30 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 30
ہمدان کی فتح، جواہرات کا خزانہ، دینار کی صلح، حضرت حذیفہ بن یمان رضی ا ﷲ عنہ کے انتظامات، کوفہ کے حکام، ہرمزان سے مشورہ، حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان،اصفہان کے سپہ سالار، اصفہان کی طرف روانگی، اصفہان کی پہلی فتح، اصفہان کی دوسری فتح، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کی آمد اور نئی ہدایات، حضرت مغیرہ بن شعبہ کوفہ کے گورنر(حاکم)، 21 ھجری کے متفرق واقعات، حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا انتقال، سیف اﷲ(اﷲ کی تلوار)، حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا افسوس، حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی وصیت، حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عن کا خراج عقیدت
ہمدان کی فتح
حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ اور حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ میدانِ جنگ سے بھاگتے ہوئے فارسیوں کا تعاقب کر رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔شکست خوردہ لشکر بھاگتا ہوا شہر ہمدان پہنچ گیا۔وہاں کا حکمراں خسرو شنوم تھا۔مسلمان بھگوڑے فارسیوں کا پیچھا کرتے ہوئے ہمدان میں داخل ہو گئے،اور آس پاس کی چیزوں پر قبضہ کر لیا۔جب خسرو شنوم نے یہ حالت دیکھی ،تو اُس نے صلح و امن کی درخواست کی۔اوراُس نے یہ تسلیم کر لیا کہ وہ ہمدان اور دستبی کے مقامات کا جزیہ مسلمانوں تک پہنچانے کا ذمہ دار ہے۔مسلمانوں نے اُس کی پیش کش کو قبول کر لیا،اور انہیں پناہ دے دی گئی،اِن میں بھگوڑے فوجی بھی شامل تھے۔
جواہرات کا خزانہ
حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے یہ وصیت پہلے ہی کر دی تھی کہ اگر میں شہید ہو جاو¿ں ،تو میری جگہ مسلمانوں کے سپہ سالار حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کو بنا دینا۔اِسی لئے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کو سپہ سالار بنا دیا گیا۔اور فتح حاصل ہونے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر نہاوند میں داخل ہوئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جنگ نہاوند میں فارسیوں کی شکست مسلمان نہاوند شہر میں داخل ہوئے،اور جو کچھ اُس کے اندر تھا،اور جو کچھ اُس کے ارد گرد تھا،سب پر قبضہ کر لیا۔انہوں نے تمام سامان مال غنیمت کے افسر حضرت سائب بن اقرع رضی اﷲ عنہ کے پاس لا کر جمع کرا دیا۔اِس کے بعد تمام مسلمان مجاہدین اپنے اُن بھائیوں کا نتظار کرنے لگے،جو بھگوڑے فارسیوں کے تعاقب میں ہمدان گئے تھے،کہ کیا خبر لاتے ہیں۔اتنے میں آتش کدہ(فارسی یعنی ایرانی آگ کی پوجا کرتے تھے،اور ہر شہر میں انہوں نے ایک آتش کدہ بنایا ہوا تھا،جسے وہ ہر وقت جلائے رکھتے تھے۔اور اِس کے لئے وہ آدمیوں کی ڈیوٹیاں لگاتے تھے،اور اُن کا ایک بڑا منتظم اعلیٰ ہو تا تھا۔)کا منتظم اعلیٰ پناہ کے ارادے سے آیا،اُسے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچایا گیا،تو وہ بولا؛”کیا آپ (رضی اﷲ عنہ)مجھے اِس شرط پر پناہ دیں گے کہ کہ آپ کو اہم معلومات سے مطلع کروں؟“حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ نے اُسے پناہ دے دی ،تو اُس نے کہا؛”نخیر جان نے میرے پاس کسریٰ (فارس کا بادشاہ)کا خزانہ رکھوایاتھا،میں اسے نکال کر آپ لوگوں کو دوں گا،بشرطیکہ آپ مجھے پناہ دیں،اور اُن لوگوں کو بھی پناہ دیں ،جنہیں میں چاہوں۔“حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ نے اُس کی شرط مان لی،تو اُس نے کسریٰ کا خزانہ نکال کر دیا۔یہ اُن جواہرات پر مشتمل تھا،جو حادث زمانہ کے موقع کے لئے جمع کئے گئے تھے۔جب مسلمانوں نے اِسے دیکھا تو یہ طے کیا کہ یہ تمام جواہرات خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں مال غنیمت کے خمس کے ساتھ بھیج دیئے جائیں۔حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کی تقسیم کی،اور خمس نکالنے کے بعد ہر سوار کے حصے میں چھ ہزار اور ہر پیدل کے حصے میں دو ہزار آئے۔مال غنیمت کا خمس اور جواہرات کے ڈبے،اور فتح کی خوش خبری امیر المومنین رضی ا ﷲ کو دی گئی،آپ رضی اﷲ عنہ نے جواہرات کے ڈبے واپس کردیئے،اور حکم دیا کہ قاعدے کے مطابق اسے بھی مجاہدین میں خمس نکال کر تقسیم کرو۔
دینار کی صلح
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ نہاوند میں ہی مقیم تھے،اور انہوں نے حضرت قعقاع بن عمرورضی اﷲ عنہ اور حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲعنہ کو ہمدان کے انتظامت سنبھالنے کے لئے وہیں بھیج دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب اہل ماہین کو یہ اطلاع ملی کہ مسلمانوں کا ہمدان پر قبضہ ہو گیا ہے۔اور حضرت نعیم بن مقرن اور حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہم دونوں وہاں رہنے لگے ہیں۔تو انہوں نے بھی خسرو شنوم کے طرز عمل پر صلح کرنے کی درخواست حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیجی،جو انہوں نے قبول کر لی۔سب نے متفقہ طور پر حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کے پاس آنے کا ارادہ کیا،تو دینار جو کم درجے کا فارسی بادشاہ تھا،اُس نے اپنے سے اعلیٰ درجے کے بادشاہوں سے کہا کہ تم مسلمانوں سے اعلیٰ درجے کے لباس میں ملاقات نہ کرو،بلکہ معمولی لباس میں چلو،انہوں نے ایسا ہی کیا۔جبکہ خود دینار نے اعلیٰ درجے کا لباس پہنا،اِسی لئے مسلمانوں نے اسے فارسیوں کا بڑا سردار سمجھا،اور اُس سے صلح کر لی۔اِس وجہ سے اِس مقام کا نام ماہ دینار پڑ گیا۔
حضرت حذیفہ بن یمان رضی ا ﷲ عنہ کے انتظامات
نہاوند کی فتح کے بعد مسلمان ابھی وہیں مقیم تھے،اور آس پاس کے علاقوں کے حکمراں مسلمانوں کے پاس آکر صلح اور امان حاصل کر رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کی تقسیم میں اُن مسلمانوںکا بھی حصہ لگایا،جو مرج القلعہ میں رہ گئے تھے۔اور اُن کا بھی حصہ لگایا جو غضی درخت کے پاس مقیم تھے۔اِس کے علاوہ جو فوجی چھاونیوں پر مقرر مسلمان تھے،اُن کا بھی مال غنیمت میں حصہ لگایا۔کیونکہ یہ لوگ مسلمان لشکر کی امداد کے لئے متعین تھے،تاکہ دشمن کسی اور راستے سے مسلمانوں پر حملہ نہ کر دے ۔ نہاوند کے قیدیوں میں ابولولواةفیروز بھی تھا،جسے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے خریدا تھا۔اِسی نے آگے چل کر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ شہید کیا تھا۔
کوفہ کے حکام
جب حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ نہاوند کے لئے لشکر لیکر روانہ ہوئے،تو اُس وقت حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کوفہ کے حاکم(گورنر ) تھے۔پھر انہوں نے اپنے نائب حضرت عبد اﷲ بن عبد اﷲ بن عتبان کو کوفہ کا گورنر بنا دیا۔ابھی جنگ نہاوند چل رہی تھی کہ حضرت عبداﷲ بن عبد اﷲ بن عتبان کو دوسرے محاذ پر لشکر دے کر بھیج دیا گیا،اور اُن کی جگہ حضرت زیاد بن حنظلہ کو کوفہ کا گورنر(حاکم) بنادیا گیا۔حضرت زیاد بن حنظلہ بار بار خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے درخواست کرتے تھے کہ انہیں کوفہ کی گورنری سے ہٹا کر میدان جنگ میں بھیجیں۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے اُن کی درخواست قبول کی،اور اُن کی جگہ حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہ کو کوفہ کا گورنر بنا کر بھیجا۔اور اہل بصرہ کی امداد کے لئے حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان کو لشکر دیکر بھیجا۔اور اہل کوفہ کی امداد کے لئے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو لشکر دیکر بھیجا،اور اُن کی جگہ حضرت عُمر بن سراقہ کو بصرہ کا گورنر بنایا۔
ہرمزان سے مشورہ
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جب سلطنت فارس میں آگے پیش قدمی کرنے کا حکم دینے کا ارادہ فرمایا،تو پہلے ہرمزان سے مشورہ کیا۔کیونکہ وہ وہیں کا رہنے والا تھا،اور کافی دنوں تک حکمراں بھی رہا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے ہرمزان سے مشورہ کے طور پر دریافت فرمایا؛”تمہاری کیا رائے ہے،میں حملے کاآغاز فارس سے کروں،یا آذربائیجان سے یا اصفہان سے آغازکروں؟“ہرمزان بولا؛”فارس اور آذربائیجان سلطنت فارس کے بازو ہیں،اور اصفہان سر ہے۔اگر آپ رضی اﷲ عنہ ایک بازو کاٹیں گے،تو دوسرا بازو کھڑا ہو جائے گا۔لیکن اگر سر کاٹ دیں گے،تو دونوں بازو گر جائیں گے،اِس لئے آپ رضی اﷲ عنہ سر سے حملے کا آغاز کریں۔“
حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان،اصفہان کے سپہ سالار
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اصفہان کی طرف ایک لشکر بھیجا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عبداﷲ عبداﷲ بن عتبان رضی اﷲ عنہ کوایک جھنڈا دیا ،اور لشکر کا سپہ سالار بنا کر حکم دیا کہ وہ اصفہان جائیں۔آپ رضی اﷲ عنہ اشراف صحابہ میں سے بہت بہادر اور دلیر انسان تھے۔اور انصار کے ایک معزز فرد تھے،اور قبیلہ بنو اسد کے حلیف تھے۔اُن کی مدد کے لئے بصرہ سے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی ا ﷲ عنہ کو بھیجا گیا،اور اُن کی جگہ بصرہ کا گورنر حضرت عُمر بن سراقہ کو بنایا گیا۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو فتح نہاوند کی اطلاع ملی،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فیصلہ کیا کہ وہ مسلمانوں کوپیش قدمی کی اجازت دیں۔اِسی لئے انہوں نے حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان رضی اﷲ عنہ کو تحریر فرمایا؛”تم کوفہ سے روانہ ہوکر مدائن میں قیام کرو،اور لوگوں کو جہاد کے لئے بلاو¿،لیکن اُن کا نتخاب نہ کرو،بلکہ اِس کے بارے میں مجھے لکھو۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ انہیں اصفہان بھیجنا چاہتے تھے۔لہٰذا دوسرے لوگوں کے ساتھ ساتھ حضرت عبدﷲ بن ورقا ریاحی اور حضرت عبداﷲ بن ورقا اسدی بھی ساتھ جانے کو تیار ہو گئے۔
اصفہان کی طرف روانگی
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا تھا کہ جب حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر تمہارے پاس آئیں تو تم اپنا لشکر انہیں دیکر تم دریائے دجلہ کے سیراب کردہ علاقے میں چلے جانا،اور وہاں کاا نتظام سنبھال لینا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عبداﷲ بن عبدا ﷲ بن عتبان رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچے ،تو انہوں نے اپنا لشکر بھی حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ کے حوالے کیا،اور اپنے مقرر کردہ علاقے کی طرف چلے گئے۔حضرت عبدا ﷲ بن عبداﷲ اپنے لشکر کے ساتھ پہلے والا لشکر بھی لیکر نہاوند سے اصفہان کی طرف روانہ ہوئے۔مسلمانوں سے مقابلے کے لئے اہل اصفہان کا ایک لشکر تیار تھا،جو استبدار کی زیر قیادت تھا۔اور اِسکے ہر اول (مقدمة الجیش)کا کمانڈر ایک بوڑھا شخص تھا،جس کا نام شہر بزار جاذویہ تھا،اُس کے ساتھ بہت بڑا لشکر تھا۔
اصفہان کی پہلی فتح
حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کو لیکر اصفہان کی طرف بڑھے،تو ایک مقام پر شہربزار جاذویہ کے لشکر سے سامنا ہوا،اور دونوں فریقین نے ایکدوسرے کے سامنے صف بندی کر لی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مسلمان اِس آگے کے لشکر(مقدمة الجیش)سے اصفہان کے ایک مقام پر نبرد آزما ہوئے،اور گھمسان کی جنگ ہوئی ۔بوڑھے کمانڈر نے مسلمانوں کو انفرادی مقابلے کی دعوت دی،تو اُس کے مقابلے پر حضرت عبداﷲ بن ورقا نمودار ہوئے،اور تلوار کے ایک ہی وار سے اُس کا سر اُڑا دیا۔یہ دیکھ کر اہل اصفہان کے حوصلے ٹوٹ گئے،اور وہ شکست کھا کر بھاگے۔مسلمانوں نے اِس علاقے کا نام ”استاق الشیخ“ (بوڑھے کے مرنے کا مقام)رکھا،جو آج تک اسی نام سے موسوم ہے۔حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان رضی اﷲ عنہ نے استبدار کو اسلام قبول کرنے،یا جزیہ دینے یا جنگ کرنے کی دعوت دی،تو اُس نے جزیہ دیکر صلح کرنا منظور کر لیا۔اِس طرح اصفہان کا پہلا ضلع فتح ہو گیا،اور حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ اپنے لشکر کو ”استاق الشیخ“سے لیکر ”جی“کے مقام کی طرف روانہ ہوئے۔
اصفہان کی دوسری فتح
حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کو لیکر”جی“ کی طرف روانہ ہوئے۔اصفہان کے بادشاہ ”فاذوسفان“کو مسلمانوں کی پیش قدمی کی اطلاع مل چکی تھی،اِس لئے وہ بھی لشکر لیکر ”جی“کے میدان میں آگیا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اُس زمانے میں اصفہان کا بادشاہ فاذوسفان تھا۔آخرکار وہ اپنا لشکر لیکر ”جی“کے مقام پر آگیا۔جب دونوں لشکر ایکدوسرے کے آمنے سامنے ہوئے،تو فاذوسفان نے حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے کہا؛”تم میرے ساتھیوں کو قتل نہ کرو ،اور میں تمہارے ساتھیوں کو قتل نہیں کروں گا،بلکہ تم خود مجھ سے مقابلہ کرنے آو¿۔اگر میں نے تمہیں قتل کر دیا،تو تمہارے ساتھی واپس چلے جائیں گے۔اور اگر تم نے مجھے قتل کر دیا ،تو میرے ساتھی تم سے صلح کر لیں گے۔“حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ نے چیلنج منظور کرلیا،اور مقابلے پر نکل آئے،اور فرمایا؛”پہلے تم مجھ پر حملہ کروگے یا میں تم پر حملہ کروں؟“اُس نے کہا؛”پہلے میں حملہ کرتا ہوں۔“پھر اُس نے آپ رضی اﷲ عنہ پر نیزے سے حملہ کیا،جو اُن کے گھوڑے کی زین کے اگلے حصے پر لگا،اور زین ٹوٹ گئی،اور زین پر بیٹھے حضرت عبدا ﷲ بن عبداﷲ گھوڑے سے گرے،لیکن فوراًاُٹھ کر گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار ہوگئے،اور فرمایا؛”اب تم ثابت قدم رہو،اور مقابلہ کرو۔“فاذوسفان بولا؛”میں تم سے جنگ نہیں کرنا چاہتا ہوں،کیونکہ میں نے تمہیں”مرد کامل“دیکھا۔اِس لئے میں تمہارے ساتھ تمہارے لشکر میں چلتا ہوں،اور صلح کر کے شہر تمہارے حوالے کردوں گا،اِس شرط پر کہ جو چاہے یہاں رہے اور جزیہ ادا کرے،اور اُس کا مال محفوظ رہے۔اور یہ بھی شرط ہے کہ تم نے جس کی زمین پر جنگ کر کے قبضہ کر لیا ہے،وہ بھی اِس معاہدہ میں شامل ہوگی،اگر اِس کے مالکان واپس آگئے۔اور جو ہمارے معاہدے میں شامل نہیں ہونا چاہے،تو وہ جہاں چاہے چلا جائے،اور اُس وقت تم اُس کی زمین پر قبضہ کر سکتے ہو۔“حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ نے انہی شرطوں پر صلح کرلی۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کی آمد اور نئی ہدایات
اِدھر اصفہان میں صلح ہو رہی تھی،اور اُدھر خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کا قاصد نئی ہدایات لیکر چل پڑا تھا،اور وہ اُس وقت پہنچا،جب صلح مکمل ہو چکی تھی۔اور اُسی وقت حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ بھی اپنا لشکر لیکر پہنچ گئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ اہواز کے راستے سے اُن کے پاس اُس وقت پہنچے۔جب فاذوسفان حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے صلح کر چکا تھا۔اِس لئے مسلمان وہاں سے روانہ ہو گئے،اور وہاں کے لوگ مسلمانوں کی امان میں آگئے،لیکن تیس لوگ بھگ کر کرمان چلے گئے،جہاں ایک لشکر پہلے سے تیار تھا۔حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہم ”جی“میں داخل ہوئے،جو اصفہان کاایک شہر تھا۔اور انہوں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو فتح کی خوش خبری اور مال غنیمت کا خمس روانہ کیا۔جواب میں امیر المومنین کا خط حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان رضی اﷲ عنہ کے نام آیا،جس میں حکم تھا؛”تم یہاں سے روانہ ہوجاو¿،اور حضرت سہیل بن عدی کے پاس پہنچو،اور اُن کے ساتھ ملکر کرمان والوں سے جنگ کرو۔”جی“شہر کے باقی ماندہ لوگوں کو چھوڑو،اور اصفہان پر حضرت سائب بن اقرع رضی اﷲ عنہ کو نائب بنا دو۔“
حضرت مغیرہ بن شعبہ کوفہ کے گورنر(حاکم)
21 ہجری میں کوفہ کے کئی گورنر(حاکم) ہوگئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ 21 ہجری میںحضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہ کوفہ کا گورنر(حاکم)مقرر کیا۔حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کو بیت المال کا نگران مقرر کیا۔اور حضرت عثمان بن حنیف کو اراضی کی پیمائش کا افسر مقرر کیا۔اہل کوفہ نے حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہ کے خلاف شکایت کی،تو حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہ نے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کو استعفا پیش کردیا۔خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ نے حضرت جبیر بن مطعم رضی ا ﷲ عنہ کو کوفہ کا گورنر بنایا،لیکن پھر اُن کی جگہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کو کوفہ کا حاکم (گورنر) بنا دیا۔
21 ھجری کے متفرق واقعات
21 ھجری میں اِن اہم واقعات کے علاوہ بھی کئی واقعات ہوئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ 21 ہجری میں حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے حضرت عقبہ بن نافع رضی اﷲ عنہ کو لشکر دیکر روانہ کیا،انہوں نے ذدیلہ اور برقہ کے علاقوں کو صلح کر کے فتح کیا۔۱۲ ہجری میںحضرت عُمیر بن سعید رضی اﷲ عنہ دمشق،حمص،حوران،قنسرین،الجزیرہ کے گورنر(حاکم) تھے۔اور حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی ا ﷲ عنہ بلقائ،اردن،فلسطین،سواحل انطاکیہ،معرةمصرین اور قلقیہ پر گورنر مقرر تھے۔اِس موقع پرحضرت ابوہاشم بن عتبہ نے قلقیہ انطاکیہ اور مصرة مصرین کے علاقوں کو فتح کیا تھا،اور صلح کر لی تھی۔اِسی سال حضرت امام حسن بصری اور امام عامر شعمی پیدا ہوئے۔اِس سال حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے حج کرایا،اور مدینۂ منورہ میں حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کو نائب بنایا۔
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا انتقال
21 ھجری میں ”اﷲ کی تلوار“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔علامہ عماد الدین اسماعیل ابن کثیرلکھتے ہیں۔اِس سال حضرت خالد بن ولید بن مغیرہ بن عبداﷲ ،بن عُمر بن مخزوم بن یقظہ بن مُرہ کا انتقال ہوا۔مُرہ پرآکر آپ رضی اﷲ عنہ کا سلسلہ¿ نسب رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ کی والدہ کا نام اسماءبنت حارث ہے۔جو لبابہ بنت حارث اور اُم المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اﷲ عنہا کی بہن ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی کنیت”ابو سلیمان“ہے،آپ رضی اﷲ عنہ کے ایک بیٹے کا نام سلیمان تھا،اُسی کے نام پر کنیت ہے۔
سیف اﷲ(اﷲ کی تلوار)
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اسلام کے عظیم سپہ سالاروں میں سے ایک ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اﷲ کے لئے سو(100)سے زائد جنگوں میں حصہ لیا،اور کسی میں شکست نہیں کھائی ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو ”سیف اﷲ“(ا ﷲ کی تلوار) کا خطاب دیا۔علامہ عماد الدین اسماعیل ابن کثیر لکھتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے 8 ہجری میں اسلام قبول کیا،اور اسلام کی طرف سے سب سے پہلے ”جنگ موتہ“میں شامل ہوئے۔اور اُس روز تینوں سپہ سالاروں کی شہادت کے بعد کوئی سپہ سالار نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو اپنا سپہ سالار بنالیا۔اُس جنگ میں آپ رضی اﷲ عنہ نے اتنی شدید جنگ کی،کہ جس کی مثال نہیں دیکھی گئی۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ سے اُس جنگ میں نو(9)تلواریں ٹوٹی تھیں،اور صرف ایک یمنی چوڑی تلوار آپ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ میں سلامت رہ سکی تھی۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے جھنڈا لیا،اور شہید ہو گئے۔پھر حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے جھنڈا لیا،تو وہ بھی شہید ہو گئے۔پھر حضرت عبد اﷲ بن رواحہ انصاری رضی ا ﷲ عنہ نے جھنڈا لیا،اور وہ بھی شہید ہو گئے۔پھر اﷲ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے جھنڈا لیا،اور اُس کے ہاتھوں پر اﷲ نے فتح عطا فرمائی۔“اور ”مسند احمد“میں حضرت وحشی بن حرب سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو سپہ سالار بنا کر بھیجتے وقت فرمایا؛”میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ ،اﷲ کے کیا ہی اچھے بندے ہیں،اور کیا ہی اچھے بھائی ہیں۔خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ،اﷲ کی تلوروں میں سے ایک تلوار ہیں،جسے اﷲ نے کافروں اور منافقوں پر سونتا ہے۔“
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے مبارک بال اور دعا
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ایک پیدائشی جنگجو اور سپہ سالار تھے۔مگر یہ حقیقت ہے کہ اُن کے تاریخی کارناموں کے پیچھے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی دعا اور برکت شامل ہے۔جب حج کے موقع پر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے بال ترشوائے،تو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُن میں سے کچھ مبارک بال اُٹھا لئے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا؛”اے خالد رضی اﷲ عنہ !یہ کس لئے؟“تو انہوں نے عرض کیا؛”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !یہ مبارک بال میرے پاس رہیں گے،تو انشاءاﷲ اِن کی برکت سے میں ہر جنگ میں فتح حاصل کر سکوں گا۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”ہاں یہ بال تمہارے پاس رہیں گے،اور میری دعا بھی تمہارے ساتھ رہے گی،اور انشاءاﷲ تم ہر جنگ میں فتح حاصل کر سکو گے۔“علامہ عماد الدین اسماعیل ابن کثیر لکھتے ہیں۔روایت میں ہے کہ جنگ یرموک میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی ٹوپی گر گئی تھی،اور وہ جنگ میں مشغول تھے۔جنگ چھوڑ کر آپ رضی اﷲ عنہ اُس کی تلاش میں لگ گئے،جب اِس کے بارے میں پوچھا گیا،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اس میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے کچھ مبارک بال ہیں،اور جس جنگ میں وہ ٹوپی میرے ساتھ ہوتی ہے،مجھے اُس میں فتح عطا ہوتی ہے۔“
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا افسوس
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا بستر پر انتقال ہوا۔آپ رضی اﷲ عنہ کی یہ شدید آرزو تھی کہ وہ میدان جنگ میں شہید ہوں۔لیکن چونکہ آپ رضی ا ﷲ عنہ ”اﷲ کی تلوار “ہیں،اسی لئے دنیا کی ایسی کوئی طاقت نہیں ہے،جو اﷲ کی تلوار کو توڑ سکے یعنی شہید کر سکے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں ۔جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا،تو آپ رضی اﷲ عنہ رو پڑے،اور فرمایا؛”میں فلاں فلاں جنگ میں شامل ہوا،اور میرے جسم میں ایک بالشت جگہ ایسی نہیں ہے،جہاںتلوار کی ضرب یا نیزے اور تیر کی چوٹ نہ لگی ہو۔اور دیکھو،میں اب یہاں ایک بوڑھے اونٹ کی طرح اپنے بستر پر طبعی موت مر رہا ہوں۔پس بزدلوںکی آنکھوں کو راحت نصیب نہ ہو۔“یہ افسوس اُس مجاہد کا ہے،جس کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ”سیف اﷲ “کا لقب عطا فرمایا۔انہوں نے سو(۰۰۱) سے زیادہ جنگ میں حصہ لیا،اور کسی بھی جنگ میں شکست نہیں کھائی۔اُن کے نام سے اُس وقت کی دو سب سے بڑی سوپر پاور سلطنت فارس اور سلطنت روم پر دہشت طاری ہو جایا کرتی تھی۔
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی وصیت
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے مدینۂ منورہ واپس بلا لیا تھا۔کچھ دن مدینۂ منورہ میں رہنے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ سے ملک شام جانے کی اجازت چاہی،جو انہوں نے دے دی۔اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ”حمص“کے قریب ایک بستی میں جا کر رہنے لگے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے اُس بستی میں وفات پائی،جو ”حمص“سے ایک میل کے فاصلے پر تھی۔اور حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کو وصیت نافذ کرنے پر مقرر کیا۔اور دحیم وغیرہ کا بیان ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے مدینہ منورہ میں وفات پائی ہے،مگر پہلا قول صحیح ہے۔جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہونے لگا،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”میں نے اُن مقامات پر شہید ہونے کی کوشش کی،جہاں مجھے شہید ہونے کا گمان تھا۔مگر میرے لئے اپنے بستر پرمرنا مقدر تھا،اور لاالٰہ الااﷲ کے بعد میرے اعمال میں سے کوئی چیز میرے نزدیک اُس رات سے زیادہ اُمید کے قابل نہیں ہے،جسے میں نے ڈھال باندھے گذارا ہو۔اور بارش صبح تک برس کر مجھے بھگاتی رہی ہو ،تاکہ کفار ہم پر حملہ کر دیں۔جب میں مرجاو¿ں تو میرے ہتھیار اور گھوڑے اﷲ کی راہ میں جنگ کا سامان بنا دینا۔“جب آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا،تو آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس صرف ایک گھوڑا ،جنگ کے ہتھیار اور ایک غلام تھا۔
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عن کا خراج عقیدت
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ”سیف اﷲ“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے بہت محبت کرتے تھے۔اور اِس کا برملا اظہار انہوں نے کئی مرتبہ کیا ہے۔امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کو اُن کی آخرت کی فکر تھی،اسی لئے وہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو روکا اور ٹوکا کرتے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے انتقال کی خبر ملی،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اناﷲوانا الیہ راجعون پڑھا،اور فرمایا؛”اﷲ کی قسم!وہ دشمن کے سینوں کو روک دینے والے اور مبارک خیال والے آدمی تھے۔“اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے انتقال کی خبر سن کر فرمایا؛”اﷲ تعالیٰ ابو سلیمان رضی اﷲ عنہ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے،ہم اُن کے متعلق بعض اُمور کا گمان کرتے تھے،جو حقیقت میں موجود ہی نہیں تھے۔“اور ہشام بن بحتری بنو مخزوم کے کچھ آدمیوں کے ساتھ خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس سے فرمایا؛”اے ہشام!مجھے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے بارے میں اشعار سناو¿۔“اُس نے آپ رضی اﷲ عنہ کو اشعار سنائے،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تُو نے حضرت ابو سلیمان رضی اﷲ عنہ کی تعریف میں کوتاہی سے کام لیاہے۔وہ شرک اور مشرکین کی ذلت کو پسند کرتے تھے،اور اُن کی مصیبت پر خوش ہوتے تھے۔“پھر آگے فرمایا؛”اﷲ تعالیٰ حضرت ابو سلیمان رضی اﷲ عنہ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے،اﷲ کی بارگاہ میں اُن کے لئے جو کچھ ہے،وہ اُس سے بہتر ہے،جس میں وہ زندگی گذار رہے تھے۔انہوں نے خوش بختی میں وفات پائی،اور جب تک زندہ رہے،قابلِ تعریف حالت میں زندہ رہے۔“اِن تمام روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ ”اﷲ کی تلوار “سے بہت محبت کرتے تھے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں