20 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 20
توریت و انجیل میں” اُمت ِ مسلمہ “کے اوصاف، دجال کے قتل کی جگہ، بیت المقدس مسجد کی تحقیق، بیت المقدس کی جگہ کو ڑا کر کٹ کیوں، مسجد اقصیٰ کی بنیاد، فاروق ِ اعظم رضی اﷲ عنہ کی بشارت، بیت المقدس کا صلح نامہ، فلسطین کے دو صوبے،
توریت و انجیل میں” اُمت ِ مسلمہ “کے اوصاف
اﷲ تعالیٰ نے توریت اور انجیل میں جگہ جگہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت”اُمت مسلمہ“(آخری اُمت)کے اوصاف بیان فرمائے ہیں۔اِس کا ایک عملی مظاہرہ صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے بیت المقدس میں کیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اِس کے بعد اپنے لشکر میں واپس آگئے،اور دوسرے دن صبح پیر کے دن بیت المقدس میں داخل ہوئے۔جمعہ تک آپ رضی اﷲ عنہ بیت المقدس میں قیام پذیر رہے،اور مشرق کی طرف ایک خط کھینچ کر محراب کا نشان بنا دیا۔اُسی جگہ وہ مسجد (مسجد ِ عُمر)ہے،جو آپ رضی اﷲ عنہ کے نام سے منسوب ہے۔پھر یہاں مسلمانوں کو نماز پڑھائی،رومیوں نے غداری کا ارادہ کیا۔ابو جعید جوجنگ یرموک میں رومیوں کے ساتھ مصیبت میں مبتلا ہو گیاتھا ،وہ اپنے بیوی بچوں سمیت بیت المقدس میں مقیم تھا۔اُس سے رومی کہنے لگے کہ ہمارا ارادہ ہے کہ مسلمان جس وقت نماز میں مصروف ہوں ،اور سجدے میں چلے جائیں،تو ہم اُن کے ساتھ غدر کر دیں۔اُس وقت اُن کے پاس نہ تو کوئی اسلحہ ہوگا،اور نہ ہی اور کوئی چیز جو انہیں ہمارے حملوں سے محفوظ رکھ سکے۔تیری اِس معاملہ میں کیا رائے ہے؟اُس نے کہاکہ غدر کے بعد تم یہاں محفوظ نہیں رہ سکو گے،اور مسلمانوں کے دوسرے ساتھی جو شہر سے باہر ہیں،وہ تمہیں ختم کر دیں گے۔انہوں نے کہا کہ پھر ہمیں کیا کرنا چاہیئے؟اُس نے کہا کہ تم زینت اور متاع ِ دنیا کو اُن کے سامنے ظاہر کرو،متاع ِ دنیا اور مال و اسباب ایسی چیزیں ہیں کہ انہیں دیکھ کر دنیاوالوں سے اُن پر کبھی صبر نہیں ہو سکتا۔لہٰذا اگر وہ مال و اسباب اور متاع ِ دنیا کی طرف متوجہ ہوئے ،اور اُن کے حصول کی کوشش کی ،تو پھر میں تمہیں وہ مشورہ دوں گا ،جس سے تم کامیاب ہو جاو¿ گے۔رومیوں نے یہ سن کر مقدور بھر کوشش کر کے جتنا مال وہ جمع کر سکتے تھے،کیا اور مسلمانوں کے راستہ میں ڈال دیا۔مسلمان آتے جاتے اُسے دیکھتے تھے،اور تعجب کرتے تھے۔کسی نے اُسے طمع کی نظر سے نہیں دیکھا،اور نہ ہی ہاتھ لگایا۔بلکہ یہ کہتے ہوئے گزر جاتے تھے؛”تمام تعریفیں اﷲ تعالیٰ کے لئے ہیں،جس نے ہمیں ایسی قوم کے ملکوں کا مالک بنا دیا،جن کے پاس دنیا کی اتنی چیزیں ہیں۔اور اﷲ تعالیٰ کے نزدیک دنیا مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی،تو کوئی کافر دنیا سے ایک گھونٹ پانی بھی نہیں پی سکتا تھا۔“کسی مسلمان نے اِس مال و اسباب اور متاع ِ دنیا کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا،اور نہ ہی اُسے چھوا۔ابو جعیدنے یہ دیکھ کر رومیوں سے کہا؛”یہی وہ قوم ہے،جس کی تعریف اﷲ تعالیٰ نے توریت اور انجیل میں بیان کیا ہے۔یہ ہمیشہ حق پر رہیں گے،اور جب تک حق پر رہیں گے،اُن سے کوئی قوم آنکھ نہیں ملا سکے گی۔اور کوئی قوم اِن کے مقابلے پر نہیں ٹھہر سکے گی۔“
دجال کے قتل کی جگہ
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے بیت المقدس فتح کیا،اور شہر والوں سے مصالحت کی۔علامہ محمد بن جریر طبری کے مطابق صلح جابیہ میں ہوئی ،اور دوسرے علمائے کرام کے مطابق بیت المقدس میں ہوئی۔واﷲ و اعلم۔بہر حال پہلے ہم علامہ طبری کی روایت پیش کرتے ہیں۔حضرت سالم بن عبد اﷲ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جابیہ آئے تو ایک یہودی نے آپ رضی اﷲ عنہ سے کہا؛”اے امیر المومنین(رضی اﷲ عنہ)!جب تک اﷲ تعالیٰ آپ (رضی اﷲ عنہ ) کو ایلیاہ(بیت المقدس)فتح نہ کرادے،تب تک آپ(رضی اﷲ عنہ)اپنے گھر واپس نہ جائیں۔“ابھی حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جابیہ کے مقام پر ہی تھے کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے گھوڑ سواروں کے ایک دستے کو دیکھا،جو آپ رضی اﷲ عنہ کی طرف ہی آرہا تھا۔جب وہ قریب آئے تو مسلمانوں نے تلواریں نکال لیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”یہ لوگ پناہ کے لئے آرہے ہیں،تم انہیں پناہ دو۔“تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ ایلیاہ(بیت المقدس) کے شہری ہیں۔انہوں نے جزیہ ادا کرنے کے معاہدے پر مصالحت کر لی،اور آپ رضی اﷲ عنہ کے لئے شہر کے دروازے کھول دیئے۔جب شہر فتح ہو گیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس یہودی کو بلوایا،اور اُس سے دجال کے بارے میں دریافت فرمایا۔یہودی بولا؛”اے امیر المومنین(رضی اﷲ عنہ)!آپ اُس کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہیں؟اﷲ کی قسم !آپ (رضی اﷲ عنہ) کی عرب قوم دس گز کے فاصلے پر لاکے دروازے کے قریب دجال کو قتل کرے گی۔علامہ طبری آگے لکھتے ہیں۔صلح کے وقت وہ یہودی موجود تھا،حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اُس سے دجال کے بارے میں دریافت کیا،تو وہ بولا؛”دجال بن یامن کی اولاد میں سے ہوگا،اور اﷲ کی قسم!اے اقوام ِ عرب،”لُد“کے دروازے سے دس گز سے کچھ زیادہ فاصلے پر اُسے قتل کرو گے۔“(اُس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسلمانوں کے سربراہ ہوں گے۔”مقام لُد“تل ابیب میں ہے،اور اسرائیل کا سب سے بہترین ایئر پورٹ وہیں ہے۔)
بیت المقدس مسجد کی تحقیق
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے بیت المقدس اور ”شب ِاسریٰ“ کے حالات بہت تفصیل سے سنے ہوئے تھے۔اور بیت المقدس کے بارے میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اتنی تفصیل سے بتا یا تھا کہ گویا صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں۔اور ”چٹانِ داو¿دی“(وہ پہاڑی چٹان جہاں سے حضرت داؤد علیہ اسلام نے فرشتوں کواوپر چڑھتے دیکھا تھا،اور یہیں پر بیت المقدس کی تعمیرکی بنیاد رکھی تھی۔)کے بارے میں بھی تفصیل سے بتایا تھا۔اِسی لئے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جب بیت المقدس میں داخل ہوئے،تو آپ رضی اﷲ عنہ کو دیکھا بھالا لگا۔آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ پوپ اور پادری ،راہب اور بشپ وغیرہ چل رہے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے پوپ سے بیت المقدس مسجد کے بارے میں پوچھا،تو اپنے ایک بہت ہی خوب صورت کنیسہ (چرچ)میں لے گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے پورے کنیسہ کا جائزہ لیا،اور فرمایا کہ یہ وہ جگہ نہیں ہے،جس کی نشانی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی تھی،مجھے اصل جگہ بتاو¿۔اِس کے بعد پوپ اصل جگہ پر لے گیا،وہاں ہر طرف کوڑا کرکٹ پھیلا ہوا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس جگہ کا جائزہ لیا،اور چٹان ِ داو¿دی کو پہچان لیا ،اور فرمایاکہ یہی وہ جگہ ہے۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ آگے بڑھے اور کوڑا کرکٹ اُٹھا کر پھینکنے لگے۔سب لوگوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کی تقلید کی،اور جب پوری جگہ صاف ہو گئی ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ اِس جگہ کو جب بارش کا پانی تین مرتبہ دھو دے،تو نماز شروع کر دینا۔
بیت المقدس کی جگہ کو ڑا کر کٹ کیوں
حضرت داؤد علیہ السلام جب بنی اسرائیل پر نبوت اور حکومت کر رہے تھے،تو انہوں نے ایک رات دیکھا کہ ایک چٹان پر سے فرشتے ایک سیڑھی کے ذریعے آسمان پر چڑھ رہے ہیں۔یہ دیکھ کر آپ رضی علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ سے دعا کی کہ میں یہاں پر ایک مسجد بنانا چاہتا ہوں۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم اِس مسجد کی بنیاد ڈال کر شروعات کرو گے،لیکن مکمل نہیں کر سکو گے۔اِس تمہارا بیٹا سلیمان (علیہ السلام) پورا کرے گا۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے اُس مسجد کو مکمل طریقے سے بنایا،یہ بنی اسرائیل کی مرکزی مسجد بن گئی۔بعد میں بنی اسرائیل نے اِسے ”ہیکل سلیمانی “کہنا شروع کر دیا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل نے اپنی دانست میں صلیب پر چڑھوا دیا ،تو اُن پر اﷲ کا عذاب نازل ہوا۔اور ایک ظالم بادشاہ نے حملہ کرکے اُن کا اتنی بُری طرح سے قتل عام کیا کہ وہ فلسطین چھوڑ کر پوری دنیا میں بھاگ گئے،اور بکھر گئے۔اُس ظالم بادشاہ نے ”ہیکل سلیمانی“کو پوری طرح سے منہدم کر دیا،اور چٹیل میدان کر دیا۔بعد میں اﷲ تعالیٰ نے عیسائیوں کو طاقتور بنا دیا،اور حکومت اُن کے ہاتھوں میں آئی تو وہ یہودیوں سے بہت نفرت کرتے تھے۔اِسی وجہ سے یہودیوں کی مقدس جگہ (جہاں ہیکل سلیمانی تھا)پر عیسائی بادشاہ نے کوڑا کرکٹ پھینکنے کا حکم دیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیںکہ یہودیوں نے جہاں ”قمامہ“کیا تھا،قمامہ وہ جگہ ہے جہاں یہودیوں نے مصلوب کو صلیب پر چڑھوایا تھا۔اور پھراُس کی قبر پر کوڑا کرکٹ پھینکنے لگے تھے،اِسی لئے اِس جگہ کا نام قمامہ پڑ گیا تھا۔بعد میں حکومت ہاتھ میں آنے کے بعد عیسائیوں نے وہ جگہ صاف کر کے وہاں وہاں ایک کنیسہ(گرجا گھر،چرچ)بنایا۔اور جہاں منہدم شدہ ہیکل سلیمانی تھا،وہاں ایک چار دیواری گھیر کر وہاں کوڑا کرکٹ پھینکنے کا حکم دیا۔جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا اسلام کی دعوت کا خط ہرقل کے پاس پہنچا ،تو تب تک کو ڑا کرکٹ حضرت داو¿د علیہ السلام کی محراب تک پہنچ گیا تھا۔پھر ہرقل نے وہاں سے کوڑا کرکٹ اُٹھانے کا حکم دیا،جس کا سلسلہ جاری تھا،اور ابھی انہوں نے ایک تہائی کوڑا ہی اُٹھا یا تھا کہ بیت المقدس کو مسلمانوں نے فتح کر لیا،اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اسے اٹھوا دیا۔
مسجد اقصیٰ کی بنیاد
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اِس جگہ کی صفائی کے بعد یہاں ”مسجد اقصیٰ“کی بنیاد رکھی۔علامہ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیںحضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ بیت المقدس میں داخل ہوئے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت کعب احبار سے صخرہ کی جگہ کے متعلق دریافت کیا۔(حضرت کعب احبار یہودی عالم تھے،اور خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں اسلام قبول کیا تھا۔)انہوں نے کہا؛”یاامیر المومنین!وہ وادیٔ جہم سے اتنے ہاتھ پر فلاں جگہ ہے۔“انہوں نے ہاتھ ناپے ،تو انہوں نے معلوم کر لیا۔اور نصاریٰ(عیسائیوں) نے ”صخرہ “کو روڑی(کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ)جیساکہ یہودیوں نے ”قمامہ“کی جگہ کے ساتھ کیا تھا۔اور یہ وہ جگہ ہے،جہاں مصلوب کو صلیب دی گئی تھی،جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ ہو گیا تھا۔اور یہود و نصاریٰ نے اُسے سچ یقین کر لیا تھا،اور انہوں نے اپنے اعتقاد میں اِس کی تکذیب کی۔جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے اِس بارے میں اُن کی غلطی کی صراحت کی ہے۔حاصل کلام یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت سے تقریباً تین سو سال قبل نصاریٰ نے بیت المقدس پر حکومت کی ،تو انہوں نے روڑی کی جگہ کو پاک صاف کیا۔اور وہاں پر ایک بہت ہی عالیشان گرجا گھر (چرچ)بنا دیا،جسے فلسطین کے بادشاہ کی والدہ نے تعمیر کروایا،اور وہ شہر اُسی کے نام سے منسوب ہے۔اور اُس کے حکم سے اُس کے بادشاہ بیٹے نے نصاریٰ کے لئے ”مر زبوم“میں”بیت لحم“کو تعمیر کیا۔اور اُن کے خیال کے مطابق اُس نے قبر کی جگہ اسے تعمیر کیا۔الغرض انہوں نے یہود کے قبلہ کی جگہ کو اس فعل کے مقابلہ میں جو انہوں نے قدیم اور جدید زمانے میں کیا ،روڑی بنا دیا۔اور جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ”بیت المقدس “فتح کیا ،اور ”صخرہ “کی جگہ دریافت کیا ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے روڑی کو صاف کرنے کا حکم دے دیا۔اور یہاں تک بیان کیا گیا ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنی چادر کے دامن سے وہاں جھاڑ دیا۔پھر حضرت کعب سے مشورہ کیا کہ وہ مسجد کہاں بنائیں؟تو انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو ”صخرہ “کے پیچھے مسجد بنانے کا مشورہ دیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اُن کے سینے پر ضرب لگا کر فرمایا؛”اے ابن ام کعب !تو نے یہودیوں کی مشابہت اختیار کی ہے۔“اور آپ رضی اﷲ عنہ نے ”بیت المقدس“کے آگے مسجد بنانے کا حکم دیا۔علامہ ابن کثیرنے ایک اور روایت میں لکھا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت کعب سے فرمایا؛”تمہاری رائے میں ،میں کہاں نماز پڑھوں؟“انہوں نے عرض کیا؛”یا امیر المومنین!اگر آپ مجھ سے معلوم کرنا چاہتے ہیں ،تو ”صخرہ“ کے پیچھے نماز پڑھ لیں،اور سارا ”القدس“آپ رضی اﷲ عنہ کے سامنے ہو گا۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم نے یہودیت کی مشابہت اختیار کی ہے،میں ایسا نہیں کروں گا۔بلکہ میں وہاں نماز پڑھوں گا،جہاں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ قبلہ کی طرف بڑھے ،اور نماز پڑھی،اور اپنی چادر پھیلا کر اُس میں کوڑا کر کٹ ڈال لیا۔اور لوگوں نے بھی کوڑا کرکٹ اُٹھا کر پھینکا۔
فاروق ِ اعظم رضی اﷲ عنہ کی بشارت
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بارے میں بنی اسرائیل (یہودیوں)اور بیت المقدس شہر کو کئی سو سال پہلے بشارت دے دی گئی تھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔پھر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نماز پڑنے کے بعد اُس مقام پر آگئے،جہاں رومیوں نے بنی اسرائیل کے زمانے میں بیت المقدس کو ہندسہ بنا دیا تھا(منہدم کر دیا تھا)۔جب آپ رضی اﷲ عنہ وہاں پہنچے تو انہوں نے کچھ حصے کو ظاہر کیا،اور باقی کو چھوڑ دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”جیسا میں کروں ،تم بھی کرنا۔“اتنے میں آپ رضی اﷲ عنہ کے پیچھے سے سب نے زور کا نعرہ¿ تکبیر اﷲ اکبر بلند کیا،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کی طرف گھوم کر فرمایا؛”یہ کیا ہے؟“مسلمانوں نے عرض کیا؛”یا امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !حضرت کعب نے تکبیر کہی ،تو اُسے سن کر ہم نے بھی تکبیر کہہ دی۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کعب کو میرے پاس لاو¿۔“وہ حاضر ہوئے ،تو خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے دریافت فرمایا؛”تم نے تکبیر کیوں کہی؟“حضرت کعب نے عرض کیا؛”یا امیر المومنین رضی اﷲ عنہ!آج میں نے جو کچھ کیا ہے،اُس کے بارے میں پانچ سو سال(یا چھ سو سال) پہلے ایک نبی علیہ السلام نے اِس کی پیشن گوئی کر دی تھی۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”وہ پیشن گوئی کیا تھی؟“حضرت کعب نے عرض کیا؛”رومیوں نے بنی اسرائیل پر حملہ کیا،اور وہ اُن کے مطیع ہو گئے تھے۔ اُس وقت انہوں نے اِس کو(ہیکل سلیمانی،یا بیت المقدس)کو تباہ کر دیا تھا۔اس کے بعد اہل فارس نے اہل روم پر حملہ کیا،تو انہوں نے بنی اسرائیل پر زیادتیاں کیں۔پھر اہل روم اُن پر غالب آگئے،یہاں تک کہ آپ رضی اﷲ عنہ فاتح ہوئے۔اﷲ تعالیٰ نے اُس حالت میں ایک نبی علیہ السلام کو بھیجا تھا،انہوں نے فرمایا؛”اے یروشلم(بیت المقدس)!تمہیں بشارت ہو،تمہارے پاس” فاروق اعظم “آئے گا،جو تمہیں پاک و صاف کرے گا۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے بیت المقدس کو پاک و صاف کیا،اور وہ آج تک پاک و صاف ہے۔لیکن ناپاک یہودیوں نے اسرائیل حکومت بنا لی ہے،اور بیت المقدس کو ناپاک کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔
بیت المقدس کا صلح نامہ
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے بیت المقدس فتح کیا،اور شہر والوں کو صلح نامہ لکھ کر دیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔امام طبری نے لکھا ہے کہ معاہدہ¿ صلح یہیں(جابیہ میں) لکھا گیا ہے۔اور امام بلاذری اور امام ازدی کا بیان ہے کہ صلح نامہ ”بیت المقدس“میں تحریر کیا گیا۔بہر کیف جو معاہدہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی موجودگی میں ”بیت المقدس“ میں لکھا گیا،اُس کا مضمون یہ ہے:”یہ وہ رعایتیں ہیں،جو اﷲ کے بندے عُمر بن خطاب ( رضی اﷲ عنہ ) نے ایلیاہ(بیت المقدس یا یروشلم)والوں کو دی ہیں۔اُن کی جان، مال، گرجے،صلیب،بیمار،تندرست اور اُن کے کل مذہب والوں کو امان دی جاتی ہے۔کسی کو اُن کے گرجاو¿ں میں سکونت اختیار کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔نہ ہی وہ گرائے جائیں گے،اور نہ ہی اُن کو اور اُن کے احاطے کو نقصان پہنچایا جائے گا۔نہ ہی اُن کی صلیبوں،اور نہ ہی اُن کے موقوفات میں کمی کی جائے گی۔مذہب کی بابت اُب پر کچھ جبر نہیں کیا جائے گا،اور نہ ہی اُن میں سے کسی کو ضرر پہنچایا جائے گا۔اور ایلیاہ میں اُن کے ساتھ یہودی نہیں رہنے پائیں گے،اور اہل ایلیاہ پر یہ فرض ہے کہ وہ دوسرے شہر والوں کی طرح جزیہ دیں۔اور یونانیوں اور مفسدوں کو شہر سے نکال دیں،پس یونانیوں اور مفسدوں میں سے جو شہر سے نکلے گا،اُس کے جان و مال کو اُس وقت تک امن دیا جائے جائے گا،جب تک وہ محفوظ مقام پر پہنچ نہیں جائے گا۔اور جو شخص ان میں سے ایلیاہ میں رہنا چاہے گا،اُس کو اہل ایلیاہ کی طرح جزیہ دینا ہو گا۔اور اہل ایلیاہ میں سے جو شخص اپنی جان و مال لیکر اُن کے ساتھ جانا چاہے ،تو اُن کو اور اُن کے گرجاو¿ں اور صلیبوں کو امن ہے، یہاں تک کہ وہ محفوظ مقام پر پہنچ جائیں۔اور جو کچھ اِس عہد نامہ میں لکھا ہے،اس پر اﷲ تعالیٰ،اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم ،اُن کے خلفائ،اور مسلمانوں کا ذمہ اُس وقت تک ہے ،جب تک اہل ایلیاہ مقررہ جزیہ ادا کرتے رہیں گے۔اِس عہد نامے پرحضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت خالد بن ولید ،حضرت عمرو بن عاص،اور حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہم نے گواہ کے طور پر دستخط کئے۔یہ صلح ۵۱ ہجری میں ہوئی ۔کچھ علمائے کرام کے مطابق بیت المقدس 15 ہجری میں فتح ہوا،اور کچھ علمائے کرام کے مطابق 16 ہجری میں فتح ہوا۔
فلسطین کے دو صوبے
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ”بیت المقدس “فتح کیا۔اُس وقت تک فلسطین ملک شام کا ایک حصہ تھا۔ملک شام کافی بڑا تھا،اور اُس میں اردن،لبنان،اور فلسطین وغیرہ ایک ایک صوبے کے طور آتے تھے۔بعد میں اِن تینوں کو ملک شام سے الگ کر کے الگ الگ ملک بنا دیا گیا۔جب خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے بیت المقدس فتح کیا،تو اُس کے دو حصے کر دیئے،اور اُسے دو صوبوں میں تقسیم کر دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فلسطین کے دو صوبے بنا دیئے۔ایک صوبے پر حضرت علقمہ بن حکیم کو گورنر(عامل) مقرر کیا،اور دوسرے صوبے پر حضرت علقمہ بن مجزز کو گورنر مقرر کیا۔دونوں کا مرکذ ایلیاہ(بیت المقدس)قرار دیا گیا۔اور آپ رضی ا ﷲ عنہ کے حکم کے مطابق دونوں گورنروں نے اپنے اپنے علاقے کا انتظام سنبھال لیا۔اُن کے ساتھ وہ لشکر تھا ،جو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے ساتھ تھا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص ،اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو جابیہ میں بلا لیا۔ جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جابیہ میں تشریف فرما تھے تو ارطبون بھاگ کر ملک مصر چلا گیا تھا۔اور فتح مصر کے بعد مسلمانوں سے مقابلہ میں اُس کا خاتمہ ہو گیا تھا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں