جمعہ، 4 اگست، 2023

24 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


24 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 24

احمقوں (شرپسندوں) کا حملہ، خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت، حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی مظلومانہ شہادت، احمقوں نے بیت المال لوٹ لیا، تجہیز و تکفین، حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت پر صحابۂ کرام کے تاثرات، اولیات ِ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ ، اگلی کتاب

احمقوں (شرپسندوں) کا حملہ

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی نے حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کو امیرحج بنایا تو اُن کے ساتھ حج پرروانہ ہونے کے لئے آس پاس کے علاقوں کے مسلمان بھی آ کر جمع ہونے لگے ۔باہری مسلمان جب احمقوں کو دیکھتے تو انہیں برا کہتے اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی طرف داری کرتے تھے ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : احمقوں نے جب یہ دیکھا کہ حجاج امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی طرف مائل ہو رہے ہیں اور اُن کے مقرر کئے ہوئے امیر حج کے ساتھ حج کو جارہے ہیں ۔اطراف و جوانب سے جو لوگ آتے وہ بھی خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کا دم بھرتے ہیں تو سب کے سب امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے پر تُل گئے اور اُن کی شہادت کو اپنی گلوخاصی کا ذریعہ سمجھ کر سب نے حملہ کر کے دروازہ کھولنے کا قصد کیا ۔ امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ جو اُس وقت نماز پڑھ رہے تھے اور سورہ طٰہٰ شروع کی تھی ۔چونکہ گھر میں جتنے لوگ تھے سب نماز میں شریک تھے اِس لئے کسی نے بھی احمقوں کو کسی بھی فعل سے نہیں روکا ،نماز سے فارغ ہونے کے بعد سب لوگ چلے گئے اور امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ بیٹھ کر قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگے ۔جس وقت اِس آیت وقالوا حسبنا اﷲ و نعم الوکیل پر بہنچے تو حاضرین سے مخاطب ہو کر فرمایا : ” رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ سے اقرار لیا تھا اور میں اُس پر قائم ہوں ۔“ یہ فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ نے صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کے بیٹوں کو لڑنے سے روکا ۔حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہ سے فرمایا : ” تم اپنے باپ کے پاس واپس چلے جاؤ ۔“ اِس کے باوجود حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہ احمقوں سے لڑے ۔حضرت مغیرہ بن اخنس بن شریق رضی اﷲ عنہ چند لوگوں کو لے کر آئے اور احمقوں سے مقابلہ کرنے لگے اور اِس مقابلے میں شہید ہو گئے ۔پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ یہ فرماتے ہوئے آئے :” اے لوگو ! مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلاتے ہو ۔“ اور لڑنے لگے۔

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت

حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ احمقوں سے مقابلہ کر رہے تھے کہ خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے انہیں بھی لڑنے سے روک دیا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : ” امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اُن کو ( حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ کو ) بھی لڑائی سے روکا ۔اِس کے بعد احمق لوگ مکان کے پیچھے سے جس جانب عمرو بن حرام کا مکان تھا سیڑھی لگا کر گھس آئے ۔جو لوگ سامنے کے دروازے پر تھے اُن لوگوں کو اِس کی اطلاع تک نہیں ہوئی ۔ایک احمق امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس گیا اور خلافت کی بابت بحث کرنے لگا ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے انکارکیا ۔یہ شخص واپس آیا پھر دوسرا پھر تیسرا گیا اور ہر ایک نے خلافت چھوڑنے کی بابت گفتگو کرتا اور واپس آجاتا ۔اِسی دوران حضرت عبد اﷲ بن سلام رضی اﷲ عنہ آئے ۔انہوں نے احمقوں کو سمجھانا شروع کیا تو احمق لوگ لڑنے مرنے پر آمادہ ہو گئے ۔اِس کے بعد محمد بن ابوبکر صدیق امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس گئے اور دیر تک گفتگو کرتے رہے جس کے ذکر کی ضرورت نہیں ہے ۔پھر شرمندہ ہو کر واپس چلے آئے۔اِس کے بعد کمینوں کا ایک گروہ پہنچا ۔اُن میں سے ایک نے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ پر تلوار چلائی جسے سیدہ نائلہ بنت قراضہ ( حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی بیوی ) رضی اﷲ عنہا نے

تلوار کو ہاتھ سے روکا تو انگلیاں کٹ گئیں ۔ دوسرے نے وار کیاتو خون کا قطرہ اُس قرآن پاک پر گرا جس کی خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ تلاوت کر رہے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری اور امام ابن اثیر کی روایت میں ہے کہ محمد بن ابو بکر صدیق نے خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ سے کافی دیر گستاخانہ گفتگو کی پھر آپ رضی اﷲ عنہ کی داڑھی مبارک کو پکڑ لیا ۔امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اگر تمہارے والدِ محترم حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ہو تے تو وہ بھی اِس طرح میری داڑھی نہ پکڑتے ۔“ محمد بن ابو بکر صدیق یہ سن کر شرمندہ ہو گئے اور خاموشی سے واپس آکر احمقوں سے الگ ہو گئے ۔ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ احمقوں کو روکنے کی کوشش کی ۔

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی مظلومانہ شہادت

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو احمقوں نے انتہائی مظلومانہ حالت میں شہید کیا ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے خلاف احمقوں کا محاصرہ جاری رہا یہاں تک کہ ” ایام تشریق “ گز رگئے اور تھوڑے سے لوگ حج سے واپس بھی آگئے ۔باغیوں کو اطلاع ملی کہ حجاج کرام مدینۂ منورہ کی طرف آنے کا عزم کئے ہوئے ہیں تاکہ امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کو احمقوں سے بچا سکیں ۔اِس کے علاوہ احمقوں کو یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے حضرت حبیب بن مسلمہ کو ایک لشکر دیکر بھیجا ہے اور حضرت عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح نے معاویہ بن خدیج کوایک لشکر دے کر بھیجا ہے اور کوفہ سے حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ بھی لشکر لے کر روانہ ہو چکے ہیں اوربصرہ سے حضرت مجاشع بھی ایک لشکر لے کر روانہ ہو چکے ہیں اور یہ چاروں لشکر مدینۂ منورہ کے قریب پہنچ چکے ہیں ۔پس اِس موقع پر احمقوں نے کسی کی بات پر کان نہیں دھرا اور اپنی رائے پر عمل کرنے کا پختہ عزم کر لیا اور اپنی کوشش میں کوئی کوتاہی نہیں چھوڑی ۔احمقوں نے مدینۂ منورہ میں لوگوں کی کمی اور حج کی وجہ سے اُن کی غیر حاضری سے پورا فائدہ اُٹھایا اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے گھر کے دروازے کو جلا دیا اُور اُن کے گھر سے ملحقہ عمرو بن حزم کے گھر سے دیوار پھاندی۔لوگوں نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی طرف سے شدید مقابلہ کیا اور باہم شدید قتال کیا اور ایک دوسرے کو دعوت مبارزت دی ۔حضرت ابو ہریرہ کہنے لگے : ” اِ س دن شمشیر زنی کرنا اچھا ہے ۔“ امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے ساتھیوں کی ایک جماعت شہید ہو گئی اور احمقوں میں سے بھی کافی لوگ مارے گئے ۔حضرت عبد اﷲ بن زبیر اور حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہم کو بھی کافی زخم آئے۔امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کی طرف سے شہید ہو نے والوں میں حضرت زیادہ بن نعیم فہری ، حضرت مغیرہ بن اخنس بن شریق اور حضرت نیار بن عبد اﷲ اسلمی تھے ۔جب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے یہ صورت ِ حال دیکھی تو مسلمانوں کو قسم دی کہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ جائیں تو وہ سب واپس چلے گئے جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے ۔اب آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس گھر والوں اور آزاد کئے غلاموں کے سوا کوئی نہیں رہا ۔احمق لوگ دروازے اور دیواروں پر سے آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس آ گئے اور آپ رضی اﷲ عنہ نماز پڑھ رہے تھے اور سورہ طٰہٰ کی تلاوت کر رہے تھے ۔احمق لوگ غالب آگئے تھے اور گھر کا دروازہ اور چھپر جل چکے تھے اور آگ کے بیت المال تک پہنچنے کا اندیشہ ہو گیا تھا ۔امیر المومنین رضی اﷲ عنہ قرآن پاک لیکر تلاوت کرنے بیٹھ گئے اور جب اِس آیت وقالو ا حسبنا اﷲ و نعم الوکیل پر پہنچے تو سب سے پہلے جو شخص آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس آیا اُسے ”موت اسود “ کہا جاتا ہے ۔اُس نے شدت سے آپ رضی اﷲ عنہ کا گلہ گھونٹا حتیٰ کہ آپ رضی اﷲ عنہ بے ہوش ہو گئے اور آپ رضی اﷲ عنہ کے حلق میں سانس آنے جانے لگی ۔پس اُس نے اِس خیال سے آپ رضی اﷲ عنہ کو چھوڑ دیا کہ اُس نے آپ رضی اﷲ عنہ کو شہید کر دیا ہے ۔ اِس کے بعد محمد بن ابو بکر صدیق نے داخل ہو کر داڑھی پکڑ لی پھر شرمندہ ہو کر بھا گ کر نکل گیا ۔پھر ایک اور شخص آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس آیا اُس کے پاس تلوار تھی ،اُس سے آپ رضی اﷲ عنہ کو تلوار ماری تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے ہاتھ سے بچاؤ کیا تو ہاتھ کٹ گیا ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اﷲ کی قسم ! یہ پہلا ہاتھ ہے جس نے مفعل کو لکھا ہے اور ہاتھ سے خون کا پہلا قطرہ اِس آیت فسیکفیکھم اﷲ پر گرا ۔پھر ایک اور شخص تلوار سونتے ہوئے آیا تو سیدہ نائلہ رضی اﷲ عنہا اُس کے سامنے آگئیں تاکہ آپ رضی اﷲ عنہ کو بچائیں اور تلوار کو پکڑ لیا۔ اُس شخص نے تلوار کو کھینچا تو سیدہ نائلہ رضی اﷲ عنہا کی انگلیاں کٹ گئیں ۔ پھر ایک شخص نے خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کے پیٹ پر تلوار رکھ کر اُس پر اپنا بوجھ ڈال دیا ۔ایک اور روایت میں ہے کہ محمد بن ابوبکر صدیق کے جانے کے بعد عافقی بن حرب نے آگے بڑھ کر حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے منہ پر لوہے کی ایک سلاخ ماری اور آپ رضی اﷲ عنہ کا سامنے جو مصحف رکھا ہوا تھا اُس پر پاؤں مارا تو مصحف گھوم گیا اور پھر حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے سامنے ٹک گیا اور اُس پر آپ رضی اﷲ عنہ کا خون بہنے لگا ۔پھر سودان بن حمران تلوار لیکر آگے بڑھا تو سیدہ نائلہ رضی اﷲ عنہا نے روکا تو اُس نے آپ رضی اﷲ عنہا کی انگلیاں کاٹ دیں اور پھر تلوار مار کر حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو شہید کر دیا ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے آزاد کردہ غلام نے آ کر سودان کو تلوار ماری اور اُسے قتل کر دیا اور اُس غلام نے قتہ نامی شخص کا بھی قتل کر دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” عمروہ بن حق حملہ کر کے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے سینے پر چڑھ کر بیٹھ گیا جب کہ آپ رضی اﷲ عنہ کے اندر کچھ جان باقی تھی ۔اُس وقت اُس نے آپ رضی اﷲ عنہ پر نیزے سے نو حملے کئے ۔عمرو بن حق خود کہتا ہے ” میں نے اِن میں سے تین حملے اﷲ کے لئے کئے اور چھ حملے اِس لئے کئے کہ میرے سینے میں انتقام کی آگ بھڑکی ہوئی تھی ۔“

احمقوں نے بیت المال لوٹ لیا

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے کے بعد احمقوں نے لوٹ مار شروع کردی ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے کے بعد احمقوں نے آپ ضی اﷲ عنہ کے غلاموں سے مقابلہ کیا اور چند غلام بھی شہید ہو گئے ۔احمقوں نے گھر میں جو کچھ پایا لوٹ لیا ۔عورتوں کے کپڑے زیورات تک چھین لئے ۔بیت المال کی طرف گئے اور اُسے بھی لوٹ لیا ۔احمقوں میں سے ایک نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا سر کاٹنے کی کوشش کی تو عورتوں نے شور مچایا ۔ابن عدیس نے کہا : ” جانے دو اِس کے سر سے ہمیں کوئی غرض نہیں ہے ۔“ بیان کیا جاتا ہے کہ جس نے امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے کا بیڑہ اُٹھایا تھا وہ کنانہ بن بشیر تھا اور اُسی نے تلوار چلائی تھی ۔عمرو بن حق نے نیزہ کے چند زخم لگائے تھے ۔عمیر بن ضابی نے ٹھوکریں ماری تھیں جس سے کئی پسلیاں ٹوٹ گئیں تھیں ۔ٹھوکریں لگاتے وقت وہ کہتا جاتا تھا کہ کیوں ! تم نے ہی میرے باپ کو قید کیا تھا جو بے چارہ قید ہی کی حالت میں مر گیا ۔

تجہیز و تکفین

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی عنہ کو شہید کرنے کے بعد احمقوں کی انقام کی آگ نہیں بجھی تھی اور وہ آپ رضی اﷲ عنہ کی تجہیز و تکفین میں بھی رکاوٹ ڈالنے لگے ۔علامہ عبد الرحن بن خلدون لکھتے ہیں : امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲکی شہادت اٹھارہ (18) ذی الحجہ 35 ہجری جمعہ کے روز ہوئی ۔تین دن تک بے گوروکفن پڑے رہے ۔حضرت حکیم بن حرام اورحضرت جبیر بن مطعم دونوں حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کے پاس گئے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے دفن کرنے کی اجازت دے دی ۔رات کے وقت مغرب اور عشاءکے درمیان جنازہ لیکر نکلے ۔جنازے کے ساتھ حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہ ابو جہم بن حذیفہ اور مروان بن حکم تھے ۔جنت البقیع کے باہر ”حس کوکب “ میں دفن کیا گیا ۔حضرت جبیر بن مطعم نے نماز پڑحائی لیکن بعض مورخوں کا خیال ہے کہ مروان نے اور بعض کے مطابق حضرت حکیم بن حرام نے نماز پڑھائی تھی ۔روایت کی جاتی ہے کہ احمقوں نے دفن کرنے اور جنازہ پڑھنے سے بھی تعرض کیا تھا ۔لیکن حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے اُن کو جھڑکا اور سختی سے روکا ۔بعض کا خیال ہے کہ حضرت علی ،حضرت طلحہ ، حضرت زید بن ثابت اور حضرت کعب بن مالک رضی اﷲ عنہم بھی جنازے میں شریک تھے اور غسل کے بغیر اُنہیں کپڑوں میں دفن کیا جو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ شہادت کے وقت پہنے ہوئے تھے ۔ شہادت کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی عُمر مبارک بیاسی (82) سال یا اٹھاسی (88) سال یا پچھتر (75) سال تھی ۔آپ رضی اﷲ عنہ لگ بھگ بارہ سال خلیفہ رہے ۔

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت پر صحابۂ کرام کے تاثرات

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت عالم اسلام کے لئے بہت بڑا سانحہ تھی اور پورے عالم اسلام پر اِس کے گہرے اثرات پڑے ۔صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے لئے تو یہ بہت ہی بڑا جھٹکا تھا ۔خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کی شہادت پر حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” جس دن حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ شہید ہوئے مجھے اِس قدر غم ہوا کہ میری عقل زائل ہو گئی اور اپنی زندگی بُری معلوم ہونے لگی ۔“ حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” انہوں نے ( احمقوںم نے ) سازش کی اور جو وہ چاہتے تھے وہ پورا نہیں ہو سکا ۔اُن کے لئے ہلاکت ہے ۔“ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوششیں دنیاوی زندگی میں اکارت گئیں ،حالانکہ وہ خیال کرتے تھے کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں ۔ اے اﷲ ! تُو انہیں پشیمان بنا اور پھر اپنی گرفت میں لے ۔“ حضرت سعید بن زید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اے لوگو ! جو مظالم تم نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ پر کئے اگر اُن کی تاب نہ لا کر اُحد پہاڑ بھی پھٹ جائے تو کچھ زیادہ نہیں ہے ۔“ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ جنت میں جائیں گے اور اُن کو شہید کرنے والے جہنم میں جائیں گے ۔“ حضرت عبد اﷲ بن سلام رضی اﷲ عنہ نے پہلے احمقوں سے فرمایا : ” حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنا تو بہت بڑی بات ہے تمہاے دلوں میں اِس کا خیال بھی نہیں آنے پائے ۔اﷲ کی قسم ! جو کوئی انہیں شہید کرے گا وہ کوڑھی ہو جائے گا ۔اﷲ کی قسم ! اﷲ کی شمشیر ابھی تک نیام میں ہے اگر تم نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو شہید کر دیا تو یاد رکھنا اﷲ تعالیٰ اپنی شمشیر بے نیام کر دے گا اور مسلمانوں کے درمیان ہمیشہ کے لئے خونریزی کا سلسلہ جاری و ساری ہو جائے گا ۔ یاد رکھو ! ایک نبی علیہ السلام کے قتل کے عوض ستر (70) ہزار آدمی اور ایک خلیفہ کے قتل کے بدلہ میں پینتیس (35) ہزار آدمی قتل کئے جاتے ہیں ۔ اِس کے بعد بھی آپسی اتفاق و اتحاد بہت مشکل ہی سے ہوتا ہے ۔“ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت عبد اﷲ بن سلام رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” لوگوں نے اپنے لئے فتنہ کا دروازہ کھول لیا ہے ا ور یہ دروازہ قیامت تک بند نہیں ہو گا ۔“ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اگر سب لوگ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے قتل پر متفق ہو گئے ہوتے تو یقینا آسمان سے پتھر برستے ۔“ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : ” اﷲ کی قسم ! حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ مظلوم شہید کئے گئے ہیں میں اُن کے قاتلوں سے قصاص کا مطالبہ کروں گی ۔“ علامہ عمادا لدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” سب ے پہلا فتنہ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنا ہے اور آخری فتنہ دجال کا آنا ہے ۔“ 

 اولیات ِ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ 

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے سب سے پہلے لوگوں کے لئے جاگیریں مقرر فرمائیں ۔سب سے پہلے جانوروں کے لئے چراگاہیں قائم کیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ تکبیر میں آواز نیچی رکھیں ( اذان کی طرح بلند نہ ہو ) ۔جمعہ کے دن اذان ِ اول دینے کا حکم صادر فرمایا ۔ سب سے پہلے موذنوں کی تنخواہیں مقرر فرمائیں ۔سب سے پہلے لوگوں کو خود ہی ذکوٰة نکالنے کا حکم دیا ۔سب سے پہلے خلیفہ ہیں جو اپنی والدہ محترمہ کی زندگی میں ہی خلیفہ مقر رہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے سب سے پہلے پولیس اور اُس کے عہدے دار مقرر فرمائے ۔سب سے پہلے مسجد میں مقصورہ تعمیر کرایا ۔

اگلی کتاب

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی خدمات اتنی زیادہ ہیں کہ اُس کے لئے اچھی خاصی ضخیم کتاب تیا رہو جائے گی۔ ہم بس اتنے پر ہی اکتفاءکرتے ہیں ۔اب ان شاءاﷲ آپ کی خدمت میں خلیفۂ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا ذکر پیش کریں گے ۔

٭....٭....٭   


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں