اتوار، 9 جون، 2024

52 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya 52



52 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 52

حضرت عُمر بن عبدالعزیز کا دورِ حکومت، 


حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی پریشانی، حکمراں بننے کے پہلا خطبہ، خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی اتباع، پہلا حکم اپنے آپ کواورگھر والوں کو، مملکت اسلامیہ میں پہلا فرمان، عبدالعزیز بن ولید کی اطاعت، خاندان اُمیہ کے مال کی ضبطی، یزید بن مہلب کے نام فرمان، مسلمہ بن عبدالملک کی واپسی، سندھ کے راجاؤں کا قبول اسلام، باغ فدک ‘‘بیت المال’’ میں جمع، مملکت اسلامیہ کے گورنروں کے نام فرمان، امیر المومنین کی خدمت میں اہل سمرقند کا وفد، اہل سغد مسلمانوں کے ساتھ


حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی پریشانی


جب حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کو یہ معلوم ہوا کہ سلیمان بن عبدالملک نے حکومت کا بوجھ اُن کے کاندھوں پر ڈال دیا ہے تو آپ رحمتہ اﷲ علیہ پریشان ہو گئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : رجا بن حیواۃ آگے کہتے ہیں : پھر میں سلیمان بن عبدالملک کے پاس آیا تو دیکھا کہ اُس کا دم واپسیں تھا ۔ جب اُس پر سکرات طاری ہوئی تو میں نے قبلہ رُخ کروٹ کر دیا ۔ جب آنکھ کھولی تو کہا: ‘‘ رجا! ابھی وقت نہیں آیا ہے ۔’’میں دو مرتبہ ایسا کیا مگر تیسری مرتبہ سلیمان بن عبدالملک نے کہا : ‘‘ ہاں! اب میرا دم واپسیں ہے۔لو اب میں تمہارے سامنے پڑھتا ہوں:‘‘ اشھد ان لا الہ الا اﷲ واشھد ان محمد عبدہ و رسولہ۔’’ اِس کے بعد اِدھر میں اُس کو قبلہ رُخ کیا اور اُدھر اُس نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ میں اُس کی دونوں آنکھیں بند کر دیں اور ایک سبز چادر اُڑھا دی اور دروازہ بند کر دیا ۔اُس کی بیوی نے خیریت دریافت کرائی تو میں نے کہہ دیا کہ سو رہے ہیں ۔ میں نے دروازے پر اپنے معتمد خاص کو بٹھایا اور کہا: ‘‘ جب تک میں نہ آجاؤں تب تک کسی کو اندر نہیں جانے دینا۔’’ اِس کے بعد میں نے سلیمان بن عبدالملک کے محافظ دستے کے افسر کعب بن حامد عبسی کو بلایا اور اُس نے سب کو وابق کی مسجد میں جمع کر دیا ۔ میں نے سب کو سر بہمُہر فرمان دکھایا اور کہا: ‘‘ اِس شخص کے لئے آپ سب بیعت کریں۔’’ جب سب نے بیعت کر لی اور معاملہ پختہ ہو گیا تو میں نے سلیمان بن عبدالملک کی موت کا اعلان کر دیا ۔ سب نے خبر سن کر انا ﷲ وانا الیہ راجعون پڑھا ۔ پھر میں نے سب کے سامنے اُس فرمان کی سیل توڑی اور کھول کر پڑھنے لگا۔ جب میں حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے نام پر پہنچا تو ہشام بن عبدالملک نے چلا کر کہا :‘‘ میں ہرگز اس کے ہاتھ پر بیعت نہیں کروں گا ۔’’ میں نے ڈانٹا اور کہا: ‘‘ میں تمہاری گردن مار دوں گا ، کھڑے ہوجاؤ اور بیعت کرو ۔’’ ہشام بن عبدالملک لڑکھڑاتے ہوئے اُٹھا اور بیعت کی ۔حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کا یہ حال تھا کہ حکومت کے بوجھ کی شدت کا احساس کر کے دم بخود بیٹھے تھے ۔میں نے اُن کو دونوں بازوؤں سے پکڑ کر منبر پر بٹھا دیا ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ اِس ‘‘بار ِ گراں’’ کی ذمہ داریوں کے خیال سے انا ﷲ وانا الیہ راجعون پڑھتے جارہے تھے اور ہشام بن عبدالملک اپنی ناکامی پر۔ اِسی لئے جب ہشام بن عبدالملک بیعت کرنے کے لئے اُن کے پاس پہنچا تو حضرت عُمر بن عبدالعزیز اِس بات پر اظہار افسوس کر رہے تھے کہ اپنی مرضی کے خلاف میں اِس مصیبت میں گرفتار ہو گیا ہوں اور ہشام بن عبدالملک اپنی ناکامی پر اظہار افسوس کر رہا تھا ۔


حکمراں بننے کے پہلا خطبہ


حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ پر‘‘ سلطنت اُمیہ’’ کی ذمہ داری ڈال دی گئی تو آپ بہت زیادہ فکرمند ہوگئے ۔ امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں : عمر بن ذر کہتے ہیں کہ جب حضرت عُمر بن عبدالعزیز ، سلیمان بن عبدالملک کو دفن کر کے واپس آئے تو آپ کے غلام نے کہا: ‘‘ آپ آج اتنے رنجیدہ اور فکر مند کیوں ہیں ؟’’ آپ نے فرمایا: ‘‘ آج اگر اِس دنیا میں کوئی رنجیدہ اور فکر مند ہو سکتا ہے تو وہ میں ہوں ۔میں چاہتا ہوں کہ اِس سے پہلے کہ کوئی حقدار مجھ سے اپنا حق مانگے ،میں اُس سے پہلے ہی اُسے پہنچا دوں۔’’ عمر بن مہاجر سے روایت ہے کہ مملکت اسلامیہ کے حکمراں بننے کے بعد حضرت عُمر بن عبدالعزیز لوگوں کے سامنے کھڑے ہوئے اور اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر دورد و سلام کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا: ‘‘ اے لوگو! اﷲ کی کتاب (قرآن پاک) کے بعد کوئی کتاب نہیں آئے گی اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد دنیا میں کوئی نبی نہیں آئے گا۔تمہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ میں لوگوں پر احکام فرض کرنے والا نہیں ہوں بلکہ اُن کا نفاذ کرنے والا ہوں۔ اِسی طرح میں کسی امر کا مؤجد نہیں ہوں بلکہ اپنے اسلاف (خلفائے راشدین )کا متبیع اور پیروی کرنے والاہوں میْں تم میں سے کسی سے افضل نہیں ہوں اور نہ ہی تم سے بہتر ہوں ۔ہاں مجھ پر بوجھ تم سے زیادہ آن پڑا ہے ۔ اگر کوئی شخص ظالم امام سے فرار اختیار کرے تو وہ شخص ظالم نہیں ہے اِس لئے اطاعت خالق کی ہے اور مخلوق کی اطاعت نہیں ہے ۔"


خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی اتباع


حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ اپنی حکومت کے ہر کام میں خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی اتباع کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں: امام زہری فرماتے ہیں :‘‘ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے سالم بن عبداﷲ کے نام ایک خط لکھا اور اُس خط میں اُنہوں نے دریافت کیا کہ خلیفۂ دُوم حضرت عِمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا صدقات کے بارے میں کیا طریقہ تھا ۔سالم بن عبداﷲ نے سوال کے مطابق جواب لکھ کر بھیجا اور آگے یہ بھی لکھا :‘‘ امیرالمومنین! اگر آپ نے لوگوں کے ساتھ وہی عمل اور برتاؤ کیا جو خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کرتے تھے تو انشاء اﷲ آپ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے زیادہ اجر کے مستحق ہوں گے ۔’’ 


پہلا حکم اپنے آپ کواورگھر والوں کو


حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے حکمراں بنتے ہی سب سے پہلا حکم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دیا اور شروعات اپنی بیوی سے کی ۔ آپ کی بیوی شہزادی تھی اور عبدالملک بن مروان کی بیٹی تھی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : تکمیل بیعت کے بعد حضرت عُمر بن عبدالعزیز اپنے گھر آئے اور اپنی بیوی فاطمہ بنت عبدالملک سے فرمایا: ‘‘ تمام مال و اسباب ، زیور ، جواہر اور قیمتی کپڑے جو تمہارے ہوں وہ سب بیت المال میں بھیج دو ۔ میں اور یہ( یعنی مسلمانوں کا مال) ایک مکان میں نہیں رہ سکتے ۔’’ آپ کی بیوی فاطمہ بنت عبدالملک نے نہایت خوشی سے اِس حکم کی تعمیل کی ۔ پس جب اُس کا بھائی یزید بن عبدالملک حکمراں بنا تو اُس نے بیت المال سے بہن کا مال و اسباب جس کو حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے جمع کرا دیا تھا واپس کیا لیکن انہوں نے لینے سے انکار کر دیا اور فرمایا: ‘‘ جب میں اُن کی زندگی میں اُن کی اطاعت کرتی تھی تو اُن کے انتقال کے بعد بھی کروں اُن کی اطاعت کروں گی ۔’’ یزید نے اُس مال کو اپنے اہل و عیال کو دے دیا ۔


مملکت اسلامیہ میں پہلا فرمان


حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے حکمراں بننے کے بعد پوری مملکت اسلامیہ میں ا پنا پہلا فرمان بھیجا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : رجا بن حیواۃ آگے بیان کرتے ہیں : پھر سلیمان بن عبدالملک کو غسل دیا گیا ،کفنایا گیا اور حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے نماز جنازہ پڑھائی ۔سلیمان بن عبدالملک کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہونے کے بعد اُسکی سواری کے تمام جانور سائیس کے ساتھ آپ کے سامنے پیش کئے گئے ۔انہوں نے پوچھا: ‘‘ یہ کیا ہے؟’’ کہا گیا :‘‘ یہ مملکت اسلامیہ کے حکمراں کی سواریاں ہیں۔ ’’ حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا: ‘‘ میرا ایک گھوڑا ہی میری سواری کےلئے کافی ہے ۔’’ یہ فرما کر آپ اپنے ہی گھوڑے پر سوار ہوئے اور تمام جانوروں کو واپس کر دیا ۔ اِس کے بعد لوگوں نے کہا :‘‘ اُسی مکان میں چلیئے جہاں سابق حکمراں رہتے تھے ۔آپ نے فرمایا: ‘‘ اس میں ایوب بن سلیمان کے اہل و عیال ہیں ۔میرے لئے میرا خیمہ ہی کافی ہے ۔’’ شام کے وقت مجھ سے فرمایا: ‘‘ منشی کو بلواؤ۔’’ سواری کے جانوروں کے بارے جو طرز عمل آپ نے اختیار کیا تھا اُس سے مجھے بہت خوشی ہوئی تھی ۔ میں نے دل میں کہا: ‘‘ دیکھیں اب کیا کرتے ہیں؟ سب کے نام ایک ہی خط لکھواتے ہیں یا پھر الگ الگ لکھواتے ہیں۔’’ جب منشی سامنے آیا تو اپنے منہ سے بول کر ایک خط جو نہایت ہی جامع و مانع اور بلیغ تھا لکھوایا اور فرمایا :‘‘ اِس کا ایک ایک نسخہ تمام شہروں کو بھیج دیا جائے ۔ ’’


عبدالعزیز بن ولید کی اطاعت


ولید بن عبدالملک کے بیٹے عبدالعزیز بن ولید کو جب سلیمان بن عبدالملک کے انتقال کی اطلاع ملی تو اُس نے اپنی حکمرانی کا اعلان کیا لیکن جب اُسے معلوم ہوا کہ سلیمان بن عبدالملک اپنا ‘‘جانشین ’’ نامزد کر گیا ہے تو اُس نے اطاعت کر لی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالعزیز بن ولید کو جب سلیمان بن عبدالملک کے مرنے کی اطلاع ملی تو اُسے یہ بات معلوم نہیں تھی کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو حکمراں بنایا گیا ہے اور خود سلیمان بن عبدالملک نے انہیں نامزد کیا ہے تو اُسنے اپنی حکمرانی کا اعلان کر دیا ۔مگر جب اُسے معلوم ہوا کہ تمام لوگ حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کی بیعت کر چکے ہیں تو یہ آپ سے ملنے کے لئے آیا ۔ آپ نے اُس سے فرمایا: ‘‘ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے اپنے حکمراں ہونے کا اعلان کیا ہے اور زبردستی دمشق میں داخل ہونا چاہتے ہو؟’’ عبدالعزیز بن ولید نے کہا: ‘‘ بے شک یہ صحیح ہے! مگر مجھے یہ معلوم ہواتھا کہ سلیمان بن عبدالملک نے کسی کو اپنا ‘‘جانشین’’ نامزد نہیں کیا ہے ۔ اِس بنا پر میں نے سوچا کہ اگر میں اپنی حکمرانی کا اعلان نہیں کروں گا تو ہمارا مال و متاع لوٹ لیا جائے گا۔’’ حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا: ‘‘ خیرکیا ڈر ہے؟ اگر تم بیعت لے لیتے اور حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لیتے تو میں تم سے نہیں جھگڑتا بلکہ خاموش اپنے گھر بیٹھ جاتا۔’’ عبدالعزیز بن ولید نے کہا :‘‘ کاش ! تمہارے سوائے کوئی اور حکمراں نامزد کیا جاتا تو میں اُس سے نپٹ لیتا ۔’’ پھر اُس نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے ہاتھ پر بیعت کر لی ۔ رجا بن حیواۃ کہتے ہیں کہ پہلے ہی سے اِس بات کی توقع تھی کہ سلیمان بن عبدالملک اپنے بیٹوں کو حکومت کے حق سے محروم کر دے گا ۔


خاندان اُمیہ کے مال کی ضبطی


حضرت عُمر بن عبدالعزیز جب مملکت اسلامیہ کے حکمراں بنے تو سب سے پہلے اپنا اور اپنی بیوی کا مال و اسباب ‘‘بیت المال’’ میں جمع کرادیا۔پھر اپنے خاندان ‘‘بنو ا’میہ’’ کا تمام مال و اسباب ‘‘بیت المال’’ میں جمع کرادیا۔امام جلا الدین سیوطی لکھتے ہیں : لیث کا بیان ہے کہ جب حضرت عُمر بن عبدالعزیز مملکت ِ اسلامیہ کے حکمراں بنے تو سب سے پہلے آپ نے اپنے گھر کے لوگوں ،رشتہ داروں اور خاندان کے لوگوں (خاندان ِ اُمیہ) کے مال و سباب کی جانچ پڑتال کی اور اُن کے پاس جو ضرورت سے زیادہ مال و اسباب تھا وہ اُن سے لیکر ‘‘بیت المال’’ میں جمع کرادیا۔ اسماء بن عبید روایت کرتے ہیں کہ عتبہ بن سعید بن عاص اپنی شکایت لیکر حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے پاس آیا اور بولا: ‘‘ اے امیر المومنین! آپ سے پہلے جو بنو اُمیہ کے حکمراں گذرے ہیں وہ ہم کو مال و اسباب سے نوازا کرتے تھے اور آپ نے یہ سلسلہ بند کر دیا اور ہمارے پاس جو مال و اسباب تھا وہ بھی ‘‘بیت المال’’ میں جمع کرادیا ۔ میرے پاس کچھ زمینیں ہیں اگر آپ اجازت دیں تو میں اُس کی آمدنی سے اتنا لے لیا کروں جو میرے اور میری اہل و عیال کے اخراجات کے لئے کافی ہو ۔’’ آپ نے فرمایا :‘‘ اے عتبہ بن سعید! تم اپنی محنت و مشقت سے جو کماؤ وہ تمہارا ہے ۔تم موت کو زیادہ یاد کیا کرو تاکہ اگر تم تنگدست ہو تو اُس میں وسعت پیدا کرو اور اگر تم کو وسعت و فراغی میسر ہے تو تم تنگی محسوس کرو۔’’ 


یزید بن مہلب کے نام فرمان


حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے سب سے پہلا فرمان ملک عراق اور خراسان کے گورنر یزید بن مہلب کے لکھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے حکومت سنبھالتے ہی یزید بن مہلب کو یہ خط لکھا: ‘‘ حمد وثناء کے بعد! سلیمان بن عبدالملک بھی اﷲ کے بندوں میں سے ایک بندہ تھے اور اﷲ نے اپنا انعام اُن پر فرمایا اور پھر اُسے واپس لے لیا ۔انہوں نے مجھے اور میرے بعد یزید بن عبدالملک کو اپنا ‘‘جانشین’’ بنایا ہے ۔ جس اہم خدمت کا بوجھ اﷲ تعالیٰ نے میرے کندھوں پر ڈال دیا ہے اُس کا اُٹھانا آسان کام نہیں ہے ۔ اِس منصب پر فائز ہونے سے میرا مقصد زر اور زن کا شوق نہیں ہے ۔ اگر یہ ہوتا تو جو اس سے پہلے مجھے میسر تھا وہی اِس قدر ہے کہ روئے زمین پر کسی اور کو میسر نہیں تھا ۔ میں ہر وقت ڈرتا رہتا ہوں کہ جو کام میرے سپرد ہے اُس کا مجھ سے سخت حساب لیا جائے گا اور باز پرس کی جائے گی سوائے اُن کے جو باتیں اﷲ معاف کر دے۔ یہاں کے تمام مسلمانوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے اب تم بیعت کرو۔’’جب یہ خط یزید بن مہلب کو ملا تو اُس نے ابوعینیہ کو دیا اُس نے پڑھ کر کہا: ‘‘ میں اس کے حمایتیوں میں سے نہیں ہوں ۔’’ یزید بن مہلب نے وجہ دریافت کی تو اُس نے کہا:‘‘ یہ تحریر اُس کے خاندان کے پیشروؤں کی سی نہیں ہے ۔ یہ شخص اُن کے طرز عمل پر کاربند نہیں ہونا چاہتا ہے ۔’’ یزید بن مہلب نے خراسان کی عوام سے امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے لئے بیعت لی ۔ اِس کے بعد امیر المومنین نے یزید بن مہلب کو لکھا : ‘‘ خراسان پر کسی شخص کو اپنا نائب مقرر کر کے تم خود میرے پاس آؤ۔’’ یزید بن مہلب نے اپنے بیٹے مخلد کو اپنا قائم مقام بنایا اور خود امیر المومنین کے پاس حاضر ہونے کے لئے روانہ ہو گیا ۔ 


مسلمہ بن عبدالملک کی واپسی


مسلمہ بن عبدالملک مسلسل بلاد ِ روم میں جہا دمیں مصروف تھااور قسطنطنیہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھا ۔ اُسے حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے واپس بلا لیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں:اِس سال ۹۹ ؁ ھجری میں حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے مسلمہ بن عبدالملک کے پاس قاصد بھیجا اور حکم دیا کہ تمام مسلمانوں کو لیکر واپس آجاؤ۔اُن کے لئے عمدہ عمدہ گھوڑے اور بہت سا خوراک کا سامان بھی بھیجا اور لوگوں کو اُن کی امداد کی ترغیب دلائی ۔ اِس سال ترکوں نے آذربائیجان پر حملہ کیا اور مسلمانوں کی ایک جماعت کو لوٹ لیا اور انہیں قتل کر ڈالا ۔ امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے ترکوں کی سرزنش کے لئے ابن حاتم بن نعمان باہلی کا بھیجا ۔ اُس نے ترکوں میں سے اکثر کو قتل کردیا اور بہت تھوڑے سے آذربائیجان چھوڑ کر بھاگ سکے اور پچاس ترک قیدی مقام‘‘ خناضرہ’’ میں حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ کے پاس لائے گئے ۔



سندھ کے راجاؤں کا قبول اسلام


اِس سال 99 ھجری میں امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے سندھ کے راجاؤں کو اسلام کی دعوت دی اور اُنہوں نے اسلام قبول کیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : سلیمان بن عبدالملک نے حبیب بن مہلب کو ملک سندھ ( ہندوستان) کی گورنری کی سند دے کر بھیجا ۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ سندھ کے راجاؤں نے اپنے اپنے ممالک پر پھر سے قبضہ کر لیا تھا اور راجہ حبشہ بن داہر ‘‘برہمتا باد’’ واپس آیا تھا ۔ حبیب بن مہلب نے مہران کے کنارے پر قیام کیا ۔ اہل رود نے حاضر ہو کر اطاعت قبول کر لی اور جو لوگ لڑے اُن کو حبیب بن مہلب نے شکست دی ۔ اِسی دوران سلیمان بن عبدالملک کا انتقال ہو گیا اور حضرت عُمر بن عبدالعزیز مسلمانوں کے امیر المومنین بن گئے ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے سندھ کے راجاؤں کو اسلام کی دعوت دی اور اسلام قبول کرنے پر اُن کا ملک اور جائداد دینے اور مسلمانوں جیسا مساویانہ برتاؤ کرنے کا وعدہ کیا ۔ اِس تحریر کے مطابق راجہ حبشہ بن داہر سمیت سندھ کے راجاؤں نے اسلام قبول کیا اور اپنے غیر اسلامی نام تبدیل کر کے اسلامی عربی نام رکھ لئے ۔


باغ فدک ‘‘بیت المال’’ میں جمع


حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے ‘‘باغ فدک’’ کو بیت المال میں جمع کرادیا ۔ امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں : مغیرہ بن شعبہ سے مروی ہے کہ جب حضرت عُمر بن عبدالعزیز حکمراں بنے تو آپ نے بنو اُمیہ کو جمع کیا اور فرمایا: ‘‘ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس باغ فدک تھا اور اُس کی آمدنی سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم بنو ہاشم کے کمسن بچوں کی پرورش اور بنو ہاشم کی بیواؤں کے نکاح ثانی اور ضرورتوں میں اس کی آمدنی کو خرچ فرمایا کرتے تھے ۔جب سیدہ فاطمہ زہراء رضی اﷲ عنہا نے وہ باغ فدک آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انکار کر دیا ۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہم کے زمانے میں بھی یہی طریقہ جاری رہا لیکن مروان بن حکم نے باغ فدک کو اپنی ملکیت میں لے لیا اور اب وہ ترکہ مجھے ملا ہے ۔ اب میں سوچ رہا ہوں کہ جس چیز کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ زہراء رضی اﷲ عنہ کو دینے سے انکار کر دیا تو اُس کو اپنے قبضہ میں رکھنے کا مجھے کوئی حق نہیں ہے ۔ اِس لئے میں آپ سب کو اِس پر گواہ بناتا ہوں کہ مں نے باغ فدک کو بالکل اُسی حالت میں چھوڑ دیا جس طرح رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے چھوڑا تھا ۔’’ 


مملکت اسلامیہ کے گورنروں کے نام فرمان


امیر المومنین حضرت عِمر بن عبدالعزیز نے مملکت اِسلامیہ کے گورنروں کے نام فرمان لکھا کہ عوام کا ہر طرح سے خیال رکھا جائے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے سلیمان بن ابی سری کو لکھا : ‘‘ تم اپنے ماتحت علاقہ کے تمام شہروں کے لئے ‘‘سرائیں’’ ( مسافر خانے’’ بنواؤ۔جو مسافر تمھارے علاقے سے گذریں تو ایک دن ایک رات اُن کی مہمانداری کرو ۔اُن کے سواری کے جانوروں کی دیکھ بھال کرو ۔اگر کوئی بیمار ہو تو دو دن اور دو راتیں اُسے مہمان رکھو اور اگر اُس کی سواری کا جانور ہلاک ہوجائے اور اس کے پاس روپیہ نہ ہو تو تم اُسے دوسرا خرید کر دو جس سے وہ اپنے شہر پہنچ جائے ۔’’ 


امیر المومنین کی خدمت میں اہل سمرقند کا وفد


امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی خدمت میں اہل سمر قند کا وفد پہنچا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب امیر المومنین کا خط سلیمان بن ابی سری کو ملا تو اہل سمرقند نے کہا: ‘‘ قتیبہ بن مسلم نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا تھا اور ہم پر ظلم کیا تھا اور دھوکہ سے ہمارے شہروں پر قبضہ کیا تھا ۔ اب اﷲ تعالیٰ نے عدل و انصاف کو ظاہر کر دیا ہے ۔ آپ اجازت دیں کہ ہمارا ایک وفد امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی شکایتیں پیش کرے ۔ اگر ہمارا حق ہو گا تو ہمیں مل ہی جائے گا کیونکہ ہمیں اس کی سخت ضرورت ہے ۔’’ سلیمان بن ابی سری نے درخواست منظور کر لی اور اہل سمرقند کا ایک وفد امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اِس وفد سے ملاقات کرنے کے بعد امیر المومنین حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے سلیمان بن ابی سری کو خط لکھا :‘‘ اہل سمرقند کے وفد نے مجھ سے اُن مطالم کی شکایت کی جو قتیبہ بن مسلم نے اُن پر ڈھائے تھے اور یہاں تک کہ انہیں اُن کے علاقے سے باہر نکال دیا تھا ۔ جب تمہیں میرا یہ خط ملے تو فوراً اُن کے فیصلہ کے لئے ایک قاضی مقرر کرو تاکہ وہ اُن کی شکایتیں سنے ۔ اگر وہ حق پر ہوں تو اُن کو اُن کی فوجی قیام گاہ میں چلے جانے کی اجازت دے دینا تاکہ وہی حالت پیدا ہوجائے جو اُن کے اور مسلمانوں کے درمیان قتیبہ بن مسلم کے اُن پر فتح پانے سے پہلے تھی ۔’’ الیمان بن ابی سری نے جمیع بن حاض کو اِس معاملہ کے لئے قاضی مقرر کیا ۔ جمیع نے فیصلہ کیا کہ تمام عرب سمرقند سے نکل جائیں اور اپنے فوجی پڑاؤ میں چلے جائیں اور پھر برابر کا مقابلہ ہو ۔چاہے اِس میں ‘‘تجدید صلح’’ ہو یا بزور شمشیر فتح کیا جائے ۔’’ 


اہل سغد مسلمانوں کے ساتھ


امیر المومنین کے حکم کے مطابق قاضی نے فیصلہ دے دیا لیکن اُسے اہل سغد نے لڑنے سے انکار کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے

 ہیں : مگر اِس فیصلہ پر اہل سغد نے کہا: ‘‘ ہم اپنی موجودہ حالت سے خوش ہیں اور دوبارہ جنگ و جدال میں مشغول نہیں ہونا چاہتے ۔ اِسی لئے فریقین اِس بات کو تسلیم کر لیا ۔ ان میں جو ‘‘اہل الرائے’’ تھے انہوں نے کہا: ‘‘ اب ہم عربوں کے ساتھ رہنے بسنے لگے ہیں اور ایک دوسر سے تعلقات پیدا ہو گئے ہیں ۔انہوں نے ہمیں امان دی ہے اور ہم نے انہیں امان دی ہے ۔ اگر فیصلہ ہمارے موافق دیا گیا تو نتیجہ یہ ہوگا کہ پھر لڑائی ہوگی اور ہمیں معلوم نہیں کہ فتح ہماری ہوگی یا اُن کی ہوگی ؟ مگر بہرحال اگر ہمیں فتح نہیں ہوئی تو اِس طرح ایک نئی عداوت ہم میں اور عربوں شروع ہو جائے گی اور یہ بات دانشمندی کے خلاف ہے ۔’’ اِس لئے انہوں نے اُسی حالت کو برقرا رکھا اور کسی قسم کی لڑائی نہیں کی ۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں