اتوار، 4 فروری، 2024

59 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya part 59


59 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 59

110 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، حسن بن ابی حسن کا انتقال، محمد بن سیرین کاانتقال، وہب بن منبہ یمانی کا انتقال، 111 ھجری : رومیوں سے جہاد، جنید بن عبدالرحمن خراسان کا گورنر، جنید بن عبدالرحمن خراسان میں، ترکوں کی شکست، 111 ھجری کا اختتام، 112 ھجری : ترکوں سے جہاد، ترکوں کا تین طرف سے گھیراؤ، مسلمانوں کی شکست، 112 ھجری کا اختتام، 112 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 113 ھجری : ترکوں سے جہاد، رومیوں سے جہاد، 113 ھجری کا اختتام، 113 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 114 ھجری، 114 ھجری میں کا اختتام، 114 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان

110 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان

اِس سال کافی علمائے کرام کا انتقال ہوا اُن میں سے چند یہ ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اِس سال 110 ھجری میں سلیمان بن سعد کا انتقال ہوا ۔یہ بزرگ عربی کے عالم فصیح اور حسین و جمیل تھے ۔ یہ مسلمانوں کو عربی سکھاتے تھے ۔ اِن کے رفیق و معلم صالح عبدالرحمن کاتب تھے اور صالح کا انتقال اِن کے انقال کے کچھ دنوں بعد ہوا۔ سلیمان بن سعد کو سلیمان بن عبدالملک نے اپنے دورِ حکومت میں ملک عراق کا انچارج بنا دیا تھا ۔ اِس سال ام ہذیل کا انتقال ہوا ۔اِن سے بھی بہت سی روایات مشہور ہیں ۔ بارہ سال کی عمر میں قرآن پاک پڑھ لیا تھا اور یہ اپنے وقت کی فقیہہ اور علامہ تھیں ۔ یہ محترم خواتین میں شمار ہوتی تھیں اور ستر سال کی عُمر میں انتقال ہوا۔ اِس سال عائشہ بنت طلحہ کا انتقال ہوا ۔ یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی نواسی ہیں اور اِن کی والدہ کا نام ام کلثوم ہے ۔ اِن کا پہلا نکاح عبداﷲ بن عبدالرحمن بن ابوبکر سے ہوا ۔ بعد میں یہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے نکاح میں آئیں اور مہر ایک لاکھ دینار تھا ۔ اِن کا انتقال مدینۂ منورہ میں ہوا۔ اِس سال عبداﷲ بن سعد بن جبیر کا انتقال ہوا ۔ اِن سے بھی بہت سی روایات منسوب ہیں اور یہ اپنے زمانے میں افضل لوگوں میں شمار ہوتے تھے ۔ اِس سال عبدالرحمن بن ابان کا انتقال ہواْ ۔ یہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پوتے ہیں اور صحابۂ کرام سے انہوں نے روایات بیان کی ہیں۔

حسن بن ابی حسن کا انتقال

اِس سال حسن بن یسار کا انتقال ہوا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 110 ھجری میں حسن بن ابی حسن کا انتقال ہوا ۔ اِن کے والد کا نام یسار ہے اور کنیت ابوسعید بصری ہے جو حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اﷲ عنہ کے غلام تھے ۔ اِن کی والدہ کا نام ‘‘خیرہ’’ ہے جو اُم المومنین سیداہ اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا کی خادمہ تھیں ۔ جب وہ خیرہ کو کسی کام پر بھیجا کرتی تھیں تو حسن بن ابی حسن کو سنبھالتی تھیں اور اپنا دودھ پلا کر بہلاتی تھیں ۔ اِن کی والدہ اِن کو بچپن میں ہی صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کی خدمت میں بھیجا کرتی تھیں اور وہ ان کو اپنی دعاؤں سے نوازا کرتے تھے ۔ اِس دعا دینے والوں میں خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بھی شامل ہیں۔ جو ان کو دعا دیتے وقت فرمایا کرتے تھے : ‘‘ اے اﷲ! اِس کو دین کی سمجھ عطا فرما اور اس کو لوگوں کا محبوب بنا دے ۔ ایک مرتبہ لوگوں نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے کوئی مسئلہ دریافت کرنا چاہا تو انہوں نے فرمایا: ‘‘ حسن بن ابی حسن سے دریافت کرو ۔انہوں نے بھی سنا ہے اور ہم نے بھی سنا ہے مگر اُن کو سب کچھ یاد ہے اور ہم بھول گئے ہیں۔’’ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا: ‘‘ میں اہل بصرہ میں سے دو آدمیوں پر رشک کرتا ہوں ،ایک تو حسن بن ابی حسن ہیں اور دوسرے محمدبن سیرین ہیں۔’’امام قتادہ کا قول ہے :‘‘ میں جس فقیہ سے بھی ملا ہوں ،حسن بن ابی حسن کو اُن سب سے افضل پایا۔’’

محمد بن سیرین کاانتقال

اِس سال محمد بن سیرین کا بھی انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : محمد بن سیرین ابوبکر بن ابی عمرو انصاری ،انس بن مالک نضری کے غلام تھے ۔ اِن کے والد ‘‘عین التمر’’ کے قیدیوں میں شامل تھے ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے دوسرے لوگوں کے ساتھ ان کے والد کو بھی قیدی بنا لیا تھا ۔جن کو بعد میں انس بن مالک نضری نے خرید کر اپنا مکاتب بنا لیا تھا ۔ امام بخاری نے کہا ہے :‘‘ محمد بن سیرین خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی خلافت کے اختتام سے دو سال پہلے پیدا ہوئے ۔ امام محمد بن سعد کا کہنا ہے کہ محمد بن سیرین ثقہ ، مامون ، بلند مرتبہ فقیہ ، کثیر العلم امام اور نہایت متقی و ہپرہیز گار تھے ۔ مؤرخ عجلی کا قول ہے :‘‘ کسی شخص کو ان سے زیادہ تقویٰ میں بڑھا ہوا نہیں پایا اور نہ ان سے زیادہ فقیہ دیکھا۔ ’’ 

وہب بن منبہ یمانی کا انتقال

اِس سال بہت بڑے عالم حضرت وہب بن منبہ کا انتقال ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : وہب بن منبہ جلیل لقدر تابعی ہیں ۔ مقتدمین کی کتابوں میں اِن کا تذکرہ ملتا ہے ۔ اِن کی اسناد حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ اور حضرت نعمان بن بشیر رضی اﷲ عنہ تک پہنچتی ہیں۔ انہوں نے حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ ، حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ اور امام طاوؤس سے روایات بیان کی ہیں اور اِن سے متعدد تابعین نے روایات نقل کی ہیں ۔ یہ کعب احبار سے بہت مشابہ تھے اور اِن کی عبادت اور جذبۂ اصلاح بہت معروف تھا ۔ وہب بن منبہ نے فرمایا: ‘‘ بنی آدم میں شیطان کا سب سے محبوب وہ ہے جو بہت کھاتا ہےء اور بہت سوتا ہے۔’’

111 ھجری : رومیوں سے جہاد

اِس سال مسلمانوں نے رومیوں سے تین طرف سے جہاد کیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 111 ھجری میں معاویہ بن ہشام نے موسم گرما میں بائیں سمت سے رومیوں سے جہاد کیا ۔ سعید بن ہشام نے دائیں جانب سے رومیوں سے جہاد کیا اور قیساریہ تک پہنچا ۔ اِن دونوں کے علاوہ ‘‘امیرالبحر’’ عبداﷲ بن ابی مریم نے رومیوں سے بحری جنگ یعنی سمندر پر جنگ کی ۔ ہشام بن عبدالملک نے حکم بن قیس بن محزمہ کو تمام اہل شام اور اہل مصر کا ‘‘سپہ سالار اعظم ’’ کیا ۔

جنید بن عبدالرحمن خراسان کا گورنر

اس سال ہشام بن عبدالملک نے اشرس بن عبداﷲ کو معزول کر کے جنید بن عبدالرحمن کو ملک خراسان کا گورنر بنا دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ترکوں نے آذربائیجان کی جانب پیش قدمی کی تو حارث بن عمرو نے ان کا مقابلہ کیا اورا نہیں شکست دی ۔ ہشام بن عبدالملک نے جراح بن عبداﷲ حکمی کو آرمینیہ کا گورنر بنایا اور اشرس بن عبداﷲ کو معزول کر کے جنید بن عبدالرحمن کو ملک خراسان کا گورنر بنا دیا ۔ شداد بن خالد باہلی نے ہشام بن عبدالملک سے جا کر اشرس بن عبداﷲ کی شکایت کی تو ہشام بن عبدالملک نے اُسے معزول کر دیا ۔ جنید بن عبدالرحمن کو گورنر بنانے کی وجہ یہ ہوئی کہ اُس نے ہشام بن عبدالملک کی بیوی کو جواہرات کی ایک مالا تحفۃً پیش کی جو ہشام بن عبدالملک کو بہت پسند آئی اور پھر اُس نے دوسرا ہار ہشام بن عبدالملک کو تحفۃً دیا تو اُس نے خوش ہو کر جنید بن عبدالرحمن کو ملک خراسان کا گورنر بنا دیا اور ڈاک کے آٹھ گھوڑے اُس کی سواری کے لئے دیئے ۔

جنید بن عبدالرحمن خراسان میں

جنید بن عبدالرحمن جب خراسان پہنچا تو وہاں کا گورنر اُس وقت ترکوں سے جہاد میں مصروف تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جنید بن عبدالرحمن اپنے پانچ سو ساتھیوں کے ساتھ خراسان آیا ۔ اُس وقت اشرس بن عبداﷲ اہل بخارا اور اہل سغد سے جنگ میں مصروف تھا ، جنید بن عبدالرحمن نے لوگوں سے کہا: ‘‘ مجھے ایسا شخص بتاؤ جو میرے ساتھ ماوراء النہر چلے ۔ لوگوں نے اشرس بن عبداﷲ کے نائب خطاب بن محرز سلمی کا نام لیا ۔ جب جنید بن عبدالرحمن ‘‘آمل’’ پہنچا تو خطاب بن محرز نے اُسے مشورہ دیا کہ آپ یہیں قیام کریں اور اُس شخص کو جو مقام ‘‘زم’’ میں ہے اور اُس کے گرد جو لوگ ہیں اُن کو حکم دیں کہ وہ آپ کے پاس آجائیں مگر جنید بن عبدالرحمن نے اِس تجویز کو مسترد کردیا ۔ دریائے جیجون پار کرنے کے بعد اُس نے اشرس کو لکھا کہ کچھ فوج میرے پاس بھیج دو۔ اشرس بن عبداﷲ نے عامر بن مالک حمانی کو فوج دے کر روانہ کیا ۔

ترکوں کی شکست

جنید بن عبدالرحمن کی امداد کے لئے جو فوج آرہی تھی اُس کا سامنا دشمنوں سے ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عامر بن مالک حمانی ابھی راستے میں ہی تھا کہ ترک اور اہل سغد اُس کے سامنے آگئے تاکہ جنید بن عبدالرحمن کے باس پہنچنے سے روک دیں ۔ عامر بن مالک حمانی اور اُس کی فوج نے زبردست مقابلہ کیا اور ترکوں کے ایک بڑے سردار کو قتل کر دیا ۔ خاقان اُس وقت ایک ٹیلہ پر تھا جس کے نیچے گھنی جھاڑی اور پانی تھا ۔ عاصم بن عمیر سمرقندی اور واصل بن عمرو قیسی اپنے خدمت گاروں کو لیکر بڑاچکر کاٹ کر اُس پانی کے پیچھے پہنچے اور وہاں بانس اور دوسری چیزوں سے جو انہیں مل سکیں ایک بیڑا بنایا اور اُس پر بیٹھ کر اس جوہڑ کو اِس طرح چپکے سے عبور کر آئے کہ خاقان کو صرف تکبیر کی آواز سے اُن کے پیچھے سے حملہ آور ہونے کا علم ہوا۔ واصل بن عمرو قیسی اور اُس کے خدمت گاروں نے دشمن پر حملہ کر دیا اور بہت سوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا ۔ اِس جھڑپ میں زیرران جو گھوڑا تھا وہ مارا گیا ۔ خاقان اور اُس کی فوج شکست کھا کر بھاگی ۔ عامر بن مالک بھی جنید بن عبدالرحمن سے آملا ۔ جس کے پاس سات ہزار کی فوج تھی ۔ اب وہ سب ساتھ ہو کر میدان کار زار کی طرف چلے اور جنید بن عبدالرحمن کے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کا کمانڈر عمارہ بن حریم تھا ۔ جب یہ فوج ‘‘بیکند’’ سے دو فرسخ کے فاصلے پر رہ گئی تو ترکوں کا ایک رسالہ مزاحم ہوا اور جنگ شروع ہو گئی ۔ اِس موقع پر قریب تھا کہ جنید بن عبدالرحمن مع اپنی فوج کے ہلاک ہو جاتا مگر اﷲ تعالیٰ کی مدد آئی اور انہیں غلبہ حاصل ہوا اور وہ اپنی فوج کے ساتھ دشمنوں کے پڑاؤ پر پہنچ گیا ۔مسلمانوں کو فتح ملی اور انہوں نے بہت سے ترکوں کو قتل کردیا ۔ اب خاقان نے پھر اُس کی طرف پیش قدمی شروع کی اور مقام ‘‘زرمان’’ کو سمرقند کے سانے واقع ہے دونوں فوجوں کا مقابلہ ہوا ۔ قطن بن قتیبہ فوج کے ‘‘ساقہ’’ پر تھا ۔واصل بن عمرو قیسی بخارا کے مسلمانوں کا کمانڈر تھا ۔ زبردست مقابلہ ہوا اور ترکوں کو ایک مرتبہ پھر میدان چھوڑ کر بھاگنا پڑا ۔ جنید بن عبدالرحمن نے اِس جنگ میں خاقان کے بھتیجے کو گرفتار کر کے امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک کے پاس بھیج دیا ۔ اِس جہاد میں اُس نے مجشر بن مزاحم کو اپنی جگہ ‘‘مرو’’ میں نائب مقرر کیا ۔ سورہ بن حر کو بلخ کا گورنر مقرر کیا ۔ 

111 ھجری کا اختتام

اِس سال کے اختتام پر ملک خراسان میں کافی تبدیلیاں ہوئیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جنید بن عبدالرحمن فتح حاصل کر کے ‘‘مرو’’ آگیا ۔ خاقان نے اِس موقع پر جنید بن عبدالرحمن کے متعلق کہا : ‘‘ حالانکہ اِس نازو نعم میں پلے لڑکے نے مجھے شکست دی ہے لیکن اگلے سال میں اسے ہلاک کر دوں گا ۔’’ اب جیند بن عبدالرحمن نے ملک خراسان میں تمام مقامات پر اپنے گورنر مقرر کر دیئے ۔ قطن بن قتیبہ کو ‘‘بخارا’’ کا گورنر بنایا ۔ ولید بن قعقاع کو ‘‘ہرات ’’کا گورنر بنایا ۔ حبیب بن مرہ کو فوج کا خاص افسر بنایا ۔مسلم بن عبدلرحمن کو ‘‘بلخ’’ کا گورنر بنایا ،پھر اسے معزول کر کے یحییٰ بن ضبعیہ کو مقرر کیا ۔شراد بن خالد کو سمرقند کا مال گذاری کا افسر بنایا ۔ 111 ھجری کے اختتام پر خالد بن عبداﷲ ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ تھا ۔ ملک مصر ، افریقہ اور اسپین میں پچھلے سال کے ہی گورنر تھے ۔ جنید بن عبدالرحمن ملک خراسان کا گورنر تھا ۔ ملک یمن کا گورنر یوسف بن عمرو تھا ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر ابراہیم بن ہشام تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ 

112 ھجری : ترکوں سے جہاد

پچھلے سال ترکوں کے سب سے بڑے بادشاہ خاقان نے کہا تھا کہ وہ اگلے سال مسلمانوں کو مزہ چکھائے گا ۔ اِسی لئے وہ اِس سال مسلمانوں پر زبردست طریقے سے حملہ آور ہوا۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 112 ھجری میں ترک ‘‘لان’’ سے چلے تو اُن کی جنگ آذربائیجان کے گورنر جراح بن عبداﷲ حکمی کی فوج سے ہوئی جس میں اہل شام اور اہل آذربائیجان شامل تھے ۔ فریقین میں شدید جنگ ہوئی جس میں جراح بن عبداﷲ اور اُس کے زیادہ تر ساتھی شہید ہو گئے اور تھوڑے بہت جان بچاکر بھاگ سکے ۔ ترکوں نے ‘‘اردبیل’’ پر قبضہ کر لیا ۔ جب اِس شکست کی اطلاع امیر المومنین ہشام بن عبدالملک کو ہوئی تو اُس نے معبد بن عمرو حرشی کو ایک لشکر دیکر بھیجا اور جلد ‘‘اردبیل’’ پہنچنے کی تاکید کی ۔ وہ بہت تیزی سے سفر کرتا ہوا اُن ترکوں سے جا ٹکرایا جو مسلمانوں کو قیدی بنا کر اپنے بادشاہ خاقان کے پاس لے جارہے تھے ۔معبد بن عمرو حرشی نے اپنے لشکر کے ساتھ ترکوں پر حملہ کردیا اور بہت سخت جنگ ہوئی ۔آخر کار ترکوں کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے بہت سے ترکوں کو قتل کیا قور بہت سے ترکوں کو قیدی بنا یا اور تمام مسلمان قیدیوں کو آزاد کرالیا۔

ترکوں کا تین طرف سے گھیراؤ

مسلمانوں نے ترکوں سے مسلمان قیدیوں کا چھڑ لیا تھا اور ملک شام سے امیرالمومنین نے ایک اور لشکر ترکوں سے جنگ کے لئے بھیج دیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : امیرالمومنین کو ابھی اِس فتح کی اطلاع نہیں ہوئی تھی ۔ اِس لئے ہشام بن عبدالملک نے اپنے بھائی مسلمہ بن عبدالملک کو بھی ترکوں کا پیچھا کرنے کے لئے روانہ کیا ۔شدید سردی کا موسم تھا اِس کے باوجود وہ طوفان بادو باراں کی حالت میں اپنی فوج لیکر نکل پڑا اور ‘‘باب الابواب’’تک پہنچ گیا اور وہاں اپنا نائب چھوڑ کر ترکوں کے تعاقب میں نکلا۔ اُدھر خراسان کا گورنر جنید بن عبدالرحمن بھی ایک بہت بڑا لشکر لیکر نکلا اور بلخ کی نہر تک مارچ کرتا ہوا پہنچ گیا ۔ وہاں اُس نے آٹھ ہزار مجاہدین کو تعینات کر دیا اور دوسرا لشکر جو دس ہزار مجاہدین پر مشتمل تھا دشمن کے میمنہ اوور میسرہ میں لگا دیا ۔ یہ گھیراؤ دیکھ کر ترک گھبرا کر بھاگ نکلے اور سمرقند کی طرف بڑھے ۔ وہاں کے گورنر نے جنید بن عبدالرحمن کو لکھا کہ وہ سمرقند کو ترکوں سے بچانے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔ اِس دوران ترکوں کا بادشاہ خاقان بھی تیزی سے شعب سمرقند پہنچ گیا ۔ اُس کی فوج اور مسلمانوں کی فوج کے درمیان صرف چار میل کا فاصلہ باقی رہ گیا تھا ۔ دونوں لشکروں کا سامنا ہوا اور خاقان نے مسلمانوں پر شدید حملہ کیا ۔ اُس نے خصوصیت سے مسلمانوں کے ‘‘مقدمۃ الجیش’’ کو اپنے حملے کا نشانہ بنایا ۔ اِس کی وجہ سے جنید بن عبدالرحمن اپنے لشکر کو لیکر پیچھے ہٹ گیا اور ترک اُن کا تعاقب کرتے رہے ۔ 

مسلمانوں کی شکست

جنید بن عبدالرحمن اپنے لشکر کو لیکر پیچھے ہٹ رہا تھا لیکن لشکر اتنا بڑا تھا کہ اُس کے ایک حصہ کی خبر دوسرے حصہ کو معلوم نہیں ہو رہی تھی ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : مسلمان ایسے انتشار کا شکار ہوئے کہ اُن کے ایک حصہ کے لشکر کو دوسرے حصہ کے حالات کا علم نہیں ہوسکا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ وسیع میدان میں پھیل گئے ۔ اس کے بعد ترکوں نے مسلمانوں کے میمنہ پر حملہ کیا جس میں بنو تمیم اور بنو ازد کے لوگ شامل تھے ۔اُن کی ترکوں سے شدید جنگ ہوئی اور مسلمانوں کے بہت سے مجاہدین شہید ہوگئے ۔ اِس موقع پر بہت سے شجاع مسلمانوں نے ترکوں کے مقابلہ میں بے جگری سے لڑے اور شہید ہوگئے ۔ اِس پر خاقان نے ایک بہادر مسلمان مجاہد سے کہا: ‘‘ اگر تم ہمارے ساتھ شامل ہوتے تو ہم تمہیں اپنے ‘‘صنم اعظم’’ کا پجاری بنانے کا عظیم مرتبہ عطا کرتے۔’’ یہ سن کر مسلمان مجاہد نے کہا: ‘‘ افسوس ہے تم پر! تم نے آج تک ہمارے مشن کو سمجھا ہی نہیں۔ہم تم سے اﷲ وحدہ لا شریک لہ کی وحدانیت اور اسلام کی سر بلندی کے لئے لڑتے آرہے ہیں۔’’ اِس کے بعد اُس نے دشمنوں پر شدید حملہ کیا اور کئی ترکوں کو قتل کرنے کے بعد شہید ہو گیا ۔ اِس کے بعد مسلمان اکٹھے ہوگئے اور سب نے استقامت اور صبر کے ساتھ متحد ہو کر ترکوں پر حملہ کیا اور ترکوں کو شکست دی لیکن اس کے بعد پھر سے ترک متحد ہوکر حملہ آور ہوئے اور انہوں نے بہت سے مسلمانوں کو شہید کر دیا اور اِس جنگ میں صرف دوہزار مسلمان زندہ بچ سکے ۔ ترکوں نے بہت سے مسلمانوں کو قیدی بنا لیا اور اپنے بادشاہ خاقان کے پاس بھیج دیا جس نے سب کو شہید کرادیا ۔ یہ جنگ تاریخ میں ‘‘جنگ شعب’’ کے نام سے یاد کی جاتی ہے ۔ 

112 ھجری کا اختتام

112 ھجری کا اختتام ہوا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال معاویہ بن ہشام نے موسم گرما میں رومیوں سے جہاد میں شہر ‘‘خرشنہ’’ فتح کیا اور ملطیبہ کے راستہ سے پیش قدمی کر کے ‘‘خرندیہ’’ کو بھی فتح کر لیا ۔ ملک خراسان کے گورنر جنید بن عبدالرحمن نے امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک سے امدادی فوج بھیجنے کی درخواست کی تو اُس نے بیس ہزار کی امدادی فوج روانہ کی ۔ دس ہزار بصرہ کی فوج عمرو بن مسلم باہلی کی زیر قیادت تھی اور دس ہزار کی فوج عبدالرحمن بن نعیم عامری کی زیر قیادت تھی ۔ اِس سال پوری مملکت اسلامیہ میں وہی گورنر رہے جو پچھلے سال تھے اور ابراہیم بن ہشام نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ مگر ایک روایت کے مطابق اِس سال سلیمان بن ہشام نے حج کرایا۔ 

112 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان

اِس سال جن کا انتقال ہوا اُن میں سے چند اعیان یہ ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 112 ھجری میں رجا بن حیوۃ کا انتقال ہوا ۔ یہ ‘‘ابومقدم’’ کہلاتے تھے اور بعض لوگ ‘‘ابو نصر’’ بھی کہتے تھے ۔ آپ جلیل القدر تابعی ہیں اور عادل و فاضل تھے ۔ بنو امیہ کے حکمرانوں کے ‘‘وزیر’’ بھی رہ چکے ہیں بہت سے آئمہ نے اِن کی تعریف کی ہے اور اِن کی روایات کی توثیق کی ہے ۔اِن سے بہت سی روایات اور عمدہ کلام منسوب ہے ۔اِس سال شمر بن حسب اشعری کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی تھے ۔ یہ عالم و عابد و پرہیز گار انسان تھے ۔ لوگ اِن پر اِس لئے معترض ہوئے کہ بغیر حاکم کی اجازت کے بیت المال سے اپنے لئے یہ خریطہ لے لیتے تھے ۔ اِسی لئے لوگوں نے اِن کو ملعون کیا اور اِن کی احادیث لینا ترک کر دیں ۔

113 ھجری : ترکوں سے جہاد

113 ھجری میں مسلمانوں نے ترکوں کو شدید شکست دی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال مسلم بن عبدالملک نے خاقان کے علاقہ میں مختلف فوجیں روانہ کیں جنہوں نے بہت سے شہر اور قلعے فتح کئے اور قیدی اور لونڈی اور غلام پکڑے ۔ ترکوں کی ایک بڑی جماعت نے اپنے آپ کو آگ میں ڈال کر خود کشی کر لی ۔ کوہستان بنجر کے پیچھے جو قومیں آباد تھیں وہ مسلمانوں کی مطیع ہو گئیں اور خاقان کا بیٹا بھی مارا گیا ۔

رومیوں سے جہاد

اِس سال رومیوں سے جنگ پر مسلمہ بن عبدالملک نہیں جاسکا ۔ علامہ محمد جریر طبری لکھتے ہیں : معاویہ بن ہشام نے رومیوں کے علاقہ میں جہاد کیا اور مرعش کی سمت سے بڑھ کر رومیوں کے مقابلے پر اپنے سوار جنگ کے لئے مستعد رکھے اور پھر واپس پلٹ آئے ۔ ۱۱۳ ؁ ھجری میں عبدالواہاب بن بخت جہاد کے لئے بطال کے ساتھ رومیوں کے علاقہ میں گیا تھا ۔ جنگ کے دوران بطال کو اُس کی فوج چھوڑ کر بھاگ گئی لیکن عبدالوہاب ڈٹا رہا ۔ وہ اپنے گھوڑے کو مسلسل آگے بڑھاتا جا رہا تھا اور کہتا جارہا تھا :‘‘ میں نے اِس سے بزدل گھوڑا کوئی نہیں دیکھا ۔اگر میں تجھے مار نہ ڈالوں تو اﷲ مجھے ہلاک کرے۔’’ اُس نے اپنے سر سے اپنا خود اُتار پھینکا اور جو لوگ بھاگ رہے تھے انہیں مخاطب کر کے چلایا:‘‘ میں عبدالوہاب بن بخت ہوں! تم لوگ جنت سے دور بھاگ رہے ہو ۔’’ اور خود دشمن کی صفوں میں گھس کر حملہ کرنے لگا ۔ایک مسلمان کے پاس سے گذرا جوپیاس سے بے تاب تھا اورپانی مانگ رہا تھا ۔عبدالوہاب نے کہا: ‘‘ آگے بڑھ! پانی تیرے آگے ہے ۔’’ یہ کہہ کر دشمن سے گڈ مڈ ہوگیا اور وہ اپنے گھوڑے کے ساتھ شہید ہو گیا ۔ 

113 ھجری کا اختتام

113 ھجری کا اختتام ہوا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ‘‘تحریک عباسیہ’’ کے داعیوں کی ایک جماعت خراسان پہنچی ۔جنید بن عبدالرحمن نے اُن میں سے ایک شخص کو قتل کرادیا اور اعلان کر دیا کہ جو شخص اِن پر قابو پائے اُس کے لئے اِن کا خون بہانا مباح ہے ۔ اِس سال بھی پوری مملکت اسلامیہ کے گورنر وہی تھے جو پچھلے سال تھے ۔ اکثر ارباب سیر نے بیان کیا ہے کہ اِس سال سلیمان بن ہشام نے مسلمانوں کو حج کرایا اور بعض کا بیان ہے کہ ابراہیم بن ہشام نے حج کرایا ۔ 

113 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان

اِس سال جن کا انتقال ہوا اُن میں سے چند اعیان یہ ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال عبدالوہاب بن بخت رومیوں سے جہاد کرتے ہوئے شہید ہوئے ۔ اِن کا پورا نام عبدالوہاب بن بخت ابو عبدہ ہے اور بعض لوگوں کے نزدیک یہ ابوبکر ہیں ۔ یہ آل مروان مکی کے غلام تھے ۔ابتدائی دنوں میں ملک شام میں تھے پھر مدینۂ منورہ آگئے ۔ انہوں نے حضرت عبداﷲ بن عمرو ، حضرت انس بن مالک اور حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہم سے اور تابعین کی ایک جماعت سے بھی روایات بیان کی ہیں اور اِن سے بہت سے لوگوں نے روایات بیان کی ہیں۔ جن میں ایوب ، مالک بن انس ، یحییٰ بن سعید انصاری اور عبیداﷲ عمری شامل ہیں ۔رومیوں سے جہاد کرتے ہوئے شہید ہو گئے ۔ اِس سال مکحول شامی کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی تھے اور اہل شام کے امام تھے ۔کابل کے قیدیوں میں سے تھے اور آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کسریٰ کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔ امام زہری کہتے ہیں: ‘‘ علامہ چار ہیں ۔ملک حجاز میں سعید بن مسیب ہیں ،بصرہ میں حسن بصری ہیں، کوفہ میں شعبی ہیں اور ملک شام میں مکحول ہیں ۔ 

114 ھجری : رومیوں سے جہاد

114 ھجری میں مسلمانوں نے رومیوں سے دونوں طرف سے جہاد کیا ۔ علامہ محمد بن جریر لکھتے ہیں : اِس سال معاویہ بن ہشام نے موسم گرما کی مہم لیکر بائیں جانب سے اور سلیمان بن ہشام داہنی جانب سے رومیوں کے علاقہ پر جہاد کرنے گئے ۔ معاویہ بن ہشام ربض اقرن کو مسخر کیا ۔ عبداﷲ بطال سے قسطنطین کا مقابلہ ہوا جس کے پاس کافی فوج تھی ۔ مسلمانوں نے رومیوں کو شکست دی اور قسطنطین کو قید کر لیا اور سلیمان بن ہشام قیساریہ پہنچا۔ 

114 ھجری کا اختتام

اِس سال ہشام بن عبد الملک نے مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کے گورنر ابراہیم بن ہشام کو معزول کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک نے ابراہیم بن ہشام کو ملک حجاز کی گورنری سے معزول کر دیا اور خالد بن عبدالملک بن حارث کو مکۂ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور طائف کا گورنر بنایا ۔ امام واقدی کہتے ہیں : خالد بن عبدالملک ماہ ربیع الاول 113 ھجری میں مدینۂ منورہ آیا اور ابراہیم بن ہشام آٹھ سال تک مدینۂ منورہ کا گورنر رہا تھا ۔ اِس سال واسط میں طاعون کی وباء پھیلی اور مسلمہ بن عبدالملک خاقان کو شکست دینے کے بعد ‘‘باب’’ سے واپس آیا ۔مسلمہ بن عبدالملک نے شہر‘‘باب’’ کی تعمیر کی اور اسے مستحکم کیا ۔ ہشام بن عبدالملک نے مروان بن محمد کو آرمینیہ اور آذربائیجان کا گورنر مقرر کیا ۔ اِس امر میں اختلاف ہے کہ اِس سال مسلمانوں کو حج کس نے کرایا۔ امام ابو معشر کے مطابق 114 ھجری خالد بن عبدالملک مدینۂ منورہ کا گورنر تھا ۔ دوسرے ارباب سیر کے مطابق محمد بن ہشام مکۂ مکرمہ کا گورنر تھا اور اُسی نے حج کرایا۔ اِس سال ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ خالد بن عبداﷲ تھا ۔ ملک خراسان کا گورنر جنید بن عبداﷲ تھا ۔ مدینۂ منورہ کا گورنر خالد بن عبدالملک تھا ۔مکۂ مکرمہ اور طائف کا گورنر محمد بن ہشام تھا اور آرمینیہ اور آذربائیجان کا گورنر محمد بن مروان تھا ۔

114 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان

اِس سال جن کا انتقال ہوا اُن میں سے ہم صرف عطاء بن ابی رباح کا ذکر کریں گے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال عطاء بن ابی رباح کا انتقال ہوا ۔ یہ کبار تابعین میں نہایت ثقہ اور بلند مرتبہ بزرگ گزرے ہیں ۔ کہاجاتا ہے آپ نے دوسو صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے ملاقات کی ہے ۔عطاء ثقہ ،عالم و فقیہ اور کثیر الحدیث تھے ۔ ابوصغیر باقر نے لکھا: ‘‘ ان کے زمانے میں ان سے زیادہ مناسک کا کوئی عالم نہیں تھا ۔ اِن کی عُمر سو سال سے زیادہ ہو گئی تھی اور آخری عُمر میں ضعیفی کی وجہ سے روزے نہیں رکھ پاتے تھے تو اپنے روزوں کا فدیہ ادا کرتے تھے ۔ بنو اُمیہ کے دور ِ حکومت میں منادی اعلان کرتا تھا کہ عطاء بن ابی رباح کے سوا کسی کو حج کے ایام میں فتویٰ دینے کی اجازت نہیں ہے ۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں