62 سلطنت امیہ
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 62
اس پوسٹ کی خاص باتیں
زید بن علی قادسیہ میں، داؤد بن علی نے سمجھایا، زید بن علی کی تیاری، زید بن علی کی شرائط، نصر بن سیار کی ترکوں سے جنگ، 121 ھجری کا اختتام، 121 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 122 ھجری: اہل کوفہ نے دھوکہ دیا، زید بن علی کا انتقال، اہل کوفہ کی تذلیل، 122 ھجری کا اختتام، 122 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان، 123 ھجری : ترکوں میں اختلاف و انتشار، اہل سغد کو آسانیاں، یوسف بن عمرو کی درخواست کو نا منظور کر دیا، 123 ھجری کا اختتام، 123 ھجری :محمد بن واسع کا انتقال
زید بن علی قادسیہ میں
ملک عراق کے گورنر یوسف بن عمرو نے زید بن علی پر کوفہ چھوڑنے کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اب زید بن علی کے حامیان اُن کے پاس آنے لگے اور انہیں خروج (بغاوت) کا مشورہ دینے لگے اور کہتے تھے :‘‘ ہمیں توقع ہے کہ آپ ضرور کامیاب و منصور ہوں گے اور یہ وہی زمانہ ہوگا جس میں ‘‘بنو اُمیہ’’ ہلاک ہو جائیں گے ۔’’ زید بن علی کوفہ میں رہے اور یوسف بن عمرو انہیں بار بار کوفہ چھوڑنے پر مجبور کرتا رہا ۔ آخر کاجب انہوں نے دیکھا کہ یوسف بن عمرو کسی طرح پیچھا نہیں چھوڑ رہا ہے تو انہوں نے روانگی کا تہیہ کر لیا اور کوفہ سے چل کر قادسیہ آگئے ۔اُن کے حامی اُن کے پاس پہنچے اور کہنے لگے :‘‘ آپ ہمیں چھوڑ کر کہاں جارہے ہیں؟ آپ کے ساتھ کوفہ کے ایک لاکھ جواں مرد تلوار لئے موجود ہیں جو آپ کے لئے صبح شام جنگ میں اپنی جانیں قربان کر دیں گے اور آپ کے مقابل شامیوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے ۔بلکہ ہماری طرف سے صرف قبیلہ بنومذحج یابنو ہمدان یابنو تمیم یا بنوبکر میں سے ایک ہی اُن سے مقابلہ کرے گا تو اﷲ کے حکم سے وہ اُن کے لئے کافی ہو گا ۔ہم آپ کا اﷲ کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپ واپس نہ جائیں۔’’
داؤد بن علی نے سمجھایا
اہل کوفہ زید بن علی کو ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کے خلاف بغاوت کے لئے اُکساتے رہے لیکن اُن کے بھائی داؤد بن علی نے سمجھایا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : داؤد بن علی نے اُن سے کہا: ‘‘ بھائی! یہ آپ کو دھوکہ دے کر آپ کی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔کیا انہوں نے اُن حضرات کا ساتھ نہیں چھوڑا جو آپ کے مقابلہ میں اُن کے نزدیک زیادہ معزز اور مکرم تھے؟ آپ کے پر دادا خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا واقعہ سامنے ہے کہ وہ شہید کر ڈالے گئے ۔ اُن کے بعد حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر انہوں نے بیعت کی مگر انہیں کے اوپر چڑھ دوڑے اور اُن کے خیمہ گاہ کو لوٹ لیا اور چادر تک چھین لی اور انہیں زخمی بھی کیا۔ کیا یہی وہ لوگ نہیں ہیں جنہوں نے آپ کے دادا حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو مدینۂ منورہ سے بلوایا اور اُن کا ساتھ دینے اور حمایت کرنے کی سخت سے سخت قسمیں کھائیں ۔مگر پھر انہی لوگوں نے اُن کا ساتھ چھوڑ کر انہیں دشمن کے حوالے کر دیااور صرف اِسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہیں بھی شہید کر کے چھوڑا۔ آپ ہر گز ہر گز اِن کی درخواست قبول نہ کریں اور اِن کے ساتھ کوفہ واپس نہ جائیں۔’’ اِس کے جواب میں کوفیوں نے کہا: ‘‘ یہ رشک اور حسد کی وجہ سے ایسا کہہ رہے ہیں ۔’’
زید بن علی کی تیاری
زید بن علی کو اہل کوفہ مسلسل بغاوت پر اُکساتے رہے اور آخر کار آپ نے اُن پر بھروسہ کر لیا اور کوفہ آگئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : زید بن علی نے جب کوفہ آنے کا ارادہ کیا تو محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب نے انہیں اﷲ کا واسطہ دیکر اپنے وطن واپس چلنے کے لئے کہااور کہا: ‘‘ آپ ہرگز اِن دعوت دینے والوں میں سے کسی کی بات منظور نہ کریں کیونکہ یہ ہرگز وفادار نہیں رہیں گے ۔’’ مگر زید بن علی نے اُن کی ایک نہیں سنی اور کوفہ چلے آئے ۔ اُن کے آنے کے بعد اُن کے حامی اُن کے پاس آنے جانے لگے اور بیعت کرنے لگے ۔اُن کے رجسٹر پر پندرہ ہزار بیعت کرنے والوں کے نام لکھے گئے ۔ زید بن علی کوفہ میں چند مہینے مقیم رہے اور اِس دوران انہوں نے دو مہینہ بصرہ میں گذارے اور پھر کوفہ آگئے اور یہاں سے انہوں نے علاقہ ‘‘سواد’’ اور اہل موصل کے پاس اپنی بیعت کے لئے قاصدوں کو روانہ کیا ۔
زید بن علی کی شرائط
جب زید بن علی بیعت لیتے تو کہتے :‘‘ میں تمہیں اﷲ کی کتاب اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے ، ظاموں سے جہاد کرنے، کمزوروں کی مدافعت کرے ، محرومین کو اُن کا حق عطا کرنے ، سرکاری مال کی مساویانہ تقسیم کرنے ، مظالم کا رد کرنے ، جبر و زبردستی کو روکنے ،اہل بیت کی امداد کرنے اور جو لوگ ہمارے مخالف ہیں اور جنہوں نے ہمیں دیدہ دانستہ بھلا دیا اُن سے لڑنے کی تمہیں دعوت دیتا ہوں ۔کیا تم اِن شرائط پر بیعت کرتے ہو؟’’ اگر وہ قرار کر لیتا تو اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ پر رکھ دیتے اور پھر کہتے: ‘‘ اب تم پر اﷲ کا عہد و میثاق اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذمہ داری ہے کہ تم میری بیعت کو پورا کرو گے اور میرے دشمن سے لڑو گے اور ظاہر و باطن میں میرے خیر خواہ رہو گے ۔’’ اگر وہ اِن باتوں کا اقرار کر لیتے تو پھر آپ اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ پر کھ دیتے اور کہتے : ‘‘ اے اﷲ! تُو گواہ رہنا۔’’ چند مہینے یہی ہوتا رہا اور اِس دوران 121 ھجری ختم ہوگیا ۔
نصر بن سیار کی ترکوں سے جنگ
اِس سال ملک خراسان کے گورنر نصر بن سیار نے ترکوں سے جنگ کی اور فتح حاصل کی ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 121 ھجری میں نصر بن سیار نے جو ملک خراسان کا گورنر تھا ترکوں کے علاقہ میں جنگ کا آغاز کیا ۔ اور اُن کے بادشاہ ‘‘کورصول’’ کو کئی جنگوں کے بعد قید کرلیا ۔کورصول نصر بن سیار کو نہیں پہچانتا تھا ۔ جب اُسے معلوم ہوا کہ یہ خراسان کا گورنر ہے تو اُس نے نصر بن سیار کو ایک ہزار سالانہ نجاتی اور ایک ہزار برذون اونٹوں کے عوض صلح کی پیشکش کی ۔ یہ بوڑھا شخص تھا اِس لئے نصر بن سیار نے اِس کے بارے میں اپنے سرداروں سے مشورہ کیا ۔کسی نے کہاکہ رہا کر دیا جائے اور کسی نے کیا کہ قتل کر دیا جائے ۔اِس کے بعد اُس نے کورصول سے پوچھا :‘‘ تم کتنی جنگیں لڑ چکے ہو؟’’ اُس نے جواب دیا :‘‘ ستر یا بہتر جنگیں لڑ چکا ہوں ۔’’ اِس پر نصر بن سیار نے کہا: ‘‘ تم جیسے آدمی کو چھوڑا نہیں جا سکتا ۔’’ پھر اُسے قتل کرنے کا حکم دے دیا جس کی تعمیل ہوئی اور اُسے پھانسی دے دی گئی ۔ جب یہ خبر ترکوں کے لشکر کو ملی تو وہ ساری رات جاگ کر ماتم کرتے رہے ۔انہوں نے اپنی داڑھیاں کاٹ ڈالیں اور اپنے کان کاٹ لئے اور اپنے خیموں کو پھاڑ ڈالااور بہت سے مویشی مار ڈالے ۔ جب صبح ہوئی تو نصر بن سیار نے کورصول کی لاش کو جلا ڈالنے کا حکم دے دیا تاکہ وہ لوگ اس کی لاش کو حاصل نہ کرسکیں اور یہ شکست خوردہ ترکوں کو لئے اور بھی شاق گزرا لیکن وہ خاسر و ناکام ہو کر واپس چلے گئے۔ اس کے کئی مہینوں بعد پھر سے نصر بن سیار نے ترکوں پر حملہ کیا اور بہت سے لوگوں کو قتل کر ڈالا اور بہت سے لوگوں کو قیدی بنا لیا ۔
121 ھجری کا اختتام
121 ھجری کے اختتام پر یوسف بن عمرو ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ تھا ۔ ملک خراسان کا گورنر نصر بن سیار تھا ۔ عامر بن عبیدہ بصرہ کے قاضی تھے اور ابن شرمہ کوفہ کے قاضی تھے ۔ مروان بن محمد آذربائیجان اور آرمینیہ کا گورنر تھا ۔ ملک یمن کا گورنر یوسف بن عمرو کا بیٹا تھا ۔مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر محمد بن ہشام بن اسماعیل تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔
121 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان
اِس سال 121 ھجری جن کا انتقال ہوا اُن میں سے کچھ یہ ہیں۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال مسلمہ بن عبدالملک بن مروان بن حکم کا انتقال ہوا ۔ اِس نے اپنی زندگی میں ‘‘سلطنت روم’’ سے کئی جنگیں لڑیں اور قسطنطنیہ تک بھی گیا ۔ اسے اِس کے بھائی یزید بن عبدالملک نے ملک عراق کا گورنر بنایا تھا لیکن پھر معزول کر کے آرمینیہ کا گورنر بنا دیا تھا ۔اِس نے سلطنت روم کے اکثر و بیشتر قلعے فتح کر لئے اور ۹۸ ھجری میں اِس نے ‘‘قسطنطنیہ’’ کا محاصرہ بھی کیا تھا ۔ اِس سال نمیر بن قیس کا انتقال ہوا ۔ یہ جلیل القدر تابعی اور دمشق کے قاضی تھے ۔انہوں نے حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہم سے مرسلاً روایات بیان کی ہیں اور اِن سے بہت سے تابعین نے احادیث بیان کی ہیں۔ جن میں امام اوزاعی وغیرہ شامل ہیں ۔اِن کو ہشام بن عبدالملک نے دمشق کا قاضی بنایا تھا ۔
122 ھجری: اہل کوفہ نے دھوکہ دیا
122 ھجری میں زید بن علی کوبھی ہمیشہ کی طرح اہل کوفہ نے دھوکہ دیا جیسے اُن کے آباء و اجداد کو دھوکا دیا تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: زید بن علی نے اپنے خروج کا اعلان کیا تو اہل کوفہ نے آپ سے خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے انہیں بتایا کہ وہ دونوں ‘‘خلیفۂ برحق’’ ہیں ۔یہ سن کر اہل کوفہ نے کہا: ‘‘ جب وہ دونوں حق پر تھے تو ‘‘بنو اُمیہ’’ بھی حق پر ہیں اور ہم آپ کے لئے اُن سے نہیں لڑیں گے ۔زید بن علی نے کہا: ‘‘ نہیں ایسی بات نہیں ہے اور ‘‘بنو اُمیہ’’ اُن دونوں جیسے نہیں ہیں ۔ یہ لوگ ظالم ہیں اور صرف میرے لئے نہیں بلکہ آپ سب کے لئے بھی ظالم ہیں۔میں آپ کو اﷲ کی کتاب اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت کی طرف بلا رہا ہوں تاکہ سنت کا احیاء ہو اور بدعات مٹائی جاسکیں ۔ لیکن اہل کوفہ نے انکار کر دیا اور آپ کی بیعت توڑ دی اور کہنے لگے :‘‘ یہ امام سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں ۔’’ یہ لوگ زید بن علی کے بھائی ابو جعفر محمد بن علی کو اصل امام مانتے تھے ۔اُن کا انتقال ہوچکا تھا اور اُن کے بیٹے جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب زندہ تھے ۔اہل کوفہ نے کہا کہ جعفر بن محمد بن علی ہی ہمارے امام ہیں اور ہم زید بن علی کا ساتھ نہیں دیں گے کیونکہ وہ امام نہیں ہیں ۔
زید بن علی کا انتقال
اہل کوفہ کی اکثریت نے زید بن علی کو دھوکا دیا اور اُن سے الگ ہوگئے اور بہت کم اُن کے ساتھ رہ گئے ۔انہوں نے ان کے ساتھ ہی خروج کرنے کا حکم دے دیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس کے بعد زید بن علی نے خروج کے لئے اپنے بقیہ ساتھیوں کے ساتھ ماہ صفر المظفر 122 ھجری کی تاریخ طے کردی ۔ یہ بات یوسف بن عمرو تک پہنچ گئی اور اُس نے کوفہ کے گورنر کو حکم دیا کہ اِس تاریخ سے ایک دن پہلے تمام اہل کوفہ کو جامع مسجد میں جمع ہونے کا حکم دو ۔ خروج سے ایک دن پہلے تمام اہل کوفہ جامع مسجد میں جمع ہو گئے ۔ زید بن علی نے سخت سردی اور سرمائی کیفیت میں خروج کا اغاز کیا اور اُن کے ساتھی مشعلیں اُٹھائے ہوئے تھے اور ‘‘یا منصور ، یامنصور’’ کے نعرے لگا رہے تھے ۔ جب صبح ہوئی تو زید بن علی کے پاس صرف دو سو اٹھارہ (218) آدمی باقی رہ گئے تھے ۔ یہ دیکھ کر زید بن علی نے کہا: ‘‘ سبحان اﷲ! باقی لوگ کہاں ہیں؟ ’’ انہیں جواب ملا : ‘‘ سب مسجد میں محصور ہیں۔’’ اِسی دوران حکم بن صلت نے یوسف بن عمرو کو خروج کی اطلاع دے دی تھی اور اُس نے ایک فوجی دستہ بھیج دیا تھا ۔کوفہ کے گورنر کے ساتھ ایک بہت بڑا لشکر تھا اور خود یوسف بن عمرو بھی لشکر لیکر آچکا تھا ۔ جن میں پانچ پانچ سو سوار فوجی بھی تھے ۔زید بن علی اپنے دو سو ساتھیوں کے ساتھ ان تینوں لشکروں سے بھڑ گئے اور جس طر ف بھی یہ سب حملہ کرتے تھے تو صف کی صف اُلٹ دیتے تھے ۔زید بن علی اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملکر مقابلہ کر رہے تھے اور ساتھیوں کی حوصلہ افزائی بھی کر رہے تھے ۔ پورا دن مقابلہ ہوتا رہا اور جب رات ہو گئی تو مقابلہ بند کر دیا گیا ۔ اگلی صبح پھر مقابلہ شروع ہوا اور اِس میں شامیوں نے بھر پور حصہ لیا اور زید بن علی کے ستر ساتھیوں کو قتل کردیا اور رات کو زید بن علی کے ساتھی بہت بری حالت میں واپس آئے ۔ اگلے دن صبح زید بن علی کے ساتھیوں نے یوسف بن عمرو کی فوج پر اتنا ززبردست حملہ کیا کہ وہ سب پیچھے ہٹ کا دلدلی زمین کی طرف چلے گئے اور بنو سلم کے پاس جا کر پناہ لی ۔ اِس کے بعد زید بن علی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اُن کا تعاقب کیا اور تھوڑی دور جانے کے بعد سخت مقابلہ ہوا اور اِس مقابلے میں ایک تیر آکر زید بن علی کی پیشانی کے بائیں جانب لگا اور دماغ میں اُتر گیا ۔ اِس کے بعد زید بن علی کے ساتھی اُن کو لیکر پیچھے ہٹ گئے ۔ طبیب کو بلا کر بتایا گیا جس نے وہ تیر اُن کے دماغ سے نکالا لیکن جیسے ہی تیر نکالا ویسے ہی اُن کی موت واقع ہو گئی ۔
اہل کوفہ کی تذلیل
زید بن علی کے معاملے سے نمٹنے کے بعد یوسف بن عمرو کوفہ آیا اور اُس وقت تمام اہل کوفہ جامع مسجد میں محصور تھے ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: جب یوسف بن عمرو نے زید بن علی کو قتل کردیا تو کوفہ آیا اور منبر پر چڑھا اور تقریر کی :‘‘ اے ناپاک شہر کے باشندو! یاد رکھو کہ مجھے کوئی مشکل پیش نہیں آتی اور نہ ہی میں کسی بات کی پرواہ کرتا ہوں اور نہ ہی میں بھیڑیئے سے ڈرایا جاتا ہوں۔اﷲ تعالیٰ نے مجھے ایک قوی بازو دیا ہے ۔ اے اہل کوفہ! تمہیں تمہاری توہین و تذلیل کی خوش خبری دیتا ہوں ۔ اب ہم تمہارے مناصب اور روزینے نہیں دیں گے ۔ میں نے تو ارادہ کیا تھا کہ تمہارے مکانات کو تباہ و برباد کر دوں اور تمہارے مال و متاع کو لوٹ لوں ۔اﷲ کی قسم! میں منبر پر چڑھ کر تمہیں ایسی باتیں سنا رہا ہوں جسے تم ناپسند کرتے ہو لیکن اِس کے تم ہی ذمہ دار ہو ۔اِس لئے کہ تم ہمیشہ بغاوت اور مخالفت پیدا کرتے رہتے ہوسوائے حکیم بن شریک کے تم میں کوئی ایسا نہیں ہے جو اﷲ اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم سے نہ لڑا ہو۔ میں نے امیر المومنین سے تمہارے بارے میں دریافت کیا ہے اگر مجھے اجازت مل گئی تو میں تمہارے تمام جنگجو مردوں کا قتل کر ڈالوں گا اور تمہارے بیوی بچوں کو غلام بنا لوں گا ۔ ’’
122 ھجری کا اختتام
122 ھجری کے اختتام پر ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ یوسف بن عمرو تھا ۔ ملک خراسان کا نصر بن سیار تھا ۔ یوسف بن عُمر نے ابن شیرمہ کو ‘‘سیستان’’ کا گورنر مقرر کر کے بھیجا ۔ملک یمن میں یوسف بن عمروکا بیٹا گورنر تھا ۔ اِس سال فضل بن صالح اور محمد بن ابراہیم بن محمد بن علی پیدا ہوئے ۔اِس سال کوفہ کے قاضی محمد بن عبدالرحمن تھے ۔ عامر بن عبیدہ بصرہ کے قاضی تھے ۔ مروان بن محمد آذربائیجان اور آرمینیہ کا گورنر تھا ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر محمد بن ہشام بن اسماعیل تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔اِس سال کلثوم بن عیاض قشیری جسے ہشام بن عبدالملک نے بربروں کی بغاوت کے موقع پر سوراوں کے ساتھ افریقہ بھیجا تھا شہید ہوگیا ۔
122 ھجری میں انتقال کرنے والے اعیان
اِس سال جن کا انتقال ہوااُن میں سے چند یہ ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال عبداﷲ البطال مسلمانوں کے ایک لشکر کے ساتھ ‘‘سلطنت روم’’کے علاقے میں رومیوں سے لڑتے ہوئے شہید ہو گیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال عبداﷲ ابو یحییٰ المعروف بابطال شہید ہوئے ۔یہ انطاکیہ کے باشندے تھے ۔ جب عبدالملک بن مروان نے اپنے بیٹے مسلمہ بن عبدالملک ‘‘سلطنت روم’’
پر حملہ کرنے کے لئے بھیجنے کا ارادہ کیا تو اُس نے اہل جزیرہ کا گورنر بطال کو بنایا اور اپنے بیٹے کو حکم دیا :‘‘ بطال کو ‘‘مقدمۃ الجیش’’ (ہراول) کا کمانڈر بنانااور اُس حکم دینا کہ لشکر رات کو لیکر چلا کرے اور اُس کا کہنا مانتے رہنا ۔ کیونکہ بطال نہایت شجاع ، امین اور مقبر آدمی ہے ۔’’جب مسلمہ بن عبدالملک کا لشکر روانہ ہوا تو عبدالملک بن مروان نے ‘‘باب دمشق’’ تک مشایعت کی ۔ مسلمہ بن عبدالملک دس ہزار کا لشکر لیکر بطال کے پاس پہنچا ۔محمد بن عائذ دمشقی نے شیخ انطاکیہ ابو مروان کے حوالہ سے کہا ہے :‘‘ میں نے بطال کے ساتھ اُس وقت بڑی بڑی جنگوں میں حصہ لیا ہے ۔’’ سلطنت روم کے شہروں کو بطال نے روند ڈالا تھا اور مسلسل بیس سال سے زیادہ عرصے تک اُن سے جنگ کرتا رہا ۔ اِس سال ایاس ذکی کا انتقال ہوا۔ اِن کا نسب خلیفہ بن کیاط کے مطابق یہ ہے ۔ ایسا بن معاویہ بن مرہ بن ایاس بن حلال بن رباب ……بن عدنان۔یہ بصرہ کے قاضی تھے اور اِن کے دادا صحابی تھے ۔یہ اپنی ذکاوت و زہانت کے لئے اپنے ہم عصروں میں بہت مشہور تھے۔انہوں نے اپنے والد سے کچھ روایات مرفوعاً بیان کی ہیں ۔اِن کے بارے میں محمد بن سیرین کا کہنا ہے :‘‘ یہ نہایت فہیم و عقیل ہیں ۔’’ محمد بن سعد عجلی ،ابن معین اور نسائی نے بھی اِن کو ثقہ کہا ہے ۔
123 ھجری : ترکوں میں اختلاف و انتشار
لگ بھگ دو یا تین سال پہلے ملک خراسان کے گورنر اسد بن عبداﷲ نے ترکوں کے سب سے بڑے بادشاہ ‘‘خاقان’’ کو قتل کردیا تھا ۔ اُس کے بعد ترک اپنا خاقان کسی کو نہیں بنا سکے اور ترک مملکت چھوٹے چھوٹے ملکوں میں تقسیم ہوگئی اور ترک اختلاف و انتشار کا شکار ہو کر آپس میں ہی لڑنے لگے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : جب ترکوں کا سب سے بڑے بادشاہ خاقان کو اسد بن عبداﷲ قسری نے اپنی خراسان کی گورنری کے دوران قتل کردیا تھا تو ترکوں کا شیرازہ بکھر گیا ۔وہ ایک دوسرے کو غیرت و حمیت دلاتے رہے لیکن کسی کی ہمت نہیں پڑی کہ مسلمانوں سے مقابلے کے لئے فوج لیکر جاتا ۔پھر کچھ عرصے بعد ایسا ہوگیا کہ وہ آپس میں ہی ایکدوسرے سے لڑنے لگے اور ایکدوسرے کو قتل کرنا شروع کردیا اور پھر اپنے ہی ملک کی تخریب کاری میں لگ گئے اور مسلمانوں کی طرف سے لاپرواہ اور بے نیاز ہو گئے ۔
اہل سغد کو آسانیاں
مسلمانوں نے اہل سغد کو ذمی بنا کر اپنی نگرانی میں رکھا ہوا تھا اور اُن میں سے بہت سے لوگوں نے اسلام بھی قبول کر لیا تھا ۔ انہوں نے ملک خراسان کے گورنر نصر بن سیار سے گذارش کی کہ انہیں اُن کے علاقے میں جانے دیا جائے اور مسلمانوں کی طرح انہیں بھی سہولیات مہیا کرائی جائیں ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اہل سغد نے خراسان کے گورنر نصر بن سیار سے درخواست کی کہ اُن کو اُن کے علاقے میں واپس بھیج دیا جائے اور اُن سے بعض ایسی شرائط طے کریں جو علماء کو قابل قبول نہیں تھیں ۔مثلاً یہ کہ اگر کوئی مرتد ہو جائے تو اُس کو سزا نہیں دی جائے اور اُن کو جنگی قیدی نہیں بنایا جائے وغیرہ وغیرہ۔ نصر بن سیار نے مسلمانوں کی شکایات اور تکالیف کے باعث ان شرائط کو قبول کرنا چاہا لیکن لوگوں نے اُسے مطعون کرنا شروع کردیا ۔ اِس لئے مجبوراً اُس نے امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک کو خط لکھا اور تمام حالات سے مطلع کیا ۔ ہشام بن عبدالملک نے کچھ توقف کیا لیکن جب یہ دیکھا کہ اِس طرح مسلمانوں میں کدورت اور دشمنی بڑھتی جائے گی اور جس کا نتیجہ برا نکلے گا تو اُس نے اہل سغد کی درخواست کو قبول کر لیا ۔
یوسف بن عمرو کی درخواست کو نا منظور کر دیا
اہل سغد کی درخواست کے بارے میں جب نصر بن سیار نے امیرالمومنین ہشام بن عبدالملک سے بات چیت شروع کی تو اِسی دوران ملک عراق کے گورنر یوسف بن عمرو نے امیرالمومنین سے کہا کہ نصر بن سیار بوڑھا ہو گیا ہے ۔اِس لئے اُسے معزول کر کے خراسان میرے حوالے کردیا جائے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِسی دوران ملک عراق کے گورنریوسف بن عمرو نے امیرالومنین کو لکھاکہ خراسان کی گورنری اُسے دے دی جائے اور اِس سلسلے میں دونوں کی بات چیت بھی ہوئی ۔ حالانکہ نصر بن سیار ایک بہادر انسان تھا مگر بہت زیادہ بڑھاپے اور نظر کی کمزوری کی وجہ سے آدمی کو دور سے پہچان نہیں پاتا تھا ۔بہر حال ہشام بن عبدالملک نے یوسف بن عمرو کی اِس تجویز پر زیادہ توجہ نہیں دی اور معاملات کو یوں ہی چلنے دیا ۔
123 ھجری کا اختتام
123 ھجری کے اختتام پر گورنروں کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ملک عراق و ایران اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ یوسف بن عمرو تھا ۔ ملک خراسان کا نصر بن سیار تھا ۔ ابن شیرمہ ‘‘سیستان’’ کا گورنر تھا۔ملک یمن میں یوسف بن عمرو کا بیٹا گورنر تھا ۔ اِس سال فضل بن صالح اور محمد بن ابراہیم بن محمد بن علی پیدا ہوئے ۔اِس سال کوفہ کے قاضی محمد بن عبدالرحمن تھے ۔ عامر بن عبیدہ بصرہ کے قاضی تھے ۔ مروان بن محمد آذربائیجان اور آرمینیہ کا گورنر تھا ۔ مکۂ مکرمہ ، مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر محمد بن ہشام بن اسماعیل تھا۔اِس سال یزید بن ہشام نے مسلمانوں کو حج کرایا۔
123 ھجری :محمد بن واسع کا انتقال
اِس سال محمد بن واسع کا انتقال ہوا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال محمد بن واسع بن حیان کا انتقال ہوا۔ محمد بن واسع جب بیمار ہوئے تو لوگ بکثرت اُن کی عیادت کو پہنچے ۔ ایک شخص نے بتایا کہ جب میں اُن کی عیادت کو پہنچا تو دیکھا کہ وہ تکلیف کی وجہ سے کبھی کھڑے ہوتے تھے اور کبھی بیٹھتے تھے اور کہتے تھے:‘‘ یہ اُٹھنا بیٹھنا کل میرے کسی کام نہیں آئے گا جب میری پیشانی کے بال اور میرے ہاتھ پاؤں پکڑ کر دوزخ میں ڈالا جائے گا ۔’’مملکت اسلامیہ کے حکمراں نے اُن کے پاس بصرہ کے لوگوں میں تقسیم کرنے کے لئے بھیجا لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور امام مالک بن دینار نے قبول کر لیا ۔ جب محمد بن واسع کو معلوم ہوا تو انہوں نے مالک بن دینار کو ملامت کی ۔ اِس پر انہوں نے کہا: ‘‘ آپ میرے ساتھیوں سے پوچھ سکتے ہیں کہ اس مال کا میں نے کیا کیا ہے؟’’ لوگوں نے بتایا: ‘‘ اِس مال سے امام مالک بن دینار نے غلاموں کو خرید کر آزاد کردیا ہے۔’’ اِس پر محمد بن واسع نے کہا: ‘‘ میں نے اﷲ سے دعا کی تھی کہ وہ مال پہنچنے سے قبل تمہاری یہی حالت بنادے ۔’’ یہ سن کر امام مالک بن دینار اپنی جگہ کھڑے ہوگئے اور انہوں نے اپنے سر پر مٹی ڈالی اور کہا: ‘‘ اﷲ کو محمد بن واسع نے ہی پہچانا ہے اور مالک بن دینار تُو ان کے مقابلے میں بالکل گدھا ہے گدھا۔’’
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں