جمعہ، 4 اگست، 2023

23 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


23 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 23

میں وہ قمیص نہیں اُتاروں گا جو اﷲ نے پہنائی ہے، اﷲ کی پہنائی قمیص کو نہیں اُتارنا، تمہیں شہید کیا جائے گا، صحابۂ کرام ضی اﷲ عنہم کو مقابلہ کرنے سے روک دیا، اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ضی اﷲ عنہا کی حج پر روانگی، حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کو امیر حج بنا کر بھیجا، 

میں وہ قمیص نہیں اُتاروں گا جو اﷲ نے پہنائی ہے

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ مسلسل احمقوں کو سمجھاتے رہے اور اِس کوشش میں انہوں نے مالک اشتر کو بات چیت کے لئے بلوایا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : باغیوں نے چالیس رات تک خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کا محاصرہ کیا اور اِس دوران حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے ۔وثاب جو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے آذاد کردہ غلام تھے اور جن کی گردن پر حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے وقت نیزے کے زخموں کے دو نشان تھے بیان کرتے ہیں مجھے خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے مالک اشتر کو بلانے کے لئے بھیجا ۔جب میں اشتر کو بلا لایا تو اُس وقت ایک تکیہ امیر المومنین حضرت عثمان غنی ضی اﷲ عنہ کے لئے لایا گیا او ر دوسر ا آپ رضی اﷲ عنہ نے اشتر کے لئے منگوایا ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اے ا شتر ! لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ “ اشتر بولا : ” وہ تین چیزوں میں سے ایک کے طلبگار ہیں ۔“ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” وہ کیا ہیں ؟ “ اشتر بولا : ” وہ لوگ چاہتے ہیں کہ یا تو آپ ( رضی اﷲ عنہ ) خلافت سے دست بردار ہو جائیں اور کہہ دیں کہ یہ تمہار معاملہ ہے تم جس کو چاہو انتخاب کر لو ۔یا خود آپ ( رضی اﷲ عنہ ) اپنا قصاص لیں ۔اگر آپ ( رضی اﷲ عنہ ) کو اِن دو باتو ں میں سے کسی ایک سے انکار ہے تو یہ لوگ آ پ ( رضی اﷲ عنہ ) کو قتل کر دیں گے ۔“ آپ رضی اﷲ عنہ نے پھر دریافت فرمایا : ” کیا اِس کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں ہے ؟ “ اشتر نے جواب دیا : ” اِس کے علاوہ اور کوئی صوت نہیں ہے ۔ “ اِس پر حضرت عثمان غنی ضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” جہاں تک خلافت سے دست برداری کا تعلق ہے تو میں اُس قمیص کو نہیں اُتار سکتا جو اﷲ بزرگ و برتر نے مجھے پہنائی ہے ۔پھر میں محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت کو اِس حالت میں چھوڑ دو ں کہ وہ ایک دوسرے پر ظلم و ستم کرتے رہیں ؟ اﷲ کی قسم ! مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ میں آگے بڑھوں تاکہ تم میری گردن مار دو بہ نسبت اِ س کے کہ میں وہ قمیص اُتاردوں جو اﷲ نے مجھے پہنائی ہے ۔جہاں تک اپنی ذات سے قصاص لینے کا تعلق ہے تو اﷲ کی قسم ! مجھے اِس بات کا علم ہے کہ میرے پیش رو دونوں ساتھی سزا دیتے تھے ۔تیسری بات یہ ہے کہ تم مجھے قتل کرو گے تو اﷲ کی قسم ! میرے بعد تم میں اتحاد قائم نہیں ہو گا اور تم کبھی متحد اور مجتمع ہو کر نماز نہیں پڑھ سکو گے اور نہ میرے بعد کبھی متحد ہو کر دشمن سے جنگ کر سکو گے ۔“ اِس کے بعد اشتر اُٹھ کھڑا ہوا اور چلا گیا ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : ایک روایت میں ہے کہ اشتر نے احمقوں کے نمائندے کی حیثیت سے کہا کہ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ اپنے گورنروں کو معزول کر دیں اور اُن کو گورنر بنائیں جنہیں احمق پسند کرتے ہیں ۔اور اگر آپ رضی اﷲ عنہ خلافت سے دست بردا ر نہیں ہوتے ہیں تو مروان بن حکم کو ہمارے حوالے کر دیں جسے ملک مصر کی طرف حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی جانب سے جعلی خط لکھنے کی وجہ سے احمق لوگ سزا دیں گے ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو ڈر ہوا کہ اگر انہوں نے مروان بن حکم کو احمقوں کے حوالے کر دیا تو وہ اُسے قتل کر دیں گے اور اِس طرح خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ ایک مسلمان کے قتل کا سبب بن جائیں گے ۔

اﷲ کی پہنائی قمیص کو نہیں اُتارنا

سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم نے خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو پہلے ہی خبر دی تھی کہ اﷲ تعالیٰ تمہیں ( خلافت کی ) قمیص پہنائے گا اور تم اُسے نہیں اُتارنا ۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر مسند احمد اورجامع ترمذی کے حوالے سے لکھتے ہیں : حضرت نعمان بن بشیر نے بیان کیا : ” حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہاکے نام سے مجھے ایک خط لکھ کر دیا اور میں نے وہ خط لے جا کر اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ کو دیا تو اُسے پڑھ کر انہوں نے فرمایا : ” میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بے شک اﷲ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا ۔پس اگر کوئی شخص اسے اُتارنا چاہے تو تم اُسے نہیں اُتارنا ۔یہ بات آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائی ۔“ نعمان بن بشیر آگے کہتے ہیں : میں نے کہا : ” اے اُم المومنین رضی اﷲ عنہا ! آپ رضی اﷲ عنہا نے اِس حدیث کو پہلے بیان کیوں نہیں کیا ؟ “ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : ” بیٹے ! اﷲ کی قسم ! میں اِسے بھول گئی تھی ۔“ 

تمہیں شہید کیا جائے گا

سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم نے خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ تمہیں انتہائی مظلومیت سے شہید کیا جائے گا اور تم اُس وقت صبر کرنا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ” اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے بعض اصحاب کو میرے پاس بلا لاو¿ ۔“میں نے کہا : ” میرے والد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو ؟ “ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ۔“ میں نے عرض کیا : ” حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو ؟ “ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ۔“ میں نے پھر عرض کیا : ” آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا ذاد بھائی حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو ؟ “ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ۔“ پھر میں نے عرض کیا : ” حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو ؟ “ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ۔“ جب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ آگئے تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے فرمایا : ” ایک طرف ہو جایئے ۔“ اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے سرگوشی میں بات کرنے لگے اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا رنگ تبدیل ہو نے لگا ۔ جب ” یوم الدار “ ( حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے گھر کے محاصرے ) کا واقعہ ہوا اور آپ رضی اﷲ عنہ کو اُن کے گھر میں محصور کر دیا گیا تو ہم نے کہا : ” اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! کیا آپ رضی اﷲ عنہ باغیوں سے جنگ نہیں کریں گے ؟ “ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” نہیں ! رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد لیا ہے اور اِس پر میں مستقل مزاجی سے قائم رہوں گا ۔“

صحابۂ کرام ضی اﷲ عنہم کو مقابلہ کرنے سے روک دیا

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے گھر کا باغیوں نے محاصرہ کیا ہوا تھا اور صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم اپنے اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر باغیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے ڈٹے ہوئے تھے ۔اِسی دوران حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے ایک خواب دیکھا ۔اُس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے تمام صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم اور اہل مدینہ کو حکم دیا کہ باغیوں کے مقابلے پر سے ہٹ جائیں اور اپنے اپنے گھر چلے جائیں ۔ علامہ عماد الدین اسمعیل بن کثیر لکھتے ہیں : ” ذوالقعدہ کے آخر سے لے کر 8 / ذوالحجہ جمعہ کے روز تک مسلسل محاصرہ رہا ۔اُس سے ایک دن پہلے یعنی جمعرات کو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے انصار و مہاجرین صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم اور اہل مدینہ جو آ پ رضی اﷲ عنہ کے پاس موجود تھے اورلگ بھگ سات سو تھے۔اِن میں حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق ،حضرت عبد اﷲ بن زبیر ، حضرت حسین بن علی اور حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہم بھی تھے ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” جس پر میرا حق ہے ،میں اُسے قسم دیتا ہوں کہ وہ اپنے ہاتھ کو روکے رکھے اور اپنے اپنے گھر چلا جائے ۔“ آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس بڑے بڑے صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم اور اُن کے بیٹوں کا جم غفیر تھا ۔پس اندر سے جنگ سرد پڑ گئی اور باہر سے گرم ہو گئی اور معاملہ سخت ہو گیا اور اِس کا سبب یہ تھا کہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے ایک خواب دیکھا جو آپ رضی اﷲ عنہ کی شہادت پر مُہرتھا ۔پس آپ رضی اﷲ عنہ نے کئے گئے وعدہ کی اُمید پر اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے ملاقات کے شوق میں اﷲ کے حکم پر فرمانبرداری اختیار کر لی تاکہ آپ رضی اﷲ عنہ حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں میں سے بہترین بیٹا بن جائیں جسے اُس کے بھائی نے قتل کا ارادہ کیا تو اُس نے کہا : ” میں چاہتا ہوں کہ تُو میرے اور اپنے گناہ کے ساتھ لوٹے اور دوزخیوں میں سے ہو جائے اور یہ ظالموں کی جزا ہے ۔“حضرت عثمان غنی ضی اﷲ عنہ نے سب لوگوں سے فرمایا : ” میں نے خواب میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عثمان غنی رضی اﷲ عنہ ! ہمارے پاس افطاری کرنا ۔“ یہ سننے کے بعد اہل مدینہ اور انصار و مہاجرین صحابہ¿ کرام باہر نکل کر اپنے اپنے گھر چلے گئے ۔سب سے آخر میں نکلنے والے حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ تھے ۔

اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ضی اﷲ عنہا کی حج پر روانگی

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا احمقوں نے محاصرہ کیا ہوا تھا کہ اِسی دوران حج کا موسم آ گیا اور مدینۂ منورہ میں احمقوں کے طوفان بدتمیزی سے مسلمان بہت پریریشان تھے یہاں تک کے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ضی اﷲ عنہا نے حج پر جانے کا ارادہ بنا لیا ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیرلکھتے ہیں : اور جب یہ واقعہ ( اُم المومنین سیہ اُم حبیبہ رضی اﷲ عنہا کے ساتھ بد تمیزی کا واقعہ ) ہوا تو مسلمانوں نے اِسے بہت محسوس کیا اور اکثر لوگ (خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق ) اپنے گھروں میں بیٹھ گئے اور حج کا وقت آ گیا تو اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا اِس سال حج کو روانہ ہوئیں ۔آپ رضی اﷲ عنہا سے عرض کیاگیا کہ آپ رضی اﷲ عنہا ٹھہرتیں تو زیادہ مناسب ہوتا ، شاید احمق لوگ آپ رضی اﷲ عنہا سے ڈر جائیں ۔آپ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : ” اگر میں احمقوں کے متعلق اپنی رائے بتاؤں تو مجھے خدشہ ہے کہ مجھے بھی اُن کی جانب سے وہی اذیت اُٹھانی پڑے گی جو سیدہ اُم حبیبہ رضی اﷲ عنہا کو اُٹھانی پڑی تھی ۔“ اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہا حج پر روانہ ہو گئیں ۔

حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کو امیر حج بنا کر بھیجا

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ بدستور محاصرے میں تھے اور مدینۂ منورہ میں احمقوں نے طوفانِ بد تمیزی مچایا ہوا تھا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : ” اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے حج پر جانے کا ارادہ فرمایا اور اپنے بھائی محمد بن ابو بکر صدیق کو اپنے ساتھ لے جانے کی غرض سے بلوایا ۔محمد بن ابو بکر صدیق باغیوں کے ہم نوالہ ہم پیالہ ہو رہے تھے اِسی لئے بہن کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا ۔حضرت حنظلہ کاتب ِ وحی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” تم کو اُم المومنین رضی اﷲ عنہا اپنی ہمراہی کے لئے بلا رہی ہیں اور تم اُن کے ساتھ جانے کے بجائے آبرو باختہ اوباشوں کی اتباع کر رہے ہو جو تمہارے شایان شان نہیں ہے ۔اگر اِس محاصرے کا آخری نتیجہ یہ ہوگا کہ حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ مغلوب ہو گئے تو تم پر بنو عبد مناف مسلط ہو جائیں گے۔“ محمد بن ابو بکر صدیق نے کوئی جواب نہیں دیا ۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ احمقوں کے مقابلے پر دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے ۔خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اُن کو امیر حج مقرر کر دیا اور مکۂ معظمہ روانہ ہونے کا حکم دیا ۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ” مجھے اِن احمقوں سے جہاد کرنا حج کرنے سے زیادہ محبوب ہے ۔“ لیکن امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے اُن کو قسم دے کر مجبور کیا اور حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ امیر ِ حج بن کر مکہ معظمہ روانہ ہو گئے ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں