58 سلطنت امیہ
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 58
109 ھجری رومیوں سے جہاد، تحریک عباسیہ کا داعی خراسان میں، زیاد اور اُس کے ساتھیوں کا قتل، اسد بن عبداﷲ کی معزولی، اشرس بن عبداﷲ خراسان کا گورنر، 109 ھجری کا اختتام، 110 ھجری : ترکوں اور رومیوں سے سے جہاد، اہل سمرقند کو اسلام کی دعوت، اہل سمرقند کا قبول اسلام، ترکوں سے جنگ، ثابت قطنہ کی آخری تمنا، کمرجہ کی جنگ، 110 ھجری کا اختتام
109 ھجری رومیوں سے جہاد
اِس سال رومیوں سے عبداﷲ بن عقبہ کی سپہ سالاری میں مسلمانوں نے جہاد کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال عبداﷲ بن عقبہ بن نافع نے رومیوں سے بحری جہاد کیا اور معاویہ بن ہشام نے رومیوں کے علاقہ پر حملہ کر کے اُن کے ایک قلعہ ‘‘طیبہ ’’ کو فتح کر لیا اور اس کے ساتھ جو اہل انطاکیہ تھے اُن میں سے اکثر لوگ میدان جنگ میں کام آئے ۔
تحریک عباسیہ کا داعی خراسان میں
اِس سال تحریک عباسیہ کا ایک داعی ملک خراسان آیا اور عباسی تحریک کی دعوت دینے لگا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : علی بن محمد بیان کرتے ہیں کہ بنو عباس کے داعیوں میں سے سب سے پہلے زیاد ابو محمد ہمدان کے آزادغلام کو محمد بن علی نے خراسان بھیجا اور کہا: ‘‘ لوگوں کو ہماری حمایت کے لئے دعوت دو اور اہل یمن میں جا کر قیام پذیر ہونا اور مضری عربوں سے ملاطفت سے پیش آنا اور ‘‘ابر’’ شہر کے ایک شخص ‘‘غالب’’ سے بچتے رہنا کیونکہ اُسے بنو فاطمہ کی محبت میں بہت زیادہ غلو
ہے ۔’’یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ سب سے پہلے حرب بن عثمان بلخی بنو قیس بن ثعلبہ کا آزاد غلام محمد بن علی کا خط لیکر خراسان کے باشندوں کو ‘‘تحریک عباسیہ’’ کی دعوت دینے آیا ۔ جب زیاد نے خراسان پہنچ کر بنو عباس کے لئے تحریک و دعوت شروع اور بنو مروان (سلطنت اُمیہ) کے مطالم اور عادات قبیحہ کو بیان کرنے لگا اور لوگوں کو کھانا کھلانے لگا تو اِسی اثناء میں ‘‘ابر’’ شہر سے ‘‘غالب’’ زیاد کے پاس آیا اور ان دونوں میں مباحثہ ہوا ۔ غالب بنو فاطمہ کی فضیلت پیش کرتا تھا اور زیاد بنو عباس کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ غالب زیاد کو چھوڑ کر چلا گیا ۔ زیاد نے پورا موسم سرما ‘‘مرو’’ میں بسر کیا اہل مرو میں سے یحییٰ بن عقیل خزاعی اور ابراہیم بن خطاب عدوی اُس سے ملنے آیا کرتے تھے ۔اُس زمانہ میں ‘‘مرو’’ کا خراج کا افسر حسن بن شیخ تھا ۔ جب اُسے زیاد کی کاروائیوں کی اطلاع ملی تو اُس نے اسد بن عبداﷲ کو اِس کی اطلاع دی ۔
زیاد اور اُس کے ساتھیوں کا قتل
اسد بن عبداﷲ نے زیاد اور اُس کے ساتھیوں کو قتل کردیا اور ‘‘عباسیہ تحریک’’ کو کچلنے کی کوشش کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اسد بن عبداﷲ نے زیاد کو بلوایا ۔اُس کے ساتھ ایک اور شخص تھا جس کی کنیت ابو موسیٰ تھی ۔ اسد بن عبداﷲ نے اُسے دیکھ کر کہا: ‘‘ میں تمہیں پہچانتاہوں۔’’ ابوموسیٰ نے کہا: ‘‘ جی ہاں! آپ مجھے پہچانتے ہیں۔’’ اسد بن عبداﷲ نے کہا: ‘‘ میں نے تمہیں دمشق کے میخانے میں دیکھا تھا ۔’’ ابو موسیٰ نے کہا: ‘‘ جی ہاں! یہ بھی صحیح ہے۔’’ اب اسد بن عبداﷲ بے زیاد سے پوچھا: ‘‘ میں نے تمہارے متعلق ایسی اور ایسی باتیں سنی ہیں ،تم کیا کہتے ہو؟’’ زیاد نے کہا: ‘‘ آپ کو جو اطلاع ملی ہے وہ محض غلط ہے ۔میں تجارت کی غرض سے خراسان آیا ہوں اور میں نے اپنا مال لوگوں کو دیا ہے ۔ جب میرے مال کی قیمت وصول ہو جائے گی تو میں یہاں سے چلا جاؤں گا۔’’ اسد بن عبداﷲ نے حکم دیا :‘‘ تم میرے علاقے سے نکل جاؤ۔’’ اِس کے بعد زیاد اُس کے پاس سے آ گیا اور اپنی تحریک کی اشاعت میں مصروف ہو گیا ۔ یہ رنگ دیکھ کر حسن بن شیخ پھر اسد بن عبداﷲ کے پاس آیا اور بولا: ‘‘ آپ اِس تحریک کو معمولی مت سمجھیں،یہ بڑی خطرناک ہے اور ابھی اس کا تدارک کریں۔’’اسد بن عبداﷲ نے پھر کچھ دن بعد زیاد کو بلوایا اور کہا: ‘‘ میں نے تمہیں خراسان میں قیام کرنے سے منع کر دیا تھا۔’’ زیاد نے کہا: ‘‘ آپ میری طرف سے کسی خدشہ کو اپنے دل میں جگہ نہ دیں۔’’ اسد بن عبداﷲ نے زیاد اور اُس کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا اور اُن کے قتل کا حکم دے دیا ۔ قتل کا حکم سن کر ابوموسیٰ نے کہا: ‘‘ تجھے جو کرنا ہے کرلے۔’’ یہ سن کر اسد بن عبداﷲ کو شدید غصہ آگیا اور اُس نے کہا: ‘‘ تُو نے مجھے فرعون بنا دیا۔’’ ابو موسیٰ نے کہا: ‘‘ میں نے نہیں بلکہ اﷲ نے تجھے فرعون بنا دیا ہے ۔’’ اِس کے بعد کوفہ کے رہنے والے دس آدمیوں میں سے آٹھ قتل کر دیئے گئے اور دو کم سنی کی وجہ سے چھوڑ دیئے گئے ۔
اسد بن عبداﷲ کی معزولی
109 ھجری میں ہشام بن عبدالملک نے خراسان کے گورنر اسد بن عبداﷲ کو معزول کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ہشام بن عبدالملک نے خالد بن عبداﷲ کی نگرانی سے ملک خراسان کو نکال لیا اور اُس کے بھائی اسد بن عبداﷲ کو معزول کر دیا ۔ اِس کاروائی کی وجہ یہ ہوئی کہ اسد بن عبداﷲ نے خراسان میں سخت تعصب برتنا شروع کر دیا تھا ۔ جس کا نتیجہ یہ ہو گیا کہ خراسان کی عوام میں گروہ بندی ہوگئی تو ہشام بن عبدالملک نے خالد بن عبداﷲ کو لکھا:‘‘ اپنے بھائی اسد بن عبداﷲ کو معزول کر دو ۔’’ خالد بن عبداﷲ نے امیرالمومنین کے حکم کے مطابق اپنے بھائی کو معزول کر دیا اور اسد بن عبداﷲ نے اپنے بھائی سے حج کی اجازت لیکر ماہ رمضان المبارک ۱۰۹ ھجری میْں ملک عراق آگیا ۔ اُس کے ساتھ ملک خراسان کے بعض زمیندار بھی آئے ۔ اسد بن عبداﷲ نے اپنی جگہ حکم بن عوانتہ کا خراسان کا گورنر مقرر کر دیا تھا ۔
اشرس بن عبداﷲ خراسان کا گورنر
اسد بن عبداﷲ کو معزول کرنے کے بعد ہشام بن عبدالملک نے اشرس بن عبداﷲ کو ملک خراسان کا گورنر مقرر کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 109 ھجری میں ہشام بن عبدالملک نے اشرس بن عبداﷲ کو ملک خراسان کا گورنر مقرر کر دیا اور اُسے حکم دیا کہ خالد بن عبداﷲ کو تمام سرکاری معاملات لکھتے رہو۔اشرس بن عبداﷲ ایک فاضل اور نیک انسان تھااور لوگ اسکی فضیلت کی وجہ سے اسے ‘‘کامل’’ کہتے تھے ۔ وہ ملک خراسان آیا تو وہاں کی عوام بہت خوش ہوئی ۔ اُس نے عمیرہ بن ابو امیہ یشکری کو کوتوال( سب سے بڑا پولیس آفیسر) مقرر کیا ۔ پھر اُسے معزول کر ک سمط کو کوتوال بنا دیا ۔ ابو مبارک کندی کو ‘‘مرو’’ کا قاضی بنایا مگر چونکہ اُسے قضاء کا کچھ بھی علم نہیں تھا اِس لئے مقاتل بن حیان سے مشورہ کیا تو اُسنے محمد بن زید کا نام اِس منصب کے لئے پیش کیا ۔ اشرس بن عبداﷲ نے محمد بن زید کو ‘‘مرو’’ کا قاضی مقرر کر دیا ۔اِس کے بعد اشرس نے خراسان میں فوجی چوکیوں بنائیں اور عبدالملک بن وثار کو اُن پر سپہ سالار مقرر کیا ۔ تمام چھوٹے بڑے کام اشرس بن عبداﷲ خود ہی کرتا تھا ۔
109 ھجری کا اختتام
109 ھجری کے اختتام پر صرف خراسان کا گورنر تبدیل ہوا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال کے اختتام پر خالد بن عبداﷲ ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر تھا ۔ ملک مصر ، افریقہ اور اسپین کے گورنر بھی پچھلے سال کے ہی تھے ۔ خراسان کا گورنر اشرس بن عبداﷲ تھا۔ ملک یمن کا گورنریوسف بن عمرو تھا ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر ابراہیم بن ہشام تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔مقام ‘‘منیٰ’’ میں ‘‘یوم النحر’’ کے دوسرے دن خطبہ دیا اور کہا: ‘‘ میں ابن وحید ہوں!جو چاہو مجھ سے دریافت کرلو ، کیونکہ مجھ سے زیادہ کوئی شخص واقف نہیں ہے ۔’’ اِس پر ملک عراق کے ایک شخص نے اُس سے پوچھا: ‘‘ قربانی واجب ہے یا نہیں؟’’ ابراہیم بن ہشام کوئی جواب نہیں دے پایااور خاموشی سے منبر سے نیچے اُتر آیا۔
110 ھجری : ترکوں اور رومیوں سے سے جہاد
اِس سال مسلمانوں نے ترکوں سے دونوں طرف سے جہاد کیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 110 ھجری میں مسلمہ بن عبدالملک نے ترکوں سے جہاد کیا اور بڑھتے بڑھتے ‘‘باب اللان’’ تک جا پہنچا ۔ یہاں خاقان نے ایک کثیر فوج کے ساتھ مسلمہ بن عبدالملک کا مقابلہ کیا ۔ ایک مہینے تک دونوں فوجوں میں زبردست جنگ ہوتی رہی اور شدید بارش کی وجہ سے طرفین کو سخت تکلیف ا’ٹھانا پڑی ۔ آخر کار اﷲ تعالیٰ نے خاقان کو شکست دی اور وہ واپس چلاگیا اور مسلمہ بن عبدالملک بھی اپنے لشکر اور مال غنیمت کو لیکر واپس آیا ۔ واپسی پر اُس نے ‘‘مسجد ذی القرنین’’ والا راستہ اختیار کیا ۔ اِس سال معاویہ بن ہشام نے رومیوں کے علاقہ پر حملہ کر کے ‘‘صمالہ’’ فتح کیا اور اِسی سال عبداﷲ بن عقبہ فہری‘‘امیر البحر’’ نے موسم گرما میں جہاد کیا ۔
اہل سمرقند کو اسلام کی دعوت
110 ھجری میں ملک خراسان کے گورنر اشرس بن عبداﷲ نے اہل سمرقند کو اسلام کی دعوت دی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اشرس بن عبداﷲ نے اپنے مصاحبین سے کہا: ‘‘ مجھے ایک ایسا فاضل اور متقی آدمی بتاؤ جسے میں اشاعت اسلام کے لئے ‘‘ماورا ء النہر’’ بھیج دوں ۔ لوگوں نے ابو صیداء صالح بن طریف بنو ضبہ کے آزاد غلام کا نام لیا ۔ ابو صیداء نے کہا: ‘‘ میں فارسی اچھی طرح نہیں جانتا ہوں ۔’’ اِس کمی کو پورا کرنے کے لئے اُس کے ساتھ ربیع بن عمران تمیمی کو کیا گیا ۔ ابو صیداء نے کہا: ‘‘ میں اِس شرط پر اسلام کی دعوت دوں گا کہ جو شخص اسلام قبول کر لے گا تو اُس سے جزیہ نہیں لیا جائے گا کیونکہ خراسان کا ہر فرد مشخص ہے ۔ ’’ اشرس نے یہ بات مان لی ۔ ابو صیداء نے مزید احتیاط کے لئے اپنے دوستوں سے کہا : ‘‘ میں اِس کام کے لئے جا تو رہا ہوں لیکن اگر یہ گورنر اپنے وعدہ کو پورا نہ کریں تو تم میری امداد کرنا۔’’ سب نے حامی بھر لی اور ابوصیداء روانہ ہوگیا ۔ سمر قند کا فوجی اور مالی گورنر حسن بن ابی عمرطۃ کندی تھا۔
اہل سمرقند کا قبول اسلام
ابوصیداء نے اہل سمرقند کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے دل کی خوشی سے اسلام قبول کر لیا ۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں : ابو صیداء نے سمرقند کے باشندوں کو اسلام کی دعوت دی اور یہ بھی کہا :‘‘ اگر تم اسلام قبول کر لوگے تو تمہارا جزیہ معاف کر دیا جائے گا۔’’ سمرقند کے باشندے جوق در جوق آ کر اُس کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے لگے ۔یہ رنگ دیکھ کر غوزک نے اشرس بن عبداﷲ کو لکھا :‘‘ مال گزاری کم ہوگئی ہے ۔’’اشرس بن عبداﷲ نے ابن ابی عمرطۃکو لکھا :‘‘ جزیہ کی وصولی سے مسلمانوں کو تقویت پہنچتی ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ اہل سغد اور اُن جیسے لوگ خلوص نیت سے مسلمان نہیں ہوئے ہیں بلکہ جزیہ سے بچنے کے لئے اسلام قبول کیا ہے ۔ تم دیکھو کہ جس کا ختنہ ہو گیا ہو اور وہ فرائض دین کو بجا لاتا ہو اور اُس کے اسلام میں خلوص نظر آتا ہو اور وہ قرآن پاک کی ایک سورہ پڑھ دے تو اُس کا جزیہ معاف کر دیا جائے گا۔’’اِس کے بعد اشرس بن عبداﷲ نے ابن ابی عمرطۃ کا معزول کر دیا اور ہانی بن ہانی کو مال گزاری کا افسر بنا دیا اور اشحیذ کو اس کی مدد پر متعین کر دیا ۔اب ابی عمرطۃ نے ابوصیداء کو بتایا :‘‘ مجھے معزول کر دیا گیا ہے اور تم اِس معاملے میں ہانی بن ہانی اور اشحیذ سے معاملہ اور گفت و شنید کرنا۔’’ ابو صیداء نے لوگوں سے جزیہ لینے سے منع کیا ۔ہانی نے اشرس بن عبداﷲ کو لکھ بھیجا: ‘‘ تمام باشندے مسلمان ہوگئے ہیں اور انہوں نے مسجدیں بھی بنا لی ہیں ۔’’ اِن حالات کو دیکھ کر بخارا کے بڑے بڑے زمیندار اشرس بن عبداﷲ کے پاس آئے اور کہا: ‘‘ اب آپ کس سے خراج لیں گے سارے باشندے تو عرب ہو گئے ہیں َ’’
اہل سغداور اہل بخارا کا ارتداد
ملک خراسان کے گورنر اشرس بن عبداﷲ نے نومسلموں سے سختی سے جزیہ وصول کرنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے اہل سغد اور اہل بخارا مرتد ہوگئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اشرس بن عبداﷲ نے ہانی اور دوسرے عہدیداروں کو لکھا:‘‘ جن لوگوں سے پہلے جزیہ لیا جاتا تھا اُن سے اب بھی جزیہ لیا جائے ۔’’ اِس حکم کے بعد نومسلموں پر پھر سے جزیہ عائد کیا گیا ۔انہوں نے جزیہ دینے سے انکار کر دیا اور سات ہزار اہل سغد حکومت کی اطاعت چھوڑ کر سمر قند سے سات فرسخ کے فاصلے پر خیمہ زن ہو گئے ابوصیداء اور اُس کے ساتھی اُن کی امداد کے لئے اُن کے ساتھ جا شریک ہوئے ۔اشرس نے ابن ابی عمرطۃ کو فوج کی سپہ سالاری سے بھی معزول کر دیا اور اُس کی جگہ مجشر بن مزاحم سلمی کو مقرر کیا اور عمیرہ بن سعد شیبانی کو اس کا مدد گار بنایا۔مجشر بن مزاحم نے سمرقند پہنچتے ہی ابوصیداء کو لکھا :‘‘ آپ مجھ سے آکر ملیں اور اپنے ساتھیوں کو بھی ساتھ لائیں۔’’ ابوصیداء اور ثابت قطنہ اُس کے پاس آئے تو اُس نے دونوں کو قید کر لیا ۔ ابوصیداء نے کہا: ‘‘ تم نے بد عہدی کی اور قول سے پھر گئے ۔’’ ہانی نے کہا: ‘‘ نہیں! جو طریقہ خون ریزی کو روک سکے وہ بد عہدی نہیں کہلاتا ہے۔’’ اِس کے بعد ہانی نے ابو صیداء کو اشرس بن عبداﷲ کے پاس بھیج دیا اور ثابت قطنہ کو اپنے پاس ہی قید رکھا ۔ جب ابوصیداء کوگرفتار کر کے بھیج دیا گیا تو اُس کے ساتھی ایک جگہ جمع ہوئے اور انہوں نے ہانی سے لڑنے کے لئے ‘‘بنو فاطمہ ’’ کو اپنا سردار منتخب کر لیا ۔ ہانی نے کہا: ‘‘ ذرا ابھی ٹھہرو! میں اشرس کو لکھتا ہوں ،اُن کی رائے معلوم ہوجانے دو ،وہ جیسا حکم دیں گے ہم اُس کی تعمیل کریں گے ۔’’ان لوگوں نے سارا ماجرا اشرس کو لکھ بھیجا ۔ اشرس نے جواب دیا : ‘‘ باقاعدہ جزیہ وصول کیا جائے ۔’’ یہ سنتے ہی ابو صیداء کے متبعین چلے گئے مگر اُن کی طاقت کمزور ہو گئی ۔ جتنے اُن کے سردار تھے وہ تلاش کر کے گرفتار کر لئے گئے اور انہیں ‘‘مرو’’ بھیج دیا گیا اور ثابت قطنہ یہیں قید رہا ۔اشرا نے سلیمان بن ابی سری بنو عوافہ کے آزاد غلام کو بھی ہانی کی مدد کے لئے بھیج دیا اور اُس نے سختی سے لگان کی وصولی شرع کر دی ،یہاں تک کہ نومسلم بوڑھوں سے بھی جزیہ لیا گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہل سمرقند اور اہل بخارا مرتد ہو گئے اور ترکوں نے جب دیکھا کہ نومسلموں پر مسلمان حکومت ظلم کر رہی ہے تو اُن میں جوش و خروش پیدا ہوگیا اور انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ اِس طرح مسلمان حکومت کمزور ہو جائے گی اور ہوسکتا ہے کہ مسلمان حکومت کے خلاف مرتدین ہماری مدد کریں ۔
ترکوں سے جنگ
اہل سغد اور اہل بخارا کے ارتداد کا ترکوں نے فائدہ اُٹھایا اور انہیں لیکر مسلمانوں پر حملہ کر دیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : تھوڑے دنوں بعد اہل سغد کے کاموں میں ضعف پیدا ہو گیا اور آپس میں پھوٹ پڑ گئی ۔ اشرس بن عبداﷲ نے ایک ایک کو گرفتار کر کے قید اور جبری جزیہ وصول کرنے لگا ۔ رؤسائے عجم اور دہقانوں کی ذلت کا دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ۔ اُن کے کپڑے جلوائے ،پیٹیوں کو گردنوں میں پہنوایا ،سروں پر کانٹوں کا تاج رکھوایا اور جو لوگ اسلام قبول کر چکے تھے اُن سے بھی جزیہ وصول کیا۔ سغد اور بخارا میں پھر سے ایک جوش پیدا ہوا اور یہ سب کے سب باغی ہو گئے اور ترکوں سے سازش کرکے لشکر مرتب کیا ۔ اشرس بن عبداﷲ اِس طوفان بد تمیزی کو فرو کرنے کے لئے روانہ ہوا اور ‘‘آمل’’ میں پہنچ کر کئی مہینوں تک قیام کیا ۔ بالآخر قطن بن قتیبہ بن مسلم کو دس ہزاری کی فوج دیکر آگے بڑھایا ۔ نہر عبور کرتے ہی ترکوں اور اہل سغد و بخارا سے سامنا ہو گیا ،اُن کے ساتھ خاقان بھی آیا ہوا تھا ۔انہوں نے قطن بن قتیبہ کے لشکر گاہ کا محاصرہ کر لیا اور ترکوں نے مسلمانوں کے کمسریٹ پر چھاپہ مارا۔ اشرس بن عبداﷲ نے عبداﷲ بن بسطام بن مسعود کی ضمانت پر ثابت قطنہ کو رہا کر کے سواروں کے فوجی دستے کے ساتھ ترکوں پر حملہ کرنے کے لئے روانہ کیا ۔ ثابت قطنہ نے آگے بڑھ کر ترکوں سے وہ مال و اسباب چھین لئے جو وہ لیکر جارہے تھے ۔ اشرس بن عبداﷲ بن اپنے ساتھیوں کے ساتھ نہر عبور کر کے قطن بن قتیبہ سے جاملا۔ فریق مخالف سے مقابلہ ہوا لیکن وہ پسپا ہو کر بھاگے اور اشرس بن عبداﷲ اپنی فوج لیکر بیکند پہنچ گیا اور اُس کا محاصرہ کر لیا ۔ اہل شہر نے پانی بند کر دیا شدت تشنگی سے گھبرا کر اشرس بن عبداﷲ نے شہر کی طرف کوچ کیا اور اثناء راہ میں مخالفین سے جنگ چھڑ گئی ۔ بہت خون ریز لڑائی کے بعد مسلمانوں نے ترکوں کو پانی کے چشمے کے پاس سے ہٹایا۔ حارث بن شریح اور قطن بن قتیبہ بڑے بڑے خطرات میں مبتلا ہو گئے ۔ ثابت قطنہ ، صخر بن مسلم اور عنالملک بن وثار اِس جنگ میں شہید ہو گئے ۔ قطن بن قتیبہ نے ایک دستے کے ساتھ مرنے اور مارنے کا عہدو پیمان لیا اور اُن کے ساتھ ملکر اتنا شدید حملہ کیا کہ ترکوں کے پاؤں اُکھڑ گئے اور وہ بھاگنے لگے ۔ مسلمانوں نے رات تک اُن کا تعاقب کر کر کے قتل عام کیا ۔
ثابت قطنہ کی آخری تمنا
ترکوں سے جنگ میں مسلمانوں کو فتح ملی اور اس میں ثابت قطنہ شہیدہو گئے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب اشرس بن عبداﷲ اور ترکوں میں باقاعدہ جنگ چھڑ گئی تو ثابت قطنہ نے یہ دعا مانگی :‘‘ اے اﷲ تعالیٰ! میں کل رات ابن بسطام کا مہمان تھا ۔آج رات تُو مجھے اپنا مہمان بنا لے ۔اﷲ کی قسم! میں نہیں چاہتا کہ بنو اُمیہ مجھے فولادی بیڑیوں میں مقید دیکھیں۔’’اِس کے بعد ثابت قطنہ نے دشمن پر حملہ کیا اور اُس کے ساتھیوں نے بھی حملہ کیا ۔ اُس کے ساتھیوں نے تو بزدلی دکھائی مگر یہ استقلال سے اپنی جگہ ڈٹا رہا ۔ ایک تیر اُس کے گھوڑے کوآکر لگا ،گھوڑا اُچھلا اور الف ہو گیا ۔ ثابت قطنہ نے اُسے مار کر آگے بڑھایا ۔ اب خود اُس پر تلوار کا ہاتھ پڑا اور جب اُسے میدان جنگ سے زخمی حالت میں اُٹھا گیاا تو وہ کہہ رہا تھا :‘‘ اے اﷲ! آج صبح میں ابن بسطام کا مہمان تھا اور شام کو تیرا مہمان ہوں ،تُو مجھے اپنے انعام میں جنت الفردوس سے میری تواضع کرنا۔’’
کمرجہ کی جنگ
اِس کے بعد اشرس بن عبداﷲ اپنا لشکر لیکر بخارا کی طرف واپس جانے لگا تو خاقان نے مسلمانوں کے ایک شہر ‘‘کمرجہ ’’کا محاصرہ کر لیا ۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : کامیابی کے بعد اشرس بن عبداﷲ بخارا کی جانب لوٹا اور خاقان نے بھی شہر ‘‘کمرجہ’’ (صبہ خراسان کا ایک شہر) کا محاصرہ کر لیا ۔ یہاں پر مسلمانوں کی اکثریت تھی اور مسلمانوں نے شہر پناہ کے باہر بنی خندق پر بنے پل کو توڑ ڈالا۔ جسرد بن یزدگرد نے اہل شہر کو مخاطب کر کے کہا: ‘‘ اے گروہ ِ عرب! تم لوگ اپنے آپ کو کیوں ہلاک کرتے ہو؟ خاقان میری سلطنت مجھے واپس دینے آیا ہے اور میں تمہارے لئے امان حاصل کر سکتا ہوں۔’’ اہل شہر اُس کو ملامت کرنے لگے اِسی دوران بزعزی دوسو آدمیوں کو لیکر آیا ۔ یہ بڑاعظیم المرتبت شخص تھا اور خاقان کبھی اس کی رائے کی مخالفت نہیں کرتا تھا ۔اُس کے بلانے سے مسلمانوں کی طرف سے یزید بن سعد گفتگو کرنے گیا ۔بزعزی نے کہا: ‘‘ اگر تم لوگ ہم سے مصالحت کر لو تو ہم تم لوگوں کے وظائف اور تنخواہیں ڈبل کر دیں گے اور کبھی تم سے چھیڑ چھاڑ نہیں کریں گے ۔’’ یزید بن سعد نے نہ تو انکار کیا اور نہ ہی اقرار کیا بس نرمی سے جواب دے کر شہر میں واپس چلا آیا اور اہل شہر سے کہا: ‘‘ یہ لوگ تمہیں مسلمانوں سے غداری کرنے اور جنگ کے لئے کہہ رہے ہیں۔’’ اہل شہر نے مسلمانوں سے غداری اور جنگ کرنے سے انکار کر دیا ۔ خاقان نے جھلا کر خندق کو گیلی لکڑیوں سے پاٹنے کا حکم دیا ۔ اہل شہر نے اُس پر خشک لکڑیاں ڈال کر آگ لگا دی ۔رات بھرٍآگ جلتی رہی اور تمام لکڑیاں جل گئیں۔ اب خاقان نے اپنے لشکریوں کو بھیڑ بکریاں کھانے کودیں اور حکم دیا کہ اِن کا گوشت کھا کر اِن کی کھالوں میں مٹی بھر بھر کر خندق کو پاٹ دو۔ ترکوں نے وہی کیا اور قریب تھا کہ خندق برابر ہو جاتی کہ اچانک اﷲ تعالیٰ نے بادل بھیج دیا اور ایسی موسلا دھار بارش ہوئی کہ وہ سب کا سب بہہ کر بڑی نہر میں چلا گیا ۔ اِسی حالت میں مسلمانوں نے ‘‘شہر پناہ’’ کی ‘‘فصیل’’ سے ترکوں پر تیروں کی بارش شروع کر دی ۔ اتفاق سے ایک تیر بزعزی کے گلے میں آکر لگا جس کی وجہ سے وہ رات میں مر گیا ۔ صبح ہوئی تو ترکوں نے مسلمان قیدیوں کو قتل کرنا شروع کر دیا ۔ مسلمانوں کو اِس سے اشتعال پیدا ہوا اور انہوں نے بھی ترک قیدیوں کو قیل کرنا شروع کر دیا ۔اِسی دوران مسلمانوں کے لشکر نے فرغانہ پہنچ کر پڑاؤ ڈال دیا ۔ یہ خبر ملتے ہی ترکوں نے شہر والوں پر شدید حملے کرنا شروع کر دیئے۔ اہل شہر بھی مردانگی سے اُن کا مقابلہ کرتے رہے ۔ آخر کار ساٹھ دن کے محاصرے اور جنگ کے بعد مسلمانوں نے ‘‘کمرجہ’’ ترکوں کو دیکر صلح کر لی اور سب کے سب سمرقند اور دبوسیہ آگئے ۔ صلح کے بعد ترکی لشکر بھی واپس چلا گیا لیکن خاقان تھوڑی سی فوج کے ساتھ پورا شہر خالی ہونے تک ٹھہرا رہا اور ‘‘کووصول’’ کو مسلمانوں کے ساتھ کر دیا کہ وہ اُن کو اُن کی امن کی جگہ تک پہنچا کر آئے ۔ دبوسیہ پہنچنے کے بعد فریقین نے ایکدوسرے کے قیدیوں کو رہا کردیا۔
110 ھجری کا اختتام
110 ھجری کے اختتام پر ‘‘سلطنتِ اُمیہ’’ میں تمام گورنر لگ بھگ وہی تھے جو پچھلے سال تھے ۔ ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر خالد بن عبداﷲ تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 110 ھجری میں خالد بن عبداﷲ نے ہلال بن ابی بردہ کو توال( پولیس محکمہ کا سربراہ) محافظ دستہ کا افسر ،قاضی اور نماز کا امام بھی بنادیا گویا یہ ساری خدمیتیں ایک ہی شخص کے سپرد کر دیں اور شمامہ بن عبداﷲ کو منصب قضاء سے برطرف کر دیا ۔ خراسان کا گورنر اشرس بن عبداﷲ تھا ۔ ملک مصر ، افریقہ اور اسپین کے گورنر پچھلے سال کے ہی تھے اور ملک یمن کا گورنر یوسف بن عمرو تھا ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر ابراہیم بن ہشام تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں