27 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 27
فتح سوس یا سویز، حضرت دانیال علیہ السلام کی تدفین، جندی شاپور کی فتح، پیش قدمی کے لئے سپہ سالاروں کا تقرر، 18 ہجری کی شروعات، شرابیوں کو سزا، قحط سالی، نماز استسقاء، رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم نے یاد دلایا، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسم کے چچا کے ذریعے تقرّب، لحضرت ابو جندل بن سہیل رضی اﷲ عنہ کا انتقال، 19 ھجری
فتح سوس یا سویز
مسلمانوں نے سوس یا سویز کا محاصرہ کیا ہوا تھا،لیکن کسی طرح فتح نہیں ہو رہی تھی۔سباہ نے مسلمانوں کو ایک منصوبہ بتایا،اور انہوں نے اُسے اُس پر عمل کرنے کی اجازت دے دی۔اُس نے اہل عجم کا لباس پہنا،اور اُس پر خون لگا کر رات کے آخری حصے میں شہر کے دروازے پر آکر لیٹ گیا،اور کراہنے لگا۔(مسلمانوں اور شہر والوں میں جھڑپیں ہوتی رہتی تھیں)صبح شہر والوں نے اُس کا لباس اور خون دیکھ کر خیال کیا کہ انہیں میں کا کوئی زخمی آدمی ہے۔انہوں نے شہر کادروازہ کھول کر اُسے اُٹھا کر اندر لے جانا چاہا۔دروازے کے اندر پہنتے ہی سباہ نے اُن پر حملہ کر دیا،اور قتل کرنے لگا۔یہ دیکھ کر پہریدار بھاگ گئے،اور اُس نے اکیلے شہر کا دروازہ کھول دیا۔مسلمان اندر داخل ہو گئے،اور سوس یا سویز فتح ہو گیا۔سوس یا سویز کی فتح کے بارے میں ایک روایت بڑی عجیب ہے،جس میں دجال کا ذکر ہے۔یہ روایت تاریخ طبری،تاریخ ابن کثیر( البدایہ والنہایہ)میں ذکر ہے۔جب حضرت ابو سبرہ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے ساتھ سوس یا سویز کا محاصرہ کیا،تو اُس وقت ہرمزان کا بھائی شہر یار اہل سوس یا سویز کی قیادت کر رہا تھا۔اُن کے اور مسلمانوں کے درمیان کئی مرتبہ جنگ ہوئی ،اور مقابلہ لگ بھگ برابری کا رہا۔ایک دن اُن کے راہبوں اور مذہبی پیشواو¿ں نے کہا ؛”اے اہل عرب !ہمارے اہل علم اور بزرگوں نے خبر دی ہے کہ سوس (سویز) کو دجال یا اُس کی قوم فتح کرے گی،اگر تمہارے اندر دجال نہیں ہے تو تم اسے فتح نہیں کر سکو گے۔“مسلمانوں میں ایک شخص ”صاف “نام کا تھا،اُس نے شہر کے دروازے پر جا کر لات ماری ،اور بولا؛”کھل جا“تو دروازے کے تالے اور زنجیریں ٹوٹ گئیں ،اور دروازہ کھول کر مسلمان اندر داخل ہو گئے۔(بڑی عجیب روایت ہے)بہر حال سباہ کے ساتھ جب مسلمان اندر داخل ہوئے ،تو سوس یا سویز کے لوگوں نے ”صلح صلح“چلانا شروع کردیا۔اور مسلمانوں نے اُن کی مصالحت قبول کر لی۔
حضرت دانیال علیہ السلام کی تدفین
مسلمانوں نے جب سوس (سویز) کو فتح کیا،تو وہاں انہیں حضرت دانیال علیہ السلام کا جسم مبارک ملا۔ جسے بعد میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ نے دفن کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔فتح سوس کے بعد حضرت ابو سبریٰ رضی اﷲ عنہ سے کہا گیا ؛”حضرت دانیال علیہ السلام پیغمبر کی لاش اِسی شہر میں ہے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”ہمیں اِس کا علم نہیں ہے۔“اور انہوں نے اُن کے جسم مبارک کوانہیں کے قبضے میں رہنے دیا۔جب حضرت ابو سبریٰ رضی اﷲ عنہ وہاں سے ”جندی شاپور“چلے گئے،اور کچھ عرصے بعد حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ سوس(سویز) آئے۔ جب انہیں حضرت دانیال علیہ السلام کے جسم مبارک کے بارے میں معلوم ہوا۔تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اِس بارے میں خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے مشورہ کیا۔امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے تحریر فرمایا کہ حضرت دانیال علیہ السلام کے جسد مبارک کو دفن کر دیا جائے۔حکم کے مطابق آپ علیہ السلام کے جسم مبارک کو کفن دیکر دفن کر دیا گیا۔حضرت ابو موسیٰ رضی اﷲ عنہ نے حضرت دانیال علیہ السلام کی انگوٹھی کے بارے میں پوچھا کہ کیا کریں؟تو خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اُس انگوٹھی کو مہر کے طور پر استعمال کرو۔“
جندی شاپور کی فتح
حضرت ابو سبریٰ رضی اﷲ عنہ فتح سوس کے بعد آگے بڑھے ،اور جندی شاپور کا محاصرہ کرلیا۔روزآنہ جنگ ہوتی تھی۔حضرت عبد اﷲ بن کلیب بھی اِس جنگ میں اپنے لشکر کے ساتھ شامل تھے۔کئی دنوں کی جنگ کے بعد ایک دن اچانک شہر کی شہر پناہ کی فصیل سے ایک تیر پھینک کر یہ اطلاع دی گئی کہ مسلمانوں کے لشکر میں سے کسی نے شہر والوں کو پناہ دے دی ہے۔اور پھر شہر والوں نے شہر کے دروازے کھول دیئے،اور شہر سے باہر نکل آئے۔مسلمانوں نے پوچھا کہ تمہیں کس نے پناہ دی ہے؟انہوں نے کہا؛”آپ لوگوں نے تیر اندازی کے ذریعے ہمیں امن و امان کا پیغام دیا ہے،جسے ہم نے قبول کر لیا ہے۔ہم جزیہ دینے کا وعدہ کرتے ہیں،بشرطیکہ آپ ہماری حفاظت کریں۔“مسلمانوں نے کہا؛”ہم نے ایسا کوئی پیغام نہیں دیا ہے۔“وہ بولے؛”ہم جھوٹ نہیں بول رہے ہیں۔“تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ مکنف نام کے ایک غلام نے شہر والوں کو پناہ کا پیغام لکھ کر تیر کے ذریعے بھیجا تھا۔اِس کی اطلاع حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو دی گئی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ اﷲ تعالیٰ نے وعدہ پورا کرنے کا حکم دیا ہے،اِس لئے شہر والوں سے صلح کر لو۔اِس طرح جندی شاپور فتح ہو گیا۔
پیش قدمی کے لئے سپہ سالاروں کا تقرر
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ۷۱ ہجری کے آواخر میں مسلمانوں کو سلطنت فارس میں پیش قدمی کی اجازت دے دی۔(اِس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں)علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے یہ فیصلہ حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کے مشورہ پر کیا تھا،کیونکہ آپ رضی اﷲ عنہ اُن کی صداقت اور فضیلت سے واقف تھے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے الگ الگ لشکر اور اُن کے سپہ سالار مقرر کر دیئے۔اہل بصرہ کے لئے الگ،اور اہل کوفہ کے لئے الگ۔انہیں ۷۱ ہجری کے اواخرمیں پیش قدمی کا حکم دیا گیا،لیکن وہ ۸۱ ہجری اوائل میں روانہ ہو سکے تھے۔سب سے پہلے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ وہ بصرہ سے روانہ ہو کر بصرہ کی آخری عمل داری تک پہنچ جائیں،اور اگلے حکم کے آنے تک وہیں مقیم رہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے سپہ سالاروں کے جھنڈے (عَلم)تیار کئے،اور حضرت سہیل بن عدی کو دیکر روانہ فرمائے۔ایک جھنڈا حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کو دیکر ”خراسان“ کی طرف بھیجا۔ایک جھنڈا حضرت مجاشع بن مسعود سلمی کو دیکر” ارد شیر،خرہ اور سابور “کی طرف روانہ کیا۔ایک جھنڈا حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی کو دیکر” اصطخر “کی طرف روانہ فرمایا۔ ایک جھنڈا حضرت ساریہ بن زنیم کنانی کو دیکر ”فسائ،اور ذرا بجرد“کی طرف بھیجا۔ایک جھنڈا حضرت سہیل بن عدی کو دیکر ”کرمان“کی طرف بھیجا۔اورایک جھنڈا دیکر حضرت حکم بن عُمیر کو ”سجستان “کی طرف روانہ کیا،اِس لشکر میں حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ بھی تھے،جو صحابی ہیں۔اِن سپہ سالاروں کی امداد کے لئے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے معاون سپہ سالار بھی بھیجے۔حضرت سہیل بن عدی کی مدد کے لئے حضرت عبد اﷲ بن عبد اﷲ بن عتبان کو بھیجا۔حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کی مدد کے لئے حضرت علقمہ بن نضر کو بھیجا۔اِس کے علاوہ الگ الگ سپہ سالاروں کی امداد کے لئے حضرت عبد اﷲ بن عقیل،حضرت ربعی بن عامر،اور ابن اُم غزل کو بھیجا۔حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ کی مدد کے لئے حضرت عبد اﷲ بن عُمر اشجعی کو بھیجا۔اور حضرت حکم بن عُمیر تغلبی کی مدد کے لئے حضرت شہاب بن مخارق کو بھیجا۔
18 ہجری کی شروعات
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے 17 ہجری میں مسلمانوں کو حج کروایا۔اور اِس سال بھی وہی گورنر رہے،جو 17 ہجری میں تھے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے سب کو اُن کی جگہوں پر بر قرار رکھا،صرف حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کی جگہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی ا ﷲ عنہ کو بصرہ کو گورنر مقرر فرمایا۔اب ہم آپ کی خدمت میں 18 ہجری کے حالات پیش کریں گے۔انشاءاﷲ۔اِس سال میں مسلمانوں کو ملک عرب میں بہت سخت قحط اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اِسی وجہ سے اِس سال کا نام”عام الرمادہ“پڑ گیا۔امام محمد بن اسحاق کے مطابق عمواس کا طاعون بھی 18 ہجری میں آیا تھا۔
شرابیوں کو سزا
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے اِس سال میں چند شراب پینے والے مسلمانوں کو سزا دی۔چند مسلمانوں نے شراب پی تھی،آپ رضی ا ﷲ عنہ کو اِن کے بارے میں معلوم ہوا تو اس بارے میںتحقیق کروائی۔اور جب اُن کا جرم ثابت ہو گیا ،تو انہیں سر عام بھرے مجمع میں اسی (۰۸)کوڑے لگوائے۔اُن مسلمانوں نے توبہ کی،اور حیا کی وجہ سے لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا،تو انہیں سمجھا کر لوگوں سے ملنے جلنے کے لئے سمجھایا۔اور پھر انہیں جہاد پر جانے کی اجازت دے دی،اور ان میں سے کئی شہید ہوئے۔
قحط سالی
18 ھجری میں مدینہ منورہ اور آس پاس کے علاقوں میں بہت زبردست قحط پڑا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں مدینہ¿ منورہ اور آس پاس کے علاقوں میں قحط پڑا۔جب ہوا چلتی تھی،تو راکھ کی طرح مٹی اُڑتی تھی، اِسی وجہ سے یہ سال”عام الرمادہ“(راکھ کا سال) کہا جاتا تھا۔اِس موقع پر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے طے کر لیا تھا کہ وہ دودھ اور گوشت کا ذائقہ اُس وقت تک نہیں چکھیں گے،جب تک کہ مسلمان پہلی بارش سے فیضیاب نہ ہو جائیں۔یہ قحط اور خشک سالی 17 ہجری کے آخر اور 18 ہجری کے آغاز میں رونما ہوا تھا۔اُس وقت مدینۂ منورہ اور اُس کے آس پاس کے علاقوں کے لوگوں کو بھوک نے ہلاک کر دیا تھا۔اور یہ حالت ہو گئی تھی کہ وحشی جانور انسانوں کے پاس پناہ لینے کے لئے آتے تھے۔اور یہ حال ہو گیا تھا کہ اگر کوئی شخص ایک بکری ذبح کرتا تھا،تو اُس میں سے سوائے کھال اور ہڈیوں کے کچھ نہیں نکلتا تھا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ملک عراق اور ملک شام کے گورنروں کو حکم دیا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں سے اناج اور کھانے پینے کی چیزیں روانہ کریں۔ہر طرف سے غلہ اور کھانے پینے کے سامان آنے لگے۔جس سے لوگوں کو کچھ راحت ہوئی۔
نماز استسقاء
مدینۂ منورہ اور آس پاس کے علاقوں میں قحط کی وجہ سے سب لوگ بہت پریشان تھے۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں۔عام الرمادہ میں قبیلہ مزینہ کے ایک شخص نے اپنے گھر والوں کے لئے ایک بکری ذبح کی۔کیا دیکھتے ہیں کہ صرف کھال اور ہڈیاں ہیں۔اُس نے بڑی حسرت سے کہا؛”یا محمداہ“(مصیبت اورجنگ میںحملہ کے وقت یہ صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کا یہ مخصوص نعرہ تھا)اور جب رات کو وہ سویا تو خواب میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھا۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”زندگی سے خوش ہو جاؤ،اور حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲعنہ کے پاس جا کر میرا سلام کہو۔اور انہیں یہ کہنا کہ میں نے آپ رضی ا ﷲ عنہ کو عہد کا پورا کرنے والا اور عہد کا سختی سے پابند پایا ہے۔اے عُمر رضی اﷲ عنہ !عقل مندی سے کام لیں۔“وہ شخص خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دروازے پر آیا،اور آپ رضی اﷲ عنہ کے غلام سے کہا؛”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ سے کہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ایلچی ملنا چاہتا ہے۔“آپ رضی اﷲ عنہ یہ سن کر گھبرا گئے،پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے منبر پر کھڑے ہو کر مسلمانوں سے فرمایا؛”اے مسلمانو!میں اﷲ کے نام پر تم سے اپیل کرتا ہوں،جس نے آپ لوگوں کی اسلام کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔کیا تم نے مجھ سے کوئی ناپسندیدہ کام ہوتے دیکھا ہے؟“مسلمانوں نے کہا؛”نہیں،ایسا کوئی کام نہیں دیکھا۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”یہ حضرت بلال بن حارث رضی اﷲ عنہ ایسا پیغام رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا لائے ہیں۔“مسلمان اصل بات سمجھ گئے،لیکن پریشانی اور اُلجھن کی وجہ سے خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ اِس پر توجہ نہیں دے سکے۔مسلمانوں نے کہا؛”یا امیرا لمومنین رضی اﷲ عنہ !ہم نے نماز استسقاءپڑھنے میں دیر کر دی۔“آپ رضی اﷲ عنہ فوراً سمجھ گئے،اور لوگوں میںنماز استسقاءکا اعلان کروا دیا۔سب کو لیکر کھلے میدان میں پہنچے،مختصر خطبہ دیا،پھر نماز استسقاءپڑھنے کے بعد دعا فرمائی؛”اے اﷲ ! ہمارے مدد گارہم سے عاجز آگئے ہیں،اور ہماری قوت و طاقت بھی ہم سے عاجز آگئی ہے،اور ہمارے نفس بھی ہم سے عاجز آگئے ہیں۔اور تیرے سوا کوئی طاقت نہیں ہے،جو ہمیں سیراب کردے،اور بندوں اور شہروں کو زندہ کر دے۔“ایک اور روایت ابن کثیر لکھتے ہیں،کہ حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں قحط نے سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔تب ایک شخص رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر آیا،اور بولا؛”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !اپنی اُمت کے لئے اﷲ سے بارش کی دعا کریں،وہ تو ہلاک ہو رہے ہیں۔“پس اُس کے خواب میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم آئے ،اور فرمایا؛”حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ کے پاس جاکر میرا سلام کہو،اور انہیں بتاو¿ کہ وہ سیراب کئے جائیں گے۔اور انہیں کہنا کہ عقل مندی اختیار کریں۔“اُس شخص نے آکر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو بتایا،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے اﷲ!میں اُسی کام میں کوتاہی کرتا ہوں،جس سے میں عاجزآجاتا ہوں۔“
رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم نے یاد دلایا
قحط کی وجہ سے انسانوں ،جانوروں،درندوں پرندوں،اور کیڑوں مکوڑوں یعنی تمام مخلوق بے حال اور پریشان تھی۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اُن سب کی پریشانی دیکھ کر خود پریشان ہو جاتے تھے۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ تمام مخلوق کی پریشانی دیکھ کر شرمندہ اور پریشان تھے،کہ حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اﷲ عنہ (یہ ”بدو“یعنی دیہاتی ہیں،اور مدینہ¿ منورہ کے قریبی دیہاتی قبیلے مزینہ میں رہتے تھے)حاضر ہوئے،اور عرض کیا؛”یا امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !میں آپ رضی اﷲ عنہ کی طرف رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ایلچی ہوں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ سے فرمایا ہے ؛”میں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو عقل مند دیکھا ہے،اور آپ رضی اﷲ عنہ ہمیشہ سے ہی ایسے رہے ہیں۔اب آپ رضی اﷲ عنہ کا کیا حال ہے؟“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے دریافت فرمایا؛”آپ رضی اﷲ عنہ نے یہ خواب کب دیکھا ہے؟“حضرت بلال بن حارث رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا؛”پچھلی رات کو۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فوراًمدینہ¿ منورہ میں ”الصلاة الجامعة“کا اعلان کروایا۔جب سب لوگ جمع ہو گئے ،تو انہیں دو رکعت نماز پڑھائی ،اور فرمایا؛”اے مسلمانو!میں تم سے اﷲ کے نام پر اپیل کرتا ہوں ،کیا تم ایسا کوئی حکم جانتے ہو؟جو میرے حکم سے بہتر ہو۔“مسلمانوںنے جواب دیا ؛”نہیں“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”یہ حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اﷲ عنہ ایسا کہہ رہے ہیں۔“مسلمانوں نے کہا؛”حضرت بلال بن حارث رضی اﷲ عنہ صحیح کہہ رہے ہیں،آپ رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے لئے اﷲ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔“پس آپ رضی ا ﷲ عنہ نے نماز استسقاءکا اعلان فرما دیا۔اور ایک وسیع میدان میں سب لوگوں کے ساتھ جمع ہوئے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ بھی تھے،اور سب لوگ پید ل چل کر میدان میں جمع ہوئے تھے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے نماز استسقاءپڑھائی،پھر مختصر خطبہ دیا،اور پھر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے،اور دعا فرمائی؛”اے اﷲ تعالیٰ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں،اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔اے اﷲ ہمیں بخش دے،اور ہم پر رحم فرما،اور ہم سے راضی ہو جا۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ سب کے ساتھ واپس آنے لگے،ابھی گھروں تک نہیں پہنچے تھے کہ بارش کی وجہ سے پانی کے گڑھے بھر گئے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسم کے چچا کے ذریعے تقرّب
حضر ت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نماز ِ استسقاءکے لئے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کو بھی ساتھ لے جاتے تھے۔علامہ عماد الدین اسماعیل ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نماز استسقاءکے لئے نکلے،اور حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کو بھی اپنے ساتھ لے گئے،اور دعا مانگی؛”اے اﷲ جب ہم اپنے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے عہد قحط ذدہ ہوتے تھے،تو ہم اپنے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذریعے تجھ سے تقرّب حاصل کرتے تھے۔صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے یہ الفاظ روایت ہیں۔جب قحط پڑ جاتا تھا ،تو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ،حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کے ذریعے بارش طلب کرتے تھے،اور دعا کرتے تھے؛”اے اﷲ !ہم اپنے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذریعے تیرا تقرّب حاصل کرتے تھے،اور تُو ہمیں سیراب کر دیتا تھا۔اور اب ہم اپنے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا کے ذریعے تجھ سے تقرّب حاصل کرتے ہیں،ہمیں سیراب کردے۔“راوی کا بیان ہے کہ ہ سیراب ہو جاتے تھے۔
لحضرت ابو جندل بن سہیل رضی اﷲ عنہ کا انتقال
حضرت ابوجندل بن سہیل رضی اﷲ عنہ کا انتقال ملک شام میں طاعون عمواس سے ہوا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ کا نام ”عاص بن سہیل“تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کر لیا تھا۔لیکن اُنکے باپ سہیل بن عمرو نے انہیںہتھکڑی،اور بیڑیاں پہنا کر قید کر رکھا تھا،اور مدینہ¿ منورہ ہجرت کرنے نہیں دے رہا تھا۔صلح حدیبیہ کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ کو قید میں خبرملی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ ”حدیبہ “کے مقام تک آ گئے ہیں،تو آپ رضی اﷲ عنہ ہتھکڑی اور بیڑیوں سمیت قید سے بھاگے،اور لگ بھگ نو (9)کلو میٹر کا ہتھکڑی اور بیڑیوں سمیت پید ل سفر کر کے حدیبیہ پہنچے تھے۔لیکن چونکہ صلح حدیبیہ ہو چکی تھی،اور اُس کی قرار داد کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ کو اپنے باپ کے ساتھ جانا پڑا۔اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ مکہ¿ مکرمہ سے بھاگ کر حضرت ابو بصیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھ شامل ہو گئے۔بعد میں قریش نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے گذارش کی کہ انہیں اپنے پاس بلا لیں۔اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں ملک شام چلے گئے،اور وہیں طاعون عمواس سے آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہو گیا۔
19 ھجری
سال 17 ہجری سے سال 19 ہجری تک کے واقعات لگ بھگ ملے جلے ہیں۔اور مورخین مکمل طور سے اتفاق نہیں کر سکے ہیں۔اور چند واقعات کے علاوہ اِن لگ بھگ تین برسوں میں کوئی خاص قابل ذکر واقعات پیش نہیں آئے ہیں۔ 18 ہجری میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ”مقام ابراہیم“جو خانۂ کعبہ سے متصل تھا، اُسے دور ہٹا کراُس مقام پر کر دیا،جہاں آج ہے۔سال 19 ہجری میں امام محمد بن اسحاق اور امام واقدی کے مطابق الجزیرہ ، رہا ، حران، راس، عین،اور نصیبن کی فتوحات ہوئیں۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں