53 سلطنت امیہ
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 53
سلطنت اُمیہ کا سب سے بہترین دور، کوفہ کے گورنر کے نام فرمان، 99 ھجری کا اختتام، 99 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 100 ھجری : خوارج کی شورش، یزید بن مہلب قید میں، یزید بن مہلب سے ذاتی پُرخاش نہیں تھی، ختل سے صلح، نو مسلموں سے جزیہ وصول کرنے کی ممانعت، عبدالرحمن بن نعیم خراسان کا گورنر، اہل خراسان کے نام خط، غیر مسلم عوام کے متعلق ہدایات، علاقہ ماورالنہر کے مسلمانوں کا واپسی سے انکار، خراسان کے افسر خزانہ کے نام فرمان، خاندان بنو عباس کی تحریک کی ابتداء،
سلطنت اُمیہ کا سب سے بہترین دور
حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ جب سلطنت اُمیہ کے حکمراں بنے تو اُن کا دورِ حکومت سلطنت اُمیہ کا سب سے بہترین دور کہلایا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ۹۹ ھجری بروز جمعہ ماہ صفرالمظفر میں حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کی بیعت ہو گئی اور وہ مسلمانوں کے امیر المومنین بن گئے ۔حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کی حکومت ایک طرح سے ‘‘خلافت راشدہ کا احیاء’’ اور اسلامی تہذیب و ثقافت اور قرآنی احکام اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت اور اسلامی تعلیمات کے ‘‘نشاۃ ثانیہ’’ کا دور کہلاتا ہے ۔ اِسلامی تاریخ میں حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ ‘‘پانچویں خلیفۂ راشد’’ شمار ہوتے ہیں۔ ان کے دور میں اُموی دور کی بہت سی بد عنوانیاں ختم ہوئیں اور دینداری اور تقویٰ اور شعائر دین کا احترام عام طور پر لوگوں میں پیدا ہوا۔ جب بھی آپ رحمتہ اﷲ علیہ خطبہ دیتے تھے تو لوگوں کو تقویٰ کی زندگی اختیار کرنے اور فواحشات سے بچنے کی تلقین کرتے تھے ۔ ایک روز خطبہ کے دوران انہوں نے کہا: ‘‘ اے لوگو! میرا نفس ہمیشہ اعلیٰ کی خواہش رکھتا ہے ۔ مجھے حکومت ملی تو اب مجھے اِس سے اعلیٰ کے حصول یعنی جنت حاصل کرنے کی خواہش و رغبت پیدا ہو گئی ہے ۔ اﷲ تم سب کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے! تم میری اِس مقصد کے حصول میں مدد کرو۔’’لوگ بنو اُمیہ کے دورِ حکومت میں نماز میں تاخیر کرنے اور دیر سے پڑھنے کے عادی ہو گئے تھے ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیزنے حکومت سنبھالتے ہی اِس خرابی کی طرف توجہ دی اور مسلمانوں کو اول وقت میں نماز پڑھنے اور نماز کے متعلق سستی سے باز رہنے پر خاص طور سے توجہ دلائی ۔ اِس کے لئے حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے مملکت اسلامیہ کے مؤذنوں کا خصوصی ہدایات دیں۔
کوفہ کے گورنر کے نام فرمان
امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے کوفہ کے گورنر کو عوام کے متعلق فرمان لکھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین نے کوفہ کے گورنر عبدالحمید بن عبدالرحمن کو یہ فرمان لکھا: ‘‘ یہ خط اﷲ کے بندے عُمر بن عبدالعزیز امیرالمومنین کی طرف سے کوفہ کے گورنر عبدالحمید بن عبدالرحمن کے نام ! اسلام اعلیکم! حمدو ثناء کے بعد! تمہیں معلوم ہو کہ اہل کوفہ پر پچھلے گورنروں نے ضرورت سے زیادہ سختیاں اور ظلم کئے ہیں ۔ حالانکہ اسلام کی بنیاد ‘‘عدل اور نرمی’’ پر ہے ۔ سب سے زیادہ تم خود اپنے نفس کی روک تھام رکھنا کیونکہ یہ چھوٹا موٹا گناہ نہیں ہے ۔ بنجر زمین پر لگان نہیں لگانا اور آباد زمین پر بھی زراعت والی زمین کی لگان نہیں لگانااور عوام کی اصلاح کرنے کی کوشش کرنا۔ زراعت والی زمین پر صرف زر لگان ہی وصول کرنا اور وہ بھی نرمی اوور دل جوئی کے ساتھ اِس طرح کہ کسان خوش رہیں اور خراج ہمیشہ پیدا وار کا ساتواں حصہ وصول کرنا ۔ لگان وصول کرنے والوں کی تنخواہیں عوام سے وصول نہیں کرنا اور نہ ہی نوروز اور مہرجان کا نذرانہ قبول کرنا ۔ خطوط اور پٹہ رسانے کی اُجرت نہیں لینا اور مکانات کا کرایہ بھی نہیں لینا ۔ اِسی طرح جو شخص مسلمان ہوجائے اُس سے خراج یا جزیہ نہیں لینا ۔ اِن تمام امور میں میری ہدایات پر عمل کرنا کیونکہ جو کام اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی نگرانی کا میرے متعلق کیا ہے اِس میں اِن امور کا میں تمہیں ذمہ دار مقرر کرتا ہوں۔ میرے مشورے اور حکم کے بغیر کسی شخص کو قتل نہیں کرنا اور نہ سولی پر چڑھانا ۔ عوام میں سے جو شخص حج کے لئے جانا چاہے اُسے حج کے لئے اخراجات پہلے سے دے دینا ۔ والسلام۔’’
99 ھجری کا اختتام
99 ھجری میں جب حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ حکمراں بنے تو مملکت اسلامیہ میں ہر شعبے میں تبدیلی آئی ۔اِسی طرح گورنروں کی بھی تبدیلی ہوئی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے یزید بن مہلب کو ملک عراق اور خراسان کی گورنری سے معزول کر دیا ۔خراسان کا گورنر جراح بن عبداﷲ کو بنایا ۔ بصرہ کا گورنر عبدی بن ارطاۃ فزاری کو بنایا ۔ کوفہ کا گورنر عبدالحمید بن عبدالرحمن کو بنایا ۔امیر المومنین نے حسن بن ابی الحسن کو بصرہ کا قاضی مقرر کیا لیکن جب مسلمانوں نے اُن کی شکایت کی تو انہیں معزول کر کے معاوہ بن قرہ کو قاضی بنایا ۔ کوفہ کے قاضی عامر شعبی تھے ۔ مکۂ مکرمہ کا گورنر عبدالعزیز بن خالد تھا ۔ مدینۂ منورہ کا گورنر ابوبکر بن احمد تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔
99 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان
اِس سال کافی مسلمانوں کا انتقال ہوا اُن میں سے چند یہ ہیں: علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 99 ھجری میں عبداﷲ بن محریز بن خبادہ بن عبید کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی ہیں اور اانہوں نے اُم ابی محذورہ کے شوہر حضرت عبادہ بن صامت ، حضرت معاویہ بن ابی سفیان اور حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایات بیان کی ہیں اور اِن سے خالد بن معدان ، حسان بن عطیہ زہری اور دوسرے تابعین نے روایات بیان کی ہیں ۔اِن کے ثقہ ہونے کی متعدد لوگوں نے توثیق کی ہے اور آئمہ کی ایک جماعت نے اِن کی توصیف کی ہے ۔ حتیٰ کی رجا بن حیواۃ نے کہا: ‘‘ اگر ہم اہل مدینۂ منورہ حضرت عُمر جیسے لوگوں کے لئے ثناء خواں ہیں تو اُن پر ہم عبداﷲ بن محریز کی وجہ سے فخر کرتے ہیں۔’’اِس سال محمود بن لبید بن عقبہ انصاری اشہلی کا انتقال ہوا ۔ یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے احادیث بھی روایت کی ہے لیکن ان کا حکم ارسال ہے ۔ امام بخاری نے کہا ہے اِن کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے ۔ امام ابن عبدالبر نے کہا ہے آپ محمود بن ربیع سے اچھے ہیں۔ امام ذہبی نے ‘‘الاعلام’’ میں لکھا اِن کا انتقال اِسی سال ہوا۔ اِس سال نافع بن جبیر بن مطعم کا انتقال ہوا ۔ آپ قریشی ہیں اور مدینۂ منورہ میں پیدا ہوئے ۔آپ نے اپنے والد ِ محترم ،حضرت عثمان غنی ، حضرت علی المرتضیٰ ، حضرت ابو ہریرہ اور اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایات بیان کی ہیں اور اِن سے بہت سے تابعین نے روایات بیان کی ہیں۔ یہ ثقہ ہیں اور اکثر پیدل حج کرتے تھے ۔ اِس سال کریب بن مسلم کا انتقال ہوا ۔ یہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہ کے غلام تھے ۔انہوں نے متعدد صحابۂ کرام سے روایات بیان کی ہیں ۔اِن کے پاس کتابوں کا ذخیرہ تھا ۔ کارہائے دیانت میں مشہور تھے اور ثقہ لوگوں میں سے ہیں۔ اِس سال محمد بن جبیر بن مطعم کا بھی انتقال ہوا ۔ یہ قریش کے اشراف اور علماء میں شمار ہوتے تھے اور اِن کی بھی بہت سی روایات ہیں۔ اِن کا انتقال مدینۂ منورہ میں ترانوے (93) سال کی عُمر میں ہوا۔ اِس سال مسلم بن یسار کا انتقال ہوا ۔یہ ابو عبداﷲ بصری ہیں ۔بڑے عالم و زاہد تھے اور انہوں نے بہت سی روایت بیان کی ہیں۔اِن کے زمانے میں کے علماء میں یہ سب سے افضل تھے ۔اِس سال حنش بن عمور تابعی کا انتقال ہوا ۔ یہ افریقہ اور بلاد ِ مغرب کے حکمراں تھے اور افریقہ میں ہی غازی کی حیثیت سے یعنی جنگ کے دوران انتقال ہوگیا ۔انہوں نے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں۔اِس سال خارجہ بن زید انصاری کا انتقال ہوا ۔ یہ ابن ضحاک انصاری مدنی ہیں اور فقیہ ہیں۔ یہ مدینۂ منورہ کے مفتی تھے اور مدینۂ منورہ کے مرعددد فقہاء میں شمار ہوتے تھے ۔ ‘‘علم الفرائیض’’ کا بہت اچھا علم رکھتے تھے اور ‘‘تقسیم الوراثت’’ میں مہارت رکھتے تھے ۔
100 ھجری : خوارج کی شورش
اِس سال 100 ھجری میں خوارج نے ایک بار پھر سر شورش برپا کی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال میں ملک عراق میں خارجیوں نے پھرسر اُٹھایا ۔ جب اِس شورش کی اطلاع امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو ہوئی تو انہوں نے کوفہ کے گورنر عبدالحمید بن عبدالرحمن کو لکھا :‘‘ تم خارجیوں کو کتاب اﷲ اور سنت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر کاربند ہونے کی دعوت دو۔ عبدالحمید بن عبدالرحمن نے اِس حکم کی تعمیل کی اور پھر خوارج کے مقابلے پر ایک فوج روانہ کی جسے خارجیوں نے شکست دی ۔ جب امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو اِس کی خبر ہوئی آپ نے ملک شام کی ایک فوج مقام ‘‘رقہ’’ سے تیا رکر کے مسلمہ بن عبدالملک کی قیادت میں خوارج کے مقابلے کے لئے روانہ کی اور عبدالحمید بن عبدالرحمن کو لکھا: ‘‘ مجھے تمہاری فوج کی درگت کی خبر معلوم ہوچکی ہے ۔ اب میں مسلمہ بن عبدالملک کو بھیج رہا ہوں ۔ ’’ جس خارجی نے اُس زمانے میں شورش برپا کی تھی وہ ‘‘شوذب’’ تھا اور اُس کا نام ‘‘بسطام یشکری’’ تھا ۔ سب سے پہلے مقام ‘‘جوخی’’ میں اُس نے اسی (80) شہسواروں کے ساتھ بغاوت کی تھی ۔ یہ شہسوار زیادہ تر قبیلہ بنو ربیعہ کے تھے ۔
یزید بن مہلب قید میں
اِس سال حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے یزید بن مہلب کو قید میں ڈال دیا۔یزید بن مہلب بہت فضول خرچی کر رہا تھا اورپچھلے حکمراں سلیمان بن عبدالملک کو اُس نے ‘‘فتح جرجان’’ سے ملنے والا مال غنیمت کا خمس ادا نہیں کیا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید بن مہلب خراسان سے واسط آیا اور وہاں سے بصرہ جانے کے لئے اپنے اہل و عیال کے ساتھ کشتیوں پر سوار ہو رہا تھا کہ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے بصرہ کے گورنر عدی بن ارطاۃ کو اُس کی گرفتاری کا حکم دیا اور اُس نے موسیٰ بن وجیہ کو روانہ کیا ۔ اُسنے یزید بن مہلب کو ‘‘نہر معقل’’ میں بصرہ کے پل کے پاس جا لیا اور گرفتار کر کے بیڑیاں پہنا دیں ۔ عدی بن ارطاۃ نے اُسے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے پاس ملک شام بھیج دیا ۔ امیرالمومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کا خیال تھا کہ یزید بن مہلب اور اُس کے خاندان کے لوگ ظالم اور استبدادی ہیں ۔انہوں نے یزید بن مہلب سے کہا: ‘‘ وہ رقم ادا کرو جو تم نے سلیمان بن عبدالملک کو لکھی تھی۔’’ یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ آپ کو خود معلوم ہے کہ مجھے سلیمان بن عبد الملک کی خوشنودی حاصل کرنا تھی اِسی لئے میں نے صرف لوگوں کو جتانے کے لئے اُس رقم کا ظہار کر دیا تھا ۔ ’’ امیر المومنین نے کہا: ‘‘ مجھے تمہارے معاملے میں اِس کے سوا کوئی راستہ نظر نہیں آتا کہ میں تمہیں قید کر دوں۔ جو رقم تم نے کہی ہے وہ ادا کردو کیونکہ یہ مسلمانوں کا حق ہے اور میں اسے کسی بھی طرح نہیں چھوڑ سکتا ہوں ۔’’ اِس کے بعد آپ نے یزید بن مہلب کو قید خانے میں بھیج دیا ۔
یزید بن مہلب سے ذاتی پُرخاش نہیں تھی
امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی یزید بن مہلب کو حق کی خاطر گرفتار کیا تھا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو یزید بن مہلب سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی لیکن آپ اُس کے ظلم و تعدی سے بیزار تھے اور اُس کو اور اُس کے اہل خاندان کو ظالم و جابر فرمایا کرتے تھے ۔ جب آپ نے یزید بن مہلب سے فتح جرجان کے مال غنیمت کاخمس طلب کیا جس کی اطلاع اُس نے سلیمان بن عبدالملک کو دی تھی تو یزید بن مہلب نے بلا تامل کہہ دیا :‘‘ میں نے تو لوگوں کو سنانے کی غرض سے لکھا تھا اور میں یہ جانتا تھا کہ اس مال کو سلیمان بن عبدالملک مجھ سے نہیں لے گا ۔’’حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے فرمایا: ‘‘ اﷲ سے ڈر! یہ مسلمانوں کا حق ہے اور میری مجال نہیں کہ میں اِسے نظر انداز کر دوں۔ پھر وہ مطلوبہ مال ادا نہیں کر سکا تو آپ نے ‘‘قلعہ حلب’’ میں اُسے قید کردیا۔
ختل سے صلح
اِس سال امیرالمومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے نئے اسلام قبول کرنے والوں پر جزیہ کی معافی کا اعلان کر دیا اور اِس کی ایک وجہ ختل سے صلح بنی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جرجان سے روانہ ہوتے وقت یزید بن مہلب نے جہم بن زحر کو جرجان کا گورنر مقرر کیا تھا ۔ مگر جب یزید بن مہلب کو گرفتا رکر کے امیر المومنین کے پاس بھیج دیا گیا تو ملک عراق کے گورنر نے اپنی جانب سے ایک دوسرے شخص کو جرجان کا گورنر بنا کر روانہ کیا ۔ جب وہ جہم بن زحر کے پاس آیا تو اُس نے اُسے قید کر لیا اور خراسان کی طرف روانہ ہوا تو اہل جرجان نے نئے گورنر کو آزاد کر دیا ۔ جہم بن زحر نے جراح بن عبداﷲ کے پاس آکر تمام واقعہ بتایا تو وہ اُس پر برہم ہو گیا اور بولا: ‘‘ اگر تم میرے چچا زاد بھائی نہیں ہوتے تو میں کبھی تمہاری اِس حرکت کو گوارا نہیں کرتا ۔’’ جہم بن زحر نے کہا: ‘‘ اگر تم سے میری رشتہ داری نہیں ہوتی تو میں کبھی تمہارے پاس نہیں آتا ۔’’ جراح بن عبداﷲ نے کہا: ‘‘ تم نے اپنے امام کی مخالفت کی ہے اور سرکش ہو گئے ہو ۔ اب اِس کے سوائے کوئی چارہ نہیں ہے کہ تم جہاد پر جاؤ ،شاید تم فتح حاصل کر لو اور اِس طرح امیر المومنین کے پاس تمہاری بات بن جائے ۔ ’’ اِس کے بعد جراح بن عبداﷲ نے جہم بن زحر کو فوج دیکر بادشاہ ختل سے جنگ کرنے کے لئے روانہ کردیا ۔ جہم بن زحر سے بادشاہ ختل نے صلح کر لی اور بہت سا مال غنیمت اور خراج دیا ۔ جراح بن عبداﷲ نے مال غنیمت کے خمس کے ساتھ تین آدمیوں کو امیر المومنین کے پاس بھیجا ۔
نو مسلموں سے جزیہ وصول کرنے کی ممانعت
خراسان کا وفد مال غنیمت کا خمس لیکر امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : خراسان کا وفد امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ یہ تین شخص تھے پہلے دو عربوں نے گفتگو کی اور تیسرا شخص بیٹھا رہا ۔ اِس پر امیر المومنین نے پوچھا :‘‘ کیا تم اِس وفد کے رکن نہیں ہو؟ ’’ اُس نے کہا: ‘‘ جی ہاں میں بھی اِس وفد کا رکن ہوں۔’’ امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے فرمایا: ‘‘ پھر تم خاموش کیوں ہو؟’’ اُس نے کہا: ‘‘ امیر المومنین! خیال کرنے کی بات یہ ہے کہ بیس ہزار مجاہدین بغیر تنخواہ اور بغیر روزینہ کے جہاد کر رہے ہیں اور اِسی قدر ذمی اسلام قبول کر چکے ہیں مگر پھر بھی اُسی سابقہ مقدار کے مطابق اُن سے جزیہ لیا جا رہا ہے ۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ ہمارے گورنر صاحب سخت متعصب اور ظالم ہیں ۔ ہمارے ہی ملک میں بر سر منبر کہتے ہیں کہ جب میں آیا تھا تو بہت ہی رحمدل تھا مگر اب سخت گیر ہوں اور اﷲ کی قسم! میری قوم کا ایک فرد تمہارے سو آدمیوں سے زیادہ میرے نزدیک وقیع ہے ۔ اُس کے ظلم و تکبر کا یہ حال ہے کہ اُس کی قمیص کی آستین ہمیشہ بازو تک چڑھی رہتی ہے ۔ یہ بھی ظلم میں حجاج بن یوسف سے کم نہیں بلکہ اُس کا جانشین ہے ۔’’ امیر المومنین نے یہ سن کر فرمایا: ‘‘واقعی تم جیسے آدمی کو ضرور وفد میں آنا چاہیئے تھا ۔’’ اِس کے بعد جراح بن عبداﷲ کو حکم دیا :‘‘ دیکھو جو شخص تمہارے سامنے تمہارے قبلہ کی طرف نماز پڑھے اُس سے جزیہ نہیں لینا ۔’’ اِس حکم کے پہنچتے ہی لوگ خراسان میں دھڑا دھڑ مسلمان ہونے لگے ۔ یہ حالت دیکھ کر جراح بن عبداﷲ سے کسی نے کہا: ‘‘ یہ لوگ اسلام کی خوبیوں کی وجہ سے مسلمان نہیں ہورہے ہیں بلکہ جزیہ سے بچنے کے لئے اسلام قبول کر رہے ہیں۔ ذرا ختنہ کرنے کا حکم دے کر اِن کا امتحان تو کیجیئے۔’’ جراح بن عبداﷲ نے اِس معاملہ کو امیر المومنین کے پاس بھیجا تو انہوں نے جواب میں لکھا: ‘‘ اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو اﷲ تعالیٰ نے ‘‘داعی’’ بنا کر مبعوث کیا تھا ۔ختنہ کرنے والا مقرر نہیں کیا تھا ۔’’
عبدالرحمن بن نعیم خراسان کا گورنر
خراسان کے وفد سے ملاقات کے بعد امیر المومنین حضرت عُمر بن عبد العزیز کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہاں حالات کچھ ٹھیک نہیں ہیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین نے اپنے درباریوں سے پوچھا : ‘‘ کوئی ایسا صادق القول شخص بتاؤ ! جس سے میں خراسان کی اصل حالت دریافت کر سکوں ۔’’ لوگوں نے عرض کیا: ‘‘ ابی مجلز سے بڑھ کر اور کون ہو سکتا ہے ۔’’ امیر المومنین نے جراح بن عبداﷲ کو لکھا: ‘‘ تم یہاں اور ابو مجلز کو بھی ساتھ لیکر آؤ۔’’ جراح بن عبداﷲ نے عبدالرحمن بن نعیم غامدی کو خراسان کا سپہ سالار مقرر کیا اور عبیداﷲ بن حبیب کو مال گذاری کا افسر اعلیٰ مقرر کیا اور روانگی سے پہلے اہل خراسان کے سامنے تقریر کی : ‘‘ اے اہل خراسان! میں اپنے اِنہی کپڑوں میں جو میرے بدن پر ہیں اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر یہاں آیا تھا ۔ میں نے تمہارے روپیہ سے صرف اپنی تلوار کے قبضہ کو مرصع کیا ہے ۔’’ اِس کے بعد امیر المومنین کے پاس روانہ ہوا تو واقعی اُس کے پاس بند کے کپڑے اور ایک گھوڑے اور ایک مادہ خچر کے علاوہ کچھ نہیں تھا اور وہ دونوں بھی بوڑھے ہو چکے تھے ۔ جب وہ امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی خدمت میں حاضر ہو اتو آپ نے پوچھا: ‘‘ تم خراسان سے کب روانہ ہوئے تھے ؟’’ جراح بن عبداﷲ نے کہا: ‘‘ ماہ رمضان المبارک میں ۔’’ یہ جواب سن کر امیر المومنین نے فرمایا: ‘‘ اِس سے ثابت ہوا کہ تمہارے ظلم و جور کی روایت بالکل درست ہے ۔ تم سے یہ بھی نہ ہو سکا کہ ماہ رمضان المبارک میں وہیں قیام کرتے اور ماہ صیام گزر جانے کے بعد آتے ۔’’ خود جراح بن عبداﷲ کہا کرتا تھا :‘‘ میں ضرور بڑا سخت خود رائے اور سخت سزا دینے والا ہوں۔’’ اِس کے بعد حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے جراح بن عبداﷲ کو معزول کر دیا اور عبدالرحمن بن نعیم کو خراسان کا گورنر بنا دیا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے جراح بن عبداﷲ کو صرف اِس لئے معزول کر دیا تھا کہ وہ نئے اسلام قبول کرنے والوں سے بھی جزیہ وصول کرتا تھا اور یہ عذر کرتا تھا کہ وہ جزیہ کے ڈر سے مسلمان ہوئے ہیں ۔ اُس کے اِس عمل سے نئے اسلام قبول کرنے والے واپس کافر ہوجاتے تھے اور جزیہ دیتے تھے ۔
اہل خراسان کے نام خط
امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے ایک خط عبد الرحمن بن نعیم کے نام لکھا اور دوسرا خط اہل خرسان کے نام لکھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے باشندگان خراسان کے نام ایک خط لکھا :‘‘ میں نے عبدالرحمن بن نعیم کو تمہارا فوجی گورنر مقرر کیا ہے اور عبداﷲ الرحمن بن عبداﷲ کو مال گذاری کا افسر ِ اعلیٰ مقرر کیا ہے ۔ میں نے خود اُن کا انتخاب نہیں کیا ہے اور میں اُن دونوں سے ذاتی طور پر واقف بھی نہیں ہوں بلکہ لوگوں نے مجھے اُن دونوں کے حالات کے بارے میں بتایا ۔ پس اگر یہ دونوں آپ لوگوں کی مرضی کے مطابق کام کریں تو اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اگر یہ ایسے ثابت نہ ہوں تو آپ اﷲ سے مدد کے طالب ہوں کونکہ تمام طاقت اور قدرت صرف اُسی کو حاصل ہے ۔’’ امیر المومنین نے عبدالرحمن بن نعیم کو خط لکھا: ‘‘ تم اﷲ کی مخلوق کے خیر خواہ رہنا اور اﷲ کے راستہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے متاثر نہیں ہونا ۔ کیونکہ انسانوں کے مقابلے میں اﷲ تعالیٰ اِس بات کا زیادہ مستحق ہے اور اُس کا حق اور بھی زیادہ ہے کہ اُس سے ڈرا جائے ۔ ہمیشہ مسلمانوں کو نیک کام کی ہدایت کرتے رہنا اور شفقت کرنا ۔ جو امانت تمہارے سپرد کی جائے اُسے پورا کرنا اور یہ سمجھ لو کہ کوئی بات ایسی نہیں ہے جو اﷲ تعالیٰ سے پوشیدہ رہ سکے ۔ اُس سے بچ کر تم کہیں بھی نہیں جا سکتے کیونکہ آخر کار اُسی کے پاس جانا ہے ۔’’
غیر مسلم عوام کے متعلق ہدایات
امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز پوری مملکت اسلامیہ میں غیر مسلموں کے حقو ق کا بھی پورا خیال رکھتے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین نے عبدالرحمن بن نعیم کو لکھا: ‘‘ کسی ایسے گرجا گھر یا یہودیوں کی خانقاہ یا مجوسیوں کے آتشکدہ کومنہدم نہیں کرنا جس کے قائم رکھے جانے کا صلح کے عہد نامے میں وعدہ کیا گیا ہو مگر اِس کے ساتھ ہی نئی عبادت گاہیں اور خانقاہیں بنانے کی اجازت بھی نہیں دینا ۔ اِسی طرح بکریاں آگے سے کھینچ کر مذبح کو نہ لے جائی جائیں اِس کی بھی ممانعت کر دو کہ کوئی شخص ذبح ہونے والے جانور کے سامنے چھری تیز نہ کرے اور بغیر کسی شرعی عذر کے دو وقت کی نماز ایک وقت میں ادا نہیں کرنا ۔’’
علاقہ ماورالنہر کے مسلمانوں کا واپسی سے انکار
امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے ماورالنہر کے مسلمانوں کی واپسی کا حکم دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: امیرالمومنین نے عبدالرحمن بن نعیم کو لکھا: ‘‘ علاقہ ماورالنہر میں جتنے مسلمان ہیں انہیں مع اہل و عیال کے واپس لے آؤ۔’’ مگر مسلمانوں نے واپس آنے سے انکار کر دیا اور کہا : ‘‘ مرو (خراسان کا دارلحکومت)ہماری ضروریات کو پورا نہیں کرسکتا۔’’ عبدالرحمن بن نعیم نے امیر المومنین کو اِس کی اطلاع دی ۔ اِس کے جواب میں امیرالمومنین نے لکھا: ‘‘ اﷲ تعالیٰ نے مجھ پر جو فرض کیا ہے میں نے اُسے پورا کیا لیکن پھر بھی عبدالرحمن! تم اب مسلمانوں کو لیکر جہاد کے لئے اور آگے نہیں جاناکیونکہ جس قدر علاقہ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے یہی ہمارے لئے کافی ہے ۔’’
خراسان کے افسر خزانہ کے نام فرمان
امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی نظر حکومت کے ہر شعبے پر بہت گہری رہتی تھی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین نے عقبہ بن زرعہ طائی کو جسے آپ نے قشیری کے بعد خراسان کا مال گذاری کا افسر اعلیٰ مقرر کیا تھا لکھا: ‘‘ حکومت کے یہ چار رکن ہیں جن کے بغیر ‘‘سلطنت’’ کی عمارت نہیں ٹھہر سکتی ۔(۱) گورنر، (۲) قاضی، ( ۳) افسر خزانہ ( خزانچی) اور چوتھا خود میں ۔یہ بھی سمجھ لو کہ مملکت اسلامیہ کے تما م سرحدی صوبہ جات میں میرے خیال میں سب سے زیادہ اہم خراسان کا صوبہ ہے ۔ تم خراج کو پوری طرح وصول کرو اور کسی شخص کے حق کو غصب کئے بغیر اس کی حفاظت کرنے اور وہاں کا خراج فوجی اور ملکی اخراجات کے لئے کافی ہو تو ٹھیک ہے ورنہ مجھے لکھو تاکہ میں مزید روپیہ بھیج دوں اور اُس سے مسلمانوں کی تنخواہوں میں اضافہ کر دو۔ ’’جب عقبہ بن زرعہ طائی نے دیکھا کہ خراسان کی آمدنی خرچ سے زیادہ ہے اور امیرالمومنین کو اِس کی اطلاع دی تو انہوں نے جواباً لکھا : ‘‘ زائد روپیہ حاجت مندوں میں تقسیم کردو ۔’’
خاندان بنو عباس کی تحریک کی ابتداء
اِس سال 100 ھجری میں خاندان بنو عباس کی تحریک کی ابتداء ہوئی ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال دعوت بنو عباس کا آغاز ہوا اور اِس کی ابتداء اِس طرح ہوئی کہ حضرت عبداﷲ بن عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کا پوتا محمد بن علی بن عبداﷲ بن عباس بن عبدالمطلب نے جب وہ اُس سر زمین میں مقیم تھا جو اُس نے خرید لی تھی ،اپنی طرف سے ایک شخص جس کا نام میسرہ تھا ملک عراق بھیجا اور اسی دوران دوسرا گروہ خراسان بھیجا جہاں جراح بن عبداﷲ معزول ہونے سے پہلے گورنر تھا ۔ اُن لوگون کو محمد بن علی نے اپنے پاس آنے اور اہل بیت سے ملاقات کرنے کی دعوت دی ۔ اِسی لئے ملک عراق اور خراسان سے کچھ آدمی اُس سے آکر ملے جن سے مل کر وہ بے حد خوش ہوا اور اُن لوگوں کو اپنا ہمراز بنا لیا ۔ یہ گویا ‘‘بنو عباس’’ کی حکومت کی داغ بیل پڑنے کی ابتداء تھی ۔بنو عباس کی حکومت کی ابتدائی کامیابی کے آثار محمد بن علی کو اِس لئے خصوصیت سے نظر آنے لگے کہ حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے انتقال کے بعد ‘‘بنو اُمیہ’’ کی حکومت میں اضمحلال اور انحطاط کے آثار پیدا ہونے لگے تھے جس کا ذکر ہم آگے چل کر انشاء اﷲ بیان کریں گے ۔اِس موقع پر ابو عکرمہ سراج کے باپ ابو محمد صادق نے موقع غنیمت جان کر محمد بن علی بن عبداﷲ بن عباس بن عبدالمطلب کے بارہ نقیب بھی مقرر کر دیئے جن کے نام یہ ہیں۔سلیمان بن کثیر خزاعی ، اہنر بن قریظ تمیمی، قحطبہ بن شبیب طائی، موسیٰ بن کعب تمیمی، خالد بن ابراہیم، ابو داؤد بن عمرو بن شیبان بن ذہل ، قاسم بن مجاشع تمیمی ، عمران بن اسماعیل ابو النجم مویٰ لال ابی مغیط ، مالک بن ہیشم خزاعی ، طلحہ بن زریق خزاعی ، عمرو بن اعین ابو ہنرہ فزاعہ کا غلام ، شبل بن طہان ابو علی ہروی بنو حنیفہ کا غلام اور عیسیٰ بن اعین فزاعہ کا غلام اُس نے مزید ستر آدمی اس کے لئے بھرتی کر لئے اور ان سب کی بابت محمد بن علی کو لکھ کر مطلع کر دیا اور اُن کے کردار و سیرت اور جذبہٌ قربانی کا تذکرہ کیا ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں