18 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
قسط نمبر 18
خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کی شان میں گستاخی، حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا مشورہ، امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا جواب، حضرت عُمر فاروق گورنروں پر بہت سخت تھے، حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا خطبہ، مروان بن حکم کی دھمکی،
خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کی شان میں گستاخی
علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : ” اِس دوران پوری مملکت اسلامیہ میں بد بخت منافق عبد اﷲ بن سبا کے مقلدین منتشر ہو گئے اور چاروں طرف امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے خلاف علانیہ طعن و تشنیع کا بازار گرم ہو گیا ۔روز آنہ اس کی خبریں مدینہ¿ منورہ میں پہنچنے لگیں ۔مدینہ¿ منورہ میں بھی سرگوشیاں شروع ہو گئیں ۔امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور اُن کے گورنروں کے خلاف زبان ِ طعن و تشنیع دراز ہو گئی ۔صحابہ¿ کرام میں سے حضرت زید بن ثابت ،حضرت ابو اسید ساعدی ،حضرت کعب بن مالک اور حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ عنہم لوگوں کو طعن و تشنیع کرنے سے روکتے تھے لیکن کوئی فائدہ نہیں تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : اِس کے بعد بہت سے لوگ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچ گئے اور انہوں نے اُن کو اِس قدر برا بھلا کہا کہ اِس سے زیادہ کسی کو برا بھلا نہیں کہا جاسکتا تھا ۔صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم زیادہ تر کنارہ کشی اختیار کئے ہوئے تھے ۔صرف حضرت زید بن ثابت ،حضرت ابو اُسید ساعدی ،حضرت کعب بن مالک اور حضرت حسان بن ثابت ( یہ سب انصاری ہیں ) حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی حمایت کرتے تھے ۔بہت سے لوگ اکٹھے ہو کر حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے اور درخواست کی کہ وہ اِس معاملے میں امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے بات کریں ۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا مشورہ
لوگوں نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ سے درخواست کی کہ مملکت اسلامیہ میں جو امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کے خلاف بد نظمی پھیل رہی ہے اِس کے بارے میں امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کو مناسب مشورہ دیں تاکہ یہ بد نظمی ختم ہو ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور عرض کیا : ” اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! لوگ میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ۔انہوں نے مجھ سے آپ رضی اﷲ عنہ کے متعلق گفتگو کی ہے ۔ اﷲ کی قسم ! میں نہیں سمجھ پا رہا ہوں کہ آپ رضی اﷲ عنہ کو کیا مشورہ دوں ؟ جو بات ( اِِِِِِس مسئلے کے بارے میں ) میں جانتا ہوں اُسے آپ رضی اﷲ عنہ بھی جانتے ہیں ۔جس بات کو میں بتانا چاہتا ہوں اُسے آپ رضی اﷲ عنہ بخوبی جانتے ہیں ۔ہمیں آپ رضی اﷲ عنہ سے پہلے کوئی ایسی بات نہیں معلوم ہے جس سے ہم آپ رضی اﷲ عنہ کو ناواقف سمجھیں اور نہ ہی کوئی ایسی چیز ہمیں ایسی معلوم ہوئی جو آپ رضی اﷲ عنہ کو معلوم نہ ہو ۔ آ پ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زیارت کی اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوئے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کی احادیث کو سنا ہے اور آپ رضی اﷲ عنہ کو ( دو مرتبہ) اُن کا داماد ببنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے ۔خلیفہ¿ اوّل حضرت ابوبکر صدیق اور خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق کے مقابلے میں آپ رضی اﷲ عنہ ازروئے قربت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے زیادہ قریب ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ کو جو ( دو مرتبہ داماد بننا) نصیب ہوا ہے وہ اُن دونوں کو نہیں حاصل ہے ۔اﷲ کے واسطے ! آ پ رضی اﷲ عنہ اپنے معاملے پر غور کریں ۔اﷲ کی قسم ! آپ رضی اﷲ عنہ بے بصیرت نہیں ہیں اور کم سمجھ اور نادان بھی نہیں ہیں ۔راستہ بالکل کھلا اور صاف ہے اور دین و مذہب کی نشانیاں اور شعائر قائم ہیں ۔ اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! آپ رضی اﷲ عنہ کو معلوم ہی ہے کہ اﷲ کے بندوںمیں عدل و انصاف کرنے والا وہ حاکم افضل ہے جو خود ہدایت یافتہ ہو اور دوسروں کی رہنمائی بھی کرے ۔وہ جانی پہچانی ہوئی سنت نبوی کو قائم کرتا ہے اور متروک العمل بدعت کا خاتمہ کرتا ہے ۔اﷲ کی قسم ! یہ دونوں چیزیں ( سنت اور بدعت ) بالکل واضح ہیں ۔سنت نبوی کی کھلی ہوئی نشانیاں ہیں اور وہ قائم ہو چکی ہیں اِسی طرح بدعت کے نشانات بھی واضح ہیں ۔یہ حقیقت ہے کہ اﷲ کے نزدیک بد ترین انسان وہ ظالم حاکم ہے جو خود بھی گمراہ ہو اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے ۔وہ سنت نبوی کا خاتمہ کرے اور متروک العمل بدعات کو زندہ کرے ۔میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن ظالم حاکم کو ایسی حالت میں لایا جائے گا کہ نہ تو کوئی اُس کا مدد گار ہو گا اور نہ ہی کوئی معذرت کرنے والا ہو گا ۔اسے جہنم میں ڈالا جائے گا اور وہ جہنم میں اِس طرح گھومے گا جیسے چکی گھومتی ہے اور وہ جہنم کے بھنور میں تھپیڑے کھاتا رہے گا ۔میں آپ رضی اﷲ عنہ کو اﷲ تعالیٰ کی سطوت اور اور انتقام کا خوف یاد دلاتا ہوں کیونکہ اﷲ کا عذاب نہایت شدید اور درد ناک ہوتا ہے ۔میں آپ رضی اﷲ عنہ کو اِس بات سے ڈراتا ہوں کہ کہیں آپ رضی اﷲ عنہ اِس اُمت ِ اسلامیہ کے ایسے شہید حاکم نہ بن جائیں جس کی شہادت سے قیامت کے دن تک کے لئے قتل و غارت گری کا دروازہ نہ کھل جائے اور پھر واقعات و حوادث اِس طرح مشتبہ ہو جائیں کہ مسلمان فرقہ بندیوںمیں بٹ جائیں اور باطل کے غلبہ کی وجہ سے حق کو نہ دیکھ سکیں اور اِن باتوںمیں وہ اِس بری طرح ملوث ہو جائیں کہ اُن کو اِن سے الگ کرنا مشکل ہو جائے ۔“ ( در اصل خلیفہ¿ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور خلیفہ¿ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مملکت اسلامیہ میں اپنے کسی بھی رشتہ دار کو کوئی عہدہ نہیں دیتے تھے اور خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اپنے رشتہ داروں کومملکت اسلامیہ میں گورنر بناتے تھے ۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ اسی کی طرف اشارہ کر رہے تھے )
امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا جواب
حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا مشورہ سن کر خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اﷲ کی قسم ! مجھے معلوم ہے کہ وہ لوگ بھی وہی کہتے ہوں گے جو آپ رضی اﷲ عنہ نے کہا ہے ۔لیکن اگر آپ رضی اﷲ عنہ میرے مقام ( خلافت ) پر ہوتے تو میں آپ رضی اﷲ عنہ کو ملامت نہیں کرتا اور نہ ہی آپ رضی اﷲ عنہ کو چھوڑتا اور نہ ہی کسی بات پر آپ رضی اﷲ عنہ کو برا بھلا کہتا کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کیا یا کسی کی حاجت روائی کی ہے یا کسی بے کس کو پناہ دے دی ہے یا آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس شخص کو گورنر بنایا جو اُس شخص کے ہم پلہ اور مشابہ ہے جسے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ گورنر بنایا کرتے تھے ۔اے حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ !میں آپ رضی اﷲ عنہ کو اﷲ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا آپ رضی اﷲ عنہ کو اِس بات کا علم ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ گورنر نہیں تھے ؟“ حضرت علی المرتضیٰ رضی عنہ نے فرمایا : ” جی ہاں “ پھر حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” آپ رضی اﷲ عنہ کو معلوم ہے کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے انہیں گورنر مقرر کیا تھا ؟“ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” جی ہاں “ اِس پر حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” پھر آپ رضی اﷲ عنہ مجھے کیوں ملامت کرتے ہیں کہ میں عبد اﷲ بن عامر کو رشتہ داری کی وجہ سے گورنر بنایا ہے ؟
حضرت عُمر فاروق گورنروں پر بہت سخت تھے
حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے فرمایا : ” اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! میں آپ رضی اﷲ عنہ کو اِ س بات سے آ گاہ کرتا ہوں کہ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جس کسی کو گورنر بناتے تھے تو سختی سے یہ بات سمجھا دیتے تھے ”کہ اگر انہیں تمہارے خلاف ایک بات بھی معلوم ہوئی تو میں تم سے سختی سے پیش آؤں گا“ اور پھروہ اِس معاملے میں انتہائی حد تک پہنچ جاتے تھے ۔مگر آپ رضی اﷲ عنہ کمزور ہیں اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ نرمی اختیار کرتے ہیں۔“ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :” وہ آپ رضی اﷲ عنہ کے بھی رشتہ دار ہیں ۔“حضرت علی المرتضیٰ نے جواب دیا : ” بے شک وہ میرے بھی رشتہ دار ہیں مگر فضیلت دوسرے لوگوں کو حاصل ہے ۔“ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” کیا آپ رضی اﷲ عنہ کو معلوم ہے کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان کو گورنری پر بحال رکھا؟ پھر میں نے انہیں پورے ملک شام کا گورنر بنا دیا ۔“ حضرت علی المرتضیٰ نے فرمایا : ” اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! میں آپ رضی اﷲ عنہ کو اﷲ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا آپ رضی اﷲ عنہ کو معلوم ہے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق سے اتنا زیادہ خوف زدہ رہتے تھے کہ اُن کاغلام ”یرفا“ بھی اُن سے اتنا نہیں ڈرتا تھا ۔ “ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” جی ہاں ۔“حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ”اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! ( اب یہ حالت ہے کہ )حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ آپ رضی اﷲ عنہ کی اجازت کے بغیر تمام امور ِ سلطنت( حکومت کے کام ) انجام دیتے ہیں اور اُن کے بارے میں آپ رضی اﷲ عنہ کو علم ہی نہیں رہتا ہے اور وہ مسلمانوں سے یہی کہتے ہیں ” یہ امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا حکم ہے “ اور آپ رضی اﷲ عنہ کو اِ ن باتوں کی خبر ملتی رہتی ہے مگر آ پ رضی اﷲ عنہ ،حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو کوئی تنبیہ نہیں کرتے ہیں ۔“
حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا خطبہ
حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے جانے کے بعد امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ مسجد میں آئے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے اور خطبہ دیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ اُن کے پاس سے چلے گئے توحضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نکلے اور منبر پر بیٹھ کر یوں فرمایا : ” ہر چیز کے لئے کوئی مصیبت ہوتی ہے اور ہر کام میں کوئی نہ کوئی دشواری ہوتی ہے ۔اِسی لئے اِس اُمت اسلامیہ کے لئے ”باعث ِ مصیبت “ اور ”آفت “ وہ نکتہ چیں اور طعن و تشنیع کرنے والے لوگ ہیں ۔جو دیکھنے میں تمہیں بہت ہی اچھے معلوم ہو گے مگر اُن کی پوشیدہ باتیں تمہیں ناگوار معلوم ہو ں گی اور وہ تمہاری تکالیف پر خوش ہوں گے ۔وہ اُس کے پیچھے لگ جائیں گے جو زور سے چیخے اور چلائے گا ۔وہ گدلا پانی پیئں گے اور ہر گندے مقام پر پہنچیں گے ۔یہ وہ لوگ ہیں جو ہر کام میں ناکام ہو چکے ہیں اور تمام ذرائع معاش اُن کے لئے مسدود ہو چکے ہیں ۔دیکھو ! اﷲ کی قسم ! تم نے ایسی باتوں پر نکتہ چینی کی ہے جن کی تم خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے زمانے میں تائید کر چکے ہو ۔حالانکہ انہوں نے تمہیں اپنے پاو¿ں سے روندا تھا ،اپنے ہاتھوں سے مارا تھا اور اپنی زبان سے تمہاری خبر لی تھی ۔مگر تم طوعاً و کرہاً اُن کے مطیع و فرمانبردار رہے ۔اِس کے برخلاف میں تمہارے ساتھ نرم رہا ،تمہارے سامنے سر جھکا یا اور اپنے ہاتھ اور زبان کو تم سے روکا مگر تم مجھ پر دلیر ہوتے چلے گئے ۔دیکھو ! اﷲ کی قسم ! میرے حامیوں کی بہت بڑی تعدادموجود ہے جو عزت والے ہیں اور ہر وقت میری مدد کے لئے مستعد ہیں۔میں نے تمہارے مد مقابل کے لوگ تیار کر رکھے ہیں ۔تم نے مجھے مجبور کیا ہے کہ میں اپنے اخلاق و عادات کو تبدیل کروں اور اپنے لب و لہجہ میں تبدیلی کروں جسے میں اچھا نہیں سمجھتا تھا ہوں ۔تم اپنی زبانوں کو روکو اور اپنے حکام (گورنروں ) پر طعن و تشنیع اور عیب جوئی بند کرو کیونکہ میں نے اُن لوگوں کو روک رکھا ہے جو میری اِس گفتگو کے بغیر تم سے ایسا سلوک کریں گے جو تمہیں مطمئن کر دے گا ۔آگاہ ہو جاو¿ کہ تمہاری کوئی حق تلفی نہیں ہو گی ۔میں نے لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے ۔میں نے اپنا مال بخشش اور سخاوت میں صرف کر دیا ہے کیونکہ میں کس کام کا خلیفہ رہوں گا اگر میں نے مال کو لوگوں میں تقسیم نہیں کیا ۔“
مروان بن حکم کی دھمکی
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اتنا فرما کر خاموش ہو گئے تو مروان بن حکم اُٹھا ۔ یہ بھی حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا رشتہ دار تھا اور مدینہ¿ منورہ کا سارا انتظام اِسی کے ہاتھ میں تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری آگے لکھتے ہیں : اِس کے بعد مروان بن حکم اُٹھا اور کہنے لگا : ” اگر تم چاہو تو ہم تمہارے اور اپنے درمیان تلوار سے فیصلہ کرواسکتے ہیں ۔“ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اُسے ڈانٹا اور فرمایا : ” تم خاموش ہو جاو¿ ! تم مجھے اپنے ساتھیوں کے ساتھ چھوڑ دو ۔تُم یہ کیسی گفتگو کر رہے ہو ؟ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم نہ بولا کرو ۔“ اِس پر مروان بن حکم خاموش ہو گیا اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ منبر سے اُتر آئے ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں