جمعہ، 4 اگست، 2023

22 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


22 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 22

احمقوں (شرپسندوں) کی گستاخی، خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا خطبہ، احمقوں (شر پسندوں) کی بد تمیزی، حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے پانی پہنچایا، اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اﷲ عنہا سے نازیبا سلوک، احمقوں (شر پسندوں) کو ایک مرتبہ پھر سمجھایا، 

احمقوں (شرپسندوں) کی گستاخی

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے مکان کا احمقوں نے محاصرہ کیا ہوا تھا اور گستاخی پر اُتر آئے تھے ۔اِس کے باوجود خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے فرمایا کہ وہ احمقوں کو سمجھائیں اور اُن کی جائز مانگیں پوری کی جائیں گی ۔حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے احمقوں کو سمجھایا تو وہ مان گئے لیکن حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے جانے کے بعد خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے رشتہ دار مروان بن حکم نے احمقوں کو برا بھلا کہا اور ایسی باتیں کی کہ وہ پھر سے خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے خلاف ہو گئے ۔ایسا کئی مرتبہ ہوا کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے اثمقوں کو سمجھایا اور مروان بن حکم نے بھڑکا دیا ۔یہ تمام واقعہ تاریخ طبری ، تاریخ ابن کثیر اور تاریخ ابن خلدون میں بہت تفصیل سے درج ہے ۔اِس کے بعد احمقوں کی گستاخیاں خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کے خلاف اتنی بڑھیں کہ انہوں نے ”عصائے نبوی “ کو توڑ دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبد الرحمن بن حاطب بیان کرتے ہیں کہ میں نے خود مشاہدہ کیا ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اُس ”عصائے نبوی “ کے سہارے خطبہ دے رہے تھے جسے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہم بھی استعمال کرتے تھے ۔اُس وقت جھجاہ غفاری بولا : ” اے بے وقوف( نعوذ باﷲ ) !اِس منبر سے اُتر جاؤ ۔“ اِس کے بعداُس نے ” عصائے نبوی “ کو آپ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ سے چھین لیا اور اپنے دائیں گھٹنے سے توڑ ڈالا ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ منبر سے اُترے اور لوگ انہیں گھر لے گئے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ ”عصائے نبوی “کو جوڑ دیا جائے ۔اِس واقعہ کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ ایک مرتبہ یا دو مرتبہ گھر سے باہر نکلے تھے کہ محاصرہ ہو گیا اور آپ رضی اﷲ عنہ شہید ہوگئے ۔ نافع کی روایت میں ہے کہ جھجاہ غفاری نے اُس عصا کو جو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ میں تھا لیکر اپنے گھٹنے کے زور سے توڑ دیا تو اُسی وقت ” آکلہ “ کی بیماری میں مبتلا ہو گیا ۔

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا خطبہ

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے گھر کا باغیوں نے محاصرہ کیا ہوا تھا اور وہ آپ رضی اﷲ عنہ کے خلافت چھوڑ دینے کی مانگ کر رہے تھے اور دوسری صورت میں (نعوذ باﷲ ) آپ رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے کی دھمکی دے رہے تھے ۔ایسے وقت میں خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے خطبہ دیا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : محاصرے کے بعد امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ ، حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کو بلوا بھیجا ۔ جب یہ لوگ اوراِن کے ساتھ اہل مدینہ بھی آئے تو خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کے گھر کے دروازے پر ایک بڑا ہجوم تھا ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے گھر کے دروازے پر آ کر فرمایا : ” بیٹھ جاؤ ۔“ یہ حکم سن کر تمام احمق اور غیر احمق سب بیٹھ گئے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اہل مدینہ سے مخاطب ہو کر فرمایا : ” اے اہل مدینہ ! میں تم کو اﷲ کے سپرد کرتا ہوں اور اُس سے دعا کرتا ہوں کہ میرے بعد تم پر کسی اچھے شخص کو خلیفہ بنائے ۔ “ یہ فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ کچھ دیر خاموش رہے پھر سر اُٹھا کر فرمایا : ” میں تم کو اﷲ کی قسم یاد دلاتا ہوں کہ کیا تم کو یہ معلوم نہیں ہے کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے زخمی ہونے کے وقت تم نے اﷲ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ اﷲ تعالیٰ تمہاری خلافت کے لئے کسی کو منتخب کردے اور کسی بہترین ہستی کو تمہارا خلیفہ بنائے ۔ کیا تم یہ کہو گے کہ اﷲ تعالیٰ نے یہ دعا قبول نہیں کی یا یہ کہو گے کہ اﷲ تعالیٰ نے جس کو اِس دین کا والی بنایا اُس کو آزمائش میں نہیں ڈالا یا کہو گے کہ اُمت نے دھاندلی سے یا بغیر مشورے کے والی ( خلیفہ ) مقرر کیا اور اُس نے اپنے کام کو بغیر انجام بینی سے اُس کے سپرد کیا ہے ۔پھر میں تم کو اﷲ کی قسم یاد دلاتا ہوں ،تم لوگ میرے سابق الاسلام ہونے کو جانتے ہو ۔جانے دو در گزر کر و کیونکہ تین آدمیوں کے سوا اور کسی کا قتل جائز نہیں ہے ۔ایک زانی محصن کا ،دوسرے مرتد کا اور تیسرے قاتل بغیر حق کا ۔پھر جب تم مجھے قتل کر ڈالو گے تو تلوار تم اپنی گردنوں پر رکھ لو گے ۔پھر اﷲ تعالیٰ تم پر سے اختلاف کو نہیں اُٹھائے گا ۔“ 

احمقوں (شر پسندوں) کی بد تمیزی

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ بڑی محبت سے احمقوں کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن اِس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : احمقوں نے جواب دیا کہ تم نے جو حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کے بعد استخارے کی نسبت کہا ہے تو اصل یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے جو کیا اچھا کیا لیکن درحقیقت اﷲ تعالیٰ نے تم کو ( نعوذ باﷲ ) ایک فتنہ بنایا ہے جس میں اُس نے اپنے بندوں کو مبتلا کیا ہے ۔حقوقِ سابق اسلام تمہارے ہیں اور تم اُس کے ضرور مستحق تھے لیکن تم نے بہت سی ایسی باتیں کی ہیں جس سے تم کو ہم حق قائم کرنے کے لئے بھی نہیں چھوڑ سکتے ۔اِس خیال سے کہ مبادا آئندہ سال اور فتنہ و فساد برپا نہ ہو ،باقی رہا تمہارا یہ کہنا کہ تین ہی آدمیوں کو قتل کرنا چاہیئے ۔ اِس کی نسبت ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم اﷲ کی کتاب میں سوا ئے اِن تین لوگوں کے اور لوگوں کا بھی قتل کرناجائز دیکھتے ہیں ۔وہ اُن آدمیوں کا قتل کرنا ہے جو دنیا میں فساد کا باعث ہو ں یا باغی ہوں یا حق و راستی سے منع کرنے والے ہوں اور مخالف ہو ں اور بلا شبہ تم نے امارت کا ذرا دباؤ ہم پر ڈالا اور بے شک جو لوگ ہم سے لڑے اور لڑنے کو آتے ہیں وہ تمہاری امارت کی وجہ سے لڑتے ہیں ۔پس اگر تم خلافت چھوڑ دو تو وہ لوگ بر سرِ مقابلہ نہیں آئیں گے۔“ امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ یہ جواب سن کر خاموشی سے گھر کے اندر چلے گئے اور پھر اِس کے بعد گھر کے باہر نہیں نکلے ۔اہل مدینہ اور صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کو بھی واپس جانے کی قسم دے کر واپس بھیجا اور سوائے حضرت امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہ ، حضرت محمد بن طلحہ رضی اﷲ عنہ اور حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کے سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئے ۔

حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے پانی پہنچایا

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے گھر کا محاصرہ احمقوں نے کیا ہوا تھا اور دن گزرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی سختی اور بد تمیزی بھی بڑھتی جارہی تھی ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : ملک مصر ، بصرہ اور کوفہ کے احمقوں نے چالیس دنوں تک خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے گھر کا محاصرہ کئے رکھا ۔اٹھارویں دن یہ خبر مشہور ہوئی کہ اسلامی فوجیں مملکت اسلامیہ سے خلیفہ کی امداد کے لئے آرہی ہیں ۔یہ سن کر باغیوں نے محاصرے میں سختی شروع کر دی اور لوگوں کو امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے پاس جانے سے روک دیا ۔اِس کے علاوہ خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کا کھانا پانی بھی بند کر دیا ۔امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے حضرات علی بن ابی طالب ، طلحہ بن عبید اﷲ اور زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم اور امہات المومنین رضی اﷲ عنہما کے پاس کہلا بھیجا کہ” احمقوں نے میرا کھانا پانی بند کر دیا ہے ۔اگر تم لوگ مجھ کو پانی پہنچا سکتے ہو تو پانی بھیج دو ۔“ حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ یہ دردناک خبر سنتے بےچین ہو گئے اور فوراً احمقوں کے پاس جا کر فرمایا : ” اے لوگو ! تمہار ا یہ فعل نہ تو مسلمانوں سے مشابہ ہے اور نہ ہی کافروں کے مشابہ ہے ۔تم لوگ امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کا کھانا پانی بند نہ کر و ۔بے شک رومی اور فارسی بھی اپنے قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں ۔“ احمقوں نے کہا : ” نہیں ! اﷲ کی قسم ! ایسا کبھی نہیں ہوگا ۔“ حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ یہ سن کر لوٹ آئے ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : ایک روایت میں ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی عنہ نے احمقوں سے اپنے فضائل و مناقب کا ذکر کیا کہ شایدہ وہ رُک جائیں اور اﷲ اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم اور اپنے اولو الامر کی اطاعت کی طرف رجوع کرلیں ۔مگر احمقوں نے ظلم و دشمنی پر قائم رہنے پر اصرارکیا اور لوگوں کو آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس آنے جانے سے روک دیا ۔حتیٰ کہ آپ رضی اﷲ عنہ تنگ ہو گئے اور آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس جو پانی تھا وہ بھی ختم ہو گیا۔پس آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں سے مدد مانگی تو حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ خود سوار ہو کر اپنے ساتھ پانی کا مشکیزہ اُٹھا کر لائے اور اُسے بڑی مشقت سے آپ رضی اﷲ عنہ تک پہنچایا۔حالانکہ اُن جاہلوں نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو سخت و سست کہا اور آپ رضی اﷲ عنہ کی سواری کو بھگانے کی کوشش کی اور آپ رضی اﷲ عنہ کو دھمکایا ۔حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے بھی ان کو بھر پور زجر و توبیخ کی اور یہاں تک فرمایا : ” اﷲ کی قسم ! فارسی اور رومی بھی وہ کام نہیں کرتے جو تم امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے ساتھ کر رہے ہو۔اﷲ کی قسم ! وہ قید کرتے ہیں تو کھلاتے پلاتے بھی ہیں ۔‘ ‘ مگر احمقوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کی بات ماننے سے انکار کر دیا ۔

اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اﷲ عنہا سے نازیبا سلوک

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی امداد کے لئے اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اﷲ عنہا آئیں تو احمقوں نے اُن کے ساتھ بھی بد تمیزی کی ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس کے بعد اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اﷲ عنہا کچھ کھانے کی چیزیں اور پانی لیکر خچر پر سوار ہو کر خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے گھر کے سامنے آئیں تو احمقوں نے روک لیا ۔آپ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : ” میں امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے پاس اِس لئے جا رہی ہوں کہ بنو امیہ کی کچھ امانتیں اُن کے پاس رکھی ہوئی ہیں ۔ایسا نہ ہو کہ بیواؤں اور یتیموں کا مال ضائع ہو جائے ۔“ احمق بولے : ”تم کو ہم عثمان ( رضی اﷲ عنہ ) کے پاس نہیں جانے دیں گے ۔“ اور انہیں زبردستی روکنے کی کوشش کی ۔اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اﷲ عنہا گرتے گرتے بچیں اور اہل مدینہ نے دوڑ کر پکڑلیا اور آہستہ آہستہ آپ رضی اﷲ عنہا کو اُن کے گھر لے گئے ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : سیدہ اُم حبیبہ رضی اﷲ عنہا خچر پر سوار ہو کر آئیں اور آپ رضی اﷲ عنہا کے نوکر اور خادم آپ رضی اﷲ عنہا کے اِرد گِر د تھے ۔ احمقوں نے پوچھا : ” آپ رضی اﷲ عنہا کیوں آئی ہیں ؟“ انہوں نے فرمایا : ” حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس بنو امیہ کے یتیموں اور بیواؤں کی وصایا ہیں ، میں اُن سے اُن کا ذکر کرنا چاہتی ہوں ۔“ مگر احمقوں نے آپ رضی اﷲ عنہا کے ساتھ بد تمیزی کی اور آپ رضی اﷲ عنہا نے اُن سے بہت سختی برداشت کی ۔انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہا کے خچر کا تنگ کاٹ دیا اور وہ بدک کر آپ سمیت بھاگنے لگا اور قریب تھا کہ آپ رضی اﷲ عنہا گر پڑتیں اور اگر مسلمان لوگ مل کرخچر کو پکڑ نہیں لیتے تو قریب تھا کہ آپ رضی اﷲ عنہا ماری جاتیں اور ایک بہت بڑا حادثہ ہو جاتا ۔

احمقوں (شر پسندوں) کو ایک مرتبہ پھر سمجھایا

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی ضی اﷲ عنہ کے مکان کا احمقوں نے محاصرہ کیا ہوا تھا اور آپ رضی اﷲ عنہ کو مسجد نبوی میں جا کر نماز پڑھانے سے بھی روک دیا گیا تھا اور دوسرے نماز پڑھا رہے تھے ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : اِن ایام میں غافقی بن حرب لوگوں کو نماز پڑھاتا رہا اور علامہ محمد بن جریر طبری نے بیان کیا ہے کہ محاصرے کے دوران حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ نماز پڑھاتے رہے او ر صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ کی روایت ہے اور امام واقدی نے بیان کیا ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ نماز پڑھاتے رہے ۔ واﷲ و اعلم ۔ محاصرے کے دوران ایک مرتبہ پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے احمقوں کو سمجھانے کی کوشش کی اور اپنے گھر کی چھت پر چڑھ کر السلام اعلیکم فرمایا لیکن احمقوں نے جواب نہیں دیا ۔امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” میں تم کو اﷲ قسم دے کر کہتا ہوں کہ سچ سچ کہنا ۔ کیا تم جانتے ہو کہ مدینۂ منورہ میں صرف ایک ہی میٹھے پانی کاکنواں ”رومہ “نامی تھا ۔جس کو خرید کر میں نے مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا تھا تاکہ انہیں پانی کی تکلیف سے نجات ملے ۔میں نے اس کو اپنی ملکیت قرار نہیں دیا اور مسلمانوں کی طرح میں بھی اِس کا پانی پیتا رہا ۔ احمقوں نے جواب دیا : ” ہاں یہ سچ ہے ۔“ امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” پھر کیوں تم لوگ مجھے پانی نہیں پینے دیتے ہو ؟ میں مجبوری سے تالاب کے پانی سے روزہ افطار کرتا ہوں ۔“ احمقوں میں سے کسی نے کوئی جواب نہیں دیا ۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” میں تم کو اﷲ کی قسم دے کر کہتا ہوں کیا تم لوگ جانتے ہو کہ مسجد تنگ اور چھوٹی تھی میں نے زمین خرید کر صحن مسجد بڑھایا ۔باغی بولے : ” ہاں یہ سچ ہے ۔“ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” کیا تم بتا سکتے ہو کہ مجھ سے پہلے بھی کسی شخص کو نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہو ؟ احمقوں نے جواب دیا : ” نہیں ،“ آپ رضی اﷲ عنہ نے ارشاد فرمایا : ” پھر تم مجھے مسجد میں نماز پڑھنے سے کیوں روک رہے ہو؟ “ احمقوں میں سے کسی نے کوئی جواب نہیں دیا اور سب خاموش رہے ۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” تم کو اﷲ کی قسم ہے سچ کہنا کیا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے میرے حق میں ایسا اور ایسا نہیں فرمایا ہے ؟ “ احمقوں کے اد پر اِس کلام سے ایک اثر پیدا ہوا جس کی وجہ سے وہ لوگ امیر المومنین رضی اﷲ عنہ سے در گزر کرنے پر آمادہ ہو گئے ۔اِس عرصہ میں مالک اشتر آگیا اور اُس نے احمقوں کو امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے خلاف اُبھار دیا ۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں