54 سلطنت امیہ
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 54
100 ھجری کا اختتام، 100 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 101 ھجری : امیر المومنین کی بیماری اور یزید بن مہلب کی پریشانی، یزید بن مہلب کا فرار، حضرت عُمر بن عبدالعزیز کا انتقال، حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی مدت حکومت، بنو اُمیہ کا اشج، حضرت عُمر بن عبدالعزیز شہید ہوئے، اﷲ کی مشیت پر راضی تھے، یزید ثانی بن عبدالملک سلطنت اُمیہ کا حکمراں، خوارج سے جنگ، یزید بن مہلب اور یزید بن عبدالملک کی دشمنی، یزید بن مہلب بصرہ میں، بصرہ کے گورنر کی گرفتاری، شامی لشکر کی کوفہ روانگی
100 ھجری کا اختتام
اِس سال 100 ھجری میں حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے خراسان کے گورنر کو معزول کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال امیر المومنین نے خراسان کے گورنر جراح بن عبداﷲ حکمی کو معزول
کر دیا اور اُس کی جگہ عبدالرحمن بن نعیم قشیری کو گورنر بنا کر بھیجا ۔ اِس طرح جراح بن عبداﷲ ایک سال پانچ مہینہ خراسان کا گورنر رہا ۔ 99 ھجری میں خراسان آیا اور ماہ رمضان المبارک 100 ھجری ختم ہونے میں کچھ روز باقی تھے کہ اُس نے خراسان چھوڑا۔اِس ایک تبدیلی کے علاوہ پوری مملکت اسلامیہ میں وہی گورنر رہے جو پچھلے سال تھے ۔ اِس سال مدینۂ منورہ کے گورنر ابوبکربن محمد بن حزم نے مسلمانوں کو حج کروایا ۔ اِس سال حضرت عُمر بن عبدالعزیز حکومت کے کاموں کی مشغولیت کی وجہ سے حج نہیں کر سکے لیکن وہ مدینۂ منورہ میں خطوط کے ذریعے اپنے گورنر کو حکم دیتے تھے کہ وہ اُن کی طرف سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے روضۂ مبارک پر درود و سلام پڑھے ۔
100 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان
اِس سال جن کا انتقال ہوا اُن میں چند نام یہ ہیں ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 100 ھجری میں سالم بن ابی جعد اشجعی کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی ہیں اور انہوں نے حضرت ثوبان ، حضرت جابر ، حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق اور حضرت نعمان بن بشیر رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں ۔ اِن سے قتادہ اور اعمش اور دوسرے لوگوں نے روایات بیان کی ہیں ۔ یہ ثقہ اور سخی بزرگ تھے ۔اِس سال حضرت ابواُمامہ سہل بن حنیف اوسی مدنی کا انتقال ہوا ۔ یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھا اور اپنے والد کے علاوہ ، حضرت عُمر فاروق ، حضرت عثمان غنی ، حضرت زید بن ثابت ، حضرت معاویہ بن ابی سفیان اور حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے احادیث بیان کی ہیں ۔اِن سے امام زہری ، امام ابن حازم اوربہت سے تابعین نے احادیث بیان کی ہیں ۔ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو باغیوں نے مسجد نبوی میں نماز پڑھنے سے روک دیا تھا تو اُن کی جگہ حضرت ابواُمامہ سہل بن حنیف نے جمعہ کی نماز پڑھائی تھی ۔ اِس سال ابو طفیل عامر بن واثلہ کتانی کا انتقال ہوا ۔ یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے آخری دیدار کرنے والوں میں سے ہیں ۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے وقت موجود تھے اور فرماتے ہیں :‘‘ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو خانۂ کعبہ کے رکن کو چھڑی سے بوسہ لیتے ہوئے دیکھا ہے ۔’’ انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عُمر فاروق ، حضرت علی المرتضیٰ ، حضرت معاویہ بن ابی سفیان اور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں اور خود اُن سے امام زہری ، عمرو بن دینار ، ابو زبیر اور بہت سے تابعین نے احادیث بیان کی ہیں۔ یہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ تمام جنگوں میں شریک تھے اور مختار بن ابو عبید ثقفی کے ساتھ بھی تھے ۔اِس سال ابو عثمان نہدی کا انتقال ہوا ۔ اِن کا پورا نام عبدالرحمن بن مل بصری ہے ۔ یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں ایمان لائے لیکن آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھ نہیں پائے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے بھیجے گئے ذکوٰۃ کے محصولین کو تین بار ذکوٰۃ ادا کر چکے تھے ۔ آئمۂ حدیث ایسے لوگوں کو ‘‘ مخضرمی’’کہتے ہیں ۔ انہوں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے زمانے میں ہجرت کی انہوں نے حضرت علی المرتضیٰ ، حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہم اور صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی ایک جماعت سے روایات بیان کی ہیں ۔ یہ حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ کی صحبت میں بارہ سال رہے ۔ اِن سے بہت سے تابعین نے روایات بیان کی ہیں جن میں ایوب ، حمید الطویل اور سلیمان بن طرخان تمیمی شامل ہیں ۔
101 ھجری : امیر المومنین کی بیماری اور یزید بن مہلب کی پریشانی
سلیمان بن عبدالملک نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بنایا تھا اور اُن کے بعد یزید بن عبدالملک کو ‘‘ولی عہد’’ بنایا تھا ۔ یزید بن مہلب نے یزید بن عبدالملک کے سسرالی رشتہ داروں کو بہت تکلیف دی تھی ۔ اِسی لئے جب حضرت عُمر بن عبدالعزیز بیمار ہوئے تو یزید بن مہلب پریشان ہوگیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید بن مہلب امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے بیمار ہونے تک چپ چاپ قید خانے میں پڑا رہا ۔ مگر جب اُسے امیرالمومنین کی بیماری کے بارے میں معلوم ہوا تو اب اُس نے بھاگ نکلنے کی فکر کی ۔ اِس کی اصل وجہ یہ تھی کہ یزید بن مہلب نے یزید بن عبدالملک کی بیوی کے رشتہ داروں خاندان ابی عقیل کو اپنی گورنری کے زمانے میں بہت تکلیفیں پہنچائی تھیں ۔ اِسی لئے یزید بن عبدالملک نے قسم کھائی تھی کہ جب بھی میں یزید بن مہلب پر قابو پاؤں گا تو اُسے قتل کر ڈالوں گا ۔ اِسی وجہ سے یزید بن مہلب خوفزدہ تھا کیونکہ حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے بعد یزید بن عبدالملک ہی ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بننے والاتھا ۔
یزید بن مہلب کا فرار
امیر المومنین کی بیماری کا سن کر یزید بن مہلب فرار ہوگیا اور امیر المومنین سے معذرت کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :یزید بن مہلب نے اپنے ساتھیوں کو کہلا بھیجا تھا کہ میرے فرار کے لئے سواریوں کا انتظام کریں۔ امیرالمومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز ‘‘دیر سمعان’’ میں بیمار پڑے اور جب اُن کی بیماری میں شدت ہوئی تو یزید بن مہلب نے اونٹ منگوائے اور جب اُسے معلوم ہوا کہ اُن کے آنے میں ابھی دیر ہے تو وہ قیدخانے سے نکل کر اُس جگہ آیا جہاں اُس کے ساتھیوں نے اُس سے ملنے کا وعدہ کیا تھامگر اُس جگہ آکر دیکھا کہ اب تک کوئی نہیں آیا تو وہ اور اُس کے ساتھی گھبرا گئے ۔ یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ میں واپس قید خانے میں چلا جاؤں تو یہ کبھی نہیں ہوسکتا ۔’’ اِسی دوران اونٹ آگئے اور یزید بن مہلب سوار ہو کر روانہ ہوا ۔ اُس کے ساتھ محمل کے دوسرے حصہ میں اُس کی بیوی عاتکہ قرات بنت معاویہ قبیلہ بنو بکا کی بیٹی تھی ۔شہر سے دور نکل جانے کے بعد یزید بن مہلب نے امیر المومنین کو خط لکھا: ‘‘ اگر مجھے یقین ہوتا کہ آپ ابھی زندہ رہیں گے تو ہر گز قید خانے سے نہیں بھاگتا۔ مگر کیا کروں مجھے یزید بن عبدالملک سے خوف لگا ہوا ہے ۔’’ خط پڑھ کر امیرالمومنین نے فرمایا: ‘‘ اے اﷲ تعالیٰ! اگر اِس حرکت سے یزید بن مہلب کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں میں فتنہ و فسادپھیلائے تو اُس کے خیالات کو اُسی پر پلٹ دے اور مسلمانوں کو محفوظ رکھ ۔’’
حضرت عُمر بن عبدالعزیز کا انتقال
101 ھجری میں امیرالمومنین حضرت عُمر بن عبداالعزیز بیمار ہوئے اور انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی بیوی کا بیان ہے کہ جب مرض کی وجہ سے آپ کو بے چینی زیادہ ہوئی تو آپ رات بھر جاگتے رہے اور ہم لوگ بھی جاگتے رہے ۔ صبح کے وقت میں نے آپ کے خادم مرثد سے کہا: ‘‘ تُو امیرالمومنین کے پاس رہنا اور اگر کوئی ضرورت ہو تو ہم قریب ہی ہیں ہمیں فوراً اطلاع کر دینا۔’’ یہ حکم دے کر ہم وہاں سے چلے آئے اور چونکہ رتا بھر کے جاگے ہوئے تھے اِس لئے سب سو گئے ۔ دن چڑھے جب میں بیدار ہوئی تو امیرالمومنین کے پاس گئی ۔ دیکھا کہ مرثد کمرہ کے باہر پڑا سو رہا ہے ۔میں نے اُسے اُٹھایا اور اُس سے پوچھا کہ وہ باہر کیوں چلا آیا؟مرثد نے کہا: ‘‘ خود امیرالمومنین نے مجھ سے کہا :‘‘ تُو باہر چلا جا کیونکہ اﷲ کی قسم! میں ایس شکل دیکھ رہا ہوں جو نہ انسان ہیں اور نہ جنات ہیں ۔’’ اور میں نے انہیں یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا:‘ ‘ ترجمہ۔ یہ آخرت ہے ،ہم نے اسے ان لوگوں کے لئے بنایا جو دنیا میں نہ نمودچاہتے ہیں اور نہ خرابی ڈالنا چاہتے ہیں اور عاقبت اﷲ سے ڈرنے والوں کے لئے ہی ہے ۔’’یہ سن کر میں تیزی سے امیرالمومنین کے پاس پہنچی اور دیکھا کہ آپ سیدھے لیٹے ہوئے ہیں ۔آنکھیں بند ہیں اور روح قفس عنصری سے پروازکر چکی تھی ۔’’
حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی مدت حکومت
حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کا 101 ھجری میں انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ہیثم بن واقد کہتے ہیں کہ میں 97 ھجری میں پیدا ہوا اور 99 ھجری میں ماہ صفر المظفر ختم ہونے میں ابھی دس راتیں باقی تھیں کہ مقام وابق پر حضرت عُمر بن عبدالعزیز سلطنت اُمیہ کے حکمراں بنے ۔ حکمراں بننے کے بعد آپ نے عوام کا جو روپیہ تقسیم کیا اُس میں سے تین دینار میرے حصہ میں بھی آئے اور مقام خناصرہ میں جب ماہ رجب المرجب 101 ھجری ختم ہونے میں پانچ راتیں باقی تھیں تو آپ کا انتقال ہوا۔ بیس دن تک بیمار رہے اور دو سال پانچ مہینے اور چار دن حکومت کی ۔ اُنتالیس سال کی عُمر میں انتقال ہوا اور دیر سمعان میں دفن کئے گئے ۔ بعض ارباب سیر نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ جس روز آپ کا انتقال ہوا اُس آپ کی عُمر اُنتالیس سال اور پانچ مہینے تھی ۔ بعض نے چالیس سال کی عُمر بتائی ۔ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی پرپوتی حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی والدہ محترمہ ہیں ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو ‘‘بنو اُمیہ کا اشج’’ کہا جاتا تھا کیونکہ بچپن میں انہیں پیشانی پر ایک زخم لگا تھا جس کا نشان آخر تک رہا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ امام عادل ، انصاف پسند حاکم اور نہایت متقی اور پرہیز گار خلیفہ ٔراشد گذرے ہیں جو عدل و انصاف کے تقاضوں اور اسلامی شریعت کے مفاذ میں کسی امر کی پرواہ نہیں کرتے تھے ۔
بنو اُمیہ کا اشج
حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے بارے میں خلیفۂ دُوم حضرت عَمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو معلوم تھا لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ میری پرپوتی کا بیٹا ہوگا ۔امام جلا ل الدین سیوطی لکھتے ہیں : حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا تھا :‘‘ میری اولاد میں ایک شخص ایسا پیدا ہوگا جس کے چہرے پر نشان ہوگا اور وہ تما م رُوئے زمین کو عدل سے بھر دے گا۔’’(امام ترمذی نے اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے) اور آپ رضی اﷲ عنہ کا فرمانا بالکل صحیح ہوا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ یہ بھی فرمایا کرتے تھے:‘‘ کاش میں اپنے نشان والے بیٹے کا زمانہ پاتا جو دنیا کو عدل سے بھر دے گا جس طرح ابھی دنیا ظلم سے بھری پڑی ہے۔’’(طبقات ابن سعد) علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : نافع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اکثر یہ کہتے سنا ہے کہ کاش مجھے معلوم ہوتا کہ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی اولاد میں وہ کون شخص ہو گا جس کی پیشانی پر ایک علامت ہوگی اور جو روئے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا ۔’’ حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو بچپن میں پیشانی پر ایک جانور ( غالباً گھوڑا کیونکہ گھوڑے کو لوہے کی نعل ٹھونکی ہوتی ہے) نے لات ماری جس کی وجہ سے پیشانی پھٹ گئی ۔ آپ کووالدہ محترمہ کے پاس لایا گیا تو وہ پیشانی کا خون پونچھنے لگی اور شوہر پر غصہ کرنے لگیں کہ میرے بیٹے کے ساتھ کوئی محافظ یا خدمت گار بھیجا ہوتا جو میرے بچے کا خیال رکھتا۔ آپ کے والدعبدالعزیز بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ اری نیک بخت! خاموش ہوجا! تیرا بیٹا تمام خاندان بنو اُمیہ کا ‘‘اشج’’ ہے ۔’’بڑے ہونے پر بھی اُس زخم کا نشان آپ کی پیشانی پر تھا۔
حضرت عُمر بن عبدالعزیز شہید ہوئے
حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ شہید ہوئے ہیں ۔ امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں : امام مجاہد کہتے ہیں : ‘‘ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے اپنی بیماری کے دوران مجھے بلا کر فرمایا: ‘‘ میری بیماری کے بارے میں لوگوں کا کیا خیال ہے؟’’ میں نے کہا: ‘‘ عوام میں یہ مشہور ہے کہ آپ پر سحر کیا گیا ہے ۔’’ آپ نے فرمایا: ‘‘ یہ خیال غلط ہے ، مجھے زہر دیا گیا ہے اور جس وقت دیا ہے اور جس نے دیا ہے وہ بھی مجھے معلوم ہے ۔’’ پھر آپ نے اُس غلام کو بلایا جس نے آپ کو زہر دیا تھا اور اُس سے فرمایا: ‘‘ تجھ پر افسوس ہے ! تجھے کس چیز نے مجھے زہر دینے پر آمادہ کیا ؟’’ اُس نے کہا: ‘‘اِس کام کے عوض مجھے ایک ہزار دینار دیئے گئے ہیں اور مجھ سے یہ وعدہ بھی کیا گیا ہے کہ مجھے آزاد کر دیا جائے گا ۔’’ آپ نے فرمایا :‘‘ جاؤ وہ دینار لیکر آؤ۔’’ جب وہ دینار لیکر آیا تو آپ نے وہ تمام دینار اُس سے لیکر ‘‘بیت المال’’ میں جمع کرادیئے اور اُس سے فرمایا: ‘‘ یہاں سے فورا! اِس طرح بھاگ جاؤ کہ کوئی پھر تمہیں یہاں نہیں دیکھ سکے ۔’’
اﷲ کی مشیت پر راضی تھے
حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے اﷲ تعالیٰ کی مشیت کو راضی برضا قبول کر لیا تھا ۔ امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں : ولید بن
ہشام کا بیان ہے کہ حضرت عُمر بن عبدالعزیز سے کسی شخص نے بیماری کی حالت میں عرض کیا: ‘‘ آپ علاج کیوں نہیں کرواتے؟’’ آپ نے فرمایا: ‘‘ جس وقت مجھے زہر دیا گیا تھا اُس وقت مجھ سے اگر کہا جاتا کہ تم اپنے کان کی لو کو چھو لو یا فلاں خوشبو سونگھ لو تو تم شفا یاب ہو جاؤگے تب بھی میں ایسا نہیں کرتا ۔’’ ( کیونکہ اگر میں مر گیا تو زہر خورانی کی وجہ سے شہادت کا درجہ حاصل کروں گا)ہشام کا بیان ہے کہ جب حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے انتقال کی خبر حضرت حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ کو ہوئی تو آپ نے فرمایا: ‘‘ دنیا کا سب سے بہترین آدمی رخصت ہوگیا۔’’
یزید ثانی بن عبدالملک سلطنت اُمیہ کا حکمراں
سلیمان بن عبدالملک کی وصیت کے مطابق حضرت عُمر بن عبدالعزیز ‘‘سلطنت اُمیہ ’’ کے حکمراں بنے تھے اور اُس نے اُن کے بعد یزید بن عبدالملک کے لئے وصیت کی تھی ۔ اِس لئے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے انتقال کے بعد یزید بن عبدالملک ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکراں بنا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 101 ھجری میں یزید بن عبدالملک جس کی کنیت ابو خالد تھی اُنتالیس سال کی عُمر میں سلطنت اُمیہ کا حکمراں بنا ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : یزید بن عبدالملک نے ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بنتے ہی ابو بکر بن محمد کو معزول کر کے مدینۂ منورہ کا گورنرعبدالرحمن بن ضحاک کو بنا دیا اور حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے تمام کاموں کو اُلٹ پلٹ دیا ۔ یمن کے گورنر محمد بن یوسف (حجاج بن یوسف کا بھائی) نے اہل یمن پر ایک نیا ٹیکس لگا دیا تھا ۔ جس کو حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے اپنے دور ِ حکومت میں معاف کر کے عشر (دسواں حصہ) یا نصف عشر ( بیسواں حصہ) قائم کیا اور یہ فرمایا: ‘‘ مجھے اِس نئے خراج کو قائم کرنے سے زیادہ یہ پسند ہے کہ ملک یمن سے ایک ذرہ برابر خراج آئے ۔ جب یزید بن عبد الملک ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بنا تو اُس ٹیکس کو پھر سے جاری کر دیا اور اپنے گورنر کو لکھ بھیجا:‘‘ اہل یمن سے ضرور ٹیکس وصول کرو چاہے اُن کو ناگوار ہو ۔’’ اُنہیں دنوں اُس کے چچا محمد بن مروان کا انتقال ہوگیا تو اُس نے اُس کی جگہ اپنے دوسرے چچا مسلمہ بن عبدالملک کو الجزیرہ ، آذربائیجان اور آرمینیہ کو گورر بنا دیا ۔
خوارج سے جنگ
اِس سال 101 ھجری میں خوارج سے جنگ میں اُن کا سردار شوذب قتل ہوا ۔ خوارج کو حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے مناظرے کے لئے بلایا تھا اور خوارج نے دو شخصوں کو بھیجا تھا ۔ مناظرے کے دوران ہی حضرت عُمر بن عبدالعزیز کا انتقال ہو گیا اور مناظرہ ادھورا رہ گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : خوارج کے سردار شوذب نے مناظرہ کرنے کے لئے ایک وفد امیرالمومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے پاس بھیجا تھا ۔ آپ کے انتقال کے بعد کوفہ کے گورنر عبدالحمید بن عبدالرحمن نے نئے حکمراں یزید بن عبدالملک کے سامنے اپنی کارگذاری پیش کرنے اور تقرب حاصل کرنے کے لئے خوارج پر ایک لشکر بھیج کر حملہ کردیا۔ خوارج نے اُس لشکر کو شکست دی ۔ جب یزید بن عبدالملک کو اِس شکست کی اطلاع ملی تو اُس نے دوہزار سواروں کا ایک لشکر بھیجا ۔ خوارج نے اسے بھی شکست دی ۔ پھر مسلمہ بن عبدالملک کی سپہ سالاری میں یزید بن عبدالملک نے ایک بہت بڑا لشکر بھیجا ۔ جب مسلمہ بن عبدالملک نے کوفہ کے قریب پڑاؤ ڈالا تو کوفہ کے گورنر نے اُسے خوارج کے بارے میں بتایا۔ اُس نے نحبہ بن عمر کو دس ہزار کا لشکر دے کر خوارج کے مقابلے میں بھیجا ۔ اِس لشکر نے شوذب اور تمام خوارج کو قتل کرڈالا۔’’
یزید بن مہلب اور یزید بن عبدالملک کی دشمنی
یزید بن عبدالملک کے ‘‘ سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں بننے سے پہلے ہی یزید بن مہلب قید خانے سے فرار ہو گیا کیونکہ اُسے یزید بن عبدالملک نے چیلنج دیا تھا کہ حکمراں بنتے ہی تجھ سے سمجھ لوں گا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے یزید بن مہلب کو جرجان کا خمس نہیں دینے کی وجہ سے قید کر دیا تھا ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی بیماری کے دوران اُس نے جیل سے فرار ہونے کی فکر کی ۔یزید بن عبدالملک کی بیوی حجاج بن یوسف کے بھائی کی بیٹی تھی ۔ سلیمان بن عبدالملک نے اپنے دور ِ حکومت میں حجاج بن یوسف کے رشتہ داروں کو سزا دینے کی ذمہ داری یزید بن مہلب کو دی تھی اور وہ اِن سب کو طلقاء سے قید کر کے دمشق لایا تھا جس میں یزید بن عبدالملک کی بیوی بھی تھی اور اُس کو بھی سزا دی جاتی تھی ۔ یزید بن عبدالملک اپنی بیوی کی سفارش کرنے کو یزیدبن مہلب کے پاس گیا اوراپنی بیوی کی سفارش کی لیکن یزید بن مہلب نے کوئی توجہ نہیں دی تو یزید بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ وہ تاوان جو تم نے مقرر کیا ہے میں ادا کر دوں گا اِس لئے میری بیوی کو سزا نہ دو ۔’’ یزید بن مہلب نے یہ بھی منظور نہیں کیا تب یزید بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ اچھا! اِس وقت تم میرا کہنا نہیں مان رہے ہو جب میں ‘‘ سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بنوں گا تو تم سے سمجھ لوں گا ۔’’ یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ اگر تُو حکمراں بنا تو ایک لاکھ تلواریں تیرے خلاف نیام سے باہر کر دوں گا۔’’ بہر حال بعد میں یزید بن مہلب نے ایک لاکھ تاوان لیکر یزید بن عبدالملک کی بیوی کو آزاد کر دیا۔
یزید بن مہلب بصرہ میں
یزید بن مہلب قید خانے سے فرار ہو کر بصرہ پہنچا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : یزید بن عبدالملک نے بیعت لینے کے بعد کوفہ کے گورنرعبدالحمید بن عبدالرحمن اور بصرہ کے گورنر عدی بن ارطاۃ کو یزید بن مہلب کے فرار کا حال اور اُس کے اہل و عیال کو دوبارہ گرفتار کرنے کو لکھا۔ اِس حکم کے ملتے ہی عدی بن ارطاۃ نے مفضل بن مہلب اور مروان بن مہلب کو کو گرفتار کر کے قید کر دیا ۔ اِسی دوران یزید بن مہلب بھی بصرہ پہنچ گیا ۔ کوفہ کے گورنر عبدالحمید بن عبدالرحمن نے ہشام بن مساحق کو لشکر دیکر یزید بن مہلب کو گرفتار کر کے لانے کے لئے بھیجا تھا ۔ جب یہ لشکر ‘‘حذیب’’ پہنچا تو یزید بن مہلب جاتا ہوا دکھائی دیا تھا لیکن لشکریوں نے اُسے جانے دیا ۔ بصرہ میں عدی بن ارطاۃ نے اہل بصرہ کو جمع کر رکھا تھا اور بصرہ کے اطراف خندق کھدوادی تھی ۔سواران بصرہ کا کمانڈر مغیرہ بن عبداﷲ کو مقرر کر دیا ۔ یزید بن مہلب اپنے ساتھیوں کے ساتھ بصرہ پہنچا اور اُس کا بھائی محمد بن مہلب اُس کے استقبال کو آیا ۔ عدی بن ارطاۃ نے یہ سن کر فوج کو نئے سرے سے مرتب کیا اور ہر قبیلے پر اُس کا ایک کمانڈر مقرر کیا ۔ مگر کسی نے یزید بن مہلب سے کوئی تعرض نہیں کیا اور وہ سیدھے اپنے مکان پر جا کر اُترا۔
بصرہ کے گورنر کی گرفتاری
یزید بن مہلب بصرہ میں آکر اپنے مکان میں ٹھہر گیا ۔۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : یزید بن مہلب سے لوگ ملنے آنے لگے اور اُس نے بصرہ کے گورنر عدی بن ارطاۃ سے کہلا بھیجا:‘‘ تم میرے بھائیوں کو قید سے رہا کر دو تاکہ میں اُن کے ساتھ چند دن بصرہ میں قیام کر کے کسی بھی طرف چلا جاؤں اور پھر خروج کر کے یزید بن عبدالملک سے اپنا خاطر خواہ مقصد حاصل کروں ۔’’ عدی بن ارطاۃ نے منظور نہیں کیا تب یزید بن مہلب نے اپنے بھتیجے حمید بن عبدالملک بن مہلب کو امان حاصل کرنے کی غرض سے یزید بن عبدالملک کے پاس ملک شام روانہ کیا۔ یزید بن عبدالملک نے بہ نظر ترحم خسروانہ بنو مہلب کو امان لکھ کر دے دی اور واپسی کے وقت حمید بن عبدالملک بن مہلب کے ساتھ خالد قسری اور عمر بن یزید کو ساتھ کر دیا ۔ ابھی حمید بن عبدالملک بن مہلب واپس آنے بھی نہیں پایا تھا کہ سونے چاندی کے ٹکڑوں(یزید بن مہلب کی داد و دہش) نے لوگوں کو اُس کی طرف مائل کر دیا کیونکہ عدی بن ارطاۃ بہت کنجوس تھا اور کسی کو دو درہم بھی نہیں دیتا تھا ۔ رفتہ رفتہ دونوں میں کشیدگی بڑھ گئی اور یزید بن مہلب کے حامیوں نے عدی بن ارطاۃ کے حامیوں پر حملہ کر دیا اور اُس کی فوج پسپا ہوگئی ۔ یزید بن مہلب کے بھائیوں نے یہ سن کر قید خانے کا دروازہ اندر سے اِس خوف سے بند کر لیا کہ یزید بن مہلب کے آنے سے پہلے عدی بن ارطاۃ انہیں قتل نہ کر ڈالے داروغہ جیل اُسے کھولنے کی کوشش کر رہا تھا کہ یزید بن مہلب کے ساتھی آگئے اور وہ بھاگ گیا اور یزید بن مہلب کے بھائی قیدخانے سے باہر آگئے۔ یزید بن مہلب ‘‘قصر امارت’’ کے قریب مسلم بن زیاد کے مکان پر قیام پذیر ہوا اور اُس کے ساتھی ‘‘قصر امارت’’ پر سیڑھیاں لگا کر چڑھ گئے اور عدی بن ارطاۃ کو گرفتار کر کے لے آئے ۔یزید بن مہلب نے اُسے قید کردیا ۔
شامی لشکر کی کوفہ روانگی
یزید بن مہلب نے بصرہ کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : بصرہ کے عہدیداران کوفہ اور ملک شام کی طرف چلے گئے ۔ مغیر ہ بن زیاد ملک شام کی طرف جارہا تھا کہ راستے میں حمید بن عبدالملک بن مہلب کے ساتھ آتے ہوئے خالد قسری اور عمر بن یزید ملے تو انہیں بتایا کہ بصرہ کے گورنر کو یزید بن مہلب نے قید کر لیا ہے اور بصرہ پر غلبہ حاصل کر لیا ہے ۔ یہ سن کو خالد قسری اور عُمر بن یزید ملک شام کی طرف لوٹ گئے ۔ حمید بن عبدالملک بن مہلب نے انہیں بہت روکنے کی کوشش کی لیکن وہ چلے گئے اور ملک شام جا کر تمام حالات بتادیئے ۔ کوفہ کے گورنر نے یزید بن مہلب کے دو بیٹوں کو گرفتار کر کے یزید بن عبدالملک کے پاس بھیج دیا جہاں قید میں دونوں کی موت ہو گئی ۔ اِس کے بعد یزید بن عبدالملک نے اہل کوفہ کے لئے انعامات بھیجے اور اُن کی تعریف لکھی اور اُن کے وظائف بڑھانے کا وعدہ کیا ۔ اپنے بھائی مسلمہ بن عبدالملک اور بھتیجے عباس بن ولید کو ستر ہزار یا اسی ہزار کا لشکر دیکر ملک شام سے ملک عراق کی طرف روانہ کیا ۔ اِس لشکر نے کوفہ پہنچ کر ‘‘نخیلہ ’’ میں پڑاؤ ڈالا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں