57 سلطنت امیہ
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 57
ہشام بن عبدالملک کا دورِ حکومت، ہشام بن عبدالملک ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں، تحریک عباسیہ کی امداد، گورنروں کی تبدیلی، 105ھجری کا اختتام، 106 ھجری : رومیوں سے جہاد، ترکوں کی شکست، اسد بن عبداﷲ قسری خراسان کا گورنر، 106 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 107 ھجری : رومیوں سے بحری اور بری جنگ، اسد بن عبداﷲ قسری کا ترکوں سے جہاد، بلخ کو فوجی چھاونی بنا یا، 107 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، ترکوں سے جہاد، خاقان کی شکست، 108 ھجری میں انتقال کرنے والے
ہشام بن عبدالملک ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں
105 ھجری میں ‘‘سلطنتِ اُمیہ’’ کا حکمراں ہشام بن عبدالملک بنا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ماہ شعبان کے ختم ہونے میں دو راتیں باقی تھیں کہ ہشام بن عبدالملک ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں بنا ۔ یہ اُس سال پیدا ہوا جس سال حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ شہید ہوئے ۔ ہشام بن عبدالملک زیتونہ میں اپنے مکان کے ایک کمرہ میں تھا کہ اُس کے اُس کے بھائی یزید بن عبدالملک کے انتقال کی خبر ملی اور اُس کے ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کے حکمراں ہونے کی خوشخبری بھی ملی ۔ ہشام بن عبدالملک رصافہ پر سوار ہو کر دمشق آیا اور‘‘ قصر امارت’’ میں فروکش ہوا ۔
تحریک عباسیہ کی امداد
سلطنت اُمیہ میں خاندان عباسیہ خاموشی سے اپنی تحریک چلا رہا تھا ۔اُن کا ارادہ ‘‘اُمیہ خاندان’’ سے حکومت چھین کر ‘‘عباسیہ خاندان’’ کی حکومت قائم کرنا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 105 ھجری میں بکیر بن ماہان ملک سندھ (ہندوستان) سے آیا ۔ یہ ملک سندھ میں جنید بن عبدالرحمن کا ترجمان تھا ۔ جب جنید بن عبدالرحمن کو معزول کر دیا گیا تو بکیر بن ماہان کوفہ واپس آگیا ۔ اُس کے پاس چاندی کی چار اینٹیں اور سونے کی ایک اینٹ تھی ۔ یہ ابوعکرمہ صادق میسرہ ، محمد بن نتیس ، سالم اعین اور ابو یحییٰ بنو سلمہ کے آزاد غالم سے ملا ۔ اُن لوگوں نے اُس سے کہا: ‘‘ خاندان بنو ہاشم ( بنو عباس) کے لئے جو تحریک چلائی جا رہی ہے تم اُس میں شریک ہو جاؤ۔ بکیر بن ماہان نے اُن کی رائے کو قبول کیا اور جو کچھ اُس کے پاس تھا سب تحریک کی کامیابی کے لئے دے دیا اور محمد بن علی کے پاس آیا ۔ اِسی دوران میسرہ کا انتقال ہو گیا اور محمد بن علی نے میسرہ کی جگہ بکیر بن ماہان کو ملک عراق کا ‘‘تحریک کا داعی’’ مقرر کر دیا ۔
گورنروں کی تبدیلی
سلطنت اُمیہ کا حکمراں بننے کے بعد ہشام بن عبدالملک نے گورنروں کی تبدیلی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : 105 ھجری میں مملکت اسلامیہ کا حکمراں بننے کے بعد ہشام بن عبدالملک نے ہبیرہ بن عمرو کو معزول کر دیا اور خالد بن عبداﷲ قسری کوملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر بنا دیا ۔ خالد بن عبداﷲ قسری نے زیاد بن عبداﷲ کو ‘‘رے’’ کا گورنر مقرر کردیا ۔
105ھجری کا اختتام
105 ھجری کا اختتام ہوا اور اِس سال بھی مملکت اسلامیہ میں کئی گورنروں کی تبدیلی ہوئی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال کے اختتام پر ہشام بن عبدالملک نے خالد بن عبداﷲ کو ملک عراق و ایران اور خراسان کا گورنر مقرر کیا ۔ خراسان کا گورنر مسلم بن سعید تھا ۔ افریقہ اور اسپین کا گورنر وہی تھا جو پچھلے سال تھا ۔ ملک مصر کا گورنر بھی پچھلے سال کا ہی تھا ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر عبدالواحد بن عبداﷲ نضری تھا ۔ کوفہ کے قاضی حسین بن حسن کندی تھے اور بصرہ کے قاضی موسیٰ بن انس تھے ۔ اِس سال ابراہیم بن ہشام بن اسماعیل نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ جب وہ حج کرنے گیا تو عطاء بن رباح سے پوچھوایا:‘‘ میں مکۂ مکرمہ میں کس وقت خطبہ پڑھوں؟’’ عطا بن رباح نے کہا:‘‘ ظہر کی نماز کے بعد ذی الحجہ کی دسویں تاریخ سے ایک دن پہلے ۔’’ ابراہیم بن ہشام نے ظہر سے پہلے ہی خطبہ پڑھ دیا اور کہا: ‘‘ میرے قاصد کے ذریعہ عطاء بن رباح نے ایسا ہی حکم دیا تھا ۔’’ عطاء بن رباح نے کہا: ‘‘ نہیں! میں نے ایسا نہیں کہا تھا ۔’’ اِس کی وجہ سے ابراہیم بن ہشام جھینپ گیا اور مسلمانوں نے اُس کے اِس فعل کو ناواقفیت پر محمول کیا تھا ۔
106 ھجری : رومیوں سے جہاد
اِس سال مسلمانوں نے سعید بن عبدالملک کی قیادت میں رومیوں سے جہاد کیا ۔ ہشام بن عبدالملک نے اِس سال حرمین شریفین کے گورنر کو تبدیل کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 106 ھجری میں سعید بن عبدالملک موسم گرما میں مسلمانوں کو لیکر رومیوں سے جہاد کرنے گیا اور حجاج بن عبدالملک نے ‘‘لان’’ پر حملہ کر کے اُس کے باشندوں سے صلح کر لی اور انہوں نے جزیہ ادا کر دیا ۔ اِس سال ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کے حکمراں ہشام بن عبدالملک نے مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کے گورنر عبدالواحد بن عبداﷲ نضری کو معزول کر دیا اور اُس کی جگہ اپنے ماموں ابراہیم بن ہشام بن اسماعیل کو گورنر بنایا ۔
106 ھجری : ترکوں سے جہاد
106 ھجری میں ایک بار پھر مسلم بن سعید نے ترکوں سے جہاد کرنے کے لئے لشکر جمع کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال مسلم بن سعید اپنی فوج لیکر ترکوں کی طرف روانہ ہوا اورجب بخارا پہنچا تو اُسے ملک عراق کے گورنر خالد بن قسری کا خط ملا جس میں خالد بن عبداﷲ قسری کے ملک عراق کا گورنر بننے کا ذکر لکھا تھا اور اُس نے حکم دیا : ‘‘ تم اِس جہاد کو پورا کر لو۔’’ مسلم بن سعید اپنی فوج لیکر فرغانہ کی طرف بڑھا ۔ اِس موقع پر ابوضحاک رواحی جو قبیلہ بنو عبس کے خاندان رواحہ کا تھا نے اعلان کر دیا :‘‘ اِس سال جو شخص پیچھے رہ جائے گا اُس پر کوئی جرم نہیں۔’’ یہ سن کر چار ہزار مجاہدین مسلم بن سعید کو چھوڑ کر واپس چلے گئے ۔جب وہ اپنا لشکر لیکر فرغانہ پہنچا تو اُسے معلوم ہوا کہ ترک خاقان اُس کے مقابلے کے لئے ایک بہت ہی بڑا لشکر جرار لیکر آیا ہے ۔ وادئ سیوح عبور کرتے ہیں خاقان اپنے لشکر کے ساتھ سامنے آگیا ۔ مسلم بن سعید کے لشکر کے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کے کمانڈر عبداﷲ بن ابی عبداﷲ نے مشہور شہسواروں کو دشمن کو روکنے کے لئے اُتار دیا ۔ ترکوں نے اُن پر حملہ کیا اور سب کو شہید کر ڈالا ۔اِس معرکہ میں مسیب بن بشر اور براء جو آل مہلب کے مشہور بہادر سرداروں میں سے تھے شہید ہو گئے اور ترک بادشاہ غورک خان کا بھائی بھی میدان جنگ میں مارا گیا لیکن ترک مسلمانوں کے پڑاؤ میں داخل ہو گئے ۔
ترکوں کی شکست
ترکوں کا بادشاہ خاقان ایک بہت ہی بڑا لشکر لیکر مسلمانوں کے مقابلے پر آیا تھا اور پہلے حملے میں مسلمانوں کو پیچھے دھکیل دیا اور پھر مسلمانوں کے پورے لشکر کو گھیر ے میں لے لیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مگر اب مسلمان ترکوں پر جھپٹ پڑے اور انہیں مسلمانوں کے پڑاؤ سے نکال دیا ۔ مسلم بن سعید نے لشکر کا جھنڈا عامر بن مالک حمانی کو دیا اور لشکر لیکر واپس ہوا ۔ ترک لشکر مسلمانوں کے لشکر کو گھیرے ہوئے تھا ۔ آٹھ روز تک برابر چلتے رہے مگر ترک بھی برابر مسلمانوں کو گھیرے رہے ۔ جب نویں رات ہوئی تو مسلم بن سعید نے قیام کا ارادہ کیا اور مسلمانوں سے اِس بارے میں مشورہ لیا تو سب نے قیام کا مشورہ دیا اور کہا: ‘‘ صبح کے وقت ہم پانی کے پاس جا کر اُتریں گے اور اگر ہم نے پہاڑ کے درے میں پڑاؤ ڈالا تو دشمن ہماری فرو گاہ کو لوٹ کر لے جاسکتا ہے ۔ ’’ مسلم بن سعید نے پڑاؤ ڈالنے کا حکم دے دیا رات میں مسلمانوں کو حکم دیا کہ برتنوں اور دوسرے سامان جن کی وجہ سے بوجھ بڑھ گیا ہے سب جلا ڈالو۔ مسلمانوں نے اُس رات دس لاکھ کی قیمت کا سامان جلا ڈالا۔ صبح ہوتے ہی مسلم بن سعید نے مسلمانوں کو کوچ کا حکم دیا اور پانی کے قریب جا کر پڑاؤ ڈال دیا اور صف بندی کر لی ۔ وہاں دیکھا کہ اہل فرغانہ اور اہل شاش دریا کے آگے مزاحمت کے لئے مستعد ہیں ۔ اُس وقت مسلم بن سعید نے مجاہدین کو حکم دیا کہ اب دشمن پر حملہ کرو ۔ سب نے حکم کی تعمیل کی جہاں تک نظر جاتی تھی مسلمانوں کی تلواریں ہی تلواریں نظر آتی تھیں ۔ اُس دن مسلمان اپنی جگہ قیام پذیر رہے اور
دوسرے دن مسلم بن سعید کے حکم سے دریا عبور کیا ۔ خاقان کے ایک بیٹے نے مسلمانوں کا تعاقب کیا ۔ حمید بن عبداﷲ جو مسلمانوں کا ‘‘ساقہ’’ کا کمانڈر تھا ۔اُس نے مسلم بن سعید سے کہا : ‘‘ذرا دیر رک جاؤ ۔’’ پھر ساقہ کے ساتھ ترکوں پر ٹوٹ پڑا اور انہیں شکست دیکر پیچھے دھکیل دیا اور اُن کے سات سرداروں کو قید کر لیا ۔ ایک تیر اُسے آکر لگا اور وہ شہید ہو گیا ۔اِس کے بعد مسلمانوں نے ترکوں پر ایسا شدید حملہ کیا کہ انہیں شکست ہوئی اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگے ۔
اسد بن عبداﷲ قسری خراسان کا گورنر
اِس سال ہشام بن عبدالملک نے ملک عراق وایران اور تمام مشرقی ممالک کے گورنر خالد بن عبداﷲ کو حکم دیا کہ مسلم بن سعید کو خراسان کی گورنری سے معزول کر دو اور اپنے بھائی اسد بن عبداﷲ قسری و خراسان کا گورنر بنا دو۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس سال 106 ھجری میں خالد بن عبداﷲ قسری ملک عراق کا گورنر مقرر ہو کر کوفہ آیا اور اپنے بھائی اسد بن عبداﷲ کو خراسان صوبہ کا گورنر بنایا۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِسی اثناء میں دارالخلافہ سے ایک فرمان آپہنچا جس میں اسد بن عبداﷲ قسری کو خراسان کی گورنری اور عبدالرحمن بن نعیم کو اُس کی نیابت دی گئی تھی ۔ مسلم بن سعید نے فرمان کو آنکھوں سے لگا کر پڑھا اور بسرو چشم اس کی تعمیل کی ۔ جس وقت خالد بن عبداﷲ قسری نے اپنے بھائی اسد بن عبداﷲ قسری کو خراسان کی گورنری کی ‘‘سند’’ دی اور وہ خراسان کی طرف روانہ ہوا تو اُن دنوں مسلم بن سعید فرغانہ میں تھا ۔ نہر پر پہنچ کر اسد بن عبداﷲ قسری نے نہر عبور کرنے کا قصد کیا تو اشہب بنعبداﷲ تمیمی جو آمد کا ‘‘امیرالبحر’’ تھا عبور کرنے سے مانع ہوا ۔ اسد بن عبدا قسری نے ‘‘سندِ گورنری’’ دکھلائی تو اشہب بن عبداﷲ نے نہر عبور کرنے کی اجازت دے دی ۔ نہر عبور کرنے کے بعد اسد بن عبداﷲ قسری ‘‘مرج’’ میں آکر ٹھہر گیا ۔ سمرقند کے گورنر ہانی بن ہانی نے اُس کی آمد کی خبر سن کر شہر کے رؤساء کے ساتھ آیا اور کمال عزت و احترام سے سمرقند لے گیا ۔ اسد بن عبداﷲ قسری نے سمرقند سے لشکر کی سپہ سالاری کی سند عبدالرحمن بن نعیم کے نام ایک شخص کی معرفت روانہ کی تو وہ مجاہدین کو لیکر سمرقند آیا ۔ اِس کے بعد ہانی بن ہانی کو معزول کر کے اُس کی جگہ سمر قند کا گورنر حسن بن ابی عمرطہ کندی کو بنایا ۔
106 ھجری کا اختتام
106 ھجری کے اختتام پر مملکت ِ اسلامیہ کے کئی گورنر تبدیل ہو چکے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال کے اختتام پر ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ خالد بن عبداﷲ قسری تھا ۔ بصرہ میں خالد بن عبداﷲ کی طرف سے عبد بن عبدالاعلیٰ نماز کے امام مقرر تھے ۔ مالک بن منذر کوتوال تھا ۔ثمامہ بن عبداﷲ بصرہ کے قاضی تھے ۔ اسد بن عبداﷲ قسری خراسان کا گورنر تھا ۔ افریقہ ، اسپین اور ملک مصر کے گورنر وہی تھے جو پچھلے سال تھے ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر ابراہیم بن ہشام تھا ۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ۱۰۶ ھجری میں ہشام بن عبدالملک نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ اور ابوزناد کو حکم دیا کہ اُس کے مدینۂ منورہ میں داخل ہونے سے پہلے وہ اُس سے مل لے اور مناسک حج کی تعلیم دے ۔ اِس کی تعمیل کی گئی اور لوگوں نے مدینۂ منورہ کے راستے میں احکام حج سیکھے ۔
106 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان
اِس سال جن کا انتقال ہوا اُن میں سے چند اعیان یہ ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 106 ھجری میں حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بیٹے سالم بن عبداﷲ بن عُمر بن خطاب کا انتقال ہوا ۔ اِن کی کنیت ‘‘ابو عمرو ’’ تھی ۔ یہ بڑے زبردست فقیہ اور عالم تھے ۔ انہوں نے اپنے والد ِ محترم حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے بہت سی روایات بیان کی ہیں اور اِن کا شمار عابدوں اور زاہدوں میں ہوتا تھا ۔ ہشام بن عبدالملک اپنی حکمرانی کے زمانے میں حج کرنے گیا تو اِن سے کہا: ‘‘ مجھ سے کچھ مانگیں۔’’ انہوں نے فرمایا :‘‘ دنیا مانگوں یا آخرت؟’’ ہشام بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ دنیا کی کوئی چیز مانگیں۔’’ انہوں نے فرمایا: ‘‘ جس نے دنیا بنائی ہے اُسے میں نے دنیا نہیں مانگی تو تم سے کیا مانگوں؟’’ آپ ہمیشہ دو موٹے ٹاٹ کے کپڑے پہنتے تھے اور کبھی کسی حکمراں سے کچھ نہیں لیا ۔ اِس سال امام طاوؤس بن کیسان یمانی کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی تھے اور حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کے خاص شاگردوں میں سے ہیں۔انہوں نے بہت سے صحابۂ کرام سے روایات بیان کی ہیں۔ یہ فقہ کے بہت بڑے امام تھے اور اِن سے بڑے بڑے تابعین نے روایات لی ہیں ۔ جن میں امام مجاہد ، امام عطاع ، عمرو بن دینا ، عبدالکریم بن مخارق ، ابراہیم ، ابن میسرہ ، امام زہری (محمد بن منذر) حبیب بن ثابت ، ضحاک بن مزاحم عبدالملک بن میسرہ اور وہب بن منبہ اور اُن کے بیٹے عبداﷲ بن طاوؤس وغیرہ ہیں ۔ آپ کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ حج کرتے ہوئے انتقال ہوا اور ہشام بن عبدالملک نے نماز جنازہ پڑھائی ۔
107 ھجری : رومیوں سے بحری اور بری جنگ
اِس سال مسلمانوں نے رومیوں سے بری اور بحری دونوں جنگ کی یعنی مسلمان رومیوں سے زمین پر بھی لڑے اور پانی پر بھی لڑے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال معاویہ بن ہشام موسم گرما کی مہم لیکر جہاد کے لئے روانہ ہوا ۔ میمون بن مہران ملک شام کی فوج کا سپہ سالار تھا ۔ معاویہ بن ہشام نے سمندر کو طے کیا اور جزیرہ ‘‘قبرص’’ پر آیا ۔ اُس کے ساتھ وہ امدادی فوج تھی جس کی بھرتی کا ہشام نے ۱۰۶ ھجری میں حکم دیا تھا اور اِن کی تنخواہیں 107 ھجری میں باقاعدہ مقرر کی گئی تھیں۔ اِن میں سے آدھے لوگ جہاد کے لئے گئے اور آدھے ملک شام میں رہے ۔ اِس سال مسلمہ بن عبدالملک نے خشکی پر رومیوں سے جہاد کیا ۔ اِس سال ملک شام میں شدید طاعون کی وباء پھیلی تھی ۔
خراسان میں تحریک عباسیہ کے کارکنوں کا قتل
خاندان ِ بنو عباسیہ کی خفیہ تحریک خاموشی سے چل رہی تھی لیکن خراسان کے گورنر اسد بن عبداﷲ کو اِس خفیہ تحریک کے بارے میں پتہ چل گیا تو اُس نے خراسان کے تمام کارکنوں کا قتل کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 107 ھجری میں بکیرہ بن ماہان نے ابو عکرمہ ، ابو محمد صادق ، محمف بن خنیساور عمار عبادی کو کچھ اپنے طرف داروں کے ساتھ جن کے ہمراہ زیادہ ولید ارزق کا ماموں بھی تھا ۔اپنے اغراض و مقاصد کی اشاعت و تبلیغ کے لئے خراسان بھیجا ۔ بنو کندہ کے ایک شخص نے خراسان کے گورنر اسد بن عبداﷲ قسری کے سامنے ان کی چغلی کردی ۔ ابو عکرمہ ، محمد بن خنیس اور اُن کے تمام ساتھیوں کو گرفتار کر کے اسد بن عبداﷲ قسری کے سامنے لایا گیا لیکن عمار عبدی بچ کر نکل گیا ۔ جو لوگ قبضے میں آگئے تھے اُن کے ہاتھوں اور پاؤں کو کاٹ کر سولی پر لٹکا دیا گیا ۔ عمار عبدی واپس بکیر بن ماہان کے پاس آیا اور پوری سرگذشت سنائی ۔ بکیر بن ماہان نے تمام ماجرا علی بن محمد کو لکھ بھیجا ۔ محمد بن علی نے جواب دیا : ‘‘ تما م تعریف اُسی اﷲ کے لئے ہے جس نے تمہاری خبر اور دعوت کو سچ کیا ہے ۔ تم میں سے جو بچ گئے ہیں وہ بھی عنقریب مارے جائیں گے ۔’’
اسد بن عبداﷲ قسری کا ترکوں سے جہاد
اِس سال خرسان کا گورنر لشکر لیکر ترکوں سے جہاد کرنے کے لئے گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 107 ھجری میں اسد بن عبداﷲ قسری نے نمرون کے پہاڑوں اور علاقہ غرشستان پر جو طالقان کے پہاڑوں سے متصل تھے جہاد کیا ۔ نمرون کے بادشاہ نے اُس سے صلح کر لی اور اُسی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ۔ یہاں کے باشندے آج تک ( علامہ محمد بن جریر طبری کے زمانہ تک ) یمنیوں کے موالی ہیں ۔(اسد بن عبداﷲ قسری یمنی تھا) اِس کے بعد اسد بن عبداﷲ قسری نے ‘‘غور’’ پر جو ‘‘ہرات’’ کا پہاڑی علاقہ ہے جہاد کیا ۔ جب اُس نے غور پر چڑھائی کی تو وہاں کے تمام باشندوں نے اپنے تمام مال و متاع کو ایک ایسے عمیق غار میں ڈال دیا جہاں تک پہنچان غیر ممکن تھا ۔ اسد بن عبداﷲ نے صندوق بنوائے اور اُن میں آدمیوں کو بٹھا کر رسیوں کے ذریعہ نیچے اُتارا اور یہ لوگ جس قدر مال و متاع نکال سکے نکال لائے ۔
بلخ کو فوجی چھاونی بنا یا
اِس سال اسد بن عبداﷲ نے مسلمانوں کی فوجی چھاونی کو بلخ میں منتقل کر دیا ۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ بلخ ترکی سرحد سے زیادہ قریب تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال اسد بن عبداﷲ قسری نے بروقان کی متعنہ فوج کو بلخ میں منتقل کر دیا اور جن جن لوگوں کے بروقان میں مکان تھے انہیں بلخ میں مکانات بنوا کر دیئے اور جن کے نہیں تھے اُن کو بھی بنوا کر دیئے اور ارادہ کیا کہ اپنی فوج کو پانچ الگ الگ حصوں میں تقسیم کر کے علیحدہ علیحدہ بسا دے لیکن اُس کے دوستوں نے ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا: ‘‘ اِس طرح اُن میں گروہ بندی ہو جائے گی جس سے جھگڑے پیدا ہوں گے ۔’’ اِسی لئے اُس نے سب کو خلط ملط کر کے بسا دیا ۔ شہر کی تعمیر کے لئے اُس نے معمار اور مزدور مقرر کئے اور خالد بن برمک کے باپ کو شہر کی تعمیر کا مہتمم (انجنیئر) مقرر کر دیا ۔ بروقان میں زیادہ تر کمانڈر اور روساء رہتے تھے ۔ اُس کے اور بلخ کے درمیان دو فرسخ کا فاصلہ تھا ۔
107 ھجری کا اختتام
107 ھجری کا اختتام ہوا ۔ اِس سال کے اختتام پر مملکت اسلامیہ میں تمام گورنر وہی رہے جو پچھلے سال کے اختتام پر تھے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ملک یمن میں ایک شخص عباد رعینی نے خوارج کا مذہب اختیار کیا اور اُس کی اتباع میں اچھی خاصی تعداد میں لوگوں نے اُس مذہب کو اختیار کر لیا ۔ اِن لوگوں سے ملک یمن کے گورنر یوسف بن عمر نے قتال کیا اور اُس کو اُس کے تین سو ساتھیوں کے ساتھ قتل کر ڈالا۔ اِس سال مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کے گورنر ابراہیم بن ہشام نے مسلمانوں کو حج کرایا۔
107 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان
اِس سال جن کا انتقال ہوا اُن میں سے چند اعیان یہ ہیں ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 107 ھجری میں سلیمان بن یسار کا انتقال ہوا۔ یہ عطاء بن یسار کے بھائی ہیں اور اِن سے بہت سی روایات منقول ہیں ۔ عبادت میں مجتہدین میں شمار ہوتے تھے ۔ اِس سال عکرمہ مولیٰ ابن ابن عباس کا انتقال ہوا ۔ یہ تابعی ہیں اور مفکر و مکثر ہونے کے علاوہ علماء ربانین میں شمار ہوتے تھے ۔ اِن کی کنیت ابو عبادﷲ تھی ۔ انہوں نے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی کثیر تعداد سے روایات بیان کی ہیں ۔ یہ صاحب ِ علم و فن تھے اور اپنے آقا حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کی زندگی میں فتوے بھی دیا کرتے تھے ۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ میں نے چالیس سال علم حاصل کیا ۔ مشہور ہے کہ سفیان ثوری کا قول ہے کہ مناسک لینا ہے تو وہ سعید بن جبیر ، مجاہد اور عکرمہ سے لو اور تفسیر لینا ہے تو چار آدمیوں سعید بن جبیر ، مجاہد ، عکرہ اور ضحاک سے لو۔
108 ھجری : رومیوں سے جنگ
108 ھجری میں مسلمانوں نے رومیوں کے کئی علاقوں پر حملہ کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال مسلمہ بن عبدالملک نے رومیوں سے جہاد کیا اور شہر قیساریہ تک جو جزیرہ سے متصل واقع ہے جا پہنچا ۔ اﷲ تعالیٰ نے اِس شہر کو اُس کے ہاتھوں فتح کرایا ۔ اِس سال ابراہیم بن ہشام نے بھی رومیوں کے خلاف جہاد کیا اور اُن کے ایک قلعہ کو فتح کر لیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ۱۰۸ ھجری میں معاویہ بن ہشام بن عبدالملک نے بھی ارض روم پر جہاد کا سلسلہ جاری رکھا اور اُس نے بڑے بڑے بہادروں کو بھی لشکر کے ساتھ روانہ کیا ۔ انہوں حنجرہ فتح کیا اور بہت سا مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا ۔
ترکوں سے جہاد
اِس سال 108 ھجری میں اسد بن عبداﷲ نے پھر ترکوں سے جہاد کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال اسد بن عبداﷲ نے ختل سے جہاد کیا ۔ علی بن محمد بیان کرتے ہیں کہ خاقان نے اسد بن عبداﷲ کو آلیا مگر پھر اسد بن عبداﷲ ‘‘قواریان’’ کی طرف پلٹ گیا اور
دریا کو عبور بھی کر آیا اِس لئے ان دونوں میں کوئی جنگ نہیں ہوسکی ۔مگر ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں کہ ترکوں نے اسد بن عبداﷲ کو شکست دی اور اُس کا سخت نقصان کیا ۔واپسی میں اسد بن عبداﷲ نے ظاہر کیا کہ وہ ‘‘سرخ درہ’’ میں موسم سرما بسر کرنا چاہتا ہے مگر پھر اُس نے لوگوں کو کوچ کا حکم دیا اور سب چل پڑے ۔ اسد بن عبداﷲ بن اپنے جھنڈے سامنے بڑھادیئے ۔ فوج نے تکبیر کہنا شروع کر دیا ۔ اسد بن عبداﷲ نے پوچھا : ‘‘ یہ کیا ہے؟’’ لوگوں نے کہا: ‘‘ عربیوں کا شیوہ ہے کہ جب وہ واپس پلٹتے ہیں تو تکبیر کہتے ہیں۔’’ اِس پر اسد بن عبداﷲ نے فوج کے نقیب عروہ سے کہا کہ اعلان کردو کہ امیر ‘‘غوریان’’ جانا چاہتے ہیں۔ ’’ جب مسلمان غوریان پہنچ گئے تب خاقان آیا ۔ اسد بن عبداﷲ نے دریا عبور کر لیا اور نہ مسلمانوں نے ترکوں کا سامنا کیا اور نہ ترکوں نے انہیں چھیڑا۔
خاقان کی شکست
اِس سال خاقان نے آذربائیجان پر حملہ کیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 108 ھجری میں خاقان آذربائیجان کی طرف بڑھا اور اُس نے شہر ‘‘ورثان’’ کا محاصرہ کر لیا اور اُس پر منجنیقوں سے سنگ باری کی تو اُس کی سرکوبی کے لئے اس علاقہ کے گورنر مسلمہ بن عبدالملک نے کمانڈر عمرو بن حارث کو فوج دیکر سپہ سالار بنا کر بھیجا ۔ اُس کی خاقان سے جنگ ہوئی اور زبردست مقابلے کے بعد مسلمانوں نے خاقان کے بہت سے سپاہیوں کو قتل کر دیا ۔ جب خاقان کے بہت سے سپاہی مارے گئے تو وہ بھی فرار ہو گیا لیکن اِس جنگ میں حارث بن عنرو بھی شہید ہو گیا ۔
108 ھجری کا اختتام
108 ھجری کے اختتام پر ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر خالد بن قسری تھا ۔ ملک یمن کا گورنر یوسف بن عمر تھا ۔ افریقہ ملک مصر اور اسپین کے گورنر وہی تھے جو پچھلے سال تھے ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر ابراہیم ہشام تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔
108 ھجری میں انتقال کرنے والے
اِس سال میں انتقال کرنے والے چند اعیان یہ ہیں ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 108 ھجری میں ابوبکر بن عبداﷲ بصری کا انتقال ہوا ۔ یہ عالم و عابد و زاہد اور متواض انسان تھے ۔ یہ ‘‘قلیل الکلام’’ مشہور تھے اور انہوں نے بہت سے صحابہ اور تابعین سے روایات بیان کی ہیں ۔ اِس سال راشد بن سعد متوانی حمصی کا انتقال ہوا ۔ یہ طویل عرصہ زندہ رہے اور کثیر صحابہ رضی اﷲ عنہم کے راوی ہیں ۔ یہ عابد و زاہد اور صالح انسان تھے ان کی سیرت بڑی طویل ہے ۔ اِس سال محمد بن کعب قرضی کا انتقال ہوا اور صحابہ رضی اﷲ عنہم کی متعددبہ جماعت سے روایات کے ناقل ہیں ۔ یہ عالم ، عابد اور صالح انسان تھے اور قرآن پاک کے اچھے مفسر تھے ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں