جمعہ، 4 اگست، 2023

19 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


19 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 19

خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کا پوری اُمت ِاسلامیہ کو ہدایت نامہ، گورنروں (حکام ) کی طلبی، گورنروں سے مشورہ، اپنے دونوں پیش رو کا طریقہ اختیار کریں، فتنہ کا دروازہ کھل کر رہے گا، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم رشتہ داروں کو دیتے تھے، 

خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کا پوری اُمت ِاسلامیہ کو ہدایت نامہ

خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے اِس کے بعد پوری مملکت اسلامیہ کی عوام کے نام ایک ہدایت نامہ بھیجا اور دوسرا ہدایت نامہ اپنے گورنروں کو بھیجا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے شہر والوں کے نام یہ ہدایت نامہ تحریر کر کے بھیجا : ” میں نے گورنروں کے لئے یہ مقرر کر دیا ہے کہ وہ موسم حج میں مجھ سے ملاقات کریں ۔جب سے میں خلیفہ مقرر کیا گیا ہوں میں نے اُمت ِ اسلامیہ کے لئے یہ اصول مقرر کر دیا ہے کہ نیکی کا حکم دیا جائے اور برے کاموں سے روکا جائے ۔اِس لئے میرے سانے یا میرے گورنروں کے سامنے مطالبہ پیش کیا جائے گا وہ حق ہو گا تو ادا کیا جائے گا ۔میری رعایا کے حقوق میرے اہل و عیال کے حقوق سے بڑھ کر ہوں گے ۔اہل مدینہ¿ منورہ کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ کچھ لوگ گالی دیتے ہیں اور کچھ لوگ زدو کوب کرتے ہیں ۔پوشیدہ طور پر ملامت کرنا ،گالی دینا اور زدو کوب کرنا بہت برا ہے ۔جو کوئی کسی حق کا دعویدار ہو وہ موسم حج میں آئے اور اپنا حق حاصل کر لے ۔خود مجھ سے لیا جائے یا میرے گورنروں سے لیا جائے یا تم معاف کر دو تو ایسی صورت میں اﷲ معاف کرنے والوں کو جزائے خیر دے گا ۔“ جب یہ خط شہروں میں پڑھا گیا تو مسلمان عوام رونے لگے اور انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے حق میں دعاکی اور کہنے لگے قومی مصیبت کے آثار ہیں ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : ” اِس کے بعد امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے دو گشتی فرمان تمام مملکت اسلامیہ میں روانہ کئے ۔ایک عام رعایا کے نام مضمون تھا : ” مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ میرے گورنروں سے عام رعایا کو کچھ نقصان پہنچا ہے۔اِس وجہ سے میں نے حکم دیا ہے کہ میرے تمام گورنر (حکام ) موسم حج میں آئیں ۔پس جس شخص کو میرے گورنروں سے نقصان پہنچا ہو یا کسی کا حق کسی گورنر پر ہو تو اُس کو چاہیئے کہ اِس موقع پر آکر اپنے حق کو مجھ سے یا میرے گورنر سے لے لے لیکن اُس کی تصدیق کرائے ثبوت دے اور اگر معاف کردے تو اﷲ تعالیٰ معاف کرنے والوں کو جزائے خیر دیتا ہے ۔‘ ‘ یہ خط سن کر عوام رو پڑے اور امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲعنہ کے حق میں دعا کرنے لگے ۔

گورنروں (حکام ) کی طلبی

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے دوسرا ہدایت نامہ اپنے گورنروں کو بھیجا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : دوسرا فرمان پوری مملکت اسلامیہ کے تمام گورنروں کے نام تھا اور انہیں حکم دیا کہ موسم حج میں سب امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوجائیں ۔تما م گورنروں نے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے ساتھ حج کیا اور پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن سے فرمایا : ” افسوس ہے کہ تم لوگوں کی شکایتیں اور ایذارسانی کی خبریں مجھ تک پہنچیں ہیں ۔اﷲ کی قسم ! مجھے اِس بات کا ڈر ہے کہ کہیں وہ لوگ سچے ثابت نہ ہو جائیں ۔“ گورنروں نے عرض کیا : ” کیا آپ رضی اﷲ عنہ نے صحیح حالات دریافت کرنے کے لئے اپنے نمائندو¿ں کو نہیںبھیجا تھا ؟کیا انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو کچھ بتایا تھا ؟ کیا آپ رضی اﷲ عنہ کے نمائندو¿ں نے یہ نہیں کہا تھا کہ انہوں نے گورنروں میں کوئی برائی نہیں دیکھی ہے ؟ ہم لوگو ں کو تو اِس شکایت کی اطلاع تک نہیں ہے اور نہ ہی اِس کی کوئی اصلیت ہے اور آپ رضی اﷲ عنہ کو اِس شکایت پر کوئی توجہ نہیں دینی چاہیئے۔“ تمام حاضرین گورنر اِس شرو فساد کو فرو کرنے کی بابت مشورہ کرنے لگے اور ایک دوسرے کی مخالفت کرنے لگے ۔امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” یہ فتنہ ضرور برپا ہو نے والا ہے اور اِس کا دروازہ عنقریب کھلنا ہی چاہتا ہے میں یہ نہیں چاہتا کہ مجھ پر کوئی الزام اِس فتنے کی بابت باقی رہ جائے ۔اﷲ تعالیٰ اِس کو خوب جانتا ہے کہ میں نے سوائے خیر کے لوگوں کے ساتھ کچھ نہیں کیا ۔“ حاضرین یہ سن کر خاموش رہے اور کسی نے ذرہ برابر بھی کسی کی شکایت نہیں کی۔

گورنروں سے مشورہ

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے گورنروں سے جو گفتگو کی اُسے علامہ محمد بن جریرطبری نے کافی تفصیل سے پیش کیا ہے ۔آپ لکھتے ہیں : خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے شہروں کے حکام ( گورنروں ) کو بلا بھیجا اُن میں قابل ِ ذکر نام یہ ہیں ۔(1) عبد اﷲ بن عامر (2) حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ (3) عبد اﷲ بن سعد (4) سعید بن عاص اور (5) حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ۔ اِس مجلس میں امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” یہ کیا شکایت ہے اور یہ کیسی افواہیں ہیں ؟ اﷲ کی قسم ! مجھے اندیشہ ہے کہ یہ سچ ثابت نہ ہوں ۔کیا یہ سب باتیں میری وجہ سے ہورہی ہیں؟ “حکام (گورنروں ) نے کہا : ” کیا آپ رضی اﷲ عنہ نے شہروں میں اپنے نمائندے نہیں بھیجے تھے اور ہم نے اُن لوگوں کے بارے میں اطلاع نہیں بھیجی تھی ؟ کیا وہ لوٹ کر نہیں آئے یا اُن افراد نے اُن سے روبرو گفتگو نہیں کی تھی ؟ اﷲ کی قسم ! مخبر سچے نہیں ہیں اور نہ ہی وہ راست باز معلوم ہوتے ہیں ۔بلکہ اِن باتوں کی کوئی بنیاد ہی نہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ اِن خبروں کی بدولت آپ رضی اﷲ عنہ کسی کو گرفتار نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ یہ بات آپ رضی اﷲ عنہ کے لئے نامناسب ہو گی ۔یہ سب باتیں افواہوں پر مبنی ہیں اور اِن کی بدولت حکام ( گورنروں ) کا مواخذہ نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس سے کوئی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے ۔اِس پر خلیفہ¿ سُوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” تم لوگ مجھے مشورہ دو ۔“سعید بن عاص نے کہا :” یہ جعلی اور بناوٹی معاملہ ہے جو پوشیدہ طور پر تیار کیا جاتا ہے اور جب کسی ناواقف کو یہ بات معلوم ہوتی ہے تو وہ اِس خبر کی مختلف شہروں میں تشہیر کرتا ہے ۔“ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” پھر اِس کا کیا علاج ہے ؟ “ سعید بن عاص نے کہا : ”اُن لوگوں کو بلایا جائے اور پھر اُن لوگوں کو قتل کیا جائے جن کی طرف سے افواہیں پھیلتی ہیں ۔“ عبد اﷲ بن سعد نے کہا : ” اگر آپ رضی اﷲ عنہ اُن لوگوں کو اُن کے حقوق عطا کرتے ہیں تو اُن سے اُن کے واجبات بھی وصول کریں ۔یہ بات اُنہیں آزاد چھوڑنے سے بہتر ہے ۔“ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے کہا : ” آپ رضی اﷲ عنہ نے مجھے حاکم (گورنر ) مقرر کیا تو میں ایسے لوگوں کا گورنر ہوں جن کی طرف سے کوئی ناخوشگوار بات نہیں نکلے گی اور یہ دونوں حضرات بھی اپنے علاقوں سے زیادہ واقف ہوں گے ۔“امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” پھر کیا رائے ہے “ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ” حسن ادب ۔“

اپنے دونوں پیش رو کا طریقہ اختیار کریں

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اے عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ ! آپ رضی اﷲ عنہ کی کیا رائے ہے ؟ “ حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ” میری رائے یہ ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے ساتھ نرمی اختیار کر رکھی ہے اور انہیں ڈھیلا چھوڑ دیا ہے ۔بلکہ آپ رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ¿ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے زمانے سے زیادہ عطیات اور وظائف انہیں دینے شروع کر دیئے ہیں ۔اِس لئے میری رائے یہ ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ اپنے دونوں پیش رو حضرات ( خلیفہ¿ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور خلیفہ¿ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ) کے طریقہ پر چلیں ۔جہاں سختی کا موقع ہو وہاں سختی اختیار کریں اور جہاں نرمی کا موقع ہو وہاں نرمی اختیار کریں کیونکہ جو لوگوں کے ساتھ سازشیں کرتا ہو اُس کے ساتھ سختی کرنی چاہیئے اور جو لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کرتا ہو اُس کے ساتھ نرمی کرنی چاہیئے ۔مگر آپ رضی اﷲ عنہ نے دونوں کے ساتھ یکساں سلوک اختیار کر رکھا ہے ۔“

فتنہ کا دروازہ کھل کر رہے گا

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے تمام گورنروں (حکام )کی باتیں سنیں اور اس کے بعد نرمی کرنے حکم دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اﷲ کی حمد و ثناءکے بعد یوں فرمایا : ” تم لوگوں نے جو مجھے مشورے دیئے ہیں وہ میں نے سن لئے ہیں اور ہر کام کے انجام دینے کا ایک طریقہ ہوتا ہے ۔وہ بات جس کا اِ س اُمت ِ اسلامیہ کو اندیشہ ہے وہ ہو کر رہے گی ۔اُس فتنہ کا دروازہ جو بند ہے اُسے نرمی ، موافقت اور اطاعت کے ذریعے مسدود رکھنے کی کوشش کی جائے گی ۔البتہ اﷲ کے قوانین و حدود کی حفاظت کی جائے گی ۔اگر اِس فتنہ کو بند رکھنا ہے تو نرمی کا طریقہ بہتر ہے لیکن یہ دروازہ کھل کر رہے گااور کوئی اسے روک نہیں سکے گا ۔اﷲ جانتا ہے کہ میں نے لوگوں اور اپنی ذات کی بھلائی کے لئے کوئی کوتاہی نہیں کی ہے ۔اﷲ کی قسم ! فتنہ و فساد کی چکی گردش میں آکر رہے گی اور عثمان غنی ( رضی اﷲ عنہ ) کے لئے کیا ہی اچھا ہے کہ وہ اِس فتنہ کے برپا ہونے سے پہلے ہی رخصت ہو جائے ۔تم لوگوں کو فتنہ و فساد سے روکو اور اُن کے حقوق ادا کرو اور اُن سے درگزر کرو ۔البتہ اﷲ کے حقوق کی ادائیگی میں سستی نہیں کرنا ۔“

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم رشتہ داروں کو دیتے تھے

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے گورنروں کو روانہ کر دیا اور خود مدینہ¿ منورہ روانہ ہو گئے ۔آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ بھی تھے ۔مدینۂ منورہ پہنچ کر خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے کبار صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کو بلایا : ” علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” حضرت موسیٰ بن طلحہ بن عبید اﷲ بیان کرتے ہیں : ” خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے میرے والد ِمحترم حضرت طلحہ بن عبید اﷲرضی اﷲ عنہ کو دعوت دے کر بلوایا تو میں بھی اُن کے ساتھ روانہ ہوا ۔جب وہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچے تو حضرت علی المرتضیٰ ،حضرت سعد بن ابی وقاص ، حضرت زبیر بن عوام اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہم بیٹھے ہوئے تھے ۔پھر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کھڑے ہوئے اور حمد و ثناءکے بعد کہا : ”آپ لوگ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور روئے زمین کے بہترین انسان ہیں۔آپ لوگ اِس اُمت ِ اسلامیہ کے ارباب حل و عقد ہیں کیونکہ آپ لوگوں کے علاوہ اور کوئی اِس کی توقع نہیں رکھ سکتا ۔آپ نے اپنے ساتھی ( حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ ) کو جبر اور طمع کے بغیر انتخاب کیا ہے ۔اب وہ سن رسیدہ ہو گئے ہیں اور اُن کی عُمر ختم ہو گئی ہے اور اگر تم اُن کے بڑھاپے کی انتہائی عُمر کا انتظار کرو گے تو وہ بھی قریب ہے۔ تاہم مجھے توقع ہے کہ وہ اﷲ کو اِس قدر عزیز ہیں کہ وہ انہیں ا س عمر تک نہیں پہنچائے گا ۔وہ افواہ پھیل گئی ہے جس کا مجھے اندیشہ تھا ۔آپ لوگ اِس کے لئے قابل ملامت نہیں ہیں میرا ہاتھ بھی آپ لوگوں کے ساتھ ہے تاہم آپ لوگ عوام کو اپنے بارے میں توقع نہ دلائیں کیونکہ اگر وہ اس طرف مائل ہو گئے تو آپ لوگ اس میں ہمیشہ تنزل و ادبار دیکھو گے ۔“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” آپ رضی اﷲ عنہ کا اس بات سے کیا تعلق ہے اور آپ رضی اﷲ عنہ کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی ؟“ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” میرے بھتیجے نے سچ کہا ہے ۔میں اپنے بارے میں اور اپنی خلافت کے بارے میں آپ لوگوں مطلع کرتا ہوں ۔واقعہ یہ ہے کہ میرے اُن دونوں ساتھیوں ( حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ) نے جو مجھ سے پہلے (خلیفہ) ہوئے تھے ۔انہوں نے اپنی ذات اور اپنے رشتہ داروں کے لئے ثواب حاصل کرنے کے لئے تنگی برداشت کی تھی ۔تاہم یہ حقیقت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے رشتہ داروں کو دیا کرتے تھے ۔میں بھی اُس خاندان سے ہوں جو عیال دار اور تنگ دست ہے اور یہ مال میری نگرانی میں ہے اِسی لئے میں اِس مال میں سے کچھ رقم اِس وجہ سے دی ہے کہ وہ میری ملکیت ہے ۔ اگر آپ لوگوں کی یہ رائے ہو کہ یہ بات غلط ہے تو اسے لوٹایا جاسکتا ہے کیونکہ میرا حکم آپ لوگوں کے حکم کے تابع ہے ۔“

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں