24 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 24
جلولا کا محاصرہ، جنگ جلولاء فتح جلولاء کسریٰ کا فرار، حلوان کی فتح، مدائن کے برابر مال غنیمت، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کا اُمت ِ مسلمہ کے لئے خوف، تعاقب کی ممانعت، جنگ تکریت، فتح تکریت، فتح موصل، فتح ماسبذان، فتح قرقیساء، 16 ہجری کے کچھ اہم واقعات، اسلامی تاریخ کی ابتداء (سن ھجری کا اجراء)، صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ
جلولا کا محاصرہ
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ مدائن میں ہی مقیم ہو گئے۔اُدھر کسریٰ یزدگرد اپنی کاروائیاں کر رہا تھا،اور آپ رضی اﷲ عنہ اُس کے بارے میں مسلسل خبریں معلوم کر رہے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب کسریٰ یزد گردبن شہر یار مدائن سے بھاگ کر حلوان کی طرف گیا،تو اُس نے راستے میں شہروں سے مدد گاروں،فوجوں اور جوانوں کو جمع کرنا شروع کر دیا۔اور بہت سے لوگ اور عجمیوں(فارسیوں)کا ایک لشکر ِجرّاراُس کے پاس اکٹھا ہو گیا۔اُس نے اُن سب پر مہران کو سپہ سالار مقرر کیا،اور کسریٰ حلوان چلا گیا۔اور جو فوج اُس نے اکٹھی کی تھی،اُسے اُس نے اپنے اور مسلمانوں کے درمیان ”جلولائ“میں ٹھہرایا،اور اُس کے گرد ایک عظیم خندق کھودی۔اور وہاں انہوں نے لشکر،جنگ کے سامان اور آلات ِحصار کے ساتھ قیام کیا۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی ا ﷲ عنہ نے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اس کے متعلق تفصیل لکھ کر بھیجی ،تو انہوں نے حضرت سعد رضی ا ﷲ عنہ کو حکم دیا کہ تم مدائن میں ہی قیام کرو۔اور اپنے بھتیجے حضرت ہاشم بن عتبہ کو ایک لشکر کا سپہ سالار بنا کر جلولاءکی طرف بھیجو۔اوراُس کے ہر او ل دستے(مقدمة الجیش) کا سپہ سالار حضرت قعقاع بن عمر رضی اﷲ عنہ کو ،اور میمنہ کا سپہ سالارحضرت سعد بن مالک کو ،میسرہ کا سپہ سالار اُن کے بھائی حضرت عُمر بن مالک کو،اور ساقہ کا سپہ سالار حضرت عمرو بن مرہ جہنی کو بنا کر بھیجو۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ¿ دوم کے حکم کی تعمیل کی،اور اپنے بھتیجے کے ساتھ بارہ ہزار کا ایک لشکر بھیجا۔جس میں سرکردہ انصار و مہاجرین صحابہ رضی اﷲ عنہم ،اور عرب کے بڑے بڑے سردار بھی تھے۔یہ صفر المضفر 16 ہجری کا واقعہ ہے۔حضرت ہاشم بن عتبہ اپنا لشکر لیکر مجوسیوں(فارسیوں)کے پاس پہنچ گئے،جو جلولاءمیں مقیم تھے،اور انہوں نے اپنے شہر کے اِرد گرد خندق کھود رکھی تھی۔حضرت ہاشم بن عتبہ نے اُن کا محاصرہ کر لیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔جنگ جلولاءکی اصل وجہ یہ ہے کہ اہل عجم مدائن سے بھاگ کر جلولاءپہنچے۔یہاں سے اہل آذربائیجان،اہل باب،اہل جبال ،اور اہل فارس کے راستے الگ الگ ہو جاتے ہیں۔لہٰذا انہوں نے متفق ہو کر یہ کہا؛”اگر تم یہاں سے جدا ہو گئے،تو پھر کبھی اکٹھے نہیں ہو سکو گے۔کیونکہ یہ مقام ہمیں ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے،اِس لئے ہم سب کو مل کر عربوں (مسلمانوں) کے خلاف جنگ کرنی چاہیئے۔اگر جنگ میں ہمیں فتح ہو تو یہی ہماری آرزو ہے، اور اگر شکست ہوئی تو ہم اپنا فرض ادا کر سکیں گے،اور دنیا کے سامنے معذرت پیش کر سکیں گے۔“یہ عہد انہوں نے آگ کو سامنے رکھ کر اُس کی قسم کھا کر کیا تھا۔(فارسی آگ کی پوجا کرتے تھے۔)یہ فیصلہ کر کے انہوں نے شہر کے اطراف خندق کھودی ،اور وہاں مہران رازی کی زیر قیادت اکٹھے ہو گئے۔کسریٰ یزد گرد حلوان چلا گیا،اور وہاں سے اُن کی امداد کرتا رہا۔مسلمانوں نے جلولا ءمیں دشمنوں کا محاصرہ کر لیا،اور خندق کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔اہل فارس نے محاصرہ کو طول دیا ،اور وہ صرف ضرورت کے وقت ہی باہر نکلتے تھے۔اُن میں فارسیوں (ایرانیوں) کے علاوہ دوسرے عجمی بھی تھے۔
جنگ جلولاء
مسلمانوں نے جلولاءکا محاصرہ سخت کردیا۔لیکن یہ محاصرہ کئی مہینے چلا،کیونکہ کسریٰ دشمنوں کو ہر قسم کی امداد مسلسل بھیج رہا تھا۔وہ لوگ شہر کے باہر نکلتے اور مسلمانوں سے مقابلہ کرتے ،اور جب ہارنے کی نوبت آتی تو شہر میں گھس کر دروازے بند کر لیتے تھے۔اور مسلمان بھی اُن پر مسلسل حملے کرتے رہتے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مسلمانوں نے جلولاءمیں اسی(۰۸)حملے کئے،اور ہر موقع پر اﷲ تعالیٰ انہیں کامیابی عطا فرماتا تھا،لیکن مکمل کامیابی ابھی تک نہیں ملی تھی۔دشمن مسلمانوں کا انتہائی خوف و دہشت سے مقابلہ کرتا تھا۔حضرت ہاشم بن عتبہ مسلمانوں سے فرماتے تھے”یہ وہ منزل ہے،جس کے بعد ایک اور منزل(آخرت)آئے گی۔“حضرت سعد رضی اﷲ عنہ انہیں ہر قسم کی امداد مدائن سے برابر بھیج رہے تھے۔آخر کار حضرت ہاشم بن عتبہ نے ایک فیصلہ کن حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا،اور مسلمانوں سے فرمایا؛”تم اﷲ کے لئے بہادری سے جنگ کرو،تمہیں ثواب بھی ملے گا،اور مال غنیمت بھی حاصل ہو گا۔تم اﷲ کے لئے کام کرو۔“اس کے بعد مسلمانوں نے حملہ کر دیا،جب جنگ شدت پر آئی ،تو اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ایسی آندھی بھیج دی ،جس سے فضا تاریک ہو گئی۔اور دشمنوں کے سامنے پیچھے ہٹنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہ گیا تھا۔ایسی صورت میں جب اُن کے سوار خندق میں گرنے لگے،تو انہوں نے اپنے قریب ایسا راستہ بنایا ،جہاں سے گھوڑے چڑھ کر شہر میں جاسکیں۔اِس طریقہ سے قلعہ بندی میں رخنہ پڑ گیا۔
فتح جلولاء
جلولاءمیں فضا تاریک تھی،اور فارسیوں نے واپسی کے لئے خندق پر اتنا راستہ بنا لیا تھا کہ ایک گھوڑا جاسکے۔انہوں نے یہ اِس لئے کیا کہ تاریکی کی وجہ سے اُن کے گھوڑے خندق میں گر رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مسلمانوں کو اِس بات کی خبر ہو گئی،اور انہوں نے کہا کہ ہم دوبارہ اُن پر حملہ کریں گے،اور یا تو اُن کے شہر میں گھس جائیں گے،یا پھر شہید ہو جائیں گے۔جب مسلمان دوبارہ حملہ کرنے کے لئے آئے ،تو اہل فارس نے خندق کے اِرد گرد وہے کی باڑھ لگا دی تھی،لیکن انہوں نے آمدو رفت کے لئے ایک راستہ چھوڑ رکھا تھا۔اور یہیں سے مسلمانوں نے اُن پر شدیددباو¿ ڈالا،فارسیوں نے بھی زبردست مزاحمت کی۔اور وہ ایسی بہادری سے لڑے کہ ”لیلة الحریر“کے سوا کسی اور جنگ میں اِس طرح نہیں لڑے تھے۔مگر یہ جنگ زیادہ اہم اور زیادہ مختصر تھی۔حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ اُس راستے سے جہاں سے انہوں نے حملہ کیا تھا،اُن کی خندق کے دروازے تک پہنچ گئے۔فوراًآپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے قریب کے مسلمانوں سے فرمایا کہ وہ یہ اعلان کریں۔انہوں نے بلند آواز سے مسلمانوں کو پکارا؛”اے مسلمانو!تمہارا سپہ سالار خندق میں داخل ہو گیا ہے،تم جلدی سے اُس کی طرف متوجہ ہو جاو¿“یہ سنتے ہی مسلمانوں نے اُس راستے پر ہلہ بول دیا،یہاں تک کہ وہ اُس جگہ پہنچ گئے،جہاں حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ تھے۔اب فارسی اور دوسرے عجمی سپاہی دائیں بائیں بھاگنے لگے،اور وہ خندق میں گر کر ہلاک ہونے لگے،اور لوہے کی باڑوں میں پھنس گئے۔مسلمانوں نے انتہائی اطمینان سے اُن کا قتل عام شروع کردیا،اور وہ لوگ بھاگ بھی نہیں سکے۔اُس دن فارسیوں اور دوسرے عجمیوں کے ایک لاکھ سے زیادہ آدمی قتل ہوئے۔اور پوری خندقیںاُن کی لاشوں سے پٹی پڑی تھیں۔
کسریٰ کا فرار
اﷲ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں کو جلولا میں فتح عطا فرمائی۔اور مسلمانوں کو بے شمار مال غنیمت حاصل ہوا۔ایک لاکھ سے زیادہ دشمن جلولا میں قتل ہوئے،لیکن اُن کے علاوہ کافی دشمن بھاگنے میں کامیاب ہوگئے،اور اُن کا رخ حلوان کی طرف تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ہاشم بن عتبہ نے حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو دشمنوں کا تعاقب کرنے کا حکم دیا۔وہ اُن کی تلاش میں خانقین تک گئے،وہاں انہوں نے مہران رازی کو گرفتار کر لیا۔انہوں نے خیرزان یا فیرزان کو بھی پکڑنا چاہا،لیکن وہ بھاگ کر پہاڑوں میں گھس گیا۔جب کسریٰ یزد گرد کو مسلمانوں کے آنے کی خبر ملی ،تو وہ حلوان سے نکل کر پہاڑوں کی طرف بھاگ گیا۔حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ حلوان آئے،اُن کے ساتھ مختلف قبائل کا لشکر تھا۔وہ وہیں خیمہ زن ہو گئے،تاکہ سواد،عراق اور پہاڑ کے درمیان برابر برابر کے فاصلے پر رہیں۔
حلوان کی فتح
حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ جب خانقین میں مہران رازی اور خیرزان یا فیرزان سے جنگ کر رہے تھے۔انہوں مہران کو گرفتا ر کر کے قتل کردیا ،اور خیرزان یا فیرزان پہاڑوں کے اُس پار بھاگ گیا۔اُسی وقت کسریٰ بھی حلوان سے نکل کر پہاڑوں کے پار ”رے“کی طرف بھاگ گیا،اور حلوان میں خسرو شنوم کو اپنا نائب بنا دیا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب کسریٰ شاہ یزد گرد کو اہل جلولاءکی شکست کی اطلاع ملی،اور یہ بھی معلوم ہوا کہ مہران بھی مارا گیا ہے۔تو وہ حلوان سے نکل کر ”رے“کی طرف روانہ ہوا،اور حلوان میں ایک لشکر کا سپہ سالار خسرو شنوم کو بنا کر اور اپنا نائب بنا کر چھوڑ دیا۔حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ اُس کے مقابلے کے لئے روانہ ہوئے،اور جب وہ اپنے لشکر کے ساتھ حلوان سے ایک فرسخ کے فاصلے پر ”قصرِ شیرین“میں پہنچے ،تو خسرو شنوم اُن کے مقابلے کے لئے نکلا۔اور حلوان کا بڑا زمیندارزیلبی بھی لشکر لیکر آیا۔حضرت قعقاع رضی اﷲ عنہ نے اُن دونوں لشکروں سے مقابلہ کیا،جنگ میں زیلبی مارا گیا۔اور خسرو شنو بھاگ گیا،اور مسلمانوں نے حلوان پر قبضہ کر لیا۔حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے وہاں چند قبیلوں کو بسایا،اور اُن پر حضرت قباذ کو حاکم بنا دیا۔اور خود لشکر لیکر آگے بڑھ کر ملک عراق اور ملک ایران کے سرحدی پہاڑوں کے سامنے خیمہ زن ہو گئے۔
مدائن کے برابر مال غنیمت
مسلمانو کو جلولاءمیں بھی بہت زیادہ مال غنیمت حاصل ہوا،اور یہ لگ بھگ مدائن کے مال غنیمت کے برابر تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مال غنیمت میں سونے یا چاندی کی بنی ہوئی اونٹنی ملی،جس کے گلے میں قیمتی ہار تھا۔اُس پر ایک مرد سوار تھا،جو سونے کا بنا ہوا تھا،اور اُس کے گلے میں قیمتی ہیروں کا ہار تھا۔اِس کے علاوہ اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عجمیوں اور فارسیوںسے لگ بھگ سب مال غنیمت اور مویشی دلوائے،اور وہ بہت کم لے کربھاگ سکے تھے۔ اِس مال غنیمت کی تقسیم کے نگران حضرت سلمان بن ربیعہ تھے،اُنہی کے سُپرد مال کا جمع کرنا تھا،اور وہی اس کی تقسیم کے ذمہ دار بھی تھے انہیں عرب ”سلمان الخیل“بھی کہتے تھے۔ جلولاءکے مال غنیمت کی تقسیم میں ہر مسلمان کو نو ہزار درہم اور نو مویشی ملے۔اور جنگ جلولاءمیں ہر مسلمان کو اُسی قدر حصہ ملا،جس قدر مدائن میں تھا۔حضرت ہاشم بن عتبہ مال غنیمت کا خمس نکال کر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ لیکر واپس آئے۔ جنگ جلولاءمیں جو مال لوگوں میں تقسیم کیا گیا،وہ تین کروڑ درہم تھا،اور اُس کا خمس ساٹھ لاکھ تھا۔
خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کا اُمت ِ مسلمہ کے لئے خوف
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے جنگ جلولا ءکا مال غنیمت کا خمس اور فتح کی خوشخبری اور تمام حالات لکھ کر خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس قضائی اور ابو معزز کے ہاتھ بھیجا،اور اُس کا حساب زیاد بن ابو سفیان کے ہاتھوں بھیجا۔پورا مال غنیمت مسجد نبوی کے صحن میں ڈھیر کر دیا گیا،اور چادر سے ڈھک دیا گیا تھا۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جب چادریںاُٹھا کر مال غنیمت میں یاقوت،زبر جد،اور جواہرات کو دیکھا ،تو آپ رضی اﷲ عنہ رونے لگے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”یا امیر المومنین!آپ رضی اﷲ عنہ کیوں رو رہے ہیں؟اﷲ کی قسم !یہ تو خوشی اور شکر کا مقام ہے۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اﷲ کی قسم! مجھے اِس بات پر رونا آ رہا ہے کہ اﷲ تعالیٰ جس قوم کو یہ (مال) عطا کرتا ہے،تو اُن میں آپس میں بغض و حسد پیدا ہو جاتا ہے،اور اُن میں خانہ جنگی شروع ہو جاتی ہے۔“
تعاقب کی ممانعت
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے کسریٰ کے پہاڑوں کے پار بھاگ جانے اور فارسیوں کے پہاڑ کے پار کے علاقے کی پوری رپورٹ لکھ بھیجی،اور پہاڑوں کو پار کرکے فارسیوں اور کسریٰ کا تعاقب کرنے کی اجازت طلب کی۔علامہ محمد بن جری طبری لکھتے ہیں۔مسلمانوں نے جلولاءکی فتح کا حال حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو لکھا،اور یہ بھی لکھا کہ حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ حلوان میں خیمہ زن ہیں۔انہوں نے خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ سے اہل عجم کا تعاقب کرنے کی اجازت مانگی۔مگر انہوں یہ بات منظور نہیں کی،اور فرمایا؛”میں چاہتا ہوں کہ سواد ِ عراق اور (ایران کے) پہاڑ وں کے درمیان دیوار حائل ہوتی،تاکہ فارسی ہماری طرف نہ آتے،اور نہ ہم اُن کے علاقوں میں جاتے۔ہمارے لئے سواد ِ عراق کا دیہاتی علاقہ ہی کافی ہے،اور میں مال غنیمت حاصل کرنے کے مقابلے میں مسلمانوں کی سلامتی کو زیادہ ترجیح دیتا ہوں۔“اور مدائن اور اُس کے آس پاس کے علاقوں میں ایک لاکھ سے زیادہ کسان تھے،اُن کے بارے میں خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کسانوں کو اُن کی سابقہ حالت پر بر قرار رکھو،اور اُنہیں کچھ نہ کہو،بلکہ مقررہ مقدار میں غلہ لے لیا کرو۔اور جو لوگ کسان نہیں ہیں،اُن کے بارے میں تمہاری مرضی پر منحصر ہے۔اور حالات کے مطابق تم اُن کے بارے میں فیصلے کر سکتے ہو۔“
جنگ تکریت
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی ا ﷲ عنہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو تکریت کے بارے میں تمام حالات لکھ کر بھیجے۔تکریت پر رومیوں کا قبضہ تھا،اور یہ سلطنت روم اور سلطنت فارس کا سرحدی شہر تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے خط لکھا کہ اہل موصل انطاق کی قیادت میںتکریت میں جمع ہو رہے ہیں،اور وہاں انہوں نے خندق کھود رکھی ہے۔حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے انہیں ہدایات دیں کہ ”تم حضرت عبد اﷲ بن معتم کو انطاق کے مقابلے کے لئے لشکر دیکر بھیجو۔اور اُس کے ہر اول دستے(مقدمة الجیش) کا سپہ سالار حضرت افکل بن عنزی کو،اور میمنہ کا سپہ سالار حضرت حارث بن حسان ذہلی کو،اور اس کے میسرہ پر حضرت فرات بن حیان کو،اور اِ س کے ساقہ پر حضرت ہانی بن قیس کو اور گھڑ سواروں پر حضرت عرطبہ بن ہر شمہ کو مقرر کرو۔“حضرت عبد اﷲ بن معتم پانچ ہزار کا لشکر لیکر مدائن سے تکریت کی طرف روانہ ہوئے۔یہ اُسی وقت کی بات ہے،جب حضرت ہاشم بن عتبہ بارہ ہزار کا لشکر لیکر جلولاءکی طرف روانہ ہوئے تھے۔حضرت عبد اﷲ بن معتم اپنے لشکر کو لیکر انطاق کے مقابلے پر پہنچ گئے۔اُس کے ساتھ رومی فوج،بنو تغلب،بنو زیاد،بنو نمر، اور بنو شہارجہ کے سپاہی تھے،انہوں نے خندق کھود رکھی تھی۔حضرت عبد اﷲ بن معتم نے اُن کا محاصرہ کر لیا۔چالیس دنوں میں انہوں نے چوبیس حملے کئے،یہ لوگ اہل جلولاءکی بہ نسبت زیادہ جلد باز تھے۔
فتح تکریت
حضرت عبد اﷲ بن معتم تکریت کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ 16 ہجری کے جمادی الاول یا جمادی الآخر میں تکریت فتح ہوا۔مر زبان تکریت نے فتح مدائن سے متنبہ ہو کر مسلمانوں کے مقابلہ میں اور سر زمین جزیرہ کو لشکر اسلام کی یلغار سے بچانے کی غرض سے جنگ کی تیاریاں شروع دیں تھیں۔رومیوں کو اپنے درد کا شریک بنا لیا تھا،اور ملک عرب کے چند قبائل بنو ایاد،بنو تغلب ،بنو نمر،اور بنو مشارجہ بھی اُن کے ساتھ مل گئے۔حضرت عبد اﷲ بن معتم نے چالیس دنوں تک محاصرہ جاری رکھا،اور چوبیس حملے کئے۔محاصرے کے دوران حضرت عبد اﷲ بن معتم نے ملک عرب کے قبائل کو ملا لیا۔جس سے انہیں مر زبان تکریت کے حالات معلوم ہوتے رہتے تھے۔آخر کا ر رومیوں نے اپنی کامیابی سے نااُمید ہو کر کشتیوں پر مال و اسباب بار کر کے دریائے دجلہ کے راستے بھاگ جانے کا قصد کیا۔عرب قبائل نے حضرت عبد اﷲ بن معتم کو اِس کی اطلاع دی،اور یہ کہلا بھیجا کہ اگر تم ہم کو امان دو،تو ہم عین جنگ کے وقت الگ ہو کر تم سے آملیں گے۔حضرت عبد اﷲ بن معتم نے پیام دیا کہ اگر تم اپنی بات کے سچے ہو تو اسلام قبول کر لو۔اُن سب نے یہ پیغام سن کر اسلام قبول کر لیا۔اور یہ طے ہو گیا کہ جب تم مسلمانوں کے لشکر کی تکبیر سننا،تو تم بھی نعرہ¿ تکبیر لگا کر دریائے دجلہ کی ناکہ بندی کر دینا۔حضرت عبد اﷲ بن معتم نے مقررہ وقت اور تاریخ کو حملہ کر دیا،قبائل عرب نے مسلمانوں کا نعرہ سن کر خود بھی نعرہ¿ تکبیر لگایا،اور دریائے دجلہ کی ناکہ بندی کر دی۔رومی اور فارسی دریا کی طرف سے نعرہ¿ تکبیر کی آواز سن کر یہ سمجھے کہ مسلمانوں نے دریا کی طرف سے بھی محاصرہ کر لیا ہے۔اِس خیال سے اُسی سمت بھاگے،جس طرف مسلمانوں کا لشکر تھا۔مسلمانوں نے ایک ساتھ ملکر زبردست حملہ کیا،رومی اور فارسی پیچھے ہٹے تو تکریت کے عربوں نے اُن پر حملہ کر دیا،اورسب کے سب قتل ہوگئے۔پورے بنو تغلب،بنو نمر ،بنو ایاد نے اسلام قبول کر لیاماور تکریت فتح ہو گیا۔
فتح موصل
تکریت فتح ہو جانے کے بعد حضرت عبد اﷲ بن معتم وہیں رک گئے،اور حضرت افکل بن عنزی کو موصل کی طرف لشکر دیکر بھیجا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔خلیفہ¿ دوم حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا تھا کہ اگر تکریت فتح ہو گیا ،تو حضرت عبد اﷲ بن معتم کو حکم دینا کہ وہ حضرت افکل بن عنزی کو ”حطین“(یہ دو قلعے ہیں،ایک دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر اور دوسرا مغربی کنارے پر ہے۔ابن خلدون)کی طرف روانہ کریں۔اِسی حکم کے مطابق انہوں حضرت افکل کو بنو تغلب ،بنو ایاد، اور بنو نمر کے مجاہدین کے ساتھ روانہ کیا۔اِ قبائل کے سردارعتبہ بن وعل،ذولقرط،ابو وداعةبن ابی کرب،ابن ابی ذی سنیة،ابن حجیر ایادی ،اور بشر بن ابی حوط ساتھ میں تھے۔یہ سرداران آگے بڑھے ،اور مسلمانوں کا لشکر پہنچنے سے پہلے حطین پہنچ گئے۔انہوں نے قلعہ والوں سے بات چیت کی،اور وہ صلح پر راضی ہو گئے۔حضرت افکل بن عنزی جب پہنچے ،تو حطین والوں نے صلح کی پیش کس کی،جو انہوں نے قبول کر لی۔جن لوگوں نے صلح کر لی انہیں وہیں رہنے کا اجازت دے دی گئی،اور جنہوں نے صلح قبول نہیں کی،وہ بھاگ گئے۔حضرت عبد اﷲ بن معتم نے بھاگنے والوں کو بھی امان دینے کا اعلان کیا،تو وہ سب بھی واپس آگئے ،اور مطمئن ہو کر رہنے لگے۔کیونکہ وہ سب مسلمانوں کی ذمہ داری میں آگئے تھے۔
فتح ماسبذان
اسی سال 16 ہجری میں ماسبذان بھی فتح ہوا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت ہاشم بن عتبہ جلولاءسے مدائن واپس آئے۔اُس وقت حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کو اطلاع ملی کہ آذین بن ہرمزان نے ایک بڑی فوج مسلمانوں سے مقابلے کے لئے جمع کر لی ہے،اور انہیں لیکر میدانی علاقے میں آگیا ہے۔انہوں نے اِس کی اطلاع حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو دی،تو انہوں نے حکم بھیجا کہ ”اُس کے مقابلے میں حضرت ضرار بن خطاب کو سپہ سالار بنا کر ایک لشکر دے کر اُس کی طرف روانہ کرو۔اس لشکر کا ہر اول (مقدمة الجیش)کا سپہ سالار حضرت ابن ہذیل اسدی کو،میمنہ کا سپہ سالار حضرت عبد اﷲ ن وہب کو،میسرہ کا سپہ سالار حضرت مضارب عجلی کو مقرر کرو۔“حضرت ضرار بن خطاب قبیلہ بنو مہارب بن فہر کے ہیں، لشکر لیکر روانہ ہوئے۔مقدمة الجیش کے سپہ سالار ابن ہذیل آگے بڑھے،اور مسلمان ماسبذان کے میدانی علاقے میں پہنچ گئے۔وہاں فریقین کا ”ہندف“کے مقام پرمقابلہ ہوا،اور جنگ ہوتی رہی۔ مسلمانوں نے دشمنوں کا بہت جلد صفایا کر دیا،حضرت ضرار بن خطاب نے آذین بن ہرمزان کو گرفتا رکر لیا کر کے قید کر لیا تھا۔جب اُس کے لشکر کو شکست ہوئی ،تو اُس کی بھی گردن اُ ڑا دی گئی۔پھر مسلمان تعاقب کرتے ہوئے سیروان تک پہنچ گئے،اور ماسبذان پر قبضہ کرلیا۔اس کے باشندے پہاڑوں کی طرف بھاگ گئے۔حضرت ضرار نے انہیں امان دینے کا اعلان کیا،تو وہ واپس آگئے۔حضرت ضرار بھی وہیں رہنے لگے۔
فتح قرقیساء
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ مدائن میں مقیم تھے،اور چاروں طرف مسلمانوں کے لشکر بھیج رہے تھے۔جلولاءاور تکریت کی فتح کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ کو اطلاع ملی کہ اہل الجزیرہ اپنی فوجوں کو اکٹھا کر رہے جمع کر رہے ہیں۔الجزیرہ سلطنت روم کا حصہ تھا،اور سلطنت فارس کی سرحد سے ملا ہوا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت ہاشم بن عتبہ جلولاءسے واپس آئے ،تو اہل جزیرہ کی فوجیں اکٹھی ہو گئیں تھیں۔انہوں نے ہر قل کو مسلمانوں کے خلاف امداد دینے کا فیصلہ کیا،اور ایک لشکر اہل ہیئت کی طرف بھیجا۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے اِن واقعات کی اطلاع حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو دی ،تو انہوں حکم دیا ؛”حضرت عُمر بن مالک کو سپہ سالار بنا کر ایک لشکر انہیں دے کر بھیجو۔اس کے ہر اول (مقدمة الجیش)پر حضرت حارث بن یزید عامری کو سپہ سالار بناو¿،میمنہ پر حضرت ربعی بن عامر کو،اور میسرہ پر حضرت مالک بن حبیب کو سپہ سالارمقرر کرو۔حضرت عُمر بن مالک جب مسلمانوں کو لیکر پہنچے ،تو دشمنوں نے اپنے اطراف خندق کھود لی تھی۔جب محاصرہ طویل ہونے لگا،توحضرت عُمر بن مالک نے آدھے لشکر کووہیں چھوڑا،اور حضرت حارث بن یزید کو اپنا نائب بنایا۔اور محاصرہ جاری رکھنے کا حکم دیکر باقی آدھے لشکر کو لیکر قرقیساءکی طرف روانہ ہو گئے، اور اچانک وہاں پہنچ کر حملہ کردیا۔اہل قرقیساءکو اِس حملے کی اُمید نہیں تھی،اور اِس سے پہلے کہ وہ صحیح حالت سمجھ پاتے مسلمانوں نے قرقیساءفتح کرلیا تھا۔حضرت عُمر بن مالک نے حضرت حارث بن یزید کو فتح قرقیساءکے بعد لکھا کہ اہل ہیئت کو صلح کی تجویز پیش کرو،اگر وہ مان گئے ،تو صلح کر کے چھوڑ دینا۔اور اگر وہ صلح پر نہیں مانے ،تو اُن کی خندق کے سامنے تم بھی خندق کھود کروہی جمے رہو۔اہل ہیئت صلح پر راضی ہو گئے،اور مسلمانوں نے اُن کی حفاظت کی ذمہ داری لے لی۔
16 ہجری کے کچھ اہم واقعات
اِس سال 16 ہجری میںکئی اہم واقعات پیش آئے۔”بیت المقدس“اور ”مدائن “کی فتح کا تو ہم ذکر کر چکے ہیں۔اِس سال میں حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے صفیہ بنت عبید سے نکاح کیا،یہ مختار ثقفی کی بہن ہیں۔اِس سال سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اﷲ عنہا کا انتقال ہوا ۔آپ رضی اﷲ عنہا کو یہ شرف حاصل ہے کہ اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا کے علاوہ صرف سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اﷲ عنہا ہی ہیں،جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بچے کی والدہ بنی ہیں۔خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی،اور جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔اِس سال خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا۔
اسلامی تاریخ کی ابتداء (سن ھجری کا اجراء)
اسی سال 16 ہجری میں اسلامی تاریخ ”سن ہجری“کا اجراء خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اِس سال ماہ ِ ربیع الاول میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اسلامی تاریخ(سن ھجری) مقرر فرمائی۔حضرت ابن مسیب رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی ا ﷲ عنہ کے مشورہ سے اپنے دور ِ خلافت کے ڈھائی سال بعد اسلامی تاریخ(سن ھجری)مقرر فرمائی،اور اِس سال کی تاریخ 16 ہجری تحریر فرمائی۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔ماہ ربیع الاول 16 ہجری میں حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے اسلامی تاریخ لکھی۔اور آپ رضی اﷲ عنہ اسلامی تاریخ لکھنے والے پہلے مسلمان ہیں۔
اسلامی تاریخ(سن ھجری جری ) شروع کرنے کی وجہ
اسلامی تاریخ کی ابتداءیعنی شروعات کرنے کی کئی وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔اسلامی تاریخ کی ابتداءکرنے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں ایک شخص کا تحریری معاہدہ پیش کیا گیا۔جو دوسرے شخص کے قرض کے متعلق تھا،جس کی ادائیگی کا وقت ماہ شعبان میں تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کیا اِس سال کے ماہِ شعبان میں؟یا پچھلے سال کے ماہِ شعبان میں؟یا اگلے سال کے ماہِ شعبان میں؟“آپ رضی اﷲ عنہ نے اِس پریشانی کو سمجھ لیا۔اور اسلامی تاریخ کی ابتداءکے بارے میں غور و فکر کرنے لگے،کہ اگر مسلمانوں کی ایک سالانہ تاریخ نہیں ہو گی ،تو آگے چل کر مسلمانوں کو بہت سی تکالیف پیش آ سکتی ہیں۔اور اُن کے آپسی معاملات سلجھانے میں بھی پریشانیاں ہو سکتی ہیں۔
صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے اِس اہم مسئلے کو حل کرنے کے لئے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی مجلس شوریٰ بلائی،اور اُن کے سامنے اِس مسئلے کو رکھا۔بعض صحابہ رضی اﷲ عنہم نے مشورہ دیا کہ فارسیوں(ایرانیوں)کی طرح وقت مقرر کر لیں،جیسے وہ اپنے بادشاہوں کی تاریخ مقرر کرتے ہیں۔جب اُن کا کوئی بادشاہ مر جاتا ہے،تو وہ اُس کے بعد بننے والے بادشاہ کی حکمرانی سے وقت مقرر کرتے ہیں۔خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے اِسے پسند نہیں فرمایا۔بعض صحابہ رضی اﷲ عنہم نے مشورہ دیا کہ سکندر کے زمانے سے رومیوں کی تاریخ سے وقت مقررکر لو۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اسے بھی اِس کی طوالت کی وجہ سے پسند نہیں فرمایا۔بعض صحابہ رضی اﷲ عنہم نے مشورہ دیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیدائش سے اسلامی تاریخ کی ابتداءکریں۔جیسے عیسائیوں(اُس وقت رومیوں)نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے عیسوی تاریخ کی ابتداءکی۔بعض صحابہ رضی اﷲ عنہم نے مشورہ دیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اعلان نبوت سے اسلامی تاریخ کی ابتداءکر لیں۔اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ اور کچھ صحابہ رضی اﷲ عنہم نے مشورہ دیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہجرت سے اسلامی تاریخ کی ابتداءکی جائے۔کیونکہ یہ ہر ایک پر واضح ہے،اور بعثت اور پیدائش سے زیادہ واضح ہے۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اسے پسند فرمایا۔اور ہجرت سے ہی اسلامی تاریخ کی ابتداءکی۔اورماہِ محرم الحرام کو اسلامی سال کا پہلا مہینہ قرار دیا۔ حالانکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ماہِ ربیع الاول میں ہجرت فرمائی۔لیکن ماہِ محرم الحرام کو سال کا پہلا مہینہ اِس لئے بنایا گیا کہ حج کے بعدیعنی ذی الحجہ کے بعد ہونے کی وجہ سے آسانی سے یاد رہے گا
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں