منگل، 1 اگست، 2023

29 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


29 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 29


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ پر جھوٹا الزام، اُم المومنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت اُسید بن حضیر رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت بلال بن ابی رباح رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت سعید بن عامررضی اﷲ عنہ، حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت ابو سفیان بن حارث رضی اﷲ عنہ کا انتقال، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پھوپھی کا انتقال، حضرت عویم بن ساعدہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال، 21 ہجری، حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کی درخواست، حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو ہدایات، نہاوند میں فارسیوں کا اجتماع، دونوں لشکر آمنے سامنے، جنگ نہاوند، مسلمانوں کی چالاکی، سپہ سالار کی اطاعت، حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کی شہادت، فتح نہاوند، فیرزان کا قتل


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ پر جھوٹا الزام

اِس سال 20 ہجری میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے خلاف کوفہ کے لوگوں نے خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں شکایت پیش کی۔امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے تحقیق کے لئے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اﷲ عنہ کو بھیجا،تو صرف ایک شخص نے آپ رضی اﷲ عنہ کے خلاف جھوٹی گواہی دی،جس کی وجہ سے دنیا میں وہ لوگوں کے لئے ”سامانِ عبرت“بن گیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔اور صحیح مسلم میںہے کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ پر لگے الزام کی تحقیق کے لئے ایک شخص(حضرت محمد بن مسلمہ رضی اﷲ عنہ) کو کوفہ بھیجا۔تو پورے کوفہ کے لوگوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ پر لگے الزام کو جھوٹا کہا،اور سب نے آپ رضی اﷲ عنہ کی تعریف کی۔صرف ایک شخص جس کا نام ابو سعدہ قتادہ بن اسامہ تھا ،اُس نے کھڑے ہو کر آپ رضی اﷲ عنہ کے خلاف جھوٹی گواہی دی،اور بولا؛”حضرت سعد رضی اﷲ عنہ برابر تقسیم نہیں کرتے ہیں،اور قضیہ(فیصلہ کرنے میں)میں عدل سے کام نہیں لیتے ہیں،اور لشکر کے ساتھ نہیں جاتے ہیں۔“حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے اُس کے متعلق فرمایا؛”اے اﷲ تعالیٰ!اگر تیرا یہ بندہ شہرت اور ریاکاری کے لئے کھڑا ہوا ہے،تو اِس کی عُمر لمبی کر،اور اِس کے فقر کو ہمیشہ رکھ،اور اِسے فتنوں کا نشانہ بنا۔“پس اُسے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی بد دعا لگ گئی،اور وہ بہت بوڑھا ہوگیا۔اور اپنی دونوں آنکھوں سے پپوٹے اُٹھا تا ،اور راستوں میں لڑکیوں کوچھیڑتا تھا،اور انہیں آنکھیں مارتا تھا۔انجان لوگ اُس کے بارے میں پوچھتے تو اُسے جاننے والے لوگ انہیں بتاتے کہ یہ بوڑھا پاگل ہے،اور اِسے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی بد دعا لگی ہے۔

اُم المومنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اﷲ عنہ کا انتقال

اُم المومنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اﷲ عنہا کا انتقال 20 ہجری میں ہوا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ”اُمہات المومنین“میں سے سب سے پہلے آپ رضی اﷲ عنہاکا انتقال ہوا۔علامہ عماد الدین ابن کثیرلکھتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ بنو اسد بن خزیمہ سے ہیں۔اُمہات المومنین رضی اﷲ عنہما میںسب سے پہلے وفات پانے والی ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہا کی والدی محترمہ امیمہ بنت عبد المطلب ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہا کا نام ”برہ“تھا،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہا کا نام ”زینب “رکھا۔آپ رضی اﷲ عنہا کی کنیت ”اُم الحکم“تھی،اور آپ رضی اﷲ عنہا کا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے نکاح اﷲ تعالیٰ نے کروایا ہے۔اور آپ رضی اﷲ عنہا اِسی وجہ سے دوسری امہات المومنین رضی اﷲعنہما پر فخر کیا کرتی تھیں،اور فرمایا کرتی تھیں؛”تمہار ا نکاح تمہارے گھر والوں نے کیا ہے،اور میرا نکاح اﷲ تعالیٰ نے کیا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہا بڑی دین دار ،پرہیز گار،عبادت گذار اور بہت صدقہ و خیرات کرنے والی تھیں۔اور اِسی کی طرف رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے ارشاد میں اشارہ فرمایا ہے۔کہ” تم میں سے سب سے پہلے مجھ سے وہ ملے گی،جو تم میں سب سے لمبے ہاتھوں والی ہے۔ “یعنی تم میں سے سب سے زیادہ صدقہ و خیرات کرنے کے لحاظ سے۔آپ رضی اﷲ عنہا بہت ماہر کاریگر عورت تھیں،اور اپنے ہاتھوں سے کام کر کے فقیروںپر صدقہ کر دیا کرتی تھیں۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں؛”میں نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اﷲ عنہا سے بڑھ کر دین میںبہتر،اﷲ کا خوف رکھنے والی ،راست گفتار،صلہ رحم،امانت دار اور صدقہ کرنے والی عورت نہیں دیکھی ہے۔“آپ رضی اﷲ عنہا اور اُم المومنین سیدہ سودہ رضی اﷲ عنہا نے ”حجتہ الوداع“کے بعد کوئی حج نہیں کیا ہے۔کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی ازواج ِ مطہرات رضی اﷲ عنہما سے فرمایا تھا؛”یہ حج ہے،پھر رکاوٹ ظاہر ہو گی۔“اور رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی بقیہ ازواج مطہرات رضی اﷲ عنہما حج کو جایا کرتی تھیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اﷲ عنہا کی طرف بارہ ہزار کا وظیفہ بھیجا،جو آپ رضی اﷲ عنہا نے اپنے عزیزو اقارب میں خیرات کر دیا۔آپ رضی ا ﷲ عنہا کا نتقال ۰۲ ہجری میں ہوا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اُن کی نماز جنازہ پڑھائی،اور جنت البقیع میں آپ رضی اﷲ عنہا کو دفن کیا گیا۔

حضرت اُسید بن حضیر رضی اﷲ عنہ کا انتقال

حضرت اُسید بن حضیر رضی اﷲ عنہ انصار میں سے اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت اُسید بن حضیر بن سماک انصاری اشہلی رضی اﷲ عنہ انصار کے قبیلہ بنو اوس کی شاخ بنو عبد الاشہل سے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ کی کنیت ”ابو یحییٰ “ ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ انصار کے بڑے سردار تھے،اور دوسرے بڑے سردار حضرت سعد بن مُعاذ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ حضرت مُصعب بن عُمیر رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔اور ”بیعت عقبہ ثانیہ“میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو بارہ نقیبوں میں ایک نقیب بنایا تھا۔آپ کو ”حضیر الکتائب“ کہا جاتا تھا۔جامع ترمذی میں حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کیا ہی اچھے آدمی ہیں،عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کیا ہی اچھے آدمی ہیں،اُسید بن حضیر رضی اﷲ عنہ کیا ہی اچھے آدمی ہیں۔“آپ رضی ا ﷲ عنہ نے ۰۲ ہجری میں مدینۂ منورہ میں وفات پائی۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جنازے کو کندھا دیا،اور نماز جنازہ پڑھائی،اور جنت البقیع میں دفن کیا۔

حضرت بلال بن ابی رباح رضی اﷲ عنہ کا انتقال

حضرت بلال بن رباح رضی اﷲ عنہ کا انتقال 20 ہجری میں ہوا۔آپ رضی اﷲ عنہ سچے عاشق ِرسول تھے،مکہ¿ مکرمہ کے ایک سردار کے غلام تھے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے جب اعلان ِ نبوت فرمایا،اور قریش کو اسلامی دعوت دینے لگے۔اُس وقت جب حضرت بلال رضی اﷲ عنہ کا مالک انہیں کسی کام سے بھیجتا تھا،تو آپ رضی اﷲ عنہ اُس جگہ پہنچ جاتے تھے،جہاں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قریش کو اسلام کی دعوت دیتے رہتے تھے،اور خاموشی سے دور کھڑے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھتے رہتے تھے۔جب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے گھر چلے جاتے تھے،تو آپ رضی اﷲ عنہ بھی کام کر کے واپس آتے تھے،اور دیر ہونے کی وجہ سے اُن کا مالک انہیں روز مارتا تھا۔ایک دن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ سے رک کر حال چال پوچھا،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا،اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔اسلام قبول کرنے کے بعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہدایت کی کہ اپنے اسلام کو ابھی چھپائے رکھو۔کافی دنوں تک آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے اسلام کو چھپائے رکھا۔لیکن کچھ ایسے حالات ہوئے کہ اُن کے مالک کو پتہ چل گیا۔پھر تو وہ آپ رضی اﷲ عنہ پر بہت ظلم کرنے لگا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ کو حضرت بلال بن حمامہ بھی کہا جاتا تھا،”حمامہ“آپ رضی اﷲ عنہ کی والدہ کا نام ہے۔آپ رضی ا ﷲعنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا،اور اﷲ کی راہ میں بہت عذاب دیئے گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کی تکلیفیں دیکھ کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے آپ رضی اﷲ عنہ کو خرید کر آذاد کر دیا۔اِس کے بعد آپ رضی ا ﷲ عنہ ہمیشہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہے،اور ہر غزوہ میں شرکت کی۔مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ ہی اذان دیا کرتے تھے۔کبھی کبھی حضرت ابن اُم مکتوم رضی اﷲ عنہ بھی اذان دیا کرتے تھے۔فتح مکہ کے دن حضرت بلال رضی اﷲ عنہ نے خانہ¿ کعبہ کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان دی۔بیت المقدس میں بھی پہلی اذان آپ رضی اﷲ عنہ نے دی ہے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرمایا کرتے تھے؛”حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ہمارے سردار ہیں،اور انہوں نے ہمارے سردار حضرت بلال رضی اﷲ عنہ کو آزاد کروایا ہے۔“(بخاری)رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے اذان نہیں دی،اور ملک شام جہاد پر چلے گئے۔”فتح بیت المقدس“کے وقت خلیفہ¿ دوم حضر ت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ ملک شام تشریف لائے،توانہوں نے نماز کے لئے اذان دینے کی فرمائش کی۔جب حضرت بلال رضی اﷲ عنہ نے اذان دینی شروع کی،تو تمام صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا زمانہ یاد آگیا۔اور سب کے سب رونے لگے،خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ تو پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اﷲ عنہ سے فرمایا؛”میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے تمہارے قدموں کی آہٹ سنی،مجھے بتاو¿،تم ایسا کون سا کام کرتے ہو کہ تمہیں اﷲ تعالیٰ نے یہ مقام عطا فرمایا ہے؟“ حضرت بلال رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا؛”یا رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم !میں نے جب بھی وضو بنایا ہے،تو دو رکعت نماز ضرور پڑھی ہے۔“آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”یہ اِسی وجہ سے ہے۔“مورخین کا بیان ہے کہ حضرت بلال رضی اﷲ عنہ بہت سیاہ(کالے) تھے،لمبے،دبلے پتلے،سر پر گھنے بال تھے،اور تھوڑی سی داڑھی آتی تھی۔امام ابن بکیر کے مطابق آپ رضی ا ﷲ عنہ کا انتقال طاعون عمواس سے 18 ہجری میں دمشق میں ہوا۔امام محمد بن اسحاق اور دوسرے مورخین کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال 20 ہجری میں ہوا۔امام واقدی کے مطابق آپ رضی ا ﷲ عنہ کو باب الضغر میں دفن کیا گیا۔دوسرے مورخین کے مطابق داریا میں انتقال ہوا،اور باب کیسان میں دفن کئے گئے۔بعض کے مطابق دراریا میں دفن کئے گئے۔بعض کے مطابق حلب میں انتقال ہوا۔واﷲ اعلم۔

حضرت سعید بن عامررضی اﷲ عنہ

اِسی سال حضرت سعید بن عامر رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔آپ رضی ا ﷲ عنہ بنو جمح کے سرداران میں سے تھے۔جنگ خیبر میں شامل ہوئے،آپ رضی اﷲ عنہ بہت بڑے زاہد اور عابد تھے۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے آپ رضی اﷲ عنہ کو ملک شام میں ”حمص “کا گورنر بنایا۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو یہ معلوم ہوا کہ آپ رضی اﷲ عنہ بہت شدید زخمی ہوئے ہیں،تو ایک ہزار دینار بھیجے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے وہ سب صدقہ کردیئے،اور اپنی بیوی سے فرمایا؛”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے یہ دینار اِس لئے بھیجے کہ میں اسے تجارت میں لگاو¿ں،اب اِس سے بہترین تجارت کیا ہو سکتی ہے کہ اِسے اﷲ کی راہ میں خرچ کر دیا جائے۔“قیساریہ کی فتح میں ایک دستے کے کمانڈر آپ رضی اﷲ عنہ تھے۔

حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کا انتقال

حضرت عیاض بن غنم رضی ا ﷲ عنہ کا انتقال 20 ہجری میں ہوا۔خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو ایک طرف سے ملک عراق میں داخل ہونے کا حکم دیا تھا،اور حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کو دوسری طرف سے ملک عراق میں داخل ہونے کا حکم دیاتھا۔تب سے آپ رضی ا ﷲ عنہ ملک عراق میں مسلسل حالت ِ جنگ میں رہے،یہاں تک کہ ”الجزیرہ“(یہ ملک شام اور ملک عراق کی سرحد پر ہے)کو فتح کیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عیاض بن غنم فہری رضی اﷲ عنہ اولین مہاجرین میں سے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ کی کنیت ”ابو سعد“ہے۔ رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ¿ بدر اور اس کے بعد کے غزوات میں بھی شامل ہوئے۔آپ رضی ا ﷲ بہت ہی فیاض ،سخی ،اور شجاع تھے،اور ”الجزیرہ“آپ رضی اﷲ عنہ نے ہی فتح کیا ہے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ ہی وہ پہلے سخص ہیں،جو جنگ کرتے ہوئے رومیوں کے بڑے دروازے سے گزر گئے۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ طاعون سے بیمار ہونے کے بعد حضرت عیاض بن غنم رضی ا ﷲ عنہ کو ملک شام میں اپنا نائب بنایا تھا۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کو اِس عہدے پر قائم رکھا،یہاں تک کہ ۰۲ ہجری میں آپ رضی ا ﷲ عنہ کا انتقال ہو گیا۔

حضرت ابو سفیان بن حارث رضی اﷲ عنہ کا انتقال

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سب سے بڑے چچا حارث کے بیٹے حضرت ابو سفیان بن حارث رضی اﷲ عنہ ہیں۔یہ وہ ابو سفیان نہیں ہیں،جو غزوۂ بدر کے وقت قریش کا قافلہ بچا کر لے گیاتھا،وہ ابو سفیان بن حرب ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دادا حضرت عبد المطلب جب ”چاہِ زمزم“کھود رہے تھے،تو اُس وقت اُن کے ایک ہی بیٹے حضرت حارث تھے۔اور وہی اپنے والد کی مدد کر رہے تھے،یہ ابو سفیان انہیں کے بیٹے ہیں۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم جب ”فتح مکہ“کے لئے لشکر لیکر مکہ¿ مکرمہ کی طرف آرہے تھے،تو راستے میں آپ رضی اﷲ عنہ آکر ملے،اور اسلام قبول کیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ابو سفیان بن حارث رضی اﷲ عنہ کا نام ”مغیرہ“ہے۔فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کیا،اور بہت ہی اچھے مسلمان ثابت ہوئے۔اور جب فتح مکہ کے لئے آتے ہوئے رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے،تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے چہرہ¿ مبارک پھیر لیا۔یہ دیکھ کر آپ رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا؛”اﷲ کی قسم !اگر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھے معاف نہیں کیا،تو میں اپنے اِس چھوٹے سے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر چلا جاو¿ں گا،اور کہاں جاو¿ں گا،یہ مجھے بھی معلوم نہیں ہے۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو آپ رضی ا ﷲ عنہ پر محبت اور ترس آگیا،اور معاف فرما دیا۔اِسکے بعد آپ رضی اﷲ عنہ غزوۂ حنین میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خچر کی لگام شروع سے آخر تک پکڑے رہے،اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ساتھ نہیں چھوڑا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اُن سے بہت محبت فرماتے تھے،اور فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اُمید ہے کہ یہ حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ کی کمی کو محسوس نہیں ہونے دیں گے۔مورخین کہتے ہیں کہ آپ رضی اﷲ عنہ حج کے لئے گئے،اور جب آپ رضی ا ﷲ عنہ نے اپنا سرمنڈوایا،تو حجام کی غلطی سے آپ رضی اﷲ عنہ کے سر میں ایک مسہ تھا،وہ کٹ گیا۔جس کے بعد آپ رضی ا ﷲ عنہ کمزور ہوتے گئے،اور جب مدینہ¿ منورہ آئے ،تو انتقال ہو گیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے آپ رضی اﷲ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پھوپھی کا انتقال

رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کی پھو پھی سیدہ صفیہ بنت عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کا انتقال ۰۲ ہجری میں ہوا۔آپ رضی اﷲ عنہا ،حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کی والدہ ہیں۔اور حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کی سگی بہن ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہا کی والدہ کا نام ہالہ بنت وہب بن عبد مناف بن زہرہ ہے۔آپ رضی اﷲ عنہا مہاجر صحابیات میں سے ہیں،غزوہ¿ اُحد میں شریک ہوئیں،اور زخمیوں کو پانی پلایا،اور مرہم پٹی کی۔غزوہ¿ خندق میں تمام مسلمان عورتوں کی حفاظت کی،اور ایک یہودی کو قتل کیا۔آپ رضی اﷲ عنہا وہ پہلی خاتون ہیں،جس نے اﷲ کے لئے کسی مشرک کا قتل کیا۔تہتر(73)سال کی عُمر میں آپ رضی اﷲ عنہا کا 20 ہجری میں انتقال ہوا۔اور جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

حضرت عویم بن ساعدہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال

حضرت عویم بن ساعدہ رضی اﷲ عنہ انصار کے اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ”بیعت عقبہ اولیٰ“اور ”بیعت عقبہ ثانیہ“دونوں میں شامل رہے۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ سب معرکوں میں شامل رہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ہی سب سے پہلے پانی سے استنجا کیا۔

21 ہجری

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے تمام مملکت اسلامیہ کو صوبوں میں تقسیم کیا،اور پوری مملکت کے نقشے بنوائے۔اُن کی شاہراہیں بنوائیں،ڈاک کانظام بنایا،تمام علاقوں پر اپنے گورنر مقرر فرمائے۔اور انہوں نے بہت اچھی طرح سے تمام انتظامات سنبھالے۔ 21  ہجری میں کئی اہم واقعات ہوئے،جن میں چند کا ذکر ہم یہاں کر رہے ہیں۔ 21 ہجری میں جنگ نہاوند ہوئی۔علامہ طبری،امام محمد بن اسحاق اور علامہ ابن کثیر کے مطابق جنگ نہاوند 21 ہجری میں ہوئی۔امام ابو معشر اور امام واقدی بھی یہی کہتے ہیں۔امام سیف کہتے ہیں 18 ہجری میں ہوئی۔

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کی درخواست

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ملک عراق کا سب سے بڑا ”منتظم اعلیٰ“بنایا تھا۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو ”کسکر “کا حاکم بنا دیا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔انہوں نے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو تحریر کیا؛”حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے مجھے کسکر کا حاکم بنادیا ہے،اور خراج وصول کرنے پر لگا دیا ہے،جبکہ میں جہاد میں شریک ہونا زیادہ پسند کرتا ہوں۔“خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو تحریر کیا ؛”حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ جہاد پر جانا چاہتے ہیں،اِس لئے تم انہیںنہاوند کی اہم جنگ پر روانہ کر دو۔“نہاوند کے مقام پر اہل عجم کا ایک بہت بڑا لشکر جمع ہو گیا تھا، اور اُن کا سپہ سالار ذوالحاجب تھا۔

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو ہدایات

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو بلا کر لشکر دیا۔اور خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے ایک خط حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کے نام بھی بھیجاتھا،وہ خط بھی دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو یہ خط لکھا؛”امابعد!تم پر سلامتی ہو،میں اﷲ کی تعریف کرتا ہوں،جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔بعد حمد و ثناءکے واضح کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ اہل عجم کا ایک بڑا لشکر تمہارے مقابلے کے لئے” نہاوندشہر“میں جمع ہو گیا ہے۔جب تمہیں میرا یہ خط ملے،تو تم اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اور اُس کی تائید و معونت کے ساتھ مسلمانوں کے لشکر کو لیکر روانہ ہو جاﺅ۔اور انہیں دشوار گذار راستے سے مت لے جانا،جس سے انہیں تکلیف ہو۔اور اُن کی حق تلفی نہیں کرنا،اور انہیں دلدلی راستے سے بھی نہیں لے جانا،کیونکہ مسلمانوں کا ایک ایک فرد میرے لئے ایک لاکھ دینار سے بھی زیادہ عزیز ہے۔والسلام“حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے جس لشکر کو لیکر روانہ ہوئے،اُس میں صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم بھی تھے۔اِن میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ،حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ،حضرت جریر بن عبد اﷲ بجلی رضی اﷲ عنہ،حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ،حضرت عمرو بن معدی کرب رضی اﷲ عنہ ،اور حضرت قیس بن مکثوح رضی اﷲ عنہ کے نام قابل ذکر ہیں۔اور حضرت طلیحہ بن خویلد اسدی بھی تھے،جنہوں نے جنگ قادسیہ سے پہلے کارنامے انجام دیئے تھے۔اور جنگ قادسیہ میں بھی بہادری سے لڑے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں کہ کوفہ کے مجاہدین کے کمانڈر حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ تھے۔اور بصرہ کے مجاہدین کے کمانڈر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ تھے۔

نہاوند میں فارسیوں کا اجتماع

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اطلاع ملی تھی کہ نہاوند میں اہل فارس ایک بہت بڑا لشکر جمع کر رہے ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔ایرانی(فارسی)ہر عمیق راستہ سے نہاوند میں جمع ہو گئے،حتیٰ کہ اُن کے ڈیڑھ لاکھ جانباز جمع ہو گئے۔ اور اُن کا سپہ سالار فیرزان تھا،اس کے نام بندار، اور ذوالحاجب بھی بیان کئے جاتے ہیں۔اور فارسیوںنے ایک دوسرے کو ملامت کی،اور کہنے لگے کہ محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم)جو ملک عرب میں آئے،وہ ہمارے ملک کے درپے نہیں ہوئے۔اور اُن کے بعد کھڑے ہونے والے ابوبکر(صدیق رضی اﷲ عنہ)نے ہمارے دارالخلافہ سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی۔اور عُمر بن خطاب نے اپنی حکومت کے طویل کی وجہ سے ہماری بے حرمتی کی ہے،اور ہمارے ملک پر قبضہ کر لیا ہے۔اور وہ تم کو تمہارے ملک سے نکالے بغیر باز نہیں آئے گا۔پس انہوں نے آپس میں عہد و پیمان کئے،کہ ہم بصرہ اور کوفہ جائیں گے،اور عُمر بن خطاب کو اپنے ملک سے غافل کر دیں گے۔اور انہوں نے اپنے دلوں میں ٹھان لی،اور اپنے اوپر واجب کر لی۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔اہواز کی فتح ہونے کے بعد کسریٰ یزد گرد ”مرو“میں جاکر مقیم ہو گیا۔اور اُس نے باب،حلوان،طبرستان،جرجان،سند،خراسان،اصفہان اور ہمدان کے حاکموں کو خطوط لکھے،اور مسلمانوں کے خلاف مدد طلب کی۔چاروں طرف سے دفعتہ قومی جوش پھیل گیا،اور ڈیڑھ لاکھ کا ٹڈی دل لشکر نہاوند میں فیرزان کے پاس جمع ہو گیا۔

دونوں لشکر آمنے سامنے

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے ساتھ نہاوند میں فارسیوں کے مقابلے آئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔ہر اول(مقدمة الجیش) پر آپ رضی اﷲ عنہ خود تھے، میمنہ (دائیں بازو)پر حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کو رکھا۔میسرہ(بائیں بازو)پر اپنے بھائی حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو رکھا،سواروں کا کمانڈر حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔اور ساقہ پر حضرت مجاشع بن مسعود رضی اﷲ عنہ کو رکھا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔فیرزان فارسی لشکر کا سپہ سالار تھا،اور اُس کے ساتھ شاہی جھنڈا ”درفش کاویانی“تھا،جس کو فارسی فتح و ظفر کی نیک فال سمجھتے تھے۔اِس کے لشکر کے میمنہ پر زروق تھا،میسرہ پر بہمن جازویہ تھا۔اِس جنگ میں فارسیوں (ایرانیوں) کے وہ سردار بھی شریک تھے،جو جنگ قادسیہ سے بھاگ کر اِدھر اُدھر جان بچاتے پھر رہے تھے۔

جنگ نہاوند

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ جب لشکر لیکر نہاوند پہنچے،تو فارسیوں نے شہر پناہ کے اطراف خندق کھود رکھی تھی،اور آس پاس لوہے کے کانٹے ڈال دیئے تھے۔مسلمانوں نے شہر کا محاصرہ کر لیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت نعمان بن مقرن رضی ا ﷲ عنہ نے مسلمان کمانڈروں سے مشورہ کیا،اور یہ طے پایا کہ جنگ چھیڑ دی جائے۔بدھ کے دن، دن بھر جنگ ہوتی رہی،جمعرات کو بھی دن بھر جنگ ہوتی رہی،لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔جمعہ کے دن لڑائی تو نہیں ہوئی،لیکن مسلمان کئی دن تک فارسیوں کا اُن کی خندقوں میں محاصرہ کئے رہے۔فارسیوں نے جنگ چھیڑنے سے پہلے میدان جنگ میں لوہے کے کانٹے بچھا دیئے تھے۔جس کی وجہ سے مسلمان آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔حضرت نعمان بن مقرن رضی ا ﷲ عنہ نے تمام سپہ سالاروں کو مشورہ کے لئے اپنے خیمے میں بلایا۔

مسلمانوں کی چالاکی

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے مسلمان کمانڈروں کو مشورے کے لئے اپنے خیمے میں جمع کیا،اور اُن سے اگلے قدم کے بارے میں مشورہ کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کو لیکر نہاوند پہنچے ،تو فارسیوں نے لوہے کے کانٹے ڈال دیئے تھے۔جب انہوں نے اپنے مخبروں کو بھیجا،تو انہیں لوہے کے کانٹوں کا علم نہیں تھا۔اِس لئے چلتے وقت جب انہوں نے گھوڑوں کو ہنکایا،تو اُن کے پاو¿ں میں لوہے کے کانٹے چبھ گئے،اور وہ ٹھہر گئے۔انہوں نے اُتر کر دیکھا تو گھوڑوں کے پیروں میں لوہے کے کانٹے چبھے ہوئے تھے۔لہٰذا وہ مخبر حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کی حاضر ہوئے،اور تمام کانٹوں کے بارے میں بتایا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں سے اِس بارے میں مشورہ کیا،تو انہوں نے کہا؛”ہم اِس مقام سے دوسری جگہ منتقل ہو جائیں۔تاکہ وہ یہ خیال کریں کہ ہم اُن سے بھاگ کر چلے گئے ہیں،اِس طرح وہ ہمار ے تعاقب میں باہر نکلیں گے۔“حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے اِس مشورے پر عمل کیا،اور اپنے لشکر کو لیکر دوسری جگہ منتقل ہو گئے۔جب اہل عجم(فارسیوں ) کو اِس بات کا علم ہوا تو انہوں نے لوہے کے کانٹوں کو صاف کر کے ہٹا دیا۔پھر اُن کے تعاقب میں نکل آئے۔

سپہ سالار کی اطاعت

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ اور مسلمان مجاہدین چالاکی سے فارسیوں کو اپنی من پسند جگہ لے آئے،لیکن اِس کی انہیں قیمت چکانی پڑی۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت نعمان بن مقرن رضی ا ﷲ عنہ نے سرداران ِ لشکر اسلام کو اپنے خیمے میں مشورے کے لئے بلایا۔ہر ایک نے الگ الگ مشورے دیئے۔اور آخر میں یہ طے ہوا کہ فارسیوں کو شہر اور خندقوں سے باہر نکالا جائے۔اور حضرت طلیحہ اسدی کے مشورے کے مطابق تین حصہ اسلامی لشکر کو شہر نہاوند سے چھ سات میل دور لے جا کر صف بندی کر لی گئی۔اور ایک چوتھائی لشکر حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو دیا گیا،جو محاصرہ کئے ہوئے تھے۔یہ تمام کاروائی رات کے اندھیرے میں کی گئی،اور صبح ہوتے ہی حضرت قعقاع بن عمرو رضی ا ﷲ عنہ نے فارسیوں پر حملہ کر دیا،اور پھر منصوبے کے مطابق مجاہدین کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا۔فارسیوں کو تین حصہ اسلامی لشکر کم ہونے کا بالکل اندازہ نہیں ہوا۔اور جب انہوں نے مسلمانوں کو پیچھے ہٹتے دیکھا،تو تمام سپاہی شہر اور خندقوں سے باہر آنے لگے۔فارسی بڑے جوش و استقلال کے ساتھ مقابلہ کو نکلے،اوراِس کا بھی انتظام کیا کہ کوئی شخص پیچھے نہ ہٹے ،اور نہ ہی میدان جنگ سے بھاگے۔ اور اپنے لشکر کو چاروں طرف سے لوہے کی زنجیروںسے باندھ دیا،اور جس قدر آگے بڑھتے تھے،تو پیچھے لوہے کے کانٹے بچھا دیتے تھے۔حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے تھوڑی دیر لڑنے کے بعد اپنی رکاب کے لشکر کو سنبھالتے ہوئے آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنا شروع کیا۔اور فارسی کامیابی کے جوش میں بڑھتے چلے آئے،یہاں تک کہ اُن کا آخری سپاہی بھی خندقوں سے باہر آگیا۔مسلمانوں کے تین حصہ لشکر نے فارسیوں کو ذد میں دیکھا،تو حملہ کرنا چاہا،لیکن حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے روک دیا۔مسلمانوںکے صبرو تحمل کا یہ حال تھا کہ فارسیوں کے تیر کا نشانہ بنتے جاتے تھے،اور مسلمان مجاہدین کام آ رہے تھے۔لیکن سپہ سالار کی اطاعت یہ تھی کہ کسی کے ہاتھ کو حملہ کی نیت سے ذرا بھی حرکت نہیں ہوتی تھی۔ 

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کی شہادت

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حملہ کرنے سے روک دیا تھا۔یہ جمعہ کا دن تھا،اور آپ رضی اﷲ عنہ سورج کے ڈھلنے کا انتظار کر رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔دراصل حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کر رہے تھے۔اور اُس وقت کا انتظار کر رہے تھے،جس وقت میںرسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو جہاد کا آغاز کرنا زیادہ پسند تھا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔اِس دوران حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کھڑے ہوئے،اور مسلمانوں کے سامنے تقریر فرمائی۔پہلے مجاہدین کو جوش دلایا،پھر اپنے لئے شہادت کی دعا کی،اور مجاہدین سے فرمایا؛”میری پہلی تکبیر پر تم لوگ مسلح اور جنگ پر آمادہ ہو جانا،اور دوسری تکبیر پر تلواریں نیام سے نکال کر حملے کے لئے تیار ہو جانا۔اور جب میں تیسری تکبیر کا نعرہ بلند کروں تو تم بھی تکبیر کے نعرے بلند کر کے حملہ کر دینا۔“اِس ہدایت کے مطابق زوال ِ آفتاب کے بعد حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کی تیسری تکبیر پر مجاہدین نے بھی نعرہ¿ تکبیر بلند کر کے دفعتہ حملہ کر دیا،اور اِس بے جگری سے لڑے کہ عجمی(فارسی،ایرانی)لشکر شکست کھا کر میدان جنگ سے بھاگ نکلا۔کشتوں کے پُشتے لگ گئے،سوائے آہ و زاری یا مسلمان بہادروں کی تلوار کی جھنکار کے اور کوئی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی۔یا کبھی کبھی کانوں میں”اﷲ اکبر“کی صدا آجاتی تھی ،جس سے سارا میدان جنگ گونج اُٹھتا تھا۔میدان جنگ میں اتنا خون بہا کہ چلنے والوں کے پاو¿ں پھسل جاتے تھے۔حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کا گھوڑا بھی پھسل کر گرا،اور ساتھ ہی خود بھی گرے۔آپ رضی اﷲ عنہ زخموں سے چور چور تھے،بعض کے مطابق حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ تیر کھا کر گرے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ کے بھائی حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے اپنے بھائی کے گرتے ہی جھپٹ کر جھنڈا ہاتھ میں لے لیا،اور اُن کے کپڑے پہن کر لڑنے لگے۔

فتح نہاوند

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ شہید ہو چکے تھے،اگر مسلمانوں کو اُن کی شہادت کی خبر ہو جاتی تو اُن کے حوصلے ٹوٹ سکتے تھے۔اِسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ کے بھائی حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ اُن کے کپڑے پہن کر لڑنے لگے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ کی اِس تدبیر سے حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کے شہید ہونے کا حال عام طور سے معلوم نہیں ہو سکا،اور جنگ بد ستور جاری رہی۔اِس عرصہ میں رات ہو گئی ،اور جو فارسی جان پر کھیل کر لڑ رہے تھے،وہ بھی اب ایسے گھبرا کر بھاگے کہ راستہ بھول گئے۔اور لوہے کے کانٹوں سے زخمی ہو کر سینکڑوں ہزاروں مر گئے۔اِس جنگ میں ایک لاکھ فارسی مارے گئے،جن میں سے تیس ہزار میدان جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔اور ستر ہزار لوہے کے کانٹوں سے مرے۔فیرزان ہمدان کی طرف بھاگا،اور حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے اُس کا تعاقب کیا۔اور درہ کے قریب پہنچ کر فیرزان پیدل ہوکر پہاڑ پر چڑھ گیا۔لیکن حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ سے پہلے حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ فارسی لشکر کے تعاقب میں پہلے ہی درہ میں پہنچ چکے تھے۔اسی لئے ایک چھوٹا سا معرکہ فارسیوں سے اِس مقام پر ہوا،اور جو بچ گئے،وہ جان بچا کر ہمدان میں داخل ہو گئے۔

فیرزان کا قتل

پہاڑ کے درّے میں ہوئے معرکے میں فیرزان بھی قتل ہوگیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔فیرزان بچ نکلا،اور بھگوڑی فوج کے ساتھ ہمدان کی طرف بھاگا۔حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے اُس کا تعاقب کیا،اور حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے آگے بڑھکر ہمدان کی گھاٹی میں جا پکڑا۔اُس وقت وہ گھاٹی اُن خچروں اور گدھوں کی وجہ سے مسدود ہو گئی تھی،جن پر شہد لدا ہوا تھا۔ان کی وجہ سے وہ اس گھاٹی میں رک گیا،تو حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے اُسے پکڑ کر اُسی گھاٹی میں مار ڈالا۔اُس وقت مسلمانوں نے کہا؛”اﷲ تعالیٰ نے شہد کی شکل میں (اپنا غیبی)لشکر بھیجا ہے۔“اِس کے بعد وہ شہد اور اس کے ساتھ کے تمام سازو سامان کو اپنے ساتھ لے گئے۔اِس واقعہ کی وجہ سے یہ گھاٹی”ثنیة العسل“کہلانے لگی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں