51 سلطنت امیہ
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 51
ا97 ھجری کا اختتام، حضرت حسن بن حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کا انتقال، موسیٰ بن نصیر کا انتقال، قسطنطنیہ پر حملہ کے لئے روانگی، قسطنطنیہ کا محاصرہ، دیلم کی فتح، جرجان کی فتح، ولی عہد’’بدلنے کی کوشش، 98 ھجری کا اختتام ، 98 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 99 ھجری : سلیمان بن عبدالملک کا انتقال، سلیمان بن عبدالملک کا استخارہ، حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی ‘‘جانشینی’’، خاندان ِ بنو اُمیہ سے ‘‘فرمان ِ سلیمان’’ کی بیعت، ہشام بن عبدالملک کی بے چینی
97 ھجری کا اختتام
97 ھجری میں سلیمان بن عبداملک نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : سلیمان بن عبدالملک نے 97 ھجری میں مسلمانوں کو حج کرایا اور حاجیوں کے کثیر مجمع کو دیکھ کر حضرت عُمر بن عبدالعزیز سے کہا: ‘‘ تم دیکھ رہے ہو! یہ اﷲ کی بے حساب و بے شمار مخلوق یہاں موجود ہے ۔ اﷲ کے سوا اِس کا شمار کسی کو معلوم نہیں ہے ۔ اُس کے سوا کوئی بھی اِن کو رزق و صحت عطا نہیں کر سکتا ہے ۔’’ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے کہا: ‘‘ اے امیر المومنین! آج یہ آپ کی رعایا ہیں اور کل کو یہ اﷲ کے سامنے آپ کے دشمن بھی ہو سکتے ہیں۔’’ یہ سن کر سلیمان بن عبدالملک رونے لگا اور بہت رویا اور پھر بولا: ‘‘ اِس کے لئے میں اﷲ سے استعانت طلب کرتا ہوں۔’’ جب حج مکمل کیا تو مکۂ مکرمہ کے گورنر طلحہ بن داؤد کو معزول کردیا اور عبدالعزیز بن عبداﷲ کو مکۂ مکرمہ کا گورنر بنادیا۔ابو بکر بن محمد انصاری مدینۂ منورہ کا گورنر تھا ۔یزید بن مہلب خراسان کا گورنر تھا اور اِس سال کے اختتام پر ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا ناظم وہی تھا۔
حضرت حسن بن حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کا انتقال
اِس سال 97 ھجری میں حضرت حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کی کنیت ‘‘ابو محمد’’ ہے ۔ حضرت عبداﷲ بن جعفر بن علی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت حسین بن علی رضی اﷲ عنہا اور اُن کے بیٹے عبداﷲ کا بیان ہے کہ حضرت حسن بن حسن بن علی رضی اﷲ عنہ عبدالملک بن مروان کے پاس وفد کی شکل میں گئے تو اُس نے ان کی بہت تعظیم و تکریم کی اور حجاج بن یوسف کے مقابلے میں اُن کی مدد کی ۔
موسیٰ بن نصیر کا انتقال
اِس سال 97 ھجری میں موسیٰ بن نصیر کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : موسیٰ بن نصیر ایک عورت کا غلام تھا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بنو اُمیہ کا غلام تھا ۔ موسیٰ بن نصیر نے تمام بلاد ِ مغرب (تمام مغربی شہروں) کو فتح کرڈالااور وہاں سے اتنا مال غنیمت اُس نے حاصل کیا جس کا شمار نہ تھا ۔اِس سلسلہ میں بہت سے دہشتناک مقامات سے اُس کا واسطہ پڑا ۔ موسیٰ بن نصیر لنگڑا تھا اور مشہور ہے کہ یہ
19 ھجری میں پیدا ہوا تھا اور ‘‘عین التمر’’ کا باشندہ تھا ۔حضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲ عنہ کے دور ِخلافت میں اِس کا باپ ملک شام میں جبل سمعیل کے قیدیوں میں تھا ۔ اِس کے باپ کا نام نصر تھا جس کو اُم الصغیر میں تبدیل کر لیا گیا ۔ شروع میں موسیٰ بن نصیر ،حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے بحری بیڑہ میں شامل تھا اور بحری جنگوں میں حصہ لیتا تھا ۔ اُس نے قبرص کی جنگ لڑی اور وہاں اُس نے ‘‘الموغوسہ’’ اور ‘‘بانس’’ میں قلعہ بندیاں کر لیں اور وہاں 37 ھجری میں قبرص کے پورے علاقے کو فتح کرنے میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان کا نائب اور معاون بنا رہا ۔ جب مروان بن حکم ملک مصر میں داخل ہوا تو موسیٰ بن نصیر اُس کے ساتھ تھا ۔ مروان بن حکم نے اپنے بیٹے عبدالعزیز بن مروان کو ملک مصر کا گورنر بنادیا اور موسیٰ بن نصیر کو اُسی کے پاس چھوڑ دیا ۔ موسیٰ بن نصیر صاحب تدبیر ، ہوشیار ، بڑاباخبر اور باتدبیر انسان تھا ۔ امام بغوی کا بیان ہے کہ موسیٰ بن نصیر کو بلاد افریقہ میں 69 ھجری میں گورنر بنا دیا گیا تھا ۔ جس کے بعد اُس نے تمام ممالک اور اقالیم فتح کر لئے ۔ اِن میں پورا افریقہ(آج کل کا شمالی افریقہ) اور اندلس (اسپین) بھی شامل ہیں۔ اِس کے ہاتھ بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے اور اِس نے بہت زیادہ دین اسلام کی تبلیغ کی ہے ۔ موسیٰ بن نصیر کہا کرتا تھا :‘‘ اگر اﷲ تعالیٰ نے مجھے موقع دیا تو میں ضرور رومی شہروں کو فتح کروں گا ۔’’ لیکن ولید بن عبدالملک کے مرنے کے بعد اُس کا بھائی سلیمان بن عبدالملک سلطنت ِ اُمیہ کا حکمراں بنا اور وہ موسیٰ بن نصیر سے ناراض ہو گیا اور اُس نے اُسے قید خانے میں ڈال دیا ۔ یہاں تک کہ جب سلیمان بن عبدالملک حج کرنے مکۂ مکرمہ آیا تو موسیٰ بن نصیر کو بھی ساتھ لیکر آیا ۔ حج مکمل کرنے کے بعد سلیمان بن عبدالملک مدینۂ منورہ پہنچا تو موسیٰ بن نصیر کا انتقال ہوگیا اور اُسے وہیں ‘‘وادئ القریٰ’’ میں دفن کر دیا گیا۔اُس کی عُمر اسی (80) سال کی تھی ۔
قسطنطنیہ پر حملہ کے لئے روانگی
اِس سال 98 ھجری میں مسلمانوں نے قسطنطنیہ پر حملہ کیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : امام واقدی کا بیان ہے کہ جب سلیمان بن عبدالملک حکمراں بنا تو اُس نے بیت المقدس میں قیام کا ارادہ کیا تاکہ وہاں سے ‘‘قسطنطنیہ’’ فوجوں کی کمک بھیجتا رہے ۔ حالانکہ اُسے کافی پہلے موسیٰ بن نصیر نے مشورہ دیا تھا :‘‘ ‘‘قسطنطنیہ’’ فتح کرنے سے پہلے اُس کے آس پاس کے چھوٹے چھوٹے شہر اور قلعے فتح کرنا ضروری ہیں۔ اِس طرح قسطنطنیہ کی رسد و کمک بند ہوجائے گی اور اُسکی فتح آسان ہو جائے گی اور قسطنطنیہ کے باشندے اُسے آسانی سے مسلمانوں کے حوالے کر دیں گے ۔’’لیکن جب سلیمان بن عبدلملک نے اپنے بھائی مسلمہ بن عبدلملک سے مشورہ کیا تواُس نے کہا:‘‘ قسطنطنیہ فتح ہوجائے گا تو دوسرے شہروں پر خود ہی بآسانی قبضہ ہو جائے گا ۔’’ سلیمان بن عبدالملک کو یہ مشورہ مناسب لگا اور اُس نے تیاری شروع کر دی ۔اُس نے خشکی کے راستے سے ایک لاکھ بیس ہزار اور بحری راست سے ایک لاکھ بیس ہزار مجاہدین کو بہت سا ساز و سامان اور تحفے و تحائف دے کر بھیجا اور انہیں ‘‘قسطنطنیہ’’ فتح کرنے کی تاکید کی ۔ اِس کے بعد سلیمان بن عبدالملک بیت المقدس سے چل کر دمشق آیا اور وہاں بھی اُس نے بہت بڑا لشکر تیار کیا اور اُن سب کا سپہ سالار اپنے بھائی مسلمہ بن عبدالملک کو بنایا۔ ساتھ ہی صبر واستقامت کی تلقین بھی کی اور مسلمہ بن عبدالملک کو یہ مشورہ دیا کہ اپنے ساتھ مشورہ میں ‘‘یون’’ کو شامل رکھنا ۔
قسطنطنیہ کا محاصرہ
سلیمان بن عبدالملک نے ایک بہت ہی بڑا لشکر جرّار قسطنطنیہ فتح کرنے کے لئے بھیجا اور اُس نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کر لیا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : مسلمہ بن عبدالملک ایک بہت بڑا لشکر جرار لیکر قسطنطنیہ پہنچ گیا ۔ وہاں کے باشندوں نے مسلمہ بن عبدالملک سے صلح کرنا چاہی مگر اُس نے انکار کر دیا اور کہا: ‘‘ میں قسطنطنیہ کو شمشیر کے ذریعے فتح کروں گا ۔’’ اِس پر شہر کے مکینوں نے کہا: ‘‘ اچھا تو ہمارے پاس ‘‘یون’’ کو بھیج دو ۔’’ جب وہ آیا تو انہوں نے کہا: ‘‘ تم ‘‘بلطائف
الحیل’’ تک مسلمانوں کو یہاں سے ہٹا لے جاؤ، پھر ہم تم کو اپنا بادشاہ بنا لیں گے ۔’’ اِس پر یون مسلمہ بن عبدالملک کے پاس آیااور بولا: ‘‘ شہر کے باشندوں کا کہنا ہے کہ ہم مسلمہ بن عبدالملک کو شہر اُس وقت حوالے کریں گے جب وہ شہر کے باہر رہیں گے ۔ پہلے تو مسلمہ بن عبدالملک کو یون کی غداری کا شک ہوا لیکن پھر اُس کی چکنی چپڑی باتوں میں آ کر شہر پر حملہ نہیں کیا نتیجتاً یون اِس مرتبہ قسطنطنیہ کو مسلمانوں سے بچانے میں کامیاب اور مسلمہ بن عبدالملک صرف قسطنطنیہ کے محاصرہ پر ہی اکتفا کرنے پو مجبور ہوگیا۔
دیلم کی فتح
اِس سال یزید بن مہلب لشکر لیکر چین کے قریب روسی ترکستان گیا اور وہاں پر جرجان فتح کیا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال یزید بن مہلب نے ارض چین کے علاقہ کے شہر ‘‘قبستان’’ کا محاصرہ کر کے سخت جنگ کی ۔ یہ محاصرہ اُس وقت تک جاری رہا جب تک وہاں کے لوگوں نے ہتھیار نہ ڈال دیئے ۔ اِس جنگ میں چار ہزار ترک قتل ہوئے یہاں پر مسلمانوں کو بہت سا مال غنیمت اور بکثرت مال و اسباب اور قیمتی اشیاء میں۔ اِس کے بعد یزید بن مہلب جرجان کی طرف بڑھا جس کے حکمراں سے مسلمانوں کی ‘‘دیلم’’ میں زبردست جنگ ہوئی ۔ اِس موقع پر عبدالرحمن بن سبرہ جعفی شہسوار نے بڑی بہادری دکھائی اور دیلم کے حکمراں کو قتل کردیا ۔اِس معرکہ میں اُس کی بہادری دیکھ کر ترک حیران رہ گئے ۔ ایک ترک سپاہی نے اُس کے خود پر تلوار سے وار کیا اور تلوار خود میں گھس گئی اُسی وقت عبدالرحمن بن سبرہ نے پلٹ کر اُس ترک پر ایسی تلوار ماری کہ اُس کا سر اُڑ گیا ۔ اِس کے بعد جب عبدالرحمن بن سبرہ مسلمانوں کی طرف پلٹا تو اُس کے ہاتھ میں خون آلود تلوار تھی اور اُس کے خود میں سپاہی کہ تلوار دھنسی ہوئی تھی ۔ اِس منظر کو دیکھ کر یزید بن مہلب نے کہا: ‘‘ میں نے ایسا دلکش منظر آج تک اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ،یہ کون شخص ہے؟’’ لوگوں نے کہا: ‘‘ یہ عبدالرحمن بن سبرہ ہے ۔’’
جرجان کی فتح
دیلم میں فتح حاصل کرنے کے بعد یزید بن مہلب آگے بڑھا اور جرجان پر حملہ کر دیا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : پھر یزید بن مہلب نے جرجان کا محاصرہ کر لیا اور وہاں کے حکمراں کو محاصرہ سے اتنا تنگ کیا کہ وہ سات لاکھ درہم ، چار لاکھ دینار ، دولاکھ کپڑوں ، چارسو گدھے ، زعفران ، چار سو آدمی اور ہر آدمی کے سر پر زرہ بکتر کے ساتھ سبز چوغے اور چاندی کے جام وغیرہ دے کر صلح کر لی ۔ اِس سے پہلے اِس شہر کے باشندوں نے سعید بن عاص سے صلح کی تھی اور پہلے سال ایک لاکھ درہم ، دوسرے سال دو لاکھ درہم اور تیسرے سال تین لاکھ درہم جزیہ پر صلح کی تھی ۔ لیکن پھر انہوں نے صلح کو توڑ دیا تھا جس کے نتیجے میں انہیں یہ ذلت اُٹھانی پڑی ۔ اِس کے بعد یزید بن مہلب نے خورستان فتح کرنے کا ارادہ کیا اور ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کے طور پر اپنے چار ہزار مجاہدین کو بھیجا لیکن وہاں سخت جنگ ہوئی اور کافی مجاہدین شہید ہو گئے ۔ اب یزید بن مہلب نے اپنے لشکر کے ساتھ اُس پر زبردست حملہ کیا اور بہت سے کافروں کا قتل عام کیا ۔آخر کار شہر والوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور اُن کے حکمراں نے صلح کی درخواست کی جسے یزید بن مہلب نے قبول کر لیا ۔ اُس نے سات لاکھ دینار اور بہت سی قیمتی اشیاء بھی دیں۔
ولی عہد’’بدلنے کی کوشش
سلیمان بن عبدالملک نے اِس سال ‘‘ولی عہد’’ بدلنے کی کوشش کی ۔ اِس سے پہلے اُس کے والد عبدالملک بن مروان نے اپنے بھائی کی جگہ اپنے بیٹے کو ‘‘ولی عہد’’ بنانے کی کوشش کی تھی ۔ اور اس کے بھائی ولید بن عبدالملک نے بھی اپنے بھائی کی جگہ اپنے بیٹے کو ‘‘ولی عہد’’ بنانے کی کوشش کی اور سلیمان بن عبدالملک نے بھی اپنے بھائی کی جگہ اپنے بیٹے کو ولی عہد بنانے کی کوشش کی لیکن یہ تنیوں ناکام رہے ۔ جب سلیمان بن عبدالملک نے دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ‘‘ولی عہد’’ بنانے میں ناکام رہاتو اُس نے اپنے بھتیجے ‘‘حضرت عُمر بن عبدالعزیز ’’ کو ‘‘ولی عہد’’ بنا دیا جس کا تفصیلی ذکر انشاء اﷲ ہم آگے کریں گے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :سلیمان بن عبدالملک کا ‘‘ولی عہد’’ اُس کا بھائی مروان بن عبدالملک تھا ۔ اُس کا انتقال ہوگیا تو ‘‘ولی عہد’’ یزید بن عبدالملک بن گیا ۔ سلیمان بن عبدالملک چاہتا تھا کہ اُس کے بھائی یزید بن عبدالملک کی جگہ اُس کا بیٹا ایوب بن سلیمان ‘‘ولی عہد’’ بن جائے ۔ اُس نے اِس بات کا ارادہ کیا اور ابھی مشورہ ہی کر رہا تھا کہ اُس کے بیٹے ایوب بن سلیمان کا انتقال ہو گیا ۔ اِس لئے اُس نے اپنے چچا ذاد بھائی اور بہنوئی حضرت عُمر بن عبدلعزیز کو اپنے کا ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بنادیا۔
98 ھجری کا اختتام
98 ھجری کا اختتام ہوا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال شہر صقالبہ فتح ہوا اور داؤد بن سلیمان نے رومیوں کے علاقہ میں جہاد کر کے قلعہ ‘‘ مراۃ’’ جو ملطیہ کے قریب واقع ہے اُسے فتح کیا ۔ اِس سال کے اختتام پر یزید بن مہلب خراسان کا گورنر تھا اور اُسنے سفیان بن عبداﷲ کندی کو بصرہ کا گورنر بنایا ۔ مدینہ منورہ کا گورنر وہی تھا جو پچھلے سال تھا اور مکۂ مکرمہ کا گورنر عبدالعزیز بن عبداﷲ تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔
98 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان
اِس سال جن لوگوں کا انتقال ہوا اُن میں سے چند نام یہ ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 98 ھجری میں عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبہ کا انتقال ہوا۔ یہ ‘‘امام حجت’’ اور حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے اُستاد تھے ۔ آپ نے کثیر صحابہ رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں ۔ اِس سال ابو حفص نخعی اور حضرت عبداﷲ بن محمد بن حنفیہ کا بھی انتقال ہوا۔
99 ھجری : سلیمان بن عبدالملک کا انتقال
99 ھجری کے شروع ہونے کے چالیس یا پچاس دن بعد ہی سلیمان بن عبدالملک کا انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 99 ھجری میں ماہ ِ صفر المظفر کی بیس تاریخ کو شہر ‘‘وابق’’ علاقہ ‘‘قنسرین’’ میں سلیمان بن عبدالملک کا انتقال ہو گیا ۔ سلیمان بن عبدالملک ‘‘سلطنتِ اُمیہ’’ کا دوسال پانچ دن کم آٹھ مہینے حکمراں رہا ۔ بعض راویوں نے بیان کیا کہ دس صفر المظفر کا انتقال ہوا ۔ ایک روایت کے مطابق اُس نے دو سال سات مہینے اور دوسری روایت کے مطابق دو سال آٹھ مہینے حکومت کی ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ تین سال حکومت کی ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے نماز جنازہ پڑھائی ۔لوگ تذکرہ کرتے تھے کہ سلیمان بن عبدالملک کے حکمراں بنتے ہی ہمیں آرام و اطمینان نصیب ہوا اور حجاج بن یوسف سے نجات ملی۔ سلیمان بن عبدالملک نے حکمران بنتے ہی تمام قیدیوں کو رہا کر دیا تھا ۔ اسی نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز کو اپنے بعد اپنا ‘‘جانشین’’ مقرر کر دیا تھا ۔مفضل بن مہلب کہتا ہے :‘‘ وابق میں ایک جمعہ کو میں سلیمان بن عبدالملک کے پاس گیا ۔ اُس نے ایک لباس منگا کر پہنا لیکن وہ اُسے پسند نہیں آیا ،پھر دوسرا منگوایا ،یہ سبز سوتی کپڑے کا تھا ۔ سلیمان بن عبدالملک نے اسے پہنا اور عمامہ باندھا اور مجھ سے پوچھا : ‘‘ تمہیں یہ لباس اچھا معلوم ہوتا ہے ؟’’ میں نے کہا: ‘‘ جی ہاں ۔ ’’ سلیمان بن عبدالملک نے اپنے دونوں مسلز دکھائے اور کہا: ‘‘ میں ایک بہادر اور نوجوان حکمراں ہوں۔’’ پھر جمعہ کی نماز پڑھی مگر اس کے بعد پھر جمعہ پڑھنا نصیب نہ ہوا ۔ اُس نے وصیت نامہ لکھا اور ‘‘مُہر دار’’ ابن ابی نعیم کو بلا کر اُس پر مُہر ثبت کر دی ۔
سلیمان بن عبدالملک کا استخارہ
سلیمان بن عبدالملک بن اپنے انتقال سے دو تین دن پہلے ایک بہت ہی ‘‘عظیم’’ فیصلہ کیا ۔ اِس فیصلے نے سلطنت اُمیہ کی شان کو بلند کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: رجا بن حیواۃ کہتے ہیں کہ ایک دن سلیمان بن عبدالملک نے باریک ریشم کا لباس زیب تن کیا اور آئینہ میں اپنی صورت دیکھ کر کہا: ‘‘ میں کیسا بہادر اور جوان حکمراں ہوں ۔’’ جمعہ کی نماز کو گیا ،نماز پڑھی اور گھر واپس نہیں آ سکا تھا کہ بخار چڑھ گیا
۔ جب طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو اپنے ایک کمسن نابالغ لڑکے کے لئے ‘‘جانشینی’’ لکھ دی ۔ میں نے عرض کیا: ‘‘ امیر المومنین! یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ دوسری باتوں کے علاوہ ایک بات اور ہے جو ایک حکمراں کو ‘‘عذاب قبر’’ سے محفوظ رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ اپنے بعد اﷲ کی مخلوق پر ایک نیک اور قابل شخص کو ‘‘جانشین’’ مقرر کر دے ۔’’سلیمان بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ میں استخارہ کر رہا ہوں اور اِس معاملہ پر غور کر رہا ہوں۔’’ یہ سن کر میں نے زیادہ زور نہیں ڈالا۔’’
حضرت عُمر بن عبدالعزیز کی ‘‘جانشینی’’
سلیمان بن عبدالملک نے اﷲ تعالیٰ سے استخارہ کیا اور اﷲ تعالیٰ نے اُس کی رہنمائی کی اور اُس نے اپنا آخری عمل وہ کیا جس سے اُس کی آخرت سنور گئی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : رجا بن حیواۃ آگے کہتے ہیں : ‘‘ ایک یا دو دن گذرا ہو گا کہ سلیمان بن عبدالملک نے اپنے کمسن بیٹے کی ‘‘جانشینی’’ کا فرمان پھاڑ ڈالا اور مجھے بلایا اور اپنے بیٹے داؤد بن سلیمان کے بارے میں میری رائے دریافت کی ۔ میں نے کہا: ‘‘ وہ اِس وقت قسطنطنیہ میں جنگ میں مصروف ہے اور آپ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہے یا نہیں۔’’ سلیمان بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ اچھا تم کوئی نام پیش کرو۔’’ میں نے اِس خیال سے کہ دیکھوں کہ کس کا نام خود سے لیتے ہیں عرض کیا: ‘‘ جناب ہی کی رائے رائے ہے ،آپ خود انتخاب فرمائیں۔’’ اِس پر اُس نے کہا:‘‘ اچھا! عُمر بن عبدالعزیز کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ ’’میں نے کہا: ‘‘ میں اُنہیں نہایت ہی نیک ، علم و فاضل اور اِس ‘‘بار ِ گراں’’ کو اُٹھانے کا اہل سمجھتا ہوں۔’’ سلیمان بن عبدالملک بن کہا: ‘‘ بس تو میرے بعد وہی حکمراں ہوں گے۔’’ اِس کے بعد سلیمان بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ اگر میں صرف اُنہیں کو اپنا ‘‘ولی عہد’’ نامزد کروں اور کسی اور کو نہ کروں تو اِس سے فساد ہو جانے کا اندیشہ ہے کیونکہ میرے خاندان والے اُس وقت تک عُمر بن عبدالعزیز کی ‘‘ولی عہدی’’ کو تسلیم نہیں کریں گے جب تک اُس کے بعد میں اُس کا ‘‘ولی عہد’’ بھی نامزد نہ کر جاؤں اور میں عُمر بن عبدالعزیز کے بعد یزید بن عبدالملک کو ‘‘ولی عہد’’ مقرر کئے دیتا ہوں۔ اِس طریقہ سے میرے خاندان والے خاموش ہو رہیں گے اور اُسے پسند کر لیں گے ۔ ’’ میں نے کہا: ‘‘ جناب والاکی رائے بہت ہی بہتر ہے ،ایسا ہی کیجیئے۔’’
خاندان ِ بنو اُمیہ سے ‘‘فرمان ِ سلیمان’’ کی بیعت
سلیمان بن عبدالملک نے حضرت عُمر بن عبدالعزیز اور اُن کے بعد کے حکمراں کے بارے میں فرمان لکھ کر مُہر لگا کر سیل کر دیا اور خاندان بنو ِاُمیہ سے اِس فرمان کے بارے میں بیعت لے لی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : رجا بن حیواۃ نے آگے کہا: ‘‘ پھر سلیمان بن عبدالملک نے یہ فرمان لکھا: ‘‘ بسم اﷲ الرحمن الرحیم! حمدو ثناء کے بعد! یہ فرمان سلیمان بن عبدالملک کی جانب سے عُمر بن عبدالعزیز کے نام لکھا جاتا ہے کہ تمہیں میں اپنے بعد مسلمانوں کا حکمراں مقرر کرتا ہوں اور تمہارے بعد یزید بن عبدالملک اِس منصب پر فائز ہوگا ۔ تما م لوگوں کو چاہیئے کہ وہ عُمر بن عبدالعزیز کی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور اﷲ سے ڈرتے رہیں ۔ آپس میں پھوٹ نہ ڈالیں کہ ایسا نہ ہو کہ دشمن کو تمہارے خلاف کاروائی کی جرأت ہوجائے۔’’ فرمان پر مُہر لگا کر سیل کر دینے کے بعد سلیمان بن عبدالملک نے اپنے محافظ دستے کے افسر کو حکم دیا کہ تمام خاندان بنواُمیہ کو بلا لائے ۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو سلیمان بن عبدالملک نے مجھ سے کہا: ‘‘ تم میرے اِس خط کو اُن کے سامنے لے جاکر کہہ دو کہ یہ میرا ‘‘فرمان’’ ہے ۔ جس شخص کو میں نے اپنا ‘‘جانشین ’’ نامزد کیا ہے اُس کا نام اِس میں لکھ دیا ہے ۔ آپ سب اُس کے لئے ‘‘حلف وفاداری’’ اُٹھائیں ۔’’ جب میں نے سر بمُہر فرمان اُن کے سامنے کیا تو سب کہنے لگے :‘‘ ہم امیر المومنین کے پاس جا کر انہیں سلام کرنا چاہتے ہیں۔’’ میں نے کہا: ‘‘ بہتر ہے۔’’ یہ سب کے سب سلیمان بن عبدالملک کے پاس آئے اور اُس نے فرمان کی طرف اشارہ کر کے اُس کے متعلق گفتگو کی اور کہا: ‘‘ رجا بن حیواۃ کے ہاتھ میں جو سر بمُہر فرمان ہے ،یہ میرا فرمان ہے ۔ آپ سب لوگ اِس کی تعمیل کریں اور جس شخص کو میں نے اپنا جانشین مقرر کر دیا ہے آپ اُس کے لئے حلف وفاداری اُٹھائیں۔’’ ہر شخص نے فرداًفرداً حلف وفاداری اُٹھایا اور میں نے وہ سر بمُہر فرمان سب کے سامنے کر دیا ۔
ہشام بن عبدالملک کی بے چینی
سلیمان بن عبدالملک نے کس کو اپنا ‘‘جانشین’’ بنایا ہے اِس معاملے میں ہر کوئی جاننے کے لئے بے چین تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : رجا بن حیواۃ آگے کہتے ہیں : ‘‘ ہشام بن عبدالملک مجھ سے آ کر ملا اور بولا: ‘‘ میرے اور تمہارے قدیم مراسم ہیں اور میں تمہارا بے حد شکر گزار ہوں گا اگر تم یہ بات مجھے بتا دو ۔ اگر یہ فرمان میرے متعلق ہے تو مجھے معلوم ہو جائے اور اگر کسی اور کے متعلق ہے تو مجھ جیسے شخص سے تم دریغ نہ کرو اور مجھے بتا دو۔ میں اﷲ کے سامنے عہد کرتا ہوں کہ کسی اور سے اِس کا تذکرہ نہیں کروں گا ۔’’ میں بتانے سے صاف انکار کر دیا اور کہہ دیا: ‘‘ یہ ایک راز ہے جو میرے سپرد کیا گیا ہے اور میں ایک حرف بھی نہیں بتا سکتا ۔’’ ہشام بن عبدالملک مایوس ہو کر واپس چلا گیا اور یہ کہتا جارہا تھا : ‘‘ اگر میں نہیں ہوں گا تو کون ہو گا ؟ کیا عبدالملک کی اولاد سے حکومت نکل جائے گی؟’’
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں