سلطنت امیہ49
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 49
ا96 ھجری : ولید بن عبدالملک کا انتقال، ولید بن عبدالملک کے دور میں عظیم الشان فتوحات، موت کی خبر پر حجاج بن یوسف کا تاثر، حجاج بن یوسف کے متعلق اندازہ، حجاج بن یوسف سے نفرت، بیٹے کی ‘‘ولی عہدی’’ کی کوشش، قتیبہ بن مسلم کا ملک چین پرحملہ، ملک چین کے بادشاہ کی درخواست پر مسلم وفد کی روانگی، ملک چین کے بادشاہ کے دربار میں مسلمان، ملک چین کے بادشاہ کی صلح کی پیشکش، قتیبہ بن مسلم کی قسم پوری ہوئی،
ا96 ھجری : ولید بن عبدالملک کا انتقال
اِس سال 96 ولید بن عبدالملک کا انتقال ہوا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِ س سال موسم سرما کی مہم لیکر بشر بن ولید رومیوں سے جہاد کرنے گیا اور اِسی اثناء میں ولید بن عبدالملک کا انتقال ہوگیا اور وہ واپس آگیا ۔تمام اہل سیر کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ 96 ھجری میں ولید کا انتقال ہوا ۔ اُس کی مدت ِ حکومت بہت کم ہے ۔ ایک روایت کے مطابق ولید بن عبدالملک نے ایک ماہ کم دس سال حکومت کی ۔دوسری روایت کے مطابق نو سال سات مہینے حکومت کی ۔ہشام بن محمد کے مطابق آٹھ سال چھ مہینے حکومت کی ۔ امام واقدی کے مطابق نو سال آٹھ مہینے حکومت کی ۔ولید بن عبد الملک کی عُمر کے بارے میں اہل سیر کا اختلاف ہے ۔ایک روایت کے مطابق ولید بن عبدالملک کی عُمر چھیالیس سال تھی ۔ ہشام بن محمد کے مطابق پینتالیس سال تھی ۔علی بن محمد کے مطابق بیالیس سال تھی ۔ اُس کا انتقال دمشق میں ہوا اور ‘‘باب الصغیر’’ کے باہر دفن کیا گیا ۔یہ بھی کہا گیا کہ مقبرہ فرادیس میں دفن کیا گیا ۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔
ولید بن عبدالملک کے دور میں عظیم الشان فتوحات
ولید بن عبدالملک کے دور ِ حکومت میں اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم الشان فتوحات دلائی ہیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اہل شام ولید بن عبدالملک کو اپنے تمام حکمرانوں میں سے بہترین حکمراں سمجھتے تھے ۔ اُس نے بہت سی مسجدیں تعمیر کرائیں ۔ جامع مسجد دمشق اور مسجد نبوی کی توسیع کرائی اور مینار بنوائے ۔ وہ بڑا سخی اور دینے والا تھا اُس نے کوڑھی لوگوں کے روزینے مقرر کر دیئے اور انہیں لوگوں کے سامنے دست سوال پھیلانے کی ممانعت کر دی اور اُن سب کی خدمت کے لئے ایک سرکاری خادم مقرر کر دیا جو اُن کی خدمت گذاری کرتا تھا ۔ ولید بن عبدالملک کے دور ِ حکومت میں مسلمانوں کو عظیم الشان فتوحات حاصل ہوئیں ، مغرب میں موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد نے اُندلس(اسپین)فتح کیا ۔ شمال مشرق میں قتیبہ بن مسلم نے کاشغر فتح کیا ۔ محمد بن قسم نے ہندوستان فتح کیا۔ ولید بن عبدالملک کا قاعدہ تھا کہ اکثر بیچنے والے کے پاس جاتا اور تھوڑی سی ترکاری اُٹھا کر اُس کی قیمت دریافت کرتا ۔ بیچنے والا جب قیمت بتاتا تو وہ کہتا اِس کی قیمت میں اضافہ کرو۔
موت کی خبر پر حجاج بن یوسف کا تاثر
ولید بن عبدالملک کی موت کی خبر سے حجاج بن یوسف پر بہت برا اثر پڑا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حالت مرض میں ایک دن ولید بن عبدالملک پر ایسی بے ہوشی طاری ہوئی کہ تمام دن مردہ کی طرح پڑا رہا ۔ لوگوں نے رونا دھونا شروع کر دیا اور اُس کی موت کی خبر پہنچانے کے لئے قاصد بھی روانہ کر دیئے گئے ۔ جب حجاج بن یوسف کے پاس قاصد یہ خبر لیکر آیا تو اُس نے انا ﷲ وانا الیہ راجعون پڑھا ۔ ایک رسی منگوا کر اُس کے ہاتھ بندھوا دیئے اور اس کا ایک سرا ستون میں باندھ دیا ۔پھر اﷲ تعالیٰ سے دعا مانگی : اے اﷲ تعالیٰ! تُو مجھ پر ایسے شخص کو مسلط نہ کرنا جو رحیم و کریم نہ ہو ،میں عرصۂ دراز سے دعا مانگ رہا ہوں کہ اس کے مرنے سے پہلے مجھے موت دیدے ۔’’ انہیں جملوں کے ساتھ حجاج بن یوسف نے خصوع و خشوع سے دعا مانگنا شروع کر دی ۔ ابھی دعا مانگ ہی رہا تھا کہ دوسرا قاصد ولید کے مرض کے افاقہ کی
خوشخبری لیکر آیا ۔
حجاج بن یوسف کے متعلق اندازہ
حجاج بن یوسف کو ولید بن عبدالملک کے تندرست ہونے کی سب سے زیادہ خوشی ہوئی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ولید بن عبدالملک کی طبیعت جب زرا سنبھلی تو اُس نے کہا: ‘‘ میری صحت کی سب سے زیادہ خوشی حجاج بن یوسف کو ہوگی ۔’’ اِس پر حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے کہا: ‘‘ تمہاری صحت ہمارے لئے اﷲ کی بہترین نعمت ہے اور مجھے یقین ہے کہ تمہارے پاس حجاج بن یوسف کا خط آئے گا جس میں لکھا ہوگا:‘‘ مجھے آپ کی صحت کا علم ہوا تو میں نے سجدۂ شکر ادا کیا اور جس قدر غلام اور لونڈی میرے پاس تھے وہ سب آزاد کر دیئے گئے اور میں یہ ہندوستان کے بنے ہوئے مربّے کے شیشے کے مرتبان آپ کی خدمت میں بھیج رہا ہوں۔’’ اِس بات کو کہے ابھی کچھ ہی دن گذرے تھے کہ اِس مضمون کا خط حجاج بن یوسف کی طرف سے آیا ۔
حجاج بن یوسف سے نفرت
ولید بن عبدالملک اپنے دور ِ حکومت کے آخری دنوں میں حجاج بن یوسف کو ناپسند کرنے لگا تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : آخری زمانے میں ولید بن عبدالملک کو حجاج بن یوسف کا وجود کھٹکنے لگا تھا ۔ اِس کا ثبوت اِس واقعہ سے ملتا ہے کہ ولیدبن عبدالملک کا ایک خدمت گار بیان کرتا ہے کہ میں ایک روز صبح کھانے کے لئے ولید بن عبدالملک کا منہ دھلا رہا تھا ۔ اُس نے ہاتھ بڑھایا اور میں نے پانی ڈالنا شروع کیا وہ اُس وقت کسی اور ہی خیال میں گُم تھا ۔ اب پانی بہتا جا رہا تھا اور وہ منع نہیں کر رہا تھا اور مجھے اتنی جرأت کہاں کہ میں خود بولتا ۔ پھر ولید بن عبدالملک نے خود میرے منہ پر پانی کے چھینٹے مار کر کہا: ‘‘ کیا تُو اونگھ رہا ہے ؟’’ اور سر اٹھا کر مجھ سے کہا: ‘‘ کیا تُو جانتا ہے کل رات کیا خبر آئی ہےَ’’ میں نے کہا: ‘‘ مجھے نہیں معلوم ۔’’ ولید بن عبدالملک نے کہا:‘‘ بے وقوف! تجھے نہیں معلوم ، حجاج بن یوسف کا انتقال ہو گیا ہے۔’’ میں نے انا ﷲ وانا الیہ راجعون کہا۔ ولید بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ چپ رہ! اِس خبر سے تیرے آقا کو خوشی ہوئی ہے ۔ یہ اس کے ہاتھ میں ایک سیب کی مانند تھا جسے وہ سونگھتا تھا۔’’
بیٹے کی ‘‘ولی عہدی’’ کی کوشش
عبدالملک بن مروان نے اپنے دو بیٹوں ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبدالملک کو اپنا ‘‘ولی عہد ’’ بنایا تھا ۔ اِس لئے ولید بن عبدالملک کے بعد اُس کے چھوٹے بھائی سیلمان بن عبدالملک کے حکمراں بننے کی باری تھی ۔ اِس کے باوجود ولید بن عبدالملک نے اپنے بیٹے عبدالعزیز بن ولید کو ‘‘ولی عہد’’ بنانے کی کوشش کی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ۹۶ ھجری میں ولید بن عبدالملک نے ارادہ کیا کہ اپنے چھوٹے بھائی سلیمان بن عبدالملک کے پاس جائے ۔ اِس سفر کی غرض یہ تھی کہ وہ چاہتا تھا کہ اُس کے بعد اُس کا بیٹا عبدالعزیز بن ولید ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں ہو ۔ ولید بن عبدالملک نے اِس سفر کا ارادہ اپنے مرض الموت سے پہلے کیا تھا ۔ ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبد الملک دونوں عبدالملک بن مروان کے ‘‘ولی عہد’’ تھے ۔ جب ولید بن عبدالملک حکمراں بنا تو اُس نے ارادہ کیا کہ سیلمان بن عبدالملک کو حکومت کے حق سے محروم کر دے اور اُس کے بدلے اپنے بیٹے عبدالعزیز بن ولید کو اپنا ‘‘ولی عہد’’ بنائے ۔ مگر سیلمان بن عبدالملک نے اِس تجویز کو مسترد کر دیا ۔ اِس کے بعد ولید بن عبدالملک نے یہ کوشش کی کہ سلیمان بن عبدالملک کے بعد عبدالعزیز بن ولید کو حکمراں بنا دیا جائے مگر سلیمان بن عبدالملک نے اِس سے بھی انکار کر دیا ۔جب اِس طرح ولید بن عبدالملک کو اپنے مقصد میں ناکامی ہوئی تو اُس نے اپنے گورنروں کو لکھا کہ لوگوں سے عبدالعزیز بن ولید کے لئے بیعت لولیکن حجاج بن یوسف اور قتیبہ بن مسلم کے علاوہ کسی نے پسند نہیں کیا ۔ عباد بن زیاد نے ولید بن عبدالملک سے کہا:‘‘ عام لوگ آپ کی اِس تجویز کو کبھی نہیں مانیں گے اور اگر اِس وقت وہ مان بھی جائیں تو بھی آپ کو اُن کے وعدہ پر اعتبار نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ بعد میں یہ آپ کے بیٹے کے خلاف ضرور ہو جائیں گے بہتر یہ ہے کہ سلیمان بن عبدالملک کو راضی کریں کہ وہ اپنے حق سے دستبردار ہو جائیں۔’’ولید بن عبدالملک اپنے بھائی کے جانے کے سفر کی تیاری کر رہا تھا کہ اُس کی طبیعت خراب ہوئی اور انتقال ہو گیا۔
قتیبہ بن مسلم کا ملک چین پرحملہ
ولید بن عبدالملک کے انتقال سے کچھ دنوں پہلے قتیبہ بن مسلم سے چین پر حملہ کیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال قتیبہ بن مسلم نے ملک چین کا ایک شہر کاشغر فتح کیا ۔ اُس کے پاس جتنی فوج تھی وہ سب لیکر اور اپنے اہل و عیال کو لیکر دریائے جیجون کو عبور کیا ۔ اُس کا ارادہ یہ تھا کہ اپنی عورتوں اور بچوں کو ‘‘سمر قند’’ میں حفاظت سے ٹھہرا دے گا ۔ جب دریائے جیجون اُس نے پار کیا تو اپنے ایک آزاد کردہ غلام کو جس کا نام خوارزی تھا اُس گھاٹ پر جہاں سے دریا عبور کیا جاتا تھا مقرر کر دیا اور حکم دیا کہ کسی شخص کو بغیر پروانۂ راہداری کے یہاں سے گذرنے نہیں دینا ۔ قتیبہ بن مسلم نے فرغانہ کی راہ لی اور ‘‘درۂ اعصام’’ کی طرف کچھ ایسے لوگوں کو بھیجا جو ‘‘کاشغر’’ جانے کا راستہ ٹھیک کردیں ۔ (یہ شہر ‘‘کاشغر’’ چین کے تمام شہروں میں مسلمانوں کی حکومت کے قریب ترین واقع تھا) قتیبہ بن مسلم ابھی فرغانہ ہی میں تھا کہ اُسے ولید کے انتقال کی خبر ملی ۔
ملک چین کے بادشاہ کی درخواست پر مسلم وفد کی روانگی
قتیبہ بن مسلم اپنے لشکر کے ساتھ ملک چین کی طرف بڑھ رہا تھا کہ ملک چین کے بادشاہ نے اُس سے درخواست کی کہ بات چیت کے لئے اپنا ایک وفد بھیجے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : قتیبہ بن مسلم بڑھتے بڑھتے ملک چین کی حدود میں داخل ہوگیا ۔ اِس پر ملک چین کے بادشاہ نے قتیبہ بن مسلم کو لکھا :‘‘ اپنے معزز لوگوں کو میرے پاس بھیج دیں تاکہ میں اُن سے آپ لوگوں کے حالات دریافت کروں اور آپ لوگوں کے مذہب کے متعلق معلومات حاصل کروں۔ ’’ قتیبہ بن مسلم نے بارہ آدمی منتخب کئے ۔ بعض راویوں کا بیان ہے کہ دس آدمی منتخب کئے۔ یہ لوگ اپنی ظاہری صورت و وجاہت ، ڈیل ڈول ، حسن بیان ، شجاع اور فراست و ذکاوت کے لحاظ سے اپنے اپنے قبیلہ کے بہترین افراد تھے ۔قتیبہ بن مسلم نے خود اُن کا انتخاب کیا اور پھر اُن کی دانائی اور فراست کا امتحان لیا ۔ پھر انہیں بہترین اسلحہ ، عمدہ عمدہ ریشمی شالیں ، سفید باریک ململ کے تھان ، جوتے اور عطر دیئے اور انہیں سواری کے لئے اعلیٰ درجے کے قوی ہیکل گھوڑے دیئے اور دوسرے سواری کے گھوڑے اور بھی دیئے ۔ اِن میں ہبیرہ بن شمرج کلابی بڑا چرب زبان مقرر تھا ۔ قتیبہ بن مسلم نے اُس سے پوچھا :‘‘ ہبیرہ! تم وہاں جا کر کیا کرو گے ؟’’ ہبیرہ بن شمرج نے کہا: ‘‘ آپ سے بہتر اور کون مجھے طریقۂ ملاقات و گفتگو بتا سکتا ہے ۔ جیسا آپ ارشاد فرمائیں وہی میں کہوں گا ۔اور اُسی پر عمل کروں گا ۔’’ قتیبہ بن مسلم نے کہا: ‘‘ اﷲ کی برکت اور اس کی توفیق تمہارے ساتھ ہو ۔ تم جب تک اُن کے علاقہ میں نہ پہنچ جاؤ اپنے عمامے نہیں اُتارنا اور جب ملک چین کے بادشاہ کے سامنے جاؤ تو اُس سے کہہ دینا کہ میں(قتیبہ بن مسلم) نے قسم کھائی ہے کہ جب تک میں تمہارے علاقہ میں قدم نہ رکھ لوں اور تمہارے شہزادوں کا غلام نہ بنا لوں اور خراج نہ وصول کر لوں تب تک واپس نہیں جاؤں گا ۔ ’’
ملک چین کے بادشاہ کے دربار میں مسلمان
مسلمانوں کا وفد ملک چین کے بادشاہ سے ملاقات کرنے گیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یہ وفد ہبیرہ بن شمرج کی قیادت میں چین آیا ۔ ملک چین کے بادشاہ نے سفراء کے ذریعہ انہیں دعوت دی ۔ان لوگوں نے غسل کیا اور سفید کپڑے پہنے نیچے زرہ پہنی ، عطر لگایا ، تیل لگایا ، جوتے پہنے اوپر سے شالیں اوڑھیں اور ملک چین کے بادشاہ کے دربار میں داخل ہوئے ۔ اُس وقت دربار میں چین کے بڑے بڑے رئیس اور اعیان سلطنت موجود تھے ۔ یہ لوگ بھی جا کر بیٹھے مگر نہ بادشاہ نے کوئی بات چیت کی نہ دوسرے درباریوں نے کوئی گفتگو کی ۔ مسلمان اُٹھ کر چلے آئے ۔ اُن کے چلے آنے کے بعد بادشاہ نے اپنے درباریوں سے پوچھا: ‘‘ تمہاری اِن کے متعلق کیا رائے ہے؟’’ سب نے کہا: ‘‘ یہ تو عورتیں معلوم ہوتی ہیں۔جب ہماری نظر ان پر پڑی اور عطر کی خوشبو ہماری ناکوں میں آئی تو ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں بچا جس کے خیالات پریشان نہ ہو گئے ہوں۔’’ دوسرے دن پھر بادشاہ نے مسلمانوں کو دربار میں بلایا۔ آج انہوں نے جامہ دار جبے پہنے ، باریک ریشم کے عمامے باندھے ،اوپر سے شالیں اوڑھیں اور صبح کے وقت دربار میں داخل ہوئے ۔ کچھ دیر بعد بادشاہ نے بغیر کچھ کہے سنے انہیں واپس جانے کا حکم دے دیا اور اُن کے چلے جانے کے بعد اپنے درباریوں سے پھر ان کے متعلق دریافت کیا ۔ سب نے کہا: ‘‘ آج اِن کی وضع و ہیئت مردوں سے ملتی جلتی ہے اور اب وہ مرد معلوم ہوتے ہیں۔ ’’ تیسرے دن پھر ملک چین کے بادشاہ نے مسلمانوں کو بلایا۔مسلمانوں نے تمام ہتھیار زیب تن کئے ۔دوہرے خود پہنے ، تلواریں حمائل کیں ،نیزے ہاتھ میں لئے ،کمانیں کندھوں پر ڈالیں اور گھوڑوں پر سوار ہو کر شاہی دربار کی طرف چلے ۔ جب بادشاہ اور درباریوں کی نظر ان پر پڑی تو انہیں لگا گویا پہاڑ کے پہاڑ چلے آرہے ہیں ۔ جب یہ لوگ بادشاہ کے دربار کے قریب پہنچے تو اپنے نیزے زمین پر گاڑ دیئے اور پھر قدم بڑھاتے ہوئے آگے بڑھے ۔ مگر چونکہ تمام درباریوں کے دلوں پر اُن کی ہیئت و وضع سے خوف طاری ہوگیا تھا ۔ اِس لئے دربار میں آنے سے پہلے ہی واپسی کا حکم دے دیا گیا ۔
ملک چین کے بادشاہ کی صلح کی پیشکش
ملک چین کا بادشاہ اور درباری بری طرح مسلمانوں سے خوف زدہ ہو گئے تھے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مسلمان اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر آپس میں نیزوں کا لڑاتے ہوئے گھوڑوں کو اُڑاتے ہوئے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ ایکدوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں اپنی قیام گاہ واپس لوٹے ۔شام کے وقت ملک چین کے بادشاہ نے مسلمانوں سے کہلا بھیجا کہ جو آپ لوگوں کا سردار ہو اُسے میرے پاس بھیج دیں۔ سب نے ہبیرہ بن شمرج کو بھیج دیا ۔ جب ہبیرہ بن شمرج ملنے گیا تو ملک چین کے بادشاہ نے کہا: ‘‘ آپ نے میرے ملک کے سرداروں کو دیکھ لیا ہے ۔ اب کوئی شخص ایسا نہیں جو میرے مقابلے میں آپ کو بچا سکے ۔ اِس کے علاوہ آپ لوگ میرے علاقہ میں ہیں اور اِس طرح میرے دست قدرت میں ہیں جس طرح ہتھیلی پر انڈا ہو ۔ میں آپ سے ایک بات دریافت کرتا ہوں ۔اگر آپ نے سچ سچ نہیں بیان کیا تو قتل کردوں گا ۔ ’’ ہبیرہ بن شمرج نے کہا: آپ جو پوچھنا چاہتے ہیں پوچھیئے۔ ’’ ملک چین کے بادشاہ نے پوچھا :‘‘ تین دنوں میں آپ لوگوں کے مختلف لباس میں آنے کی کیا وجہ ہے؟’’ ہبیرہ بن شمرج نے کہا: ‘‘ پہلے دن جو لباس پہنا تھا وہ لباس ہم اپنے اہل و عیال کے درمیان پہنتے ہیں اور خوشبو لگاتے ہیں۔دوسرے دن کا لباس وہ تھا جو ہم اپنے اُمراء اور سرداروں کے پاس پہن کر جاتے ہیں۔ تیسرے دن کا لباس دشمن کے مقابلے پر پہن کر جانے کا ہے ۔ ’’چین کے بادشاہ نے کہا: ‘‘ حقیقت میں تم ہی لوگ زمانہ کو خوب برتتے ہو ۔ اچھا اب آپ اپنے اعلیٰ افسر کے پاس واپس جایئے اور کہہ دیجیئے کہ وہ ابھی ہمارے علاقے سے واپس چلے جائیں کیونکہ میں اُس کی فوج کی قلت سے واقف ہوں۔ اگر آپ لوگ واپس نہیں گئے تو میں ایسی فوج مقابلے کے لئے بھیجوں گا جو آپ سب کو تباہ کر ڈالے گی ۔’’ہبیرہ بن شمرج نے کہا: ‘‘ آپ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پاس فوج کی کمی ہے؟ ایسے شخص کی کیا کمی ہوسکتی ہے جس کی فوج کا اگلا حصہ آپ کے علاقہ میں ہے اور پچھلا حصہ ملک شام میں ہے ۔ آپ نے ہمیں قتل کی دھمکی دی ہے اور یہ ایسی بات نہیں ہے جس سے ہم ڈریں۔ہماری زندگی ایک خاص مدت تک ہے جب وہ پوری ہو جائے گی تو ہم مر جائیں گے اور موت کا سب سے بہترین طریقہ اﷲ کے لئے شہید ہونا ہے ۔’’ چین کے بادشاہ نے کہا: ‘‘ اچھا یہ بتاؤ! تمہارے سپہ سالار کس چیز سے خوش ہو سکتے ہیں؟’’ ہبیرہ بن شمرج نے کہا:‘‘ انہوں نے قسم کھائی ہے کہ جب تک وہ تمہارے علاقے میں قدم نہیں رکھ لیں گے اور تمہارے شہزادوں کو غلام بنا کر مہر نہ لگا دیں گے اور جزیہ وصول نہیں کرلیں گے تب تک یہاں سے نہیں ٹلیں گے ۔’’
قتیبہ بن مسلم کی قسم پوری ہوئی
ملک چین کے بادشاہ کو ہبیرہ بن شمرج نے اپنے سپہ سالار کی قسم کے بارے میں بتایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ملک چین کے بادشاہ نے کہا: ‘‘ اچھا ہم اُن کی قسم پوری کر دیتے ہیں۔ اپنے علاقہ کی مٹی بھیج دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے قدم اُس پر رکھ لیں ۔کچھ اپنے شہزادے بھیج دیتے ہیں کہ وہ اُن پر مہر غلامی ثبت کر دیں اور انہیں جزیہ میں اِس قدر زر و جواہر دیئے دیتے ہیں کہ وہ خوش ہو جائیں گے ۔’’اِس کے بعد ملک چین کے بادشاہ نے سونے کی ایک لگن مٹی سے بھری ہوئی منگوائی اور بہت سے ریشم کے تھان اور سونا جزیہ میں بھیجا اور چار شہزادے بھیج دیئے ۔ اِس کے علاوہ وفد کے اراکین کوبھی بہت کچھ انعام و خلعت وغیرہ دے کر رخصت کیا ۔ یہ تمام چیزیں لیکر یہ لوگ قتیبہ بن مسلم کے پاس آئے ۔ اُس نے جزیہ قبول کر لیا ۔اُن شہزادوں کو مہر لگا کر واہس بھیج دیا اور چین کی مٹی پر پاؤں رکھ دیا ۔ اِس کے بعد اُس نے ہبیرہ کو ولید بن عبدالملک کی خدمت میں بھیجا مگر راستے میں ایران کے ایک گاؤں میں اُس کا انتقال ہو گیا ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں