22 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 22
فتوحات ِ سلطنت فارس، اسلامی لشکر کی روانگی، فارسیوں کی شکست، بابل کی فتح، کوثی کی فتح، شہر یار کا قتل، حضرت ابراہیم علیہ السلام بابل میں، نہر شیر یا بہر سیرکے اطراف اسلامی لشکر، مختلف صوبوں کے حکام (گورنر)، 15 ہجری کے شہداءاور انتقال شدہ حضرات
فتوحات ِ سلطنت فارس
اب ہم سلطنت روم کے ذکر کو یہیں چھوڑ کر سلطنت فارس کی طرف آتے ہیں۔آپ کو یاد ہو گا کہ جنگ قادسیہ کی فتح کا ذکر کرنے کے بعد ہم نے سلطنت فارس کے ذکر کو وہیں روک دیا تھا۔اور سلطنت روم کا ذکر شروع کر دیا تھا،اب ہم ملک عراق کی طرف واپس آتے ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ جنگ قادسیہ میں فتح حاصل کرنے کے بعد قادسیہ میں ہی دو مہینے تک قیام پذیر رہے۔اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے خط و کتابت کرتے رہے۔پھر انہوں نے حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کو اُس مقام پر بھیجا،جہاں آج کل ”کوفہ“ہے۔اور اِس سے پہلے ”حیرہ “کا مقام تھا۔وہاں فارسیوں(ایرانیوں) کا سپہ سالار نخیرجان خیمہ زن تھا۔جب اُس نے مسلمانوں کے آنے کی خبر سنی ،تو وہ ثابت قدم نہیں رہ سکا ،اور اپنے ساتھیوں کے پاس”بابل“میں بھاگ گیا۔
اسلامی لشکر کی روانگی
خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو مدائن کی طرف پیش قدمی کرنے کا حکم دیا،اور راستے میں جتنے بھی مقامات پر مزاحمت ہو ،انہیں فتح کرتے جانے کا حکم دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ جب وہ مدائن کی طرف روانہ ہوں،تو وہ خواتین اور بچوں کو ”عتیق“میں چھوڑ جائیں۔اور اُن کی حفاظت کے لئے ایک فوجی دستہ بھی مقرر کر دیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ایسا ہی کیا،اور جس فوجی دستے کو خواتین اور بچوں کے ساتھ چھوڑا ،اُن مجاہدین سے فرمایا کہ تمہارا بھی مال غنیمت میں ہمارے برابر کا حصہ ہو گا۔اِس کے بعد حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کو ہر اول(مقدمة الجیش )کا سپہ سالار بنا کر پہلے ہی بھیج دیا تھا،اِس کا ذکر ہم اوپر کر چکے ہیں۔اُن کے پیچھے حضرت عبد اﷲ بن معتم،حضرت شرجیل،اور حضرت ہاشم کو سپہ سالار بنا کر ایک کے بعد ایک کر کے بھیجا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ جب قادسیہ سے فارغ ہوئے،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے ہر اول(مقدمة الجیش)میں حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کو بھیجا۔پھر یکے بعد دیگرے اُن کے پیچھے سپہ سالاروں کو لشکر دیکر بھیجا۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر آگے بڑھے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن عرفطہ کی جگہ حضرت ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص کو اپنا نائب بنایا۔اور حضرت خالد بن عرفطہ کو”ساقہ“کا سپہ سالار بنایا۔اور یہ لوگ بہت سے ہتھیاروں اور گھوڑوں کے ساتھ روانہ ہوئے۔یہ اُس وقت کی بات ہے ،جب ابھی ۵۱ ہجری شوال المکرم کے کچھ دن باقی تھے۔اِن لوگوں نے کوفہ میں پڑاو¿ ڈالا،اور حضرت زہرہ بن حویہ اِن سے آگے مدائن کی طرف آگے بڑھے۔
فارسیوں کی شکست
اسلامی لشکر قادسیہ سے روانہ ہوا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔سب سے پہلے حضرت زہرہ بن حویہ اپنے لشکر کے ساتھ آگے بڑھ کر اُس مقام پر پہنچے ،جہاں آج کل کوفہ ہے۔”کوفہ“ہر اُس زمین کو کہتے ہیں،جس میں سنگریزے اور سُرخ مٹی ملی ہوئی ہو۔جب اِس مقام پر حضرت عبد اﷲ اور حضرت شرجیل پہنچے ،تو یہاں فارسی سپہ سالار یصبہری لشکر لیکر آیا۔دونوں لشکروں میں گھمسان کی جنگ ہوئی ،اور فارسیوں کو شکست ہوئی ۔یصبہری اور اُس کے فارسی سپاہی شکست کھانے کے بعد ”بابل“کی طرف بھاگ گئے۔وہاں قادسیہ کی شکست کھائی ہوئی فوج پہلے سے ہی بھاگ کر آئی ہوئی تھی۔اِن میں نخیر جان،مہران رازی،ہرمزان اور دوسرے سپہ سالار تھے۔اِن لوگوں نے یہاں خیرزان کو اپنا سپہ سالار اور حاکم بنا رکھا تھا۔یصبہری پر حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ نے نیزے سے اتنا زبردست وار کیا تھا کہ وہ نہر میں گر گیا تھا۔پھر بھی وہ اُٹھ کر بابل بھاگ گیا،لیکن اسی نیزے کے وار سے اُس کی بابل میں موت ہو گئی۔
بابل کی فتح
مسلمانوں سے شکست کھانے کے بعد فارسی سپاہی اور کمانڈر بھاگ کر بابل میں جمع ہو گئے۔اور ایک بڑی جنگ کی تیاری کرنے لگے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب یصبہری کو شکست ہوئی ،تو ”برس“کا زمیندارجس کا نام بسطام تھا آیا،اور حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ سے صلح کا معاہدہ کر لیا۔اُس نے مسلمانوں کے لئے پُل تیار کئے،اور دشمن کے بابل میں جمع ہونے کی خبر پہنچائی۔حضرت زہر بن حویہ رضی اﷲ عنہ نے بسطام کے پاس ”برس“میں پڑاؤ ڈال دیا،اور تمام معلومات حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو لکھ کر بھیجی۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کوفے میں حضرت ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص کے ساتھ مقیم تھے۔اُس وقت انہیں حضرت زہرہ بن حویہ کی طرف سے اطلاع ملی کہ اہل فارس خیرزان کی زیر قیادت با بل میں جمع ہیں۔اور وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ منتشر ہونے سے پہلے مسلمانوں سے ایک بڑی جنگ کریں گے۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے اِس اطلاع کے بعد فوراًحضرت عبد اﷲ کو پھر حضرت شرجیل کو اور پھر حضرت ہاشم کو لشکر دیکر بابل بھیجا،اور سب سے آخر میں آپ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر پہنچے۔فارسیوں کا لشکر لیکر خیرزان میدان میں آیا،دونوں لشکروں نے صف بندی کی۔جنگ شروع ہوئی ،اور فریقین ایکدوسرے پر شدید حملے کرنے لگے۔مسلمانوں نے اتنا شدید حملہ کیا کہ فارسیوں کے پیر اُکھڑ گئے،اور انہیں ذلت آمیز شکست ہوئی۔سب سے پہلے اہل کوفہ بھاگے،اس کے بعد تمام فارسی سپہ سالار بھاگنے لگے۔اور اِدھر اُدھر منتشر ہو گئے۔ہرمزان نے اہواز کا رُخ کیا،اور اُس پر قبضہ کر لیا۔خیرزان ”نہاوند“ پہنچا ،وہاں کسریٰ کے خزانے تھے۔اُس نے تمام خزانوں پر قبضہ کیا،اور ماہن کو بھی ہضم کر لیا۔نخیر جان ،اور مہران رازی ”مدائن“کی طرف بھاگے،اور دریا کو دوسرے کنارے سے عبور کر کے”بہر سیر“کے مقام پر پہنچ گئے۔پھر اُن دونوں نے پُل کو کاٹ دیا۔
کوثی کی فتح
بابل کی فتح کے بعد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے کچھ دن وہیں قیام کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ چند دن بابل میں رہے،انہیں خبر ملی کہ نخیر جان نے شہر یار کو جو ایک زمیندار تھااپنا نائب بنا کر کوثی میں چھوڑ دیا ہے،اور اُسے اچھا خاصا لشکر بھی دیا ہے۔یہ اطلاع ملنے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کو آگے بھیجا۔،ا س کے بعد مزید لشکر بھیجا۔حضرت زہرہ بن حویہ روانہ ہوئے ،اور راستے میں دشمن کا جو بھی دستہ ملتا گیا،اُسے شکست دیکر آگے بڑھتے گئے۔جو بھی فارسی ملتا اُسے قتل کردیتے تھے۔جب حضرت زہرہ بن حویہ با بل سے روانہ ہوئے،تو انہوں نے حضرت بکیر بن عبد اﷲ لیثی اور حضرت کثیر بن شہاب سعدی کو صراة کی نہر عبور کرنے کے بعد آگے روانہ کیا۔انہوں نے دشمن کی آخری صفوں کو دیکھا ،جن میں قیو مان اور خرخان فارسی کمانڈر تھے۔ایک مسان کا رہنے والا تھا،اور دوسرا اہواز کا رہنے والا تھا۔مسلمانوں نے فارسیوں پر حملہ کر دیا،اور حضرت بکیر نے خرخان کو قتل کیا،اور حضرت کثیر نے فیومان کو ”سورا“ کے مقام پر قتل کیا۔حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ ”سورا “سے آگے بڑھ کر خیمہ زن ہوئے۔پھر حضرت ہاشم بن عتبہ بھی آگئے، پھر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ بھی آگئے۔اور انہوں نے حضرت زہرہ بن حویہ کو آگے روانہ کر دیا۔اور وہ دشمن سے مقابلے کے لئے روانہ ہوئے،جو دیر اور کوثی کے درمیان مقابلے کے لئے تیار تھا۔
شہر یار کا قتل
حضرت زہرہ بن حویہ جب اپنا لشکر لیکر پہنچے تو شہر یار اپنے لشکر کے ساتھ مقابلے کے لئے تیار تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ دونوں لشکر صف آرا ہوئے تو شہر یار آگے بڑھا،اور بولا؛”کیا کوئی مرد ہے؟تمہارا کوئی بہت بڑا شہسوار میرے مقابلے پر آئے،تاکہ میں اُسے کیفر کردار تک پہنچا و¿ں۔“حضرت زہرہ بن حویہ نے فرمایا؛”میرا ارادہ تھا کہ میں تم سے مقابلہ کروں،لیکن تمہارے بڑے بول کے بعد اب میں تم سے مقابلے کے لئے ایک غلام کو بھیجوں گا۔اگر تم اُس کے مقابلے پر آئے ،تو اﷲ نے چاہا تو وہ تمہارا کام تمام کر دے گا۔اور اگر تم اُس کے مقابلے سے بھاگ گئے،تو تم ایک غلام سے بھاگے ہوئے کہلاو¿ گے۔“اِس کے بعد انہوں نے حضرت ابو نباتہ نائل بن جشم اعرابی کو جو قبیلہ بنو تمیم کا بہادر سورما تھا،اُسے مقابلے کے لئے بھیجا۔دونوں مقابل کے ہاتھ میں نیزے تھے،دونوں بہت طاقتور تھے،مگر شہر یار اونٹ کی طرح تھا۔جب اُس نے حضرت نائل کو دیکھا تو نیزہ پھنیک دیا،یہ دیکھ کر حضرت نائل نے بھی نیزہ پھینک دیا۔دونوں نے تلواریں نکال لیں،اور بہادری کے ساتھ لڑتے رہے۔پھر دونوں گھوڑے سوار ہی گتھم گتھا ہو گئے،اور ایک ساتھ گھوڑوں پر سے گر پڑے شہر یار حضرت نائل پر گرا،اُس نے انہیں اپنی ران میں دبوچ لیا،اور خنجر نکال لیا۔و ہ حضرت نائل کی زرہ بکتر کھولنے والا تھا کہ اُس کا انگوٹھا حضرت نائل کے منہ میں آگیا،انہو ںنے اتنی زور سے چبایاکہ وہ سست پڑ گیا۔فوراً حضرت نائل نے اُسے زمین پر گرا دیا،اور اُس کے سینے پر چڑھ کر اُس کا خنجر لیا۔اور اُس کے پیٹ پر سے زرہ بکتر کھول کر خنجر گھونپ دیا ۔یہاں تک کہ وہ مر گیا۔شہر یار کے قتل ہوتے ہی فارسیوں میں بھگڈر مچ گئی ،اور وہ سب مختلف شہروں کی طرف بھاگ گئے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام بابل میں
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کوثی میں کئی دنوں تک مقیم رہے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کوثی میں قیام کے دوران اُس مقام پر بھی گئے ،جہاں کوثی کے مقام پر حضرت ابراہیم علیہ السلام بیٹھا کرتے تھے۔اور وہاں بھی گئے ،جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بشارت دی گئی تھی۔اور اُس گھر میں بھی گئے ،جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے سے پہلے قید میں رکھا گیا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس کا معائنہ کیا،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ،اور حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور تمام انبیائے کرام علیہم السلام پر درود بھیجا۔پھریہ آیت تلاوت فرمائی؛”ترجمہ۔یہ ایام ایسے ہیں،جن کو ہم لوگوں میں گردش دیتے ہیں۔“
نہر شیر یا بہر سیرکے اطراف اسلامی لشکر
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کوثی سے روانہ ہوئے،اور سب سے پہلے اپنے ہر اول(مقدمة الجیش) لشکر کو حضرت زہرہ بن حویہ کو نہر شیر یا بہر سیر کی طرف بھیجا۔(امام واقدی نے نہر شیر لکھا ہے،اور علامہ طبری نے بہر سیر لکھا ہے۔)علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے حضرت زہرہ بن حویہ رضی اﷲ عنہ کو بہر سیر کی طرف ہر اول کے طور پر بھیجا۔وہ آگے بڑھے ،تو انہیں ساباط میں شیرزاذ صلح اور جزیہ کے ساتھ ملا،اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اُسے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی طرف بھیج دیا،اور انہوں نے اس صلح کو منظور کر لیا۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے حضرت زہرہ بن حویہ کے پیچھے حضرت ہاشم بن عتبہ کو روانہ کیا،اور پھر خود بھی روانہ ہوئے۔یہ واقعہ ماہِ ذی الحجہ ۵۱ ہجری کا ہے۔مظلم ساباط نام کے مقام پر کسریٰ کے خاندان کی عورت بوران کا شاہی لشکر جمع تھا۔حضرت زہرہ نے وہاں پہنچ کر اُس شاہی لشکر کو شکست دیکر پڑاو¿ ڈال دیا،کچھ دن بعد حضرت ہاشم بھی پہنچ گئے۔ کچھ دنوں بعد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ بھی پہنچ گئے۔یہاں پر حضرت ہاشم بن عتبہ نے ایک شیر کو اپنی تلوار سے قتل کیا۔جس پر حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے اپنے بھتیجے حضرت ہاشم کو مبارکباد دی۔
مختلف صوبوں کے حکام (گورنر)
سال 15 ہجری کے حالات یہاں مکمل ہوئے۔خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اِس سال مختلف علاقوں میں اپنے حکام (گورنر ) مقرر فرمائے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اسی سال 15 ہجری میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے ساتھ حج کیا۔اِس سال مکہ مکرمہ کے گورنر حضرت عتاب بن اُسید تھے۔طائف کے گورنر حضرت لیلیٰ بن رفیہ تھے۔ہمامہ اور بحرین کے گورنرحضرت عثمان بن ابی العاص تھے۔عمان کے گورنر حضرت حذیفہ بن محصن تھے۔ملک شام کے تمام علاقوں کے گورنرحضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ تھے۔اور ملک عراق کے تمام علاقوں کے گورنر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ تھے۔بصرہ جو سرحدی علاقہ تھا،اُس کے گورنر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ تھے۔
15 ہجری کے شہداءاور انتقال شدہ حضرات
سال 15 ہجری کے اختتام پر اِس سال میں شہید ہونے والے اور انتقال کرنے والے چند حضرات کے نام ہم یہاں پیش کر رہے ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت سہیل بن عمرو قریش کے سرداروں میں سے ہیں۔فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کیا تھا۔ملک شام جہاد کے لئے گئے،اور جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔امام واقد ی اور امام شافعی کے مطابق طاعون سے عمواس میں انتقال ہوا۔حضرت عامربن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ کو خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو ملک شام کا سپہ سالار بنانے اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی معزولی کا خط دیکر بھیجا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔حضرت عبد اﷲ بن سفیان بن عبد الاسد مخزومی رضی اﷲ عنہ صحابی ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے چچا حضرت ابو سلمہ بن عبد الاسد رضی اﷲ عنہ کے ساتھ حبشہ ہجرت کی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔حضرت عبد الرحمن بن عوام رضی اﷲ عنہ غزوہ¿ بدر کے قیدیوں میں تھے۔بعد میں اسلام قبول کیا۔ حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کے بھائی ہیں،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ کا انتقال اسی سال ہوا۔حضرت عکرمہ رضی ا ﷲ عنہ بن ابو جہل جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔حضرت فراس بن نضر بن حارث جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔حضرت قیس بن صعصعہ ،اور حضرت عمرو بن زید انصاری جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔حضرت نضیر بن حارث رضی ا ﷲ عنہ صحابی ہیں،جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔حضرت نوفل بن حارث بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کا انتقال ۵۱ ہجری میں ہوا۔بعض کے مطابق ۰۲ ہجری میں ہوا۔حضرت ہشام بن عاص رضی اﷲ عنہ جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے بھائی ہیں۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں