جمعہ، 4 اگست، 2023

21 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


21 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 21

حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی احمقوں سے بیزاری، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اﷲ عنہم کی احمقوں سے بیزاری، احمقوں (شرپسندوں) کا اچانک محاصرہ، احمق لوگوں کی منصوبہ بند سازش، مختلف علاقوں سے امدادی لشکروں کی روانگی، خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کو بے ہوش کر دیا

حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی احمقوں سے بیزاری

مدینۂ منورہ میں بڑے بڑے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم اور ازواج ِ مطہرات رضی اﷲ عنہما سے روکھا جواب سن کر یہ دونوں واپس آئے اور تینوں گروہوں کو اِس روکھے جواب کے بارے میں بتا دیا تو تینوں گروہوں نے اپنے اپنے من پسند رہنما کے پاس جانے ارادہ کیا اور تینوں گروہوں کے لوگوں نے کہا کہ باقی دونوں گروہ ہمارے من پسند رہنما کی بیعت کریں گے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم اُن سے بھی لڑیں گے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” اِس کے بعد اہل مصر حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی طرف روانہ ہوئے ۔اہل بصرہ حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ کی طرف روانہ ہوئے اور اور اہل کوفہ حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ہر گروہ نے یہ کہا : ” اگر دوسرے گروہ کے لوگ ہمارے امیر کے ہاتھ پر بیعت کریں گے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم اُن کے خلاف تدبیر کریں گے اور اُن کی جماعت سے الگ ہو جائیں گے ۔“اِس کے بعد اہل مصر حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے پاس ” احجار الزیت “ میں آئے ۔( حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو خدشہ تھا کہ باغی کہیں کوئی غلط حرکت نہ کریں ۔اِس لئے انہوں نے اپنے بڑے بیٹے حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ کو حفاظت کے خیال سے خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس چھوڑ دیا تھا اور خود لشکر لیکر ” احجار الزیت “ میں آکر خیمہ زن ہو گئے تھے ) حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ احجار الزیت میں ایک لشکر کے ساتھ مقیم تھے ۔اُن کے گلے میں تلوار حما ئل تھی اور وہ سُرخ یمنی عمامہ باندھے ہوئے تھے ۔انہوں نے اپنے بڑے بیٹے حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ کو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے اجتماع میں بھیجا ہوا تھا اور حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جبکہ حضرت علی بن ابی طالب ” احجار الزیت “ میں تشریف فرما تھے ۔اہل مصر نے جا کر انہیں سلام کیا اور اپنی عرضداشت پیش کی ۔حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے انہیں بہت بری طرح ڈانٹا اور فرمایا : ” نیک لوگوں کو یہ بات معلوم ہے کہ ” ذوالمردہ “ اور ” ذو خشب “ کے لشکر پر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے ۔تم لوگ واپس جاؤ اور اﷲ تعالیٰ مجھے تمہاری صحبت سے بچائے ۔“ اہل مصر بولے ۔” اچھا “ اور پھر وہ وہاں سے واپس چلے گئے ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اہل مصر نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے عرض کیا : ” ہم حضرت عثمان غنی (رضی اﷲ عنہ ) کی خلافت سے بیزار ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ ہم سے خلافت کی بیعت لے لیجیئے ،ابھی ہم لوگ واپس چلے جائیں گے ۔“ یہ سن کر حضت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ غصہ سے کانپ اُٹھے اور فرمایا : ” بے شک ذوا لمردہ ، ذو خشب اور اعوص کے لشکر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ” ملعون “ ہیں اور اِس حدیث کو صلحا مومنین جانتے ہیں ۔تم لوگ میرے سامنے دور ہو جاو¿ اور آئندہ اِس قسم کی گفتگو میرے رو برو نہیں کرنا ۔

حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اﷲ عنہم کی احمقوں سے بیزاری

حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے اہل مصر کے باغیوں کو ڈانٹ کر بھگا دیا ۔ اُدھر اہل بصرہ اور اہل کوفہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اﷲ عنہم کے پاس پہنچے تو انہوں نے بھی انہیں ڈانٹ کر بھگا دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اہل بصرہ حضرت طلحہ بن عبید اﷲرضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچے ۔وہ بھی حضرت علی بن ابی طالب کے قریب ایک لشکر کے ساتھ موجود تھے اور انہوں نے بھی اپنے دو بیٹوں کو حفاظت کے خیال سے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیجا ہوا تھا۔اہل بصرہ نے سلام کیا اور اپنی درخواست پیش کی ۔حضرت طلحہ بن عبید اﷲرضی اﷲ عنہ نے انہیں ڈانٹا اور فرمایا : ” مومنوں کو یہ بات معلوم ہے کہ ” ذو المردہ ،ذو خشب اور اعوص “ کے لشکروں یا گروہوں پر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے لعنت بھجی ہے ۔“ اور انہیں واپس بھیج دیا ۔اہل کوفہ حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے ور وہ بھی لشکر کے ساتھ تشریف فرما تھے ۔انہوں نے بھی اپنے بیٹے حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی ﷲ عنہ کو حفاظت کے خیال سے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیجا ہوا تھا ۔اہل کوفہ نے سلام کیا اور اپنی درخواست پیش کی ۔حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ نے انہیں ڈانٹا اور فرمایا : ” مسلمانوں کو یہ بات معلوم ہے کہ” ذوالمردہ ، ذو خشب اور اعوص “ کے لشکروں یا گروہوں پر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے ۔“ اور انہیں واپس بھیج دیا ۔

احمقوں (شرپسندوں) کا اچانک محاصرہ

تینوں بڑے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم نے تینوں گروہوں کو بری طرح ڈانٹ کر واپس بھیج دیا ۔اُن کے ڈانٹنے پر احمق اپنے اپنے پڑاؤ میں واپس آگئے اور خیمے اُکھاڑ کر واپس جانے لگے لیکن اُن کا ارادہ کچھ اور ہی تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یہ سب لوگ واپس آگئے اور ایسا ظاہر کیا کہ وہ واپس جا رہے ہیں ۔وہ ذوالمردہ ، ذو خشب اور اعوص کے مقامات سے ہٹ گئے اور اپنے اپنے لشکری خیموں میں پہنچ گئے جو مدینۂ منورہ سے تین منزل کے فاصلے پر تھا ۔یہ احمق لوگ چاہتے تھے کہ اہل مدینہ کے لشکر منتشر ہو جائیں تو اِس کے بعد یہ لوگ لوٹ کر حملہ کر دیں اور یہی ہوا ۔انہیں واپس جاتے ہوئے دیکھ کر اہل مدینہ منتشر ہو گئے اور جب تمام اہل مدینہ اپنے اپنے گھروں میں پہنچ گئے تو احمق اچانک واپس آگئے اور مدینۂ منورہ پہنچ کر اپنی اچانک تکبیروں سے اہل مدینہ کو حیران کر دیا اور خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے گھر کا چاروں طرف سے محاصرہ کر کے خیمہ زن ہو گئے اور انہوں نے کہا : ” جو ہتھیار نہیں اُٹھائے گا وہ پناہ میں ہے ۔“ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اہل مدینہ بھی احمقوں کی واپسی کے بعد اپنے اپنے گھروں میں لوٹ گئے ۔رات کے وقت کسی حادثہ کی اطلاع نہیں ہوئی لیکن تکبیر کی آواز اطراف ِ مدینہ میں گونج رہی تھی ۔صبح ہوئی تو امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا مکان محاصرہ میں تھا اور احمقوں نے چاروں طرف سے مکان کو گھیر لیاتھا اور منادی کرادی تھی کہ جو شخص مقابلہ پر نہیں آئے گا اُس کو امن دیا جائے گا ۔

احمق لوگوں کی منصوبہ بند سازش

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے خلاف بد بخت یہودی عبد اﷲ بن سبا ءجس نے دکھاوے کا اسلام قبو ل کیا تھا ۔اُس نے مسلمانوں کو بھڑکایا اور ملک مصر ، بصرہ او ر کوفہ سے کئی ہزار احمقوں کو لیکر مدینۂ منورہ آیا۔ وہ بد بخت پس منظر میں رہا اور باغیوں کو آگے رکھا ،تاکہ خلیفۂ سُوم کی شہادت کے بعد مسلمانوں میں تفرقہ پڑ جائے اور وہ آپس میں لڑنے لگیں ۔بد بخت منافق عبد اﷲ بن سبا ءکے خفیہ ایجنٹ تینوں گروہوں میں موجود تھے اور انہوں نے اپنے خفیہ سردار کی ہدایت کے مطابق احمق مسلمانوں کو بھڑکایا اور واپس لے آئے اور خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور کئی دنوں تک کوئی کاروائی نہیں کی ۔خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ بد ستور اپنے گھر سے مسجد نبوی میں آتے تھے اور مسلمانوں کو نماز پڑھاتے تھے اور احمق مسلمان بھی آپ رضی اﷲ عنہ کی امامت میں نماز ادا کرتے تھے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے چند دنوں تک لوگوں کو نماز پڑھائی اور مسلمان اپنے گھروں میں رہے ۔احمق مسلمانوں نے گفت شنید کا دروازہ بند نہیں کیا تھا اِسی لئے حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کے ساتھ بڑے بڑے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم احمقوں کے پاس آئے اور فرمایا : ” تم لوگ اپنے خیالات کو بدل کر واپس چلے گئے تھے پھر کیوں لوٹ آ ئے ہو؟ “ احمق مسلمانوں نے کہا : ” ہم نے ایک قاصد کے ہاتھ ایک خط پکڑا ہے جس میں ہمیں قتل کرنے کا حکم ہے ۔“ حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ سے اہل بصرہ نے بھی اِسی قسم کی بات کی اور حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ سے اہل کوفہ نے بھی یہی بات کی ۔بلکہ سب نے مل کر کہا : ” ہم اپنے بھائیوں کی مدد کریں گے اور ہم سب مل کر اُن کی حفاظت کریں گے ۔“ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انہوں نے پہلے سے ہی کوئی منصوبہ تیار کر رکھا تھا ۔حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اے اہل کوفہ و بصرہ ! تمہیں اہل مصر کی بات کا علم کیسے ہو گیا جب کہ تم کئی منزلیں طے کر چکے ہو ؟ اﷲ کی قسم ! یہ منصوبہ مدینہ میں ہی تیار کیا گیا تھا ۔“ احمق مسلمان بولے : ” آپ لوگ جیسا بھی خیال کریں ۔ہمیں اِس شخص ( حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ ) کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ ہمیں دھوکا دیتا رہے ۔“ اِن حالات میں حضرت عثمان غنی ضی اﷲ عنہ مسلمانوں کو نماز پڑھاتے رہے اور یہ باغی لوگ بھی اُن کے پیچھے نماز پڑھتے رہے اور جو چاہے خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ سے ملا قات کر سکتا تھا ۔آپ رضی اﷲ عنہ کی نظر میں یہ لوگ خاک سے بھی کمتر تھے ۔یہ لوگ کسی کو گفتگو کرنے سے منع نہیں کرتے تھے۔

مختلف علاقوں سے امدادی لشکروں کی روانگی

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے محاصرے کے دوران مملکت ِ اسلامیہ میں اپنے گورنروں کے پاس خطوط روانہ کئے اور تمام حالات سے مطلع کیا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے مملکت ِاسلامیہ کے گورنروں کے پاس فرامین بھیجے اور اُن کو اِن واقعات سے مطلع کیا ۔حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے ملک شام سے حضرت حبیب بن مسلمہ فہری کو لشکر دیکر روانہ کیا ۔حضرت عبد اﷲ بن ابی سرح نے حضرت معاویہ بن خدیج کو لشکر دیکر ملک مصر سے روانہ کیا ۔کوفہ سے حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر مدینۂ منورہ کی طرف روانہ ہوئے ۔کوفہ میں صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم میں سے حضرت عقبہ بن عامر ، حضرت عبد اﷲ بن اوفی ،حضرت حنظلہ کاتب وحی اور تابعین میں سے حضرت مسروق ، حضرت اسود ، حضرت شریح ، حضرت عبد اﷲ حکیم مسلمانوں کو خلیفۂ سُوم کی مدد کے لئے اُبھارنے لگے ۔بصرہ میں صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم میں سے حضرت عمران بن حصین ،حضرت انس بن مالک ،حضرت ہشام بن عامررضی اﷲ عنہم اور تابعین میں سے حضرت کعب بن سور ، حضرت ہرم بن حیان مسلمانوں کو امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کی مدد کے لئے اُبھارنے لگے ۔اِسی طرح ملک شام اور ملک مصر میں بھی صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم اور تابعین مسلمانوں کو خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی مدد کے لئے اُبھارنے لگے ۔

خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کو بے ہوش کر دیا

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے گھر کا احمقوں نے محاصرہ کیا ہوا تھا اور آپ رضی اﷲ عنہ بدستور مسجد نبوی میں آکر مسلمانوں کو نماز پڑھاتے رہے ۔محاصرے کے بعدجو پہلا جمعہ آ یا ۔ اُس میں احمقوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کے خلاف سخت کاروائی کی۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : احمقوں کے محاصرہ کرنے کے بعد جمعہ کا دن آیا تو امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے نماز پڑھائی ۔ خطبہ دینے کے لئے منبر پر چڑھ کر فرمایا : ” اﷲ کی قسم ! اہل مدینہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ ( احمق مسلمان ) رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ارشاد ِ مبارک کے مطابق ”ملعون “ ہیں ۔پس لوگوں کے لئے یہی مناسب ہے کہ نیکی سے لغزشوں کو فنا کردیں ۔“ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اﷲ عنہ نے اُٹھ کر فرمایا : ” میں اِس کی گواہی دیتا ہوں ۔“ حکیم بن جبلہ نے انہیں اُن کا ہاتھ پکڑ کر بٹھا لیا ۔ پھر حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ اُٹھے تو اُن کو محمد بن ابی قتیسرہ نے بٹھا لیا ۔اِس کے بعد احمق لوگ حملہ کرنے کے ارادے سے منبر کی طرف بڑھے تو مسلمانوں نے انہیں مسجد سے نکال دیا ۔احمق مسلمان مسجد کے باہر سے امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ پر پتھر مارنے لگے اور اتنا پتھر مارا کہ آپ رضی اﷲ عنہ چوٹ کی وجہ سے بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ ، حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہ ، حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ باغیوں سے لڑنے لگے ۔امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا اُٹھا کر گھر لایا گیا ۔تھوڑی دیر بعد آپ رضی اﷲ عنہ ہوش میں آئے تو انہوں نے صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کو لڑائی کرنے سے روک دیا اور واپس بلا بھیجا ۔حضرت علی رضی اﷲ عنہ ، حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اﷲ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام ضی اﷲ عنہ عیادت کے لئے آئے تو اُس وقت بنو اُمیہ کے چند لوگ بیٹھے ہوئے تھے جن میں مروان بن حکم بھی تھا ۔اُن لوگوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے کہا : ” تم نے ہم کو ہلاک کر ڈالا ،یہ سب کاروائیاں تمہاری ہیں ۔اﷲ کی قسم ! اگر تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے تو دنیا کو مطیع کر لو گے ۔“ حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی سے اُٹھ کر چلے گئے اور حضرت طلحہ بن عبید اﷲ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم بھی واپس چلے آئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ گھر میں بے ہوش تھے تو حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ وہاں گئے ۔اُس وقت اُن کے چاروں طرف بنو امیہ کے لوگ تھے ۔حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! آپ کی طبیعت کیسی ہے ؟ “ اُس وقت بنو امیہ کے تمام افراد حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور بیک آواز کہنے لگے : ” اے علی ( رضی اﷲ عنہ ) ! تم نے ہمیں تباہ کر دیا ہے ۔تمہیں نے امیر المومنین کے ساتھ یہ سلوک کرایا ہے ۔آگاہ ہو جاو¿ کہ اگر تم اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے تو تمہارا زمانہ بھی بہت تلخ گزرے گا ۔“ یہ سن کر حضرت علی رضی اﷲ عنہ ناراض ہو کر کھڑے ہو گئے اور چلے گئے ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں