جمعرات، 1 فروری، 2024

سلطنت امیہ 60 Saltanat e Umayya part 60


ا_60 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 60

115 ھجری : خراسان اور ملک شام میں طاعون کی وباء، 115 ھجری کا اختتام، حضرت ابو جعفر امام باقر رضی اﷲ عنہ کا انتقال، 116 ھجری : ملک عراق و ملک شام میں طاعون، جنید بن عبدالرحمن کی معزولی اور انتقال، حارث بن سریج کی بغاوت، حارث بن سریج کا ‘‘بلخ’’ پر قبضہ، حارث بن سریج کی ‘‘مرو’’ کی طرف پیش قدمی،  حارث بن سریج کی شکست اور فرار، 116 ھجری کا اختتام، 117 ھجری : رومیوں اور ترکوں سے جہاد، عاصم بن عبداﷲ کی معزولی، حارث بن سریج اور عاصم بن عبداﷲ بن اتحاد، تحریک عباسیہ کے داعیوں کی گرفتاری، 117 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 118 ھجری: فرقہ خرمیہ کی تبلیغ، عمار خداش کا قتل، علی بن عبداﷲ بن عباس کا انتقال، 118 ھجری کا اختتام

ا_115 ھجری : خراسان اور ملک شام میں طاعون کی وباء

اِس سال ملک شام میں طاعون کی وباء پھیلی اور ملک خراسان میں شدید قحط پڑا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال معاویہ بن ہشام نے رومیوں کے علاقہ میں جہاد کیا اور اِسی سال ملک شام میں طاعون کا مرض پھیلا اور ملک خراسان میں شدید قحط پڑا جس سے لوگوں کو سخت تکلیف برداشت کرنا پڑی ۔جنید بن عبدالرحمن نے اپنے ماتحت تمام صوبوں میں حکم جاری کیا کہ سامانِ خوراک ‘‘مرو’’ میں بھیجا جائے ۔ اِس قحط کے سال میں جنید بن عبدالرحمن نے ایک شخص کو ایک درہم دیا ۔اُس نے ایک روٹی خریدی تو جنید بن عبدالرحمن نے کہا : ‘‘ تم قحط کی شکایت کرتے ہو حالانکہ ایک درہم میں ایک روٹی مل جاتی ہے ۔ ہندوستان کا یہ حال ہے کہ وہاں ایک دانہ کئی کئی درہموں میں ملتا ہے ۔’’ 

ا_115 ھجری کا اختتام

اس طرح 115 ھجری کا اختتام ہوا اور اِس سال کے اختتام پر ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ خالد بن عبداﷲ تھا ۔ ملک مصر ،افریقہ اور اسپین کے گورنر وہی تھے جو پچھلے سال تھے ۔ ملک یمن کا گورنریوسف بن عمرو تھا ۔ آذربائیجان اور آرمینیہ کا گورنر محمد بن مروان تھا ۔ البتہ ملک خراسان کے گورنر کے بارے میں اختلاف ہے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اِس سال وہی لوگ گورنر تھے جو 114 ھجری میں تھے ۔ملک خراسان کے گورنر کے بارے میں ارباب سیر کا اختلاف ہے ۔ امام مدائنی کہتے ہیں کہ اِس سال جنید بن عبدالرحمن خراسان کا گورنر تھا ۔ ایک روایت کے مطابق عمارہ بن حریم مری خراسان کا گورنر تھا اور جیند کا 115 ھجری میں انتقال ہوچکا تھا اور اُس نے عمارہ بن حریم مری کو اپنا جانشین بنا دیا تھا ۔مگر امام مدائنی کہتے ہیں جنید بن عبدالرحمن کا انتقال 116 ھجری میں ہوا۔ اِس سا ل مکۂ مکرمہ اور طائف کا گورنر محمد بن ہشام تھا اور اسی نے مسلمانوں کو حج کرایاجبکہ مدینۂ منورہ کا گورنر خالد بن عبدالملک تھا ۔ 

حضرت ابو جعفر امام باقر رضی اﷲ عنہ کا انتقال

اِس سال 115 ھجری میں حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کے پوتے حضرت ابو جعفر امام باقر رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال حضرت ابوجعفر امام باقر رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔ یہ حضرت محمد بن علی اوسط(امام زین العابدین) بن حسین بن علی بن ابی طالب قرشی ہاشمی ابوجعفر باقر ہیں ۔ اِن کی والدہ محترمہ ام عبداﷲ بنت حسین بن علی رضی اﷲ عنہا ہیں ۔یہ جلیل القدر تابعیاور بڑے بزرگ ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ کا نام اِس اُمت کے اشراف میں عملاً ، علماً اور سیادہً ہمیشہ احترام سے لیا جاتا ہے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے متعدد صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے روایات بیان کی ہیں اور کبار تابعین کی معتمد جماعت نے اِن سے بھی احادیث بیان کی ہیں۔ جن لوگوں نے ان سے روایات نقل کی ہیں اُن میں آپ رضی اﷲ عنہ کے بیٹے امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہ ، حکم بن عینیہ ، ابی الاعمش ، ابو اسحاق سبعی ، امام اوزعی ، امام اعرج ، امام ابن جریج ، عطاء بن رباح ، عمرو بن دینا اور امام زہری ہیں۔ امام عجلی کا بیان ہے کہ حضرت ابوجعفر امام باقر رضی اﷲ عنہ ثقہ تابعی ہیں ۔امام محمد بن سعد نے کہا: ‘‘ امام ابوجعفر باقر ثقہ ہیں اور کثیر الحدیث ہیں ۔’’

ا_116 ھجری : ملک عراق و ملک شام میں طاعون

پچھلے سال ملک شام کے کچھ علاقوں میں طاعون پھیلا تھا لیکن اِس سال پورا ملک شام طاعون کی لپیٹ میں آگیا اور اِس کے ساتھ ساتھ ملک عراق میں بھی طاعون پھیلا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال موسم گرما میں معاویہ بن ہشام نے رومیوں کے علاقہ پر جہاد کیا ۔ اِس سال ملک عراق و ملک شام میں شدید طاعون پھیلا اور اس کی سب سے زیادہ شدت واسط میں تھی ۔

جنید بن عبدالرحمن کی معزولی اور انتقال

اِس سال جنید بن عبدالرحمن کا انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال جنید بن عبدالرحمن کا انتقال ہوا اور عاصم بن عبداﷲ یزید ہلالی خراسان کا گورنر مقرر کیا گیا ۔چونکہ جنید بن عبدالرحمن نے فاضلہ بنت یزید بن مہلب سے نکاح کر لیا تھا ۔ اِسی وجہ سے امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک اُس نے ناراض ہوگیا اور اُسے معزول کر کے عاصم بن عبداﷲ کو ملک خراسان کا گورنر بنا دیا اور اُسے حکم دیا کہ خراسان جاتے ہی جنید بن عبدالرحمن کو قتل کر دینا ۔جنید بن عبدالرحمن کو استسقاء کا مرض ہو گیا تھا اور جب عاصم بن عبداﷲ خراسان پہنچا تو جنید بن عبدالرحمن کا انتقال ہوچکا تھا ۔اُس نے اپنی جگہ عمارہ بن حریم کو گورنر بنایا تھا ۔ 

حارث بن سریج کی بغاوت

جنید بن عبدالرحمن نے ملک خراسان کے تمام شہروں پر اپنے گورنر مقرر کر رکھے تھے ۔ عاصم بن عبداﷲ جب ملک خراسان آیا تو اُس نے اُن تمام گورنروں کو گرفتار کر لیا اور اُن پر طرح طرح کے ظلم کرنے لگا جس کی وجہ سے حارث بن سریج نے بغاوت کردی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عاسم بن عبداﷲ نے ملک خراسان آتے ہی عمارہ بن حریم اور جنید بن عبدالرحمن کے مقرر کردہ دوسرے گورنروں کو قید کر دیا اور اُن پر طرح طرح کی سختیاں کیں ۔ اُس وقت حارث بن سریج ‘‘نخد’’ سے چلکر ‘‘فاریاب’’ پہنچا اور اُس نے اپنے آگے بشر بن حرموز کو روانہ کیا ۔عاصم بن عبداﷲ نے خطاب بن محرز سلمی کو حارث کے پاس بھیجا ۔خطاب بن محرز اور مقاتل بن حیان نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ‘‘

 جب تک حارث سے وعدہ امان نہیں لے لیا جائے تب تک ہمیں اُس کے پاس نہیں جانا چاہیئے مگر لوگوں نے اِس تجویز کی مخالفت کی ۔ جب یہ سب لوگ حارث بن سریج کے پاس پہنچے تو اُس نے سب کو گرفتار کر کے قید کرلیا اور ایک شخص کو ان کی نگرانی پر متعین کر دیا ۔ ان سب نے مل کر اُس نگرانی کرنے والے کو باندھ دیا اور قید خانے سے نکل آئے ۔ اپنے گھوڑوں پر سوار ہوئے اور ڈاک کے گھوڑے بھی اپنے ساتھ لے آئے ۔ حارث بن سریج اپنے ساتھیوں کو لیکر ‘‘بلخ’’ آیا۔ 

حارث بن سریج کا ‘‘بلخ’’ پر قبضہ

بلخ پہنچ کر حارث بن سریج نے اُس پر قبضہ کر لیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: جب حارث بن سریج نے ‘‘بلخ’’ کی طرف پیش قدمی کی تو اُس وقت تجیبی بن ضبیہ اور نصر بن سیار ‘‘بلخ’’ کے گورنر تھے ۔ جب حارث بن سریج عطا کے پل کے پاس جو دریائے بلخ سے دو فرسخ کے فاصلے پر تھا پہنچا تو نصر بن سیار دس ہزار کی فوج لیکر اُس کے مقابلے کو بڑھا ۔حارث بن سریج کے پاس چار ہزار فوج تھی ۔ جنگ شروع ہوئی تو قطن بن قتیبہ کی آنکھ میں ایک تیر آکر لگا اور اِس معرکہ میں سب سے پہلے یہی کام آیا ۔ اہل بلخ شکست کھا کر بھاگے ،حارث بن سریج نے اُن کا تعاقب کیا اور شہر میں گھس آیا ۔ نصر بن سیار ایک دوسرے دروازے سے بلخ سے جان بچا کر چلتا بنا ۔حارث بن سریج نے حکم دیا کہ شکست خوردہ فوج سے کوئی تعارض نہ کیا جائے ۔

حارث بن سریج کی ‘‘مرو’’ کی طرف پیش قدمی

بلخ پر قبضہ کرنے کے بعد حارث بن سریج ملک خراسان کے دارلحکومت ‘‘مرو’’ کی طرف بڑھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حارث بن سریج نے بلخ پر قبضہ کرنے کے بعد عبداﷲ بن حازم کی اولاد میں سے ایک شخص کو ‘‘بلخ’’ کا گورنر مقرر کردیا اور خود وہاں سے روانہ ہو کر جوزجان پہنچا تو انہوں نے بھی اُس کی اطاعت قبول کر لی ۔ جوزجان پر قبضہ کر نے کے بعد حارث بن سریج نے ابو فاطمہ کو بلایا اور پوچھا: ‘‘ آپ کی کیا رائے ہے ؟’’ ابو فاطمہ نے کہا: ‘‘ مرو’’ ملک خراسان کا دارالحکومت ہے اور وہاں بہادروں کی کثرت ہے ۔ ’’حارث بن سریج نے کہا: ‘‘ میں ‘‘مرو’’ پر قبضہ کرنا چاہتا ہوں۔ ’’ اِس کے بعد حارث بن سریج نے بلخ ، جوزجان ، فاریاب ، طالقان اور مروزورپر قبضہ کرنے کے بعد خود ‘‘مرو’’ کی طرف پیش قدمی شروع کر دی ۔ ‘‘مرو’’ کے اہل رائے نے حارث بن سریج سے کہا: ‘‘ اگر عاصم بن عبداﷲ ہمیں چھوڑ کر ‘‘شبر شہر’’(نیشاپور) چلا گیا تو مرو کی فوج منتشر ہوجائے گی ۔’’ اِدھر عاصم بن عبداﷲ کو معلوم ہوگیا کہ ‘‘مرو’’ والے حارث بن سریج سے ساز باز رکھتے ہیں اِس لئے اُس نے ‘‘مرو’’ چھوڑ دینے کا تہیہ کر لیا اور باشندوں کو مخاطب کر کے کہا: ‘‘ اے خراسانیو! تم نے حارث بن سریج کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے ۔ جس شہر کا اُس نے رخ کیا تم نے اسے لڑے بغیر اُس کے حوالے کر دیا ۔ میں اب اپنی قوم کے علاقہ ‘‘ابر شہر’’ (نیشا پور) جارہا ہوں اور وہاں سے امیر المومنین کو لکھوں گا کہ وہ میری امداد کے لئے دس ہزار کا شامی لشکر بھیجیں۔’’ 

حارث بن سریج کی شکست اور فرار

حارث بن سریج اپنی فوج کو لیکر ‘‘مرو’’ کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مجشر بن مزاحم نے عاصم بن عبداﷲ سے کہا: ‘‘ تم اہل مرو سے بیعت لو اگر وہ انکار کریں تو ابر شہر چلے جانا اور امیر المومنین سے لکھنا کہ وہ تمہاری امداد کے لئے اہل شام کی فوج بھیج دیں۔’’خالد بن ہریم اور ہلال بن علیم نے کہا: ‘‘ ہم آپ کو ہرگز جانے نہیں دیں گے ۔چونکہ ہم آپ کے ساتھ ہیں اِس لئے ساری ذمہ داری ہم پر عائد ہوگی۔’’ اِس کے بعد عاصم بن عبداﷲ نے اہل مرو کے ساتھ ملکر مقابلے کی تیاری کرنا شرع کر دی۔ حارث بن سریج ایک بہت فوج جس کی تعداد لگ بھگ ساٹھ ہزار تھی لیکر ‘‘مرو’’ کی طرف بڑھا ۔ ادھر عاصم بن عبداﷲ نے ہر سپاہی کو تین تین دینار دینا شروع کئے تو ‘‘مرو’’ کے علاوہ آس پاس کے علاقوں سے بھی لوگ آ کر اُس کی فوج میں شامل ہونے لگے ۔ دونوں دجیں جب آمنے سامنے آئیں تو طرفین نے زبردست جنگ شروع کردی ۔ اہل مرو نے ثابت قدمی سے مقابلہ کیا اور حارث بن سریج کی فوج شکست کھا کر بھاگی ۔حارث کی فوج کے بہت سے لوگ ‘‘مرو’’ کی ندیوں اور بڑے دریا میں غرق ہوئے اور اہل مرو کو فتح حاصل ہوئی ۔ 

ا_116 ھجری کا اختتام

اِس سال کے اختتام پر پوری مملکت اسلامیہ میں وہی گورنر تھے جو پچھلے سال تھے ۔ ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ خالد بن عبداﷲ تھا ۔ ملک مصر ،افریقہ اور اسپین کے گورنر وہی تھے جو پچھلے سال تھے ۔ ملک یمن کا گورنریوسف بن عمرو تھا ۔ آذربائیجان اور آرمینیہ کا گورنر محمد بن مروان تھا۔مکۂ مکرمہ اور طائف کا گورنر محمد بن ہشام تھا اور مدینۂ منورہ کا گورنر خالد بن عبدالملک تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ولید بن یزید بن عبدالملک ‘‘ولی عہد’’نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ 

ا_117 ھجری : رومیوں اور ترکوں سے جہاد

اِس سال مسلمانوں نے آگے بڑھ کر رومیوں اور ترکوں کے علاقے میں جہاد کیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال معاویہ بن ہشام نے موسم گرما کی مہم لیکر بائیں جانب سے اور سلیمان بن ہشام بن عبد الملک نے داہنی سمت سے علاقہ جزیرہ کی طرف سے بڑھ کر رومیوں کے علاقے میں جہاد کرنے گئے ۔ سلیمان بن ہشام نے رومیوں کے علاقہ میں اپنے فوجی دستے مختلف مقامات پر بھیجے ۔ اِس سال آذربائیجان اور آرمینیہ کے گورنر مروان بن محمد نے دو فوجیں روانہ کیں ۔ ایک نے ‘‘لان’’ کے تین قلعے فتح کئے اور دوسری فوج نے ‘‘نومالشاہ’’ کا محاصرہ کر لیا ۔ اہل نومالشاہ نے ہتھیار ڈال دیئے اور صلح کر لی ۔ 

عاصم بن عبداﷲ کی معزولی

اِس سال عاصم بن عبداﷲ کی ایک چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے اُسے خراسان کی گورنری سے معزول کر دیا گیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عاصم بن عبداﷲ نے ہشام بن عبدالملک کو خط لکھا: ‘‘ ایک رہبر اُن لوگوں سے جن کی رہنمائی اُس کے سپرد ہے جھوٹ نہیں بولتا۔ امیرالمومنین نے جو ذمہ داری میرے سپرد کی تھی اُس کا اقتضا یہ ہے کہ میں اس معاملہ میں دیانت داری اور خلوص سے کام کروں ۔خراسان کی حالت اُس وقت تک درست نہیں ہوسکتی جب تک یہ ملک عراق کے گورنر کے ماتحت نہ کر دیا جائے تاکہ فوج کی ضروریات کی بہم رسانی اور حادثات وناگہانی مصائب کے پیش آنے کی صورت میں اس کی قریب سے امداد ہو سکے ۔ کیونکہ امیر المومنین خود خراسان سے بہت فاصلے پر ہیں اور اِس بنا پر خراسان کو امداد پہنچنے میں دیر لگ جاتی ہے ۔ ’’جب یہ خط جاچکا تو عاصم بن عبداﷲ نے اپنے دوستوں یحییٰ بن حصین اور مجشر بن مزاحم کو خط کے بارے میں بتایا تو مجشر بن مزاحم نے افسوس سے سر ہلاتے ہوئے کہا: ‘‘ اِدھر یہ خط گیا اور امیرالمومنین نے خراسان کو ملک عراق کے گورنر کے ماتحت کیا اور ملک عراق کے گورنر خالد بن عبداﷲ نے اپنے بھائی اسد بن عبداﷲ کو خراسان کا گورنر بنا کر بھیجا۔’’ اور بالکل یہی ہوا۔ ہشام بن عبدالملک نے خط پڑھنے کے بعد ملک خراسان کا علاقہ ایک بار پھر ملک عراق کے گورنر خالد بن عبداﷲ کی ماتحتی میں دے دیا اور خالد بن عبداﷲ نے اپنے بھائی اسد بن عبداﷲ کو خراسان کا گورنر بنا کر بھیج دیا اور وہ ایک مہینے بعد خراسان پہنچ گیا ۔ 

حارث بن سریج اور عاصم بن عبداﷲ بن اتحاد

عاصم بن عبداﷲ نے امیر المومنین کے پاس خط لکھا ۔اُس کے بعد حارث بن سریج نے ایک بار پھر ‘‘مرو’’ پر چڑھائی کی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حارث بن سریج نے پھر سے اپنی فوج کو جمع کر کے ‘‘مرو’’ کی جانب پیش قدمی کی تو اپنے جھنڈوں کو سیاہ کر لیا اور یہ مرجۂ فرقہ کے عقائد کو ماننے والا تھا ۔ جب وہ ‘‘مرو’’ کے قریب پہنچ گیا تو اُس وقت تک عاصم بن عبداﷲ کو معلوم ہو چکا تھا کہ اسد بن عبداﷲ ملک خراسان کا گورنر بن کر آرہا ہے ۔اُس نے اپنے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کے کمانڈر محمد بن مالک ہمدانی کو صلح کے لئے بھیجا اور اُس نے حارث بن سریج سے یہ عہد نامہ کیا :‘‘ حارث بن سریج ملک خراسان کے کسی بھی

 ضلع میں چاہے تو قیام کر لے اور وہ دونوں ملکر امیر المومنین ہشام بن عبدالملک کو قرآن اور سنت پر چلنے کی دعوت دیں اگر اُس نے مان لیا تو ٹھیک ہے ورنہ دونوں ملکر کاروائی کریں گے۔’’ عاصم بن عبداﷲ کے بعض سرداران نے عہد نامہ پر دستخط کر دیئے لیکن یحییٰ بن حصین نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا اور کہا: ‘‘ یہ تو امیر المومنین سے بغاوت ہے۔’’

عاصم بن عبداﷲ کی گرفتاری

عاصم بن عبداﷲ کے بعض سرداروں نے حارث بن سریج سے صلح کو مان لیا لیکن اکثر سرداروں نے انکار کر دیا ۔ جس کی وجہ سے وہ معاہدہ نہیں ہوسکا اور عاصم بن عبداﷲ جنگ کے لئے لشکر لیکر نکلا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عاصم بن عبداﷲ ‘‘مرو’’ مین بنو کندہ کے ایک گاؤں میں مقیم تھا اور حارث بن سریج ‘‘مرو’’ میں بنو عنبر کے گاؤں میں مقیم تھا ۔ دونوں اپنی فوج لیکر مقابلے پر آئے ۔ دونوں فوجوں میں زبردست جنگ ہوئی اور حارث بن سریج کی فوج نے شکست کھائی اور حارث بن سریج فرار ہو گیا۔بہت سے قیدی گرفتار کر لئے گئے ۔عاصم بن عبداﷲ نے اِن سب کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔اب اسد بن عبداﷲ خراسان پہنچ گیا ۔ اس سے پہلے ہی حارث بن سریج فرار ہو چکا تھا ۔اسد بن عبداﷲ نے عاصم بن عبداﷲ کو قید کر دیا اور ایک لاکھ درہم اُس کے اُوپر واجب الادا نکالے۔ جنید بن عبدالرحمن کے جن گورنروں کو عاصم بن عبداﷲ نے قید کردیا اُن سب کو اسد بن عبداﷲ نے آزاد کردیا ۔ 

تحریک عباسیہ کے داعیوں کی گرفتاری

اِس سال ملک خراسان میں ‘‘تحریک عباسیہ’’ کے چند داعی پکڑے گئے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اسد بن عبداﷲ نے اِس سال بنو عباس کے داعیوں کی ایک جماعت کو خرسان میں پکڑا ۔ اُن میں سے کچھ کو قتل کردیا ۔ کچھ کے ہاتھ پاؤں کٹوادیئے اور کچھ کو قید کردیا ۔بعد میں گرفتا ر شدہ لوگوں کو رہا کر دیا ۔ 

ا_117 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان

اِس سال جن لوگوں کا انتقال ہوا اُن میں سے چند یہ ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 117 ھجری میں قتادہ بن دعامہ سدوسی کا انتقال ہوا ۔ یہ اعلیٰ تابعین اور آئمہ میں سے ہیں ۔انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ اور بہت سے تابعین کی سے روایار بیان کی ہیں ۔جن میں سعید بن مسیب ، ابوالعالیہ ، زراہ بن اوفی ، عطاء ، مجاہد ، محمد بن سیرین ،مسروق اور ابو مجلز وغیرہ ہیں۔اِ ن سے کبار تابعین نے روایات بیان کی ہیں ۔اِن میں ایوب ، حماد بن مسلمہ ، حمید الطویل ،سعید بن ابی عروبہ ، الاعمش، شعبہ ، اوزاعی ، مسعر ، معمر اور ہمام وغیرہ ہیں۔محمد بن سیرین کا کہنا ہے :‘‘ قتادہ لوگوں میں سب سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں۔’’ امام مطر کا قول ہے :‘‘ قتادہ جب کسی حدیث کو سن لیتے تھے تو اس کو ہر پہلو اور حیثیت سے محفوظ کر لیتے تھے اور اچھی طرح یاد کر لیتے تھے ۔ ’’ امام زہری نے کہا: ‘‘ قتادہ ، مکحول سے زیادہ عالم تھے ۔’’ امام معمر کا قول ہے :‘‘ میں نے زہری ، حماد اور قتادہ سے زیادہ افقہ کسی کو نہیں دیکھا۔’’لوگ قتادہ کے علم ، فقہ اور ان کی تفسیر معرفت و علم کے معترف تھے ۔اِس سال حضرت عبداﷲ بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے غلام نافع کا انتقال ہوا۔ یہ ابو عبداﷲ مدنی ہیں اور اصلاً بلاد مغرب کے باشندے تھے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نیشا پور کے رہنے والے تھے اور بعض کے نزدیک کابل کے رہنے والے تھے ۔انہوں نے اپنے آقا حضرت عبداﷲ بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ ،رافع بن خدیج ، ابوسعید خدری، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ اور اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہم سے اور بہت سے تابعین سے روایات بیان کی ہیں اور اِن سے کثیر تابعین نے روایات بیان کی ہیں ۔ یہ ثقہ اور جلیل القدر آئمہ میں شمار ہوتے ہیں ۔ امام بخاری نے کہا: ‘‘ یہ صحیح الاسناد ہیں۔ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے ان کو ملک مصر جے اطراف میں سنن کی تعلیم دینے کے لئے بھیجا تھا ۔

ا_118 ھجری: فرقہ خرمیہ کی تبلیغ

118 ھجری میں مملکت اسلامیہ میں ایک نیا فرقہ پیدا ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ملک عراق میں ‘‘تحریک عباسیہ’’ کے داعی بکیر بن ماہان نے عمار بن یزید کو ‘‘بنو عباس’’ کے طرفداروں کا سردار مقرر کر کے ملک خراسان بھیجا ۔ عمار بن یزید ‘‘مرو’’ میں آکر قیام پذیر ہو گیا۔ اُس نے اپنا نام تبدیل کر کے عمار کے بجائے خداش رکھ لیا اور محمد بن علی کی بیعت کے لئے لوگوں کو دعوت دینے لگا ۔ لوگ جلدی جلدی اُس کے پاس پہنچنے لگے اور جس تحریک کے لئے وہ بھیجا گیا تھا اُسے قبول کرنے لگے ۔ اُس کی ہر بات غور سے سنتے اور اسکی تحریک کی اطاعت کرتے ۔ مگر پھر اُس نے اپنی اِس تحریک کوجس کی اُس نے دعوت دی تھی بدل دیا اور جھٹلا دیا ۔ اب اُس نے ایک نئے دین ‘‘خرمیہ’’ کی تلقین شروع کردی اور اس کی دعوت دینے لگا ۔ اس نے اپنے معتقدین کو اجازت دے دی کہ ایکدوسرے کی عورتیں اُن کے لئے حلال ہیں اور کہا کہ یہ سب کچھ میں محمد بن علی کی جانب سے کر رہا ہوں۔ 

عمار خداش کا قتل

عمار خداش کے بارے میں جب اسد بن عبداﷲ کو خبر ہوئی تو اُس نے اُسے گرفتار کر کے قتل کرادیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اسد بن عبداﷲ کو جب عمار خداش کے بارے میں خبر ہوئی تو اُس نے اپنے مخبر کو اُس کی گرفتاری کے لئے لگا دیئے ۔آخر کار وہ گرفتار کر کے اسد بن عبداﷲ کے سامنے لایا گیا ۔ اُس وقت اسد ‘‘بلخ’’ کی طرف جہاد کے لئے جانے کی تیاری کر چکا تھا ۔ اُس نے اُس سے واقعہ دریافت کیا تو عمار خداش نے اُس سے سخت کلامی کی ۔ اسد بن عبداﷲ نے اُس کے ہاتھ کٹوا دیئے ، زبان نکلوا دی اور اُسے اندھا کر ادیا۔ دوسری روایت میں ہے کہ جب ابتداء میں اسد بن عبداﷲ ‘‘آمل’’ پہنچا تو یہاں بنو ہاشم کی تحریک کا داعی خداش اُس کے سامنے پیش کیا گیا ۔ اسد بن عبداﷲ نے اُسے قرعہ طبیب کے سپرد کر دیا ۔ قرعہ نے اُس کی زبان کاٹ ڈالی اور اندھا کر دیا ۔ اسد بن عبداﷲ نے کہا: ‘‘ اُس اﷲ کا شکر ہے کہ جس نے تجھ سے ابوبکر اور عمر رضی اﷲ عنہم کا بدلہ لے لیا ۔پھر اُسے یحییٰ بن نعیم شیبانی آمل کے گورنر کی قید میں دے دیا ۔ سمرقند سے واپسی کے بعد اسد بن یحییٰ کو اُس کے قتل کا حکم دے دیا ۔ یحییٰ نے اُسے قتل کر کے سولی پر لٹکا دیا ۔ 

علی بن عبداﷲ بن عباس کا انتقال

118 ھجری میں علی بن عبداﷲ بن عباس کا انتقال ہوا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ِن کی کنیت ابو محمد تھی اٹھہتر یا ستہتر سال کی عُمر میں مقام ‘‘محمیہ’’ میں ملک شام میں انتقال ہوا ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اُس رات پیدا ہوئے جس رات خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا ۔ اِن کے والد حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ نے ان کا نام ‘‘علی’’ رکھا اور فرمایا :‘‘ میں نے اِس کا نام اُس شخص کے نام پر رکھا ہے جو تمام مخلوقات میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے ۔’’ اور کنیت ‘‘ابوالحسن’’ رکھی ۔ جب یہ عبدالملک بن مروان سے ملنے گئے تو اُس نے اِن کی بڑی تعظیم و تکریم کی اور اپنے برابر تخت پر جگہ دی ۔ اُن کی کنیت پوچھی ،انہوں نے بتائی تو اُس نے کہا: ‘‘ میرے لشکر گاہ میں ایک بھی شخص کا یہ نام اور کنیت نہیں ہوسکتی ۔’’ پھر پوچھا :‘‘ آپ کے یہاں کوئی بیٹا پیدا ہوا ہے ؟’’ اتفاق سے اُسی دن محمد بن علی پیدا ہوا تھا انہوں نے اِس کے بارے میں بتایا تو عبدالملک بن مروان نے اُس کی کنیت ابو محمد رکھدی ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : علی بن عبداﷲ بن عباس خاندان بنو عبدالمطلب کے ہیں اور حضرت عباس بن عبدالمطلب کے پوتے ہیں ۔ علی بن عبداﷲ بن عباس نہایت ہی عابد و زاہد تھے اور اپنے علم و عمل عدالت و ثقاہت کے ساتھ اپنی شکل و وجاہت کے لئے بھی مشہور تھے ۔ یہ چوبیس گھنٹے میں ایک ہزار رکعت نفل نماز پڑھتے تھے ۔

ا_118 ھجری کا اختتام

118 ھجری کے اختتام پر ‘‘سلطنتِ اُمیہ’’ کے گورنر یہ تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال کے اختتام پر خالد بن عبداﷲ ملک عراق و ایران و خراسان اور تمام مشرقی ممالک کا ناظم اعلیٰ تھا ۔خراسان کا گورنر اُس کا بھائی اسد بن عبداﷲ تھا ۔ ہلال بن ابی بردہ بصرہ

 کے گورنر تھے کوتوال بھی تھے اور پیش امام بھی تھے ۔ مروان بن محمد آذربائیجان اور آرمینیہ کا گورنر تھا ۔ مدینۂ منورہ کا گورنر خالد بن عبدالملک تھا اور مکۂ مکرمہ اور طائف کا گورنر محمد بن ہشام تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......


!

سلطنت امیہ 61

https://khubsooratachhibaten.blogspot.com/2024/01/61-saltanat-e-umayya-part-61.html

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں