63 سلطنت امیہ
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 63
124 ھجری : رومیوں سے جنگ، ابو مسلم خراسانی ‘‘تحریک عباسیہ’’ سے منسلک، 124 ھجری کا اختتام، 124 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 125 ھجری : ہشام بن عبدالملک کا انتقال، ہشام بن عبدالملک کی مدت حکومت، ولید بن یزید کا دورِ حکومت، " ولی عہد" ولید بن یزید، ولید بن یزید میں خرابیاں، مسلمہ بن ہشام کو ‘‘ولی عہد’’ بنانے کا ارادہ، ولید بن یزید کو خوش خبری، ولید بن یزید ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں، ولید بن یزید کے انتظامات، حکم بن ولید اور عثمان بن ولید کی ‘‘ولی عہدی’’، یوسف بن محمد مدینۂ منورہ کا گورنر،
124 ھجری : رومیوں سے جنگ
پچھلے دو سال سے مسلمانوں نے رومیوں سے جنگ پر توجہ نہیں دی تھی لیکن اِس سال مسلمانوں نے ‘‘سلطنت روم’’ پر حملہ کیا۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں: اِس سال 124 ھجری میں سلیمان بن ہشام بن عبدالملک نے ‘‘سلطنت روم’’ کے شہروں پر حملوں کا سلسلہ پھر شروع کیا اور اُس کی مڈبھیڑ سلطنت روم کے بادشاہ ‘‘الیون’’ سے ہوئی ۔سلیمان بن ہشام نے اُسے شکست دی اور مال غنیمت بھی حاصل کیا ۔
ابو مسلم خراسانی ‘‘تحریک عباسیہ’’ سے منسلک
اِس سال ابو مسلم خراسانی بھی ‘‘تحریک عباسیہ’’ سے منسلک ہوگیا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال بنو عباس کے داعیوں کی ایک جماعت مکۂ مکرمہ جانے کے اردے سے نکلی اور جب وہ کوفہ سے ہوکر گذرے تو انہیں معلوم ہوا کہ خالد بن عبداﷲ قسری اور اُس کے اہل خاندان اور ساتھیوں کو عمرو بن یوسف نے قید کر رکھا ہے تو انہوں نے جیل میں جا کر اُن کو دعوت دی کہ وہ ‘‘بنو عباس’’ کے لئے بیعت کر لیں ۔ یہاں اُن کی ملاقات ابو مسلم خراسانی سے ہوئی جو غلام تھا اور اپنے آقا عیسیٰ بن معقل عجلی کی خدمت میں لگا رہتا تھا ۔ اس کی خدمت اور وفاداری کو دیکھ کر بکیر بن ماہان نے اسے چار سو درہم میں خرید لیااور اس کو ‘‘بنو عباس’’ کی دعوت و بیعت کی رہنمائی کے لئے منتخب کر لیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں :بکیر بن ماہان کوفہ آیا تو ‘‘تحریک عباسیہ’’ کے داعیان ایک مکان میں جمع ہوئے ۔ان کی اطلاع حکومت کو ہوئی اور سب کو گرفتار کر لیا گیا ۔ بکیر بن ماہان کو قید کر دیا گیا اور
باقی تمام لوگوں کو چھوڑ دیا گیا ۔ جیل میں بکیر بن ماہان کی ملاقات عاصم بن یونس اور عیسیٰ بن معقل عجلی سے ہوئی ۔ عیسیٰ بن معقل عجلی کے ساتھ اُس کا غلام ابو مسلم خراسانی تھا جو اُس کی خدمت کرتا تھا ۔ بکیر بن ماہان نے ان لوگوں کو اپنی تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دی اور یہ لوگ اُس کے ہم خیال ہو گئے ۔بکیر بن ماہان نے ابومسلم خراسانی کے بارے میں پوچھا تو عیسیٰ بن مسلم نے بتایا کہ یہ میرا غلام ہے ۔ بکیر بن ماہان نے کہا: ‘‘ کیا آپ اسے بیچنا چاہتے ہیں؟’’ عیسیٰ بن معقل نے کہا: یہ ایسے ہی آپ کی نذر ہے۔’’ بکیر بن ماہان نے کہا: ‘‘ میں چاہتا ہوں کہ آپ اِس کی قیمت لے لیں۔’’ عیسیٰ بن معقل نے کہا: ‘‘ آپ جو قیمت چاہیں دے دیں۔’’ بکیر بن ماہان نے چار سو درہم دیئے ۔جب یہ سب آزاد ہوئے تو بکیر بن ماہان نے ابو مسلم خراسانی کو ابراہیم کے پاس بھیج دیا ۔ ایک روایت میں ہے کہ بکیر بن ماہان نے ابو مسلم خراسانی کو ‘‘تحریک عباسیہ’’ میں شامل ہونے کی دعوت دی جو اُس نے خوشی سے قبول کر لی ۔
124 ھجری کا اختتام
124 ھجری کے اختتام پر وہی سب گورنر تھے جو پچھلے سال تھے ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال محمد بن علی کا انتقال ہواجو ‘‘تحریک عباسیہ’’ کی دعوت کے روح رواں تھے اور اِس سلسلہ میں لوگ انہی کی طرف رجوع کرتے تھے ۔ محمد بن علی کے انتقال کے بعد اُن کے بیٹے ‘‘ابوالعباس سفاح’’ نے اُن کی جگہ اِس تحریک کی قیادت سنبھال لی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال امام واقدی کے قول کے مطابق محمد بن علی بن عبداﷲ بن عباس کا انتقال ہوا۔ اِس سال کے اختتام پر ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ یوسف بن عمرو تھا ۔ ملک خراسان کا کا گورنر نصر بن سیار تھا۔ ابن شیرمہ ‘‘سیستان’’ کا گورنر تھا۔ملک یمن میں یوسف بن عمرو کا بیٹا گورنر تھا ۔اِس سال کوفہ کے قاضی محمد بن عبدالرحمن تھے ۔ عامر بن عبیدہ بصرہ کے قاضی تھے ۔ مروان بن محمد آذربائیجان اور آرمینیہ کا گورنر تھا ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر محمد بن ہشام بن اسماعیل تھااور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔ اِس سال عبدالعزیز بن حجاج بن عبدالملک نے اپنی بیوی ام سلمہ بنت ہشام بن عبدالملک کے ساتھ حج کا فریضہ ادا کیا۔
124 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان
اِس سا ل جن کو انتقال ہوا اُن میں سے کچھ یہ ہیں۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال قاسم بن ابی برہ کا انتقال ہوا ۔ یہ عبداﷲ بن سائب کے غلام تھے اور جلیل القدر تابعی ہیں۔ انہوں نے ابوطفیل عامر بن واثلہ سے روایات بیان کی ہیں اور خود اِن سے بہت سے تابعین نے روایات بیان کی ہیں اور آئمہ نے اِن کی توثیق کی ہے ۔ اِس سال امام زہری کا انتقال ہوا۔ اِن کانام محمد بن مسلم بن عبیداﷲ بن شباب بن عبداﷲ بن حارث بن زہرہ بن کلاب بن مرہ ہے ۔اِن کی کنیت ابوبکر ہے قریشی اور زہری ہیں۔آئمہ اسلام میں ہمیشہ زبردست حیثیت کے مالک رہے اور جلیل القدر تابعی ہیں ۔امام زہری 85 ھجری میں پیدا ہوئے ۔یہ حضرت سعید بن مسیب کی صحبت میں آٹھ سال رہے ۔ یہ حدیث کے مشائخ کے ارد گرد چکر لگاتے رہتے تھے اور اُن سے سنی ہوئی حدیث اپنے پاس تحریر کر لیتے تھے ۔یہاں تک کہ یہ اپنے عہد کے سب سے بڑے عالم اور اپنے زمانہ کے بہت بڑے علامہ بن گئے تھے ۔امام زہری امیرالمومنین عبدالملک بن مروان کے پاس گئے تو اُس نے ان کی بہت عزت و توقیر کی اور اپنے ہم نشینوں اور مصاحبوں میں شامل کر لیا ۔اس کے بعد ولید بن عبدالملک اور سلیمان بن عبدالملک کے مقربین میں سے رہے ۔آپ کو یہی مرتبہ حضرت عُمر بن عبدالعزیز نے بھی دیا اور یزید بن عبدالملک نے بھی بہت عزت دی ۔اُس نے آپ کو سلیمان بن حبیب کے ساتھ جوائنٹ قاضی بنا دیا اور پھر آپ ملک شام کے ‘‘خطیب’’ بن گئے اور اس کیساتھ ہی انہوں نے حج بھی کیا۔ اِس سال بلال بن سعد کا انتقال ہوا ۔ یہ کبار زاہدوں میں سے ہیں نہایت عبادت گزار اور صائم الدہر تھے ۔اِن کے والد صحابی تھے اور انہوں نے اپنے والد سے روایات بیان کی ہیں ۔اِس کے علاوہ حضرت عبداﷲ بن عمر فاروق اور حضرت ابوالدرداء رضی اﷲ عنہم سے بھی روایات بیان کی ہیں۔ اِن سے تابعین کی ایک جماعت نے روایات بیان کی ہیں جن میں امام اوزاعی بھی ہیں اور ان کا بیان ہے کہ آج تک ان جیسا واعظ کسی کو نہیں دیکھا۔
125 ھجری : ہشام بن عبدالملک کا انتقال
125 ھجری میں ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کے حکمراں ہشام بن عبدالملک کا انتقال ہوگیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ابو العلاء کہتے ہیں کہ ایک روز ہشام بن عبدالملک سواری کے لئے باہر نکلا تو اُس کے چہرے پر اضمہلال کے آثار ہویدا تھے ۔کپڑے بھی ڈھیلے ڈھالے ہو رہے تھے اورگھوڑے کی باگ بھی اُس نے چھوڑ دی تھی ۔ تھوڑی دیر اسی طرح چلنے کے بعد اُسے خیال اور اُس نے اپنے کپڑے ٹھیک کئے اور گھوڑے کی باگ ہاتھ میں لے لی ۔پھر ربیع کو بولا: ‘‘ ابرش کو بلاؤ۔’’ وہ حاضر ہوا اور میرے اور ہشام بن عبدالملک کے درمیان چلتا ہوا بولا: ‘‘ امیرالمومنین! میں آپ کی ایسی حالت دیکھ رہا ہوں جس سے مجھے رنج ہو رہا ہے ۔’’ ہشام بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ کیا بات ہے؟’’ ابرش نے کہا: ‘‘ آپ سواری کے لئے اس طرح باہر تشریف لائے جسے دیکھ کر مجھے رنج ہو رہا ہے ۔’’ ہشام بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ ہاں ابرش! میں غمگین کیوں نہ ہوں جبکہ طبیبوں(اُس زمانے کے ڈاکٹروں)نے کہہ دیا ہے کہ میں تینتیس (۳۳) روز میں مر جاؤں گا۔’’ سالم کہتے ہیں کہ میں نے اپنے مکان میں واپس آکر کاغذ پر لکھ لیا کہ فلاں دن امیرالمومنین نے ایسا کہا ہے ۔ جب وہ رات آئی جس دن تینتیس (۳۳) دن پورے ہونے والے تھے کہ یکایک ایک خادم نے دروازہ پر دستک دی اور کہا: ‘‘ امیرالمومنین یاد فرماتے ہیں اور یہ بھی کہا ہے کہ زہرباد کی دوا اپنے ساتھ لیتے آؤ۔’’ یہ مرض پہلے بھی ایک مرتبہ انہیں ہوچکا تھا مگر علاج سے افاقہ ہوگیا تھا ۔میں دوا لیکر خدمت میں حاضر ہوا ۔انہوں نے دوا سے غرارہ کیا ،اس سے درد میں شدت ہوئی لیکن پھر آرام ہوگیا ۔مجھ سے کہا: ‘‘ اب درد میں سکون ہے تم اپنے گھر جاؤ اور دوا کو میرے پاس چھوڑ دو ۔’’ میں واپس چلا آیا ۔مجھے آئے تھوڑی دیر ہی ہوئی ہوگی کہ امیرالمومنین کا انتقال ہوگیا اور خواتین نے آہ و بکا شروع کردی ۔مرنے کے بعد مہتمم توشہ خانہ نے محل کے تمام دروازے بند کر دیئے ۔اُن کے غسل کے لئے پانی گرم کرنے کے لئے برتن تلاش کیا مگر کوئی نہ ملا ۔ایک ہمسایہ سے عاریتہً لیا گیا ۔اِس پر بعض حاضرین ے کہا: ‘‘ یہ عقلمندوں کے لئے عبرت کا مقام ہے۔زہر باد کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا۔ مسلمہ بن ہشام نے نماز جنازہ پڑھائی۔
ہشام بن عبدالملک کی مدت حکومت
ہشام بن عبدالملک نے لگ بھگ اُنیس سال حکومت کی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ہشام بن عبدالملک کا ایک درباری عقال بن شبہ کہتا ہے کہ میں امیرالمومنین کی خدمت میں حاضر ہواتو دیکھا کہ وہ ایک سبز رنگ کی پوستین کی قبا پہنے ہوئے ہے۔ مجھے اُس نے خراسان جانے کاحکم دیا اور کچھ ہدایتیں کرنے لگا ۔میں اُس کی قبا کو ہی دیکھتا رہا تو ہشام بن عبدالملک تاڑ گیا اور اُس نے پوچھا :‘‘ کیاہے؟’’ میں نے کہا:‘‘ حکومت کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے بھی میں نے آپ کو ایک سبز پوستین کی قبا پہنے دیکھا تھا ۔اب میں یہی غور کر رہا ہوں کہ کیا وہ یہی ہے یا کوئی دوسری ہے؟’’ ہشام بن عبدالملک نے کہا: ‘‘ اُس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے! میرے پاس سوائے اِس قبا کے دوسری کوئی قبا نہیں ہے۔یہ جو تم دیکھتے ہو کہ میں روپیہ جمع کرتا ہوں اور اس کی حفاظت کرتا ہوں تو یہ سب مسلمانوں کی خاطر ہے ۔’’تمام ارباب ِ سیر کا اِس پر اتفاق ہے کہ ہشام بن عبدالملک کی حکومت کی مدت اُنیس سال سات مہینے اور اکیس دن تھی ۔امام مدائنی اور امام ابن کلبی اور امام ابو معشر نے اُنیس سال ساڑھے آٹھ مہینے اور امام واقدی نے اُنیس سال سات مہینے بیان کی ہے ۔ہشام بن عبدالملک کی عُمر میں اختلاف ہے ۔امام ابن کلبی نے پچپن سال اور دوروں نے باون سال بیان کی ہے اور امام محمد بن عمر نے جون سال بیان کی ہے ۔ رفاصہ میں ہشام بن عبدالملک کا انتقال ہوا اور وہیں اُس کی قبر ہے ۔ابو ولید اس کی کنیت ہے ۔
ولید بن یزید کا دورِ حکومت
" ولی عہد" ولید بن یزید
سلیمان بن عبدالملک نے وصیت کی تھی کہ میرے بعد حضرت عُمر بن عبدالعزیز ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کے حکمراں ہوں گے اور اُن کے بعد میرا بھائی یزید بن عبدالملک ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں ہوگا۔ یزید بن عبدالملک جب ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بنا تو اپنے دورِ حکومت کے آخری دنوں میں اپنے بیٹے ولید بن یزید کا ‘‘ولی عہد’’ بنانا چاہا لیکن وہ اُس وقت لگ بھگ گیارہ سال کا تھا اِس لئے یزید بن عبدالملک نے اپنے بھائی ہشام بن عبدالملک کو ‘‘ولی عہد’’ بنایا اور پھر اُس کے بعد اپنے بیٹے ولید بن یزید کو‘‘ولی عہد’’ بنایا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس بات کا ذکر پہلے گزرچکا ہے کہ یزید بن عبدالملک نے اپنے بھائی ہشام بن عبدالملک کو ‘‘ولی عہد’’ مقرر کیا تھا اور اُس کا ‘‘ولی عہد’’ اپنے بیٹے ولید بن یزید کو بنایا تھا ۔جس روز ولید بن یزید کی ‘‘ولی عہدی’’ کی بیعت لی گئی اُس کی عمر گیارہ سال تھی ۔جب ولید بن یزید پندرہ سال کا ہوگیا تو یزید بن عبدالملک اُس کو دیکھ کر افسوس کرنے لگا اور اپنے بیٹے سے کہتا تھا:‘‘ اﷲ میرے اور اُس شخص کے درمیان فیصلہ کرے گا جس نے ہشام بن عبدالملک کو میرے اور تیرے درمیان کر دیا۔’’اس کے کچھ دنوں بعد یزید بن عبدالملک کا انتقال ہوگیا تو اُس کی جگہ ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں ہشام بن عبدالملک بنا اور اُس نے اُنیس سال حکومت کی ۔اُس کے انتقال کے وقت ولید بن عبدالملک کی عُمر لگ بھگ چونتیس سال تھی ۔
ولید بن یزید میں خرابیاں
ہشام بن عبدالملک کے دور ِ حکومت میں اُس کے ‘‘ولی عہد’’ ولید بن یزید میں بہت سی خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ہشام بن عبدالملک جب ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بنا تو وہ ولید بن یزید کی بہت عزت و تکریم کرتا تھا اور عرصہ تک دونوں کے تعلقات اِسی قسم کے رہے ۔ پھر ولید بن یزید نے شراب پینا شروع کردیا تھا اور واہی تباہی باتیں کرنے لگا تھا ۔ اِن چیزوں کی عادت اُسے اُس کے اتالیق (استاد) عبدالصمد بن عبدالاعلیٰ شیبانی نے لگائی ۔ ولید نے اپنے خوشامدی دوست بھی پال لئے تھے ۔ہشام بن عبدالملک نے اُن لوگوں کو اس سے علیحدہ کرنے کی خاطر ولید بن یزید کو ‘‘امیر حج’’ بنا کر بھیجا تھا لیکن وہاں بھی وہ شراب لیکر گیا ۔ یہ اپنے ساتھ صندوقوں میں کتے بھی لے گیا تھا اور ایک صندوق جس میں کتا تھا اُتارنے چڑھانے میں گر گیا تو ولید بن یزید کے خادموں نے اونٹ والے کو کوڑوں سے سخت مار ماری۔۔ولید بن یزید اپنے ساتھ خانۂ کعبہ کے برابر ایک شامیانہ بھی بنوا کر لے گیا تھا اور شراب بھی اُس کے ساتھ تھی۔ اُس کا ارادہ یہ تھا کہ خانۂ کعبہ پر شامیانہ نصب کر کے اُس پر مجلس گرم ہو مگر اس ارادہ سے اُس کے ساتھیوں نے ڈرا کر باز رکھا اور کہا: ‘‘ اگر ایسا کیا گیا تو ہمیں مسلمانوں کی جانب سے اپنی اور آپ کی جان کا خطرہ ہے ۔’’ اِس وجہ سے ولید بن یزید نے شامیانہ کو ہاتھ نہیں لگایا۔
مسلمہ بن ہشام کو ‘‘ولی عہد’’ بنانے کا ارادہ
امیر المومنین ہشام بن عبدالملک نے جب ولید بن یزید میں یہ خرابیاں دیکھی تو اُس کا ارادہ ہوا کہ اپنے بیٹے مسلمہ بن ہشام کو ‘‘ولی عہد’’ بنائے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب یہ بات عام ہوگئی کہ ولید بن یزید مذہب کی توہین کرتا ہے اور مذاق اُڑاتا ہے اور ہشام بن عبدالملک کو بھی اِس شہرت کی اطلاع ہوئی تو اُس نے ارادہ کیا کہ اُسے ‘‘ولی عہدی’’ سے ہٹا دے اور اُس کے بجائے اپنے بیٹے مسلمہ بن ہشام کے لئے بیعت لے لے ۔ہشام بن عبدالملک نے ولید بن یزید سے اپنی خواہش ظاہر کیاور کہا کہ وہ خود اپنے حق سے دست بردار ہوجائے لیکن ولید بن یزید انکار کر دیا ۔ اِس کے بعد سے ہشام بن عبدالملک کا رویہ اُس سے بدل گیا اور وہ ولید بن یزید کو تکلیف پہنچانے لگا اور خفیہ طور سے اپنے بیٹے کے لئے بیعت لینے کی کاروائی کر نے لگا ۔ بعض لوگوں نے اِس بات کو منظور بھی کر لیا تھا ۔ ولید بن یزید کی وہی حالت رہی اور وہ شراب اور نشاط میں مست رہتا تھا ۔ہشام بن عبدالملک نے ایک دن اُسے کہا :‘‘ میں نہیں جانتا کہ تم مذہب اسلام پر ہو یا نہیں ؟ کوئی برائی ایسی نہیں ہے جسے تم نہایت ڈھٹائی سے علانیہ نہ کرتے ہو۔ ’’ اِس پر ولید بن یزید نے کہا: ‘‘ جو شخص ہمارے مذہب کو پوچھتا ہے اُسے معلوم ہونا چاہیئے کہ ہم ابو شکر کے مذہب پر ہیں ۔ہم نری شراب پیتے ہیں اور کبھی کبھی اِس میں گرم یا نیم گرم پانی ملا کر پیتے ہیں۔’’ابو شاکر مسلمہ بن ہشام کی کنیت تھی ۔ ہشام بن عبدالملک اپنے بیٹے پر بہت خفا ہوا اور بولا: ‘‘ تمہاری وجہ سے ولید بن یزید نے مجھ پر طنز کیا ہے جبکہ میں تجھے حکومت کے لئے تیار کر رہا ہوں ۔اپنی عادت درست کرو اور ہمیشہ نماز جماعت کے ساتھ پڑھو۔’’
ولید بن یزید کو خوش خبری
ولید بن یزید کے ساتھ امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک کا رویہ بہت ہی خراب ہو گیا تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ہشام بن عبدالملک اِس کے بعد ہر وقت ولید بن یزید کی برائی اور تنقیص کرتا رہتا تھا اور اب تو اُس کی اور اُسکے دوستوں کی اہانت بھی کرنے لگا تھا اور اُس کے منصب میں بھی کمی کر دی تھی ۔جب ولید بن یزید نے یہ رنگ دیکھا تو وہ اپنے خاص لوگوں اور دوستوں کو لیکر دارالخلافہ چھوڑ دیا اور مقام ‘‘ارزق’’ میں بلقین اور قزارہ کے درمیان ‘‘اغذف’’ نام کے چشمہ پر مقیم ہوگیا۔ اور ایک آزاد غلام کو امیر المومنین کے پاس چھوڑ آیا تاکہ جو نئی بات پیش آئے تو اس کی اطلاع ملتی رہے ۔جب ہشام بن عبدالملک کا انتقال ہوا تو ولید بن یزید وہیں مقیم تھا ۔صبح اُس نے منذر بن ابی عمرو کو بلوایا اور کہا: ‘‘ جب سے میں ہوش سنبھالا ہے اتنی طویل کوئی رات مجھ پر نہیں گذری ہے جیسی کل کی رات تھی ۔ چلو ذرا ہوا خوری کر آئیں۔’’ دونوں سوار ہو کر سیر کے لئے چلے اور دو میل چل کر ولید ایک ریت کے ٹیلے پر جا کر کھڑا ہوگیا اور ہشام بن عبدالملک کی شکایت کرنے لگا ۔ اتنے میں ایک غبار پر نظر پڑی ۔ولید بن یزید نے کہا: ‘‘ یہ ضرور ہشام بن عبدالملک کے قاصد آ رہے ہوں گے اﷲ خیر کرے۔’’ دو شخص ڈاک کے گھوڑوں پر سوار سامنے آئے اور آکر ولید بن یزید کو حکمراں والا سلام کہا۔ ولید بن یزید نیچے دیکھتے ہوئے خاموش کھڑا تھا ۔انہوں نے پھر اُسے حکمراں والا سلام کہا تو ولید بن یزید نے کہا: ‘‘ کیا ہشام بن عبدالملک مر گیا ہے؟’’ ایک نے کہا: ‘‘ ہاں ۔’’ اور ایک خط دیا ۔ ولید بن یزید نے پوچھا:‘‘ یہ کس کا خط ہے؟’’ اُس نے جواب دیا : ‘‘ آپ کے غلام کا۔’’ ولید بن یزید نے خط پڑھا اور واپس آگیا ۔
ولید بن یزید ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں
ولید بن یزیددمشق آکر ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا حکمراں بن گیا اور اُس نے حکومت کا انتظام سنبھال لیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ولید بن یزید نے عباس بن ولید بن عبدالملک کو حکم بھیجا کہ تم ‘‘رصافہ’’ ( جہاں ہشام بن عبدالملک کا انتقا ل ہواتھا)جا کر وہاں ہشام بن عبدالملک کا جس قدر مال و متاع ہو اُسے اپنے قبضہ میں لے لو اور اس کی اولاد ،عہدیدار اور ملازمین کو گرفتار کر لولیکن مسلم بن ہشام سے کوئی تعارض نہیں کرنا اور نہ اُس کے محل سرا میں گھسنا کیونکہ وہ میرے لئے اکثر اپنے باپ سے لڑتا تھا ۔عباس بن ولید نے آکر حکم کی تعمیل کی ۔ولید بن یزید نے اپنے عہدیدار مقرر کئے اور اطراف و اکناف سے اُس کے حکمراں بننے کی اور بیعت کی خبریں موصومل ہوئیں۔گورنروں نے بھی اطاعت کے خطوط لکھے اور وفود بھی آئے ۔
ولید بن یزید کے انتظامات
سلطنت اُمیہ کا حکمراں بننے کے بعد ولید بن یزید نے انتظامات کئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ولید بن یزید نے حکمراں بنتے ہی شامیوں میں جس قدر اپاہج اور نابینا تھے اُن کے وظائف مقرر کر دیئے اور انہیں لباس بھی دیا اور ہر معذور کے لئے ایک خادم مقرر کر دیا ۔ لوگوں کے خاندانوں کے لئے سرکاری توشہ خانہ سے تحائف اور لباس نکلوا کر اس سے زیادہ دیئے جتنا ہشام بن عبدالملک دیا کرتا تھا ۔اہل شام کی تنخواہوں میں دس کا اضافہ کیا اور اس کے خاندان والے جو اُس کے پاس آئے ان کے مناصب میں ڈبل اضافہ کیا ۔ولید بن یزید جب ولی عہد تھا تو اُس کا دستور تھا کہ موسم گرما کے مجاہدین جب واپس آتے تھے تو اُن کی دعوت کرتا تھا ۔اِسی طرح حاجیوں کی واپسی پر تین دنوں تک اُن کی دعوت کرتا تھا اور اُن کی سواریوں کو بھی کھلاتا تھا ۔ حکمراں بننے کے بعد بھی اُس کا وہی رویہ رہا بلکہ اُن میں اور اضافہ کردیا۔
حکم بن ولید اور عثمان بن ولید کی ‘‘ولی عہدی’’
اِس سال ولید بن یزید نے اپنا ‘‘ولی عہد’’ مقرر کر دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں اِس سال ولید بن یزید نے اپنے بیٹوں حکم بن ولی د اور عثمان بن ولید کو اپنا ‘‘ولی عہد’’مقرر کر دیا ۔ حکم بن ولید کو پہلے رکھا اور عثمان بن ولید کو اُس کے بعد رکھا ۔ اِس کے لئے اعیان و اکابر سے حلف اطاعت لیا اور تمام صوبوں کے گورنروں کو بھی اطلاع بھیج دی۔ اِن میں ملک عراق کا گورنر یوسف بن عمرو بھی تھا اور اُس نے نصر بن سیار کو بھی ‘‘ولی عہد’’ کے بارے میں لکھا: امیرالمومنین ولید بن یزید نے اپنے بیٹوں حکم بن ولید اور عثمان بن ولید کو ‘‘ولی عہد’’ بنایا ہے ۔ تم خراسان کے لوگوں سے ان کے بارے میں بیعت لو۔’’
یوسف بن محمد مدینۂ منورہ کا گورنر
اِس سال ولید بن یزید نے مدینۂ منورہ کے گورنر محمد بن ہشام بن اسماعیل کو معزول کر دیا اور یوسف بن محمد کو مدینۂ منورہ کا گورنر بنا دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 125 ھجری میں ولید بن یزید نے اپنے ماموں یوسف بن محمدبن یوسف ثقفی کو مدینۂ منورہ ، مکۂ مکرمہ اور طائف کا گورنر مقرر کر کے بھیجا اور ابراہیم بن ہشام بن اسماعیل اور محمد بن ہشام بن اسماعیل کو دو اونی عباؤں میں جکڑ بند کر کے اُس کے حوالے کیا ۔یوسف بن محمد نے دونوں کی مدینۂ منورہ میں تشہیر کی ۔پھر اُسے ولید بن یزید نے لکھا کہ ان دونوں کو ملک عراق کے گورنریوسف بن عمرو کے پاس بھیج دو ۔ جب یہ دونوں اُس کے پاس پہنچے تو اُس سے انہیں طرح طرح کی تکلیف دینا شروع کر دی اور اسی طرح آخر انہیں مار ڈالا۔اِن کے خلاف ولید بن یزید سے شکایت کی گئی تھی کہ انہوں نے بہت سا سرکاری روپیہ غبن کر لیا ہے ۔ اِس سال یوسف بن محمد نے سعد بن ابراہیم کو مدینۂ منورہ کے قاضی کے عہدہ سے برطرف کر دیا اور اُن کی جگہ یحییٰ بن سعید انصاری کو قاضی مقرر کیا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں