25 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 25
17 ھجری کی شروعات، کوفہ کی تعمیر کی ہدایت، کوفہ کی زمین کی دریافت، کوفہ شہر کی تعمیر، رومیوں اور اہل الجزیرہ والوں کا حمص پر حملہ، اہل الجزیرہ کا فرار،اور مسلمانوں کی فتح، الجزیرہ کی فتح، رقہ اور نصیبن کی فتح، الجزیرہ پر مسلمانوں کا قبضہ، حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے پوچھ گچھ کا حکم، قنسرین کے حاکم (گورنر)سے معزولی کا حکم، حضرت ابو عبیدہ کی حضرت خالد سے محبت، مدینۂ منورہ طلبی کا حکم، امیر المومنین رضی اﷲ عنہ سے ملاقات، اﷲ کامیابیاں عطا فرماتا ہے، طاعون کی وباء، طاعون ِ عمواس کی تاریخ میں اختلاف، نئے حکام(گورنروں) کا تقرر، عُمرہ اور مسجد الحرام کی توسیع
17 ھجری کی شروعات
آپ کی خدمت میں ہم 16 ہجری تک کے حالات پیش کر چکے ہیں۔جب 17 ہجری شروع ہوئی تو خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خلافت میں مملکت اسلامیہ بڑھتی جارہی تھی،اور خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی ذمہ داریاں اور مصروفیات بڑھتی جا رہی تھیں۔اُس وقت مکہ مکرمہ کے گورنر (حاکم)حضرت عتاب بن اُسید تھے۔طائف کے گورنر (حاکم)حضرت حضرت عثمان بن ابی العاص تھے۔یمن کے گورنر(حاکم) حضرت لیلیٰ بن امیہ تھے۔یمامہ اور بحرین کے گورنر (حاکم)حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ تھے۔عمان کے گورنر (حاکم) حضرت حذیفہ بن محصن رضی اﷲ عنہ تھے۔ملک شام کے سب سے بڑے گورنر(حاکم)حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی ا ﷲ عنہ تھے۔اور باقی سب جیسے حضرت یزید بن ابو سفیان دمشق کے گورنر وغیرہ اُن کی نگرانی میں تھے۔ملک عراق کے سب سے بڑے گورنر(حاکم) حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ تھے۔اور باقی سب جیسے بصرہ کے گورنر حضرت مغیرہ بن شعبہ وغیرہ اُن کی نگرانی میں تھے۔
کوفہ کی تعمیر کی ہدایت
مدائن میں اور اُس کے آس پاس کے علاقے مسلمانوں کو راس نہیں آرہے تھے،اور وہ کمزوری اور بیماری کا شکار ہو رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب جلولاءاور حلوان پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا،اور حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ اپنے ساتھی مجاہدین کے ساتھ حلوان میں مقیم ہو گئے۔اِسی دوران تکریت اور موصل بھی فتح ہو گئے،اور وہاں حضرت عبد اﷲ بن معتم اور حضرت افکل اپنے ساتھی مجاہدین کے ساتھ مقیم ہو گئے۔اور حضرت سعد رضی اﷲ عنہ مدائن میں مقیم رہے۔اس کے بعد اُن کے جو وفود مدینہ منورہ خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاوق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو کمزور اور بیمار دکھائی دیتے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اِس کمزوری کی وجہ پوچھی،تو انہوں نے بتایا کہ ”اُس علاقے کی آب و ہوا ہمارے لئے ناموافق ہے۔“یہ سن کر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کو حکم لکھ کر بھیجا۔”عربوں کو بھی وہی علاقہ موافق آتا ہے،جو اُن کے اونٹوں کے موافق ہو۔اس لئے تم حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ اور حضرت حذیفہ رضی اﷲ عنہ کو اچھے مقام کی تلاش میں بھیجو،یہ دونوں لشکر کے بہترین رہنما ہیں۔وہ دونوں ایسا خشک علاقہ دریافت کریں،جس کے اور مدینہ منورہ کے درمیان نہ کوئی سمندر ہو،اور نہ دریا ہو۔“
کوفہ کی زمین کی دریافت
خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے حضرت سلمان فارسی ،اور حضرت حذیفہ رضی اﷲ عنہم کو بہترین زمین کی تلاش میں روانہ کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ مدائن سے نکل کر انبارآئے،اوردریائے فرات کے مغربی علاقے میں گھومے،انہیں کوئی جگہ پسند نہیں آئی۔یہاں تک کہ وہ اُس جگہ پہنچے ،جہاں آج کوفہ ہے۔حضرت حذیفہ رضی اﷲ عنہ دریائے فرات کے مشرقی علاقے میں گھومتے رہے۔انہیں بھی کوئی جگہ پسند نہیں آئی ،یہاں تک کہ وہ بھی اُس جگہ پہنچے ،جہاں آج کوفہ ہے۔کوفہ اُس مقام کو کہتے ہیں،جہاں سُرخ ریت اور سنگ ریزے دونوں چیزیں ملی ہوئی ہوں۔دونوں کو یہ مقام بہت پسند آیا،اور دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم نے اِس علاقے پر برکت اور رحمت کے لئے دعا کی۔
کوفہ شہر کی تعمیر
حضرت سلمان فارسی اور حضرت حذیفہ رضی اﷲ عنہم مدائن واپس آئے،اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو کوفہ کے مقام سے مطلع کیا۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو لکھا کہ تم جلولا اور حلوان کے لوگوں پر حضرت قباذ کو حاکم بناو¿،اور اپنے ساتھیوں کو لیکر میرے پاس آجاو¿۔انہوں حکم کی تعمیل کی،اورمدائن آگئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عبد اﷲ بن معتم کو بھی یہی حکم دیا،اور وہ بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدائن آگئے۔اب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کے ساتھ مدائن سے کوفہ کی طرف کوچ کیا۔یہ ماہِ محرم الحرام کی سترہ 17 تاریخ 17 ہجری کا دن تھا۔کوفہ ”فتح مدائن کے ایک سال اور دومہینے بعد بسایا گیا۔یعنی حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے خلیفہ بننے کے تین سال اورآٹھ مہینے کے بعد کوفہ بسایا گیا۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے کوفہ بسانے کی شروعات مسجد سے کی۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی ا ﷲ عنہ نے کوفہ شہر کی حد بندی کا حکم دیا،اور ایک بہت ہی ماہر اور طاقتور تیر انداز کو بلایا۔اور چاروں طرف تیر چلانے کا حکم دیا،جہاں جا کر تیر گرا،وہاں تک احاطہ گھیر دیا،اور مسجد بنانے کا حکم دیا۔اور لوگوں کو اس کے آس پاس اپنے اپنے گھر بنانے کا حکم دیا۔اور جب سب لوگوں کے گھر بن گئے ،تو اُن کے اطراف کافی آگے سے ہر طرف ”شہر پناہ“کی فصیل بنوائی۔مسجد کی محراب کے سامنے ”بیت المال“اور اپنا گھر بنوایا۔پہلے تمام گھر کچے تھے،جو ایک سال کے دوران آگ لگنے سے جل گئے،تو خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اِس شرط پر پکے مکانات بنانے کی اجازت دی کہ وہ اسراف سے کام نہ لیں،اور حد سے تجاوز نہ کریں۔اِس میں سڑکیں چالیس گز کی،تیس گز کی،اور بیس گز کی بنائی گئیں۔اور سب سے باریک گلی سات گز کی تھی۔
رومیوں اور اہل الجزیرہ والوں کا حمص پر حملہ
حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ ملک شام میں ”حمص“میں قیام پذیر تھے،اور نہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو قنسرین کا منتظم بنا دیا تھا۔الجزیرہ سلطنت ِ فارس اور سلطنت ِ روم کی سرحد پر واقع تھا،اور حمص کے قریب تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اسی سال رومیوں نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ اور اُن کے مسلمان مجاہدین پر جو حمص میں تھے،حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔اور انہوں نے اہل الجزیرہ سے خط وکتابت کر کے اپنے ساتھ ملالیا۔وہ دونوں لشکر حمص پر حملہ کرنے کے لئے روانہ ہوئے۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو اِس حملے کی اطلاع ملی ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے آس پاس کے مجاہدین کو بلا لیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بھی قنسرین سے آگئے۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہر شہر میں زائد گھوڑے ہمیشہ تیار رکھتے تھے۔کوفہ میں بھی چارہزار زائد گھوڑے تیار تھے۔ اُنہیں جب رومیوں اور الجزیرہ والوں کے حملے کی خبر ملی ،تو انہوں نے فوراًحضرت سعد رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ تم حضرت قعقاع بن عمرو رضی ا ﷲ عنہ کو ایک لشکر دیکر فوراً حمص روانہ کرو،کیونکہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کا محاصرہ کر لیا گیا ہے۔اور حضرت سہیل بن عدی کو دوسرا لشکر دیکر الجزیرہ کی طرف روانہ کرو،وہ رقہ پہنچ کر الجزیرہ والوں کو روکیں،کیونکہ اہل الجزیرہ نے ہی رومیوں کو حمص پر حملہ کرنے کے لئے اُکسایاہے۔حضرت عبد اﷲ بن عتبان کو ”نصیبن“کی طرف روانہ کرو۔اس کے بعد یہ دونوں لشکر ”حران اوررہا“کی طرف جائیں۔ولید بن عتبہ کو الجزیرہ کے عرب قبائل بنو ربیعہ اور بنو تنوخ کی طرف روانہ کرو۔اور حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کو بھی الجزیرہ کی طرف روانہ کرو۔اگر الجزیرہ والوں سے جنگ شروع ہو جائے ،تو سب کے سپہ سالار اعظم حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ ہوں گے۔
اہل الجزیرہ کا فرار،اور مسلمانوں کی فتح
حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے پاس ملک شام کے تمام سپہ سالار جمع ہو گئے۔اور اُدھر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے حمص اور الجزیرہ کی طرف کئی لشکر روانہ کر دیئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بھی قنسرین سے آگئے،اور دوسری فوجی چھاونیوں سے بھی سپہ سالار اپنے لشکر کے ساتھ آگئے۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے تمام سپہ سالاروں سے مشورہ کیا کہ ہم باہر نکل کر مقابلہ کریں یا حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کی طرف سے امدادی لشکر آنے تک قلعہ بند ہو جائیں؟حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مشورہ دیا کہ میدان میں نکل کر مقابلہ کیا جائے،لیکن دوسرے سب سپہ سالاروں نے یہ مشورہ دیا کہ قلعہ بند ہو جائیں۔حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے مشورے کو قبول نہیں کیا،اور قلعہ بند ہونے کا فیصلہ کیا۔اہل الجزیرہ جنہوں نے رومیوں کو حمص پر حملہ کرنے کے لئے اُکسایاتھا۔ جب انہیں اپنے ہم وطنوں کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ کوفہ سے کئی لشکر روانہ ہو چکے ہیں،اور یہ معلوم نہیں کہ وہ الجزیرہ کی طرف آرہے ہیں یا حمص کی طرف جارہے ہیں؟یہ خبر سن کر الجزیرہ والے اپنے شہروں میں واپس چلے گئے،اور رومی لشکر اکیلا رہ گیا۔حضرت ابو عبیدہ ن جراح رضی اﷲ عنہ نے جب یہ حالات دیکھے ،تو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے مشورے پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا،اور لشکر لیکر میدان میں رومیوں کے مقابلے پر آگئے۔مسلمانوں نے زبردست حملہ کیا،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ تو اپنے لشکر کے ساتھ بجلی بنے ہوئے تھے۔آخر کار اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔اور حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ فتح کے تین دن بعد حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچے۔
الجزیرہ کی فتح
مسلمانوں کو الجزیرہ والے بہت تکلیف دے رہے تھے،اِسی لئے مسلمان الجزیرہ کی طرف متوجہ ہوئے۔اور آخر کار اﷲ تعالیٰ نے الجزیرہ پر مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔الجزیرہ کب فتح ہوا؟اِس بارے میں مورخین اور علمائے کرام کی دو رائیں ہیں۔امام سیف کی روایت میں ہے کہ الجزیرہ ۷۱ ہجری میں فتح ہوا،اور امام محمد بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ الجزیرہ ۹۱ ہجری میں فتح ہوا۔علامہ محمد بن جریر طبری نے دونوں روایات پیش کی ہیں۔ہم یہاںطوالت کی وجہ سے امام محمد بن اسحاق کی روایت نہیں پیش کرر ہے ہیں۔سیف کی روایت میں ہے کہ جب حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲعنہ نے لکھا کہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو حمص میں رومیوں اور الجزیرہ کے لوگوں کے خلاف مدد دینے کے لئے حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو چار ہزار کا لشکر دیکر بھیجا جائے ۔تو حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ بھی لشکر لیکر الجزیرہ کی طرف روانہ ہوئے۔اور دوسرے سپہ سالار بھی روانہ ہوئے،اِن میں سے حضرت سہیل بن عدی اور اُن کے لشکر دریائی راستے سے الجزیرہ کے علاقہ ”رقہ“میں پہنچ گئے۔
رقہ اور نصیبن کی فتح
الجزیرہ والوں نے مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کر کے بہت بڑی غلطی کی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب الجزیرہ والوں نے سنا کہ مسلمان کوفہ سے روانہ ہو گئے ہیں،تو وہ حمص کو چھوڑ کر اپنے علاقے میں چلے گئے۔حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ نے وہاں پہنچ کر محاصرہ کر لیا۔آخر کار انہوں نے صلح کر لی،اِس کی وجہ یہ ہے کہ الجزیرہ والوں نے آپس میں مشورہ کیا۔کہ ہم ملک عراق اور ملک شام درمیان رہتے ہیں۔اِس لئے ہمیں اِن میں سے کسی ایک کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔اِسی لئے جب حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ الجزیرہ کے درمیانی مقام پر تھے،تو انہیں صلح کا پیغام دیا۔جو آپ رضی اﷲ عنہ نے قبول کیا۔مصالحت کے فرائض حضرت سہیل بن عدی نے انجام دیئے۔اور ”رقہ“مسلمانوں کے قبضہ میں آ گیا۔اِسی دوران حضرت عبد اﷲ بن عبد اﷲ بن عتبان دریائے دجلہ کے راستے سے موصل پہنچے ،اور وہاں سے ”نصیبن“لشکر لیکر پہنچے ،تو وہاں کے باشندوں نے بھی اہل رقہ کی طرح صلح کر لی۔
الجزیرہ پر مسلمانوں کا قبضہ
مسلمانوں نے آسانی سے رقہ اور نصیبن پر قبضہ کر لیا،اِس کے بعد جب آگے بڑھے ،تو باقی الجزیرہ کے لوگوں نے بھی مزاحمت نہیں کی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب اہل رقہ اور اہل نصیبن مطیع ہو گئے ،تو حضرت عیاض رضی اﷲ عنہ،حضرت سہیل،اور حضرت عبد اﷲکو لیکر ”حران“کی طرف بڑھے۔راستے میں پڑنے والے تمام علاقوں پر قبضہ کرتے گئے۔جب وہ حران پہنچے،تو وہاں کے لوگوں نے بھی صلح کرلی،اور جزیہ دینے کو تیار ہو گئے۔اور حضرت عیاض رضی اﷲ عنہ نے انہیں بھی اپنی ذمی رعایا بنا لیا۔اِس کے بعد آپ رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت سہیل بن عدی اور حضرت عبد اﷲ بن عبد اﷲ کو ”رہا“کی طرف بھیجا ،تو وہاں کے باشندوں نے بھی صلح کرلی،اور ذمی بننا پسند کیا۔اِس طرح پورا ملک الجزیرہ آسانی سے فتح ہو گیا۔
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے پوچھ گچھ کا حکم
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے پوری مملکت اسلامیہ میں ہر جگہ حاکم مقرر کر رکھے تھے۔او ر ہر ایک پر بہت سخت نظر رکھتے تھے۔علامہ محمد بن جری طبری لکھتے ہیں۔ ۷۱ ہجری میںحضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ ”حمص“کے حاکم تھے۔اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اُن کے ماتحت ”قنسرین“کے حاکم تھے۔دمشق کے حاکم حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ تھے۔اُردن کے حاکم حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ تھے۔فلسطین کے حاکم حضرت علقمہ بن محرز تھے۔ابراءکے حاکم حضرت عمرو بن عبسہ تھے۔سواحل کے حاکم حضرت عبد اﷲ بن قیس تھے۔(طبری)ہر علاقہ پرخلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ایک حاکم (گورنر)مقرر کر رکھا تھا۔تمام حاکموں (گورنروں)پر آپ رضی اﷲ عنہ بہت سختی سے نظر رکھتے تھے۔اور کسی بھی حاکم کی ذرا سی بھی غلطی پر سخت کاروائی کرتے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی بہت فکر رہتی تھی،اِسی لئے اُن کی ہر خبر رکھتے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ ۷۱ ہجری میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ نے جابیہ کے اُس طرف دشمن کے علاقے پر حملہ کیا،اور وہاں سے مال غنیمت حاصل کیا۔جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ واپس قنسرین آئے،تو لوگوں کو یہ اطلاع ملی کہ اُن کے گروہ نے بہت مال حاصل کیا ہے۔یہ سن کر مختلف اطراف سے لوگ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس امداد حاصل کرنے کے لئے آئے۔اِن میں حضرت اشعث بن قیس بھی تھے۔وہ قنسرین میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس مدد لینے کے لئے آئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت اشعث بن قیس کو دس ہزار درہم کی امداد دی۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں تھا۔انہیں ملک عراق سے تحریری اطلاع ملی کہ کون کون (جنگی مہم کے لئے)روانہ ہوئے تھے۔اور ملک شام سے اطلاع ملی کہ کن کن لوگوں کو کتنے عطیے دیئے گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے قاصد کے ذریعے فوراً حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو حکم بھیجا کہ اِس بارے میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے پوچھ گچھ کریں۔
قنسرین کے حاکم (گورنر)سے معزولی کا حکم
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اﷲ کے احکامات کے بارے میں بہت سخت تھے۔اور کسی بھی حاکم (عامل،گورنر) کی ذرا سی بھی کوتاہی برداشت نہیں کرتے تھے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے بارے میں جب تفصیل کا علم آپ رضی اﷲ عنہ کو ہوا ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے ایک خط لکھ کر حضرت بلال رضی اﷲ عنہ(علامہ ابن کثیر نے قاصد کا نام حضرت بلال رضی اﷲ عنہ لکھا ہے) کو دیا۔اور حکم دیا کہ یہ لیکر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے پاس لے جاو¿،اور کہنا کہ اِس پر عمل کریں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے قاصد کو بلوایا۔اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو یہ خط لکھا۔”وہ حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ کو کھڑا کر کے اُن کے عمامے سے باندھ دیں،اور اُن کی ٹوپی اُتار لیں۔تاکہ وہ صاف طور پر بتائیں کہ انہوں نے حضرت اشعث کو کہاں سے مدد دی؟اپنے مال میں سے دیا تھا ،یا مال غنیمت میں سے دیا تھا؟اگر وہ کہیں کہ مال غنیمت میں سے دیا تھا،تو سمجھو کہ انہوں نے خیانت کا اقرار کیا ہے۔اور اگر وہ یہ کہیں کہ انہوں نے اپنے مال میں سے دیا ہے،تو انہوں نے اسراف کیا ہے۔ہر حالت میں تم انہیں(قنسرین کی گورنری سے) معزول کر دو۔اور اُن کا کام تم اپنے ذمے لے لو۔“
حضرت ابو عبیدہ کی حضرت خالد سے محبت
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کاخط لیکر حضرت بلال رضی اﷲ عنہ ملک شام حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے ،اور خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کا حکم نامہ دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو ”قنسرین“سے ”حمص“بلایا۔جب وہ آئے تو انہوں نے مسلمانوں کو جمع کیا،اور خود منبر پر بیٹھ گئے۔قاصدنے کھڑے ہو کرپوچھا؛”اے خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ! کیا تم نے اپنے مال سے دس ہزار کا عطیہ دیا،یا مال غنیمت میں سے دیا؟“انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ،حالانکہ قاصد نے بار بار پوچھا۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ بھی خاموش تھے۔پھر حضرت بلال رضی اﷲ عنہ کھڑے ہوئے،اور فرمایا؛”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے تمہارے بارے میں یہ حکم دیا ہے۔“اتنا فرما کر انہوں نے اُن کی ٹوپی اُتار لی،اور انہیں اُن کے ہی عمامے سے باندھ دیا،اور فرمایا؛”بتاو¿!کیا تم نے عطیہ اپنے مال سے دیا تھا،یا مال غنیمت سے دیا تھا؟“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”میں اپنے مال میں سے دیا تھا۔“یہ سن کر انہوں نے اُن کا عمامہ کھول دیا،اور دوبارہ ٹوپی پہنائی،اور پھر اپنے ہاتھ سے اُن کا عمامہ باندھا،اور فرمایا؛”ہم اپنے حاکموں کا حکم سنیں گے،اور اطاعت کریں گے،اور اُن کی عزت و خدمت کریں گے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ حیران تھے کہ انہیں (قنسرین کے حاکم کے عہدے سے )معزول کر دیا گیا ہے یا وہ اُس پر بحال ہیں؟حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے اُن سے محبت کی وجہ سے انہیں اِس بات سے مطلع نہیں کیا۔
مدینۂ منورہ طلبی کا حکم
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مدینۂ منورہ میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے آنے کا نتظار کر رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے پاس حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ طویل عرصے تک نہیں آئے،تو انہیں خیال ہو ا کہ (معزولی کی خبر حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ سے چھپائی گئی ہے۔)لہٰذا انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو اپنے پاس آنے کا حکم تحریر کر کے بھیجا۔اِس موقع پرحضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ وہ تحریر لیکر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے،اور فرمایا؛”اﷲ آپ رضی اﷲ عنہ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے !آپ رضی اﷲ عنہ کا امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کا حکم چھپانے کا کیا مقصد تھا؟آپ رضی اﷲ عنہ نے وہ بات چھپائی جسے میں آج سے پہلے جاننا چاہتا تھا۔“حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”میں نہیں چاہتا تھا کہ جب تک ممکن ہو،میں آپ رضی اﷲ عنہ کو رنجیدہ کروں۔کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ آپ رضی اﷲ عنہ کو اِس بات سے رنج ہو گا۔“
امیر المومنین رضی اﷲ عنہ سے ملاقات
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اِس کے بعد امیر المومنین حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق قنسرین کی گورنری دوسرے کے حوالے کی،اور مدینۂ منورہ روانہ ہوئے۔علامہ محمد بن جری طبری لکھتے ہیں۔اِس کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ”قنسرین“ گئے،اور اپنی رعایا کے سامنے الوداعی تقریر کی،اور انہیں الوداع کہا۔پھر وہاں سے روانہ ہو کر ”حمص“آئے اور وہاں بھی عوام سے الوداعی خطاب فرما کر انہیں بھی الوداع کہا۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ مدینہ¿ منورہ روانہ ہوئے،اور خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور شکایت کی کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ!تم نے بہت بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے،اور کسی نے تمہارے جیسا کام نہیں کیا۔لیکن قومیں جو کام انجام دیتی ہیں،اُن کا حقیقی صانع اﷲ تعالیٰ ہے۔“اِس کے بعد خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”یہ دولت کہاں سے آئی ؟“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا؛”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ!مال غنیمت میں سے میرے مقررہ حصوں سے آئی ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنے اطمینان کے لئے ساٹھ ہزار درہم سے زائد جو رقم ہو وہ آپ رضی اﷲ عنہ کی ہے۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اُن کا سامان کی قیمت لگائی تو بیس ہزار درہم زیادہ نکلی،جسے خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ ”بیت المال میں داخل کردی۔“پھر امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ !اﷲ کی قسم!تم میرے نزدیک بہت شریف ہو،اور میں تمہیں بہت پسند کرتا ہوں۔آج کے بعد تمہیں مجھ سے کوئی شکایت نہیں ہو گی۔“
اﷲ کامیابیاں عطا فرماتا ہے
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے پوری مملکت ِ اسلامیہ کے حکام اور عوام کو لکھ کر بھیجا کہ کامیابیاں کسی خاص بندے کی وجہ سے نہیں حاصل ہوتی ہیں،بلکہ اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کو کامیابیاں عطا فرماتا ہے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے تما م شہر والوں کو تحریرفرمایا؛”میں نے حضرت خالدبن ولید رضی اﷲ عنہ کو ناراضگی یا بد دیانتی کی وجہ سے معزول نہیں کیا ہے۔بلکہ اِس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اِن پر فریضةہو گئے تھے۔(چونکہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے سو(100)سے زیادہ جنگوں میں حصہ لیا ہے ،اور ہر جنگ میں فتح پائی ہے،اِسی لئے مسلمانوں کا حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ پر بہت زیادہ یقین اور اعتماد ہو گیا تھا۔اور یہ بہت نقصان دہ چیز ہے۔)اِس لئے مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ اُن پر بے حد بھروسہ اور اعتماد نہ کریں،اور دھوکہ میں نہ آجائیں۔اِس لئے میں نے چاہا کہ انہیں حقیقت معلوم ہو جائے کہ اصل کارساز اﷲ تعالیٰ ہے۔(اور فتح اﷲ تعالیٰ عطا فرماتا ہے)اِس لئے انہیں کسی فتنے میں مبتلا نہیں ہونا چاہیئے۔“
طاعون کی وباء
17 ھجری میں ملک عراق اور ملک شام اور ملک مصر میں طاعون پھیلا۔(آج سے پچاس ،ساٹھ سال پہلے ہر سال کئی قسم کی بیماریاں پھیلتی تھیں۔اِن میں ہیضہ ،پیلگ،طاعون وغیرہ کافی مشہور ہیں۔ہم جس زمانے میں پیدا ہوئے،اس زمانے میں انسان نے اِن بیماریوں کا علاج نکال لیا ہے۔اور اِن بیمایوں پر قابو کر لیا ہے۔اِس لئے اب یہ وبائیں کبھی کبھی آتی ہیں۔)علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔طاعون کی وباءملک شام ،ملک مصر،اور ملک عراق میں پھیلی۔اور ملک مصر اور ملک عراق سے تو جلد ہی ختم ہو گئی،لیکن ملک شام میں کافی عرصے رہی۔اِس طاعون کی وجہ سے جو ماہِ محرم اور ماہِ صفر المضفر میں نازل ہوا تھا،اِن شہروں کے بہت سے لوگ مر گئے۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اِس کی اطلاع دی گئی۔اور آپ رضی اﷲ عنہ ملک شام کے سفر پر روانہ ہوئے۔جب آپ رضی اﷲ عنہ ملک شام کے قریب پہنچے ،تو معلوم ہوا کہ یہاں پر یہ وباءبہت شدید ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ فرمایا۔تو حضرت عبد الرحمن بن عوف اور دوسرے صحابہ رضی اﷲ عنہم نے بتایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :”جب کسی سرزمین میں وباءہو تو وہاں نہ جاو¿۔اور جب کسی سرزمین میں یہ وباءنازل ہو جائے،اورتم وہاں موجود ہو،تو وہاں سے مت نکلو۔“اِس کے بعد آپ رضی ا ﷲعنہ وہاں سے واپس آگئے۔
طاعون ِ عمواس کی تاریخ میں اختلاف
طاعون ِ عمواس جو ملک عراق،ملک مصر اور ملک شام میں پھیلا تھا،اُس کی تاریخ کے بارے میں مورخین اور علمائے کرام میں اختلاف ہے۔لیکن ایک بات یہاں ذہن میں رکھیں کہ چونکہ اُس زمانے میں اسلامی تاریخ لکھنے کا رواج شروع نہیں ہوا تھا،اِسی لئے تاریخوں میں ہمیں اختلاف ملے گا۔اور خاص بات یہ ہے کہ یہ اختلاف دنوں کا،ہفتوں کا یا مہینے کانہیں ہے ،بلکہ سال کا ہے۔اِس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ اُسی وقت حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲعنہ نے اسلامی تاریخ کی ابتداءکی ہجرت سے کی تھی۔اور ہجرت کے سولہ سال بعد کی تھی،اور مملکت اسلامی اُس وقت بہت بڑی تھی۔اِس لئے تمام لوگوں تک اسلامی تاریخ کی تفصیل پہنچنے میں وقت لگا،اور راویوں نے جب واقعہ بیان کیا ،تو اُس میں اسلامی تاریخ کا حساب لگانے میں ایک سال آگے یا پیچھے ہوگیا۔جیسا کہ کچھ علمائے کرام کے مطابق طاعون عمواس ۷۱ ہجری میں آیا،اور کچھ علمائے کرام کے مطابق ۸۱ ہجری میں آیا۔لیکن مہینہ سب نے یہی بتایا کہ ماہِ محرم اور ماہِ صفر ہی بتایا۔اِس لئے یہ اختلاف کوئی اختلاف نہیں ہے۔
طاعون عمواس میں جلیل القدر صحابہ کا انتقال
طاعون عمواس میں بڑے بڑے جلیل القدر صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کا انتقال ہوا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔عمواس کے طاعون میں کی خبروں میں اختلاف ہےکہ یہ کون سے سن میں نمودار ہوا۔محمد بن اسحاق (صاحب المغازی) مسلمہ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ پھر 18 ہجری شروع ہوا،اور اِس سال عمواس کا طاعون پھیلا۔جس میں بہت سے لوگ فنا ہوئے،خاص طور سے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ ،جو ملک شام میں مسلمانوں کے سپہ سالار ِ اعظم تھے۔اور حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ،حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ،حضرت حارث بن ہشام رضی اﷲ عنہ،حضرت سہیل بن عمرو رضی اﷲ عنہ ،حضرت عتبہ بن سہیل رضی اﷲ عنہ وغیرہ کا انتقال اِس طاعون عمواس سے ہوا۔ابو معشر روایت کرتے ہیں کہ عمواس اور جابیہ کا طاعون 18 ہجری میں ہوا۔
نئے حکام(گورنروں) کا تقرر
ملک شام میں پھیلی طاعون کی وباءکے دوران خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو کسی کام کے لئے مدینہ منورہ بلایا،لیکن وہ ملک شام میںمسلمانوں کے ساتھ ڈٹے رہے ۔اور اُن کا اِس بیماری سے انتقال ہو گیا۔اُن کی جگہ حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے گورنر بنے ،تو وہ بھی ملک شا م میںہی ڈٹے رہے۔اور اُن کا بھی اِسی بیماری سے انتقال ہوگیا۔اِسی دوران حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کا بھی اِسی بیماری سے انتقال ہو گیا۔اور جب اُن کی جگہ حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ گورنر بنے،تو انہوں نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ محفوظ علاقے میں چلے جائیں۔جب وبا ءختم ہوئی ،تو وہ سب واپس آگئے۔خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے ملک شام میں نئے حکام کا تقرر کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیںکہ جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو حضرات ابو عبیدہ بن جراح اور حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہم کے انتقال کی خبر ملی۔تو انہوں نے حضرت معاویہ بن ابو سفیان کو دمشق کا سپہ سالار بنایا،اور یہاں کے خراج کا نگران مقرر فرمایا۔اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو اردن کا سپہ سالار اور حاکم ِ خراج مقرر فرمایا۔
عُمرہ اور مسجد الحرام کی توسیع
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے 17 ہجری میں ماہِ رجب المرجب میں عُمرہ کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے 17 ہجری میں عُمرہ کیا ،اور بقول امام واقدی مسجد الحرام کی توسیع کی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مکۂ مکرہ میں بیس دن قیام فرمایا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے خانہ¿ کعبہ کے آس پاس کے مکانات گرا کر اُس کے اطراف مسجد کی توسیع کی۔اور مکانات کے مالکوں کو قیمت ادا کی۔جن لوگوں نے قیمت لینے سے انکار کر دیا تھا،اُن کے پیسے بیت المال میں جمع کرا دیئے،اور اعلان کر دیا کہ جب چاہیں آکر قیمت لے سکتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ماہِ رجب المرجب میں عُمرہ ادا فرمایا تھا۔اور اُس وقت مدینہ¿ منورہ پر حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کو اپنا نائب بنایا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حرم شریف کے چبوتروں کی از سر نو تعمیر کرنے کا حکم دیا۔اور اِس کام پر حضرت محرمہ بن نوفل ،حضرت ازہر بن عبد عوف،حضرت حویطب بن عبد العزیٰ اور حضرت سعید بن یربوع کو مقرر کیا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں