55 سلطنت امیہ
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 55
یزید بن مہلب واسط میں، 101 ھجری کا اختتام، یزید بن مہلب اور مسلمہ بن عبدالملک میں جنگ، حضرت حسن بصری جنگ سے منع کرتے تھے، یزید بن مہلب کا قتل، آل مہلب کرمان کے پہاڑوں میں، آل مہلب کا قتل، ہشام بن عبدالملک اور ولید بن یزید کی ‘‘ولی عہدی’’، مسلمہ بن عبدالملک ملک عراق و ایران کا گورنر، خراسان اور سمرقند کے گورنر، سعید بن عبدالعزیز کی سختی، ترکوں سے جہاد، اہل سغد کی بغاوت، مسلمہ بن عبدالملک کی معزولی، خراسان میں ‘‘تحریک عباسیہ ’’ کا آغاز، افریقہ کے گورنر کا قتل، 102 ھجری کا اختتام، 102 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان
یزید بن مہلب واسط میں
یزید بن مہلب نے بصرہ پر قبضہ کر لیا اور وہاں اپنے بھائی مروان بن مہلب کو گورنر بنا دیا اور خود تما م اسلحہ اور خزانہ لیکر واسط آیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب یزید بن مہلب واسط کی طرف بڑھنے لگا تو اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا اور کہا: ‘‘ چونکہ اہل شام تمہارے مقابلے پر آرہے ہیں اِس لئے بتاؤ کیا کرنا چاہیئے ؟’’ اُس کے بھائی حبیب بن مہلب نے پہلے کوفہ جانے کا مشورہ دیا لیکن یزید بن مہلب نے قبول نہیں کیا پھر اُس نے الجزیرہ جانے کا مشورہ دیا لیکن اُس نے اسے بھی نہیں مانا اور اِسی کشمکش میں 101 ھجری ختم ہونے تک واسط میں ہی مقیم رہا ۔
ا101 ھجری کا اختتام
ا101 ھجری کا اختتام ہوا ۔ اِس سال ‘‘سلطنت اُمیہ ’’ کا ایک درخشاں ستارہ حضرت عُمر بن عبدالعزیز غروب ہوا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ؛ اِس سال کے اختتام پر عبدالحمید بن عبدالرحمن کوفہ کا گورنر تھا ۔ بصرہ پر یزید بن مہلب کا قبضہ تھا اور اُس نے اپنے بھائی مروان بن مہلب کو بصرہ کا گورنر بنادیا تھا ۔ خراسان کا گورنر عبدالرحمن بن نعیم تھا ۔ مکۂ مکرمہ کا گورنر عبداﷲ بن خالد تھا اور مدینۂ منورہ کا گورنر عبدالرحمن بن ضحاک تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔
یزید بن مہلب اور مسلمہ بن عبدالملک میں جنگ
ا102 ھجری کی شروعات میں یزیدبن مہلب اور مسلمہ بن عبدالملک دونوں اپنی اپنی دوج لیکر مقابلے پر آگئے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : 102 ھجری کے شروع ہوتے ہی یزید بن مہلب نے اپنے بیٹے معاویہ بن یزید بن مہلب کو واسط پر اپنا نائب مقرر کر کے مسلمہ بن عبدالملک کی فوج سے لڑنے کے لئے اپنی فوج لیکر ‘‘عقر’’ میں آیا ۔ جہاں دونوں فوجوں میں گھمسان کی جنگ ہوئی اور دنوں فوجوں نے زبردست لڑائی کا مظاہر کیا ۔جس کے نتیجہ میں اہل بصرہ ، اہل شام پر حاوی ہو گئے لیکن اس کے بعد اہل شام نے ثابت قدمی سے اہل بصرہ پر حملہ کیا تو اُن کو ہزیمت پر مجبور کر دیا اور اُن کے بہت سے بہادر اور جنگ آزمودہ دلیروں کو مار ڈالا ۔جن میں ایک کا نام منتوف تھا جو نہایت مشہور شجاع تھا ۔ جب مسلمہ بن عبدالملک اور عباس بن ولید کی فوجیں یزید بن مہلب کی فوجوں کے قریب پہنچ گئیں تو یزید بن مہلب نے اپنی فوجوں کا دل بڑھانے کے لئے اور اہل شام پر حملہ آور ہونے کے لئے اشتعال دلایا ۔ اُس وقت یزید بن مہلب کے پاس ایک لاکھ بیس ہزار فوج تھی جس نے یزید بن مہلب سے اطاعت اور فرمانبرداری کا عہد کر رکھا تھا ۔ ساتھ ہی یہ عہد بھی کیا تھا کہ کتاب و سنت کے خلاف کوئی کام یزید بن مہلب کی طرف سے نہیں ہو گا اور نہ ہی ان کے ملک کو روندا
جائے گا اور نہ ہی حجاج بن یوسف کی طرح عوام پر ظلم کیا جائے گا۔ وغیرہ وغیرہ ۔
حضرت حسن بصری جنگ سے منع کرتے تھے
حضرت حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ اُس وقت بصرہ میں تھے اور کافی بوڑھے ہو چکے تھے ۔ آپ مسلمانوں کو یزید بن مہلب کا ساتھ دینے سے منع کرتے تھے اور خوارج کا ساتھ دینے سے بھی منع کرتے تھے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اُسی زمانہ میں حضرت حسن بصری لوگوں کو جنگ و جدل سے باز رہنے اور فتنہ و فساد میں پڑنے سے خصوصاً خوارج سے علیحدہ رہنے کے لئے وعظ و تلقین کرتے رہتے تھے ۔ اِس بات کا علم جب یزید بن مہلب کے بیٹے اور بصرہ کے گورنر عبدالملک بن مہلب کو ہوا تو اُس نے حضرت حسن بصری کا نام لئے بغیر بہت کچھ اُن کے خلاف زہر اُگلا ۔اس نے کہا: ‘‘ یہ بڈھا اور گمراہ شخص جو دکھاوے کے لئے سب کچھ کہتا اور کرتا پھرتا ہے اگر اپنے کام سے باز نہیں آیا تو میں وہ سب کروں گا جو کرسکتا ہوں ۔’’ حضرت حسن بصری نے اُس کی بکواس سن کر فرمایا: ‘‘ اﷲ اُس کو ذلیل کرے اور مجھے اُس کی مطلق پرواہ نہیں ہے ۔’’
یزید بن مہلب کا قتل
عقر میں اہل بصرہ اور اہل شام کی فوجوں کے درمیان جنگ چل رہی تھی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : آٹھ دن تک مسلمہ بن عبدالملک اور یزید بن عبدالملک ایکدوسرے کے مقابلے پر بلا جدال و قتال پڑے رہے ۔ نویں روز جمعہ کے دن ماہ صفر المظفر 102 ھجری کو یزید بن مہلب نے صف آرائی کی اور عباس بن ولید نے بھی ایسا کیا۔ جنگ چھڑتے ہی حد سے زیادہ سخت ہو گئی ، مسلمہ بن عبدالملک نے پل کو جلوا دیا اور میدان جنگ دھویں سے بھر گیا ۔ یزید بن مہلب کی فوج یہ رنگ ریکھ کر بھاگ کھڑی ہوئی ۔ یزید بن مہلب اور اُس کے ہمراہی شکست کھا کر بھاگنے والوں کو مار مار کو روکنے لگے لیکن ہمت ہارے ہوئے سپاہی واپس نہیں لوٹے ۔ یزید بن مہلب اُن کی واپسی سے نا اُمید ہو کر میدان جنگ میں اپنے ہمراہیوں کے ساتھ آیا ۔ لوگوں نے کہا: ‘‘ تمہارا بھائی حبیب بن مہلب مارا گیا۔’’ یزید بن مہلب نے ایک سرد آہ کھینچ کر کہا: ‘‘ زندگی کا لطف نہ اس کی موت کے بعد ہے اور نہ اِس شکست کے بعد۔’’ اور تلوار نکال کر اہل شام پر ٹوٹ پڑا اور حملہ کرنے لگا اور لوگوں کو مارتا کاٹتا ہوا صفوں کو چیرتا ہوامسلمہ بن عبدالملک کی طرف بڑھا ۔ لشکر شام نے چاروں طرف سے اُس کو گھیر لیا اور اُسے اور اُسکے ہمراہیوں کو قتل کرڈالا جس میں اُس کا بھائی محمد بن مہلب بھی تھا ۔ جنگ ختم ہونے کے بعد مسلمہ بن عبدالملک نے یزید بن مہلب کا سر یزید بن عبدالملک کے پاس بھیج دیا ۔
آل مہلب کرمان کے پہاڑوں میں
اس جنگ میں یزید بن مہلب کا بھائی مفضل بن مہلب بھاگ کر واسط پہنچا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مفضل بن مہلب دوسری طرف لڑ رہا تھا اور اُس کو یزید بن مہلب کے قتل ہونے کا حال معلوم نہیں تھا ۔ تھوڑی دیر تک وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ جنگ کرتا رہا ۔ کسی وقت اُس کے ساتھی پیچھے ہٹ جاتے اور کسی وقت آگے بڑھ کر حملہ کرنے لگتے تھے ۔ سیہاں تک کہ اُسے یزید بن مہلب کے قتل اور شکست کی خبر ملی تو یہ سنتے ہی اُس کے ساتھ منتشر ہوگئے اور مفضل بن مہلب واسط کی جانب چلا گیا ۔ کامیابی حاصل کرنے کے بعد مسلمہ بن عبدالملک ‘‘حیرہ’’ میں آ کر مقیم ہوا ۔ واسط میں یزید بن مہلب کے قتل کی خبر پہنچی تو اُس کے بیٹے معاویہ بن یزید بن مہلب نے عدی بن ارطاۃ اور اُس کے بیٹے سمیت تیس قیدیوں کو قتل کر ڈالا اور مال و خزانہ لیکر بصرہ کا رُخ کیا ۔ اُس کا چچا مفضل بن مہلب بھی اُس سے آ ملا اور تمام آل مہلب کو کشتیوں پر سوار کرا کر قندابیل روانہ ہوگیا ۔ قندابیل کا گورنر وداع بن حمید تھا جس کو یزید بن مہلب نے اِس شرط پرمقرر کیا تھا کہ اگر اُس کو مسلمہ بن عبدالملک کے مقابلے میں شکست ہو گی تو وداع بن حمید اُس کے اہل و عیال کو پناہ دے گا ۔رفتہ رفتہ مفضل بن مہلب اور معاویہ بن یزید بن مہلب اور آل مہلب اپنے اہل و عیال کے ساتھ آ آ کر ‘‘کرمان’’ کے پہاڑوں میں جا اُترے اور شکست خوردہ بھی اُن کے پاس آ کر جمع ہونے لگے ۔
آل مہلب کا قتل
کرمان کے پہاڑوں میں آل مہلب اور اُن کے ساتھی جمع ہورہے تھے اور مسلمہ بن عبدالملک کو اُن کے جمع ہونے کی خبر مل رہی تھی ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مسلمہ بن عبدالملک نے مدرک بن حبیب کلبی کو فوج دیکر آل مہلب کو گرفتار کر کے لانے کے لئے بھیجا۔ مفضل بن مہلب اور اُس کے ساتھی لڑنے پر آمادہ ہو گئے اور جنگ شروع ہوگئی اور مفضل بن مہلب کو شکست ہوئی ۔ بقیہ آل مہلب قندابیل میں تھے ۔ مسلمہ بن عبدالملک نے ہلال بن احور تمیمی کو فوج دیکر روانہ کیا اور قندابیل میں اُس کی آل مہلب سے جنگ ہوئی ۔ ابھی جنگ پورے زور پر بھی نہیں آئی تھی کہ ہلال بن احور نے آل مہلب کا جھنڈا اُڑا دیا ۔ یہ دیکھ کر قندابیل کا گورنر وداع بن حمید وغیرہ امان کے لئے جھک پڑے اور یہ دیکھ کر لوگ بھاگ کھڑے ہوئے مگر آل مہلب غیرت کی وجہ سے لڑتے رہے اور تھوڑی دیر تک لڑے رہے اور ایک ایک کر کے قتل ہوتے رہے ۔ اِس جنگ میں مفضل بن مہلب ، عبدالملک بن مہلب ، زیاد بن مہلب اور مروان بن مہلب قتل ہوئے اور عینیہ بن مہلب ، عمر بن یزید بن مہلب اور عثمان بن مفضل بھاگ کر ترک بادشاہ رتبیل کے پاس چلے گئے ۔مسلمہ بن عبدالملک نے آل مہلب کی عورتوں کو فروخت کرنے کا ارادہ کیا تو جراح بن عبداﷲ نے ایک لاکھ درہم میْں خرید کر انہیں رہا کردیا تو مسلمہ بن عبدالملک نے اُس سے رقم نہیں لی ۔ آل مہلب کے تیرہ لوگوں کو قیدی بنا کر یزید بن عبدالملک کے پاس ملک شام بھیجا گیا تو اُس نے انہیں قتل کرادیا ۔ عینیہ بن مہلب کو اُس کی بہن ہند بنت مہلب نے امان حاصل کر کے بچا لیا اور عمر اور عثمان ایک زمانہ دراز تک رتبیل کے پاس رہے ۔پھر اسد بن عبداﷲ قسری نے امان دی اور وہ اس کے پاس خراسان میں آگئے ۔
ہشام بن عبدالملک اور ولید بن یزید کی ‘‘ولی عہدی’’
102 ھجری میں یزید بن عبدالملک نے اپنا ‘‘ولی عہد’’ مقرر کر دیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں :جن دنوں یزید بن عبدالملک نے اپنے بھائی مسلمہ بن عبدالملک اور بھتیجے عباس بن عبدالملک کو کو لشکر دیکر یزید بن مہلب سے نبٹنے کے لئے بھیجنے لگا تو عباس بن ولید نے کہا: ‘‘ امیر المومنین! اہل عراق بڑے غدار ہیں اور ہم کو اندیشہ ہے کہ آپ کے بعد یہ لوگ ہاتھ پاؤں پھیلائیں گے اور اِس وجہ سے ہماری قویٰ مضمحل ہو جائیں گے ۔ پس آپ ولید بن یزید کو ‘‘ولی عہد’’ بنا دیں ۔ ’’ مسلمہ بن عبدالملک کو اِس کی خبر ہوئی تو اُس نے حاضر ہو کر کہا: ‘‘ امیر المومنین! آپ کا بھائی ‘‘ولی عہدی’’ کا زیادہ مستحق ہے کیونکہ آپ کا بیٹا ابھی سن شعور کو نہیں پہنچا ہے ۔مناسب ہے کہ آپ ہشام بن عبدالملک کو اور اُس کے بعد اپنے بیٹے ولید بن یزید کو ‘‘ولی عہد’’ مقرر فرمایئے۔’’ ولید بن یزید کی عُمر اُس وقت گیارہ سال تھی اِسی لئے یزید بن عبدالملک نے ہشام بن عبدالملک کو اور اُس کے بعد ولید بن یزید کی ‘‘ولی عہدی کی بیعت لی ۔ اتفاق سے یزید بن عبدالملک کی زندگی میں ہی ولید بن یزید بالغ ہو گیا ۔ جب بھی وہ اس کو دیکھتا تو کہہ اُٹھتا تھا:‘‘ میرے اس کے درمیان ہشام ہے ۔’’
مسلمہ بن عبدالملک ملک عراق و ایران کا گورنر
یزید بن عبدالملک نے اپنے بھائی مسلمہ بن عبدالملک کو ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر بنادیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب مسلمہ بن عبدالملک ملک عراق میں یزید بن مہلب کے معاملے سے فارغ ہو گیا تو یزید بن عبدالملک نے اُسے کوفہ ، بصرہ اور خراسان کا گورنر بنا دیا ۔ اِس عہدہ پر فائز ہونے کے بعد مسلمہ بن عبدالملک نے محمد بن عمرو بن ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو کوفہ کا گورنر بنادیا اور بصرہ کا گورنر عبدالرحمن بن سُلیم کلبی بنادیا۔ اُس نے بصرہ والوں کو ڈانٹنے اور برا بھلا کہنے کا ارادہ کیا اور اِس بارے میں عمرو بن یزید سے مشورہ کیا تو اُس نے منع کیا اور اِس کی خبر مسلمہ بن عبدالملک کو دے دی ۔ جس کی وجہ سے مسلمہ بن عبدالملک نے عبدالرحمن بن سُیلم کا معزول کر کے اُس کی جگہ عبدالملک بن بن بشر بن مہران کو بصرہ کا گورنر بنا دیا ۔
خراسان اور سمرقند کے گورنر
مسلمہ بن عبدالملک کے ماتحت خراسان اور سمر قند بھی تھے اِسی لئے اُس نے اُن دونوں صوبوں پر بھی گورنر مقرر کئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 102 ھجری میں مسلمہ بن عبدالملک نے سعید بن عبدالعزیز بن حارث بن حکم بن عاص کو جسے ‘‘سعید خذینہ’’ بھی کہا جاتا تھا خراسان کا گورنر بنا کر بھیجا۔ جب وہ خراسان پہنچا تو اُس کی کمر کے پٹکے میں ایک چھری لگی ہوئی تھی ۔ ملک الغبر جب اُس سے ملنے آیا تو اُس وقت سعید بن عبدالعزیز رنگین لباس پہنے ہوئے بٹھا تھا اور اُس کے گرد رنگین گاؤ تکیے رکھے ہوئے تھے ۔ جب ملک الغبر ملاقات کر کے واپس آیا تو لوگوں نے اُس سے پوچھا کہ گورنر کو کیسا پایا تو اُس نے کہا: ‘‘ وہ خذینہ ہے اور اُس کے زلف سکینہ ہے ۔’’ سعید بن عبدالعزیز کو خراسان کا گورنر بنانے کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمہ بن عبدالملک کا داماد تھا۔ مسلمہ بن عبدالملک نے اُسے بھیجنے سے پہلے سورہ بن حُر کو خراسان بھیجا تھا اور اُس نے شعبہ بن ظہیر کو سمر قند کا گورنر بنا کر بھیجا ۔ اپنے خاندان کے پچیس آدمیوں کو لیکر شعبہ بن ظہیر سمر قند روانہ ہوا اور آمل کے راستہ سے بخارا آیا ۔ یہاں سے دو سو آدمی اُس کے ساتھ ہو گئے اور وہ سغد پہنچا۔ اہل سغد نے عبدالرحمن بن نعیم کی گورنری میں بغاوت کر دی تھی اور بعد میں اطاعت گذار ہو گئے تھے ۔ شعبہ بن ظہیر نے اہل سغد کے سامنے تقریر کی اور انہیں خوب ڈانٹا اور سغد میں بسے عربوں کو کہا کہ تم بزدل ہو گئے ہو ۔ عربوں نے اُس کے سامنے معذرت کی اور کہا :‘‘ ہمیں ہمارے فوجی گورنر علیاء بن حبیب نے بزدل بنا دیا ہے ۔ ’’
سعید بن عبدالعزیز کی سختی
خراسان کا گورنر بننے کے بعد سعید بن عبدالعزیز نے بہت بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب سعید بن عبدالعزیز خراسا ن آیا تو اُس نے عبد الرحمن بن عبداﷲ قشیری کے اُن تما م گورنروں کو جو حضرت عُمر بن عبدالعزیز کے دور حکومت میں مقرر کئے گئے تھے گرفتار کر کے قید کر دیا ۔ عبدالرحمن بن عبداﷲ نے اُن کی سفارش کی تو اُس نے کہا کہ ان کے پاس خراج کا روپیہ ہے ۔عبدالرحمن نے کہا کہ میں اس روپیہ کی ضمانت لیتا ہوں اور سات لاکھ درہم ضمانت کے طے ہوئے لیکن سعید نے بعد میں کوئی مطالبہ نہیں کیا ۔ اِس کے بعد اُس نے یزید بن مہلب کے مقرر کردہ گورنروں کو قتل کرنے کا حکم دے دیا لیکن ورقا نے اُن کی سفارش کر کے معافی دلوا دی ۔ اِس کے بعد سعید بن عبدالعزیز نے شعبہ بن ظہیر کو سمر قند کی گورنری سے معزول کر دیا اور عثمان بن عبداﷲ کو سمرقند کا گورنر بنا۔
ترکوں سے جہاد
اِس سال 102 ھجری میں ترکوں کے بادشاہ نے کورصول نامی شخص کو سپہ سالار بنا کر مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ترکوں کے خاقان نے ایک بہت بڑا لشکر مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لئے سغد بھیجا جس کا سپہ سالار ‘‘کورصول ’’ نام کے ایک شخص کو بنایا ۔ اُس نے آتے ہی ‘‘قلعہ باہلی’’ کا محاصرہ کر لیا جس میں بہت سے مسلمان رہتے تھے ۔ سمرقند کے گورنر عثمان بن عبداﷲ کو جب معلوم ہوا تو اُس نے مسیب بن بشر کو چار ہزار کی فوج دے کر روانہ کیا ۔ راستے میں مسیب بن بشر مسلمان مجاہدین کو تقریریں کر کر کے اُن کے جذبۂ شوق ِ شہادت کو ابھارتا رہا ۔ یہ سن کر راستے میں ہی دو ہزار تین سو واپس ہو گئے اور مسیب بن بشر کے ساتھ صرف سات سو مجاہدین رہ گئے ۔ انہی کو لیکر مسیب بن بشر ترکوں کے لشکر کی طرف بڑھا جس نے ‘‘قصر باہلی’’ کا محاصرہ کیا ہوا تھا ۔ مسلمان محصورین نے جب مسیب بن بشر اور کو دیکھ کر قسم کھائی کہ آخر تک لڑتے رہیں گے ۔ باہر سے مسیب بن بشر کے ساتھ مجاہدین نے ترکوں پر حملہ کر دیا اور قلعے کے اندر سے بھی مسلمانوں نے حملہ کر دیا ۔ اِس طرح ترکوں کو دونوں طرف سے مقابلہ کرنا پڑ رہا تھا ۔ مسلمان لڑتے لڑتے قومی شعار کے طور پر ‘‘یامحمداہ’’ کا نعرہ بلند کرتے تھے ۔ جب باہر والے
مجاہدین یہ نعرہ لگاتے تو اندر والے یہی نعرہ لگا کر جواب دیتے اور حملہ شدید کر دیتے تھے اور جب اندر والے یہ نعرہ لگاتے تو باہر والے مجاہدین جوابی نعرہ لگا کر تیز حملہ کر دیتے ۔ دونوں طرف گھمسان کا رن پڑا اور مسلمانوں نے بہت سے ترکوں کو قتل کر دیا ۔ جنگ کے دوران مسلمانوں کے گھوڑے اتنے زخمی ہو گئے کہ انہیں پیدل ہو کر لڑنا پڑا ۔ حالانکہ اِس جنگ میں ترکوں کی تعداد بہت زیادہ تھی لیکن مسیب بن بشر اور اُس کے ساتھیوں نے ایسی ثابت قدمی سے مقابلہ کیا کہ ترکوں کو شکست ہوئی اور وہ محاصرہ اُٹھا کر بھاگے ۔ مسلمانوں نے تمام محصورین کو بچا لیا جو ترک شکست کھا کر بھاگے تھے اُنہوں نے کہا: ‘‘ کل جن مسلمانوں سے ہماری جنگ ہوئی وہ یقینا انسان نہیں تھے ۔’’
اہل سغد کی بغاوت
اِس سال اہل سغد نے بغاوت کی تو خراسان کے گورنر نے اُن پر حملہ کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 102 ھجری میں سعید بن عبدالعزیز نے دریائے بلخ عبور کر کے سغد پر اِس لئے جہاد کیا کہ اہل سغد نے مسلمانوں کے خلاف ترکوں کی مدد کی تھی ۔ اِس مہم کی وجہ یہ تھی کہ ترکوں نے سغد میں مسلمانوں پر حملے شروع کر دیئے تھے ۔ لوگوں نے سعید بن عبدالعزیز سے کہا : ‘‘ تم نے جہاد ترک کر رکھا ہے اور ترکوں نے لوٹ مار مچا رکھی ہے اور جس کی وجہ سے اہل سغد بھی باغی ہو گئے ہیں ۔ اِس بنا پر اُس نے دریا عبور کیا مگر سمرقند سے آگے نہیں بڑھا ۔ دشمن کے سامنے پڑاؤ ڈالا تو اُس کے غلام نے کہا: ‘‘ جناب والا! حملہ کریں ۔’’ سعید خذینہ نے کہا: ‘‘ نہیں! یہ امیر المومنین کا خاص علاقہ ہے ۔’’ ابھی اُس کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ دھواں اُٹھا ۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اہل سغد نے سرکشی اور بغاوت کر دی ہے اور اُن کے ساتھ کچھ ترک بھی ہیں ۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں نے انہیں جا دبوچا ۔ اہل سغد شکست کھا کر بھاگے اور مسلمان اُن کا تعاقب کرنے لگے تو سعید خذینہ نے کہا: ‘‘ ان کا تعاقب نہ کیا جائے کیونکہ سغد امیر المومنین کا باغ ہے اور تم نے انہیں شکست دیکر بھگا دیا ہے ۔ اب کیا انہیں بالکل نیست و نابود کردینا چاہتے ہو؟ اے عراقیو! تم بھی کئی مرتبہ امیر المومنین سے بغاوت کر چکے ہو مگر انہوں نے تم سے در گزر کیا اور تمہارا استیصال نہیں کیا۔’’ اِس کے بعد سعید خذنیہ واپس آگیا ۔
مسلمہ بن عبدالملک کی معزولی
یزید بن عبدالملک نے ملک عراق کے گورنر اپنے بھائی مسلمہ بن عبدالملک کو معزول کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ‘‘اِس سال 102 ھجری میں مسلمہ بن عبدالملک کو ملک عراق اور خراسان کی گورنری سے معزول کر دیا گیا ۔ جب سے وہ گورنر بنا تھا تب سے خراج کا ایک پیسہ بھی امیرالمومنین کو نہیں بھیجا تھا یزید بن عبدالملک نے اُسے معزول کرنے کا ارادہ کیا لیکن بعد میں مروت مانع آئی ۔اِس لئے اُس نے مسلمہ بن عبدالملک کو لکھا :‘‘ تم کسی شخص کو اپنا جانشین بنا کر میرے پاس آؤ ۔’’ مسلمہ بن عبدالملک نے عبدالعزیز بن حاتم سے کہا : ‘‘ میں امیرالمومنین نے ملنے جارہا ہوں۔’’ اُس نے کہا: ‘‘ ابھی حال ہی میں تو تم مل کر آئے ہو اب ایسا کون سا معاملہ پیش آگیا ہے؟’’ مسلمہ بن عبدالملک سفر کی تیاری کرنے لگا تو عبدالعزیز بن حاتم نے کہا : ‘‘ اچھا تو پھر یہ سمجھ لو کہ تم اپنے علاقہ سے باہر نکلوگے اور اُدھر سے دوسرا شخص گورنر مقرر ہو کر تمہاری جگہ تمہیں آتا ہوا ملے گا۔ ’’ مسلمہ بن عبدالملک روانہ ہوا اور زیادہ دور نہیں پہنچا تھا کہ اُسے عمرو بن ہبیرہ آتا ہوا ملا ۔مسلمہ بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ کہاں جا رہے ہو؟ اُس نے کہا: ‘‘ امیر المومنین نے مہلب کی اولاد کے مال و متاع پر قبضہ کرنے کے لئے بھیجا ہے ْ اُس کے جانے کے بعد عبدالعزیز بن حاتم نے کہا: ‘‘ میں نے پہلے ہی تمہیں خبر کر دی تھی ۔’’ جب مسلمہ بن عبدالملک ملک شام میں پہنچا تو اُسے معلوم ہواکہ عمرو بن ہبیرہ کو ا’س کی جگہ گورنر بنا دیا گیا ہے ۔ اِس سال عمرو بن ہبیرہ نے آرمینیہ میں رومیوں سے جہاد کیا اور انہیں شکست دی اور سات سو قیدی گرفتار کر لئے ۔
خراسان میں ‘‘تحریک عباسیہ ’’ کا آغاز
اِس سال خراسان میں ‘‘خاندان ِ بنو عباس ’’کی تحریک شروع
ہوئی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 102 ھجری میں میسرہ نے ملک عراق سے اپنے قاصدوں کو خراسان بھیجا اور وہاں بنو عباس کی حمایت میں تحریک شروع ہوئی ۔ بنو تمیم کے ایک شخص عمرو بن بحیر بن ورقا نے سعید خذنیہ سے آکر کہا : ‘‘ یہاں کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے ہمارے مفاد کے خلاف باتیں کی ہیں۔’’ سعید خذنیہ نے اُن لوگوں کو بلوا کر کہا: ‘‘ تم کون ہو؟’’ انہوں نے کہا: ‘‘ ہم تاجر ہیں ۔’’ سعید خزنیہ نے پوچھا: ‘‘ تمہارے متعلق ایسی باتیں بتائی گئیں ہیں۔’’ انہوں نے لاعلمی ظاہر کی ۔ سعید خذنیہ نے کہا: ‘‘ تم لوگ داعی بن کر آئے ہو؟’’ انہوں نے جواب دیا : ‘‘ ہمیں ہماری تجارت سے ہی فرصت نہیں ملتی تو بھلا ہم یہ سب باتیں کیوں کرنے لگیں ۔’’پھر سعید خذنیہ نے لوگوں سے پوچھا : ‘‘ اِن لوگوں کو کون جانتا ہے؟ ’’ اِس پر خراسان میں رہنے والے بنو ربعہ کے جو اہل یمن تھے آئے اور ان کی ضمانت لی تو سعیدخذنیہ نے انہیں چھوڑ دیا ۔
افریقہ کے گورنر کا قتل
اِس سال افریقہ کے گورنر یزید بن ابی مسلم کا قتل وہاں کے باشندوں نے کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : افریقہ کے گورنر یزید بن ابی مسلم نے اپنے یہاں بھی وہی طریقہ اختیار کیا جو ملک عراق میں حجاج بن یوسف نے کیا تھا ۔ حجاج بن یوسف نئے اسلام قبول کرنے والوں سے بھی جزیہ وصول کرتا تھا۔ جب یزید بن ابی مسلم نے افریقہ میں یہی طریقہ اپنایا تو دارالخلافہ قیروان کے باشندوں نے مل کر اُس کا قتل کر دیا اور اُس کی جگہ محمد بن یزید انصار کے غلام کو جو پہلے بھی افریقہ کا گورنر رہ چکا تھا اُسے گورنر بنا لیا ۔ اِس کے بعد اہل قیروان نے اہل افریقہ کی طرف سے یزید بن عبدالملک کو کو لکھ بھیجا: ‘‘ ہم آپ کی اطاعت اور بیعت سے منحرف نہیں ہوئے ہیں مگر چونکہ یزید بن ابی مسلم نے ہم پر ایسی بات عائد کی تھی جسے اﷲ تعالیٰ پسند نہیں کرتا ہے اور نہ ہی مسلمان ۔ اِسی لئے ہم نے اسے قتل کر ڈالا اور آپ کے سابق گورنر کو اپنا گورنر بنا لیا ۔’’ اِس پر یزید بن عبدالملک نے جواب لکھا: ‘‘ جو کچھ بھی یزید بن ابی مسلم نے کیا تھا اُس میں میری رضامندی نہیں تھی ۔’’ اور اُس نے محمد بن یزید کو افریقہ کی گورنری پر برقرا رکھا ۔
ا102 ھجری کا اختتام
ا102 ھجری کا اختتام ہوا اور اِس سال کئی گورنر تبدیل ہوئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال کے اختتام پرعمرو بن ہبیرہ ملک عراق اور خراسان کا گورنر تھا ۔ محمد بن عمرو کوفہ کا گورنر تھا ۔ قاسم بن عبدالرحمن کوفہ کے قاضی تھے ۔ عبدالملک بن بشر بن مروان بصرہ کا گورنر تھا ۔ سعید خذنیہ خراسان کا گورنر تھا ۔ ملک مصر کا گورنر اسامہ بن زید تھا ۔ مکۂ مکرمہ کا گورنر عبداﷲ بن خالد تھا اور مدینۂ منورہ کا گورنر عبدالرحمن بن ضحاک تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔
ا102 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان
اِس سال جن لوگوں کا انتقال ہوا اُن میں سے چند یہاں پیش ہیں ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 102 ھجری میں ضحاک بن مزاحم ہلالی کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی ہیں ۔ سمرقند اور نیشا پور میں رہے ۔ضحاک بن مزاحم تفسیر کے امام تھے ۔ امام ثوری کہتے ہیں :‘‘ چار آدمیوں سے تفسیر حاصل کرو ، عکرمہ ، مجاہد ، سعید بن جبیر اور ضحاک سے ۔’’ امام احمد بن حنبل نے کہا: ‘‘ ضحاک بن مزاحم ثقہ ہیں۔ امام شعبہ نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے ان کی سماع کا انکار کیا ہے اور کہا کہ سعید نے جو کچھ بھی لیا ان سے لیا ہے ۔ سعید قطان نے ان کو ضعیف کہا ہے اور امام ابن حبان نے اِن کو ٹقات میں شمار کیا ہے ۔ اِس سال ابومتوکل ناجی کا انتقال ہوا ۔ اِن کا نام علی بن بصری ہے ۔ یہ جلیل القدر تابعی ہیں اور انتقال کے وقت اسی سال کی عُمر تھی ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

