بدھ، 2 اگست، 2023

19 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2



19 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 19

حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ کا خط، صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی بیت المقدس روانگی، خلیفۂ دوم رضی ا ﷲ عنہ جابیہ میں، سپہ سالاروں سے ملاقات، حضرت بلال رضی اﷲ عنہ کی اذان، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کا لباس، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ بیت المقدس میں، انجیل میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے اوصاف، یہی بیت المقدس کا فاتح ہے، بیت المقدس کی فتح، 

حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ کا خط

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے تمام سپہ سالاروں اور کمانڈروں کو جمع کیا،اور پوپ کی تما م باتوں سے مطلع کیا۔مسلمانوں نے تکبیر و تہلیل کے فلک بوس نعرے بلند کئے،اور کہا؛”اے سپہ سالار ِ اعظم!آپ رضی اﷲ عنہ امیر المومنین کی خدمت میں ضرور یہ حال لکھ دیں۔ممکن ہے امیر المومنین یہاں تشریف لائیں،اور اﷲ تعالیٰ اُن کے ہاتھوں یہ شہر فتح کرائے۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے ایک خط لکھ کر قاصد کے ذریعے خلیفہ¿ دوم رضی ا ﷲعنہ کی خدمت میں بھیجا،جس کا مضمون یہ تھا۔ ”بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔اﷲ کی حمدو ثناءاور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر درودو سلام کے بعد لکھا۔اما بعد؛”یا امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !ہم نے شہر ایلیاہ(بیت المقدس)کو اپنے محاصرے میں لے رکھا ہے۔اور شہر والوں سے لڑتے ہوئے ہمیں چار مہینے گزر چکے ہیں۔روزآنہ اُن سے مقابلہ ہوتا ہے،وہ بھی برابر ہمارا مقابلہ کر رہے ہیں۔مسلمانوں کو برف باری،سردی،بارش اور ایک مصیبت عظمیٰ کا سامنا ہے،لیکن وہ اﷲ بزرگ و برتر کی مہربانیوں پر اُمید رکھتے ہوئے اِس کی کوئی پرواہ نہیں کر رہے ہیں۔آج جس روز میں آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں یہ خط لکھ رہا ہوں،ایک اسقف اعظم جس کی یہ لوگ بہت عزت و تکریم کرتے ہیں۔وہ شہر پناہ کی دیوار پر چڑھ کر کہنے لگاکہ ہمیں اپنی کتاب سے معلوم ہوا ہے کہ اِس شہر کو سوائے نبی (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کے ایک صحابی کے جس کا نام ”عُمر“ہوگا،اور کوئی فتح نہیں کر سکے گا۔وہ یہی کہتے ہیںکہ ہماری کتاب میں اُن صحابی کا حلیہ،صفات اور علامات بھی لکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے جنگ بند کرنے اور آپ رضی اﷲ عنہ کے یہاں تشریف لانے کی خواہش اور درخواست کی ہے۔اگر آپ رضی ا ﷲ عنہ بہ نفس نفیس تشریف لائیں،تو اﷲ تعالیٰ کی ذات گرامی سے یہ اُمید ہے کہ وہ آپ رضی اﷲ عنہ کے دست مبارک پر اِس شہر کو فتح کرا دے گا۔والسلام۔“یہ خط حضرت میسرہ بن مسروق عبسی کے ہاتھوں روانہ کیا۔(فتوحات شام

صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو ملک شام سے خطوط آئے،کہ بیت المقدس کے لوگ آپ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر صلح کرنا چاہتے ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے اِس بارے میں صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ کیا۔صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے الگ الگ رائیں دیں،لیکن اُن میں حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے مشورے کافی اہمیت کے حامل تھے۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے مشورہ دیا تھا کہ آپ رضی ا ﷲ عنہ اُن کے پاس نہیں جائیں،تاکہ اُن کی ذلت اور حقارت ہو۔جبکہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے مشورہ دیا کہ آپ رضی اﷲ عنہ وہاں ضرور جائیں،تاکہ مسلمانوں کو محاصرے میں جو دقت پیش آرہی ہے،اُس میں کچھ کمی ہو۔خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی رائے کو پسند فرمایا۔اور مدینہ منورہ پر اُنہیں ہی اپنا قائم مقام مقرر کیا، سفر کا مکمل انتظام کرنے کے بعد آپ رضی ا ﷲ عنہ مسجد نبوی میں آئے۔چار رکعت نماز پڑھی،رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر حاضر ہوئے،اور آپ صلی ا ﷲ علیہ وسلم اور خلیفہ¿ اول رضی اﷲ عنہ کو سلام عرض کیا۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کو امور ِ خلافت سپرد فرمائے،اور مدینہ منورہ میں اُن کو اپنا قائم مقام بنا کر ملک شام کی طرف روانہ ہوئے۔

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی بیت المقدس روانگی

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بیت المقدس کی طر ف روانہ ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کی سواری ایک سرخ اونٹ تھا،جس پر ایک خورجی تھی۔جس کے ایک تھیلے میں راستے کے کھانے کے لئے ستو اور دوسرے تھیلے میں چھوہارے بھرے ہوئے تھے۔سامنے پانی کا ایک مشکیزہ لٹک رہا تھا،اور پشت پر ایک بڑا پیالہ تھا۔جو صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم یرموک سے آئے تھے،وہ آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ راستہ بتانے کے لئے ہو گئے۔اِن میں حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ ،اور حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ عنہ قابل ذکر ہیں۔آپ رضی ا ﷲ عنہ سفر کرتے رہتے،اور جب شام کے وقت کسی منزل پر پہنچتے تھے،تو وہیں قیام فرما دیتے تھے۔اور صبح اُس منزل سے روانہ ہوتے تھے۔(اُس زمانے میں سفر کرنے اور رکنے کی منزلیں بنائی جاتی تھیں،جیسے آج کل ہمارے یہاں ایس ٹی اسٹینڈ بنائے جاتے ہیں۔)اِس طرح منز ل بہ منزل سفر کرتے ہوئے ملک شام کی سرحد میں داخل ہوئے۔

 خلیفۂ دوم رضی ا ﷲ عنہ جابیہ میں

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے غلام حضرت اسلم بن برقان اِس سفر میں ساتھ تھے،وہ فرماتے ہیں۔جب ہم ملک شام کی سرحدمیں داخل ہوئے،تو ہم نے چند سواروں کا ایک دستہ آتے دیکھا۔امیر المومنین رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ سے فرمایا؛”آپ رضی اﷲ عنہ جلدی سے جا کر اِس دستہ کی خبر لائیں۔“حضرت زبیر رضی اﷲ عنہ اُن کے پاس گئے،تو معلوم ہوا کہ یہ یمن کے مسلمانوں کا ایک دستہ ہے۔جسے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خبر لانے کے لئے روانہ کیا تھا۔حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں؛”انہوں نے مجھے دیکھ کر سلام عرض کیا،اور دریافت کیا کہ کہاں سے آرہے ہو؟میں بتایا کہ ہم مدینہ منورہ سے آرہے ہیں۔انہوں نے پوچھا کہ وہاں سب خیریت ہے؟میں کہا ہاں۔انہوں نے کہا کہ امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کا کیا ارادہ رہا،کیا وہ تشریف لا رہے ہیں؟میں پوچھا کہ آپ لوگ کون ہیں؟انہوں نے کہا کہ ہم یمنی عرب ہیں،اور ہمیں ہمارے سپہ سالار حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے ہمیں یہ تحقیق کرنے کے لئے بھیجا ہے کہ امیر المومنین رضی اﷲ عنہ تشریف لا رہے ہیں یا نہیں۔میں یہ سن کر امیر المومنین رضی ا ﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا،اور تمام واقعہ سنایا۔اتنے میں وہ لو گ پہنچ گئے،پہلے سلام کیا،اور پھر امیر المومنین رضی ا ﷲ عنہ کے بارے میں پوچھا۔انہیں خلیفہ¿ دوم رضی ا ﷲ عنہ کے بارے میں بتایا گیا ،تو انہوں نے کہا؛”یا امیرا لمومنین رضی اﷲ عنہ !ہماری آنکھیں آپ رضی ا ﷲ عنہ کے انتظار میں پتھرا گئیں،اور گردنیں بلند ہوتی ہوتی تھک گئیں۔بہت ممکن ہے کہ اﷲ تعالیٰ آپ رضی ا ﷲ عنہ کے دست مبارک پر ”بیت المقدس“فتح کرا دے۔“اِس کے بعد وہ دستہ تیزی سے پلٹا ،اور جابیہ پہنچ کر خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کی آمد کی خوش خبری دینے لگا۔یہ سنتے ہی مسلمانوں میں ہلچل مچ گئی۔(فتوحات شام)

سپہ سالاروں سے ملاقات

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے پہلے ہی خبر بھیج دی تھی کہ وہ مسلمانوں سے جابیہ میں ملاقات کریں گے۔اِسی لئے تمام سپہ سالار جابیہ میں حاضر ہو گئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اپنی روانگی کی اطلاع تمام سپہ سالاروں کو دے دی تھی کہ وہ جابیہ کے مقام پر آکر ملاقات کریں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے دن بھی مقرر کر دیا تھا،اور یہ بھی ہدایت کی تھی کہ تمام سپہ سالار اپنے جا نشین مقرر کر کے آئیں۔جب خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ مقام جابیہ پہنچے ،تو سب سے پہلے حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ نے ملاقات کی۔پھر حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ آئے،پھر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ آئے۔یہ سب سپہ سالار گھوڑوں پر سوار اور ایسے لباس میں ملبوس تھے،جو ملک عرب میں قیمتی سمجھا جاتا تھا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے انہیں ڈانٹا ،اور فرمایا ؛”کتنی جلدی تم لوگوں نے اپنا طریقہ بدل دیا،اور تم اِس لباس میں میرا استقبال کر رہے ہو۔تم دو سال میں ہی شکم سیر ہو گئے ،اور اپنے آپے سے باہر ہو گئے۔“خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کو بتایا گیا کہ یہاں یہ لباس اُسی قیمت میں ملتا ہے،جس قیمت میں ہمارے یہاں عام چادریں وغیرہ ملتی ہیں۔اور ہم اِن قباو¿ں کے نیچے ہتھیار وں سے مسلح ہیں۔یہ سن کر آپ رضی ا ﷲعنہ نے فرمایا؛تب پھر ٹھیک ہے۔“اور پھر جابیہ میں داخل ہوئے۔اُس وقت حضرت عمرو بن عاص اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہم نہیں آسکے،کیونکہ وہ اجنادین میں تھے۔

حضرت بلال رضی اﷲ عنہ کی اذان

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے تمام سپہ سالاروں اور وہاں موجود مجاہدین سے خطاب کیا۔اِس کے بعد حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے رومیوں سے جنگ کے حالات بیان کرنا شروع کئے۔امیر المومنین رضی اﷲ عنہ اُس وقت متحیر اور خاموش تھے،کبھی رونے لگتے تھے،اور کبھی سکوت میں آجاتے تھے۔یہاں تک کہ ظہر کا وقت ہو گیا۔لوگوں نے عرض کیا؛”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !حضرت بلال رضی اﷲ عنہ کو حکم فرمائیں کہ آج وہ اذان دیں۔حضرت بلال رضی اﷲ عنہ اُن دنوں ملک شام کے شہروں میں مقیم تھے،اور جس وقت آپ رضی اﷲ عنہ نے سنا کہ مسلمانوں نے بیت المقدس کا محاصرہ کیا ہے۔تو حضرت بلال رضی اﷲ عنہ بھی آکر اسلامی لشکر میں شامل ہو گئے۔اور جب یہ معلوم ہوا کہ امیر المومنین حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ تشریف لا رہے ہیں،تو آپ رضی اﷲ عنہ بھی حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے ساتھ استقبال کے لئے جابیہ پہنچ گئے۔اور حضرت بلا ل رضی اﷲ عنہ کی تمام لو گوں میں اتنی قدر و منزلت تھی کہ خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بھی آپ رضی اﷲ عنہ کی اتنی قدر اور تعظیم کرتے تھے کہ خلافت کے کام چھوڑ کر استقبال کے لئے دوڑ پڑتے تھے۔اور ہمیشہ ”یا سیدی،یا سیدی“(اے میرے سردار،اے میرے سردار)فرماتے تھے۔لوگوں کی درخواست خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ نے حضرت بلال رضی اﷲ عنہ تک پہنچائی تو وہ انکار نہیں کر سکے۔جب حضرت بلال رضی ا ﷲ عنہ نے بلند آواز سے ”اﷲ اکبر“فرمایا ،تو مسلمانوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے،بدن کانپنے لگے،اور جسموں پر کپکپی آگئی۔جب انہوں نے ”اشھد ان لا الہ الا اﷲ،اور اشھد ان محمد الرسول اﷲ “فرمایا ،تو سب مسلمان بے تحاشا رونے لگے،اور اِس قدر روئے کہ قریب تھا کہ ”ذکر اﷲ “اور ”ذکر رسول صلی ا ﷲ علیہ وسلم “سے اُن کے دل پھٹ نہ جائیں۔حضرت بلال رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کا یہ درد اور رونا دیکھ کر چاہا کہ اذان موقوف کر دیں۔مگر آپ رضی اﷲ عنہ نے پھر پوری ہی کر دی،حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے نماز پڑھائی۔(فتوحات ِ شام) 

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کا لباس

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اِس کے بعد بیت المقدس جانے کے لئے اونٹ پر سوار ہونے لگے،تو مسلمانوں نے آپ رضی ا ﷲ عنہ کو روک لیا۔اُس وقت آپ رضی ا ﷲ عنہ کے جسم پر بالوں سے بنا ہوا ایک خرقہ(گڈری،دلق) تھا،جس میں چودہ پیوند لگے ہوئے تھے ،جن میں سے بعض چمڑے کے پیوند تھے۔مسلمانوں نے عرض کیا ؛”یا امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !اگر آپ رضی اﷲ عنہ اونٹ کے بجائے گھوڑے پر سوار ہو جائیں،اور اِن کپڑوں کو اُتار کر اچھا سفید لباس زیب تن فرما لیں۔اِس سے دشمنوں کے دلوں میں آپ رضی ا ﷲ عنہ کی ہیبت بیٹھ جائے گی۔مسلمانوں نے یہ گذارش اتنی عاجزی سے کی تھی کہ آپ رضی اﷲ عنہ انکار نہیں کر سکے،اور اپنے کپڑوں کو اُتار کر سفید کپڑے پہن لئے۔حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔جہاں تک کہ میرا خیال ہے وہ کپڑے ملک مصر کے تیار کئے ہوئے تھے،اور اُن کی قیمت پندرہ درہم تھی۔رومیوں کی تاتاری نسل کے گھوڑوں میں سے ایک گھوڑا آپ رضی اﷲ عنہ کو پیش کیا گیا۔خلیفہ¿ دوم رضی اﷲعنہ اُس پر سوار ہوئے،تو گھوڑے نے نہایت سبک رفتاری سے اُلیل کر کے چلنا شروع کر دیا۔اُس کی سبک خرامی دیکھ کر آپ رضی اﷲ عنہ اُس پر سے اُتر گئے،اور فرمایا؛”اﷲ تعالیٰ قیامت میں تمہاری لغزشوں کو معاف فرمائے،اور میری اِس لغزش سے در گزر کرو،قریب تھا کہ تمہارا خلیفہ اِس عجب تکبر کی وجہ سے جو اِس کے دل میں اِس کی سواری کے دوران آگیا تھاہلاک ہو جاتا۔میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے سنا ہے،کہ”جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہو گا،وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔“مجھے تمہارے اِن سفید کپڑوں اور گھوڑے کی سواری نے ہلاکت کے قریب پہنچا دیا تھا۔“اِس کے بعد خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے وہ کپڑے اُتار دیئے،اور اپنے پہلے والے پیوند لگے کپڑے پہن لئے۔(فتو حات شام)

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ بیت المقدس میں

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے اپنا پُرانا لباس پہنا،اور اپنے اونٹ پر سوار ہوئے،اور بیت المقدس کی طرف تشریف لے چلے۔راستے میں ایک پہاڑی آئی ،آپ رضی اﷲ عنہ راستہ قطع کرنے کے لئے اُس پر چڑھے ،تو بیت المقدس دکھائی دیا۔اُسے دیکھ کر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اﷲ بہت بڑا ہے،اے اﷲ !ہمیں آسان فتح عطا فرما،اور اپنی طرف سے ہمارے لئے مدد دینے والاغلبہ عنایت کیجئے۔“اِس کے بعد آپ رضی ا ﷲ عنہ آگے چلے،اور اسلامی لشکر کے قریب پہنچے،تو مسلمانوں کے قبائل اور علم بردار حضرات نے آپ رضی اﷲ عنہ کا استقبال کیا۔آپ رضی اﷲ عنہ کے لئے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے خیمے کے قریب ہی بالوں کا بنا ہوا خیمہ نصب کیا گیا۔اِس میں آپ رضی اﷲ عنہ زمین پر ہی بیٹھ گئے، پھر اُٹھ کر چار رکعت نماز ادا فرمائی۔آپ رضی اﷲ عنہ کی آمد پر مجاہدین نے بلند آواز سے فلک بوس نعرہ¿ تکبیر لگا کر استقبال کیا۔جس کے پاس سے بھی آپ رضی اﷲ عنہ گذرتے ،وہ بلند آواز سے نعرہ¿ تکبیر کہتاتھا۔مجاہدین کے مسلسل نعرے پوپ نے بھی سنے،اُس نے کہا؛”عربوںکو کیا ہوا ہے کہ بغیر لڑائی کے اِس طرح نعرے بلند کر رہے ہیں۔“ایک شخص جو عربی جانتا تھا،شہر پناہ کی فصیل پر آیا ،اور پکارا؛”یا معشر العرب!کیا ہوا ؟ہمیں بھی بتاو¿۔“مسلمانوں نے جواب دیاکہ مدینہ منورہ سے ہمارے امیر المومنین رضی ا ﷲ عنہ تشریف لائے ہیں۔اور ہم اُن کی آمد کی خوشی میں اﷲ تعالیٰ کی بڑائی بیان کر رہے ہیں۔پوپ کو بتایا گیاتو وہ گردن نیچی کر کے زمین دیکھنے لگا۔(فتوحات ِ شام)

انجیل میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے اوصاف

اﷲ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اﷲ علیہ وسلم سے بے انتہا محبت کرتے ہیں،اور اپنی اِسی محبت کا اظہار اﷲ تعالیٰ نے اپنی تمام آسمانی کتابوں میں کیا ہے۔توریت ،زبور ،انجیل اور قرآن پاک میں جگہ جگہ اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کے اوصاف بیان فرمائے ہیں۔اور آپ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کے ذکر کے ساتھ ساتھ آپ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کی اُمت کا ذکر بھی کیا ہے ،اور اُن کے اوصاف بھی بیان فرمائے ہیں۔اور وقتاً فوقتاًچاروں خلفائے راشدین کے اوصاف بھی بیان فرمائے ہیں۔انجیل میں بیت المقدس کے ذکر میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے اوصاف خصوصی طور سے بیان فرمائے ہیں۔(بعد میں توریت،زبور،اور انجیل کے ماننے والوں نے اِن میں خرد بُرد اور ملاوٹ کردی،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت کے ذکر اور اوصاف کو مٹانے اور بدلنے کی کوشش کی ہے۔)انجیل میں صاف لکھا ہوا تھا کہ مسلمانوں کا جو خلیفہ بیت المقدس فتح کرے گا،اُس کی سواری کیسی ہو گی،اُس کا لبا س کیسا ہو گا،اُس کا حلیہ کیسا ہو گا۔اور بھی بہت سی نشانیاں اور اوصاف تھے،جو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی نشاندہی کرتے تھے۔

یہی بیت المقدس کا فاتح ہے

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ لگ بھگ عصر کے وقت مسلمانوں کے لشکر میں پہنچے تھے۔دوسرے دن صبح آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو نماز فجر پڑھائی،اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ سے فرمایا؛”اے عامر (حضرت ابو عبیدہ رضی ا ﷲ عنہ کا نام) بن جراح رضی اﷲ عنہ !تم رومیوں کے پاس جاو¿ ،اور میرے آنے کی اطلاع کر دو۔“حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی ا ﷲ عنہ شہر پناہ کے پاس آئے،اور بلند آواز سے پکارا؛”بیت المقدس کے باشندو!ہمارے خلیفہ امیر المومنین حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ آچکے ہیں،اپنے اسقف اعظم سے کہو کہ وہ ہم سے آکر ملے۔“لوگوں نے پوپ کو اطلاع دی۔وہ اپنے کنیسہ سے بالوں کا بنا ہوا لباس پہن کر نکلا۔لشکر کے سپہ سالار،پادری ،رہبان اور بشپ اُس کے ساتھ ہو لئے۔اور وہ صلیب جسے وہ اپنی عید کے سوا کبھی نہیں نکالتے تھے،نکال کر سامنے اُٹھائی ۔بیت المقدس کا حکمراں بھی ساتھ اُن کے ہمراہ ہوا،اور پوپ سے بولا؛”مقدس باپ!آپ مسلمانوں کے خلیفہ کے اوصاف سے اچھی طرح واقف ہیں،اور اُن کی علامات ِاصلیہ کو جانتے ہیں۔اگریہ وہی ہوئے تو ٹھیک ہے،ورنہ ہم یہ دروازہ نہیں کھولیں گے۔اور آپ ہمیں اور عربوں کو اپنی حالت پر چھوڑ دینا،یا تو وہ ہمیں مٹا دیں گے،یا ہم انہیں نیست ونابود کر دیں گے۔اُس نے کہا؛”میں ایسا ہی کروں گا۔“یہ کہہ کر پوپ فصیل پر آیا،رومی لشکر کے سپہ سالار اُس کے گرد کھڑے ہوئے،صلیب آگے کی،اور بولا؛”اے معزز سپہ سالار!کیا چاہتے ہو؟“حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”ہمارے خلیفہ امیر المومنین حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ،جن کے اوپر سوائے اﷲ اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے کوئی سردار نہیں ہے،یہاں تشریف لا چکے ہیں۔تم اُن کے پاس آکر امان ،صلح کا ،اور جزیہ کا عہد نامہ مرتب کرا لو۔“پوپ نے کہا؛”اے معزز مخاطب!اگر آپ کے خلیفہ جن پر کوئی سردار نہیں ہے،آچکے ہیں ،تو اُن سے ہمیں ملواو¿۔اگر وہ ہمارے وہی ساتھی ہوئے ،جن کا ذکر انجیل مقدس میں ہے،تو ہم اُن کے پاس آکر امان مانگ لیں گے۔اور اگر تم نے دھوکہ کیا تو تلوار ہمارے درمیان فیصلہ کرے گی۔“حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی ا ﷲ عنہ خلیفہ¿ دوم رضی ا ﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو ئے،اور پوپ کی بات عرض کی۔حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ اپنے اونٹ پر سوار ہوئے،اور اسلامی لشکر کے پڑاو¿ سے تنہا روانہ ہوئے۔مسلمان سپہ سالاروں نے تنہا جانے سے روکنے کی کوشش کی،لیکن آپ رضی ا ﷲ عنہ نے سختی سے منع فرما دیا۔خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ اسلامی لشکر کے پڑاو¿ سے نکل کر بیت المقدس شہر کی شہر پناہ کے قریب اِس حال میں آئے کہ آپ رضی اﷲ عنہ ایک پیوند لگی چادر لپیٹے ہوئے تھے،اونٹ پر سوار تھے،اور کوئی ہتھیار ساتھ نہیں تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ صرف حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ اپنے گھوڑے پر سوار آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ چل رہے تھے۔پوپ اور اُن کے ساتھی شہر پناہ کے اوپر سے میدان میں آپ رضی اﷲ عنہ کو آتے دیکھ رہے تھے۔جب آپ رضی اﷲ عنہ شہر پناہ کے بالکل قریب ہوئے،اور پوپ نے آپ رضی اﷲ عنہ کی شکل مبارک دیکھی،اور سواری اور لباس اور حلیہ دیکھا ،تو ہڑبڑا کر کھڑا ہو گیا،اور چیخ کر بولا؛”اﷲ کی قسم!یہ وہی مقدس شخص ہے،جس کے اوصاف اﷲ تعالیٰ نے انجیل ِمقدس میں بیان کئے ہیں۔یہی بیت المقدس کا فاتح ہے۔“

بیت المقدس کی فتح

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو دیکھتے ہی پوپ نے پہچان لیا،اور جلدی سے اُٹھ کر کھڑا ہو گیا،اور رومیوں سے کہا کہ یہی شخص بیت المقدس کا فاتح ہے۔پوپ نے آگے کہا؛”اﷲ کی قسم!یہ وہی شخص ہے، جس کی صفت و نعت اور علامات ہماری کتاب میں ہے۔اور یہی وہ شخص ہے ،جس کے ہاتھ سے ہمارا یہ شہر فتح ہوگا،اور یہ بالکل یقینی امر ہے۔“اِس کے بعد اہل بیت المقدس کے لوگوں طرف متوجہ ہوا،اور بولا؛”ارے کم بختو!دوڑو،اور اُس شخص کے پاس جاو¿،اور امان اور ذمہ کا عہد لے لو۔اﷲ کی قسم!محمد بن عبد اﷲ (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کاصحابی یہی شخص ہے۔“یہ سنتے ہی رومی جو پہلے ہی محاصرے سے عاجز آئے ہوئے تھے،آپ رضی اﷲ عنہ کی طرف دوڑے،دروازہ کھولا۔اور حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عہد و میثاق اور ذمہ کی درخواست کر کے جزیہ کا اقرار کر نے لگے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کی یہ حالت دیکھی ،تو اﷲتعالیٰ کی بارگاہ میں عجز و انکساری اختیار کر کے اونٹ کے پالان پر ہی سجدہ¿ شکر ادا کر کے اﷲ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا۔پھر سر اُٹھایا،اور اُن سے مخاطب ہو کر فرمایا؛”جیسا کہ تم نے درخواست کی ہے،اگر تم اُسی پر جمے رہے ،اور ادائے جزیہ برابر کرتے رہے ،تو تمہارے لئے ذمہ اور امان ہو گا،جاو¿ اب اپنے شہر میں لوٹ جاو¿ ۔“رومیوں نے شہر کے تمام دروازے کھول دیئے،اور اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں