اتوار، 17 مارچ، 2024

56 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya part 56


 سلطنت امیہ56

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 56

ا103 ھجری : سعید خذینہ کی معزولی، خراسان کے نئے گورنر کا خوف، اہل سغد ‘‘درۂ عصام’’ میں آباد، 103 ھجری کا اختتام، 103 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، اہل سغد پر حملہ، اہل سغد کا قتل عام، سیدہ فاطمہ بنت حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہا کی فریاد، عبدالواحد بن عبداﷲبن بشر نضری مدینۂ منورہ کا گورنر، عبدالرحمن بن ضحاک کا انجام، سلطنت ِ عباسیہ کے پہلے حکمراں کی پیدائش، 104 ھجری کا اختتام، 104 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 105 ھجری : رومیوں اور ترکوں سے جہاد، یزید بن عبدالملک کا انتقال، 


ا103 ھجری : سعید خذینہ کی معزولی


مسلمہ بن عبدالملک نے سعیدخذینہ کو خراسان کا گورنر بنایا تھا لیکن جب اُس کی جگہ ملک عراق اور خراسان کا گورنر عمرو بن ہبیرہ بنا تو اُس نے سعید خذینہ کو معزول کر کے اپنا گورنر مقرر کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 103 ھجری میں عمرو بن ہبیر ہ نے سعید خذینہ کو خراسان کی گورنری سے معزول کر دیا اور اُس کی جگہ سعید بن عمرو بن اسود بن مالک بن کعب حرشی کو خراسان کا گورنر مقرر کیا ۔ سعید خذینہ کو پنی برطرفی کی اطلاع اُس وقت ملی جب وہ سمر قند کے دروازے پر جہاد میں مصروف تھا ۔ برطرفی کے بعد وہ واپس پلٹ آیا اور ایک ہزار شہسوار سمرقند میں چھوڑ دیئے ۔سعید خذینہ نے صوبہ خراسان میں جن علاقوں پر اپنے گورنر مقرر کر رکھے تھے انہیں سعید بن عمرو حرشی نے معزول نہیں کیا بلکہ سب کو گورنری پر برقرار رکھا ۔


خراسان کے نئے گورنر کا خوف


سعید بن عمرو حرشی جب خراسان کا گورنر بن کر آیا تو اُس وقت پچھلا گورنر سمرقند کے دروازے پر اہل فرغانہ اور ترکوں سے جنگ کر رہا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب عمرو بن ہبیرہ ملک عراق کا گورنر بنا تو اُس نے یزید بن عبدالملک کو اُن لوگوں کے نام لکھ کر بھیجے جنہوں نے یزید بن مہلب کے خلاف ‘‘جنگ عقر’’ میں شجاعت اور جوانمردی کا مظاہرہ کیا تھا ۔ خط پڑھ کر یزید بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ عمر بن ہبیرہ نے سعید بن عمرو حرشی کا ذکر کیوں نہیں کیا ؟’’ پھر اُسے لکھا: ‘‘ سعید بن عمرو حرشی کو خراسان کا گورنر مقرر کر دو۔’’ اُس نے سعید بن عمرو حرشی کو گورنر کی سند دیکر خراسان روانہ کیا ۔ جب سعید بن عمرو حرشی خراسان آیا تو اُس وقت مسلمان دشمن کے مقابلہ پر تھے اور انہیں دشمنوں کے مقابلہ میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا ۔ سعید بن عمرو حرشی نے اُن کے سامنے تقریر کی اور جہاد پر اُبھارا اور کہا: ‘‘ تم اسلام کے دشمنوں سے تعداد اور سامان جنگ کی وجہ سے نہیں فتح حاصل کرتے ہو بلکہ اﷲ کی مدد اور اسلام کی عزت کی وجہ سے تمہیں فتح حاصل ہوتی ہے ۔اِس لئے لا حول ولا قوۃ الاباﷲصرف اﷲ ہی کو طاقت اور قوت حاصل ہے ۔’’ اِس کے بعد اُس نے حملہ کیا تو دشمنوں کو شکست ہوئی ۔ اہل سغد اپنے شہروں کو چھوڑ کر فرغانہ چلے گئے اور وہاں کے بادشاہ سے مسلمانوں کے مقابلہ میں امداد کے طالب ہوئے ۔ اہل سغد نے سعید خذینہ کے خلاف جنگوں میں ترکوں کی امداد کی تھی ۔ اِسی لئے سعید بن عمرو حرشی کے خلاف انہیں اپنی جانوں کا خوف ہوا اور اُن کے سرداروں نے اپنے ملک سے چلے جانے کا ارادہ کر لیا ۔ مگر اُن کے بادشاہ نے کہا: ‘‘ ایسا نہ کرو! یہیں رہو اور پچھلے سال کا خراج لیکر خراسان کے نئے گورنر کے پاس جاؤ اور اگلے سالوں کے خراج کی ضمانت دے دو اور وعدہ کرو کہ زمینوں کو آباد کریں گے اور اگر وہ چاہے تو ہم اُس کے ساتھ جہاد میں شریک ہوں گے ۔ اپنے گذشتہ طرز عمل کی معذرت کرو اور اپنے یرغمال اُس کے حوالے کر دو۔’’ 


اہل سغد ‘‘درۂ عصام’’ میں آباد


اہل سغد کو بادشاہ نے جو مشورہ دیا اُسے انہوں نے قبول نہیں کیا اور فرغانہ کے بادشاہ سے امداد طلب کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مگر رعایا نے کہا: ‘‘ ہمیں ڈر ہے کہ وہ خوش نہیں ہوگا اور نہ ہی ہماری بات کو قبول کرے گا ۔ ہم خجندہ چلے جاتے ہیں اور اُس کے بادشاہ کے پاس پناہ لیں گے ۔ ’’ بادشاہ نے کہا: ‘‘ میں بھی تم میں سے ہی ہوں اور جو مشورہ میں نے تمہیں دیا تھا وہ تمہاری بھلائی کے لئے دیا تھا ۔’’ مگر انہوں نے بادشاہ کا کہنا نہیں مانا اور خجندہ کی طرف چلے ۔ کاعزنج ، کشین ، بمیارکث اور ثابت باشندگان ِ اشتخن کو لے کر نکلے اور فرغانہ کے بادشاہ ‘‘طاؤ’’ کو لکھا کہ آپ ہماری حفاظت کریں اور ہمیں اپنے شہروں میں رہنے کی جگہ دیں ۔ اُس کی والدہ نے کہا: ‘‘ اِس شیطانوں کو اپنے دارالسلنطت میں نہیں رہنے دینا بلکہ اِن کے لئے کوئی قصبہ خالی کرادو جہاں یہ لوگ رہیں۔’’ بادشاہ نے اُن کو کہلا بھیجا: ‘‘ کسی قصبہ کو تم بتاؤ ! میں اُسے تمہارے لئے خالی کرا دیتا ہوں اور اِس کے لئے مجھے چالیس دن کی مہلت دواور اگر تم چاہو تو میں ‘‘درہ ٔعصام’’ (عصام بن عبداﷲ باہلی کو قتیبہ بن مسلم نے اس درے کا گورنر بنایا تھا ) کو تمہارے لئے خالی کرادو۔’’ اُن لوگوں نے فرغانہ کے بادشاہ کی اِس تجویز کو پسند کیا اور کہا: ‘‘ ٹھیک ہے! آپ ‘‘درۂ عصام’’ کو ہمارے لئے خالی کرادیں۔’’فرغانہ کے اُس وقت کے بادشاہ کا نا م‘‘بلا د،یا ، بیلاذ ، ابوانوجور’’ تھا اور اُس کے ولی عہد کا نام ‘‘رستاق’’ تھا۔ 


ا103 ھجری کا اختتام


اِس سال کے اختتام تک مملکت اسلامیہ کے کئی گورنر تبدیل ہو چکے تھے ۔ خراسان کا گورنر سعید بن عمرو حرشی تھا ۔ ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم ِ اعلیٰ عمروہ بن ہبیرہ تھا ۔ افریقہ کا گورنر محمد بن یزید انصار تھا ۔قاسم بن عبدالرحمن کوفہ کے قاضی تھے اور عبدالملک بن یعلی بصرہ کے قاضی تھے ۔عبدالرحمن بن عبداﷲ نضری طائف کا گورنر تھا ۔اِس سال یزید بن عبدالملک نے مکۂ مکرمہ کے گورنرعبدالعزیز بن عبداﷲ کو معزول کر دیا اور عبدالرحمن بن ضحاک کو مدینۂ منورہ کے ساتھ ساتھ مکۂ مکرمہ کا بھی گورنر بنا دیا اور اُسی نے مسلمانوں کو اِس سال حج کرایا۔


ا103 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان


اِس سال جن کا انتقال ہوا اُن میں سے کچھ کے نام یہ ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 103 ھجری میں یزید بن مسلم کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی ہیں اور کئی صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں ۔ متعدد آئمہ نے ان کے ثقہ ہونے کی تصدیق کی ہے ۔ اسکندریہ میں انتقال ہوا۔ اِس سال مجاہد بن جبیر مکی کا انتقال ہوا ۔ یہ اپنے زمانے میں تفسیر کے سب سے زیادہ ماہر عالم مانے جاتے تھے ۔ اُس دورمیں امام طاؤس کے علاوہ کوئی ان کے پایہ کا نہیں تھا ۔امام مجاہد نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے تفسیر کا علم حاصل کیا ہے ۔ آپ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کے سب سے بہترین شاگردوں میں سے ہیں اور اُن کو دو مرتبہ قرآن پاک ایک ایک آیت کو پڑھ کر سمجھا اور یاد کیا اور سنایا ہے اور اس کے متعلق سوالات بھی کئے ہیں ۔ امام مجاہد نے حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق ، حضرت عبداﷲ بن عباس ، حضرت ابو ہریرہ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں ۔ اِس سال مصعب بن سعد بن ابی وقاص کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی ہیں ۔ 


اہل سغد پر حملہ


اِس سال سعید بن عمرو حرشی نے اہل سغد پر حملہ کیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : 104 ھجری میں سعید بن عمرو حرشی جہاد کے لئے روانہ ہوا اور دریا کو عبور کر کے اپنی فوج کا باقاعدہ معائنہ کر رہا تھا کہ فرغانہ کا بادشاہ کا چچیرا بھائی نیلان اُس کے پاس آیا اور کہا: ‘‘ اہل سغد خجندہ میں فروکش ہیں ۔اِس سے پہلے کہ وہ ‘‘درہٌ عصام’’ میں داخل ہوں آپ اُن پر حملہ کر دیں کیونکہ ا’س وقت ہم پر اُن کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں ہے ہاں اگر وہ ‘‘درہ ٔعصام’’ میں داخل ہو گئے تو ہماری ذمہ داری میں آجائیں گے ۔’’سعید بن عمرو حرشی نے نیلان کے ساتھ عبدالرحمن قشیری اور اُس کے بیٹے زیدہ بن عبدالرحمن قشیری کو ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کا کمانڈر بنا کر روانہ کیا اور اپنی فوج لیکر اُن کے پیچھے روانہ ہوا۔ اُس نے اشرونہ میں قیام کیا اور وہاں کے باشندوں نے خراج پر صلح کرلی ۔ اِس کے بعد روانہ ہوا تو تیسرے دن اپنے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ سے جا ملا ۔ اِس کے بعد سعید بن عمرو حرشی نے خجندہ کا محاصرہ کر لیا ۔ محاصرہ کافی دن چلا ۔ایک دن ایک عرب نے خجندہ کے پھاٹک کو گرز کی ضربوں سے توڑ کر کھول دیا۔ اہل خجندہ نے یہ ترکیب کی تھی کہ شہر کے اگلے دروازے کے نیچے چھتہ میں ایک خندق کھود کر اسے سر کنڈوں سے پاٹ کر اس پر مٹی بچھا دی تھی تاکہ اگر انہیں شکست ہو تو وہ معلوم دروازے سے پسپا ہو کر شہر کے اندر چلے جائیں گے اور مسلمان لا علمی میں اس خندق میں گر پڑیں گے مگر یہ تدبیر انہی پر اُلٹی پڑ گئی۔ جب اُس عرب نے شہر کے دروازے کو توڑا تو اہل خجندہ اور اہل سغد نے شہر سے نکل کر مسلمانوں کا مقابلہ کیا اور جب شکست کھا کر پسپا ہوئے تو راستہ بھول گئے اور اُسی خندق میں گرنے لگے ۔ خندق گرنے والوں میں سے چالیس آدمی ایسے نکالے گئے جنہوں نے دو دو زرہیں پہن رکھی تھیں ۔ اہل سغد نے فرغانہ کے بادشاہ کے پاس پیغام بھیجا کہ تم نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ہے اب ہماری مدد کرو ۔ فرغانہ کے بادشاہ نے کہا: ‘‘ چالیس دن کی مدت سے پہلے مسلمانوں نے تم پر حملہ کر دیا ہے اِس لئے تم خود اپنی حفاظت کرو۔ ’’ جب اُس کی امداد سے مایوس ہو گئے تو سعید

 بن عمرو حرشی سے امان کی درخواست کی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہمیں سغد واپس بھیج دیا جائے ۔ 


اہل سغد کا قتل عام


سعید بن عمرو حرشی نے اہل سغد کی کی درخواست قبول کر لی لیکن انہوں نے بدعہدی کی جس کے نتیجہ میں مسلمانوں نے اُن کا قتل عام کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: سعید بن عمرو نے اِس شرط پر اُنہیں امان دی کہ وہ عربوں کے عورتوں اور بچوں کو واپس کردیں گے اور وہ تمام خراج جو انہوں نے ادا نہیں کیا وہ بھی ادا کریں اور کسی مسلمان پر دھوکہ سے حملہ نہیں کریں گے اور اہل سغد میں سے کوئی بھی شخص خجند میں نہیں رہے گا ۔ اگر اِن میں سے کوئی بھی بات اہل سغد کی طرف سے معاہدے کے خالف ہو گی تو مسلمانوں پر اہل سغد کا خون حلال ہو جائے گا ۔ صلح ہوجانے کے بعد مسلمانوں نے اہل سغد کو اُن کے محفوظ مقام تک پہنچانے کے لئے ایک سو پچاس مجاہدین کی نگرانی میں روانہ کر دیا ۔ راستے میں اہل سغد نے اُن سب کو شہید کر دیا اور اُن مسلمانوں میں سے ایک غلام جیسے تیسے جان بچا کر بھاگا آیا اور مسلمانوں کی شہادت کی اطلاع دی ۔ اِس کے بعد سعید بن عمرو حرشی نے اہل سغد کے قتل عام کا حکم دے دیا ۔ مسلمانوں نے تمام جنگجو مردوں کو قتل کردیا جن کی تعداد لگ بھگ تین ہزار تھی ۔ مسلمانوں کو مال غنیمت ملا اُس کا خمس نکال کر باقی مسلمانوں میں تقسیم کر دیا اور خمس یزید بن عبدالملک کے پاس بھیج دیا اور ساتھ ہی تمام حلات بھی لکھ کر بھیج دیئے ۔ 


سیدہ فاطمہ بنت حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہا کی فریاد


اِس سال مدینہ منورہ کے گورنر عبدالرحمن بن ضحاک نے ‘‘اہل بیت’’ پر ظلم کیا جس کی فریاد سیدہ فاطمہ بنت حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہا نے امیر المومنین یزید بن عبدالملک کے دربار میں کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالرحمن بن ضحاک نے حضرت امام حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کی بیٹی سیدہ فاطمہ بن حسین رضی اﷲ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا جو آپ نے قبول نہیں کیا اور انکار کر دیا۔ مگر عبدالرحمن بن ضحاک مسلسل اصرار کرتا رہا اور آپ رضی اﷲ عنہا کو یہ دھمکی دی : ‘‘ اگر تم مجھ سے نکاح نہیں کرو گی تو میں تمہارے بڑے بیٹے کو شراب نوشی کے الزام میں کوڑے لگواؤں گا ۔’’ اُسی دوران مدینۂ منورہ کا میر منشی ایک شامی ابن ہرمز کو امیر المومنین یزید بن عبدالملک نے لکھا: ‘‘ میرے پاس آکر حساب پیش کرو ۔’’ ابن ہرمز جب ملک شام جانے لگا تو سیدہ فاطمہ بنت امام حسین رضی اﷲ عنہا سے ملنے آیا اور بولا: ‘‘ اگر کوئی ضرورت ہو تو فرمایئے۔’’ آپ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا: ‘‘ عبدالرحمن بن ضحاک کی حرکت کے بارے میں امیر المومنین کو بتا دینا۔’’ اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہا نے ایک خط میں تمام واقعہ لکھ کر ایک قاصد کو دیا اور فرمایا: ‘‘ امیرالمومنین کو یہ خط دے دینا۔’’ اتفاق سے ابن ہرمز اور قاصد آگے پیچھے ملک شام میں دربار میں پہنچے ۔ ابن ہرمز جب دربار میں یزید بن عبدالملک کے سامنے گیا تو اُس نے کہا: ‘‘ مدینۂ منورہ میْں کوئی عجیب واقعہ تو پیش نہیں آیا ہے نا؟’’ ابن ہرمز نے کہا: ‘‘ نہیں کوئی عجیب واقعہ پیش نہیں آیا ہے ۔’’ اتنے میں دربان نے بلند آواز سے سیدہ فاطمہ بنت امام حسین رضی اﷲ عنہا کے قاصد کے آنے کیا اطلاع دی تو یزید بن عبدالملک نے دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا ۔ اب ابن ہرمز نے کہا :‘‘ امیرالمومنین جس روز میں مدینۂ منورہ سے روانہ ہوا تھا تو سیدہ فاطمہ بنت امام حسین رضی اﷲ عنہا نے مجھے یہ پیغام دیا تھا ۔ ’’ یزید بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ اﷲ تمہارا برا کرے! میں نے تم سے سوال نہیں کیا تھا کہ کوئی عجبیب خبر ہو تو بتاؤ مگر تم نے بیان نہیں کی ۔’’ ابن ہرمز نے کہا: ‘‘ امیرالمومنین! میں بھول گیا تھا ۔’’


عبدالواحد بن عبداﷲبن بشر نضری مدینۂ منورہ کا گورنر


سیدہ فاطمہ بنت امام حسین رضی اﷲ عنہا کے قاصد نے آپ رضی اﷲ عنہا کا خط یزید بن عبدالملک کو دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یزید بن عبدالملک تخت سے اُتر آیا اور قاصد کو اندر آنے کی اجازت دی اور اُس نے سیدہ فاطمہ بنت امام حسین رضی اﷲ عنہا کا خط یزید بن عبدالملک کو دیا ۔ اُس نے خط لیا اور خود پڑھنے لگا ۔ اُس وقت اُس کے

 ہاتھ میں ایک بید تھا اسے زمین پر مارتا جاتا تھا اور کہتا جاتاتھا :‘‘ اﷲ اکبر! ابن ضحاک کی یہ جرأت۔کیا کوئی ایسا شخص ہے جو ابن ضحاک کو ایسی سخت سزا دے کہ اُس کے چیخنے کی آواز میں اپنے بستر پر لیٹا ہوا سن لوں ۔’’ درباریوں نے عبدالواحد بن عبداﷲ بن بشر نضری کا نام لیا ۔ یزید بن عبدالملک نے کاغذ منگوایا اور اپنے ہاتھ سے عبدالواح بن عبداﷲ کو لکھا جو اس وقت طائف میں تھا :‘‘ السلام علیکم! امابعد! میں نے تمہیں مدینۂ منورہ کا گورنر مقرر کر دیا ہے ۔ جس وقت تمہیں میرا خط ملے تم اُسی وقت عبدالرحمن بن ضحاک کو معزول کردو اور چالیس ہزار دینار اُس پر جرمانہ عائد کرو اور اُسے ایسی سخت تکلیف اور سزا دو کہ میں بستر پر لیٹا ہوا اُس کی آواز سنوں۔’’ قاصد یہ خط لیکر مدینۂ منورہ آیا اور عبدالرحمن بن ضحاک کے پاس نہیں گیا مگر ابن ضحاک کے دل میں خطرہ پیدا ہوگیا تھا ۔اُس نے قاصد کو بلوایا اور اپنی مسند کا ایک کونہ ہٹا کر بتایا تو وہاں ایک ہزار دینار رکھے ہوئے تھے ۔عبدالرحمن بن ضحاک نے کہا: ‘‘ اگر تم وہ بات جانتے ہو جس کے لئے بھیجے گئے ہو تو میں تمہیں ایک ہزار دینار دوں گا اور اِس کا کسی سے ذکر نہیں کروں گا۔’’ قاصد نے وہ بات اُسے بتا دی ۔ عبدالرحمن بن ضحاک نے اُسے تین دن اپنے پاس ٹھہرایا پھر اُسے مدینۂ منورہ سے باہر بھیج دیا ۔


عبدالرحمن بن ضحاک کا انجام


قاصد سے اصل بات اُگلوا لینے کے بعد عبدالرحمن بن ضحاک اپنے بچاؤ کی فکر میں لگ گیا لیکن اُس نے ‘‘آل رسول’’ کی شان میں جو گستاخی کی تھی اﷲ تعالیٰ نے اُسے اُس کی سزا دی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبدالرحمن بن ضحاک مدینۂ منورہ سے روانہ ہوا اور تیز رفتاری سے منزلیں طے کرتا ہوا مسلمہ بن عبدالملک کے پاس پہنچا۱ اور اُس سے کہا: ‘‘ میں آپ کی حمایت میں ہوں اور آپ میری مدد کیجیئے۔’’ مسلمہ بن عبدالملک دوسرے دن یزید بن عبدالملک کے پاس گیا اور اِدھر اُدھر کی میٹھی باتیں کرنے کے بعد عرض پرداز ہوا :‘‘ میں ایک غرض لیکر حاضر ہوا ہوں ۔’’ یزید بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ عبدالرحمن بن ضحاک کے علاوہ تمہاری ہر درخواست مجھے منظور ہے ۔’’ مسلمہ بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ مجھے اُسی کے بارے میں عرض کرنا ہے ۔’’ یزید بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ اُس نے آل رسول کی شان میں گستاخی کر کے ایسی نا شائستہ حرکت کی ہے کہ میں اُسے کبھی معاف نہیں کر سکتا۔ ’’ یزید بن عبدالملک نے عبدالرحمن بن ضحاک کو سپاہیوں کی نگرانی میں مدینۂ منورہ بھیج دیا ۔ عبداﷲ بن محمد کہتے ہیں :‘‘ میں نے عبدالرحمن بن ضحاک کو مدینۂ منورہ میں ایسی حالت میں دیکھا کہ پشمینہ کا جبہ پہنے وہ لوگوں سے بھیک مانگتا پھرتا تھا ۔عبدالواحد بن عبداﷲ بن بشر نضری نے اُس پر طرح طرح کی سختیاں کی تھیں اور اُس کا بہت ہی برا حال ہوگیا تھا۔’’


سلطنت ِ عباسیہ کے پہلے حکمراں کی پیدائش


ا104 ھجری میں ‘‘خاندان ِ بنو عباس’’ میں وہ شخص پیدا ہوا جو ‘‘سلطنت ِ عباسیہ’’ کا پہلا حکمراں بنا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ۱۰۴ ؁ ھجری میں ‘‘سفاح’’ پیدا ہوا جو بنو عباس کا پہلا حکمراں بنا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ‘‘ابوالعباس عبداﷲ بن محمد بن علی ’’ پیدا ہوا ۔ ( جس کا لقب ‘‘سفاح’’ تھا)اِس سال ابومحمد صادق اور اُس کے چندخراسان کے دوست محمد بن علی کے پاس آئے اور ابوالعباس اِس ملاقات سے چند روز پہلے پیدا ہو چکا تھا ۔ محمد بن علی ایک خرقہ میں ابوالعباس کو اُن کے پاس لایا اور کہا: ‘‘ اﷲ کی قسم! اِس کام کو یہ لڑکا پورا کرے گا یہاں تک کہ تم اپنے دشمنوں سے بدلہ لے لو گے ۔’’ 


ا104 ھجری کا اختتام


ا104 ھجری کا اختتام ہوا اور اِس سال بھی کئی گورنر تبدیل ہوئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اِس سال آذربائیجان اور آرمینیہ کے گورنرجراح بن عبد حکمی نے ترکوں سے جہاد کیا اور قلعہ بلنجر کو فتح کیا اور ترکوں کو شکست دی اور اُن کے متعلقین کو پانی میں غرق کر دیا ۔ بہت سے لونڈی اور غلام قید کئے اور وہ قلعے بھی جو بلنجر کے قریب تھے اُس نے فتح کر لئے اور اُن کے باشندوں کو جلا وطن کر دیا ۔ اِس سال عمرو بن ہبیرہ نے سعید بن عمرو حرشی کو خراسان کی گورنری سے معزول کردیا اور اُس کی جگہ مسلم بن سعید بن اسلم بن زرعۃ کلابی کو گورنر بنایا ۔ اِس سال کے اختتام پرعمرو بن ہبیرہ ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر تھا ۔ بصرہ کے قاضی عبدالملک بن یعلیٰ تھے اور کوفہ کے قاضی حسین بن حسن کندی تھے ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر عبدالواحد بن عبداﷲ نضری تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ 


ا104 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان


ا104 ھجری میں جن کا انتقال ہوا اُن میں سے چند حضرات یہ ہیں ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 104 ھجری میں خالد بن سعدان کلاعی کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی ہیں اور چند مشہور علماء اور آئمہ میں شمار ہوتے تھے ۔ آپ نے بہت سے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں ۔ جب یہ روزہ رکھتے تھے تو اُس دن چالیس ہزار تسبیح پڑھتے تھے۔ یہ اہل حمص کے امام تھے اور ماہ رمضان میں تراویح پڑھاتے تھے تو ایک دن میں تہائی قرآن ختم کر لیتے تھے ۔ اِس سال عامر بن سعد بن ابی وقاص کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدرصحابی رضی اﷲ عنہ کے بیٹے ہیں اور جلیل القدر تابعی ہیں اور ثقہ ہیں۔ اِس سال عامر بن شراحیل شعبی کا انتقال ہوا۔اِن کی کنیت ابوعمرو ہے ۔یہ اہل کوفہ کی شناخت و علامت تھے اور اپنے زمانے کے امام ، حافظ اور صاحب ِ فنون بزرگ تھے ۔انہوں نے بہت سے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں۔ابو مجاوز نے کہا: ‘‘ میں نے امام شعبی سے بڑا فقیہ نہیں دیکھا ۔ یہ کوفہ میں قاضی رہ چکے ہیں۔ اِس سال ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری کا انتقال ہوا ۔ یہ امام شعبی سے بھی سے بھی پہلے کوفہ کے قاضی کے عہدہ مامور رہ چکے ہیں۔ امام شعبی کو تو حضرت عُمر بن عبدالعزیز رحمتہ اﷲ علیہ نے انے دور ِ حکومت میں قاضی کے عہدہ پر مامور کیا تھا جبکہ امام ابوبردہ ابوموسیٰ اشعری حجاج بن یوسف کی گورنری کے دور میں قاضی رہ چکے تھے ۔ یہ بہت بڑے عالم ، حافظ اور فقیہ تھے اور اِن سے بہت سی روایات مشہور ہیں۔اِس سال ابو قلادہ جرمی کا انتقال ہوا ۔ اِن کا نام عبداﷲ بن یزید بصری ہے ۔ان سے کثیر روایات مروی ہیں اور صحابۂ مرام رضی اﷲ عنہم کے علاوہ بہت سے تابعین نے بھی اِن سے روایات بیان کی ہیں۔ یہ کبار آئمہ اور فقہا میں سے تھے ۔


ا105 ھجری : رومیوں اور ترکوں سے جہاد


اِس سال مسلمانوں نے رومیوں اور ترکوں سے جہاد کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 105 ھجری میں جراح بن عبداﷲ حکمی نے لان میں جہاد کیا اور اس سے بھی آگے بڑھ کر اُن شہروں اور قلعوں کو فتح کیا جو ‘‘ماورالنہر’’ میں واقع تھے ۔ اِن میں سے بعض کو اُس نے فتح کرلیا اور وہاں کے باشندوں کو جلا وطن کردیا اور بہت سا مال غنیمت حاصل کیا ۔ اِس سال سعید بن عبدالملک نے رومیوں کے علاقے میں جہاد کیا اور ایک ہزار سپاہیوں کی فوج بھیجی جو سب کے سب دشمن کے ہاتھوں مارے گئے ۔ اِس سال مسلم بن سعید نے ترکوں سے جہاد کیا مگر کوئی فتح حاصل نہیں کرسکا ۔ اِس کے بعد سغد کے ایک ‘‘فشینہ’’ پر حملہ کیا اور اُس کے بادشاہ نے صلح کر لی ۔ اِس کے بعد مسلم بن سعید اِس سال کے آخر میں پھر ترکوں سے جہاد کرنے گیا مگر بغیر کامیابی کے لوٹ آیا اور ترکوں نے مسلمانوں کا تعاقب کیا اور جب مسلمان دریائے بلخ عبور کر رہے تھے تو ترک فوجی پہنچ گئے ۔اُس وقت لشکر کے ‘‘ساقہ’’ پر بنو تمیم تھے ۔انہوں نے دشمنوں کی یلغار کو روکا اور مسلمانوں نے حفاظت سے دریا عبور کر لیا ۔ اِسی دوران میں مملکت اسلامیہ کے حکمراں یزید بن عبدالملک کا انتقال ہوگیا ۔ اُس وقت مسلم بن سعید شہر ‘‘افشین’’ کا محاصرہ کئے ہوئے تھا ۔افشین کے بادشاہ نے چھ ہزار راس پر صلح کر لی اور قلعہ مسلم بن سعید کے حوالے کردیا ۔ مسلم بن سعید اِس مہم سے فراغت پا کر 105 ھجری کے اختتام اپنے دارالحکومت ‘‘مرو’’ واپس آیا ۔ 


یزید بن عبدالملک کا انتقال


اِس سال مملکت اسلامیہ کے حکمراں یزید بن عبدالملک کا انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 105 ھجری میں یزید بن عبدالملک کا ماہ شعبان ختم ہونے میں ابھی پانچ راتیں باقی تھیں کہ انتقال ہو گیا ۔ امام واقدی کہتے ہیں کہ یزید بن عبدالملک کا انتقال اڑتیس (38) سال کی عُمر میں دمشق کے نواح ‘‘بلقاء’’ انتقال ہوا۔ بعض راویوں نے چالیس سال عُمر بیان کی اور بعض نے چھتیس سال بیان کی ہے ۔ امام ابی معشر ، ہشام بن محمد اور علی بن محمد کے مطابق یزید بن عبدالملک نے چار سال ایک مہینے حکومت کی ہے مگر امام واقدی کے مطابق چار سال حکومت کی ۔ اُس کے پندہ سالہ لڑکے ولید بن یزید نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ اُس دن ہشام بن عبدالملک ‘‘حمص’’ میں تھا ۔ہشام بن محمد کے مطابق یزید بن عبدالملک کا انتقال تینتیس (33) کی عُمر میں ہوا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

ہفتہ، 9 مارچ، 2024

57 سلطنت امیہ / Saltanat e Umayya part 57


57 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 57

ہشام بن عبدالملک کا دورِ حکومت، ہشام بن عبدالملک ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں، تحریک عباسیہ کی امداد، گورنروں کی تبدیلی، 105ھجری کا اختتام، 106 ھجری : رومیوں سے جہاد، ترکوں کی شکست، اسد بن عبداﷲ قسری خراسان کا گورنر، 106 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 107 ھجری : رومیوں سے بحری اور بری جنگ، اسد بن عبداﷲ قسری کا ترکوں سے جہاد، بلخ کو فوجی چھاونی بنا یا، 107 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، ترکوں سے جہاد، خاقان کی شکست، 108 ھجری میں انتقال کرنے والے

ہشام بن عبدالملک ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں

105 ھجری میں ‘‘سلطنتِ اُمیہ’’ کا حکمراں ہشام بن عبدالملک بنا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ماہ شعبان کے ختم ہونے میں دو راتیں باقی تھیں کہ ہشام بن عبدالملک ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں بنا ۔ یہ اُس سال پیدا ہوا جس سال حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ شہید ہوئے ۔ ہشام بن عبدالملک زیتونہ میں اپنے مکان کے ایک کمرہ میں تھا کہ اُس کے اُس کے بھائی یزید بن عبدالملک کے انتقال کی خبر ملی اور اُس کے ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کے حکمراں ہونے کی خوشخبری بھی ملی ۔ ہشام بن عبدالملک رصافہ پر سوار ہو کر دمشق آیا اور‘‘ قصر امارت’’ میں فروکش ہوا ۔ 

تحریک عباسیہ کی امداد

سلطنت اُمیہ میں خاندان عباسیہ خاموشی سے اپنی تحریک چلا رہا تھا ۔اُن کا ارادہ ‘‘اُمیہ خاندان’’ سے حکومت چھین کر ‘‘عباسیہ خاندان’’ کی حکومت قائم کرنا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 105 ھجری میں بکیر بن ماہان ملک سندھ (ہندوستان) سے آیا ۔ یہ ملک سندھ میں جنید بن عبدالرحمن کا ترجمان تھا ۔ جب جنید بن عبدالرحمن کو معزول کر دیا گیا تو بکیر بن ماہان کوفہ واپس آگیا ۔ اُس کے پاس چاندی کی چار اینٹیں اور سونے کی ایک اینٹ تھی ۔ یہ ابوعکرمہ صادق میسرہ ، محمد بن نتیس ، سالم اعین اور ابو یحییٰ بنو سلمہ کے آزاد غالم سے ملا ۔ اُن لوگوں نے اُس سے کہا: ‘‘ خاندان بنو ہاشم ( بنو عباس) کے لئے جو تحریک چلائی جا رہی ہے تم اُس میں شریک ہو جاؤ۔ بکیر بن ماہان نے اُن کی رائے کو قبول کیا اور جو کچھ اُس کے پاس تھا سب تحریک کی کامیابی کے لئے دے دیا اور محمد بن علی کے پاس آیا ۔ اِسی دوران میسرہ کا انتقال ہو گیا اور محمد بن علی نے میسرہ کی جگہ بکیر بن ماہان کو ملک عراق کا ‘‘تحریک کا داعی’’ مقرر کر دیا ۔ 

گورنروں کی تبدیلی

سلطنت اُمیہ کا حکمراں بننے کے بعد ہشام بن عبدالملک نے گورنروں کی تبدیلی کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : 105 ھجری میں مملکت اسلامیہ کا حکمراں بننے کے بعد ہشام بن عبدالملک نے ہبیرہ بن عمرو کو معزول کر دیا اور خالد بن عبداﷲ قسری کوملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر بنا دیا ۔ خالد بن عبداﷲ قسری نے زیاد بن عبداﷲ کو ‘‘رے’’ کا گورنر مقرر کردیا ۔ 

105ھجری کا اختتام

105 ھجری کا اختتام ہوا اور اِس سال بھی مملکت اسلامیہ میں کئی گورنروں کی تبدیلی ہوئی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال کے اختتام پر ہشام بن عبدالملک نے خالد بن عبداﷲ کو ملک عراق و ایران اور خراسان کا گورنر مقرر کیا ۔ خراسان کا گورنر مسلم بن سعید تھا ۔ افریقہ اور اسپین کا گورنر وہی تھا جو پچھلے سال تھا ۔ ملک مصر کا گورنر بھی پچھلے سال کا ہی تھا ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر عبدالواحد بن عبداﷲ نضری تھا ۔ کوفہ کے قاضی حسین بن حسن کندی تھے اور بصرہ کے قاضی موسیٰ بن انس تھے ۔ اِس سال ابراہیم بن ہشام بن اسماعیل نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ جب وہ حج کرنے گیا تو عطاء بن رباح سے پوچھوایا:‘‘ میں مکۂ مکرمہ میں کس وقت خطبہ پڑھوں؟’’ عطا بن رباح نے کہا:‘‘ ظہر کی نماز کے بعد ذی الحجہ کی دسویں تاریخ سے ایک دن پہلے ۔’’ ابراہیم بن ہشام نے ظہر سے پہلے ہی خطبہ پڑھ دیا اور کہا: ‘‘ میرے قاصد کے ذریعہ عطاء بن رباح نے ایسا ہی حکم دیا تھا ۔’’ عطاء بن رباح نے کہا: ‘‘ نہیں! میں نے ایسا نہیں کہا تھا ۔’’ اِس کی وجہ سے ابراہیم بن ہشام جھینپ گیا اور مسلمانوں نے اُس کے اِس فعل کو ناواقفیت پر محمول کیا تھا ۔

106 ھجری : رومیوں سے جہاد

اِس سال مسلمانوں نے سعید بن عبدالملک کی قیادت میں رومیوں سے جہاد کیا ۔ ہشام بن عبدالملک نے اِس سال حرمین شریفین کے گورنر کو تبدیل کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 106 ھجری میں سعید بن عبدالملک موسم گرما میں مسلمانوں کو لیکر رومیوں سے جہاد کرنے گیا اور حجاج بن عبدالملک نے ‘‘لان’’ پر حملہ کر کے اُس کے باشندوں سے صلح کر لی اور انہوں نے جزیہ ادا کر دیا ۔ اِس سال ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کے حکمراں ہشام بن عبدالملک نے مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کے گورنر عبدالواحد بن عبداﷲ نضری کو معزول کر دیا اور اُس کی جگہ اپنے ماموں ابراہیم بن ہشام بن اسماعیل کو گورنر بنایا ۔ 

106 ھجری : ترکوں سے جہاد

106 ھجری میں ایک بار پھر مسلم بن سعید نے ترکوں سے جہاد کرنے کے لئے لشکر جمع کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال مسلم بن سعید اپنی فوج لیکر ترکوں کی طرف روانہ ہوا اورجب بخارا پہنچا تو اُسے ملک عراق کے گورنر خالد بن قسری کا خط ملا جس میں خالد بن عبداﷲ قسری کے ملک عراق کا گورنر بننے کا ذکر لکھا تھا اور اُس نے حکم دیا : ‘‘ تم اِس جہاد کو پورا کر لو۔’’ مسلم بن سعید اپنی فوج لیکر فرغانہ کی طرف بڑھا ۔ اِس موقع پر ابوضحاک رواحی جو قبیلہ بنو عبس کے خاندان رواحہ کا تھا نے اعلان کر دیا :‘‘ اِس سال جو شخص پیچھے رہ جائے گا اُس پر کوئی جرم نہیں۔’’ یہ سن کر چار ہزار مجاہدین مسلم بن سعید کو چھوڑ کر واپس چلے گئے ۔جب وہ اپنا لشکر لیکر فرغانہ پہنچا تو اُسے معلوم ہوا کہ ترک خاقان اُس کے مقابلے کے لئے ایک بہت ہی بڑا لشکر جرار لیکر آیا ہے ۔ وادئ سیوح عبور کرتے ہیں خاقان اپنے لشکر کے ساتھ سامنے آگیا ۔ مسلم بن سعید کے لشکر کے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کے کمانڈر عبداﷲ بن ابی عبداﷲ نے مشہور شہسواروں کو دشمن کو روکنے کے لئے اُتار دیا ۔ ترکوں نے اُن پر حملہ کیا اور سب کو شہید کر ڈالا ۔اِس معرکہ میں مسیب بن بشر اور براء جو آل مہلب کے مشہور بہادر سرداروں میں سے تھے شہید ہو گئے اور ترک بادشاہ غورک خان کا بھائی بھی میدان جنگ میں مارا گیا لیکن ترک مسلمانوں کے پڑاؤ میں داخل ہو گئے ۔ 

ترکوں کی شکست

ترکوں کا بادشاہ خاقان ایک بہت ہی بڑا لشکر لیکر مسلمانوں کے مقابلے پر آیا تھا اور پہلے حملے میں مسلمانوں کو پیچھے دھکیل دیا اور پھر مسلمانوں کے پورے لشکر کو گھیر ے میں لے لیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مگر اب مسلمان ترکوں پر جھپٹ پڑے اور انہیں مسلمانوں کے پڑاؤ سے نکال دیا ۔ مسلم بن سعید نے لشکر کا جھنڈا عامر بن مالک حمانی کو دیا اور لشکر لیکر واپس ہوا ۔ ترک لشکر مسلمانوں کے لشکر کو گھیرے ہوئے تھا ۔ آٹھ روز تک برابر چلتے رہے مگر ترک بھی برابر مسلمانوں کو گھیرے رہے ۔ جب نویں رات ہوئی تو مسلم بن سعید نے قیام کا ارادہ کیا اور مسلمانوں سے اِس بارے میں مشورہ لیا تو سب نے قیام کا مشورہ دیا اور کہا: ‘‘ صبح کے وقت ہم پانی کے پاس جا کر اُتریں گے اور اگر ہم نے پہاڑ کے درے میں پڑاؤ ڈالا تو دشمن ہماری فرو گاہ کو لوٹ کر لے جاسکتا ہے ۔ ’’ مسلم بن سعید نے پڑاؤ ڈالنے کا حکم دے دیا رات میں مسلمانوں کو حکم دیا کہ برتنوں اور دوسرے سامان جن کی وجہ سے بوجھ بڑھ گیا ہے سب جلا ڈالو۔ مسلمانوں نے اُس رات دس لاکھ کی قیمت کا سامان جلا ڈالا۔ صبح ہوتے ہی مسلم بن سعید نے مسلمانوں کو کوچ کا حکم دیا اور پانی کے قریب جا کر پڑاؤ ڈال دیا اور صف بندی کر لی ۔ وہاں دیکھا کہ اہل فرغانہ اور اہل شاش دریا کے آگے مزاحمت کے لئے مستعد ہیں ۔ اُس وقت مسلم بن سعید نے مجاہدین کو حکم دیا کہ اب دشمن پر حملہ کرو ۔ سب نے حکم کی تعمیل کی جہاں تک نظر جاتی تھی مسلمانوں کی تلواریں ہی تلواریں نظر آتی تھیں ۔ اُس دن مسلمان اپنی جگہ قیام پذیر رہے اور

 دوسرے دن مسلم بن سعید کے حکم سے دریا عبور کیا ۔ خاقان کے ایک بیٹے نے مسلمانوں کا تعاقب کیا ۔ حمید بن عبداﷲ جو مسلمانوں کا ‘‘ساقہ’’ کا کمانڈر تھا ۔اُس نے مسلم بن سعید سے کہا : ‘‘ذرا دیر رک جاؤ ۔’’ پھر ساقہ کے ساتھ ترکوں پر ٹوٹ پڑا اور انہیں شکست دیکر پیچھے دھکیل دیا اور اُن کے سات سرداروں کو قید کر لیا ۔ ایک تیر اُسے آکر لگا اور وہ شہید ہو گیا ۔اِس کے بعد مسلمانوں نے ترکوں پر ایسا شدید حملہ کیا کہ انہیں شکست ہوئی اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگے ۔

اسد بن عبداﷲ قسری خراسان کا گورنر

اِس سال ہشام بن عبدالملک نے ملک عراق وایران اور تمام مشرقی ممالک کے گورنر خالد بن عبداﷲ کو حکم دیا کہ مسلم بن سعید کو خراسان کی گورنری سے معزول کر دو اور اپنے بھائی اسد بن عبداﷲ قسری و خراسان کا گورنر بنا دو۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس سال 106 ھجری میں خالد بن عبداﷲ قسری ملک عراق کا گورنر مقرر ہو کر کوفہ آیا اور اپنے بھائی اسد بن عبداﷲ کو خراسان صوبہ کا گورنر بنایا۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِسی اثناء میں دارالخلافہ سے ایک فرمان آپہنچا جس میں اسد بن عبداﷲ قسری کو خراسان کی گورنری اور عبدالرحمن بن نعیم کو اُس کی نیابت دی گئی تھی ۔ مسلم بن سعید نے فرمان کو آنکھوں سے لگا کر پڑھا اور بسرو چشم اس کی تعمیل کی ۔ جس وقت خالد بن عبداﷲ قسری نے اپنے بھائی اسد بن عبداﷲ قسری کو خراسان کی گورنری کی ‘‘سند’’ دی اور وہ خراسان کی طرف روانہ ہوا تو اُن دنوں مسلم بن سعید فرغانہ میں تھا ۔ نہر پر پہنچ کر اسد بن عبداﷲ قسری نے نہر عبور کرنے کا قصد کیا تو اشہب بنعبداﷲ تمیمی جو آمد کا ‘‘امیرالبحر’’ تھا عبور کرنے سے مانع ہوا ۔ اسد بن عبدا قسری نے ‘‘سندِ گورنری’’ دکھلائی تو اشہب بن عبداﷲ نے نہر عبور کرنے کی اجازت دے دی ۔ نہر عبور کرنے کے بعد اسد بن عبداﷲ قسری ‘‘مرج’’ میں آکر ٹھہر گیا ۔ سمرقند کے گورنر ہانی بن ہانی نے اُس کی آمد کی خبر سن کر شہر کے رؤساء کے ساتھ آیا اور کمال عزت و احترام سے سمرقند لے گیا ۔ اسد بن عبداﷲ قسری نے سمرقند سے لشکر کی سپہ سالاری کی سند عبدالرحمن بن نعیم کے نام ایک شخص کی معرفت روانہ کی تو وہ مجاہدین کو لیکر سمرقند آیا ۔ اِس کے بعد ہانی بن ہانی کو معزول کر کے اُس کی جگہ سمر قند کا گورنر حسن بن ابی عمرطہ کندی کو بنایا ۔ 

106 ھجری کا اختتام

106 ھجری کے اختتام پر مملکت ِ اسلامیہ کے کئی گورنر تبدیل ہو چکے تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال کے اختتام پر ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ خالد بن عبداﷲ قسری تھا ۔ بصرہ میں خالد بن عبداﷲ کی طرف سے عبد بن عبدالاعلیٰ نماز کے امام مقرر تھے ۔ مالک بن منذر کوتوال تھا ۔ثمامہ بن عبداﷲ بصرہ کے قاضی تھے ۔ اسد بن عبداﷲ قسری خراسان کا گورنر تھا ۔ افریقہ ، اسپین اور ملک مصر کے گورنر وہی تھے جو پچھلے سال تھے ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر ابراہیم بن ہشام تھا ۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ۱۰۶ ؁ھجری میں ہشام بن عبدالملک نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ اور ابوزناد کو حکم دیا کہ اُس کے مدینۂ منورہ میں داخل ہونے سے پہلے وہ اُس سے مل لے اور مناسک حج کی تعلیم دے ۔ اِس کی تعمیل کی گئی اور لوگوں نے مدینۂ منورہ کے راستے میں احکام حج سیکھے ۔ 

106 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان

اِس سال جن کا انتقال ہوا اُن میں سے چند اعیان یہ ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 106 ھجری میں حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بیٹے سالم بن عبداﷲ بن عُمر بن خطاب کا انتقال ہوا ۔ اِن کی کنیت ‘‘ابو عمرو ’’ تھی ۔ یہ بڑے زبردست فقیہ اور عالم تھے ۔ انہوں نے اپنے والد ِ محترم حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے بہت سی روایات بیان کی ہیں اور اِن کا شمار عابدوں اور زاہدوں میں ہوتا تھا ۔ ہشام بن عبدالملک اپنی حکمرانی کے زمانے میں حج کرنے گیا تو اِن سے کہا: ‘‘ مجھ سے کچھ مانگیں۔’’ انہوں نے فرمایا :‘‘ دنیا مانگوں یا آخرت؟’’ ہشام بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ دنیا کی کوئی چیز مانگیں۔’’ انہوں نے فرمایا: ‘‘ جس نے دنیا بنائی ہے اُسے میں نے دنیا نہیں مانگی تو تم سے کیا مانگوں؟’’ آپ ہمیشہ دو موٹے ٹاٹ کے کپڑے پہنتے تھے اور کبھی کسی حکمراں سے کچھ نہیں لیا ۔ اِس سال امام طاوؤس بن کیسان یمانی کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی تھے اور حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کے خاص شاگردوں میں سے ہیں۔انہوں نے بہت سے صحابۂ کرام سے روایات بیان کی ہیں۔ یہ فقہ کے بہت بڑے امام تھے اور اِن سے بڑے بڑے تابعین نے روایات لی ہیں ۔ جن میں امام مجاہد ، امام عطاع ، عمرو بن دینا ، عبدالکریم بن مخارق ، ابراہیم ، ابن میسرہ ، امام زہری (محمد بن منذر) حبیب بن ثابت ، ضحاک بن مزاحم عبدالملک بن میسرہ اور وہب بن منبہ اور اُن کے بیٹے عبداﷲ بن طاوؤس وغیرہ ہیں ۔ آپ کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ حج کرتے ہوئے انتقال ہوا اور ہشام بن عبدالملک نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ 

107 ھجری : رومیوں سے بحری اور بری جنگ

اِس سال مسلمانوں نے رومیوں سے بری اور بحری دونوں جنگ کی یعنی مسلمان رومیوں سے زمین پر بھی لڑے اور پانی پر بھی لڑے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال معاویہ بن ہشام موسم گرما کی مہم لیکر جہاد کے لئے روانہ ہوا ۔ میمون بن مہران ملک شام کی فوج کا سپہ سالار تھا ۔ معاویہ بن ہشام نے سمندر کو طے کیا اور جزیرہ ‘‘قبرص’’ پر آیا ۔ اُس کے ساتھ وہ امدادی فوج تھی جس کی بھرتی کا ہشام نے ۱۰۶ ؁ ھجری میں حکم دیا تھا اور اِن کی تنخواہیں 107 ھجری میں باقاعدہ مقرر کی گئی تھیں۔ اِن میں سے آدھے لوگ جہاد کے لئے گئے اور آدھے ملک شام میں رہے ۔ اِس سال مسلمہ بن عبدالملک نے خشکی پر رومیوں سے جہاد کیا ۔ اِس سال ملک شام میں شدید طاعون کی وباء پھیلی تھی ۔

خراسان میں تحریک عباسیہ کے کارکنوں کا قتل

خاندان ِ بنو عباسیہ کی خفیہ تحریک خاموشی سے چل رہی تھی لیکن خراسان کے گورنر اسد بن عبداﷲ کو اِس خفیہ تحریک کے بارے میں پتہ چل گیا تو اُس نے خراسان کے تمام کارکنوں کا قتل کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 107 ھجری میں بکیرہ بن ماہان نے ابو عکرمہ ، ابو محمد صادق ، محمف بن خنیساور عمار عبادی کو کچھ اپنے طرف داروں کے ساتھ جن کے ہمراہ زیادہ ولید ارزق کا ماموں بھی تھا ۔اپنے اغراض و مقاصد کی اشاعت و تبلیغ کے لئے خراسان بھیجا ۔ بنو کندہ کے ایک شخص نے خراسان کے گورنر اسد بن عبداﷲ قسری کے سامنے ان کی چغلی کردی ۔ ابو عکرمہ ، محمد بن خنیس اور اُن کے تمام ساتھیوں کو گرفتار کر کے اسد بن عبداﷲ قسری کے سامنے لایا گیا لیکن عمار عبدی بچ کر نکل گیا ۔ جو لوگ قبضے میں آگئے تھے اُن کے ہاتھوں اور پاؤں کو کاٹ کر سولی پر لٹکا دیا گیا ۔ عمار عبدی واپس بکیر بن ماہان کے پاس آیا اور پوری سرگذشت سنائی ۔ بکیر بن ماہان نے تمام ماجرا علی بن محمد کو لکھ بھیجا ۔ محمد بن علی نے جواب دیا : ‘‘ تما م تعریف اُسی اﷲ کے لئے ہے جس نے تمہاری خبر اور دعوت کو سچ کیا ہے ۔ تم میں سے جو بچ گئے ہیں وہ بھی عنقریب مارے جائیں گے ۔’’ 

اسد بن عبداﷲ قسری کا ترکوں سے جہاد

اِس سال خرسان کا گورنر لشکر لیکر ترکوں سے جہاد کرنے کے لئے گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 107 ھجری میں اسد بن عبداﷲ قسری نے نمرون کے پہاڑوں اور علاقہ غرشستان پر جو طالقان کے پہاڑوں سے متصل تھے جہاد کیا ۔ نمرون کے بادشاہ نے اُس سے صلح کر لی اور اُسی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ۔ یہاں کے باشندے آج تک ( علامہ محمد بن جریر طبری کے زمانہ تک ) یمنیوں کے موالی ہیں ۔(اسد بن عبداﷲ قسری یمنی تھا) اِس کے بعد اسد بن عبداﷲ قسری نے ‘‘غور’’ پر جو ‘‘ہرات’’ کا پہاڑی علاقہ ہے جہاد کیا ۔ جب اُس نے غور پر چڑھائی کی تو وہاں کے تمام باشندوں نے اپنے تمام مال و متاع کو ایک ایسے عمیق غار میں ڈال دیا جہاں تک پہنچان غیر ممکن تھا ۔ اسد بن عبداﷲ نے صندوق بنوائے اور اُن میں آدمیوں کو بٹھا کر رسیوں کے ذریعہ نیچے اُتارا اور یہ لوگ جس قدر مال و متاع نکال سکے نکال لائے ۔ 

بلخ کو فوجی چھاونی بنا یا

اِس سال اسد بن عبداﷲ نے مسلمانوں کی فوجی چھاونی کو بلخ میں منتقل کر دیا ۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ بلخ ترکی سرحد سے زیادہ قریب تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال اسد بن عبداﷲ قسری نے بروقان کی متعنہ فوج کو بلخ میں منتقل کر دیا اور جن جن لوگوں کے بروقان میں مکان تھے انہیں بلخ میں مکانات بنوا کر دیئے اور جن کے نہیں تھے اُن کو بھی بنوا کر دیئے اور ارادہ کیا کہ اپنی فوج کو پانچ الگ الگ حصوں میں تقسیم کر کے علیحدہ علیحدہ بسا دے لیکن اُس کے دوستوں نے ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا: ‘‘ اِس طرح اُن میں گروہ بندی ہو جائے گی جس سے جھگڑے پیدا ہوں گے ۔’’ اِسی لئے اُس نے سب کو خلط ملط کر کے بسا دیا ۔ شہر کی تعمیر کے لئے اُس نے معمار اور مزدور مقرر کئے اور خالد بن برمک کے باپ کو شہر کی تعمیر کا مہتمم (انجنیئر) مقرر کر دیا ۔ بروقان میں زیادہ تر کمانڈر اور روساء رہتے تھے ۔ اُس کے اور بلخ کے درمیان دو فرسخ کا فاصلہ تھا ۔ 

107 ھجری کا اختتام

107 ھجری کا اختتام ہوا ۔ اِس سال کے اختتام پر مملکت اسلامیہ میں تمام گورنر وہی رہے جو پچھلے سال کے اختتام پر تھے ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ملک یمن میں ایک شخص عباد رعینی نے خوارج کا مذہب اختیار کیا اور اُس کی اتباع میں اچھی خاصی تعداد میں لوگوں نے اُس مذہب کو اختیار کر لیا ۔ اِن لوگوں سے ملک یمن کے گورنر یوسف بن عمر نے قتال کیا اور اُس کو اُس کے تین سو ساتھیوں کے ساتھ قتل کر ڈالا۔ اِس سال مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کے گورنر ابراہیم بن ہشام نے مسلمانوں کو حج کرایا۔

107 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان

اِس سال جن کا انتقال ہوا اُن میں سے چند اعیان یہ ہیں ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 107 ھجری میں سلیمان بن یسار کا انتقال ہوا۔ یہ عطاء بن یسار کے بھائی ہیں اور اِن سے بہت سی روایات منقول ہیں ۔ عبادت میں مجتہدین میں شمار ہوتے تھے ۔ اِس سال عکرمہ مولیٰ ابن ابن عباس کا انتقال ہوا ۔ یہ تابعی ہیں اور مفکر و مکثر ہونے کے علاوہ علماء ربانین میں شمار ہوتے تھے ۔ اِن کی کنیت ابو عبادﷲ تھی ۔ انہوں نے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی کثیر تعداد سے روایات بیان کی ہیں ۔ یہ صاحب ِ علم و فن تھے اور اپنے آقا حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کی زندگی میں فتوے بھی دیا کرتے تھے ۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ میں نے چالیس سال علم حاصل کیا ۔ مشہور ہے کہ سفیان ثوری کا قول ہے کہ مناسک لینا ہے تو وہ سعید بن جبیر ، مجاہد اور عکرمہ سے لو اور تفسیر لینا ہے تو چار آدمیوں سعید بن جبیر ، مجاہد ، عکرہ اور ضحاک سے لو۔ 

108 ھجری : رومیوں سے جنگ

108 ھجری میں مسلمانوں نے رومیوں کے کئی علاقوں پر حملہ کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال مسلمہ بن عبدالملک نے رومیوں سے جہاد کیا اور شہر قیساریہ تک جو جزیرہ سے متصل واقع ہے جا پہنچا ۔ اﷲ تعالیٰ نے اِس شہر کو اُس کے ہاتھوں فتح کرایا ۔ اِس سال ابراہیم بن ہشام نے بھی رومیوں کے خلاف جہاد کیا اور اُن کے ایک قلعہ کو فتح کر لیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ۱۰۸ ؁ ھجری میں معاویہ بن ہشام بن عبدالملک نے بھی ارض روم پر جہاد کا سلسلہ جاری رکھا اور اُس نے بڑے بڑے بہادروں کو بھی لشکر کے ساتھ روانہ کیا ۔ انہوں حنجرہ فتح کیا اور بہت سا مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا ۔ 

ترکوں سے جہاد

اِس سال 108 ھجری میں اسد بن عبداﷲ نے پھر ترکوں سے جہاد کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال اسد بن عبداﷲ نے ختل سے جہاد کیا ۔ علی بن محمد بیان کرتے ہیں کہ خاقان نے اسد بن عبداﷲ کو آلیا مگر پھر اسد بن عبداﷲ ‘‘قواریان’’ کی طرف پلٹ گیا اور

 دریا کو عبور بھی کر آیا اِس لئے ان دونوں میں کوئی جنگ نہیں ہوسکی ۔مگر ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں کہ ترکوں نے اسد بن عبداﷲ کو شکست دی اور اُس کا سخت نقصان کیا ۔واپسی میں اسد بن عبداﷲ نے ظاہر کیا کہ وہ ‘‘سرخ درہ’’ میں موسم سرما بسر کرنا چاہتا ہے مگر پھر اُس نے لوگوں کو کوچ کا حکم دیا اور سب چل پڑے ۔ اسد بن عبداﷲ بن اپنے جھنڈے سامنے بڑھادیئے ۔ فوج نے تکبیر کہنا شروع کر دیا ۔ اسد بن عبداﷲ نے پوچھا : ‘‘ یہ کیا ہے؟’’ لوگوں نے کہا: ‘‘ عربیوں کا شیوہ ہے کہ جب وہ واپس پلٹتے ہیں تو تکبیر کہتے ہیں۔’’ اِس پر اسد بن عبداﷲ نے فوج کے نقیب عروہ سے کہا کہ اعلان کردو کہ امیر ‘‘غوریان’’ جانا چاہتے ہیں۔ ’’ جب مسلمان غوریان پہنچ گئے تب خاقان آیا ۔ اسد بن عبداﷲ نے دریا عبور کر لیا اور نہ مسلمانوں نے ترکوں کا سامنا کیا اور نہ ترکوں نے انہیں چھیڑا۔

خاقان کی شکست

اِس سال خاقان نے آذربائیجان پر حملہ کیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 108 ھجری میں خاقان آذربائیجان کی طرف بڑھا اور اُس نے شہر ‘‘ورثان’’ کا محاصرہ کر لیا اور اُس پر منجنیقوں سے سنگ باری کی تو اُس کی سرکوبی کے لئے اس علاقہ کے گورنر مسلمہ بن عبدالملک نے کمانڈر عمرو بن حارث کو فوج دیکر سپہ سالار بنا کر بھیجا ۔ اُس کی خاقان سے جنگ ہوئی اور زبردست مقابلے کے بعد مسلمانوں نے خاقان کے بہت سے سپاہیوں کو قتل کر دیا ۔ جب خاقان کے بہت سے سپاہی مارے گئے تو وہ بھی فرار ہو گیا لیکن اِس جنگ میں حارث بن عنرو بھی شہید ہو گیا ۔

108 ھجری کا اختتام

108 ھجری کے اختتام پر ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر خالد بن قسری تھا ۔ ملک یمن کا گورنر یوسف بن عمر تھا ۔ افریقہ ملک مصر اور اسپین کے گورنر وہی تھے جو پچھلے سال تھے ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر ابراہیم ہشام تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔

108 ھجری میں انتقال کرنے والے

اِس سال میں انتقال کرنے والے چند اعیان یہ ہیں ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 108 ھجری میں ابوبکر بن عبداﷲ بصری کا انتقال ہوا ۔ یہ عالم و عابد و زاہد اور متواض انسان تھے ۔ یہ ‘‘قلیل الکلام’’ مشہور تھے اور انہوں نے بہت سے صحابہ اور تابعین سے روایات بیان کی ہیں ۔ اِس سال راشد بن سعد متوانی حمصی کا انتقال ہوا ۔ یہ طویل عرصہ زندہ رہے اور کثیر صحابہ رضی اﷲ عنہم کے راوی ہیں ۔ یہ عابد و زاہد اور صالح انسان تھے ان کی سیرت بڑی طویل ہے ۔ اِس سال محمد بن کعب قرضی کا انتقال ہوا اور صحابہ رضی اﷲ عنہم کی متعددبہ جماعت سے روایات کے ناقل ہیں ۔ یہ عالم ، عابد اور صالح انسان تھے اور قرآن پاک کے اچھے مفسر تھے ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

ہفتہ، 2 مارچ، 2024

اللہ تعالیٰ تم کو بہتر بدلہ دے Jazakallah khair




اللہ تعالیٰ تم کو بہتر بدلہ دے



حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے ساتھ کوئی نیکی کا سلوک کیا گیا اور اس نے  اس نیکی کرنے والے سے «جزاك الله خيراً» ”اللہ تعالیٰ تم کو بہتر بدلہ دے“ کہا اس نے اس کی پوری پوری تعریف کر دی“  

جامہ ترمذی جلد ١ ، ٢١٠١  -حسن 


حضرت عمر‌ فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر لوگوں کو جزاك الله خيراً کہنے کا ثواب معلوم ہو جائے تو وہ  ایک دوسرے کو یہ بہت زیادہ کہنے لگ جائے 

مصنفه ابنُ أبي شيبة  ٢٦٥١٩ 


 ایک بار اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے  جزاك الله خيراً یعنی الله آپ کو اچّھا صلہ عطا فرماۓ  کہا تو ان کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا یعنی  آپ کو بھی ، الله آپ کو  بھی اچّھا صلہ عطا فرماۓ کہا  

صحيح ابن حبان  ٧٤٣٦-حسن


نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا اللہ کا ( بھی ) شکر ادا نہیں کرتا ۔

سنن ابی داؤد جلد ۳ ۱۳۸۳ صحیح








 

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں