26 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 26
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ بصرہ کے گورنر، اہواز کی فتح، ہرمزان کی بد عہدی، رام ہرمز کی فتح، تشتر کا محاصرہ، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ سپہ سالار، طویل محاصرہ، فتح تشتر، ہرمزان کی گرفتاری، تعاقب اور واپسی، ہرمزان مدینۂ منورہ میں، ہرمزان کی حیرانی، امیر المومنین نے اﷲ کا شکر ادا کیا، حیلے سے پناہ حاصل کرنا، ہرمزان نے اسلام قبول کر لیا، آگے بڑھنے کی اجازت، کسریٰ یزد گرد کا اصطخر کی طرف فرار، سباہ اور شیرویہ کا قبول اسلام
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ بصرہ کے گورنر
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے 17 ہجری میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو بصرہ کا گورنر بنایا۔آپ رضی اﷲ عنہ کو حضرت مغیرہ بن شعبہ کی کچھ شکایات ملی تھی،اِسی لئے انہیں معزول کر کے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کا بصرہ کا گورنر بنایا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو بھیجا،اور فرمایا؛”اے ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ !میں تمہیں حاکم(گورنر) بنا کر ایسی سرزمین کی طرف بھیج رہا ہوں،جہاں شیطان نے انڈے دیئے ہیں،اور اُن میں سے چوزے نکل آئے ہیں۔اِس لئے جو طریقہ(سنتِ نبوی کا) تمہیں معلوم ہے،اُس کی پابندی کرنا۔اور تبدیل مت ہو جانا،ورنہ اﷲ بھی اپنا طریقہ تمہارے ساتھ تبدیل کر لے گا۔“حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا؛”یا امیر المومنین !آپ رضی اﷲ عنہ میری معاونت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اﷲ عنہم کو میرے ساتھ بھیج کر کریں۔کیونکہ یہ صحابہ رضی اﷲ عنہم اِس اُمت اور اُس کے کاموں کے لئے ایسے ہیں،جیسے نمک۔جس کے بغیر کھانا درست نہیں رہتا ہو سکتا۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”جو صحابی رضی اﷲ عنہ تمہیں پسند ہوں انہیں لے جاو¿۔“انہوں نے اُنتیس(۹۲)صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کا انتخاب کیا۔جن میں حضرت انس بن مالک ،حضرت عمران بن حصین،اور حضرت ہشام بن عامر رضی اﷲ عنہم شامل تھے۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ انہیں لیکر روانہ ہوئے،اور ”مرید“میں آکر قیام کیا۔حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے اُن سے مرید میں آکر ملاقات کی۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی ا ﷲ عنہ نے انہیں امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کا خط دیا،جس میں لکھا تھا؛”مجھے ایک اہم خط موصول ہوا ہے،اِسی لئے حضرت ابو موسیٰ رضی اﷲ عنہ کو حاکم (گورنر) بنا کر بھیج رہا ہوں۔جو کچھ تمہارے قبضے میں ہے،وہ سب انہیں سپرد کر کے جلدی واپس آو¿۔“اور اہل بصرہ کو یہ خط تحری فرمایا؛”میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو تم پر حاکم بنا کر بھیجا ہے،تاکہ تمہارے کمزور انسان کو،طاقت ور انسان سے حق دلوائیں۔ اور تمہیں لیکر تمہارے دشمنوں کے خلاف جنگ کریں،اور تمہارے راستوں کو پاک و صاف کریں۔“
اہواز کی فتح
آپ یاد ہو گا کہ جنگ قادسیہ سے فارسیوں کا ایک سپہ سالار ہرمزان بھاگ کو ”اہواز“ چلا گیا تھا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔فارس کا سپہ سالار ہرمزان جنگ قادسیہ سے بھاگ کر اہواز کے دارالحکومت ”خوزستان “چلا گیا تھا،اور اُس کے ارد گرد شہروں پر قابض ہو کر عیسان،دشت عیسان،حدودِبصرہ ،مناذر،اور نہر تیری حدود اہواز تک کے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔چونکہ خوزستان کی سرحد ”بصرہ“سے ملی ہوئی تھی،اور بغیر اُس کی فتح کے بصرہ میں پورے طور سے امن قائم نہیں ہو سکتا تھا۔اِسی وجہ سے حضرت عتبہ بن غزوان رضی ا ﷲعنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ سے فوجی امداد طلب کی۔انہوں نے حضرت نعیم بن مقرن اورحضرت نعیم بن مسعود کو لشکر دیکر حضرت عتبہ بن غزوان کی مدد کے لئے بصرہ اور اہواز کی حدود میں بھیجا۔حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ نے حضرت سلمیٰ بن قین اور حضرت حرملہ بن مریط کو بصرہ کی دوسری سرحد میسان کی طرف بھیج دیا۔انہوں نے بنو عُمر بن مالک کو جو خوزستان میں رہتے تھے،ملکی اور قومی جوش و غیرت دلا کر بلایا۔غائب وائلی اور کلیب وائلی اِس تحریک سے متاثر ہو کر ملنے آئے،اور یہ وعدہ کر لیاکہ جس وقت آپ لوگ مناذر اور نہر تیری پر حملہ کرو گے،ہم بھی شہر کے اندر سے ہرمزان کے سپاہیوں پر حملہ کر دیں گے۔وقت مقررہ پرایک طرف (بصرہ کی طرف)سے حرملہ،اور سلمیٰ نے حملہ کیا،دوسری طرف (کوفہ کی طرف)سے دونوں نعیم نے حملہ کیا۔مسلمان سپہ سالاروں نے دونوں طرف سے ہرمزان پر حملہ کیا،جنگ شروع ہوئی ،اور حسب وعدہ شہر کے اندر سے غالب اور کلیب حملہ آور ہوئے ،اور مناذر اور نہر تیری پر قبضہ کر لیا۔ہرمزان اِس اچانک واقعہ سے گھبرا گیا،اور اُس کی فوج کی ترتیب ختم ہو گئی۔ہرمزان کو شکست ہوئی ،اور وہ جان بچا کر بھاگامسلمانوں نے اُس کا تعاقب کیا،اور ہزاروں فارسیوں(ایرانیوں) کو قتل کیا۔دریائے دجیل پر پہنچ کر مسلمان رک گئے ،اور ہرمزان ”سوق اہواز“کے پل پر سے دریا پار کر کے بھاگ گیا۔لیکن اپنے آپ کو مسلمانوں سے کمزور پاکر دوسرے دن صلح کا پیام بھیجا،جسے مسلمانوں نے جزیہ کی شرط پر قبول کرلیا۔
ہرمزان کی بد عہدی
مسلمانوں نے ہرمزان پر اعتماد کر کے صلح کی،لیکن وہ بد ستور مسلمانوں کی جڑیں کھو کھلی کرنے کی کوشش میں لگا تھا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ہرمزان بد عہدی پر کمر بستہ ہو گیا،اور کردوں کو جمع کر کے جنگ کی تیاری کرنے لگا۔حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ نے حضرت حرقوص بن زہیر کو لشکر دیکر اُس کے مقابلے پر روانہ کیا۔مقام ”سوق اہواز“پر دونوں لشکروں کو مقابلہ ہوا،ہرمزان کو شکست ہوئی ،اور وہ بھاگ کر رام ہرمز چلا گیا۔حضرت حرقوص نے سوق اہواز پر قبضہ کرلیا۔،اور اپنے دائرہ ¿ حکومت کو تشتر تک بڑھا لیا۔حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کو فتح کی خبر دی،اور ہرمزان کے تعاقب میں حضرت جز بن معاویہ کو روانہ کیا۔جو قریہ ¿ شغر اور دورق تک بڑھتے چلے گئے۔ہرمزان نے مجبور ہو کر پھر صلح کی درخواست کی۔ فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کی اِس شرط پر صلح ہوئی کہ ”جتنے شہروں پر مسلمانوں نے قبضہ کر لیا ہے ،وہ اُن کے قبضے میں رہیں گے۔اور باقی شہروں پر ہرمزان کا اِس شرط پر قبضہ رہے گا کہ وہ جزیہ ادا کرتا رہے۔اِس صلح کے بعد حضرت حرقوص نے ”جبل اہواز “پر پڑاو¿ ڈال دیا،اور ویران شدہ شہروں کو آباد کرنے میں مصروف ہو گئے۔
رام ہرمز کی فتح
مسلمانوں سے صلح کرنے کے بعد بھی ہرمزان اپنی فطرت کے مطابق دھیرے دھیرے جنگ کی تیاری کرنے لگا۔اِسی دوران کسریٰ یزد گرد ایک بڑا لشکر تیار کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مسلسل تمام حالات پر نظر رکھے ہوئے تھے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔اِن واقعات کے دوران کسریٰ یزد گرد اہل فارس کو مسلمانوں کے خلاف ابھار رہا تھا،اور اہوازکی رعایا سے مسلمانوں کے خلاف عہد و اقرار لے رہا تھا۔رفتہ رفتہ ایک بہت بڑی عظیم فوج جمع ہو گئی،مسلمانوں نے تمام حالات دربار ِ خلافت میں لکھ بھیجے۔حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ کوفہ سے ایک بڑا لشکر حضرت نعمان بن مقرن کی سپہ سالاری میں ہرمزان کے مقابلہ پر روانہ کرو،تاکہ وہ آگے بڑھنے نہ پائے۔اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ بصرہ سے حضرت سعد بن عدی کو برادر سہیل ایک ایک لشکردے کر اہواز کی طرف بھیج دو۔جس کے مقدمة الجیش(ہر اول )دستے کا سپہ سالار حضرت عرفجہ بن ہرشمہ رضی اﷲ عنہ کو،میمنہ کا سپہ سالارحضرت براءبن مالک کو،اور میسرہ کا سپہ سالار حضرت مجراة بن ثور کو بنا کر بھیجو۔اور دونوں لشکروں کے سپہ سالار اعظم حضرت ابو سبرہ بن ابی رہم رضی اﷲ عنہ ہوں گے۔ہرمزان کو مسلمانوں کے لشکر کے آنے کی اطلاع ملی،تو وہ بھی لشکر لیکر نکلا،اور ”رام ہرمز “میں دونوں لشکروں کا سامنا ہو ا۔دونوں لشکر صف آرا ہوئے،اور ایکدوسرے پر حملہ کر دیا ۔مسلمانوں نے پہلا حملہ ہی اتنا زبردست کیا کہ ہرمزان کو شکست ہو گئی،اور وہ بھاگ نکلا۔حضرت نعمان نے رام ہر مز پر قبضہ کر لیا۔
تشتر کا محاصرہ
حضرت نعمان بن مقرن سے شکست کھا کر ہرمزان تشتر بھاگ گیا،اور وہاں لشکر جمع کرنے لگا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔اِدھر بصرہ سے مسلمانوں کا لشکر آیا،اور جب انہیں معلوم ہو گیا کہ حضرت نعمان نے رام ہرمز پر قبضہ کرلیا ہے،اور ہرمزان تشتر میں لشکر جمع کر کے مسلمانوں سے لڑنے کی تیاری کر رہا ہے،تو وہ تشتر کی طرف بڑھنے لگے۔وہاں فارسیوں(ایرانیوں) کا بہت بڑا اجتماع ہو رہا تھا،اور اہواز کے پہاڑوں سے بھاگ بھاگ کر تشتر میں جمع ہو رہے تھے۔ہرمزان نے شہر پناہ کی فصیل،برجوں، اور قلعے کی مرمت کروائی ،اور اُس کے اطراف میںخندق کھدوائی۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو جب فارسیوں کے انتظامات کی خبر ملی ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ وہ خود لشکر لیکر جائیں ،اور مسلمانوں کو اپنی سپہ سالاری میں جنگ کرائیں۔مسلمانوں نے نے تشتر کا محاصرہ کر لیا،محاصرہ کافی لمبا ہو گیا،اور مہینوں چلا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سہل اہل بصرہ کو لیکر روانہ ہوئے،تاکہ وہ ”سوق الاہواز“میں فروکش ہوں۔وہ رام ہر مز کا قصد کر رہے تھے کہ انہیں اُس کے فتح ہونے کی خبر ملی ،اور یہ خبر بھی ملی کہ ہرمزان تشتر پہنچ گیا ہے۔اِسی لئے وہ سوق الاہواز سے سیدھے تشتر کی طرف روانہ ہوگئے۔حضرت نعمان بھی اہل کوفہ کو لیکر رام ہرمز کی فتح کے بعد تشتر کی طرف روانہ ہو گئے۔حضرات سلمیٰ،حرملہ،حرقص،اور جزءبھی روانہ ہوئے ،اور سب کے سب نے تشتر پہنچ کر محاصرہ کر لیا۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ سپہ سالار
مسلمانوں نے تشتر کا محاصرہ کر لیا،ہرمزان نے شہر پناہ کی فصیل کی تعمیر کروا لی تھی،اور شہر پناہ کے اطرف خندق کھدو ا لی تھی۔جس کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت پریشانی اُٹھانی پڑ رہی تھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت نعمان اہل کوفہ کی قیادت کر رہے تھے،اور حضرت سہل اہل بصرہ کے ساتھ اُن کی مدد کر رہے تھے۔اُن کے مقابلے پر ہرمزان کا لشکر تھا،جو اہل فارس،اہل جبال،اور اہل اہواز کے سپاہیوں پر مشتمل تھا،اُن لوگوں نے خندقیں کھود رکھیں تھیں۔حضرت ابو سبریٰ رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اِس بارے میں لکھا،اور اُن سے امداد طلب کی۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اُن کی مدد کے لئے خود حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو لشکر دیکر بھیجا،اور وہ اُن کی طرف روانہ ہو گئے۔
طویل محاصرہ
مسلمان تشتر کا محاصرہ کئے ہوئے تھے،اور مسلسل حملے کر رہے تھے۔کبھی کبھی ہرمزان اپنا لشکر لیکر شہر سے باہر آتا ،اور شدید جنگ ہوتی تھی۔لیکن جیسے ہی وہ یہ دیکھتا تھا کہ مسلمان حاوی ہو رہے ہیں،تو وہ اپنے لشکر کو لیکر شہر کے اندر بھاگ جاتا تھا،اور شہر کے دروازے بند کر لیتا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اب اہل کوفہ کے سپہ سالار حضرت نعمان تھے،اور اہل بصرہ کے سپہ سالار حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ تھے،اور دونوں لشکروں کے مشترکہ سپہ سالار اعظم حضرت ابو سبریٰ رضی ا ﷲ عنہ تھے۔مسلمانوں نے اہل فارس کا کئی مہینوں تک محاصرہ جاری رکھا،اور اِس دوران اُن کے بہت سے سپاہیوں کو قتل کیا۔حضرت برا¿ بن مالک رضی اﷲ عنہ نے اِس محاصرے کے دوران ایک سو فارسی سپاہیوں کو قتل کیا،حضرت مجزاہ بن ثور نے بھی اسی قدر سپاہیوں کو قتل کیا۔اِسی طرح حضرت کعب بن ثور،حضرت ابو تمیمہاور دوسرے اہل بصرہ اور اہل کوفہ نے بھی اسی قدر فارسی سپاہیوں کو قتل کیا۔اِن میں سے حضرت حبیب بن فرہ،حضرت ربعی بن عام،اور حضرت عامر بن عبد الاسود قابل ذکر ہیں۔تشتر کے محاصرے کے دوران اسی(۰۸) معرکے ہوئے،اور اِن میں زیادہ تر فارسیوں کو شکست ہوئی ،اور وہ شہر کے اندر بھاگے۔آخری حملے میں جب جنگ بہت سخت ہو گئی ،تو حضرت برا¿ بن مالک رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں سے فرمایا؛”اے مسلمانو!تم اﷲ سے دعا مانگو کہ وہ ہمیں فتح عطا فرمائے،اور مجھے شہادت عطا فرمائے۔“مسلمانوں نے دعا کی؛”اے اﷲ !ہمیں فتح عطا فرما۔“اور زبردست حملہ کیا،اور فارسیوں پیچھے دھکیلتے چلے گئے،یہاں تک کہ فارسیوں نے شہر میں داخل ہو کر دروازہ بند کر لیا،اور مسلمانوں نے خندقوں پر قبضہ جما لیا۔
فتح تشتر
مسلمان تشتر کا محاصرہ کئے ہوئے تھے،اور محاصرہ بہت طویل ہونے کی وجہ سے اُکتائے ہوئے تھے، کہ اﷲ کی مدد آئی،اور تشتر فتح ہو گیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب مسلمان تشتر کا محاصرہ کئے ہوئے تھے،اور اس سے تنگ آگئے تھے،کیونکہ جنگ بہت طویل ہو گئی تھی۔اُس وقت حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کے لشکر میں خط لگا کر ایک تیر پھینکا گیا،جس میں لکھا تھا؛”مجھے آپ لوگوں پر بھروسہ اور اطمینان ہے، اسی وجہ سے میں آپ لوگوں سے پناہ کی شرط کا طالب ہوں۔اور میں آپ لوگوں کو وہ راستہ بتاو¿ں گا،جہاں سے آپ لوگ شہر میں داخل ہو سکیں گے۔اور یہ شہر فتح ہو جائے گا۔“مسلمانوں نے بھی خط لگا کر تیر پھینکا،جس میں اُسے پناہ دے دی۔اُس نے دوسرا تیر پھینک کر بتایا ؛”آپ لوگ پانی کے نکلنے کی جگہ پہنچ جائیں،وہاں سے عنقریب شہر کو فتح کر سکیں گے۔“پھر وہ شخص حضرت نعمان کے پاس آیا،اور اُس کے ساتھ حضرت عامر بن عبد قیس،حضرت کعب بن ثور،حضرت مجزاہ بن ثور،حضرت مسکة خبطی،حضرت سوید بن شعبہ،حضرت ورقا بن حارث،حضرت بشیر بن ربیعہ شعمی،حضرت نافع بن زید حمیری ،حضرت عبد اﷲ بن بشیر ہلالی گئے۔اور پانی کی نکاسی کے راستے سے حضرت سوید بن شعبہ،اور حضرت عبد اﷲ بن بشیر شہر میں گھس گئے،اور دروازہ کھول دیا۔باہر مسلمان پہلے سے تیار تھے،اندر کے مسلمانوں نے اور باہر کے مسلمانوں نے ایک ساتھ نعرہ¿ تکبیر بلند کیا،اور بے خبر فارسی سپاہیوں پر حملہ کردیا۔فارسیوں کو شکست ہوئی ،اور مسلمانوں نے شہر تشتر فتح کر لیا۔لیکن فتح ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔
ہرمزان کی گرفتاری
مسلمانوں نے تشتر شہر تو فتح کر لیا تھا،لیکن شہر کے اندر اپنے قلعے میں ہرمزان اپنے حفاظتی دستے کے ساتھ قلعہ بند ہو گیا۔مسلمانوں نے قلعے کا محاصرہ کر لیا،شہر کے اندر بہت بڑا لشکر تھا،اُس میں سے بہت سے فارسی قتل ہوئے ،اور بہت سے فرار ہو گئے۔ہرمزان کے قلعے میں بھی اچھے خاصے سپاہی تھے،اور ہرمزان خود اُن کے ساتھ مسلمانوں سے مقابلے میں شریک تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ہرمزان قلعہ کے اندر گھس گیا،مگر مسلمانوں نے جو شہر کے اندر گھس آئے تھے،اُس کا محاصرہ کر لیا۔(ہرمزان نے دست بدست جنگ شروع کردی،اور حضرت برا¿ بن مالک رضی ا ﷲ عنہ اور حضرت مجزاہ بن ثور رضی اﷲ عنہ کو اُس نے شہید کر دیا۔ابن کثیر)مسلمان ہرمزان کی طرف بڑھے تو وہ بولا؛”تم کیا دیکھ رہے ہو؟تم مجھے تنگی کی حالت میں دیکھ رہے ہو،مگر میرے ترکش میں ایک سو تیر ہیں۔اﷲ کی قسم!جب تک میرے ہاتھ میں ایک بھی تیر باقی رہے گا،اُس وقت تک تم مجھے پکڑ نہیں سکتے ہو،اور میری گرفتاری سے کیا فائدہ ہے؟جب کہ میں تمہارے سو آدمیوں کو نقصان پہنچاو¿ں،اور اِن میں سے کوئی زخمی ہو گا،اور کوئی مقتول ہوگا۔“مسلمانوں نے کہا؛”تم کیا چاہتے ہو؟“وہ بولا؛”میں اِس شرط پر اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کر سکتا ہوںکہ میرے بارے میں تمہارے بادشاہ حضرت عُمر (رضی اﷲ عنہ) فیصلہ کریں گے۔“مسلمانوں نے کہا؛”تمہاری یہ خواہش پوری ہو گی۔“اِس پر اُس نے کمان پھینک دی،اور اپنے آپ کو اُن کے حوالے کر دیا۔مسلمانوں نے اُس کے ہاتھوں اور پیروں میں بیڑی ڈال دی۔
تعاقب اور واپسی
مسلمانوں نے تشتر فتح کرلیا،لیکن بہت سے فارسی بھاگ گئے تھے،مسلمانوں نے اُن کا ”سوس یا سویز“تک تعاقب کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔فتح کے بعد مسلمانوں نے اُس شخص کو جس نے تیر کے ذریعے مسلمانوں کو پیغام بھیج کر بلایاتھا۔اور وہ شخص جو بذات خود نکل کر (رہنمائی کر رہا تھا)۔وہ دونوں آئے،اور کہنے لگے؛”کون ہے ؟جو ہمیں اور ہمارے ساتھیوں کو پناہ دے گا۔“مسلمانوں نے پوچھا ؛”تمہارے ساتھ کون ہے؟“وہ بولے؛”جس نے دروازہ کھولاتھا،جہاں سے آپ لوگ داخل ہوئے۔“لہٰذا اُن کو پناہ دے دی گئی ۔اِس جنگ میں کافی مسلمان شہید ہوئے،اور جن مسلمانوں کو ہرمزان نے خود شہید کیاتھا،اُن میں حضرت مجزاہ بن ثور اور حضرت برا¿ بن مالک رضی اﷲ عنہم شامل تھے۔اِس کے بعد مال غنیمت کی تقسیم ہوئی،اور ہر سوار کو تین ہزار درہم،اور ہر پیدل کو ایک ہزار درہم ملے۔اِس کے بعد حضرت ابو سبریٰ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر تشتر کے شکست خوردہ لوگوں کے تعاقب میں ”سوس“تک گئے۔اُن کے ساتھ حضرت نعمان بن مقرن اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہم بھی تھے،اور ہرمزان بھی ساتھ تھا۔یہ لوگ سوس تک پہنچ گئے،اور مسلمانوں نے اُن کا محاصرہ کر لیا،اور خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو تمام صورت ِ حال سے مطلع کیا۔فاروق ِ اعظم رضی ا ﷲ عنہ نے تحریرفرمایا کہ حضرت عُمر بن سراقہ کو مدینہ منورہ روانہ کر دو،اور حضرت ابو ماسیٰ اشعری رضی ا ﷲ عنہ بصرہ واپس لوٹ جائیں،اور وہاں کے انتظامات سنبھالیں۔اور حضرت مقترب اسود بن ربیعہ رضی اﷲ عنہ کو بصرہ کا سپہ سالار مقرر فرمایا۔(حضرت اسود بن ربیعہ رضی اﷲ عنہ مہاجرین صحابہ میںسے ہیں۔جب رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ،تو عرض کیا؛”میں اِس لئے آیا ہوں کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ کر اﷲ تعالیٰ کا قرب حاصل کروں۔“اسی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ کا لقب”مقترب“پڑ گیا تھا۔)
ہرمزان مدینۂ منورہ میں
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی ہدایات کے مطابق مسلمان واپس لوٹ آئے،اور حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ مال غنیمت کا خمس اور ہرمزان کو لیکر مدینۂ منورہروانہ ہوئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو سبریٰ رضی اﷲ عنہ نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ اور حضرت احنف بن قیس رضی ا ﷲ عنہ کے ساتھ ہرمزان کو مدینہ¿ منورہ خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔جب وہ لوگ مدینہ¿ منورہ کے قریب پہنچے،تو انہوں نے ہرمزان کی بیڑیاں کھول دیں ۔اور اُس کو ریشمی لباس پہنایا،جو سونے سے مرصع تھا،اور اُس کے سر پر وہ تاج رکھا ،جو وہ پہنتا تھا،جو ”آذین“کہلاتا تھا،او ر یاقوت سے مرصع تھا۔اور اُسے اُس کے زیورات پہنائے،تاکہ فاروق ِاعظم اُسے اصلی حالت میں دیکھیں۔پھر وہ مدینہ¿ منورہ میں داخل ہوئے،اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے گھر کی طرف چلے،اور راستے میں لوگوں کو دکھاتے جا رہے تھے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ گھر پر نہیں تھے۔اُن کے بارے میں دریافت کیا گیا،تو معلوم ہوا کہ کوفہ سے ایک وفد آیا ہوا ہے ،اُس کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے ہیں۔وہ سب مسجد گئے تو وہ وہاں بھی نہیں ملے،جب واپس لوٹنے لگے تو مدینہ¿ منورہ کے لڑکوں کے پاس سے گذرے،جو کھیل رہے تھے۔لڑکوں نے کہا؛”کیا آپ لوگ امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کو ڈھونڈ رہے ہیں؟وہ تو مسجد کے دائیں طرف سوئے ہوئے ہیں،اور اپنی لمبی ٹوپی کو تکیہ بنائے ہوئے ہیں۔“
ہرمزان کی حیرانی
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مسجد کے دائیں طرف آرام فرما رہے تھے۔علامہ محمد بن جر یر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کوفہ کے ایک وفد سے ملاقات کرنے کے لئے لمبی ٹوپی پہنے ہوئے بیٹھے تھے۔جب آپ رضی اﷲ عنہ اُن سے گفتگو کے بعد فارغ ہوئے ،تو وہیں اپنی ٹوپی کا تکیہ بنا کر لیٹ گئے تھے۔لڑکوں کے کہنے کے بعد حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ اُن کے پاس ہرمزان کو لیکر پہنچے،تو دیکھا کہ آپ رضی اﷲ عنہ سوئے ہوئے ہیں۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس دُرّہ(کوڑا) رکھا ہوا تھا۔حضرت انس رضی اﷲ عنہ کے ساتھ آئے ہوئے لوگ آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس بیٹھ گئے۔اِس موقع پر ہرمزان نے پوچھا؛”تمہارے امیر المومنین (رضی اﷲ عنہ)کہاں ہیں؟“حضرت انس رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا؛”وہ یہ ہیں۔“ہرمزان نے پوچھا؛”اِن کے محافظ اور دربان کہاں ہیں؟“مسلمانوں نے کہا؛”اِن کا نہ کوئی محافظ ہے،اور نہ ہی کوئی دربان ہے۔نہ ہی کوئی سکریٹری ہے،اور نہ ہی کوئی دفتر ہے۔“ہرمزان بولا؛”پھر تو یہ پیغمبر ہیں۔“مسلمانوں نے کہا؛”یہ پیغمبر نہیں ہیں،مگر پیغمبروں جیسے کام کرتے ہیں۔“اتنے میں لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی ،اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اُن کی باتیںسن کر بیدار ہوگئے۔ہرمزان یہ سب دیکھ کر حیران ہو رہا تھا۔
امیر المومنین نے اﷲ کا شکر ادا کیا
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اپنے اطراف بات کرنے کی آوازیں سن کر بیدار ہوئے ،اور جمع ہونے کی وجہ پوچھی۔علامہ محمد بن جریر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بیدار ہوئے ،اور اُٹھ کر بیٹھ گئے۔پھر انہوں نے ہرمزان کی طرف نگاہ کی،اور فرمایا؛”کیا یہ ہرمزان ہے؟“لوگوں نے کہا؛”جی ہاں۔“اِس پر آپ رضی اﷲ عنہ نے اُسے غور سے دیکھا،اور پھر اُس کے لباس کو دیکھا،اور فرمایا؛”میں دوزخ کی آگ سے اﷲ کی پناہ مانگتا ہوں،اور اُسی سے مدد کا طالب ہوں۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے آگے فرمایا؛”اﷲکا شکر ہے کہ جس نے اسلام کے ذریعے اِس کو (ہرمزان کو)اور اِس کے ساتھیوں کو ذلیل کیا۔اے مسلمانو!تم اِس دین (اسلام) کی پابندی کرو،اور اپنے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے طریقے سے ہدایت حاصل کرو۔تم دنیا حاصل کر کے مت اِتراو¿،کیونکہ یہ دھوکا دینے والی ہے۔“مسلمانوں نے عرض کیا؛”یہ اہواز کو بادشاہ ہے،اور آپ رضی اﷲ عنہ سے بات کرنا چاہتا ہے“
حیلے سے پناہ حاصل کرنا
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ اِسے عام لباس پہناو¿۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”میں اِس سے اُس وقت تک کوئی گفتگو نہیں کروں گاجب تک کہ اِس کے بدن پر کوئی بھی زیور ہو گا۔“آپ رضی اﷲ عنہ کے حکم پر ہرمزان کے تمام زیورات اور ریشمی لباس اُتار کر عام لباس پہنا دیا۔تب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ہرمزان سے فرمایا؛”اے ہرمزان !تمہیں اﷲ سے غداری اور اﷲ کے حکم سے نافرمانی کا انجام کیسا نظر آیا؟“ہرمزان نے کہا؛”اے عُمر(رضی اﷲ عنہ)!دورِ جاہلیت میں اﷲ تعالیٰ نے ہمیں تنہا چھوڑ رکھا تھا،تو ہم تم پر غالب تھے۔کیونکہ اُس وقت اﷲ نہ تمہارے ساتھ تھا،اور نہ ہمارے ساتھ تھا،مگر جب وہ آپ لوگوں کے ساتھ ہو گیا،تو آپ لوگ ہم پر غالب آ گئے۔“امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم دورِ جاہلیت میں ہم پر اِس لئے غالب آگئے تھے،کہ تم متحد تھے،اور ہم منتشر تھے۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم نے بار بار عہد کر کے کیوں توڑا؟“ہرمزان بولا؛”مجھے ڈر ہے کہ اِس سے پہلے کہ میں آپ (رضی اﷲ عنہ ) کوکچھ بتاو¿ں،آپ (رضی اﷲ عنہ) مجھے قتل کروا دیں گے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم اِس بات کا خوف مت کرو۔“اُس نے پانی مانگا ،تو اُسے ایک عام سے پیالے میں پانی دیا گیا،وہ بولا؛”اگر میں پیاس سے مر جاو¿ں،تب بھی اِس پیالے میں پانی نہیں پیوں گا۔“اُس کی پسند کے پیالے میں پانی لاکر دیا گیا۔پیالہ لیکر اُس کا ہاتھ کانپنے لگا،اُس نے کہا؛”مجھے اِس بات کا خوف ہے کہ مجھے پانی پیتے ہوئے قتل کر دیا جائے گا۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”جب تک تم پانی پی نہیں لو گے،تب تک تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔“یہ سُن کر ہرمزان نے پیالے کا پانی گرا دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اِسے پانی لا کر دو،تاکہ اِسے پیاس اور قتل دو چیزوں کی سزا نہ ملے۔“وہ بولا؛”اب مجھے پانی پینے کی کوئی خواہش نہیں ہے،بلکہ میرا مقصد یہ تھا کہ میں آپ(رضی اﷲ عنہ) سے پناہ حاصل کر لوں۔“امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”میں تمہیں قتل کردوں گا۔“اُس نے کہا؛”آپ (رضی اﷲ عنہ ) نے مجھے پناہ دی ہے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم جھوٹ بول رہے ہو۔“
ہرمزان نے اسلام قبول کر لیا
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے ہرمزان نے حیلے سے پناہ حاصل کر لی۔جب اُن سے اُس نے عرض کیا کہ آپ رضی ا ﷲ عنہ نے مجھے پناہ دے دی ہے،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔اِس پر حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا؛”اے امیرالمومنین رضی اﷲ عنہ!یہ سچ کہہ رہا ہے،آپ رضی اﷲ عنہ نے اِسے پناہ دے دی ہے۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے انس رضی اﷲ عنہ !کیا میں حضرت برا¿ بن مالک اور حضرت مجزاة بن ثور رضی اﷲ عنہم کے قاتل کو پناہ دے سکتا ہوں؟اﷲ کی قسم!تم ثبوت پیش کرو،ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔“حضرت انس بن مالک رضی ا ﷲ عنہ نے عرض کیا؛”یا امیرالمومنین رضی اﷲ عنہ !آپ رضی اﷲ عنہ نے ابھی اِس سے فرمایا ہے کہ تمہیں اُس وقت تک کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا،جب تک کہ تم پانی نہ پی لو۔اور یہ جب تک پانی نہیں پیئے گا،تب تک آپ رضی اﷲ عنہ کی پناہ میں ہے۔“یہ سن کر فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے ہرمزان سے فرمایا؛”تم نے مجھے فریب دیکر پناہ حاصل کی ہے،اب جب تک تم پانی نہیں پی لو گے ،تب تک میں تمہیں قتل نہیں کرسکتا۔لیکن پانی پینے کے بعد تم میری پناہ سے نکل جاو¿ گے،اور میں تمہارا قتل کر سکتا ہوں۔ہاں اگر اِس دوران تم نے اسلام قبول کر لیا،تو پھر میں تمہیں معاف کر دوں گا۔“ہرمزان یہ عدل ،سچائی ،اور عہد کی پابندی دیکھ کر حیران رہ گیا،اور اُس نے اسلام قبول کرلیا۔اور خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ سے درخواست کی کہ مجھے آپ رضی اﷲ عنہ اپنی رفاقت میں رکھیں ،تاکہ میں کچھ سیکھ سکوں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُسے مدینہ¿ منورہ میں رہنے کے لئے مکان دیا،اور دو ہزار کا وظیفہ جاری کیا۔
آگے بڑھنے کی اجازت
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو آگے بڑھنے سے منع فرما دیا تھا۔(اِس کا ذکر آگے آ چکا ہے۔)اور مفتوحہ علاقوں میں ہی اسلام کی تبلیغ اور اسلامی احکامات کے نفاذ کا حکم دیا تھا۔اِسی وجہ سے مسلمان ملک عراق تک ہی محدود ہو گئے تھے،اور ملک ایران (عراق ،ایران بعد میں بنائے گئے،پہلے یہ پورا علاقہ اور اِس کے آس پاس کے علاقے ”سلطنت فارس “کہلاتے تھے)میں داخل ہونے سے رُک گئے تھے۔جبکہ ملک ایران میں سلطنت فارس کا دارالخلافہ تھا،اور کسریٰ وہاں سے ملک عراق میں فوجی امداد بھیجتا رہتا تھا،جس کی وجہ سے ملک عراق کے ذمی وقتاً فوقتاًصلح کے معاہدے توڑتے رہتے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ کیا ،اور فرمایا؛”شاید مسلمان ذمیوں کو تکلیفیں دیتے ہیں،جس کی وجہ سے وہ عہد توڑتے ہیں۔“لوگوں نے کہا؛”جہاں تک ہمیں علم ہے،اُن کے ساتھ مسلمان اچھا سلوک اور ایفائے عہد کرتے ہیں۔“آپ رضی ا ﷲعنہ نے فرمایا؛”پھر اِس قسم کے واقعات کیوں رونما ہو رہے ہیں؟“حضرت احنف رضی اﷲ عنہ کھڑے ہوئے ،اور عرض کیا؛”یا امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !میں آپ رضی اﷲ عنہ کو بتاتا ہوںکہ اِس کی وجہ کیا ہے؟دراصل آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو سلطنت فارس میں آگے بڑھنے سے روک دیا ہے،اور حکم دیا ہے کہ ہم پنے مفتوحہ علاقوں میں رہیں۔حالانکہ اُن کا بادشاہ کسریٰ اُن کے ملک میں زندہ سلامت موجود ہے۔اور جب تک وہ موجود رہے گا،وہ لوگ ہم سے جنگ کرتے رہیں گے۔اور جب تک کہ ہم اُن کے بادشاہ اور اُس کی حکومت کا خاتمہ نہیں کریں گے،تب تک یہ واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔اِس لئے ہماری درخواست ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ ہمیں آگے بڑھنے ،اور حملہ کرنے اور پوری سلطنت فارس کو فتح کر کے بادشاہ کو ختم کرنے کی اجازت دے دیں۔تاکہ پھر کوئی ذمی عہد توڑنے کی ہمت نہ کر سکے۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”آپ رضی ا ﷲ عنہ سچ فرماتے ہیں۔“اِس کے بعد مسلمانوں کوآگے بڑھنے،اور ملک ایران میں داخل ہو کر حملہ کرنے کی اجازت دے دی۔
کسریٰ یزد گرد کا اصطخر کی طرف فرار
اِس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے تھے کہ تشتر سے بھاگے ہوئے فارسی سپاہیوں کا تعاقب کرتے ہوئے مسلمان ”سوس یا سویز“تک پہنچ گئے تھے۔درمیان میں ہرمزان کے قبول اسلام کا واقعہ آگیا تھا،اب ہم پھر ملک عراق کی طرف لوٹتے ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب جلولا کی شکست خوردہ فوج یزگرد کے پاس پہنچی،تو اُس نے اپنے خاص لوگوں کو اور موبذ کو بلوایا،اور کہا؛”یہ فوج(مسلمانوں کا لشکر)جس فوج سے بھی مقابلہ کرتی ہے،تو اُسے شکست دے دیتی ہے،تمہاری کیا رائے ہے؟“موبذبولا؛”ہماری رائے یہ ہے کہ آپ یہاں سے نکل کر ”اصطخر“میں قیام کریں،کیونکہ یہ سلطنت کا مرکزی مقام ہے۔اور وہاں اپنے خزانے بھی لے جائیں،اور وہاں سے فوج روانہ کر دیں۔“کسریٰ بادشاہ نے اُس کی رائے پر عمل کیا،اور اصفہان چلا گیا۔وہاں اُس نے سباہ کو بلا کر اُس کے سات تین سو افراد بھیجے،جن میں ستر عظیم افراد تھے۔کسریٰ نے کہا کہ جس شہر سے گزرتے جاو¿ ،جس کو چاہے اپنے ساتھ لیتے جاو¿۔سباہ مسلمانوں کی طرف روانہ ہوا،اور کسریٰ اصطخر کی طرف روانہ ہوا۔اُس وقت حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ ”سوس یا سویز“کا محاصرہ کر رہے تھے،اُس کا حکمراں ہرمزان کا بھائی شہر یار تھا۔سباہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ”کلبانیہ“میں مقیم ہو گیا۔اور اُسے مسلمانوں سے مقابلہ کرنا بہت دشوار لگ رہا تھا۔
سباہ اور شیرویہ کا قبول اسلام
مسلمان سوس یا سویز کا محاصرہ کئے ہوئے تھے،اور سباہ کلبانیہ سے چل کر رام ہرمز اور تشتر کے درمیانی علاقے میں آیا۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو اِس کی اطلاع ملی ،تو انہوں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہ کو اپنا قاصد بنا کر اُس کے پاس بھیجا۔اِدھر سباہ نے نے اُن سرداروں کو جمع کیا،جو اُس کے ساتھ اصفہان سے روانہ ہوئے تھے،اُس نے اُن سے کہا؛”تم جانتے ہو کہ ہم یہ گفتگو کرتے تھے کہ یہ قوم بد بخت اور پریشان ہے۔مگر یہ لوگ (مسلمان)عنقریب اس سلطنت فارس پر غالب آجائیں گے،اور اِن کے مویشی اصطخر کے محلوں اور کارخانوں میں لید کریں گے۔اور وہ اپنے گھوڑوں کو اُس درخت کے ساتھ باندھیں گے۔وہ اُن علاقوں پر غالب آگئے ہیں،جنہیں تم دیکھ رہے ہو۔جس لشکر سے مقابلہ کریں گے،اُس کو شکست دیں گے۔اور جس قلعہ کے پاس اُتریں گے،اُسے فتح کر کے چھوڑیں گے۔اب تم اپنے آپ اِس معاملے پر غور کر لو۔“لوگوں نے کہا؛”ہماری بھی وہی روئے ہے،جو آپ کی ہے۔“وہ بولا؛”تم میں سے ہر ایک کو اپنے تمام متعلقین کے ساتھ میر ساتھ دینا ہوگا۔میری رائے یہ ہے کہ ہم اُن کا مذہب قبول کرلیں۔“انہوں نے آپس میں طے کرکے شیرویہ کو دس بڑے سرداروں سمیت حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہ کے ساتھ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیجا۔شیرویہ نے آپ رضی اﷲ عنہ سے کہا؛”ہم آپ لوگوں کا مذہب قبول کرنے پر آمادہ ہیں،اور اِس شرط پر مسلمان ہوتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ملکر اہل عجم سے جنگ کریں گے،مگر اہل عرب کے ساتھ جنگ نہیں کریں گے۔اور اگر اہل عرب میں سے کوئی ہمارے ساتھ جنگ کرے گا،تو آپ لوگ اُن کے خلاف ہمارا ساتھ دیں گے۔اور جہاں ہم چاہیں گے رہیں گے۔اور یہ معاہدہ ہم سے آپ لوگوں کے سب سے بڑے حاکم کریں گے۔“حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ نے تمام حالات اور اُن کی شرائط لکھ کر خلیفہ¿ دوم رضی ا ﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجا،تو انہوں نے جواب دیا کہ اُن کی شرائط قبول کر لو،اور انہیں اسلام میں داخل کر لو۔اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں