے عوض انہیں دشمنوں کے ہاتھوں فروخت کردیا اور سپرد کردیا ۔ پس اگر وہ مارے گئے تو کوئی انوکھی بات نہیں ہے کیونکہ ہم اپنے بستروں پر پڑے رہ کر مرنے کے عادی نہیں ہیں۔ یہ کہہ کر میں اپنے اور تمہارے لئے مغفرت کی دعا مانگتا ہوں ۔’’


ھ71 ہجری کا اختتام


ھ71 ہجری کا اختتام انہیں واقعات کے ساتھ ہوا۔ اِس سال

 کے ختم ہونے تک ملک عراق پر سے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی پکڑ چھوٹ گئی تھی اور عبدالملک بن مروان ملک شام اور ملک مصر کے ساتھ ساتھ ملک عراق پر بھی اپنی پکڑ مضبوط کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 71 ہجری میں عبدالملک بن مروان کا بھائی عبدالعزیز بن مروان جو ملک مصر کا گورنر تھا اُس نے حسان عافی کو سپہ سالار بنا کر لشکر دیکر افریقہ کی جنگ پر مقرر کیا اور وہ بہت بڑا لشکر لیکر افریقہ روانہ ہوگیا ۔اُس نے قرطاجنہ کوفتح کیا اور اُس کے رومی باشندے بت پرست تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 71 ہجری میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے ابن اسود بن عوف کو مدینۂ منورہ کی گورنری سے برطرف کردیا اور اُس کی جگہ طلحہ بن عبداﷲ بن عوف کو گورنر مقرر کیا ۔ یہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی طرف سے مدینۂ منورہ کا آخری گورنر ثابت ہوا۔ جب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے آزاد کردہ غلام طارق بن عمرو نے مدینۂ منورہ پر تسلط کر لیا تو طلحہ بن عبداﷲ وہاں سے بھاگ گیا ۔ مدینۂ منورہ کا انتظام طارق بن عمرو ہی سنبھالے رہا یہاں تک کہ عبدالملک بن مروان نے اُسے خط لکھا ۔ اِس سال بھی مسلمانوں کو حج حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے کرایا ۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

Saltanat e Umayya part 34


 ا34 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 34

ا71 ہجری میں انتقال کرنے والے چند قابل ذکر نام، حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال، ھ72 ہجری :خوارج کی پسپائی، عبدالملک بن مروان کا سپہ سالار حجاج بن یوسف، مکۂ مکرمہ کا محاصرہ، حجاج بن یوسف نے حج کرایا، ھ72 ہجری کا اختتام، حضرت براء بن عازب انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت احنف بن قیس کا انتقال، ھ73 ہجری: حجاج بن یوسف کا مکۂ مکرمہ پر حملہ، شامیوں کے لشکر میں خوف و ہراس، مکہ مکرمہ کی رسد روک دی، حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھیوں کی علیحدگی، اپنی والدہ سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا سے مشورہ، 



ا71 ہجری میں انتقال کرنے والے چند قابل ذکر نام


اِس سال 71 ہجری میں حضرت مصعب بن زبیر اور اُن کا بیٹا عیسیٰ بن مصعب قتل ہوئے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ابرایم بن اشتر بھی اسی سال قتل ہوا ۔ اُس کا باپ اُن لوگوں میں شامل تھا جو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے نگران اور قاتلین تھے ۔ابراہیم بن اشتر مشہور بہادروں میں سے ہے اور اِسے شرف حاصل ہے کہ اِسی نے عبیداﷲ بن زیاد کو قتل کیا ۔ اِس سال حضرت عمرو بن سلمہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔آپ رضی اﷲ عنہ ارض حبشہ میں پیدا ہوئے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ‘‘ربیب’’ تھے ۔ اِس سال حضرت عمر بن اخطب انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔آپ رضی اﷲ عنہ کی کنیت ‘‘ابو زید الاعرج’’ ہے آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ تیرہ (۱۳) غزؤات میں شرکت کی۔اِس سال جلیل القدر تابعی حضرت یزید بن اسود سوکنی کا انتقال ہوا ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ انہیں منبر پر اپنے ساتھ بٹھاتے تھے۔ 


حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 71 ہجری میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خادم حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ کی کنیت ‘‘ابو عبدالرحمن’’ ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا کے غلام تھے ۔انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو اِس شرط پر آزاد کیا کہ وہ ہمیشہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت کریں گے۔حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں : ‘‘ اگر ام المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا مجھے آزادنہیں کرتیں اور یہ شرط عائد نہیں کرتیں تب بھی میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت کرتا رہتا ۔ ’’ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ اُن کی آل کی خدمت کرتے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ آپ رضی اﷲ عنہ کا نام سفینہ کیوں رکھا گیا ہے ؟ تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :‘‘ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے میرا نام سفینہ رکھا ہے ۔ایک دفعہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ سفر پر گئے اور میں بھی ساتھ تھا ۔جب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا سامان بوجھل ہوگیا تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ‘‘ اپنی چادر پھیلاؤ ۔’’ میں نے چادر پھیلا دی تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن کا سامان اُس میں رکھ دیا ۔پھر مجھے فرمایا: ‘‘ اِسے اُٹھا لو!تم تو ‘‘سفینہ’’ ہو۔’’ حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں :‘‘ اگر میں اُس روز ایک یا دو ، پانچ یا سات اونٹوں کا بوجھ اُٹھا تا تو مجھے بوجھل معلوم نہیں ہوتا ۔’’ حضرت سفینہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں : ‘‘ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا سے ملنے کے لئے آئے ۔ جب گھر میں داخل ہوئے تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے گھر کے کونے میں ایک منقش کھال کا ٹکڑا دیکھا تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم واپس نکل آئے ۔ سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے کہا :‘‘ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے دریافت کیجیئے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم واپس کیوں چلے گئے ۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم دریافت کیا تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:‘‘ میرے لئے اور کسی نبی کے لئے نقش ونگار سے آراستہ گھر میں داخل ہونا مناسب نہیں ہے۔’’ 


ھ72 ہجری :خوارج کی پسپائی


اِس سال 72 ہجری میں عبدالملک بن مروان کے لشکر نے خوارج کو پسپا کر دیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 72 ہجری میں مہلب بن ابی صفرہ اور خوارج کے ازارقہ فرقے کے درمیان مقام ‘‘سولاق’’ پر زبردست جنگ ہوئی اور وہ دونوں تقریباً آٹھ مہینے تک ایک دوسرے کے مقابل ڈٹے رہے اور اُن کے درمیان جنگیں ہوتی رہیں ۔ اِس مدت کے دوران حضرت مصعب بن زبیر قتل ہوگئے ۔ پھر عبدالملک بن مروان نے مہلب بن ابی صفرہ کو ‘‘اہواز’’اور اُس کے آس پاس کے علاقوں کا گورنر برقرار رکھا اور اُس کی کوشش کا شکریہ ادا کیا اور اُس کی بہت تعریف کی ۔ پھر لوگوں نے عبدالملک بن مروان کی حکومت میں اہواز میں ایکدوسرے پر حملے کئے اور لوگوں نے خوارج کو بری طرح شکست دی اور وہ کسی کی طرف توجہ دیئے بغیر شہروں کی طرف بھاگ گئے ۔عبدالملک بن مروان کے مقرر کردہ سپہ سالار وں خالد بن عبداﷲ اور داؤد بن مخذوم نے اُن کا تعاقب کیا اور انہیں بھگا دیا ۔ عبدالملک بن مروان نے اپنے بھائی بشر بن مروان کو پیغام بھیجا کہ وہ چار ہزار کے لشکر سے اُن کی مدد کرے ۔اُس نے عتاب بن ورقا کی سپہ سالاری میں چار ہزار کا لشکر اُس کے پاس بھیج دیا اور اُس نے خوارج کو مکمل طور پر بھگا دیا ۔ 


عبدالملک بن مروان کا سپہ سالار حجاج بن یوسف


اِس سال 72 ہجری میں عبدالملک بن مروان کے سپہ سالار کے طور پر حجاج بن یوسف منظر عام پر آیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال عبدالملک بن مروان نے ایک لشکر کا سپہ سالار حجاج بن یوسف کو بنا کر حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے لڑنے کے لئے مکۂ مکرمہ پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا۔ حجاج بن یوسف کو لشکر دیکر بھیجنے کی وجہ یہ ہوئی کہ جب ملک عراق پر کا انتظام مکمل کرنے کے بعد عبدالملک بن مروان ملک شام واپس جانے لگا تو حجاج بن یوسف نے کھڑے ہو کر کہا :‘‘ اے امیر المومنین! میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں نے عبداﷲ بن زبیر ( رضی اﷲ عنہ) کو گرفتار کر لیا ہے اور اُن کی کھال کھینچی ہے ۔ اِس لئے آپ مجھے اُن کے مقابلے کے لئے بھیج دیں ۔ عبدالملک بن مروان نے اُس کی درخواست کو قبول کر لیا اور شامیوں کا ایک بہت زبردست لشکر اُسے دیکر مکۂ مکرمہ روانہ کیا ۔ حجاج بن یوسف ۷۲ ؁ ہجری میں لشکر لیکرروانہ ہوا اور مدینۂ منورہ کو چھوڑتا ہوا ملک عراق کے راستے سے طائف پہنچا اور وہیں پڑاؤ ڈال دیا ۔اِس طرف سے حجاج بن یوسف مقام عرفہ میں جو ‘‘حل’’ میں ہے یعنی حرم مکہ کے باہر واقع ہے ۔وہاں لشکر بھیجتا تھا ۔دوسری طرف سے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ لشکر بھیجتے تھے ۔دونوں لشکروں میں اِس مقام پر جنگ ہوتی تھی اور ہر مرتبہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے لشکر کو شکست ہوتی تھی اور حجاج بن یوسف کا لشکر فتح یاب ہو کر واپس لوٹتا تھا ۔ 


مکۂ مکرمہ کا محاصرہ


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے لشکر کے مقابلے میں حجاج بن یوسف کے لشکر کو فتح حاصل ہوتی تھی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یہ حالت دیکھ کر حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کو خط لکھ کر بھیجا کہ مجھے مکۂ مکرمہ کا محاصرہ کرنے اور حرم میں داخل ہونے کی اجازت دیں اور اُسے بتایا کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی طاقت زائل ہو چکی ہے ۔اُن کے اکثر ساتھیوں نے اُن کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور یہ بھی درخواست کی کہ مزید لشکر سے میری مدد کی جائے ۔عبدالملک بن مروان نے خط پڑھ کر حجاج بن یوسف کی تمام

 معروضات کو منظور کر لیا اور طارق بن عمرو کو حکم دیا کہ تم اپنے لشکر کو لیکر حجاج بن یوسف سے جا کر مل جاؤ ۔ طارق بن عمرو پانچ ہزار کا لشکر لیکر حجاج بن یوسف کی امداد کے لئے آیا ۔ ماہ شعبان ۷۲ ؁ ہجری میں حجاج بن یوسف طائف میں داخل ہوا تھا اور جب ماہ ذی القعدہ شروع ہوا تو حجاج بن یوسف اپنا پورا لشکر لیکر طائف سے روانہ ہوا اور بیر میمون پر فروکش ہوا اور مکۂ مکرمہ کا محاصرہ کر لیا ۔ حاجیوں نے اِس سال اِسی حالت میں حج کیا اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ محصور تھے ۔ قربانی کے روز آپ رضی اﷲ عنہ نے قربانی کی لیکن اِس سال آپ رضی اﷲ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ حج نہیں کر سکے ۔اِس لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے عرفات میں بھی وقوف نہیں کیا ۔ 


حجاج بن یوسف نے حج کرایا


ملک شام کے لشکر کے ساتھ حجاج بن یوسف مکۂ مکرمہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھا اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اور اُن کے ساتھیوں پر پابندیاں عائد کئے ہوئے تھا ۔ اہل شام کے لشکر میں کھانے پینے کی اور دوسری چیزیں بہت افراط تھیں جبکہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اور اُن کے ساتھی تکلیف میں تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں 72 ہجری میں حج کرنے گیا ۔جب میں مکۂ مکرمہ پہنچا اور اُن لوگوں کے درمیان سے ہو کر جنہوں نے مکۂ مکرمہ کا محاصرہ کیا تھا ہم مکۂ مکرمہ کے اندر گئے ۔ہم نے دیکھا کہ حجاج بن یوسف اور طارق بن عمرو کے لشکر ‘‘حجون’’سے ‘‘بیئر میمون’’ تک پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں۔ ہم نے خانۂ کعبہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کر لی ۔ حجاج بن یوسف نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ پھر میں اُسے میدان عرفات میں پہاڑ کی چٹانوں کے پاس اپنے گھوڑے پر سوار زرہ اور خود پہنے دیکھا ۔ اُس کے بعد حجاج بن یوسف اُس مقام سے اُتر آیا اور میں نے اُسے پھر ‘‘بیئر میمون’’ کی طرف جاتے دیکھا اور حجاج بن یوسف نے خانۂ کعبہ کاطواف نہیں کیا ۔ اُس کا پورا لشکر مسلح تھا اور بہت افراط سے خوراک کا سامان اُن کے پاس تھا ۔خوراک کے سامان سے لدے ہوئے قافلے ملک شام سے اُن کے لئے آتے تھے جن میں کھانا ، بسکٹ اور ستو بھرا ہوا آٹا ہوتا تھا۔اُن کے سپاہی عیش و آرام میں زندگی بسر کر رہے تھے اور میں نے ایک سپاہی سے ایک درہم کے بسکٹ خریدے۔ اُس نے مجھے اتنے بسکٹ دیئے کہ جو ہم تین آدمیوں کے لئے ‘‘جحفہ’’پہنچنے تک بالکل کافی ہوگئے تھے۔ 


ھ72 ہجری کا اختتام


ھ72 ہجری کے اختتام پر عبدالملک بن مروان کی طاقت و قوت اور حکومت بڑھ گئی تھی ۔ ملک شام اور ملک مصر کے ساتھ ساتھ ملک عراق پر بھی اُس کا قبضہ ہوگیا تھا ۔ملک فارس (حالیہ ایران) اور ملک حجاز پر ابھی مکمل کنٹرول نہیں ہوسکا تھا لیکن اِس کے لئے ملک فارس میں عبدالملک بن مروان بھرپور کوشش کر رہا تھا اور ملک حجاز میں اُس کا سپہ سالار حجاج بن یوسف مکۂ مکرمہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی حکومت لگ بھگ ختم ہوچکی تھی اور آپ رضی اﷲ عنہ کو حجاج بن یوسف نے محصور کر رکھا تھا ۔ اِن حالات میں 72 ہجری کا اختتام ہوا ۔


حضرت براء بن عازب انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 72 ہجری میں حضرت براء بن عازب انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں آپ رضی اﷲ عنہ کی روایت سے احادیث پیش کی ہیں ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت براء بن عازب بن حارث بن عدی بن مجدعۃ بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس انصاری رضی عنہ جلیل القدر صحابی ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ کے والد محترم بھی صحابی ہیں ۔حضرت براء بن عازب رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے بہت سی احادیث روایت کی ہیں اور آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر فاروق ، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ سے بھی روایت کی ہے ۔آپ رضی اﷲ عنہ سے بعض صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم اور تابعین کی ایک جماعت نے روایت کی ہے ۔

 آپ رضی اﷲ عنہ نے کوفہ میں اُس وقت وفات پائی جب ملک عراق پر حضرت مصعب بن زبیر گورنر تھے ۔


حضرت احنف بن قیس کا انتقال


اِس سال 72 ہجری میں مشہور تابعی حضرت احنف بن قیس کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت احنف بن قیس بن حصین تمیمی کا لقب ‘‘احنف’’ ہے اور نام ‘‘ضحاک’’ ہے اور بعض نے نام ‘‘صخر’’ بیان کیا ہے ۔ یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی مسلمان ہوئے لیکن آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھا نہیں تھا ۔ایک روایت میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کیلئے دعا کی تھی ۔حضرت احنف بن قیس صاحب متربہ ، مطاع اور مومن سردار تھے اور آپ کے حلم کی مثال بیان کی جاتی تھی ۔حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے آپ کے بارے میں فرمایا: ‘‘ حضرت احنف بن قیس زبان دان مومن ہے ۔’’امام حسن بصری بیان کرتے ہیں :‘‘ میں نے کسی قوم کے سردار کو ان سے بہتر نہیں پایا ۔’’حضرت احنف بن قیس نے خلیفۂ دُؤم حضرت عمر فاروق رضی اﷲعنہ کے پاس تقریر کی تو اُن کی فصاحت و بلاغت نے خلیفۂ دُؤم رضی اﷲ عنہ کو حیران کردیا ۔حضرت احنف بن قیس جنگ صفین میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ تھے ۔حضرت احنف بن قیس نے ‘‘بلخ’’ اور ‘‘خراسان’’اور ‘‘مروالزور’’ اور ‘‘سمر قند’’ کو فتح کیا ہے ۔حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ بھی حضرت احنف بن قیس کی بہت عزت اور توقیر کرتے تھے ۔حضرت احنف بن قیس کا انتقال کوفہ میں ہوا اور حضرت مصعب بن زبیر نے اُن کی نماز جنازہ پڑھائی ۔


ھ73 ہجری: حجاج بن یوسف کا مکۂ مکرمہ پر حملہ


ھ73 ہجری جب شروع ہوئی تو عبدالملک بن مروان کا سپہ سالار حجاج بن یوسف شامیوں کا لشکر لیکر مکۂ مکرمہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھا ۔جب حج مکمل ہو گیا اور تمام حاجیوں کے قافلے اپنے اپنے علاقوں کی طرف روانہ ہوگئے اور مکۂ مکرمہ میں صرف اہل مکہ رہ گئے تو حجاج بن یوسف نے مکۂ مکرمہ پر باقاعدہ حملہ شروع کر دیا اور منجنیق سے پتھر ( سنگ)باری کرنے لگا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اور حجاج بن یوسف کے درمیان مکۂ مکرمہ میں چھ مہینے اور سترہ روز تک جنگ ہوتی رہی ۔محاصرے کی حالت میں جب حجاج بن یوسف منجنیقوں سے پتھر برساتا تھا تو اُس وقت آسمان پر گرج اور چمک ہوتی تھی ۔بادلوں کی گرج اور بجلی کی چمک اُن پتھروں میں ارتعاش پیدا کر دیتے تھے جو پھینکے جا رہے تھے ۔شامی لشکر کے سپاہی ٹھٹک ٹھٹک جاتے تھے اور پیچھے ہٹ جاتے تھے ۔حجاج بن یوسف اپنی قبا کا دامن اپنے کمر پر لپیٹ لیتا تھا اور خود پتھر اُٹھا کر منجنیق میں رکھتا تھا اور لشکر کے سپاہیوں کو حکم دیتا تھا ‘‘پتھر برساؤ’’ اور خود بھی اِس میں شامل ہوتا تھا۔ 


شامیوں کے لشکر میں خوف و ہراس


مکۂ مکرمہ پر سنگ باری یعنی پتھراؤ کے دوران اہل شام کے لشکر پر بجلی گری اور بہت سے شامی سپاہی ہلاک ہو گئے ۔ اِس کی وجہ سے اہل شام کے لشکر کے سپاہیوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا لیکن حجاج بن یوسف ڈٹا رہا اور مسلسل پتھراؤ کرتا رہا اور اپنے لشکر کا حوصلہ بڑھاتا رہا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : شامی لشکر مکۂ مکرمہ پر پتھرااؤ کر رہا تھا کہ صبح کے وقت چمک اور کڑک پھر شروع ہوئی اور پے در پے بجلی گرنے لگی ۔ اِس بجلی کے گرنے سے اہل شام کے لشکر کے سپاہی ہلاک ہوئے اور شامیوں پر اِس وقعہ سے ایک دہشت اور خوف طاری ہو گیا ۔ حجاج بن یوسف نے اپنے لشکر سے کہا :‘‘ اِس سرزمین تہامہ مین یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے ۔میں اِسی سر زمین کا رہنے والا ہوں اور یہ تو یہاں کے معمولات میں سے ہے ۔ بلکہ یہ تو تمہاری فتح کی نیک فال ہے بس اب فتح حاصل ہو جائے گی اور تمہیں تو خوش ہونا چاہیئے کہ اب تمہارے دشمنوں کو ایسی ہی تکلیف پہنچے گی جیسی تمہیں پہنچی ہے ۔’’اتفاق سے ایسا ہی ہوا اور دوسرے دن پھر بجلی گری اور اِس مرتبہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے لشکر کے چند لوگ ہلاک ہو گئے ۔ اِس پر حجاج بن یوسف نے اپنے لشکر کے سپاہیوں سے کہا : ‘‘ کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ ہمارے دشمن ہلاک ہو رہے ہیں جبکہ تم خلیفہ کی اطاعت کر رہے ہو اور وہ مخالفت کر رہے ہیں ۔’’ 


مکہ مکرمہ کی رسد روک دی


مکۂ مکرمہ کا حجاج بن یوسف محاصرہ کئے ہوئے تھا اور مسلسل سنگ باری کر رہا تھا اور ساتھ ہی اُس نے مکۂ مکرمہ کی رسد بھی روک لی جس کی وجہ سے اہل مکہ بھوک کا شکار ہونے لگے۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حجاج بن یوسف نے پانچ مہینے اور سترہ راتوں تک مکۂ مکرمہ کا محاصرہ کئے رکھا۔ جب 73 ھجری کا آغاز ہوا تو حجاج بن یوسف کی سپہ سالاری میں اہل شام مکۂ مکرمہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے اور حجاج بن یوسف نے مکۂ مکرمہ پر منجنیق نصب کروا دی تھی تاکہ اہل مکہ کو تنگ کرے اور وہ عبدالملک بن مروان کے پاس امان اور اطاعت کے لئے آئیں۔ حجاج بن یوسف کے ساتھ حبشی تھے وہ منجنیق سے پتھر پھینکنے لگے اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو قتل کر دیا ۔ حجاج بن یوسف کے پاس پانچ منجنیقیں تھیں۔ پس اُس نے ہر طرف سے مکۂ مکرمہ پر سنگ باری کرنے کا حکم دے دیا اور اہل مکہ کا غلہ اور پانی روک لیا ۔ وہ زمزم کا پانی پیتے تھے اور پتھر خانۂ کعبہ پر پڑنے لگے ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: ایک عرصۂ دراز تک یہ لڑائی جاری رہی یہاں تک کہ طویل محاصرے سے اہل مکہ کا غلہ ختم ہوگیا اور باہر سے رسد آنے کا کوئی راستہ نہیں تھا ۔لوگ شدت بھوک سے پریشان ہونے لگے تو حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنے گھوڑے کو ذبح کر کے گوشت تقسیم کر دیا اور گرانی کا یہ عالم ہو گیا کہ ایک مرغی دس درہم میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی تھی ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ غلہ ، کھجور اور جَو لوگوں میں ضرورت کے مطابق تقسیم کرتے تھے ۔ حجاج بن یوسف نے یہ دیکھا تو محاصرے میں اور سختی کر دی اور اہل مکہ کے لئے امان نامہ لکھ کر بھیجدیا ۔جس کی وجہ سے لوگ حجاج بن یوسف سے جا کر مل گئے ۔اُن میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے بھی زیادہ تر ساتھی تھے جنہوں نے امان حاصل کر کے اپنے لائق سردار حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے علیحدگی اختیار کر لی۔اِن میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے دو بیٹے حمزہ و حبییب بھی تھے لیکن آپ رضی اﷲ عنہ کا تیسرا بیٹا آخر تک آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ رہا یہاں تک کہ شہید ہو گیا ۔ 


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھیوں کی علیحدگی


مکۂ مکرمہ کے اطراف کی پہاڑیوں پر حجاج بن یوسف نے منجنیقوں کو نصب کرایا ہوا تھا اور مسلسل کئی مہینوں تک سنگ باری یعنی پتھر برساتا رہا ۔ یہ لگ بھگ ایک طرفہ مقابلہ تھا ۔حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اور اُن کے ساتھی شامی لشکر سے لڑنا چاہتے تھے لیکن پتھروں کی بارش کے آگے بے بس تھے ۔حجاج بن یوسف مسلسل منجنیقوں سے سنگ باری کر رہا تھا اور پتھروں کی بارش سے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھی ہلاک ہو رہے تھے ۔ان کے علاوہ مکۂ مکرمہ کے عام شہری بھی ہلاک ہو رہے تھے ۔اِس کے ساتھ ساتھ ‘‘خانۂ کعبہ’’ کی دیواریں بھی ٹوٹتی جارہی تھیں ۔ مسلسل کئی مہینوں کی سنگ باری سے گھبرا کر مکۂ مکرمہ کے عام شہری ایک ایک کر کے مکۂ مکرمہ خالی کرتے جارہے تھے ۔ یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آیا کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھیوں نے بھی اُن کا ساتھ چھوڑ دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے : بہر حال اِسی طرح دونوں میں جنگ ہوتی رہی اور وہ وقت بھی آگیا کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھ بھی اُن کا ساتھ چھوڑ کر چلے گئے ۔ مکۂ مکرمہ کے باشندے پہلے ہی وعدہ معافی لیکر حجاج بن یوسف کے پاس چلے گئے تھے اور مکۂ مکرمہ کو خالی کر دیا تھا ۔دھیرے دھیرے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھی بھی آپ رضی اﷲ عنہ کا ساتھ چھوڑ کر جانے لگے اور ھجاج بن یوسف انہیں امان دینے لگا ۔ یہاں تک کہ دس ہزار ساتھیوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کا ساتھ چھوڑ دیا اور حجاج بن یوسف نے انہیں امان دے دی ۔یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ

 کے دو نوں بیٹے حمزہ بن عبداﷲ اور حبیب بن عبداﷲ بھی آپ رضی اﷲ عنہ کو چھوڑ کر حجاج بن یوسف کے پاس چلے گئے تھے اور حجاج بن یوسف نے انہیں بھی امان دے دی تھی ۔ 


اپنی والدہ سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا سے مشورہ


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو سب لوگ چھوڑ کر چلے گئے اور صرف گنتی کے چند ساتھی اُن کے ساتھ تھے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ لوگوں کی اِس بے وفائی اور ترک نصرت کو دیکھ کر اپنی والدہ محترمہ سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا کے پاس گئے اور اُن سے عرض کیا : ‘‘ لوگوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا ہے ، یہاں تک کہ میری اولاد اور رشتہ دار بھی مجھے چھوڑ کر چلے گئے ہیں ۔اب میرے ساتھ مٹھی بھر آدمی ہی رہ گئے ہیں جن کی قوت مدافعت تھوڑی دیر کی مہمان ہے ۔ میرے دشمن مجھے منہ مانگی چیزیں دینے کے لئے تیار ہیں ۔اب بتایئے کہ آپ رضی اﷲ عنہا کی کیا رائے ہے؟’’سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا نے فرمایا :‘‘اے میرے بیٹے! اﷲ کی قسم! تم خود اپنے حال سے زیادہ واقف ہو ۔ اگر تم سمجھتے ہو کہ تم حق اور صداقت پر ہو اور اُس کی طرف دعوت دیتے ہو تو اُسے پورا کرو کیونکہ اِسی بناء پر تمہارے طرفداروں نے اپنی عزیز جانیں تمہاری خاطر قربان کی ہیں۔اپنی گردن پر دوسروں کو قبضہ نہ کرنے دو کہ بنو اُمیہ کے لڑکے تم سے کھیلتے پھریں اور اگر تمہاری یہ کوشش دنیا حاصل کرنے کے لئے ہے تو تم بد ترین مخلوق میں سے ہو ۔تم نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا اور جو تمہارے لئے مارے گئے اُن کا خون بھی رائگاں گیا ۔ اگر تم کہتے ہو کہ میں حق اور صداقت پر ہوں مگر چونکہ میرے ساتھی مجھے چھوڑ کر دشمنوں سے جاملے ہیں اِس لئے میں بھی کمزوری محسوس کر رہا ہوں تو یہ شریفوں اور نیک بندوں کا مسلک نہیں ہے ۔دنیا میں تم ہمیشہ نہیں رہ سکتے ،اِسلئے موت تمہارے لئے بہتر ہے ۔’’ 


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

Saltanat e Umayya part 35


 ا35 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 35

والدہ محترمہ کا استقلال، والدہ محترمہ سے آخری ملاقات، حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی بہادری، ہر دروازے پر شامی لشکر، حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی شہادت، اہل مکہ نے عبدالملک کی حکومت کو تسلیم کر لیا، حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی تجہیز و تکفین، سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا کی استقامت، حجاج بن یوسف کی صحابۂ کرام سے گستاخی، ھ73 ھجری کا اختتام، حضرت عوف بن مالک رضی اﷲ عنہ کا انتقال، سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا کا انتقال، حضرت ثابت بن ضحاک رضی اﷲ عنہ کا انتقال


والدہ محترمہ کا استقلال


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی والدہ محترمہ سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا نے اپنے بیٹے کو حق اور صداقت پر قربان ہوجانے کا حکم د ے دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس گفتگو کو سن کر حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اپنی والدہ محترمہ سے قریب ہوئے اور اُن کی پیشانی کو بوسہ دیا اور عرض کیا : ‘‘ اﷲ کی قسم! میری بھی یہی رائے ہے ۔اﷲ کی قسم! میں نے نہ تو دنیا کی طرف میلان کیا اور نہ دنیا میں رہنا چاہتا ہوں ۔حکومت کے لئے میری جد و جہد میری ذاتی غرض پر مبنی نہیں تھی بلکہ اﷲ کے لئے میں نے یہ کام اپنے سر لیا تھا ۔ میں نے اِسے اچھا نہیں سمجھا کہ حرم محترم کی حرمت مٹا دی جائے ۔ مگر اِس وقت میں نے یہ مناسب سمجھا کہ آپ رضی اﷲ عنہا کی رائے بھی لے لوں اور آپ رضی اﷲ عنہا نے میرے ارادے کو اور بھی مستحکم کر دیا ہے ۔ اب آپ سے عرض ہے کہ آج اگر میں مار اجاؤں گا تو آپ رضی اﷲ عنہا مجھ پر رنج و غم نہیں کریں گی اور مجھے اﷲ کے سپرد کر دیجیئے ۔ اﷲ کی قسم! میں کبھی کسی ایسے کام کو کرنے کا ارادہ نہیں کیا جس سے میری عزت پر دھبہ آئے اور نہ میں نے کوئی اور برا کا م کیا ہے ۔اﷲ کے احکام کی تعمیل میں حد سے تجاوز نہیں کیا ، کسی کو امان دیکر اُسے نہیں توڑا ، کسی مسلمان یا ذمی پر ظلم نہیں کیا ۔جب کبھی کسی ماتحت افسر کے ظلم کی اطلاع مجھے ہوئی تو میں نے اسے کبھی پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا بلکہ اُسے سرزنش کر دی ۔اﷲ کی رضا میرے نزدیک سب سے بڑی سفارش تھی ۔یہ میں اِس لئے نہیں کہہ رہا ہوں کہ میں نے برے اعمال کئے ہیں اور اِن سے اپنے آپ کو علیحدہ کرہا ہوں بلکہ اے اﷲ! آپ خوب مجھ سے واقف ہیں اور کوئی شئے آپ سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ میرے حالات معلوم کر کے میرے بعد میری والدہ محترمہ رنجیدہ نہ ہو بلکہ وہ میری خوبیوں سے ایک گونہ اطمینان و تسلی حاصل کر سکیں ۔’’سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا نے فرمایا: ‘‘ مجھے اﷲ سے توقع ہے کہ اگر تم مجھ سے پہلے اِس جہان فانی سے رخصت ہو گئے تو میں ثبات و استقلال سے تمہاری موت پر صبر کروں گی اور اگر میں پہلے مر گئی تو میرے جی میں آتا ہے کہ کم از کم میں یہ ضرور دیکھوں کہ تمہاری اِس جنگ کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟’’


والدہ محترمہ سے آخری ملاقات


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنی والدہ محترمہ کا حوصلہ اور استقلال دیکھا تو اﷲ کا شکر ادا کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ اے میری والدہ محترمہ! اﷲ تعالیٰ آپ رضی اﷲ عنہا کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔ آپ رضی اﷲ عنہا مہربانی فرما کر ہمیشہ میرے لئے دعا کرتی رہیں ۔’’ انہوں نے فرمایا: ‘‘ میں ضرور تمہارے لئے دعا کروں گی کیونکہ مجھے کامل یقین ہے کہ چاہے اور کسی شخص نے باطل کے لئے اپنی جان دی ہو مگر تم نے تو حق اور صداقت کی راہ میں اپنی جان عزیز قربان کی ہے ۔ اِس کے بعد انہوں نے یہ دعا مانگی : ‘‘ اے اﷲ! تُو اِس کی رات میں عبادت کرنے کے لئے شب بیداری ،مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ کی دوپہریوں میں تیری عبادت میں آہ بکا کرنے ،روزے میں شدت تشنگی برداشت کرنے اور اپنے والد محترم اور مجھ سے حسن سلوک کرنے کی وجہ سے اِس پر رحم فرما۔ اے اﷲ تعالیٰ! اِس کے معاملے کو میں نے تیرے سپرد کر دیا اور جو کچھ تُو نے فیصلہ کیا ہے میں اس سے خوش ہوں۔ میرے بیٹے عبداﷲ کی وجہ سے تُو مجھے صبر و شکر کرنے والوں سا ثواب عطا فرما۔ ’’سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا اپنے بیٹے کے شہید ہونے کے بعد صرف پانچ یا دس دن زندہ رہیں۔جب حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ جنگ کے لئے تیار ہو کر جانے لگے تو آخری بار والدہ محترمہ سے ملنے کے لئے آئے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ زرہ اور خود پہنے ہوئے تھے ۔اپنی والدہ محترمہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر بوسہ دیا اور عرض کیا :‘‘ میں آپ رضی اﷲ عنہا سے رخصت ہونے کے لئے آیا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اِس جہان فانی میں قیام کا یہ میرا آخری دن ہے ۔ اِس کے علاوہ میں آپ رضی اﷲ عنہا کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر میں قتل ہو گیا تو صرف ایک مردار گوشت ہوں گا اور جو کچھ میرے ساتھ کیا جائے گا اُس سے مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا ۔’’اُن کی والدہ محترمہ نے فرمایا: ‘‘ اپنے ارادے کی تکمیل کرو اور اپنے آپ کو دشمنوں کے حوالے نہ کرو ۔میرے قریب آؤ تاکہ میں تمہیں رخصت کروں۔’’ 


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی بہادری


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے پاس گنتی کے چند ساتھی رہ گئے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ آخری معرکہ کے لئے حجاج بن یوسف کے لشکر کے مقابلے پر آئے۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے آستینیں سمیٹ لیں اور قمیص کے دامن اُٹھا کر قمیص سے باندھ لئے اور بسم اﷲ کہہ کر گھر سے نکل پڑے ۔ شامیوں پر ایک سخت حملہ کیا جس سے اُن کے بہت سے آدمی مارے گئے ۔پھر بھی انہوں نے گھیر لیا تو آپ رضی اﷲ عنہ تکبریں کہتے ہوئے اُن کے نرغے سے نکل آئے ۔ بعض ساتھیوں نے بھاگنے کی رائے دی ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے جواب دیا : ‘‘ کیا ہی بُرا ہے وہ شخص جو ایسی حالت میں بھاگ جائے ،میں تو اﷲ تعالیٰ کی عنایت سے اسلام میں ہوں۔اِس سے زیادہ کچھ نہیں ہو گا کہ یہ لوگ مجھے قتل کر ڈالیں گے اور اِس خوف سے میدان جنگ چھوڑ کر بھاگنا محض حماقت ہے۔’’ اُس وقت مسجد الحرام کے تمام دروازے شامیوں سے بھرے ہوئے تھے اور چاروں طرف سے مکۂ مکرمہ کی ناکہ بندی کر لی گئی تھی ۔حجاج بن یوسف اور طارق بن عمرو نے ابطح کی جانب سے ‘‘مروہ’’ تک گھیر لیا اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ پر چاروں طرف سے حملے کر رہے تھے ۔تھوڑی تھوڑی دیر کے بعدحضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اپنےساتھی حضرت عبداﷲ بن صفوان کو پکارتے تھے اور وہ جواب دیتے تھے ۔ حجاج بن یوسف نے دیکھا کہ لوگ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ پر حملہ کرنے سے جی چراتے ہیں تو وہ اپنے لشکر پر غصہ ہوا اور طیش میں آکر پیادہ لشکر لئے ہوئے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے علم بردار (جھنڈا اُٹھانے والے) کو گھیر لیا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے شامیوں پر زبردست حملہ کر کے اپنے علم بردار کو محاصرے سے نکال لیا اور ایک پُر زور حملہ کر کے حجاج کو پسپا کر کے لوٹے ۔ مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز پڑھی ،اِسی دوران حجاج بن یوسف نے پھر اُن کے علم بردار پر حملہ کیا ۔ باب بنو شیبہ پر لڑائی ہوئی اور آپ رضی اﷲ عنہ کا علم بردار مارا گیا اور علم حجاج کے لشکر نے لے لیا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نماز سے فارغ ہو کر بغیر علم کے ہی لڑنے لگے ۔ 


ہر دروازے پر شامی لشکر


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اپنے مٹھی بھر ساتھیوں کے ساتھ حجاج بن یوسف کے شامی لشکر کا زبردست مقابلہ کر رہے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھی مسلسل کام آتے جارہے تھے اور شامی لشکر مسلسل مکۂ مکرمہ میں گھستے جارہے تھے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اہل حمص کے ایک کمانڈر نے جو خود اِس جنگ میں شریک تھا بیان کیا کہ میں نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو منگل کے روز دیکھا اور ہم حمص والے پانچ سو آدمی کے دستے کے طور پر اُن پر حملہ آور ہو رہے تھے ۔ ہمارے داخلے کے لئے بھی ایک خاص دروازہ مقرر کر دیا گیا تھا کہ جس سے صرف ہم کوہی داخل ہونے کا حکم تھا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ تنہا ہمارے مقابلے پر آتے تھے اور ہم اُن سے شکست کھا کر پیچھے ہٹ جاتے تھے ۔ میں اُن سے کہتا تھا کہ بلا شبہ آپ رضی اﷲ عنہ ایک جوانمرد ہیں ۔ میں نے ابطح میں انہیں کھڑے دیکھا اور کسی شخص کو اُن کے پاس جانے کی جرأت نہیں ہوتی تھی ۔اِسی لئے ہمیں خیال ہوا کہ آپ رضی اﷲ عنہ مارے ہی نہیں جائیں گے۔ غرض کہ منگل ہی کے دن ‘‘حرم’’ کے تمام دروازے شامیوں سے بھر گئے ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھیوں نے مدافعت کے سب مقامات دشمن کے حوالے کر دئے اور دشمن کا پورا لشکر اُن میں سما گیا ۔جس دروازے پراہل حمص متعین کئے گئے وہ بالکل خانۂ کعبہ کے سامنے تھا۔ اہل دمشق باب بنو شیبہ پر ، اہل اردن باب صفا پر ، اہل فلسطین باب بنو جمح پر اور اہل قنسرین باب بنو سہم پر متعین کر دیئے گئے ۔حجاج بن یوسف اور طارق بن عمرو دونوں کا لشکر ابطح کی سمت میں ‘‘مروہ’’ تک پھیلا ہوا تھا۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کبھی اِس سمت میں دشمن کا مقابلہ کرتے اور کبھی دوسری جانب ۔ اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی کیفیت ‘‘شیر نیستاں’’ کی طرح تھی کہ جب دشمن کا گروہ آپ رضی اﷲ عنہ پر حملہ کرتا تھا تو آپ رضی اﷲ عنہ اُس پر جھپٹ پڑتے تھے حالانکہ وہ سب درواشے پر کھڑے ہوتے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ انہیں لڑتے لڑتے دروازے کے باہر نکال دیتے تھے۔


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی شہادت


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ مسلسل شامیوں سے مقابلہ کر رہے تھے کہ شام ہوگئی اور لڑائی بند ہو گئی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: 17 جمادی الاول 73 ھجری بروز سہ شنبہ صبح کے وقت حجاج بن یوسف نے تمام دروازوں پر قبضہ کر لیا ۔اُس تمام رات حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اﷲ کی عبادت میں مصروف رہے پھر تلوار کے پر تلے سے کمر باندھ کر تھوڑی دیر سو گئے ۔ بہت سویرے بیدار ہوئے اور سعد سے کہا کہ اذان دو۔ سعد نے مقام ابراہیم پر اذان دی ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے وضو کیا اور دو رکعت سنت پڑھی پھر آگے بڑھے اور موذن نے اقامت کہی اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ نماز پڑھی ۔ دونوں رکعتوں میں سورہ نون والقلم حرف بہ حرف تلاوت کی اور سلام پھیر کر خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے ۔ حمد و ثناء کے بعد فرمایا:‘‘ آپ لوگ اپنے چہرے کھول دیجئے تا کہ میں آپ سب کو دیکھوں۔ ’’ ( کیونکہ تمام لوگوں نے خود اور عماموں سے اپنے چہرے چھپا رکھے تھے) اِس حکم کی تعمیل میْں لوگوں نے اپنے چہرے کھول دیئے۔ اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :‘‘ اے ال زبیر! اگر تم نے میرے ساتھ خیر خواہی کی ہوتی تو عرب میں ہمارا وہ خاندان ہوتا کہ جس نے اﷲ کے راستے میں اپنی جانیں قربان کی ہوتیں اور کبھی ہم پر یہ مصیبت نازل نہ ہوتی ۔ اے اآل زبیر! تم ہر گز تلواروں کے لڑنے سے خائف نہ ہو نا کیونکہ مجھے اس کا تجربہ ہے ۔ کوئی ایسی جنگ نہیں ہوئی جس میں زخمی نہ ہوا ہو اور میں جانتا ہوں کہ زخم کے علاج کرنے کی تکلیف تلوار کے لگنے سے زیادہ سخت ہے ۔ جس طرح تم اپنے چہروں کو بچاتے ہو اسی طرح تلواروں کو بھی بچانا کیونکہ میں کسی ایسے شخص سے واقف نہیں ہوں کہ جس کی تلوار ٹوٹ گئی ہو اور وہ پھر زندہ باقی ریا ہو۔ مرد کے پاس ہتھیار نہ ہوں تو وہ عورت کی طرح رہتا ہے ۔ جب بجلی چمکتی ہے تو اپنی آنکھیں بند کر لینا یا تلواروں سے اپنی آنکھیں بچانا ۔ ہر شخص کو چاہیئے کہ وہ صرف اپنے مقابلے کا دھیان رکھے ۔ میرے متعلق سوال تمہاری اپنی توجہ کو نہ بٹائے اور یہ ہر گز نہ کہنا کہ میں کہاں ہوں البتہ جو شخص دریافت کرے اُسے بتا دنا۔ میں سواروں کے سب سے اوّل دستے میں کھڑ ہوں گا ۔اﷲ کا نام لیکر حملہ کرو۔’’حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے دشمن پر حملہ کیا اور ‘‘حجون’’ تک انہیں پیچھے دھکیل دیا ۔ ایک اینٹ آکر چہرے پر لگی جس کی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ کو چکر آگیا اور پورا چہرہ لہو لہان ہو گیا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : الغرض اِس قسم کے چند کلمات سمجھا کر شامیوں کے لشکر پر حملہ کیا اور لڑتے لڑتے ‘‘حجون’’ تک بڑھ گئے ۔شامیوں کے لشکر سے ایک شخص نے دُور سے تیر مار ا ،جس سے آپ رضی اﷲ عنہ کی پیشانی زخمی ہوگئی اور چہرے سے خون بہنے لگا مگر اِس کے باوجود نہایت مردانگی سے لڑتے رہے ۔ شامی لشکر دُور سے پتھر اور تیر برسانے لگا۔ بالاّخر (یوم سہ شنبہ) ماہ جماد ی الآخر ۷۳؁ ھجری کو شہید ہو گئے۔ حجاج کے سامنے آپ رضی اﷲ عنہ کا سر پیش کیا گیا تو اُس نے سجدہ کیا اور اہل شام تکبیر کہہ اُٹھے ۔


اہل مکہ نے عبدالملک کی حکومت کو تسلیم کر لیا


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھ اہل مکہ تھے لیکن آپ رضی اﷲ عنہ کے شہید ہونے کے بعد اہل مکہ نے عبدالملک بن مروان کی حکومت کو تسلیم کر لیا۔اِس طرح عبدالملک بن مروان مملکت ِ اسلامیہ کا اکیلا حکمراں بن گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حجاج بن یوسف کو جب حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے شہید ہونے کی خبر ہوئی تو اُس نے سجدۂ شکر ادا کیا اور طارق بن عمرو کے ساتھ لاش پر آیا ۔ طارق بن عمرو نے آپ رضی اﷲ عنہ کی لاش دیکھ کر کہا: ‘‘ اِن سے زیادہ جواں مرد آج تک پیدا نہیں ہوا ۔’’ حجاج بن یوسف نے یہ سن کر کہا: ‘‘ تم ایسے شخص کی تعریف میں رطب اللسان ہو جس نے امیر المومنین کی مخالفت کی ہے ۔’’ طارق بن عمرو نے کہا: ‘‘ بے شک اِن کی یہی غیر معمولی بہادری اور شجاعت ہی تو ہمارے لئے باعث تسلی ہو سکتی ہے ۔ اگر یہ بات نہیں ہوتی تو ہمارے پاس اِس کا کیا جواب تھا کہ ہم نے سات مہینے سے اِن کا محاصرہ کر رکھا تھا اور انہوں نے کوئی خندق نہیں کھودی اور یہ کسی قلعے میں بھی نہیں تھے اور کسی اونچے مقام پر بھی نہیں تھے جو قدرتی طور پر مدافعت کا کام دیتا ۔اِس کے باوجود انہوں نے اپنا پلہ ہلکا نہیں ہونے دیا بلکہ اِن کا ہی پلہ بھاری رہا ۔’’ جب اِس گفتگو کی خبر عبدالملک بن مروان کو ہوئی تو اُس نے طارق بن عمرو کی تائید کی ۔حجاج بن یوسف نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ ، حضرت عبداﷲ بن صفوان اور عمارہ بن عمرو بن حزم کے سروں کو مدینۂ منورہ بھیجا جہاں وہ ایک نصب کر دیئے گئے ۔ پھر وہ عبدالملک بن مروان کے سامنے لائے گئے ۔ اِس کے بعد حجاج بن یوسف مکۂ مکرمہ میں داخل ہوا اور تمام اہل مکہ سے عبدالملک بن مروان کے لئے بیعت لی اور تمام اہل مکہ نے اُس کی حکومت تسلیم کر لی ۔ اِس کے بعد عبدالملک بن مروان نے طارق بن عمرو کو مدینۂ منورہ کا گورنر مقرر کیا اور وہ پانچ مینے تک اِس عہدے پر رہا۔ 


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی تجہیز و تکفین


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے کے بعد حجاج بن یوسف نے آپ رضی اﷲ عنہ کا سر عبدالملک بن مروان کے پاس بھیج دیا اور جسم کو مکۂ مکرمہ میں صلیب پر چڑھا دیا ۔آپ رضی اﷲ عنہ کی والدہ محترمہ سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا نے لاش کو دفن کرنے کی اجازت چاہی لیکن حجاج بن یوسف نے انکار کر دیا تو آپ رضی اﷲ عنہا نے اپنے دوسرے بیٹے حضرت عُروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو ملک شام عبدالملک بن مروان کے پاس بھیجاتو وہ دفن کرنے کی اجازت لیکر آئے ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق

 رضی اﷲ عنہا نے شہادت کے بعد لاش کے دفن کی اجازت چاہی تو حجاج بن یوسف نے انکار کیا ۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد اُن کے بھائی حضرت عُروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ حجاج سے پہلے عبدالملک بن مروان کے پاس پہنچ گئے ۔اُس نے اُن کو کمال عزت سے تخت پر اپنے برابر بٹھایا اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اُن کی شہادت کے بارے میں بتایا ۔ یہ سن کر عبدالملک بن مروان سجدے میں چلا گیا ۔ جب سر اُٹھا یاتو حضرت عُروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: ‘‘ حجاج نے اُن کی لاش صلیب پر چڑھا دی ہے اور دفن نہیں کرنے دے رہا ہے ۔ اگر تُم اجازت دو تو لاش اُن کی والدہ محترمہ کے حوالے کر دی جائے ۔’’ عبدالملک بن مروان نے یہ درخواست منظور کر لی اور حجاج بن یوسف کو صلیب دینے پر ملامت آمیز خط لکھا ۔ حجاج بن یوسف نے لاش صلیب سے اُتروا کر سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیج دیا ۔حضرت عُروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور دفن کر دیا ۔


سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا کی استقامت


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے شہید ہونے کے بعد بھی اُن کی والدہ محترمہ اُسی طرح استقامت پر قائم رہیں۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی تجہیز و تکفین کے بعدسیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا کی خدمت میں حجاج بن یوسف حاضر ہوا اور بولا: ‘‘ اے امی جان! امیر المومنین عبدالملک بن مروان نے مجھے آپ کے متعلق وصیت کی ہے ۔کیا آپ کی کوئی حاجت ہے؟’’ آپ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا: ‘‘ میں تیری ماں نہیں ہوں ،میں ثنیہ پر مصلوب ہونے والے (حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ) کی ماں ہوں۔اور مجھے کوئی حاجت نہیں ہے لیکن میں تجھے ایک حدیث بیان کروں گی ۔میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘ بنو ثقیف سے ایک‘‘ کذاب’’ اور ایک‘‘ بربادی افگن’’ ظاہر ہو گا ۔’’ کذاب کو تو ہم نے دیکھ لیا ہے اور ‘‘بربادی افگن’’ میرے خیال میں تُو ہی ہے ۔ ’’ حجاج بن یوسف نے کہا: ‘‘ میں منافقین کو برباد کرنے والا ہوں۔’’ اِس کے تھوڑے ہی دنوں بعد سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا کا انتقال ہوگیا ۔


حجاج بن یوسف کی صحابۂ کرام سے گستاخی


حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو شہید کر کے مکۂ مکرمہ فتح کرنے کے بعد حجاج بن یوسف مدینۂ منورہ آیا اور وہاں موجود صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی شان میں گستاخی کی اور بد تمیزی سے پیش آیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں: کامیابی کے بعد حجاج بن یوسف مکۂ مکرمہ میں داخل ہوا اور مسجد الحرام کو خون اور پتھروں سے صاف کرایا اور اہل مکہ سے عبدالملک بن مروان کی بیعت لیکر مدینۂ منورہ چلا گیا اور وہاں دو مہینے تک ٹھہرا رہا ۔اہل مدینہ کو امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا قاتل سمجھ کر ستانے لگا اور اُن کی ذلت و رسوائی میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا ۔ صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی ایک جماعت کے ہاتھوں پر سیسہ گرم کر کے ‘‘مہریں’’ کرادیں جیسا کہ ذمیوں کے ساتھ کیا جاتا تھا ۔ اِن میں حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ ، حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ اور حضرت سہل بن مالک رضی اﷲ عنہ بھی تھے ۔اِس کے بعد مکۂ مکرمہ لوٹ آیا ۔ مدینہ اور اہل مدینہ کو ستانے اور پریشان کرنے کے بارے میں بہت سے واقعات نقل کئے جاتے ہیں جس کے ذکر سے کچھ فائدہ نہیں ہے اور اﷲ تعالیٰ منتقم حقیقی ہے۔ 


ھ73 ھجری کا اختتام


مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ میں حجاج بن یوسف کے ظلم کے علاوہ اِس سال 73 ھجری میں ابو فدیک خارجی کو قتل کرنے کا وقعہ پیش آیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 73 ھجری میں عبدالملک بن مروان نے عمر بن عبیداﷲ بن معمر کو ابو فدیک خارجی سے مقابلہ کے لئے روانہ کیا اور حکم دیا کہ کوفہ اور بصرہ سے جن جن کو چاہوں ساتھ لے لو۔عمر بن عبیداﷲ کوفہ آیا اور دس ہزار آدمی اُس کے ساتھ ہوگئے ۔پھر بصرہ آیا تو وہاں سے بھی دس ہزار آدمی ساتھ ہوگئے ۔اِس طرح بیس ہزار سے زیادہ کا لشکر لیکر ابو فدیک خارجی پر حملہ کیا ۔اُس نے زبردست مقابلہ کیا اور بصرہ والوں کو پیچھے دھکیل دیا جبکہ کوفہ والے ڈٹے رہے ۔یہ دیکھ کر بصرہ وااوں نے بھی زبردست حملہ کیا اور خارجیوں کو شکست ہوئی ۔ ابو فدیک مارا گیا اور خارجیوں نے اپنے آپ کو بلا شرط کے حوالے کر دیا ۔ عمر بن عبیداﷲ نے اِن میں سے چھ ہزار کو قتل کرا دیا اور آٹھ سو کو قیدی بنا لیااور پھر لشکر لیکر بصرہ واپس آگیا ۔اِس سال ۷۳؁ ھجری میں عبدالملک بن مروان نے خالد بن عبداﷲ کو بصرہ کی گورنری سے معزول کر دیا اور اُس کی جگہ اپنے بھائی بشر بن مروان کو بصرہ کا گورنر بنا دیا ۔اِس طرح بشر بن مروان کوفہ اور بصرہ دونوں کا گورنر بن گیا ۔ اُس نے کوفہ پر عمرو بن حریث کو اپنا نائب بنایا اور خود بصرہ آگیا ۔ اِس سال محمد بن مروان ایک لشکر لیکر موسم گرما میں رومیوں سے لڑنے کے لئے گیا اور انہیں شکست دی ۔ اِس سال عثمان بن ولید اور رومیوں کے درمیان آرمینیا کے مضافات میں جنگ ہوئی ۔ عثمان بن ولید کے پاس صرف چارہزار کا لشکر تھا جبکہ اُس کے مقابل رومیوں کی تعداد ساٹھ ہزار تھی مگر عثمان بن ولید نے انہیں شکست دے دی اور شدید نقصان پہنچایا۔اِس سال حجاج بن یوسف نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔


حضرت عوف بن مالک رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 73 ھجری میں حضرت عوف بن مالک رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں؛حضرت عوف بن مالک بن عوف اسجعی غطفانی جلیل القدر صحابی ہیں ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور آپ رضی اﷲ عنہ سے پہلے سپہ سالاروں کے ساتھ جنگ موتہ میں شامل ہوئے اور فتح مکہ میں بھی شامل ہوئے ۔اُس روز آپ رضی اﷲ عنہ کی قوم کا جھنڈا آپ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ میں تھا اور ملک شام کی فتح میں بھی شامل ہوئے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے احادیث روایت کی ہیں اور آپ رضی اﷲ عنہ سے تابعین کی ایک جماعت اور حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ نے بھی روایت کی ہے اور اُن کا انتقال آپ رضی اﷲ عنہ سے پہلے ہو گیا ۔


سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا کا انتقال


اِس سال 73 ھجری میں سیدہ اسما ء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی بیٹی ہیں ۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی بہن ہیں ۔ عشرہ مبشرہ میں سے حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کی بیوی ہیں اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی والدہ محترمہ ہیں ۔ انہیں ‘‘ذات النطاقین’’ کا لقب ملا ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہا کو یہ لقب ہجرت کے سال دیا گیا جب آپ رضی اﷲ عنہا نے اپنی پیٹی کو پھاڑ ا اور اُس سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے کھانے کو باندھا جب وہ مدینۂ منورہ جانے کے لئے غار ثور سے نکلے تھے ۔ سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہا نے اسلام کے آغاز میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا اور جب اپنے شوہر حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کے ساتھ مدینۂ منورہ کی طرف ہجرت کی تو آپ رضی اﷲ عنہا حاملہ تھیں ۔ مدینۂ منورہ میں آپ رضی اﷲ عنہا کے بطن سے مہاجرین کے سب سے پہلے بچے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی ولادت ہوئی ۔آپ رضی اﷲ عنہا مہاجرین اور مہاجرات میں سے سب سے آخر میں انتقال کرنے والی ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہا اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ سے دس سال بڑی ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہا کے دادا ، والد ، شوہر ، بھائی ، بہن اور بیٹے سب صحابی ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہا جنگ یرموک میں اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ شریک ہوئی تھیں ۔آپ رضی اﷲ عنہا کا سو سال کی عُمر میں انتقال ہوا اور کوئی دانت نہیں گرا تھا اور نہ ہی عقل میں فتور ہوا تھا ۔


حضرت ثابت بن ضحاک رضی اﷲ عنہ کا انتقال


اِس سال 73 ھجری میں حضرت ثابت بن ضحاک انصاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اﷲ عنہ صحابی ہیں ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت ثابت بن ضحاک انصاری رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت حاصل ہے ۔آپ رضی اﷲ عنہ کو ابو زید الاشمالی کہا جاتا ہے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ ‘‘بیعت رضوان’’ میں شامل تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے بیعت رضوان کا درخت بتاتے ہوئے فرمایا: ‘‘ اِس درخت کے نیچے ہم نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بیعت کی اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :‘‘ جس نے کسی مومن پر کفر کی تہمت لگائی وہ اُس کا ضامن ہوگا۔’’


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں