بدھ، 2 اگست، 2023

23 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


23 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 23

16 ہجری کی شروعات، بہر سیر یا نہر شیر کا محاصرہ، حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کی شہادت، بہر سیر کی فتح، فارسی کشتیا ں بھی ساتھ لے گئے، دریا میں گھوڑے دوڑا دیئے، حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ اور اُن کے ساتھیوں کی بہادری، مسلمانوں کا گھوڑوں پر دریا پار کرنا، اﷲتعالیٰ نے دریا کو مطیع کر دیا، اﷲ تعالیٰ کی تعریف، مدائن کی فتح، قصر ابیض(سفید محل) کی فتح، ملک عراق میں پہلا جمعہ، کسریٰ کا تاج، مسلمان مجاہدین کا تقویٰ، بے شمار مال غنیمت، کسریٰ کے کنگن، سونا صرف حضرت سُراقہ رضی اﷲ عنہ کے لئے حلال ہے، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کا عجز اور انکساری، کسریٰ کا قالین”بہارِ کسریٰ

16 ہجری کی شروعات

جب 16 ہجری کی شروعات ہوئی تو اُس وقت خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے ساتھ ملکر اُس وقت کی دو سب سے بڑ ی سوپر پاور سے ٹکرا رہے تھے۔اور انہیں شکست پر شکست دیتے جا رہے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ اِس حکمت اور تدبر سے دونوں سوپر پاور سے مقابلے کے لئے لشکر بھیج رہے تھے ۔اور اُن سے ایسی ایسی جنگی تدبیروں سے مقابلہ کر رہے تھے،کہ دشمنوں کو مسلسل شکست ہو رہی تھی۔سب سے بڑی بات یہ کہ اﷲ تعالیٰ کی مدد مسلمانوں کے ساتھ تھی،اور اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں میں مضبوط ایمان جما دیا تھا۔مسلمان فتح حاصل کرنے کے لئے جنگ نہیں کر رہے تھے،بلکہ اﷲ تعالیٰ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی خوشنودی اور جنت حاصل کرنے کے لئے جنگ کررہے تھے۔اور مسلمانوں کے اِس جذبے کے سامنے دنیا کی دو سب بڑی سوپر پاور ”سلطنت ِروم “اور ”سلطنت ِ فارس “اپنے گھٹنے ٹیکتی جا رہی تھیں۔مسلمان ایک طرف سلطنت روم کا ملک شام میں صفایا کرتے جا رہے تھے،اور دوسری طرف ملک عراق میں سلطنت فارس کا صفایا کرتے جا رہے تھے۔

بہر سیر یا نہر شیر کا محاصرہ

اِس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ بہر سیر یا نہر شیر پہنچ گئے تھے،اور وہیں پڑاو¿ ڈال دیا تھا۔بہر سیر شہر کے اطراف بہت اونچی ”شہر پناہ تھی،اور اُس کے چاروں طرف گہری خندق کھودی ہوئی تھی۔اور شہر پناہ پر محافظ تعینات رہتے تھے۔مسلمانوں نے آگے بڑھ کر بہر سیر کا محاصرہ کر لیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مسلمان بہر سیرکے قریب خیمہ زن ہوئے ۔اِس شہر کے چاروں طرف خندقیں تھیں،اور محافذ مقرر تھے، اورجنگ کے دوسرے سامان بھی تھے۔مسلمانوں نے ان پر منجنیقوںاور دوسرے آلات سے سنگ باری کی۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے شہر ذاز سے منجنیقیں تیار کرائیں،اور بہر سیر کے اطراف نصب کروا دیں ۔اور اُن کے ذریعے مقابلہ جاری رکھا۔

حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کی شہادت

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے ساتھ بہر سیر کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔اور مسلسل حملے کر رہے تھے۔شہر والے بھی مقابلے پر ڈٹے ہوئے تھے،اور شہر پناہ(فصیل ) پر سے مسلسل تیر برسا رہے تھے۔یہ محاصرہ اور مقابلہ دو مہینے تک چلا،اور اسی دوران حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مسلمان بہر سیر کے اطراف دو مہینے خیمہ زن رہے،وہ شہر پر منجنیقوں سے سنگ باری کرتے رہے،اور ہر قسم کے سامان جنگ سے اُن کا مقابلہ کرتے رہے۔شہر والے اپنے شہر میں قلعہ بند ہو کر بیٹھ گئے تھے،کبھی کبھی اپنے سامان جنگ کے ساتھ باہر نکل کر جنگ کرتے تھے۔لیکن مسلمانوں کی ہمت اور حوصلے کے آگے اُن کے حوصلے پست پڑ جاتے،اور مقابلے کی تاب نہ لاکر وہ اندر شہر میں گھس کر دروازہ بند لیتے تھے۔حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کی زرہ کی دو کڑیاں ٹوٹ گئیں تھیں،مجاہدین نے اسے درست کرانے کا مشورہ دیا۔انہوں نے فرمایا؛”کیوں؟“ مجاہدین بولے؛”ہمیں آپ رضی اﷲ عنہ کی جان کا اندیشہ ہے۔“انہوں نے فرمایا؛”مجھے اﷲ کے کرم اور قدرت پر بھروسہ ہے۔“اس دن بہر سیر کے لوگوں نے بہت شدید تیر اندازی کی،اور تیر برسائے۔ حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کو کئی تیر آکر لگے،اور خود(لوہے کی ٹوپی) اور زرہ بکتر کی وجہ سے اُچٹ گئے۔لیکن ایک تیر زرہ کی ٹوٹی دو کڑیوں کے کھلے حصے پر آکر لگا اور جسم میں پیوست ہو گیا۔اُسی وقت شہر والوں نے دروازہ کھول کر مسلمانوں پر ہلہ بول دیا۔دو بدو جنگ ہونے لگی،مجاہدین نے حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کے جسم میں پیوست تیر نکالنے ارادہ کیا ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”مجھے اِسی حالت پر چھوڑ دو،جب تک یہ تیر میرے اندر ہے ،تب تک جان ہے۔ممکن ہے اِس دوران کئی اور دشمنوں کو ختم کرسکوں۔“اور اپنے گھوڑے کو ایڑ لگا کر دشمنوں میں گھس گئے،اور انہیں قتل کرنے لگے۔انہوں نے شہر براز کو بھی قتل کردیا،لیکن دشمنوں نے ایک ساتھ حملہ کر کے آپ رضی اﷲ عنہ کو شہید کردیا۔اور بھاگ کر شہر کے اندر جا کر دروازہ بند کرلیا۔لیکن انہیں شہر براز کی موت کا صدمہ بھی اُٹھانا پڑا۔

بہر سیر کی فتح

حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ نے شہید ہونے سے پہلے شہر براز کو قتل کردیا،جس سے شہر والوں کے حوصلے ٹوٹ گئے۔انہوں نے صلح کی درخواست کی ،لیکن صحیح ترجمان ہونے کی وجہ سے مسلمان اُن کی بات سمجھ نہیں پائے،اور اپنے حملوں کو جاری رکھا۔شہر والوں نے خفیہ راستے سے شہر خالی کرنا شرو ع کر دیا۔اور جب پورا شہر خالی ہوگیا ،اور دوسری طرف سے جوابی کاروائی ہونا بند ہو گئی ،تب مسلمانوں کو اندازہ ہوا۔علامہ محمد بن جری طبری لکھتے ہیں۔مسلمان منجنیقوں سے شہرپناہ پر بڑے بڑے پتھر برسا رہے تھے،مگر شہر کی فصیل پر کوئی نمودار نہیں ہوا۔اور صرف ایک شخص فصیل پر آیا،اور اعلانیہ امان کی درخواست کی، مسلمانوں نے اُسے پناہ دینے کا وعدہ کیا تو اُس نے کہا کہ اِس شہر میں اب کوئی باقی نہیں ہے،جو تمہیں روکے گا۔یہ سن کر مسلمان شہر پناہ پر چڑھ گئے،اور اُس کے دروازے کھول دیئے۔پورے شہر میں سوائے چند لوگوں کے کوئی نہیں تھا،اور وہ بھی بھاگنے کی کوشش میں تھے۔جب مسلمان بہر سیر میں آدھی رات کے وقت داخل ہوئے،تو انہیں سفید محل نظر آیا۔اُس وقت حضرت ضرار بن خطاب رضی اﷲ عنہ(حضرت عُمر فاروق بن خطاب کے بھائی)نے فرمایا؛”اﷲ اکبر!یہ کسریٰ کا وہ ”سفید محل “ہے،جس کا وعدہ اﷲ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہم سے کیا تھا۔“اِس کے بعد مسلمان لگاتار نعرہ¿ تکبیر بلند کرتے رہے،یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔

فارسی کشتیا ں بھی ساتھ لے گئے

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے بہر سیر پر قبضہ کر لیا۔بہر سیر کو عربی میں”بَھرَ سِیر“کہا جاتا ہے۔یہ اُن سات شہروں میں سے ایک ہے ،جن کے مجموعے کو ”مدائن“ کہا جاتا ہے۔یہ اَرد شہر یا ارد شیر کا معرب ہے۔جس کے معنی ”ارد شیر کا شہر“یا ”ارد شیر کا بہترین شہر“ہے۔(معجم البلدان)بہر شیر مدائن کے سات شہروں میں سے ایک تھا،اور یہ دریائے دجلہ کے مغربی کنارے واقع تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت سعد رضی اﷲ عنہ ”مدائن“کے قریبی شہر بہر سیر میں داخل ہو گئے، تو انہوں نے کشتیاں طلب کیں ،تاکہ دریائے دجلہ پار کر کے مدائن کے دوسرے شہروں تک پہنچ سکےں۔مگر انہیں کوئی کشتی نہیں مل سکی،معلوم ہوا کہ فارسی کشتیوں پر قابض ہو گئے ہیں،اور اپنے ساتھ دریا پار لیکر چلے گئے۔لہٰذا مسلمان ماہِ صفر المضفر ۶۱ ہجری تک بہر سیر میں رہے،اور دریا پار کرنے کی تدبیر کرنے لگے،اِس دوران دریائے دجلہ میں سیلاب آگیا۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے ایک خواب دیکھا کہ مسلمانوں کے گھوڑے دریا میں گھس گئے ہیں،اور دریا پار کر لیا،حالانکہ دریا میں سیلاب آیا ہو اتھا۔

دریا میں گھوڑے دوڑا دیئے

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے خواب دیکھنے کے بعد دریا پار کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کو اطلاع ملی کہ کسریٰ یزد جرد مال و متاع کو مدائن سے حلوان لے جانے کا عزم کئے ہوئے ہے،اور اگر اُسے تین دن کے اندر نہیں پکڑا،تو ہاتھ سے نکل جائے گا،اور بات جاتی رہے گی۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ اپنا لشکر لیکر دجلہ کے کنارے آئے،اور خطاب فرمایا؛”اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثناءاور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود و سلام کے بعد فرمایا!بے شک تمہارے دشمن نے اِس دریا کے ذریعے تم سے اپنا بچاو¿ کر لیا ہے۔تم اِس کی موجودگی میں اُن کے پاس نہیں جاسکتے،اور وہ جب چاہیں تمہارے پاس آسکتے ہیں۔اور تمہاری ضروریات اُن کشتیوںمیں ہیں ،جو اُن کے پاس ہیں۔اور تمہارے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے،جس کے کھونے کا تمہیں ڈر ہو۔قبل اِس کے کہ دنیا تمہارا گھیراو¿ کرے،تم اپنی پُر خلوص نیتوں کے ساتھ دشمن سے جہاد کرنے کے لئے سبقت کرو۔آگاہ ہو جاو¿!میں نے دریا پار کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔تمام مسلمانوں نے ایک ساتھ کہا؛”آپ رضی اﷲ عنہ دریا پار کریں ،ہم بھی آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کون ہے ؟جو دریا پار کر کے اُس پار جا کر فارسیوں کو پیچھے ہٹائے،اور مسلمانوں کے دریا پار کرنے کے لئے محفوظ مقام بنائے۔“

حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ اور اُن کے ساتھیوں کی بہادری

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی دعوت پر سب سے پہلے حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ اور اُن کے ساٹھ (60)ساتھیوں نے لبیک کہا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عامر بن عاصم رضی اﷲ عنہ اور تقریباً چھ سو مجاہدین نے اِس پر لبیک کہا۔اور حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو اُن کا سپہ سالار مقرر فرما دیا،اور وہ دریائے دجلہ کے کنارے کھڑے ہو گئے،اور فرمایا؛”اِس دریا میں داخل ہونے سے قبل کون میرے ساتھ تیار ہوتا ہے؟تاکہ ہم دوسری جانب سے دریا کے دہانے کا محفوظ کر لیں،اور پورا لشکر آرام سے دریا پار کرے۔“یہ سن کر ساٹھ(60) مجاہدین آگے بڑھے۔دریائے دجلہ کے دوسرے کنارے پر فارسیوں نے صف بندی کر رکھی تھی۔حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ آگے بڑھے،اور قرآن پاک کی ایک آیت تلاوت فرمائی ،اور اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔اور اُن کے ساٹھ ساتھیوں نے اُن کے پیچھے اپنے گھوڑے ڈال دیئے۔دریائے دجلہ کے دوسرے کنارے پر کھڑے فارسیوں کے منہ حیرت سے کھل گئے،اور وہ انتہائی شدید حیرت گھبراہٹ سے مسلمانوں کودریا میں داخل ہوتے دیکھ رہے تھے۔جب فارسیوں(ایرانیوں)نے مسلمانوں کے گھوڑوں کو دریا کے پانی پر تیرتے دیکھا ،تو انتہائی شدید حیرانی سے پکار اُٹھے؛”دیوانے!یہ لوگ دیوانے ہیں،اﷲ کی قسم!ہم انسانوں سے نہیں جناتوں سے جنگ کر رہے ہیں۔پھر انہوں نے گھڑ سواروں کو پانی میں بھیجا کہ وہ مسلمانوں کے ہر اول (مقدمة الجیش)دستے کو پانی سے باہر نکلنے نہ دیں۔حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ وہ اپنے نیزے سیدھے کر لیں،اور فارسیوں کے گھوڑوں کی آنکھوں پر وار کریں۔مسلمانوں نے ایساہی کیا،اور اُن کے گھوڑوں کی آنکھیں پھوڑ دیں۔فارسیوں کے گھوڑے جب اندھے ہوئے تو پانی کے باہر بھاگے ،اور وہ انہیں روک بھی نہیں سکے۔اِس افرا تفری کا فائدہ اُٹھا کر حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ دوسرے کنارے پر پہنچ گئے۔اور دریا کے کنارے کھڑے ہو کر فارسیوں کو روکنے لگے ،تاکہ مسلمان دریا پار کرلیں۔

مسلمانوں کا گھوڑوں پر دریا پار کرنا

حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ اپنے ساٹھ ساتھیوں کے ساتھ دریائے دجلہ کے اُس پار پہنچ گئے،اور فارسیوں سے مقابلہ کرنے لگے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عاصم رضی اﷲ عنہ کے ساٹھ ساتھیوں کے پیچھے اُن کے چھ سو ساتھی بھی دریائے دجلہ کے اُس پار پہنچ گئے۔اور انہوں نے فارسیوں پر زبردست حملہ کر کے انہیں بہت پیچھے دھکیل دیا۔اُن کے پیچھے مسلمانوں کے دوسرے دستے نے دریا پار کیا۔انہوں نے پہلے دستے کا نام ”کتیبتہ الاہوال“رکھا،اور دوسرے دستے کا نام”کتیبتہ الخرسائ“ رکھا،جس کے سپہ سالار حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ تھے۔پھر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ تمام مسلمانوں کو لیکر دریا میں اُترے،اور بلند آواز سے پڑھا۔”نستعین باﷲ ونتوکل علیہ،حسبنا اﷲ ونعم الوکیل،ولا حول ولا قوة الا باﷲ العلی العظیم“تمام مسلمانوں نے بھی یہی پڑھا ،اور حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کے ساتھ دریا میں اُتر گئے،اور ایک مسلمان بھی پیچھے نہیں رہا۔اور وہ دریائے دجلہ پر یو ںچل رہے تھے،جیسے وہ زمین کی سطح پر چل رہے ہوں۔گھڑ سواروں اور پیدل چلنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ دریا کا پانی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔اور وہ سب پانی کے اوپر اِس طرح باتیں کرتے چل رہے تھے،جیسے زمین پر چل رہے ہیں۔کیونکہ انہیں امن و سکون حاصل تھا،اور وہ اﷲ تعالیٰ کے وعدے اور تائید و نصرت پر پختہ یقین اوراعتماد رکھتے تھے۔اور یہ اِس وجہ سے بھی کہ اُن کے سپہ سالار اُن دس جلیل القدر صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم میں سے تھے،کہ جنہیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دنیا میں ہی جنتی ہونے کی بشارت دی تھی۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ ”عشرہ¿ مبشرہ “میں سے ہیں۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کے لئے دعا کی تھی کہ” اے اﷲ اِن کی ہر دعا کو قبول فرما “۔اور آج حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے دعا کی تھی کہ ”اے اﷲ ہمیں بہ حفاظت دریا پار کرا دے۔“

اﷲتعالیٰ نے دریا کو مطیع کر دیا

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے ساتھ مسلمان مجاہدین پانی پر چلتے ہوئے دریا پار کر رہے تھے۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے آج اپنے لشکر کی سلامتی اور فتح کی دعا کی ،اور انہیں دریا میں ڈال دیا۔پس اﷲ تعالیٰ نے راہ ِراست کی طرف انہیں ہدایت کی،اور انہیں بچا لیا،اور مسلمانوں کا ایک بھی آدمی ضائع نہیں ہوا۔ہاں ایک شخص جسے غرقدہ البارقی کہا جاتا تھا،اپنے سرخ گھوڑے پر سے گر پڑا تھا۔اور حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے اُس کی لگام پکڑ لی،اور اُس شخص کا ہاتھ پکڑ کر گھوڑے پر سوار کرا دیا۔اُس نے کہا؛”عورتیں حضرت قعقاع بن عمرورضی اﷲ عنہ جیسا جوان پیدا کرنے سے عاجز ہو چکی ہیں۔“اور مسلمانوں کے سامان سے کوئی چیز ضائع نہیں ہوئی،ہاں ایک شخص جسا نام مالک بن عامر تھا۔اُس کا لکڑی کا پیالہ ،جسکا چھلا کمزور تھا،گر پڑا۔پس موج نے اُسے اوپر اُٹھا لیا،اُس شخص نے دعا کی؛”اے اﷲ !مجھے اِن لوگوں کے درمیا ن ایسا نہ بنا ،جس کا سامان ضائع ہو گیا ہو۔“پس موج نے وہ پیالہ اُسے واپس کر دیا۔اور جب کسی کا گھوڑا تھک جاتا تھا،تو اﷲ تعالیٰ اُس کے لئے ایک جگہ مقرر کر دیتا تھا،اور وہ اُس پر کھڑے ہو کرآرام کر لیتا تھا۔اور گھوڑے پانی پر اِس طرح چل رہے تھے کہ صرف اُن کی کھروں کو ہی پانی لگا تھا۔یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا معجزہ ہے،جسے اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم پر ظاہر فرمایا ہے۔اِس سے پہلے اﷲ تعالیٰ نے حضرت علا بن حضرمی رضی اﷲ عنہ پر ظاہر فرمایا تھا،جس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔اور اُن کے لشکر کے مقابلے میں یہ لشکر کئی گُنا زیادہ ہے۔

اﷲ تعالیٰ کی تعریف

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی زیر قیادت مسلمان اپنے گھوڑوں پر اور پیدل دریائے دجلہ پار کر رہے تھے۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ پانی پر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے ساتھ چل رہے تھے۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اﷲ ہمارے لئے کافی ہے،وہ بہت اچھا کار ساز ہے۔اﷲ کی قسم! اﷲ تعالیٰ ضرور اپنے دوست کی مدد کرے گا،اور ضرور اﷲ اپنے دین کو غالب کرے گا۔اور ضرور اﷲ اپنے دشمن کو شکست دے گا۔ اگر لشکر میں کوئی نافرمانی یا گناہ ہوا ہو تو نیکیاں غالب آ جائیں گی۔“حضرت سلمان فارسی نے فرمایا؛”اﷲ کی قسم !ان کے لئے سمندروں کو خشکی کی طرح مطیع کر دیا گیا ہے۔اﷲ کی قسم!وہ ضرور اِس سے فوج در فوج باہر نکلیں گے،جیسے کہ فوج در فوج داخل ہو ئے ہیں۔“اور وہ لوگ حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ کے فرمان کے مطابق اس سے باہر نکلے۔اور ان میں سے ایک شخص بھی غرق نہیں ہوا،اور نہ ہی انہوں نے کسی چیز کو کھویا۔

مدائن کی فتح

حضرت سعد بن ابی وقاص کی زیر قیادت اﷲ تعالیٰ کی مہربانی سے تمام مسلمانوں نے دریا پار لیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔اور جب تمام مسلمان دریا سے نکل کر سطح زمین پر کھڑے ہو گئے،اور گھوڑے اپنی ایال جھاڑتے ہوئے اور ہنہناتے ہوئے باہر نکلے۔تو وہ فارسیوں کے پیچھے چل پڑے ،یہاں تک کہ ”مدائن “میں داخل ہو گئے،اور وہاں انہوں نے کسی کو نہیں پایا۔کسریٰ نے اپنے اہل و عیال اور جس قدر مال و متاع اور خزانے لے جا سکتا تھا،انہیں لیکر چلا گیا تھا۔اور جو نہیں لے جا سکا اُسے چھوڑ دیا۔بےشمار مویشی،کپڑے،سازو سامان ،برتن،تحائف اور تیل کے بے شمار ذخائر مسلمانوں کے ہاتھوں مال غنیمت کے طور پر آیا۔کسریٰ کے خزانے میں نو ارب دینار تھے۔اِن میں سے جو وہ لے جا سکا ،لے گیا،باقی وہیں چھوڑ دیا۔مسلمانوں کے ہاتھوں پانچ ارب دینار سے زیادہ مال غنیمت کے طور پر آئے۔مدائن میں سب سے پہلے ”کتیبتہ الاہوال“داخل ہوا، پھر ”کتیبتہ الخرسائ“داخل ہوا،اور انہوں نے ناکہ بندی کر لی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔کسریٰ شاہ یزد گرد نے بہر سیر کے مفتوح ہونے کے بعد اپنے شاہی خاندان کو ”حلوان“بھیج دیا تھا۔اِس کے بعد یزد گرد خود بھی روانہ ہو گیا،اور وہ حلوان میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ پہنچ گیا۔اُس نے مہران رازی اور نخیر جان کو اپنا نائب بنا دیا۔اُس کا خزانہ نہروان میں تھا۔اہل فارس اپنا بیش قیمتی اور ہلکا سامان جس قدر لے جاسکتے تھے،لے گئے۔باقی وہ سرکاری خزانہ ،کپڑے ،جواہرات،زیورات اور تیل و عطر وگیرہ اتنے چھوڑ گئے کہ جس کی قیمت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

قصر ابیض(سفید محل) کی فتح

جب مسلمان مدائن میں داخل ہوئے،تو اُسے خالی پایا،اور صرف قصر ابیض (سفید محل)میں کافی لوگ قلعہ بند تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مدائن میں سب سے پہلے حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ کا دستہ داخل ہوا ،پھر حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کا دستہ داخل ہوا۔وہ مدائن کے گلی کوچوں میں گشت کرتے رہے،مگر انہیں کوئی آدمی نہیں ملا۔سوائے ”قصر ابیض“کے ،جس میں کچھ لوگ موجود تھے،اُن کا محاصرہ کر لیا گیا۔جب حضرت سعد رضی اﷲ عنہ اسلامی لشکر کے ساتھ آئے،تو انہوں نے حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ کے ذریعے ان کے سامنے تین چیز اختیا رکرنے کا حکم دیا۔پہلی یہ کہ اسلام قبول کر لو ،ہمارے برابر ہو جاو¿ گے،دوسری یہ کہ ذمی بن جاو¿،اور جزیہ دینا قبول کرو۔تیسری یہ کہ جنگ کے لئے تیار ہو جاو¿۔انہوں نے ذمی بن کر جزیہ دینا قبول کر لیا۔ بعد میں اہل مدائن بھی آگئے ،اور ذمی بن کر جزیہ دینا منظور کر لیا۔

ملک عراق میں پہلا جمعہ

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی ا ﷲ عنہ ”قصر ابیض “کی فتح کے بعد اُس میں داخل ہوئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی ا ﷲ عنہ نے قصر ابیض کو اپنا مسکن بنا لیا،اور اُس کے ایوان کو جائے نماز بنا لیا۔اور جب اُس میں داخل ہوئے تو قرآن پاک کی ایک آیت تلاوت فرمائی۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ ایک اونچی جگہ کی طرف بڑھے،اور”صلوٰة الفتح“کی آٹھ رکعت نماز پڑھیں، اور آپ رضی اﷲ عنہ نے یہ ایک سلام سے پڑھیں۔اِس کے بعد حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے جمعہ کے روز ”نماز جمعہ“کا اعلان فرمایا۔اور ملک عراق میں قصر ابیض کے ایوان میں پہلا جمعہ پڑھا گیا۔اور یہ اِس وجہ سے پڑھا گیا کہ آپ رضی ا ﷲ عنہ نے مدائن کے قصر ابیض میں ٹھہرنے کی نیت کر لی تھی۔

کسریٰ کا تاج

مدائن کی فتح سے مسلمانوں کو بے شمار مال غنیمت حاصل ہوا،اتنا کہ مسلمان اُس کی قیمت کا اندازہ ہی نہیں کر سکتے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو مدائن میں اِس قدر مال غنیمت حاصل ہوا کہ نہ تو اِس کی قیمت لگائی جاسکتی تھی،اور کثرت و عظمت کی وجہ سے اس کی مد بھی شمار نہیں کی جاسکتی تھی۔قصر ابیض میں چونہ گچ کے مجسمے تھے۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے اِن میں سے ایک کی طرف دیکھا کہ وہ انگلی سے ایک طرف اشارہ کر رہا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے وہاں کھدوایاتو وہاں پہلے کے کسراو¿ں میں سے کسی ایک کسریٰ کا خزانہ نکلا۔اُس خزانے میں ایسی ایسی چیزیں تھیں کہ مسلمانوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔اِس خزانے میں نفیس جواہر سے مرصع تاج بھی تھا،اور قالین بھی،اور اس کے برابر سونے،موتیوں اور قیمتی جواہرات سے بنا ہوا تھا۔اِس خزانے میں کسریٰ کے تمام ممالک کی تصویر تھی،یعنی اُس کے شہروںکی،نہروں کی،قلعوں کی،صوبوں کی،خزانوں کی،کھیتوں کی،اور درختوں کی تصویر موجود تھی۔اور جب کسریٰ تخت حکومت پر بیٹھا کرتا تھا ،اور اپنے تاج میں داخل ہو جاتا تھا۔یہ اِس لئے کہ وہ تاج بہت ہی وزنی تھا،اور وہ اُس تاج کو سونے کی زنجیروں کے ساتھ معلق رکھتا تھا،کیونکہ وہ اُس کے بوجھ کی وجہ سے اپنے سر پر نہیں اُٹھا سکتا تھا۔بلکہ وہ آ کر اُس کے نیچے بیٹھ جاتا تھا،پھر اپنا سر تاج کے اندر داخل کر لیتا تھا،اور سنہری زنجیریں اُسے اُٹھائے رکھتی تھیں،اور وہ اسے پہننے کی حالت میںبیٹھتا تھا۔پھر جب پردہ ہٹا دیا جاتا تھا،تو درباری،وزرائ،اور اُمراءکسریٰ کو سجدہ کرنے کے لئے گر پڑتے تھے۔اور وہ پیٹی ،کنگن ،تلوار،اور جواہرات سے مرصع قبا پہنتا تھا۔

مسلمان مجاہدین کا تقویٰ

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جو لگ بھگ چوالیس ہزار (44,000) کا لشکر تھا،اُس کا ہر مجاہداﷲ کے لئے مخلص اور متقی تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب مسلمان مدائن میں مقیم ہوئے،اور انہوں نے مالِ غنیمت کو جمع کرنا شرو ع کیا۔تو ایک مسلمان مجاہد ایک ڈبا لے کر آیا،اور اُسے مال غنیمت کے افسر کے حوالے کر دیا۔جو مسلمان مجاہدین وہاں موجود تھے،انہوں نے کہا؛”ہم نے ایسی چیز نہیں دیکھی،اور ہماری لائی ہوئی کوئی چیز اِس کے ہم پلہ نہیں ہے،اور نہ ہی اِس کے قریب ہے۔“مال غنیمت کے افسر نے پوچھا؛”کیا تم نے اِس میں سے کوئی چیز نکالی ہے؟“وہ مسلمان مجاہد بولا؛”اگر اﷲ نہیں ہوتا،تو میں تمہارے پاس اِسے لیکر نہیں آتا۔“اِس پر لوگوں کو یہ خیال ہوا کہ یہ ضرور کوئی بہت جلیل القدر صحابی ہوں گے،اِسی لئے مال غنیمت کے افسر نے پوچھا؛”آپ کون ہیں؟“اُس مسلمان مجاہد نے کہا؛”نہیں،اﷲ کی قسم!میں اپنا نام آپ کو اور دوسروں کو نہیں بتاو¿ں گا،کیونکہ تم لوگ میری تعریف و تحسین کرو گے۔میں تو صرف اﷲ تعالیٰ کی ہی تعریف کروں گا،اور اُس کے ثواب پر راضی رہوں گا۔“جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو اس کے بارے میں بتایا گیا،تو آپ رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا؛”اﷲ کی قسم!یہ لشکر امانت دار ،اﷲ کے لئے مخلص،اور متقی ہے۔“

بے شمار مال غنیمت

مدائن سے مسلمانوں کو بے شمار مال غنیمت ملا۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے حضرت عمرو بن مقرن کو مال غنیمت کا افسر مقرر کیا۔مال غنیمت بے اندازہ تھا۔ایک تو قصر ابیض سے خزانہ ملا ،اس کے علاوہ پانچ ارب دینارسے زیادہ کا کسریٰ کا خزانہ تھا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔مسلمانوں کو مدائن میں اتنے ایرانی قالین ملے کہ وہ اُسے اُٹھا نہیں سکتے تھے۔اور مسلمان بعض گھروں میں جاتے تو اُس گھر کو چھت تک اشرفیوں سے بھرا ہوا پاتے تھے۔اور بہت سا کافور مسلمانوں کو ملا،جسے انہوں نے نمک خیال کیا،اور اُسے اپنے آٹے میں ڈال کر پکاتے تو اُس کی کڑواہٹ محسوس کرتے تھے۔یہاں تک کہ انہیں یہ معلوم ہوا کہ یہ نمک نہیں کافور ہے۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس نکال کر باقی مال مجاہدین میں بانٹ دیا۔ہر گھڑ سوار کو بارہ ہزار درہم ملے،اور پورا لشکر گھڑسوار تھا۔کیونکہ مدائن میںگھوڑے اتنے زیادہ تھے کہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی پیدل نہیں تھا۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے مدائن کے گھروں کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیا،اور وہ اُن میں رہنے لگے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے قالینوں میں سے بھی خمس نکالا،اور مال غنیمت کا خمس اور کسریٰ کا لباس اور مدائن کی فتح کی خوش خبری اور مکمل تفصیل کے ساتھ مدینہ منورہ خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حضرت نشر بن خصاصیہ کے ہاتھوں بھیج دیا۔مدائن صفر المضفر ۶۱ ہجری میں فتح ہوا۔

کسریٰ کے کنگن

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم جب ہجرت کے سفر پر رواں دواں تھے،تو حضرت سراقہ بن مالک بن جعثم رضی اﷲ عنہ نے انعام کے لالچ میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا تعاقب کیا تھا۔اور جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی دعا سے ،اور اﷲ کے حکم سے اُن کا گھوڑا اپنے پیٹ تک زمین میں دھنس گیا تھا۔تو انہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا کہ مجھ غریب پر رحم فرمائیں۔اِس پر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم غریب کہاں ہو،میں تو تمہارے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن دیکھ رہا ہوں۔آج اُس واقعہ کے سولہ(16) سال بعد ملک عراق سے مدائن کی فتح کا مال غنیمت کا خمس آیا ہوا ہے،اور پورا مال غنیمت مسجد نبوی کے صحن میں رکھا ہوا ہے۔مدینہ منورہ کے مسلمان جمع ہیں ،اور مال غنیمت کو دیکھ دیکھ کر حیران ہو رہے ہیں۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اِدھر اُدھر گھوم گھوم کرسامان کو اُلٹ پلٹ کررہے ہیں،ایسا لگتا ہے،جیسے وہ کچھ تلاش کر رہے ہوں۔لوگوں نے عرض کیا؛”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !کیا تلاش کر رہے ہیں؟“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کسریٰ کے کنگن۔“کسی نے دو کنگن اُٹھا کر دیئے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے کسریٰ کے کنگن ہاتھ میں لئے،اور حضرت سراقہ بن مالک بن جعثم رضی اﷲ عنہ کو بلایا۔اور اپنے ہاتھوں سے کسریٰ کے سونے کے کنگن پہنادیئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر کئی اسناد بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے پاس کسریٰ کا لباس لاکر رکھا گیا،اور اُس وقت لوگوں میں حضرت سراقہ بن مالک بن جعثم رضی اﷲ عنہ موجود تھے۔راوی بیان کرتے ہیںکہ آپ رضی اﷲ عنہ نے کسریٰ بن ہرمز کے کنگن حضرت سراقہ بن مالک بن جعثم رضی اﷲ عنہ کو دیئے،اور انہوں نے پہن لئے۔جب آپ رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت سراقہ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھوں میں کسریٰ کے سونے کے کنگن دیکھے،تو فرمایا؛”الحمد ﷲ!تمام تعریف اُس اﷲ کے لئے ہے،جس نے کسریٰ بن ہرمز کے کنگن بنو مدلج کے ایک بدو حضرت سُراقہ بن مالک بن جعثم رضی اﷲ عنہ کو پہنائے۔“

سونا صرف حضرت سُراقہ رضی اﷲ عنہ کے لئے حلال ہے

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت سُراقہ بن مالک بن جعثم رضی اﷲ عنہ کو کسریٰ کے سونے کے کنگن پہنائے،تو کسی نے عرض کیا ؛”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !مَردوں کو سونا پہننا حرام ہے نا؟“ خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”بے شک !مَردوں کو سونا پہننا حرام ہے،لیکن حضرت سُراقہ رضی اﷲ عنہ کے لئے حلال ہے۔کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا ہے کہ میں تمہارے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن دیکھ رہا ہوں۔“علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں۔پھر امام شافعی کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”میں نے اِن کنگنوں کو حضرت سُراقہ رضی اﷲ عنہ کو اِس لئے پہنایا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت سُراقہ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھوں کو دیکھ کر یہ فرمایا تھا کہ میں تجھے یوں دیکھ رہا ہوں کہ تیرے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن پہنادیئے گئے ہیں۔“پھر حضرت امام شافعی نے آگے بیان کیاکہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت سُراقہ رضی اﷲ عنہ کو جب کسریٰ کے سونے کے کنگن پہنائے ،تو اُن سے فرمایا؛”اﷲ اکبر کہو۔“انہوں نے اﷲ اکبر کہا،تو خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کہو!اُس اﷲ کا شکر ہے کہ جس نے ان کو کسریٰ سے چھینا،اور بنو مدلج کے ایک بدو سُراقہ بن مالک کو پہنایا۔“

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کا عجز اور انکساری

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی طاقت اور قوت کا یہ عالم تھا کہ اُس وقت کی دو سب سے بڑی سوپر پاور سلطنت روم اور سلطنت فارس آپ رضی اﷲ عنہ کے سامنے گھٹنے ٹیک چکی تھیں۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کی زیر قیادت مسلمان دنیا کی سب سے بڑی ” سوپر پاور“بن رہے تھے۔ لیکن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے عجز اور انکساری کا یہ عالم تھاکہ اکثر اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں گریہ و زاری کرتے رہتے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے ملک عراق سے کسریٰ کی قبا ،تلوار،پیٹی،شلوار،قمیص، تاج ،موزے اور کنگن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیجے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کا جائزہ لیا تو سب سے زیادہ جسیم اور بڑی قامت والا حضرت سُراقہ بن مالک بن جعثم رضی اﷲ عنہ کو پایا،اور اُن سے فرمایا؛”اے سُراقہ رضی اﷲ عنہ!کھڑے ہو کر یہ قباءپہنو۔حضرت سُراقہ رضی اﷲ عنہ نے وہ قباءپہن لی،آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”پیٹھ پھیرو۔“انہوں نے پیٹھ پھیری،پھر فرمایا؛”آگے آو¿،آگے آو¿۔“وہ آگے آئے۔پھر خلیفۂ دوم رضی اﷲ عن نے فرمایا؛”آفرین ہے،بنو مدلج کے ایک بدو پرجو کسریٰ کی قبائ،شلوار،تلوار،پیٹی،تاج ،موزے اور کنگن پہنے ہوئے ہے۔اے سُراقہ بن مالک رضی اﷲعنہ!کبھی وہ دن بھی آئے گاکہ اگر اِس میں تمہارے جسم پر کسریٰ اور آل کسریٰ کے سامان میں سے کچھ بھی ہو تو یہ بات تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے شرف کا باعث ہو گی۔اب اِسے اُتار دو۔“حضرت سُراقہ بن مالک رضی اﷲ عنہ نے اسے اُتار دیا۔اِس کے بعد حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے اﷲ تعالیٰ!آپ نے اپنے نبی اور رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو اِس سے روک دیا۔حالانکہ وہ صلی اﷲ علیہ وسلم آپ کو مجھ سے بلکہ اِس پوری کائنات سے زیادہ محبوب اور عزیز ہیں۔ اور آپ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو بھی اِس سے روک دیا۔حالانکہ وہ بھی آپ کو مجھ سے زیادہ محبوب اور عزیز ہیں۔اے اﷲ تعالیٰ!میں آپ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہو ں کہ آپ نے یہ شرف مجھے عطا فرمایاہے۔(کہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اُس فرمان کو پورا کر سکوں،جو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت سُراقہ بن مالک بن جعثم رضی اﷲ عنہ سے فرمایاتھا)پس میں آپ سے اِس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں مال و دولت اور دنیا کے دھوکے میں مبتلا ہوجاو¿ں۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ رو پڑے،یہاں تک کہ وہاں موجود سب لوگ رو پڑے،اور اﷲ سے رحمت کی دعا مانگنے لگے۔پھر حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ سے فرمایا؛”میں آپ رضی اﷲ عنہ کو قسم دیتا ہو کہ اِسے (کسریٰ کے لباس اور تاج وغیرہ)فروخت کر کے شام سے پہلے پہلے اِسے تقسیم کر دیں۔اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”افسوس کہ کسریٰ اِس کے ذریعے آخرت سے غافل ہو گیا تھا،اگر وہ آخرت کے لئے بھیجتا،جو بچ جاتا ،وہ اپنے لئے رکھتا ،تو اُس کے لئے فائدے مند ہوتا۔

کسریٰ کا قالین”بہارِ کسریٰ

مسلمانوں کو مدائن میں مال غنیمت کے طور پر کسریٰ کا قالین جسے ”بہارِ کسریٰ“کہا جاتا تھا،وہ بھی ملا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔یہ قالین ساٹھ مربع گز کا ایک مسلسل فرش تھا،اور ایک جریب کے برابر تھا۔اِس میں سلطنت ِ فارس کی سڑکوں،نہروںکے نقشے تھے۔اور اِن کے درمیان خانقاہیںتھیں،اِن کے اطراف سر سبز کھیت تھے،جن میں ریشم کے بنے ہوئے موسم بہار کی سبزیاں اور پودے لہلہا رہے تھے،اِن پودوں کی کلیاں اور پھول سونے اور چاندی کے تھے۔اِسی طرح اور بھی بہت سی تصاویر نقش تھیں۔اِس کا فرش سونے کا تھا،اور اِس پر بنے میوہ جات جواہرات کے تھے۔جب حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کی تقسیم کی،تو یہ قالین فالتو رہا،اور اس کی درست تقسیم نہیں ہو پا رہی تھی۔اُس وقت حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں سے فرمایا؛”اﷲ تعالیٰ نے تمہیں خوش حال کر دیا ہے۔اِس قالین کی تقسیم مشکل ہو گئی ہے،اِسے کوئی نہیں خرید سکتا۔اِس لئے میری یہ رائے ہے کہ تم خوشی سے اِسے امیر المومنین کی خدمت میں بھیج دو۔تاکہ وہ جیسا چاہیں ،اِس کے بارے میں کاروائی کریں۔“تمام مسلمان مجاہدین اِس پر راضی ہو گئے۔جب یہ قالین خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں آیا ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو جمع کر کے اِس کے بارے میں مشورہ کیا۔ہر کوئی الگ الگ مشورہ دے رہا تھا۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے مشورہ دیا کہ اسے کاٹ کر مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے۔خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے اِس مشورے کو قبول کیا،اور اُس قالین کو کاٹ کر مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے حصے میں جو ٹکڑا آیا تھا،اُسے آپ رضی اﷲ عنہ نے بیس ہزار درہم میں فروخت کردیا۔جب کہ وہ قالین کے بہترین ٹکڑوں میں سے نہیں تھا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں