جمعرات، 24 اگست، 2023

66 سلطنت امیہ Khilafat e Umayya


66 سلطنت امیہ


تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی


قسط نمبر 66


130 ھجری ابومسلم خراسانی کا ‘‘مرو’’ پر قبضہ، بنو ہاشم یعنی بنو عباس کے لئے بیعت، ابوحمزہ خارجی کا مدینۂ منورہ پر قبضہ اور قتل، 130 ھجری کا اختتام، 131 ھجری : ابو مسلم خراسانی نیشا پور میں، بنو عباس اور بنو اُمیہ کی دوسری جنگ، ملک عراق کے گورنر کی پسپائی، مروان بن محمد ‘‘زاب’’ میں، 131 ھجری کا اختتام، 132 ھجری: بنو اُمیہ کی فوج کی شکست، بنو عباس کا کوفہ پر قبضہ، ابولعباس عبداﷲ بن محمدسفاح کوفہ میں، سلطنت ِ عباسیہ’’ کا پہلا حکمراں، مروان بن محمد اور عبداﷲ بن محمد سفاح آمنے سامنے، مروان بن محمد کی شکست اور قتل، سلطنتِ اُمیہ’’ کا خاتمہ


130

 ھجری ابومسلم خراسانی کا ‘‘مرو’’ پر قبضہ


130 ھجری میں ابومسلم خراسانی نے خراسان کے دارالحکومت ‘‘مرو’’ پر قبضہ کر لیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب علی بن جدیع

 کرمانی ابومسلم خراسانی سے لڑنے کے لئے آیا تو سلیمان بن کثیر اپنے دستے کے ساتھ اُس کے سامنے پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا ۔ اُس نے کہا:‘‘ تمہیں نصر بن سیار کا ساتھ دیتے ہوئے شرم نہیں آتی ؟ابھی کل ہی کی بات ہے کہ اُس نے تمہارے باپ کو قتل کر کے سولی پر لٹکا دیا تھا ۔’’ علی بن جدیع کرمانی اُس کی بات سے بہت متاثر ہوا اور اُس کی غیرت انتقام جوش میں آگئی اور اُس نے ابومسلم خراسانی کا ساتھ دینے کا ارادہ کر لیا۔ اب علی بن جدیع اور ابومسلم خراسانی دارالحکومت ‘‘مرو’’ کی طرف بڑھے ۔اُس زمانے میں ’’مرو’’ کی شہر پناہ پر نصر بن سیار کا قبضہ تھا کیونکہ وہ خراسان کا گورنر تھا ۔ علی بن جدیع کرمانی نے ابو مسلم خراسانی کو کہلا بھیجا :‘‘ آپ اپنی سمت سے شہر پناہ میں داخل ہوں اور میں اپنی فوج لیکر اپنی سمت سے داخل ہوتا ہوں ۔اِس طرح ہم شہر پر قبضہ کر لیں گے ۔’’ ابومسلم خراسانی نے جواب میں لکھا: ‘‘ مجھے ڈر ہے کہ کہیں ہم ایکدوسرے پر نہ حملہ کرنے لگیں ۔اِس لئے پہلے تم شہر میں داخل ہو کر جنگ شروع کروپھر میں داخل ہوں گا۔’’ علی بن جدیع کرمانی شہر میں داخل ہوا اور اُس کی نصر بن سیار سے جنگ شروع ہوگئی ۔ابومسلم نے اپنے مقدمۃ الجیش کو روانہ کیا ۔اس دستے نے شہر میں داخل ہوکر بخارا اخذاہ کے محل پر قبضہ کر لیا اور ابومسلم خراسانی کو کہلا بھیجا کہ اب شہر میں داخل ہوجائیں۔ابومسلم خراسانی ماخوان کی خندق سے شہر پناہ میں داخل ہوا تو کرمانی اور نصر بن سیار میں جنگ ہو رہی تھی ۔اُس نے شہر میں داخل ہوتے وقت اِس آیت کی تلاوت کی ۔ ترجمہ:‘‘ اور وہ (حضرت موسیٰ علیہ السلام) شہر میں اہل شہر کی بے خبری کی حالت میں داخل ہوا تو اُس نے دوشخصوں کو لڑتا ہوا پایا ۔ایک تو اُس کے طرفداروں میں سے تھا اور دوسرا اُس کے دشمنوں میں سے تھا۔’’ابومسلم خراسانی آگے بڑھتا گیا اور ‘‘دارالامارت’’ یعنی جس محل میں خراسان کے گورنر قیام کرتے تھے اور حکومت کے فیصلے کرتے تھے اُس میں داخل ہوا اور قیام پذیر ہوگیا۔


بنو ہاشم یعنی بنو عباس کے لئے بیعت


ابومسلم خراسانی نے ‘‘مرو’’ پر قبضہ کر لیا تو نصر بن سیار کے پاس سوائے فرار کے اور کوئی راستہ نہیں تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ابومسلم خراسانی نے شہر ‘‘مرو’’ کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا اور ابومنصور طلحہ بن رزیق کو بنو ہاشم یعنی بنو عباس کے لئے بیعت لینے کا حکم دیا۔ابو منصور نے ہاشمیوں یعنی عباسیوں کے لئے بیعت لینا شروع کر دی بیعت لیتے وقت وہ کہتا تھا :‘‘ میں تم سے اﷲ کی کتاب اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت پر اور اہل بیت میں سے کسی شخص کو جسے سب پسند کریں گے حکمراں بنانے کے لئے بیعت لیتا ہوں۔تم لوگوں کو اِس کے لئے اﷲ کے سامنے ‘‘واثق عہد’’ کرنا چاہیئے ۔جو اِس کی خلاف ورزی کرے گا اُسے بیویوں کو طلاق اور غلاموں کو آزاد اور کفارہ میں حج کرنا پڑے گا۔ تم لوگ کسی شئے کا لالچ نہ کرنا نہ مانگنا ۔البتہ تمہارے حکمراں جو تمہیں دیں اور اگر تمہارا دشمن تمہارے قدموں تلے بھی ہو جائے تو بغیر اپنے افسروں کے حکم کے اُس کے ساتھ کچھ نہ کرنا۔’’نصر بن یسار کے پاس ابومسلم خراسانی نے لاہز بن قریظ کو بھیجا کہ وہ اُسے ‘‘تحریک عباسیہ’’ میں شریک ہونے کی دعوت دے ۔اُس نے نصر بن سیار کے سامنے کئی آیات تلاوت کی اور پھر یہ آیت تلاوت کی ترجمہ: ‘‘ وہ مجمع تمھارے متعلق مشورہ کر رہا ہے کہ تمہیں قتل کر دے ۔’’ نصر سمجھ گیا کہ وہ میرے قتل کے درپے ہے۔ اِس لئے وہ وضو کرنے کے بہانے اُٹھ کر گیا اور باغ کے راستے گھوڑے پر سوار ہو کر فرار ہوگیا اور جا کر نیشاپور میں قیام کیا۔ابومسلم خراسانی سے لاہظ بن قریظ سے پوچھا کہ تم نے کیا کہا؟ اُس نے بتایا کہ میں نے یہ آیت پڑھی ۔ابومسلم خراسانی نے کہا: ‘‘ یہی اُس کے فرار کی وجہ ہوئی اور تُو دین میں بھی فریب کرتا ہے ۔’’ پھر اُسے قتل کردیا۔ 


ابوحمزہ خارجی کا مدینۂ منورہ پر قبضہ اور قتل


اِس سال 130 ھجری میں ابو حمزہ خارجی نے مدینۂ منورہ پر قبضہ کر لیا ۔امیرالمومنین مروان بن محمد نے اس کی سرکوبی کے لئے لشکر بھیجا جس نے اسے شکست دیکر قتل کردیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : مدینۂ منورہ کے گورنر عبدالواحد بن سلیمان نے عمرو بن عثمان کو ‘‘امیر حج’’ مقرر کر کے روانہ کیا ۔یہ سب قدید آئے اور وہاں قیام پذیر ہوگئے ۔رات میں اچانک خارجیوں نے حملہ کا اور مسلمانوں کو بری طرح قتل کر دیا ۔سب سے زیادہ نقصان قریش کا ہوا کونکہ وہی زیادہ تھے ۔شکست خوردہ مسلمان جان بچا کرمدینۂ منورہ آئے اور وہاں صف ماتم بچھ گئی۔ اِسی دوران ابوحمزہ خارجی اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدینۂ منورہ میں داخل ہوا اور قبضہ کر لیا ۔مدینۂ منورہ کا گورنر عبدالواحد بن سلیمان بھاگ گیا۔ اِس کی اطلاع امیرالمومنین مروان بن محمد کو ہوئی تو اُس نے ابن عطیہ کو سپہ سالار بنا کر چار ہزار کا لشکر دیکر روانہ کیا اور وہ نہایت تیزی سے سفر کرتا ہوا مدینۂ منورہ پہنچا ۔ ابوحمزہ سے اُس کی زبردست جنگ ہوئی اور خوارج کو شکست ہوئی اور ابوحمزہ قتل ہوا ۔ مدینۂ منورہ میں جب ابوحمزہ کے قتل کی خبر ملی تو اہل مدینہ بقیہ خوارج پر ٹوٹ پڑے اور سب کو قتل کردیا ۔ 


130 

ھجری کا اختتام


130 ھجری کا اختتام ہوا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اس سال ملک عراق اور تمام مشرقی ممالک کا گورنر اور ناظم اعلیٰ یزید بن عمرو بن ہبیرہ تھا ۔ کوفہ کے قاضی حجاج بن عاصم تھے اور بصرہ کے قاضی عباد بن منصور تھے ۔خراسان کا گورنر نصر بن سیار فرار ہوکر نیشاپور چلا گیا تھا کیونکہ خراسان پر ابومسلم خراسانی نے قبضہ کر لیا تھا ۔مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ اور طائف کا گورنر محمد بن عبدالملک بن مروان تھا اور اُسی نے مسلمانوں کو حج کرایا۔


131

 ھجری : ابو مسلم خراسانی نیشا پور میں


131 ھجری میں پورے ملک خراسان پر ابومسلم خراسانی کا قبضہ ہو گیا اور اس کے بعد وہ نیشاپور آگیا۔ ابو مسلم خراسانی نے قحطبہ بن شبیب کو نصر بن سیار یا یسار سے لڑنے کے لئے فوج دیکر بھیجا تھا ۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں :اِس سال 131 ھجری کے ماہ محرم الحرام میں قحطبہ بن شبیب نے اپنے بیٹے حسن بن قحطبہ کو نصر بن سیار سے جنگ کرنے کے لئے ‘‘قومیس ’’ کی طرف روانہ کیا اور اُس کے پیچھے فوج بھی بھیجی ۔ نصر بن سیار کوچ کرکے ‘‘رے’’ میں اُتر اور اُسنے وہاں دودن قیام کیا پھر وہ بیمار ہو گیا تو وہاں سے ‘‘ہمدان’’ چلا گیا اور اِس سال ماہ ربیع الاول میں پچاسی سال کی عُمر میں اُس کا انتقال ہوگیا ۔ جب نصر بن سیار مر گیا تو ابومسلم خراسانی اور اُس کے ساتھی ملک خراسان میں طاقتور ہو گئے اور اُن کی طاقت بڑھ گئی ۔قحطبہ بن شبیب ‘‘قومس’’آیا تو اُس کا بیٹا حسن بن قحطبہ اُسے فتح کر چکا تھا ۔اُس نے وہیں قیام کیا اور اپنے بیٹے حسن بن قحطبہ کو آگے ‘‘رے’’ کی طرف بھیجا اور خود بھی اُس کے پیچھے پیچھے گیا تو اُس کا بیٹا اُسے فتح کر چکا تھا ۔پس اُس نے وہیں قیام کیا اور ابومسلم خراسانی کو یہ بات لکھ بھیجی ۔ ابومسلم خراسانی ‘‘مرو’’ سے کوچ کر کے نیشا پور آیا اور وہیں قیام کر لیا ۔ اب اُس کا معاملہ بہت مضبوط ہوچکا تھا اور وہ خراسان سے آگے بڑھ کر ملک عراق پر حملہ آور ہوا۔ 


بنو عباس اور بنو اُمیہ کی دوسری جنگ


ابومسلم خراسانی کے سپہ سالار مسلسل ‘‘سلطنت بنو اُمیہ’’ پر قبضہ کرتے جارہے تھے اور آگے بڑھتے جا رہے تھے ۔ ملک خراسان پو را فتح کرنے بعد اب ابومسلم خراسانی اور اُس کے سپہ سالار ملک عراق کی طرف بڑھ رہے تھے ۔ ملک عراق کے گورنر یزید بن عمرو بن ہبیرہ نے اُن کے مقابلے کے لئے ایک فوج بھیجی۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : قحطبہ بن شبیب نے ‘‘رے’’ میں داخل ہونے کے بعد اپنے بیٹے حسن بن قحطبہ کو ‘‘ہمدان’’ کی طرف بھیجا ۔اُس نے ہمدان کو فتح کیا اور پھر ‘‘نہاوند’’ کی طرف بڑھا اور اُس کا محاصرہ کر لیا ۔ملک عراق کے گورنریزید بن عمرو بن ہبیرہ کو اِن کے آگے بڑھنے کی اطلاع ملی تو اُس نے عامر بن ضبارہ کو فوج دیکر مقابلے کے لئے بھیجا ۔ اِس کا سامنا قحطبہ بن شیبیب کی بیس ہزار فوج سے ہوا۔ جب دونوں فریق ایکدوسرے کے سامنے آئے تو قحطبہ بن شبیب اور اُس کے فوجیوں نے قرآن پاک کو بلند کیا اورشامیوں سے کہا: ‘‘ ہم اِس کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔’’ عامر بن ضبارہ اور اُس کی فوج نے انہیں گالیاں دیں تو قحطبہ بن شبیب نے حملہ کرنے کا حکم دے دیا ۔ ابھی جنگ پوری طرح شباب پر بھی نہیں آئی تھی کہ عامر بن ضبارہ کو شکست ہوگئی اور وہ قتل ہوگیا ۔اُس کی فوج بھاگنے لگی تو قحطبہ بن شبیب کی فوج نے اُن کا تعاقب کر کے قتل عام کیا اور بے شمار مال غنیمت حاصل کیا۔


ملک عراق کے گورنر کی پسپائی


ملک عراق کے گورنر یزید بن عمرو بن ہبیرہ نے قحطبہ بن شبیب کے مقابلے پر ایک لشکر بھیجا تھا جسے شکست ہوئی تو وہ خود ایک فوج لیکر روانہ ہوا۔ ادھر حسن بن قحطبہ ‘‘نہاوند’’ کا محاصرہ کئے ہوئے تھا اور اُس کی مدد کے لئے اُس کا باپ بھی فوج لیکر پہنچ گیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال قحطبہ بن شبیب نے ‘‘نہاوند’’ کا سخت محاصرہ کیا حتیٰ کہ وہاں موجود شامیوں نے اپیل کی کہ وہ اس کے باشندوں کو مہلت دے تاکہ وہ اُس کے دروازے کھول دیں ۔پس انہوں نے دروازہ کھول دیا اور قحطبہ بن شبیب کا ‘‘نہاوند’’ پر قبضہ ہو گیا اور اُس نے اپنا عہد پورا کیا اور اور اُن سے عہد لیا کہ وہ ‘‘بنو عباس’’ کے خلاف دشمنوں کی مدد نہیں کریں گے ۔اِس کے بعدابو مسلم خراسانی نے قحطبہ بن شبیب کو حکم دیا کہ وہ ابوعون کو تیس ہزار کی فوج دیکر ‘‘شہرزور’’ کی طرف روانہ کرے ۔ابوعون نے ‘‘شہرزور’’ کوفتح کرلیا اور اسکی اطلاع قحطبہ بن شبیب کو دی ۔ یہ دیکھ کر امیرالمومنین مروان بن محمد ‘‘حران’’ سے فوج لیکر روانہ ہوا اور ملک عراق کا گورنر بھی فوج لیکر روانہ ہوا لیکن جب اُس کا سامنا قحطبہ بن شبیب سے ہوا تو اُس پر رعب چھا گیا اور وہ اُلٹے قدموں پیچھے ہٹنے لگا اور پسپا ہوتے ہوتے دریائے فرات بھی پار کر گیا جبکہ قحطبہ بن شبیب مسلسل اُس کا پیچھا کر رہا تھا اور اُس نے بھی دریائے فرات پار کر لیا۔ 


امیرالمومنین مروان بن محمد ‘‘زاب’’ میں


امیرالمومنین مروان بن محمد کو جب ابوعون کے تیس ہزار کی فوجی اطلاع ملی تو وہ بھی فوج لیکر ‘‘حران’’ سے روانہ ہوا اور ‘‘زاب’’ میں آکر پڑاؤ ڈال دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : قحطبہ بن شبیب نے ابوعون کو تیس ہزار فوج دیکر ‘‘شہرزور’’ کی طرف بھیجا۔ جب ابواعون کی خبر امیرالمومنین مروان بن محمد کو ملی تو وہ اُس وقت ‘‘حران’’ میں تھا ۔وہ وہاں سے آگے بڑھا اور اُس کے ساتھ ملک شام ،موصل اور الجزیرہ کی تمام فوجیں اور بنو اُمیہ کا پورا خاندان تھا اور یہ بڑھتا ہوا ‘‘موصل’’ تک آیا ۔ اب یہاں اُس نے خندقیں کھودنا شروع کردیں اور ہر خندق کا سلسلہ ایکدوسرے سے ملا دیا یہاں تک کہ اِسی طرح پیش قدمی کرتے ہوئے وہ ‘‘زاب’’ پر آگیا اور مورچے لگا لئے ۔ ابوعون ذی لحجہ کی باقی مدت اور ۱۳۲ ؁ ھجری کے محرم الحرام میں ‘‘شہرزور’’ میں ہی مقیم رہا اور فوج میں بھرتی کرتا رہا ۔اُس نے اپنی فوج میں پندرہ ہزار نئے آدمیوں کو بھرتی کیا۔


131 

ھجری کا اختتام


131 

ھجری کا اختتام ہوا اور اِس سال کے اختتام پر ‘‘سلطنت اُمیہ کا شیرازہ منتشر ہوچکا تھا اور وہ اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس سال 131 ھجری میں ولید بن عروہ نے مسلمانوں کو حج کرایا ۔ یہ عبدالملک بن محمد بن عطیہ کا بھتیجہ ہے اور عبدالملک بن محمد وہی شخص ہے جس نے ابوحمزہ خارجی کا قتل کیا تھا ۔ ولید بن عروہ اپنے چچاکی طرف سے مدینۂ منورہ کا گورنر تھا اور یہ مدینۂ منورہ سے مکۂ مکرمہ روانہ ہوچکا تھا کہ اُس کے چچا عبدالملک بن محمد کو جو اُس وقت یمن میں تھا امیرالمومنین مروان بن محمد نے حج کرانے کا حکم دیا ۔وہ اس حکم کو پورا کرنے کے لئے آرہا تھا کہ راستے میں اُس کا قتل ہوگیا ۔جب چچا کے آنے میں دیر ہوئی تو ولید بن عروہ نے اپنے چچاکی جانب سے حج کرانے کا حکم لکھ لیا اور اُسی نے حج کرایا۔ 


132 

ھجری: بنو اُمیہ کی فوج کی شکست


132 

ھجری میں ملک عراق کے گورنر یزید بن عمرو بن ہبیرہ اور قحطبہ بن شبیب کی جنگ ہوئی یعنی ‘‘بنوعباس’’ اور ‘‘بنو اُمیہ’’ کی جنگ ہوئی اور اِس جنگ میں بنو اُمیہ کو شکست ہوئی ۔علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : یزید بن عمرو بن ہبیرہ نے ایک عظیم الشان فوج کے ساتھ روانہ ہوا اور امیرالمومنین مروان بن محمد نے بھی حوثرہ بن سہیل باہلی کو اُس کی امداد کے لئے فوج دیکر بھیجا ۔ اُن دونوں نے ‘‘حلوان’’ پہنچ کر قیام کیا اور اپنے اطراف خندق کھود لی ۔ قحطب بن شبیب بھی اپنی فوج لیکر دریائے دجلہ کو ‘‘انبار’’ کی طرف سے عبور کیا ۔ یہ دیکھ کر یزید بن عمرو بن ہبیرہ کوفہ کی طرف واپس ہوا اور حوثرہ بن سہیل کو پندرہ ہزار کی فوج دیکر کوفہ کی طرف بڑھنے کا حکم دیا ۔ قحطبہ بن شبیب نے جب دریائے دجلہ عبور کیا اُس وقت یزید بن عمرو بن ہبیرہ دریائے فرات کے دہانہ پر تیئس فرسنگ کے فاصلے پر پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا ۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 132 ھجری کے محرم الحرام میں قحطبہ بن شبیب نے دریائے فرات عبور کیا اور اُسوقت یزید بن عمرو بن ہبیرہ فلوجہ کے نزدیک دریائے فرات کے دہانے پر ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ قیام پذیر تھا اور مروان بن محمد نے بھی اُسے بہت سی فوجوں کے ساتھ مدد دی تھی ۔ پھر قحطبہ بن شبیب کوفہ پر قبضہ کرنے کے پلٹ گیا تو یزید بن عمرو بن ہبیرہ نے اُس کا پیچھا کیا اور دونوں فوجوں میں شدید جنگ ہوئی اور فریقین کے بہت سے آدمی مارے گئے ۔شامی (بنو اُمیہ) شکست کھا کر پیٹھ پھیر کر بھاگے اور خراسانیوں (بنوعباس) نے اُن کا تعاقب کیا اور قحطبہ بن شبیب لوگوں میں گم ہوگیا تو ایک شخص نے بتایا کہ وہ قتل ہوگیا ہے اور اُس نے وصیت کی ہے کہ اُس کے بعد اُس کا بیٹا حسن بن قحطبہ سپہ سالار ہو گیا ۔ قحطبہ بن شبیب کو معن بن زائد اور یحییٰ بن حصین نے قتل کیا اور بعض کا قول ہے کہ اُس شخص نے جو اُس کے ساتھ تھا نصر بن سیا ر کے بیٹوں کے بدلہ میں قتل کیا ۔ 


بنو عباس کا کوفہ پر قبضہ


ابو مسلم خراسانی کے سپہ سالار نے بنو اُمیہ کی طرف سے ملک عراق کے گورنر یزید بن عمرو بن ہبیرہ کو شکست دی اور کوفہ کی طرف روانہ ہوا۔علامہ عمادالدین بن ابن کثیر لکھتے ہیں : قحطبہ بن شبیب مقتولین میں پایا گیا اوراُسے دفن کر دیا گیا۔ حسن بن قحطبہ فوج کو لیکر کوفہ کی طرف روانہ ہوگیا جہاں محمد بن خالد بن عبداﷲ قسری کو بھجوایا گیا تھا ۔اُس نے اہل کوفہ کو ‘‘بنو عباس’’ کی طرف دعوت دی اور سیاہ لباس پہنا ۔یزید بن عمرو بن ہبیرہ نے زید بن صالح حارثی کو اپنی جگہ کوفہ کا گورنر بنا کر جنگ پر گیا تھا اُس کوفہ سے نکال دیا اور محمد بن خالد ‘‘قصر امارت’’ میں منتقل ہو گیا ۔ محمد بن خالد قسری اہل کوفہ سے ‘‘بنو عباس’’ کے لئے بیعت لے رہا تھا اور جب حوثرہ بن سہیل اپنے پندرہ ہزار کی فوج کے ساتھ کوفہ پہنچا تو اُس کی فوج نے بھی محمد بن خالد قسری کے ہاتھ پر ‘‘بنو عباس’’ کے لئے بیعت کر لی ۔یہ دیکھ کر حوثرہ بن سہیل ‘‘واسط’’ چلا گیا ۔ حسن بن قحطبہ کوفہ میں داخل ہوا اور قبضہ کر لیا ۔ قحطبہ بن شبیب نے اپنی وصیت میں کہا تھا کہ ابوسلمہ خلال کے غلام حفص بن سلیمان کو کوفہ کا ‘‘وزیر’’ بنایا جائے ۔ اِس کے بعد اُس نے ہر طرف فوجیں بھیجیں۔ ان فوجوں نے یزید بن عمرو بن ہبیرہ کو قتل کردیا ۔ اور بصرہ بھی فتح کر لیا ۔


ابولعباس عبداﷲ بن محمدسفاح کوفہ میں


اِس سے پہلے ہم نے ذکر کیا تھا کہ 129 ھجری میں ‘‘تحریک عباسیہ’’ کے رہنما ابراہیم بن محمد کو مروان بن محمد نے قید کر لیا تھا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : امام ابرہیم بن محمد کو امیرالمومنین مروان بن محمد کے پاس ‘‘حران’’ لے جایا گیا جہاں اُس نے آپ کو قید کردیا اور اُن کا اِس سال 132 ھجری میں ماہ صفر المظفر میں اڑتالیس 48 سال کی عُمر قید خانے میں ہی میں انتقال ہوگیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : گرفتار ہونے کے بعد جب ابراہیم بن محمد اپنے اہل و عیال سے رخصت ہونے لگے تو انہیں اپنے بھائی ابولعباس عبداﷲ بن محمد سفاح کے ساتھ کوفہ جانے کا حکم دیا اور کہا: ‘‘ یہ میری اور تمہاری آخری ملاقات ہے کیونکہ میں قتل کر دیا جاؤں گا ۔اب تم سب لوگ میرے بھائی ابولعباس عبداﷲ بن محمد کی اطاعت و فرماں برداری کرنا۔ اِس طرح ابراہیم بن محمد نے اپنے بعد ابوالعباس عبداﷲ بن محمد کو جانشین مقرر کر دیا ۔ پھر وہ اپنے خاندان کو لیکر کوفہ آیا جہاں ابوسلمہ خلال نے انہیں چھپائے رکھا۔


سلطنت عباسیہ کا افتتاح اور سلطنت اُمیہ کا اختتام


سلطنت ِ عباسیہ’’ کا پہلا حکمراں


132 ھجری میں‘‘سلطنت اُمیہ’’ اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی اور ‘‘سلطنت عباسیہ’’ کی شروعات ہو رہی تھی ۔ اِس سال کوفہ میں ‘‘سلطنت عباسیہ’’ کے پہلے حکمراں ابولعباس عبداﷲ بن محمد سفاح کی بیعت کی گئی ۔ اِس کا تفصیلی ذکر ہم انشاء اﷲ ‘‘سلطنت عباسیہ’’ کے ذکر میں کریں گے ۔ یہاں مختصراً پیش کر کے آگے بڑھ جائیں گے ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال ماہ ربیع الاول کی بارہ (12) تاریخ کو جمعہ کی رات میں ابوالعباس عبداﷲ بن محمد سفاح کی بیعت ہوئی ۔جس کا نام عبداﷲ بن محمد بن علی بن عبداﷲ بن عباس بن عبدالمطلب ہے ۔ یہ ‘‘سلطنت عباسیہ’’ کا پہلا حکمراں ہے ۔ امام واقدی کے مطابق اِس سال جمادی الاول میں اِس کی بیعت ہوئی ۔ پس جب جمعہ کا دن ہوا یعنی صبح ہوئی تو ابوالعباس عبداﷲ بن محمد سفاح ایک سیاہ ترکی گھوڑے پر سوار ہوکر نکلا اور فوجیں اُس کے ساتھ تھیں ۔حتیٰ کہ وہ ‘‘دارالامارت’’ میں داخل ہوگیا ۔پھر وہ جامع مسجد کی طرف گیا اور لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ پھر وہ منبر پر بیٹھ گیا اور ‘‘بیعت عام’’ شروع ہوئی ۔ جب تمام لوگوں نے بیعت کر لی تو اُس نے منبر کر کھڑے ہو کر اپنا پہلا خطبہ کہا۔( یہ خطبہ ہم انشاء اﷲ ‘‘سلطنت عباسیہ’’ میں پیش کریں گے) 


مروان بن محمد اور عبداﷲ بن محمد سفاح آمنے سامنے


سلطنت عباسیہ’’ کے پہلے حکمراں ابولعباس عبداﷲ بن محمد اور ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کے آخری حکمراں مروان بن محمد آمنے سامنے آگئے ۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : مروان بن محمد ‘‘بنو امیہ’’ کا آخری حکمراں ہے اور ‘‘بنو عباس’’ کی طرف حکومت کا منتقل ہونا آیت ترجمہ:‘‘ اﷲ جسے چاہتا ہے حکومت دیتا ہے۔’’ اور اِس آیت ترجمہ:‘‘ کہدو! اے اﷲ جو حکومت کا مالک ہے…… آیت کے آخر تک۔’’سے ماخوذ ہے ۔ جب مروان بن محمد کو ابومسلم خراسانی اور اُس کے ساتھیوں اور جو کچھ خراسان میں ہوا اس کی اطلاع ملی تو وہ ‘‘حران’’ سے آکر ‘‘موصل’’ کے قریب ایک دریا پر اُترا جسے ‘‘زاب’’ کہا جاتا ہے اور یہ الجزیرہ کے علاقے میں ہے ۔ جب اُسے یہ اطلاع ملی کہ کوفہ میں ابولعباس عبداﷲ بن محمد سفاح کی بیعت کی گئی ہے اور فوجیں اُس کے ارد گرد جمع ہو گئی ہیں اور اُس کی حکومت مستحکم ہو گئی ہے تو اسے یہ بات بہت گراں گذری ۔اُس نے اپنی فوجوں کو جمع کیا تو ابوعون بن یزید بہت بڑی فوج لیکر اُس کی طرف بڑھا ۔یہ ابولعباس عبداﷲ بن محمد سفاح کا سپہ سالار تھا ۔اُس نے مروان بن محمد سے ‘‘زاب’’ میں جنگ کی اور اِسی دوران سفاح کی طرف سے اور کمک آگئی ۔ پھر عبداﷲ بن محمد سفاح نے اپنی فوجوں کو آواز دی جو اُس کے اہل بیت میں سے جنگ کے منتظم تھے تو عبداﷲ بن علی نے اُسے جواب دیا اور کہا : ‘‘ اﷲ کی برکت سے چلو۔’’ ابولعباس عبداﷲ بن محمد بہت سی فوج لیکر ‘‘زاب’’ پہنچا۔عبداﷲ بن علی اپنی فوج کے ساتھ آگے بڑھا اور مروان بن محمد بھی اپنی فوج کے ساتھ آگے بڑھا اور دونوں نے صف بندی کر لی ۔ کہتے ہیں اُس روز مروان بن محمد کے پاس ایک لاکھ پچاس ہزار فوج تھی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک لاکھ بیس ہزار تھی ۔ عبداﷲ بن علی کے پاس بیس ہزار فوج تھی ۔ 


مروان بن محمد کی شکست


سلطنت اُمیہ’’ اور ‘‘سلطنت عباسیہ’’ کی یہ آخری جنگ تھی ۔ اِس جنگ میں مروان بن محمد کو شکست ہوئی اور حکومت ‘‘خاندان اُمیہ’’ سے ‘‘خاندان عباسیہ’’ نے چھین لی۔ اِس طرح ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا خاتمہ ہوگیا ۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال جمادی الآخر میں سنیچر کے دن دونوں لشکر ایکدوسرے کے سامنے صف آرا ہوئے ۔مروان بن محمد نے کہا: ‘‘ ٹھہرو! جنگ میں پہل نہ کرنا ۔’’ پھر وہ سورج کی طرف دیکھنے لگا ۔ولید بن معاویہ بن مروان جو اُس کا داماد تھا اُس نے حکم نہیں مانا اور حملہ کر دیا ۔ مروان بن محمد نے ناراض ہو کر اُسے گالیاں دیں اور اُس نے میمنہ والوں سے جنگ کی اور ابوعون بھی عبداﷲ بن علی کی طرف سمٹ آیا ۔ موسیٰ بن کعب نے عبداﷲ بن علی کی خاطر جنگ کی اور یہ لوگ اُس کے حکم سے اُتر پڑے اور ‘‘زمین زمین’’ کی آواز دی گئی تو وہ اُتر پڑے اور انہوں نے نیزے بلند کئے اور گھٹنوں کے بل ہو گئے اور اہل شام سے جنگ کی ۔اہل شام اِس طرح پیچھے ہٹنے لگے جیسے انہیں ہٹایا جارہا ہو۔ عبداﷲ پیدل چلنے لگا اور کہنے لگا:‘‘ اے میرے رب! ہم کب تک قتل ہوں گے؟ ’’پھر اُس نے پکارا: ‘‘ اے اہل خراسان! اے امام ابراہیم کے خوش منظر لباس! اے محمد! اے منصور۔’’ اور جنگ شدت اختیار کر گئی اور صرف ڈھالوں پر تلواروں کے پڑنے کی آواز سنائی دیتی تھی ،مروان بن محمد نے جب اپنی فوج کے ایک حصہ کو حکم بھیجا تو وہ ایکدوسرے پر ڈالنے لگے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہل شام بری طرح شکست کھا گئے اور بھاگ کھڑے ہوئے اور اہل خراسان انہیں قتل کرنے اور قیدی بنانے لگے ۔ بہت سارے اہل شام دریا میں کود پڑے اور غرق ہونے لگے ۔


مروان بن محمد کا قتل


اہل شام دریا پر پل نہ ہونے کی وجہ سے شکست کھانے کے بعددریا میں ہی کود پڑے تھے۔ علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں : دریا میں غرق ہونے والوں میں ابراہیم بن ولید بن عبدالملک اور اُس کے ساتھی بھی تھے ۔ عبداﷲ بن علی نے پل باندھنے اور غرق ہونے والوں کو پانی سے نکالنے کا حکم دیا اور سات دن تک یہیں قیام پذیر رہا ۔ مروان بن محمد کے پڑاؤ میں جو مال و متاع کے ذخائر تھے اُن پر قبضہ کر لیا ۔ ابوالعباس بن عبداﷲ بن محمد نے فتح کے بعد شکرانہ کی نماز پڑھی اور جنگ میں حاضر رہنے والوں کو پانچ پانچ سو درہم دیئے ۔ جب مروان بن محمد کو شکست ہوئی تو بھاگتا چلا گیا اور کسی طرف دیکھتا ہی نہیں تھا ۔ ابولعباس عبداﷲ بن محمد سفاح کے حکم سے عبداﷲ بن علی نے اُس کے تعاقب میں فوج روانہ کی ۔ جب مروان ‘‘حران’’ پہنچا تو وہاں بھی نہیں رُکا اور اُس سے بھی آگے بڑھ گیا ۔اس کے بعد قنسرین آیا پھر وہاں سے حمص آگیا

 اور جب اہل حمص نے اُس کے ساتھ تھوڑے سے لوگوں کو دیکھا تو اُسے قتل کرنے اور اُس کے پاس جو کچھ تھا وہ لُوٹنے کے لئے اُس کا تعاقب کرنے لگے ۔انہوں نے حمص کے نزدیک ایک وادی میں اُسے پکڑ لیا اور دونوں فریق میں جنگ ہوئی جس میں اہل حمص کو شکست ہوئی اور مروان بن محمد دمشق آگیا اور وہاں بھی نہیں رُکا بلکہ ملک مصر کی طرف بھاگ گیا ۔اُس کے پیچھے پیچھے عبداﷲ بن علی ہر شہر میں جارہا تھا اور ہر شہر میں ‘‘سلطنت عباسیہ’’ کے حاکم مقرر کرتا جا رہا تھا ۔ اِسی دوران ‘‘سلطنت عباسیہ’’ کے حکمراں ابوالعباس عبداﷲ بن محمد سفاح کا حکم عبداﷲ بن علی کو ملا : ‘‘ مروان بن محمد کے تعاقب میں صالح بن علی کو مقرر کرو۔ ’’ صالح بن علی اپنی فوج لیکر ملک مصر پہنچا تو مروان بن محمد عریش سے نیل کی طرف چلا آیا اور پھر صعید چلا گیا ۔صالح نے پڑاؤ کر کے فوج کو آگے بڑھنے کا حکم دیا اور اتفاق سے مروان کے سواروں سے مڈ بھیڑ ہوگئی ۔مروان بن محمد کے ساتھی پہلے ہی سے شکستہ دل ہورہے تھے اِس لئے ایک ساعت بھی مقابلہ نہیں کر سکے اور شکست کھا کر بھاگے ۔ان میں سے کچھ کو گرفتار کیا گیا تو انہوں نے بتلایا کہ مروان بن محمد ‘‘بوصیر’’ میں مقیم ہے ۔ابوعون صالح بن علی یہ سنتے ہی ‘‘بوصیر’’ جا پہنچا اور شبخون مارا۔ مروان بن محمد اِس اچانک حملے سے بوکھلا گیا اور گھبرا کر مکان سے باہر نکلا ۔ایک شخص جو اُس کی تاک میں کھڑا تھا برچھے کا وار کیا تو مروان بن محمد چکرا کر گرپڑا ۔کوئی شخص چلا کر بولا: ‘‘ افسوس! امیرالمومنین مارے گئے۔’’ ابوعون اور اُس کے ساتھی یہ سن کر دوڑ پڑے اور مروان بن محمد کا سر کاٹ لیا اور ابوالعباس عبداﷲ بن محمد سفاح کی خدمت میں بھیج دیا ۔ یہ واقعہ 28 ذی الحجہ 132 ھجری کا ہے ۔مروان بن محمد لگ بھگ چھ مہینے تک بھاگتا رہا اور آخر کار قتل ہوگیا ۔ 


سلطنتِ اُمیہ’’ کا خاتمہ


مروان بن محمد کے قتل کے ساتھ ہی ‘‘سلطنت اُمیہ’’ کا خاتمہ ہوگیا ۔ اب ہم آپ کی خدمت میں انشاء اﷲ ‘‘سلطنت عباسیہ’’ کے حالات پیش کریں گے ۔پھر اس کے بعد انشاء اﷲ ‘‘اسپین میں اسلام اور مسلمان’’ کو تفصیل سے پیش کریں گے ۔

٭……٭……٭ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں