20 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
قسط نمبر 20
خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کی استقامت، 34 ہجری کا اختتام، بد بخت منافق عبد اﷲ بن سبا کی ریشہ دوانیاں، احمقوں (شرپسندوں) کی مدینۂ منورہ آمد، احمقوں میں بد بخت منافق بھی تھا، بڑے بڑے صحابہ اور امہات المومنین رضی اﷲ عنہم سے ملاقات،
خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کی استقامت
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی بات سن کر تمام کبار ( بڑے بڑے جلیل القدر ) صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم نے اطمینان کا اظہار کیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : کبارصحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم نے کہا : ” آپ رضی اﷲ عنہ نے صحیح اور بہتر فیصلہ کیا ہے ۔کچھ صحابۂ کرام رضی اﷲ عنم نے یہ بھی کہا : ” آپ رضی اﷲ عنہ نے خالد بن اُسید اور مروان بن حکم کو ( زیادہ ) دیا ہے ۔“ اُن کا خیال تھا کہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے مروان بن حکم کو پندرہ ہزار دیئے ہیں اور خالد بن اُسید کوپچاس ہزار دیئے ہیں ۔خلیفۂ سُوم نے اُن سے یہ رقم واپس لے کر بیت المال میں جمع کرادی تو وہ صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم خوش ہو گئے اور رضامند اور مطمئن ہو کر واپس لوٹے ۔جب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو صبح کے وقت ( ملک شام جانے کے لئے ) رخصت کیا تو چلتے وقت حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے اُن سے عرض کیا : ” اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! اِس سے پہلے کہ وہ لوگ جن کا آپ رضی اﷲ عنہ سے کوئی تعلق نہیں ہے آپ رضی اﷲ عنہ پر حملہ آور ہوں آپ رضی اﷲ عنہ میرے ساتھ ملک شام چلیں کیونکہ اہل شام ابھی میرے فرمانبردار ہیں ۔“ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پڑوس کسی چیز کے بدلے میں نہیں چھوڑوں گا ۔چاہے اِس کی وجہ سے میری گردن کی شہ رگ کٹ جائے ۔“ پھر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ”اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! میں آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس ایک لشکر بھیج دوں گا جو اہل مدینہ کے قریب رہے گا تاکہ مدینۂ منورہ میں یا آپ رضی اﷲ عنہ پر کوئی ناگہانی حادثہ رونما ہو تو اُس وقت یہ لشکر کام آئے ۔“ خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اِس لشکر کو یہاں ٹھہرا کر مجھے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پڑوسیوں کے رزق میں کمی کرنی پڑے گی اور دار الہجرت کے رہنے والوں کو تنگی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔“ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی عنہ نے عرض کیا : ” اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! اﷲ کی قسم ! آپ رضی اﷲ عنہ پر اچانک حملہ ہو گا یا آپ رضی اﷲ عنہ کو جنگ کرنی پڑی گی ۔“خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اﷲ تعالیٰ میرے لئے کافی ہے اور وہی عمدہ کارساز ہے ۔“ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کو ملک شام چلنے کی درخواست کی اورعرض کیا کہ وہاں کے لوگ فرمانبردار ہیں ۔خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پڑوس کے علاوہ کوئی جگہ پسند نہیں کرتا ۔“ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ” کیا میں آپ رضی اﷲ عنہ کے لئے ملک شام سے لشکر تیار کر کے بھیجوں جو آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس رہے اور آپ رضی اﷲ عنہ کی مدد کرے ؟“ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” مجھے خدشہ ہے کہ اِس طرح میں اُن کے ( لشکر کے ) ذریعے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے شہر اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے انصار اور مہاجرین صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم پر رزق تنگ کر دوں گا ۔“ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ” اﷲ کی قسم ! وہ آپ رضی اﷲ عنہ کو ضرور دھوکے سے قتل کر دیں گے ۔یا کہا کہ ضرور جنگ کریں گے ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” میرے لئے اﷲ تعالیٰ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے ۔“ اِس کے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ ملک شام چلے گئے ۔
34 ہجری کا اختتام
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے 34 ہجری کے حج میں اپنے تمام گورنروں کو بلایا تھا اور مشورہ کیا تھا ۔اِس کے ساتھ ہی 34 ہجری کا اختتام ہوا ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : ” اِس سال میں حضرت ابو عبس بن جبیر رضی اﷲ عنہ کا مدینۂ منورہ میں انتقال ہوا آپ رضی اﷲ عنہ بدری صحابی ہیں ۔حضرت مسطح بن اثاثہ رضی اﷲ عنہ اور حضرت غافل بن بکیر رضی اﷲ عنہ کا انتقال بھی اِسی سال ہوا اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اِس سال مسلمانوں کو حج کرایا ۔
بد بخت منافق عبد اﷲ بن سبا کی ریشہ دوانیاں
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ مملکت اسلامیہ میں پھیلی بد نظمی کو دور کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور اِس دوران بد بخت منافق عبد اﷲ بن سبامسلسل مملکت اسلامیہ میں اپنے کارندوں سے خفیہ رابطہ رکھے ہوئے تھا اور اُس نے اپنی خفیہ تنظیم کے مختلف شہروں میں بڑے بڑے ممبران کوحکم دیا تھا کہ اِ س سال حج کے بعد ( نعوذ با ﷲ ) خلیفہ¿ سُوم رضی اﷲ عنہ پر اچانک حملہ کر کے شہید کر دیا جائے ۔لیکن تمام گورنروں اور بڑے بڑے صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کی موجودی میں وہ فسادی ایسا کچھ نہیں کر سکے اور واپس چلے گئے۔ بد بخت عبد اﷲ بن سبا نے ملک مصر میں اپنا ہیڈ کوارٹر بنا رکھا تھا اور وہیں سے پوری مملکت اسلامیہ میں اپنے ممبران سے خفیہ خط و کتابت کرتا تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس اثناءمیں اہل مصر ( سبائیہ تحریک کے بڑوں)نے اپنے متبعین کے ساتھ خط و کتابت جاری رکھی کہ وہ اپنے اپنے گورنروں کے خلاف بغاوت کردیں ۔اِس خط و کتابت کے سلسلے میں اہل کوفہ اور اہل بصرہ کے علاوہ دوسرے علاقوں کے سبھی متبعین شامل تھے اور انہوں نے اِس مقصد کے لئے دن بھی مقرر کر دیا تھا ۔ اِس کے بعد آگے لکھتے ہیں :جب تمام گورنر اپنے اپنے علاقوں میں واپس چلے گئے تو ” سبائیہ “ ( بد بخت عبد اﷲ بن سبا کے متبعین ) کے لئے مختلف شہروں میں آمدو رفت کا ذریعہ باقی نہیں رہا تو انہوں نے ( عبد اﷲ بن سبا اور اُس کی خفیہ تنظیم کے بڑوں نے ) مختلف شہروں میں اپنے متبعین کو لکھا کہ وہ مدینہ¿ منورہ کے قریب پہنچیں ۔ تاکہ وہاںپہنچ کر وہ غور کر سکیں کہ انہیں کیا کرنا ہے ؟اِس کے لئے انہوں نے عوام کے سامنے یہ ظاہر کیا کہ وہ نیک کاموں کا حکم دے رہے ہیں اور وہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے کچھ باتیں دریافت کرنا چاہتے ہیں جو عوام میں مشہور ہیں ۔اِس لئے وہ اصل حقیقت معلوم کرنے کے لئے جارہے ہیں اور وہ مدینہ¿ منورہ پہنچ گئے ۔
احمقوں (شرپسندوں) کی مدینۂ منورہ آمد
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے خلاف بد بخت عبد اﷲ بن سبا کی سازش 34 ہجری میں ناکام ہو گئی تو اُس نے 35 ہجری میں بھی اپنی کوشش جاری رکھی ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : احمقوں نے یہ عہد و پیمان کیا تھا کہ جس وقت امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے سپہ سالار اور گورنر واپس چلے جائیں گے تو اُس وقت امیر المومنین رضی اﷲ عنہ پر اچانک حملہ کر دیا جائے گا ۔لیکن ( زیادہ دن تک مدینۂ منورہ میں گورنروں کے رکنے کی وجہ سے مجبوراً شر پسندوں کو اپنے اپنے قافلوں کے ساتھ واپس جانا پڑا اِس لئے وہ )گورنروں اور سپہ سالاروں کے جانے کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ پر حملہ نہیں کر سکے ۔ اِس کے بعد دوبارہ امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے خلاف ریشہ دوانی کرنے لگے اور مراسلات کے ذریعے طے کیا کہ فلاں روز موسم حج میں میں مدینۂ منورہ آجانا چاہیئے ۔( یہاں یہ یاد رکھیں کہ اُس وقت آج کی طرح ہوائی جہاز وغیرہ نہیں تھے اور صرف گھوڑے اور اونٹ ہی سب سے تیزرفتار سواری تھے ۔اِس لئے دور دور کے حاجی مہینوں پہلے سے حج کے سفر پر روانہ ہو جاتے تھے ) اِس خفیہ مشورے کے بعد سب سے پہلے ملک مصر سے احمقوں کا گروہ روانہ ہوا ،یہ ایک ہزار کی تعداد میں تھے اور ان کا سردار عبد الرحمن بن عدیس تھا۔( یاد رہے کہ ملک مصر میں بد بخت منافق عبد اﷲ بن سبانے اپنا ہیڈکوارٹر بنا رکھا تھا ) اِس گروہ میں کنانہ بن بشیر لیثی ، سودان بن حمران سکونی ، میسرہ یا قنیسرہ بن فلاں سکونی اور غافقی بن حرب عکی وغیرہ بھی شامل تھے ۔ کوفہ سے ایک ہزار شر پسندوں کا گروہ روانہ ہوا ۔اِس میں زید بن صفوان عبدی ، مالک اشتر نخعی ، زیاد بن نصر حارثی اور عبد اﷲ بن اصم عامری وغیرہ بھی شامل تھے ۔ بصرہ سے ایک ہزار شر پسند وں کا گروہ روانہ ہوا ۔ اِس میں حکیم بن جبلہ عبدی ، ذربج بن عباد ، بشیر بن شریح قیسی ،ابن حرش اور حرقو بن زہیر سعدی وغیرہ شامل تھے ۔
احمقوں میں بد بخت منافق بھی تھا
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ احمقوں کو سدھرنے کا موقع دے رہے تھے اور وہ سب آپ رضی اﷲ عنہ کی جان کے دشمن بن رہے تھے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِن لوگوں ( احمقوں ) نے واپس جا کر ایک دوسرے کو لکھا کہ وہ شوال کے مہینے میں مدینۂ منورہ کے گرد و نواح میں جمع ہو جائیں ۔اِس لئے جب خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت کا بارہویں سال میں شوال المکرم کا مہینہ آیا تو وہ لوگ حاجیوں کے ساتھ نکلے اور مدینۂ منورہ کے قریب آکر ٹھہر گئے ۔ایک اور روایت میں ہے کہ جب 35 ہجری میں شوال المکرم کا مہینہ آیا تو اہل مصر چار قافلوں کی شکل میں روانہ ہوئے اور اُن کی قیادت چار سردار کر رہے تھے ۔ان کی تعداد کم سے کم چھ سو اورزیادہ سے زیادہ ایک ہزار تھی اور اُن کے سردار یہ تھے ۔عبد الرحمن بن عدیس ، کنانہ بن بشیر ،سودان بن حمران سکونی ، قتیرہ سکونی ۔ تمام قافلوں کا سردار ِ اعلیٰ غافقی بن حرب عکی تھا ۔ملک مصر کے اِن احمقوں میں اتنی جرأت نہیں تھی کہ وہ کھلے عام لوگوں کو بتاتے کہ وہ جنگ کرنے کے لئے سفر کر رہے ہیں بلکہ انہوں نے یہ ظاہر کیا کہ وہ حج کے لئے سفر کر رہے ہیں ۔اِن احمقوں میں بد بخت منافق ابن السواءیعنی عبد اﷲ بن سباءبھی تھا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : ملک مصر کے احمق لوگ ” ذوالمروہ “ میں ٹھہرے اور وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کی طرف مائل تھے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اہل کوفہ بھی چار قافلوں کے ساتھ نکلے اور اُن کے سردارزید بن صوحان عبدی ، مالک اشتر نخعی ، زید بن نضر حارثی اور عبد اﷲ بن عاصم جو قبیلہ عامر بن صعصہ سے تعلق رکھتا تھا ۔اہل کوفہ کی تعداد بھی اہل مصر کے برابر تھی اور اُن کا سردار ِ اعلیٰ عمرو بن اصم تھا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : کوفہ کے احمق ” اعوص “ میں آکر ٹھہرے اور اُن کا رجحان حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کی طرف تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اہل بصرہ بھی چار قافلوں کی شکل میں روانہ ہوئے اور اُن کے سردار حکیم بن جبلہ عبدی ، ذریح بن عباد عبدی ، بشر بن شریح قیسی اور ابن المحرس بن عبد بن عمرو حنفی تھا ۔ اِن کی تعداد بھی اہل مصر اور اہل کوفہ کے برابر تھی اور اِن کا سردار ِ اعلیٰ حروص بن زہیر سعدی تھا ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : بصرہ کے احمق ” ذو خشب “ میں آکر ٹھہرے اور اُن کا رجحان حضرت طلحہ بن عبید اﷲرضی اﷲ عنہ کی طرف تھا ۔
بڑے بڑے صحابہ اور امہات المومنین رضی اﷲ عنہم سے ملاقات
ملک مصر ،کوفہ اور بصرہ سے آئے یہ احمق مدینۂ منورہ سے کچھ فاصلے پر قیام پذیر ہو گئے اور اپنے اپنے نمائندوں کو بڑے بڑے صحابۂ کرام اور امہات المومنین رضی اﷲ عنہم کی خدمت میں بھیجا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : یہ سب احمق روانہ ہوئے اور جب مدینۂ منورہ تین منزل کے فاصلے پر رہ گیا تو بصرہ کے لوگ ” ذوخشب “ میں ٹھہر گئے ،کوفہ کے لوگ ”اعوص “ میں ٹھہر گئے اور ملک مصر کے لوگ ” ذوالمرہ“ میں ٹھہر گئے ۔زیاد بن نضر اور عبد اﷲ بن عاصم نے اُن سے کہا : ” تم لوگ جلد بازی سے کام نہ لو اور ہمیں بھی عجلت پر مجبور نہ کر و ۔جب ہم مدینہ میں داخل ہو جائیں گے تو اُس وقت ہم تم کو اطلاع دیں گے کیونکہ ہمیں یہ اطلاع ملی ہے کہ مدینۂ منورہ میں لوگ ہمارے خلاف صف آراءہو گئے ہیں ۔اﷲ کی قسم ! اگر اہل مدینہ کو اِس وقت ہم سے اندیشہ پیدا ہو گیا اور انہوں نے ہمارے ساتھ جنگ کو جائز قرار دیا اور اگر انہیں ہمارے بارے میں صحیح معلومات حاصل ہو جائے تو وہ ہمارے سخت مخالف ہو جائیں گے اور ہمارا یہ منصوبہ خاک میں مل جائے گا۔اگر وہ ہمارے ساتھ جنگ کرنے کے روادار نہیں ہیں اور جو اطلاع ہمیں ملی ہے وہ غلط ثابت ہو گی تو ہم اِس کی اطلاع لیکر واپس آئیں گے ۔ “ اُن لوگو ں نے کہا : ” ٹھیک ہے ! تم دونوں جاؤ ۔“ یہ دونوں افراد مدینۂ منورہ میں داخل ہوئے اور ازواج مطہرات رضی اﷲ عنہما اور حضرات علی بن ابی طالب ، طلحہ بن عبید اﷲ اور زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہم سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور کہا : ” ہم اس خاندان کی اقتداء کرتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ خلیفہ( حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ ) ہمارے بعض حکام ( گورنروں ) کو معزول کر دیں ۔ہم اِسی مقصد کے لئے آئے ہیں اور مسلمانوں سے ہم نے اِس مقصد کے لئے اجازت حاصل کی ہے ۔“ مگر ہر ایک نے تعاون کرنے سے انکا ر کر دیا اور روکھا جواب دیا تو یہ دونوں واپس آگئے ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں