28 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 28
20 ھجری، ملک مصر میں باب الیون کے لوگوں سے بات چیت، اسلام کی دعوت، مسلمانوں نے مہلت دی، باب الیون کی فتح، عین شمس کی طرف پیش قدمی، جنگ اور صلح، صلح نامہ یا عہد نامہ کا مضمون، جنگی قیدیوں کی واپسی، اسکندریہ کی فتح، ملک مصر میں مسلمانوں کے انتظامات، دریائے نیل کے متعلق مصریوں کا عقیدہ، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کا دریائے نیل کو حکم
20 ھجری
اِس سال 20 ھجری میں کئی بڑے بڑے واقعات پیش آئے۔حالانکہ اِن واقعات کی تاریخ میں بھی علمائے کرام میں کچھ اختلاف ہے۔لیکن جمہور علماءاِس بات پر متفق ہیں کہ یہ واقعات اِسی سال ہوئے ہیں۔اِس لئے ہم ۰۲ ہجری کے مفصل واقعات پیش کر رہے ہیں۔ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں کہ جب خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ”بیت المقدس“کی فتح سے فارغ ہوئے تو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کولشکر دیکر ”ملک مصر“ کی طرف روانہ کیا تھا۔اب ہم اس ذکر کو وہیں سے شروع کرتے ہیں۔
ملک مصر میں باب الیون کے لوگوں سے بات چیت
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو لشکر دیکر ملک مصر کی طرف روانہ فرمایا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ”ایلیاہ“(بیت المقدس) کی فتح سے فارغ ہوئے ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے وہیں سے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو ”ملک مصر“کی طرف روانہ کیا،اور یہ فرمایا؛”اگر اﷲ تعالیٰ تمہیں ملک مصر میں فتح عطا فرمائے،تو تم وہاں کے حاکم(گورنر) ہوگے۔اور اُن کے روانہ ہونے کے بعد حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کو ایک لشکر دیکر اُن کی امداد کے لئے اُن کے پیچھے روانہ فرمایا۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر ملک مصر پہنچے،اور ”باب الیون“کے قریب پڑاو¿ ڈال دیا،حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ بھی اپنے لشکر کے ساتھ آکر اُن سے مل گئے۔وہاں ابو مریم اور ملک مصر کا بشپ ملے،جنہیں مقوقس(ملک مصر کا بادشاہ)نے اپنے ملک کی حفاظت کے لئے بھیجا تھا۔جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے ،تو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے انہیں بات چیت کی پیش کش کی۔جسے انہوں نے قبول کر لی،اور حضرت عمرو بن عاص،اور حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ سے بات کرنے ابو مریم اور بشپ(ملک مصر کا بادشاہ عیسائی تھا،اور بشپ عیسائیوں کا مذہبی رہنما تھا) فریقین نے ایکد وسرے کو پناہ دی،اور بات چیت شروع کی۔
اسلام کی دعوت
حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے پہلے انہیں اسلام کی دعوت دی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے اُن دونوں سے فرمایا؛”تم دونوں اِس شہر کے راہب(عیسائی عالم)ہو تو سنو کہ اﷲ بزرگ و برتر نے حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو حق و صداقت کا پیغام دیکر بھیجا ہے۔اﷲ نے انہیں حکم دیا،اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے اﷲ کے احکام ہم تک پہنچادیئے ۔ اِس کے بعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے رب سے جاملے،اور جو فرض تھا ،اُس کی تکمیل فرما گئے ۔ اور نہیں اِس سرزمین پر چھوڑ گئے،انہوں نے ہمیں یہ بھی حکم دیا تھا کہ ہم لوگوں تک اسلام پہنچائیں ۔ہم تمہیں اسلام کی دعوت دیتے ہیں،جو ہماری دعوت قبول کرے گا،وہ ہمارے برابر ہو جائے گا۔اور جو ہماری دعوت قبول نہیں کرے گا،اُس پر ہم جزیہ لگائیں گے،اور اِس صورت میں ہم اُس کی حفاظت کریں گے۔انہوں نے (رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے) پیشنگوئی کی ہے کہ ہم اِس ملک کو فتح کر لیں گے۔لیکن انہوںنے ازراہِ ہمدردی ہمیں تمہاری حفاظت کی بھی ہدایت کی ہے۔اِس لئے اگر تم ہماری بات مان لو گے ،تو تمہاری حفاظت کی ذمہ داری ہم پر ہو گی۔ہمارے امیر المومنین رضی ا ﷲ عنہ نے ہمیں یہ ہدایت کی ہے کہ ہم قبطیوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی ہمیں پہلے ہی نیک سلوک کرنے کی ہدایت کی تھی،کیونکہ آپ لوگوں کے ساتھ ہماری رشتہ داری ہے۔“
مسلمانوں نے مہلت دی
حضرت عمرو بن عاس رضی اﷲ عنہ کی بات سن کر مصریوں (قبطیوں) نے مہلت مانگی،جو مسلمانوں نے دے دی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اہل مصر نے کہا؛”ہاں بہت دور کی رشتہ داری ہے،جس کا انبیائے کرام علیہم السلام ہی خیال رکھتے ہیں۔وہ( سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا)بہت مشہور و معروف اور شریف خاتون تھیں۔وہ ہماری شہزادی تھیں،اور ”حنف“کی رہنے والی تھیں۔اُن کے خاندان میں بادشاہت رہی،یہاں تک کہ انقلاب آیا،اور اہل عین شمس نے اُن کے خاندان کو قتل کر دیا۔اور اُن سے سلطنت چھین کر انہیں جلا وطن کر دیا۔اِس وجہ سے وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ فلسطین چلی گئی تھیں۔ہم اُن کا خیر مقدم کرتے ہیں۔“حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”ہم تمہیں سوچنے اور غور و فکر کرنے کے لئے تین دنوں کی مہلت دیتے ہیں۔تاکہ تم غور کر سوکو،اور اپنی قوم سے بھی مشورہ کر سکو،ورنہ تیسری صورت میںہم تم سے جنگ کریں گے۔وہ دونوں بولے؛”آپ (رضی اﷲ عنہ) ہمیں اور مہلت دیں۔“اِس پر آپ رضی ا ﷲ عنہ نے ایک دن کی مہلت بڑھا دی۔
باب الیون کی فتح
حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے انہیں مہلت دے دی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔یہاں سے وہ دونوں اُٹھ کر ملک مصر کے بادشاہ مقوقس کے پاس گئے،اور مسلمانوں کی دعوت کو پیش کیا۔لیکن ارطبون(آپ کو یاد ہو گا،ارطبون کو جب ملک شام میںمسلمانوں کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی ،تو وہ ملک مصر بھاگ گیا تھا)نے اُن کی بات ماننے سے انکار کر دیا،اور مسلمانوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا۔اِس کے بعد وہ دونوں اشخاص اہل مصر کے پاس پہنچے ،اور کہا؛”ہم کوشش کریں گے کہ تمہاری حفاظت کریں،اور اُن کی طرف نہ لوٹیں۔اب چار دن پاقی رہ گئے ہیں،اور اِس دوران تمہیں کوئی نقسان نہیں پہنچے گا۔“لیکن ارطبون نے مہلت کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی مصریوں کو حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔اور فرقب نے رات کے وقت اچانک مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ بھی ہوشیار تھے،اور انہوں نے مسلمانوں کو ہر وقت جنگی حالت میں تیار رکھا تھا۔فرقب کی اُمید کے خلاف مسلمانوں نے اُن کا ڈٹ کا مقابلہ کیا۔اور اُسے اور اُس کے ساتھیوں کو قتل کردیا۔اِس طرح باب الیون فتح ہو گیا۔
عین شمس کی طرف پیش قدمی
حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ ”باب الیون “کی فتح کے بعد ”عین شمس“کی طرف لشکر لیکربڑھے۔اور ہر اول(مقدمة الجیش) کے طور پر حضرت ابرہ بن صباح کو عین شمس روانہ کیا۔اور حضرت عوف بن مالک کو ”اسکندریہ “کی طرف روانہ کیا۔جب مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ آپ رضی اﷲ عنہ عین شمس پہنچ گئے،اور پڑاو¿ ڈال دیا ،اُس وقت حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ بھی ساتھ تھے۔اہل مصر نے جب مسلمانوں کا لشکر دیکھا تو اپنے بادشاہ سے کہا؛”آپ اُس قوم سے جنگ کا ارادہ کر رہے ہیں،جنہوں نے قیصر و کسریٰ (سلطنت روم،اور سلطنت فارس کے بادشاہوں)کو شکست دے دی ہے۔اور اُن کے ملک پر قابض ہو گئے ہیں۔آپ اُن لوگوں سے صلح کر لیں،اور معاہدہ کرلیں کہ آپ اُن لوگوں سے مقابلہ نہیں کریں گے،اور نہ ہی ہمیں اُن سے مقابلے کے لئے بھیجیں گے۔“یہ بات انہوں نے چوتھے دن کہی،مگر بادشاہ نے اُن کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔
جنگ اور صلح
بادشاہ نے اہل مصر کی بات نہیں مانی،اور مسلمانوں کے مقابلے پر آگیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔بادشاہ مسلمانوں سے جنگ کے لئے تیار ہو گیا،اور انہوں نے جنگ کی۔جنگ کے دوران حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ شہر کی فصیل پر چڑھ گئے،اور مصریوں کو قتل کرنے لگے۔مسلمانوں نے مصریوں پر ہر طرف سے حملہ کردیا،ادھر حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ شہر میں داخل ہوگئے،اور قبضہ کرنے لگے۔مصریوں نے جب یہ حالت دیکھی ،تو جلدی سے شہر پناہ کا دروازہ کھول دیا،اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سے صلح کرنے کی درخواست کی،جو انہوں نے قبول کر لی۔اُدھر حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کو صلح کا کوئی علم نہیں تھا،اور وہ بدستور مصریوں کو قتل کر ہے تھے۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے انہیں صلح کی خبر دی،اور مصریوں سے صلح کرلی۔
صلح نامہ یا عہد نامہ کا مضمون
حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے اہل مصر سے صلح کرلی،اُس صلح نامے یا عہد نامے کا مضمون یہ تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔صلح نامہ یا عہدنامہ کا مضمون یہ تھا۔”یہ وہ امان ہے،جوحضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے اہل مصر کو جان و مال اور مذہب کی پناہ دے دی ہے۔اُن کے گرجے،صلیبیںاور خشکی اور تری کے مقامات محفوظ رہیں گے،بشرطیکہ وہ جزیہ ادا کرتے رہیں۔اور مجتمع ہو کر یہ صلح نامہ قبول کرلیں۔اُن سے مجموعی جزیہ پانچ کروڑ درہم کے قریب وصول کیا جائے گا۔اگر اُن میں سے کوئی جزیہ دینے سے انکار کرے گا،تو اُس سے جزیہ وصول نہیں کیا جائے گا،لیکن ہم اُس کی حفاظت کی ذمہ داری سے بری ہوں گے۔اگر اُن کی آمدنی مقررہ رقم سے کم ہوگی،تو اُسی قدر اندازے کے مطابق جزیہ کی رقم کم کر دی جائے گی۔روم و حبشہ کے باشندوں میں سے کوئی اِس صلح نامہ میں شامل ہونا چاہے ،تو اُن کے حقوق و فرائض بھی اہل مصر کے حقوق و فرائض کے برابر ہوں گے۔جو اِس سے انکار کرے گا،اور دوسری جگہ جانا چاہے گا،اُسے مکمل حفاظت سے اُس کے مطلوبہ مقام تک پہنچایا جائے گا۔جو کچھ اِس معاہدے میں لکھا ہے،اِس کے ذمہ دار اﷲ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم ،اور مسلمانوں کے خلیفہ،اور تمام مسلمان ہیں۔اہل حبشہ میں سے جو اِس معاہدے کو قبول کریں،اُن کے لئے یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اُسی قدر شخصی امداد کریں،اور گھوڑوں سے بھی امداد کریں،اور وہ جنگ نہ کریں،اور نہ ہی درآمد اور برآمد کی تجارت کو روکیں۔اِس معاہدے کے گواہ کے طور پر حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے دونوں بیٹے حضرت عبد اﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ اور محمد بن عمرو بن عاص تھے۔اِس کے کاتب وردان تھے،اور اِس معاہدہ میں تمام اہل مصر شامل ہو گئے تھے،اور انہوں نے صلح نامہ قبول کیا تھا۔
جنگی قیدیوں کی واپسی
عین شمس کی جنگ کے دوران مسلمانوں نے بہت سے مصریوں کو قید کر لیا تھا،مصری انہیں بھی واپس مانگ رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ابو مریم اور بشپ حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے،اور جنگی قیدیوں کی واپسی کی مانگ کی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کیا ان کے بارے میں بھی کوئی عہد و پیمان ہوا ہے؟اُس وقت یہ قیدی ہم پر حملے کر رہے تھے۔“یہ فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں رخصت کر دیا۔وہ دونوں پھر آئے،اور بولے؛”جب ہم تم سے صلح کی گفت و شنید کر رہے تھے،اُس وقت تم لوگوں نے جو حاصل کیا،وہ تمہاری ذمہ داری میں آئے گا۔“حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کیا تم ہم پر حملے کرو گے،اُس وقت بھی ہماری ذمہ داری رہے گی؟“وہ دونوں بولے؛”ہاں“بہر حال آپ رضی اﷲ عنہ نے قیدی انہیں واپس نہیں کئے۔جب فتح کی خوش خبری اور مال غنیمت کا خمس لیکر قاصد خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا،اور تمام حالات بتائے۔اور قیدیوں کے بارے میں معلوم ہونے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ قیدیوں کو چھوڑ دو،اور اہل مصر کے حوالے کردو۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے حکم پر عمل کیا،اور قیدیوں کو اہل مصر کے حوالے کر دیا۔
اسکندریہ کی فتح
حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے اس کے بعد اسکندریہ کا محاصرہ کر لیا،یہاں اہل مصر کا بادشاہ مقوقس رہتا تھا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔پھر حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے اسکندریہ لشکر بھیجا۔اور اِس سے قبل مقوقس حاکم اسکندریہ اپنے شہر اور ملک مصر کا خراج سلطنت روم کے قیصر یا سلطنت فارس کے کسریٰ کو ادا کیا کرتا تھا۔پس جب حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے اسکندریہ کا محاصرہ کر لیا،تو اُس نے اپنے وزرائ،درباریوں اور پادریوں کو جمع کیا،اور بولا؛”اِن عربوں نے قیصر و کسریٰ کو مغلوب کر لیا ہے،اور سلطنت روم اور سلطنت فارس پر قبضہ کر لیا ہے۔اور ہم میں اِن سے مقابلے کی سکت نہیں ہے،میری رائے یہ ہے کہ ہم انہیں جزیہ دیا کریں۔پھر اُس نے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ میں اُن لوگوں کو خراج ادا کرتا رہا ہوں،جو تم سے بھی زیادہ مجھے مبغوض تھے۔یعنی سلطنت روم اور سلطنت فارس۔اِس لئے ہم آپ سے جزیہ پر صلح کرنا چاہتے ہیں۔پھر حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے اسکندریہ والوں سے بھی جزیہ پر صلح کرلی۔اور اِس طرح پورا ملک مصر مسلمانوں کے قبضے میں آگیا۔ایک روایت کے مطابق ملک مصر ۶۱ ہجری میں فتح ہوا،اور اس میں اسلامی حکومت قائم ہوگئی۔جبکہ جمہور مورخین کے مطابق ملک مصر ۰۲ ہجری میں فتح ہوا۔اور اسکندریہ جنگ کر کے ۵۲ ہجری میں فتح ہوا۔اور بعض کا قول ہے کہ بارہ ہزار دینار پر صلح سے فتح ہوا۔
ملک مصر میں مسلمانوں کے انتظامات
حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے پورا ملک مصر فتح ہوجانے کے بعد اُس کے انتظامات کئے،اور سب سے پہلے شہر فسطاط بسایا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ملک مصر میں چونکہ بہت گھوڑے سوار ہو گئے تھے،اِسی لئے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ ”فسطاط“ کا شہر تعمیر کر لیا،اور وہاں مسلمان رہنے لگے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔میں کہتا ہوں،دیار ِمصر کو فسطاط کا نام ،حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے خیمے کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے دیا گیا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنا خیمہ اُس جگہ نصب کیا تھا،جہاں آج کل ملک مصر ہے۔اور مسلمانوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کے خیمے کے ارد گرد مکان تعمیر کر لئے۔اور قدیم ملک مصر حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے زمانے سے لیکر آج تک متروک ہے۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنا خیمہ وہاں سے اُٹھا لیا،اور وہاں پر ایک مسجد کی تعمیر کی،جو آج تک آپ رضی اﷲ عنہ کے نام پر منسوب ہے۔اِس کے علاوہ آپ رضی اﷲ عنہ نے پورے ملک مصر میں فوجی انتظامات کئے،اور ملک مصر کی سرحدوں پر بھی فوجی چھاونیاں بنائیں۔ اور ہر جگہ عوام کے لئے مسافر خانے وغیرہ تعمیر کروائے۔
دریائے نیل کے متعلق مصریوں کا عقیدہ
حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے ملک مصر فتح کر کے وہاں اسلامی حکومت قائم کر دی تھی۔لیکن اہل مصر ابھی بھی اپنے مذاہب پر قائم تھے،اور جزیہ ادا کر رہے تھے۔اُن کے اندر جاہلیت ابھی بھی تھی،اور دریائے نیل کے متعلق اُن کا عقیدہ تھا کہ یہ ہر سال ایک کنواری لڑکی کی جان لیکر روانی پر آتا تھا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب ملک مصر فتح ہوا،تو اُس کے باشندے عجم کے مہینوں میں سے بونہ کے مہینے میں حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے،اور کہا؛”ہمارے دریائے نیل کا ایک دستور ہے،اور وہ اُسی کے مطابق چلتا ہے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”وہ کیا ہے؟“انہوں نے کہا؛”جب اِس ماہ کی بارہ راتیں گزر جاتی ہیں،تو ہم ایک کنواری لڑکی کے والدین کے پاس جاتے ہیں۔اور انہیں راضی کرتے ہیں،اور لڑکی کو بہترین زیور اور کپڑے پہنا دیئے جاتے ہیں، پھر ہم اسے دریائے نیل میں پھینک دیتے ہیں۔جس کی وجہ سے دریائے نیل بھر کر چلنے لگتا ہے۔“حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے اُن سے فرمایا؛”یہ سب جاہلانہ باتیں ہیں،اور اسلام میں اِن کی کوئی جگہ نہیں ہے،اور میں تمہیں ایسا نہیں کرنے دوں گا۔“اُن لوگوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کی بات مان لی،اور تین مہینے تک رُکے رہے۔لیکن دریائے نیل کا پانی کم ہوتا جارہا تھا،یہاں تک کہ مصریوں نے ملک مصر چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے اُن سے فرمایا؛”میں ہمارے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں تمام حالات لکھ کر بھیجتا ہوں،اور وہ جو بھی حکم بھیجیں گے،اُن کے مطابق ہم عمل کریں گے۔اگر اِس کے بعد بھی دریائے نیل میں پانی نہیں بڑھا،تو تم لوگ ملک مصر چھو ڑ کر چلے جانا۔“
خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کا دریائے نیل کو حکم
حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کی بات سن کر اہل مصر رک گئے،اور آپ رضی اﷲ عنہ نے تمام حالات خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں لکھ کر بھیجے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے تمام حالات جاننے کے بعد حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو لکھ کر بھیجا؛”تم نے جوکچھ کیا ،وہ بالکل ٹھیک کیا ہے۔میں اِس خط کے اندر ایک چھوٹی سی چٹھی لکھ کر بھیج رہا ہوں،تم یہ چٹھی دریائے نیل میں پھینک دینا۔“جب یہ خط حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچا،اور انہوں نے خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق چٹھی پھینکنے سے پہلے اُسے کھول کر پڑھا،تو اُس میں لکھا ہوا تھا؛”اﷲ کے بندے عُمر،امیر المومنین کی طرف سے اہل مصر کے دریائے نیل کی طرف۔امابعد!اے دریائے نیل! اگر تُو اپنی مرضی سے بہتا ہے،تو آئندہ نہ بہنا،ہمیں تیری کوئی ضرورت نہیں ہے۔اور اگر تُو اﷲ واحد و قہار کے حکم سے بہتا ہے،تو وہ تجھے رواں اور قائم رکھے گا،اور ہم اﷲ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ تجھے رواںاور قائم رکھے۔“حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے یہ چٹھی دریائے نیل میں رات میں پھینک دی،اور صبح جب دیکھا تو پورا دریائے نیل بھر کر چل رہا تھا۔اور اِس طرح اﷲ تعالیٰ نے ایک جاہلانہ رسم کا خاتمہ کردیا۔تب سے لیکر اب تک دریائے نیل مسلسل بہہ رہا ہے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں