ہفتہ، 27 جنوری، 2024

64 سلطنت امیہ Saltanat e Umayya part 64

 


64 سلطنت امیہ

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 64

رومیوں سے جنگ، ابو مسلم خراسانی کی آزادی، 125 ھجری کا اختتام ، محمد بن علی کا انتقال، 126 ھجری :ولید بن یزید کے خلاف عوام کی بیزاری، ولید بن یزید کے خاندان بنو امیہ پر مظالم، ولید بن یزید کے خلاف یزید بن ولید، یزید بن ولید کا دمشق پر قبضہ، ولید بن یزید کا قتل، ولید بن یزید کی مدت حکومت، یزید (ناقص) بن ولید سلطنت اُمیہ کا حکمراں، اہل حمص کی بغاوت، سلیمان بن ہشام ، یزید بن ولید کا سپہ سالار، اہل حمص کی شکست، اہل فلسطین کی بغاوت ،منصور بن جمہور ملک عراق کا گورنر، "ولی عہدی" کا اعلان، یزید بن ولید کا انتقال، 126 ھجری کا اختتام

رومیوں سے جنگ

اِس سال حکمراں بننے کے بعد ولید بن یزید نے رومیوں سے جنگ کے لئے خشکی اور بحری دونوں لشکر روانہ کئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال ولید بن یزید نے اپنے بھائی عمر بن یزید کو رومیوں سے جہاد کرنے پر روانہ کیا اور اسود بن بلال محاربی کو ‘‘امیر البحر’’ مقرر کر کے قبرص بھیجا۔ اس نے دونوں کو یہ حکم دیا کہ وہاں باشندوں کو اختیار دینا کہ وہ جہاں جانا چاہیں انہیں پہنچا دینا۔اُن میں سے بہت سوں نے مسلمانوں کے ساتھ رہنا پسند کیا اور بہت سوں نے رومی علاقے میں جانا پسند کیا تو انہیں وہاں بھیج دیا ۔ 

ابو مسلم خراسانی کی آزادی

اِس سال ابو مسلم خراسانی غلامی سے آزاد ہوا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: اِس سال سلیمان بن کثیر ، مالک بن ہیثم ، لاہظ بن قریظ اور قحطبہ بن شبیب نے محمد بن علی سے ملاقات کی اور اُن سے ابو مسلم خراسانی کا قصہ اور اُس کے چشم دید حالات بیان کئے ۔محمد بن علی نے اُن سے بوچھا :‘‘ وہ آزاد ہے یا غلام؟’’ انہوں نے کہا:‘‘ عیسیٰ بن معقل کہتا ہے کہ وہ غلام ہے مگر وہ خود کہتا ہے کہ وہ آزاد ہے۔’’ محمد بن علی نے کہا: ‘‘ تم لوگ اُسے خرید کر آزاد کر دو۔’’اُن لوگوں نے محمد بن علی کو دولاکھ درہم نقد اور تیس ہزار درہم کے کپڑے دیئے ۔محمد بن علی نے کہا: ‘‘ مجھے لگتا ہے کہ اِس سال کے بعد تم مجھے نہیں پاؤگے ۔اگر مجھے کوئی سانحہ پیش آجائے تو پھر تمہارا امام میرا بیٹا ابراہیم بن محمد ہو گا اور مجھے ان پر پورا اعتماد ہے اور میں تم لوگوں کو اس کے ساتھ اخلاص سے پیش آنا اور میں اُسے بھی تمہارے ساتھ حسن سلوک کی ہدایت کردی ہے ۔’’ یہ لوگ ان سے مل کر چلے آئے ۔محمد بن علی کا ذی القعدہ کی چاند رات ترسٹھ سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ 

125 ھجری کا اختتام 

125 ھجری کے اختتام پر ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ یوسف بن عمرو تھا ۔ ملک خراسان کا کا گورنر نصر بن سیار تھا۔ ابن شیرمہ ‘‘سیستان’’ کا گورنر تھا۔ملک یمن میں یوسف بن عمرو کا بیٹا گورنر تھا ۔ مروان بن محمد آذربائیجان اور آرمینیہ کا گورنر تھا ۔مکۂ مکرمہ ،مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر یوسف بن محمد تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کروایا۔ 

محمد بن علی کا انتقال

اِس سال 125 ھجری میں ‘‘تحریک عباسیہ’’ کے بانی محمد بن علی بن عبداﷲ بن عباس بن عبدالمطلب کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال محمد بن علی بن عبداﷲ بن عباس بن عبدالمطلب کا انتقال ہوا۔یہ سفاح اور منصور کے والد ہیں ۔انہوں نے اپنے والد اور سعید بن جبیر اور ایک جماعت سے روایات بیان کی ہیں۔اور اِن سے ایک جماعت نے روایات بیان کی ہیں۔اِن میں اُن کے دونوں بیٹے ابوالعباس عبداﷲ بن علی سفاح اور ابوجعفر عبداﷲ بن علی منصورجو ‘‘ سلطنت عباسیہ’’ کے حکمراں بھی ہیں وہ بھی شامل ہیں۔ حضرت محمد بن حنیفہ نے اپنے بعد محمد بن علی کی امارت کی وصیت کی تھی اور محمد بن علی سے یہ بھی فرمایا تھا کہ عنقریب تمہارے بیٹوں کو حکومت ملے گی ۔ محمد بن علی نے ‘‘تحریک عباسیہ’’ ۸۷ ؁ ھجری میں شروع کی اور دن بدن اس کو عروج ہی حاصل ہوتا گیا ۔ انہوں نے اپنے بیٹے ابراہیم بن علی کے لئے وصیت کی تھی لیکن اِن کے دوسرے بیٹے عبداﷲ بن علی سفاح نے ۱۳۲ ؁ ھجری میں بنو اُمیہ کے ہاتھ سے حکومت چھین لی اور‘‘سلطنت عباسیہ’’ قائم کی ۔

126 ھجری :ولید بن یزید کے خلاف عوام کی بیزاری

ولید بن یزید جب ولی عہد تھا تو بہت سی برائیوں میں مبتلا ہو گیا تھا ۔امیرالمومنین بننے کے بعد اُس کی برائیوں میں اضافہ ہو گیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ولید بن یزید حکمراں بننے سے پہلے اپنے حکمراں سے سرکشی کی تھی اور پھر اپنے مذہب اسلام کی توہین اور استخفاف کرتا رہتا تھا ۔جب وہ خود حکمراں بنا تو اُس کے لہو ولعب یعنی شیرو شکار ، شراب خوری اور فاسق و فاجر لوگوں کی صحبت میں اضافہ ہو گیا ۔اُس کی اِس روش ِ زندگی سے اُس کے عہدیدار ، رعایا اور فوج بیزار ہوگئی اور وہ اُس کی حکمرانی سے بھی بیزار ہوگئے ۔سب سے بڑی غلطی جو اُس نے اپنے مفاد کے خلاف کی اور یہ اُس کے قتل کی اصل وجہ ہوئی کہ اُس نے ہشام بن عبدالملک اور ولید بن عبدالملک کے بیٹوں یعنی اپنے چچیرے بھائیوں سے بگاڑ کر لیا ۔ اِس کے ساتھ اُس نے یمنی عربوں کو جو ملک شام کی فوج میں غالب تعداد میں تھے انہیں بھی اپنے خلاف کر لیا۔ 

ولید بن یزید کے خاندان بنو امیہ پر مظالم

ولید بن یزید نے حکمراں بننے کے بعد اپنے ہی خاندان والوں پر ظلم کرنا شروع کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبرلکھتے ہیں : منہال بن عبدالملک کہتا ہے کہ ولید بن یزید ہمیشہ سیرو شکار اور عیش و آرام میں زندگی بسر کرتا تھا ۔ جب وہ ‘‘سلطنت ِ اُمیہ’’ کا حکمراں بنا تو وہ آبادی سے گھبراتا تھا اور ہمیشہ ایک جگہ سے دوری جگہ منتقل ہوتا رہتا اور شکار کھیلتا رہتا تھا ۔آخر کار وہ رعایا اور فوج پر دوبھر ہو گیا ۔اُس نے اپنے چچا ہشام بن عبدالملک کے بیٹے سلیمان بن ہشام کو سو درے لگوائے اور اُس کی داڑھی منڈوا ڈالی اور جلا وطن کر کے عمان بھیج دیا اور وہ ولید بن یزید کے قتل تک وہیں رہا۔ ولید بن یزید نے اپنے دوسرے چچا ولید بن عبدالملک کے بیٹے عمر بن ولید کی ایک لونڈی پر قبضہ کر لیا ۔اور جب اُس سے واپس مانگی گئی تو اُس نے دینے سے انکار کر دیا ۔اِس پر عُمر بن ولید نے کہا: ‘‘ اب تم بے شمار شہسواروں کے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز اپنی قیام گاہ کے گرد سنو گے ۔’’ولید بن یزید نے یزید بن ہشام کو قید کر دیا اور اُس نے اپنے دونوں بیٹوں حکم بن ولید اور عثمان بن ولید کی ‘‘ولی عہدی’’ کے لئے بیعت لینا چاہی اور اِس معاملہ سعید بن بیہس بن مہیب سے مشورہ لیا ۔اُس نے کہا: ‘‘ ایسا نہ کرو! کیونکہ یہ دونوں ابھی بالغ نہیں ہوئے ہیں ۔میرے خیال سے تو عقیق بن عبدالعزیز بن ولید بن عبدالملک کے لئے ‘‘ولی عہدی’’ کی بیعت لے لو۔ ولید بن یزید یہ سن کر بہت ناراض ہوا اور سعید بن بیہس کو قید کر دیا اور اُس کا قید میں ہی انتقال ہوا۔ 

ولید بن یزید کے خلاف یزید بن ولید

امیرالمومنین ولید بن یزید کا اپنے خاندان والوں پر ظلم جاری تھا ۔اُس کے ظلم کا شکار اُس کا ایک چچا زاد بھائی یزید بن ولید بھی ہوا اور اُس نے ولید بن یزید کے خلاف آواز اُٹھائی۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : بنو اُمیہ ولید بن یزید سے بہت نالاں ہوگئے تھے اور اُن میں سب سے زیادہ سخت اُس کا چچا زاد بھائی یزید بن ولید تھا اور لوگ اُس کی طرف جھکاؤ رکھتے تھے کیونکہ وہ زہد و تقویٰ کا اظہار کرتا تھا اور کہتا تھا :‘‘ ہم ولید بن یزید سے راضی نہیں ہوسکتے حتیٰ کہ لوگ حملہ کر کے اُسے قتل کردیں۔’’ یزید بن عبدالملک نے ولید بن یزید کی نگرانی کے لئے فضاعہ اور یمانیہ کی ایک جماعت اور بہت بڑے بڑے امراء اور ولید بن عبدالملک کی اولاد کو مقرر کیا ۔یزید بن ولید بنو اُمیہ کے سادات میں سے تھا اور وہ دین و تقویٰ اور بھلائی کی طرف منسوب تھا ۔اِسی لئے لوگوں نے اُس کے ہاتھ پر بیعت کر لی ۔ اُس کے بھائی عباس بن ولید نے اُسے منع کیا لیکن وہ نہیں مانا اور بولا: ‘‘ اﷲ کی قسم! اگر مجھے تیرے بارے میں خدشہ نہ ہوتا تو میں تجھے بیڑیاں ڈال کر ولید بن یزید کے پاس بھیج دیتا ۔’’ اتفاق سے دمشق میں ایک وباء پھیلی جس کی وجہ سے لوگ شہر چھوڑ کر صحراء میں جانے لگے ۔ امیرالمومنین ولید بن یزید بھی اپنے دو سو ساتھیوں کے ساتھ دمشق کے بلند مقامات کی طرف گیا اور یزید بن ولید کے لئے آسانی ہوگئی ۔ اُس کے بھائی عباس بن ولید نے پھر سمجھایا لیکن وہ نہیں مانا۔ 

یزید بن ولید کا دمشق پر قبضہ

ولید بن یزید دمشق چھوڑ کر چلا گیا تھا ۔اچانک یزید بن ولید دمشق میں داخل ہوا اور اسلحہ خانے پر قبضہ کر لیا۔ علامہ عمادلدین ابن کثیر لکھتے ہیں : یزید بن ولیدرات کے وقت ایک سیاہ گدھے پر سوار دمشق میں داخل ہوا ولید بن یزید نے اپنی غیر حاضری میں دمشق پر اپنا نائب محمد بن حجاج بن یوسف ثقفی کو مقرر کیا تھا اور ابوالعاج کو سپریٹنڈنٹ پولیس مقرر کیا تھا ۔ یزید بن ولید نے ابولعاج کو بے ہوش کر کے اسلحہ خانے پر قبضہ کر لیا۔ اِس کے بعد یزید بن ولید کے حکم سے دمشق کے دروازوں کو بند کرنے حکم دیا اور کہا کہ سوائے واقف لوگوں کے کسی اور کے لئے دروازہ نہیں کھولا جائے ۔ جب صبح ہوئی تو ہر دروازے سے یزید بن ولید کے حامی داخل ہوئے اور اُس کی فوج جمع ہو گئی ۔ 

ولید بن یزید کا قتل

یزید بن ولید نے دمشق پر قبضہ کرنے کے بعد ولید بن یزید کے قتل کے لئے فوج کو بھیجا ۔ جب ولید بن یزید کو اس کی خبر ہوئی تو وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھاگا لیکن اُس کے دوسو ساتھیوں میں سے اکثریت نے اُس کا ساتھ چھوڑ دیا اور چند ساتھی اُس کے ساتھ تھے ۔ وہ ایک قلعے میں آکر چھپ گیا ۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : جب لوگوں نے اُن کے اجتماع کو دیکھا تو وہ ولید بن یزید کے پاس سے بھاگ کر اُن کے پاس چلے گئے اور ولید بن یزید تھوڑے سے لوگوں میں ذلیل ہو کر رہ گیا اور اُس نے قلعے میں پناہ لے لی ۔ انہوں نے ہر طرف سے آکر اُس کا محاصرہ کر لیا ۔ ولید بن یزید قلعے کے دروازے کے پاس آیا اور بولا:‘‘ مجھ سے کوئی شریف آدمی گفتگو کرے۔’’ یزید بن عنبسہ سکسکی نے اُس سے گفتگو کی ۔ولید بن یزید نے کہا: ‘‘ کیا میں نے تمہارے محتاجوں کو نہیں دیا؟ کیا میں نے تمہاری عورتوں کی خدمت نہیں کی؟’’ یزید بن عنبسہ نے کہا: ‘‘ ہم محارم کی بے حرمتی کرنے ، شراب نوشی کرنے اور اپنے باپ کے بیٹوں کی ماؤں سے نکاح کرنے اور ا ﷲ کے احکام کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے تجھے ملامت کرتے ہیں۔’’ ولید بن یزید نے کہا: ‘‘ اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو تمہارا فتنہ بند نہیں ہوگا اور تم منتشر ہو جاؤ گے اور پھر تم میں اتحاد نہیں ہوگا ۔’’ اس کے بعد وہ محل میں واپس آگیا اور قرآن پاک کھول کر بیٹھ گیا اور بولا:‘‘ آج کا دن حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دن کی طرح ہے ۔’’ لوگ دیوار پھاند کر اُس کے پاس آگئے اور سب سے پہلے یزید بن عنبسہ آیا اور اُس کی طرف بڑھتے ہوئے بولا: ‘‘ تلوار اُٹھاؤ۔’’ ولید بن یزید نے کہا: ‘‘ اگر تمہارا لڑائی کا ارادہ ہے تو وہ کسی اور جگہ ہو گی ۔’’ یزید بن عنبسہ نے ولید بن یزید کا ہاتھ پکڑا تاکہ اُسے گرفتار کر کے یزید بن ولید کے پاس بھیج دے لیکن اُسی وقت خاندان اُمیہ کے دس امراء آگے بڑھے اور ولید بن یزید کے سر اور چہرے پر تلواریں مارکر اُسے قتل کر دیا ۔ 

ولید بن یزید کی مدت حکومت

ولید بن یزید کی حکومت کی مدت میں اختلاف ہے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اکثر ارباب ِ سیر کا اِس پر اتفاق ہے کہ ولید بن یزید کو پنجشنبہ ماہ جمادی الآخر کے ختم ہونے میں ابھی دو راتیں باقی تھی کہ قتل کیا گیا لیکن اُس کی مدت حکومت میں میں اختلاف ہے ۔امام ابومعشر کہتے ہیں کہ ولید بن یزید ایک سال اور تین مہینہ حکمراں رہا ۔ امام ہشام بن محمد کہتے ہیں اس کی مدت ِ حکومت ایک سال دو مہینہ اور بائیس روز رہی ۔اِسی طرح اُس کی عُمر کے بارے میں بھی اختلاف ہے ۔امام ہشام بن محمد کلبی کہتے ہیں جب وہ قتل ہوا تو اُس کی عمر اڑتیس سال تھی ۔محمد بن عمرو نے چھتیس سال بتائی ہے ۔ بعضوں نے بیالیس سال بیان کی ۔کچھ نے اکتالیس سال بیان کی کسی نے پینتالیس سال اور کسی نے چھیالیس سال بیان کی ہے ۔ولید بن یزید کی کنیت ابو العباس تھی ۔نہایت غصہ ور آدمی تھا ،پیروں کی انگلیاں لمبی تھیں اور وہ اتنا زیادہ طاقتور تھا کہ لوہے کی سلاخ زمین میں گاڑ دی جاتی تھی اور اُس میں ڈوری باندھ کر اُس کے پاؤں میں باندھ دی جاتی تھی ۔پھر وہ اُچھل کر گھوڑے پر سوار ہوجاتا تھا اور وہ سلاخ زمین سے اُکھڑ جاتی تھی ۔وہ بغیر ہاتھ لگائے گھوڑے پر سوار ہو جاتا تھا ۔اچھا شاعر تھا اور بہت بڑا شرابی تھا ۔

یزید بن ولید کا دورِ حکومت 

یزید (ناقص) بن ولید سلطنت اُمیہ کا حکمراں

126 ھجری میں یزید بن ولید ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بنا۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : جن دس آدمیوں نے ولید بن یزید کا قتل کیا اور اُس کا سر لیکر یزید بن ولید کی خدمت میں اور اُسے حکمراں کا سلام کیا تو اُس نے اُن دس آدمیوں میں سے ہر ایک کو دس دس لاکھ درہم دیئے ۔روح بن بشیر بن عقیل نے کہا: ‘‘ اے امیرالمومنین! فاسق ولید بن یزید کے قتل سے خوش ہو جایئے۔‘‘یزید بن ولید نے اﷲ کی بارگاہ میں سجدۂ شکر ادا کیا اور فوجیں یزید بن ولید کے پاس واپس آگئیں ۔ سب سے پہلے یزید بن عنبسہ نے بیعت کے لئے اُس کا ہاتھ پکڑا تو اُس نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور کہا: ‘‘ اگر یہ تیری رضامندی کے لئے ہے تو اس پر میری مدد کرنا ۔’’ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں اِس سال 126 ھجری میں یزید بن ولید بن عبدالملک کے لئے جسے ‘‘یزید ناقص’’ بھی کہتے ہیں بیعت لی گئی اور وہ ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بن گیا ۔ ‘‘ناقص’’ اِس لئے کہا جاتا تھا کہ ولید بن یزید نے جو لوگوں کی تنخواہ اور روزینے میں دس دس کا اضافہ کیا تھا اُسے یزید بن ولید نے گھٹا دیا ۔ولید بن یزید کے قتل کے بعد اُس نے اُس زیادتی کو کم کر کے تنخواہیں اور روزینے پھر اُتنے کر دیئے جتنے ہشام بن عبدالملک کے دور ِ حکومت میں تھے ۔اس کا یہ نام سب سے پہلے مروان بن محمد نے رکھا تھا ۔اُس نے کہا: ‘‘ یہ ناقص بن ولید ہے ۔’’ اور اس کا نام ‘‘ناقص’’ رکھ دیا اور اِسی وجہ سے لوگ اسے اِسی نام سے یاد کرنے لگے ۔ 

یزید بن ولید کا پہلا خطبہ

سلطنت اُمیہ کا حکمراں بننے کے بعد یزید بن ولید نے اپنا پہلا خطبہ دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ولید بن یزید کے قتل کے بعد یزید بن ولید نے پہلا خطبہ دیا اور اﷲ کی حمد اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ثناء کے کہا: ‘‘ اے لوگو! میں نے کسی بدنیتی ، نخوت ، دنیا کی حرص یا حکومت کے لئے خروج نہیں کیا اور نہ ہی میں نفس پرور ہوں ۔اﷲ مجھ پر رحم کرے! میں تو اپنے نفس پر سختی کرتا ہوں بلکہ میں نے اﷲ اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے دین کی حمایت و حمایت کے لئے خروج کیا ہے ۔ اِسی لئے میں اﷲ کی کتاب اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت کی طرف دعوت دیتا ہوں کیونکہ ہدایت کے بلند مینار ڈھا دیئے گئے تھے ۔اہل تقویٰ کی نورانی قندیل گُل کر دی گئی تھی اور ایسے سرکش مردود کا دور دورہ ہوگیا تھا جس نے ہر حرام کو حلال کر لیا تھا اور ہر بدعت کو اختیار کر لیا تھا ۔وہ نہ تو اﷲ کے کلام کو سچا سمجھتا تھا اور نہ ہی آخرت پر ایمان رکھتا تھا ۔ حالانکہ وہ میرا چچیرا بھائی تھا اور شرافت اور نسب میں میرا مماثل تھا مگر جب میں نے اُس کی یہ روش دیکھی تو اﷲ تعالیٰ سے اِس معاملہ میں استخارہ کیا اور درخواست کی کہ اے اﷲ! تُو میرے نفس کے حوالے نہ کردینا ۔پھر میں نے اِس معاملے میں کاروائی شروع کی اور آخر کار اﷲ نے اپنی مدد اور طاقت سے اپنے بندوں کو راحت دلائی ۔ 

اہل حمص کی بغاوت

ولید بن یزید کے قتل کے ساتھ ہی ‘‘خاندان بنو اُمیہ’’ میں پھوٹ پڑ گئی اور اُن میں آپس میں خانہ جنگی ہونے لگی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: ولید بن یزید کے قتل کے بعد سلیمان بن ہشام نے عمان میں بغاوت کر دی ۔علی بن محمد کہتے ہیں کہ ولید بن یزید کے قتل کے بعد سلیمان بن ہشام جو عمان میں قید تھا وہ جیل سے نکل آیا اور عمان میں جتنا سرکاری روپیہ وغیرہ تھا سب پر اُس نے قبضہ کر لیا اور دمشق کی طرف روانہ ہوا۔اِس سال میں اہل حمص نے یزید بن ولید کے خلاف بغاوت کر دی ۔ مروان بن عبداﷲ بن عبدالملک حمص کا ولید بن یزید کی طرف سے گورنر تھا ۔ یہ اپنی شرافت ، بزرگی ،فراست اور وجاہت کی وجہ سے بنو اُمیہ کے عمائدین میں سے تھا ۔ولید بن یزید کے قتل کی اطلاع جب اہل حمص کو ہوئی تو انہوں نے شہر کے دروازے بند کردئے اور ولید بن یزید کا ماتم کرنے لگے اور قتل کی تفصیل پوچھنے لگے ۔بعض لوگوں نے بتایا کہ ہم یزید بن ولید سے لڑ رہے تھے اور اُس پر حاوی تھے کہ عباس بن ولید اُس کی مدد پر چلا گیا اور ہمیں شکست ہوئی ۔ یہ سنتے ہی اہل حمص نے جوش میں عباس بن ولید کے مکان کو گرا دیا اور اُسے تلاش کرنے لگے لیکن وہ اپنے بھائی یزید بن ولید کے پاس دمشق چلا گیا تھا ۔اِس کے بعد انہوں نے تمام فوجی چھانیوں سے مراسلت شروع کر دی اور انہیں خون کا بدلہ لینے کی دعوت دی اور سب نے منظور کر لیا ۔اہل حمص نے اپنے درمیان یہ تحریری ‘‘عہد’’ کیا کہ وہ کبھی یزید بن ولید کی بیعت نہیں کریں گے بلکہ ولید بن یزید کے دونوں ولی عہد زندہ ہوں گے تو اُن کی بیعت کریں گے اور اگر وہ زندہ نہ ہوئے تو اُس شخص کو اختیار کریں گے جو انہیں وہی تنخواہ اور روزینہ دے گا جو ولید بن یزید دیا کرتا تھا ۔انہوں نے معاویہ بن یزید بن حصین کو اپنا حکمراں بنا لیا اور مروان بن عبداﷲ بن عبدالملک بھی اُن کے ساتھ ہو گیا ۔ یزید بن ولید کو جب اِس کی خبر ہوئی تو اُس نے اپنے قاصد بھیجے تو اہل حمص نے انہیں حمص سے باہر نکال دیا اور یزید بن ولید کی حکمرانی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ 

سلیمان بن ہشام ، یزید بن ولید کا سپہ سالار

یزید بن ولید نے اہل حمص سے جنگ کے لئے لشکر روانہ کیا اور اُس کا سپہ سالار سلیمان بن ہشام کو بنا دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :یزید بن ولید نے مسرور بن ولید اور ولید بن روح کو ایک لشکر دیکر اہل حمص سے مقابلے کے لئے بھیجا۔اِسی دوران سلیمان بن ہشام بھی عمان سے یزید بن ولید کے پاس آگیا اور اُس نے سلیمان بن ہشام کی بہت عزت و توقیر کی اور اُس کی بہن سے نکاح کر لیا اور اُس کا وہ تمام مال و جائیداد اُسے واپس دے دیااور سلیمان بن ہشام کو سپہ سالار بنا کر مسرور بن ولید اور دلید بن روح کے پاس بھیجا اور اُن دونوں سے کہا کہ اُس کی اطاعت کریں۔ اُن کے مقابلہ کے لئے اہل حمص بھی آگے آگئے اور مروان بن عبداﷲ نے اُن کے سامنے تقریر کی تو اہل حمص غلظ فہمی میں پڑ گئے اور اُسے قتل کر ڈالا اور ابو محمد سفیانی کو اپنا سپہ سالار بنا لیا۔ 

اہل حمص کی شکست

اہل حمص کی سلیمان بن ہشام سے جنگ ہوئی جس میں انہیں شکست ملی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: سلیمان بن ہشام کے لشکر اور اہل حمص کے لشکر میں مقابلہ ہوا اہل حمص نے ایسا حملہ کیا کہ سلیمان بن ہشام کے میمنہ اور میسرہ کو دو سو گز پیچھے دھکیل دیا اور اِس میں سلیمان بن ہشام کے پچاس فوجی مارے گئے ۔اِس کے بعد اُس نے ایسا شدید حملہ کیا کہ اہل حمص کے پیر اُکھڑ گئے اور یزید بن خالد بن عبداﷲ قسری چلایا :‘‘ اﷲ سے ڈرو! تم لوگ اپنی قوم کو قتل کر رہے ہو۔’’ یہ سن کر دونوں فریق رک گئے اور سلیمان بن ہشام نے اِس شرط پر جنگ بند کی کہ اہل حمص یزید بن ولید کی بیعت کر لیں ۔اِس کے بعد سلیمان بن ہشام اُن سب کو لیکر دمشق آیا اور سب نے یزید بن ولید کی بیعت کر لی اور معاویہ بن حصین کو اُن کا گورنر بنا دیا اور انہیں حمص واپس بھیج دیا ۔ 

اہل فلسطین کی بغاوت 

اِس سال 126 ھجری میں اہل فلسطین نے بغاوت کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : سعید بن عبدالملک فلسطین میں ولید بن یزید کی طرف سے فلسطین کا گورنر تھا ۔یہ ایک اچھا اور نیک آدمی تھا یزید بن سلیمان اور سلیمان بن عبدالملک کے بیٹے فلسطین میں آکر رہا کرتے تھے ۔اِس لئے اہل فلسطین یزید بن سلیمان سے محبت کرتے تھے ۔ جب انہیں ولید بن یزید کے قتل کی اطلاع ملی تو انہوں نے یزید بن سلیمان کو لکھا کہ ولید بن یزید قتل کیا جاچکا ہے اِس لئے آپ یہاں آیئے تاکہ ہم آپ کو اپنا حکمراں بنا لیں اور سعید بن عبدالملک کو کہا کہ آپ یہاں سے چلے جائیں کیونکہ اب حکومت میں گڑ بڑ شروع ہوگئی ہے اور ہم نے اپنا حکمراں چن لیا ہے ۔ اِس کے بعد سعید بن عبدالملک دمشق یزید بن ولید کے پاس آگیا اور فلسطین کے حالات بتائے ۔ادھر فلسطین میں یزید بن سلیمان نے اہل فلسطین کے ساتھ ملکر یزید بن ولید سے جنگ کی تیاری شرو ع کر دی ۔جب اہل اردن کو ان کی حالات کا علم ہوا تو انہوں نے محمد بن عبدالملک کو اپنا حکمراں بنا لیا ۔ اب فلسطین کی اصل حکومت سعید بن روح اور ضبعان بن روح کے ہاتھ میں تھی ۔یزید بن ولید کو اُن کی بغاوت کا علم ہوا تو اُس نے سلیمان بن ہشام اُن کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔ سلیمان بن ہشام کے سامنے اہل فلسطین اور اہل اردن لشکر لیکر آگئے ۔ سلیمان بن ہشام اُن سے جنگ کرنے کے بجائے مسلسل اپنے قاصد بھیجتا رہا اور انہیں یزید بن ولید کی بیعت پر راضی کرتا رہا اور اُن کی شرائط تسلیم کرتا رہا ۔آخر کار اہل فلسطین اور اہل اردن یزید بن ولید کی حکمرانی پر راضی ہو گئے اور بیعت کر لی۔ جب اہل فلسطین اور اہل اردن اپنے علاقوں میں واپس چلے گئے تو سلیمان بن ہشام ‘‘عنبر’’ آیا اور اہل طبریہ اُس کے پاس آئے اور انہوں نے یزید بن ولید کے لئے بیعت کر لی ۔ جمعہ کے دن سلیمان بن ہشام نے انہیں طبریہ بھیجا اور خود بھی ایک جہاز پر سوار ہوکر اُن کے ساتھ ساتھ طبریہ آیا اور یہاں سب لوگوں کو جمعہ کی نماز پڑھائی اور یزید بن ولید کے لئے بیعت لیکر واپس آگیا ۔

منصور بن جمہور ملک عراق کا گورنر

یزید بن ولید نے ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بننے کے بعد منصور بن جمہور کو ملک عراق کا گورنر مقرر کیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب تما ملک شام نے یزید بن ولید کو اپنا حکمراں تسلیم کر لیا تو اُس نے منصور بن جمہور کو ملک عراق کا گورنر بنا کر بھیجا ۔ یوسف بن عمرو کو جب اُس کے آنے کی اطلاع ملی تو وہ اپنا مستقر چھوڑ کر فرار ہو گیا ۔ منصور بن جمہور ابتدائے ماہ رجب المرجب میں حیرہ پہنچا اور تمام سرکاری خزانوں پر قابض ہوگیا ۔ حریث بن ابی جہم کو اُس نے ‘‘واسط’’ کا گورنر مقرر کیا اور پہلے کے گورنر محمد بن نباتہ کو قید کرلیا ۔ جریر بن یزید کو بصرہ کا گورنر مقرر کیا اور خود کوفہ میں رہا ۔ ملک عراق کے تمام صوبوں اور اضلاع میں اُس نے یزید بن ولید کے لئے بیعت لے لی۔ منصور بن جمہور ایک بے رحم اعرابی تھا اور کوئی دیندار آدمی نہیں تھا ۔

"ولی عہدی" کا اعلان

اِس سال یزید بن ولید نے اپنے ‘‘ولی عہد’’ کا اعلان کر دیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال یزید بن ولید نے اپنے بھائی ابراہیم بن ولید کے لئے بیعت لیکر اُسے اپنا ‘‘ولی عہد’’ مقرر کیا اور اس کے بعد عبدالعزیز بن حجاج بن عبدالملک کے لئے ‘‘ولی عہدی’’ کی بیعت لے لی ۔ اِس کا سبب یہ ہوا کہ یزید بن ولید ذی الحجہ 126 ھجری میں بیمار ہوگیا تو لوگوں نے اُسے مشورہ دیا کہ آپ اپنے بھائی کی ابراہیم بن ولید اور اُس کے بعد عبدالعزیز بن حجاج کے لئے بیعت لے لیں۔ لوگ اُسے برابر آمادہ کرتے رہے اور کہتے رہے کہ آپ کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ اِس قومی مرحلے کو آپ یونہی چھوڑ چلے جائیں ۔ آخر کار اُس نے ‘‘ولی عہد’’ کی بیعت لے لی ۔ 

یزید بن ولید کا انتقال

اِ س سال کے آخری مہینے میں یزید بن ولید کا انتقال ہوگیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 126 ھجری میں یزید بن ولید نے حجاز کے گورنر یوسف بن محمد ثقفی کو معزول کر دیا اور عبدالعزیز بن عُمر بن عبدالعزیز کو حجاز کا گورنر بنا دیا ۔ اِ س سال مروان حمار بن محمدنے یزید بن ولید کی مخالفت کا اظہار کیا اور بلاد آرمینیہ کی طرف چلا گیا معلوم ہوتا تھا کہ وہ ولید بن یزید کے خون کے قصاس کا مطالبہ کرے گا لیکن جب وہ حران پہنچاتو اُس نے موافقت کا اظہار کیا اور امیر المومنین یزید بن ولید کی بیعت کر لی ۔ اِس سال ذی القعدہ کے آخر میں اور بعض کے قول کے مطابق ذی الحجہ کے آخر میں امیرالمومنین یزید بن ولید کا انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال کے ماہ ذی الحجہ کے آخر میں یزید بن ولید کا انتقال ہوگیا ۔اکثر ارباب سیر کے مطابق یزید بن ولید چھ مہینہ ‘‘سطنت اُمیہ’’ کا حکمراں رہا ۔ یہ بھی بیان کیا گیا پانچ مہینہ دو رات حکمراں رہا اور یہ بھی روایت ہے کہ وہ چھ مہینہ اور کچھ دن حکمراں رہا ۔ ذی الحجہ 126 ھجری کے ختم ہونے میں ابھی دس راتیں باقی تھیں کہ چھیالیس سال کی عُمر میں یزید بن ولید کا دمشق میں انتقال ہوگیا ۔ 

126 ھجری کا اختتام

126 ھجری کا اختتام ہوا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال کے اختتام پر عبداﷲ بن عُمر بن عبدالعزیز ملک عراق کا گورنر تھا ۔ابن ابی لیلیٰ کوفہ کے قاضی تھے ۔بصرہ کے قاضی عامر بن عبیدہ تھے ۔ نصر بن سیار خراسان کا گورنر تھا ۔ عبدالعزیز بن عبداﷲ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ بعض ارباب سیر کا بیان ہے کہ اِس سال عُمر بن عبداﷲ بن عبدالملک نے جسے یزید بن ولید نے اِسی غرض سے بھیجا تھا اُس نے حج کرایا اور چونکہ عبدالعزیز بن عبداﷲ حجاز کا گورنر تھا اِسی لئے وہ بھی ساتھ میں تھا ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں