18 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 18
بلاد شام کے رومیوں کی اطاعت، بیت المقدس کی طرف پیش قدمی، قیساریہ کی فتح، حضرت عمر و بن عاص رضی اﷲ عنہ کی پیش قدمی، خلیفۂ دوم رضی ا ﷲ عنہ کی ہدایات، فتح اجنادین، ایلیاہ(یروشلم،بیت المقدس) کا محاصرہ، اِس شہر کو فتح ”عُمر “نام والاشخص فتح کرے گا، رومیوں (عیسائیوں ) کی سب سے بڑے رہنما سے درخواست، بیت المقدس پر ہمارا حق زیادہ ہے، اسلام کی دعوت، بیت المقدس عُمر فاروق نام اورلقب والا فتح کرے گا، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کو بیت المقدس آنے کی دعوت، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے نام خطوط
بلاد شام کے رومیوں کی اطاعت
ملک شام کو چھوڑ کر ہرقل بلاد ِ روم بھاگ گیا تھا،اور قسطنطنیہ کو دارلحکومت بنا لیا تھا۔جس کی وجہ سے بلاد شام کے رومیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے تھے۔اِس کے علاوہ پورے بلادِ شام میں مسلمانوں کی اتنی دھاک بیٹھ گئی تھی کہ اب کوئی بھی رومی اُن سے لڑنا نہیں چاہتا تھا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔اِن واقعات سے مسلمانوں کی بہادری ،دلاوری،استقلال اور عزم کا لوگوں پر سکہ بیٹھ گیا۔جس طرف بھی کوئی مسلمان کمانڈر تھوڑی سی فوج لیکر نکل جاتا تھا،وہاں کے رومی(عیسائی) حکمراں خود ہی آکر صلح کر لیتے تھے۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے چاروں طرف اسلامی لشکر پھیلا دیا۔اور بغیر کسی جدال و قتال کے شرائط صلح پر اہل قورس نے صلح کر لی،تل غزار اور اُس کے قریب قریب جتنے بھی شہر تھے،وہ سب بہت آسانی سے مفتوح ہو گئے۔اور خون کا کوئی قطرہ نہیں گرا۔”منج“کو حضرت سلمان بن ربیعہ باہلی نے مصالحت سے فتح کیا۔حضرت عیاض نے اہل دلوک اور اہل ضیاب سے اہل منج کی شرائط پر صلح کر لی۔مگر ایک شرط کا اضافہ کر دیا کہ ”وقت ضرورت فوجی خدمات بھی انجام دینی پڑے گی۔“
بیت المقدس کی طرف پیش قدمی
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی ہدایت کے مطابق حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ جن جن شہروں کو فتح کرتے تھے،اُن پر اپنی طرف سے ایک عامل(حاکم)مقرر کر کے اُس کی حفاظت کے لئے ایک لشکر چھوڑتے جاتے تھے۔اور اُس کے سرحدی مقامات پر حفاظت کی غرض سے فوجی گارڈ متعین کرتے جاتے تھے۔رفتہ رفتہ ملک شام کے تمام شہر فتح ہوتے چلے گئے۔اور پھر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کو لیکر فلسطین پہنچ گئے۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے ایک لشکر دیکر حضرت میسرہ بن مسروق کو ”بغراس“کی طرف روانہ کیا۔یہاں کے قبائل بنو غسان،بنو تنوخ،اور بنو ایادمسلمانوں کی آمد کی خبر سن کر ہرقل کے پاس قسطنطنیہ جانے کی تیاری کر رہے تھے۔حضرت مسروق نے اچانک پہنچ کر حملہ کر دیا۔جنگ کے دوران ہی حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے مالک بن اشتر کو بھی ایک لشکر دیکر بھیج دیا۔بغراس میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی ۔اُدھر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ایک چھوٹا سا لشکر لیکر ”مرعش“پہنچے،اور چالاکی سے جنگ کرتے ہوئے فتح حاصل کی،اور شہریوں کی اِس شرط پر جاں بخشی کی کہ تمام عیسائی شہر چھوڑ کر چلے جائیں۔حضرت حبیب بن مسلمہ نے ”حصن حرث“کو اِسی شرط پر فتح کیا۔اِن تمام فتوحات کے بعد تمام اسلامی لشکر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے پاس آگئے۔اورایلیاہ ”بیت المقدس“کی طرف روانہ ہو گئے۔
قیساریہ کی فتح
مسلمان ہر طرف سے ملک شام میں فتح حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ کو ہرقل کے ملک شام چھوڑ کر بلاد روم کی طرف بھاگنے کی اطلاع ملی،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے دمشق میں حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لشکر بھیج کر مسلمانوں کی پیچھے سے مدد کریں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت یزید بن ابو سفیان کو تحریر فرمایا کہ لشکر بھیج کر مسلمانوں کی پشت مضبوط کریں،اور اپنے بھائی حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو قیساریہ کی طرف روانہ کریں۔اور حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ ”اﷲ کی حمد و ثناءکے بعد واضح ہو کہ میں نے تمہیں قیساریہ کا گورنر بنا دیا ہے۔تم وہاں جاو¿،اور اُن کے مقابلے میں اﷲ سے مدد مانگو،اور اِس دعا کا زیادہ ورد کرتے رہو۔(ترجمہ)اﷲ تعالیٰ ہی کے ذریعے قوت و اختیار حاصل ہوتا ہے۔اﷲ ہمارا پرور دگار ہے،ہمارے بھروسے اور اُمید کا مرکذ ہے۔وہی ہمارا آقا ہے۔اور کیا ہی اچھا مولا اور مدد گار ہے۔“حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر قیساریہ پہنچے،اور شہر کا محاصرہ کر لیا۔کئی دنوں تک مسلمانوں سے اہل قیساریہ کا مقابلہ چلتا رہا،آخر کار اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی ۔اِس جنگ میں بہت زیادہ رومی قتل ہوئے ،اور قید ہوئے۔حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی ا ﷲ عنہ نے قیدیوں کو اپنے پاس روکے رکھا۔اور فرمایا کہ میخائل جو سلوک ہمارے قیدیوں کے بارے میں کرے گا،وہی سلوک ہم اُن کے قیدیوں کے ساتھ کریں گے۔اِس طرح وہ مسلمان قیدیوں کو تکلیف دینے سے باز رہا،یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔فتح کی خوش خبری خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کو دی گئی،تو آپ رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا؛”تمہیں اﷲ کی حمد کرنی چاہیئے کہ اُس نے قیساریہ پر فتح عطا فرمائی۔“
حضرت عمر و بن عاص رضی اﷲ عنہ کی پیش قدمی
حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ ملک شام کے صوبہ فلسطین (اُس وقت فلسطین،اردن اور لبنان ملک شام کے صوبے تھے،بعد میں انہیں الگ الگ ملکوں کی حیثیت دے دی گئی)میں آگے بڑھ رہے تھے۔یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ہر مسلمان سپہ سالارکی پیش قدمی ”بیت المقدس “کی طرف تھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت علقمہ رضی اﷲ عنہ ”غزہ“یا ”غازہ“کی طرف متوجہ تھے،اور حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ قیساریہ کی طرف روانہ ہوئے تو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ اپنا لشکر لیکر ارطبون کی طرف روانہ ہوئے۔اُن کے ہر اول(مقدمة الجیش)لشکر پر حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ سپہ سالار تھے۔انہوں نے اردن کے انتظام کے لئے حضرت ابو الاعور کو اپنا نائب بنادیا تھا۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے لشکر کے میمنہ (دائیں بازو)پر اُن کے بیٹے حضرت عبد اﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سپہ سالار تھے۔اور میسرہ (بائیں بازو)پر حضرت قبادہ بن تمیم مالکی سپہ سالار تھے۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے اِس ارادے سے کوچ کیا تھا کہ ”اجنادین“کے مقام پر رومیوں کے خلاف صف آرائی کریں گے۔رومی لشکر اپنے قلعوں اور خندقوں میں بند تھے،اور اُن کا سپہ سالار ارطبون تھا۔جو رومیوں کا بہت بڑا سیاست داں اور چالاک سپہ سالار تھا۔اُس نے ”رملہ“کے مقام پر بہت بڑا لشکر جمع کر رکھا تھا،اور اِس کے علاوہ ”ایلیاہ“(بیت المقدس،یروشلم)کے مقام پر بھی اُس کا ایک لشکرجر ّار موجود تھا۔
خلیفۂ دوم رضی ا ﷲ عنہ کی ہدایات
حضرت عمرو بن عاس رضی اﷲ عنہ نے رومیوں کے یہ انتظامات دیکھے ،تو خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کو تمام حالات لکھ بھیجے ۔اور آگے کے لئے ہدایات مانگیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کو تمام اطلاعات لکھ بھیجیں۔جب خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی عنہ کے پاس یہ خط پہنچا ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”ہم نے روم کے ارطبون کاعرب کے ارطبون سے مقابلہ کرایا ہے،دیکھو کیا نتیجہ نکلتا ہے؟“حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ ملک شام کے ہر سپہ سالار کے لئے فوجی امداد بھیجا کرتے تھے۔اِسی لئے جب انہیں یہ خط پہنچا کہ رومی لشکر مختلف مقامات پر پہنچا ہوا ہے ،توانہوں نے حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو ایک لشکر دیکر قیساریہ بھیجیں۔تاکہ وہ حضرت عمرو بن عاص رضی ا ﷲ عنہ کی پشت سے حفاظت کریں۔اور حضرت علقمہ بن حکیم فراسی اور حضرت مسروق عکی کو اہل ایلیاہ (بیت المقدس ،یروشلم)سے مقابلہ کرنے کے لئے بھیجا ،تاکہ وہ انہیں حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کی طرف آنے سے روکیں۔اور حضرت ابو ایوب مالکی کو ”رملہ “کی طرف روانہ کیا،جہاں رومیوں کے لشکر کا سپہ سالار تذارق تھا،اور انہیں اُس سے مقابلہ کرنا تھا۔
فتح اجنادین
حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے ”اجنادین“میں ارطبون کے لشکر کے سامنے پڑاو¿ ڈال دیا۔اور دونوں سپہ سالاروں نے ایک دوسرے سے بات چیت کی،اور ارطبون نے دھوکے سے آپ رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنا چاہا ۔لیکن حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سمجھ گئے،اور سیاسی چالاکی اور تدبر سے اپنے آپ کو بچا لیا۔دونوں لشکروں میں جنگ شروع ہوئی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جنگ شروع ہوئی ،اور اجنادین کے مقام پر شدید جنگ ہوئی ،جیسا کہ یرموک کی جنگ تھی۔اتنی گھمسان کی جنگ ہوئی کہ رومیوں کی لاشوں سے پورا میدان بھر گیا۔آخر کار ارطبون اپنے دستے کے ساتھ جان بچا کر بھاگا،اور ایلیاہ (بیت المقدس ،یروشلم)میں جاکر پناہ لی۔جبکہ حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ اجنادین میں ہی قیام پذیر رہے۔ارطبون جب ایلیاہ (بیت المقدس)پہنچا تووہاں پر موجود مسلمانوں کے لشکر نے اُسے راستہ دے دیا،یہاں تک کہ وہ ایلیاہ (بیت المقدس ،یروشلم)شہرمیں داخل ہو گیا۔اور شہر پناہ کے دروازے بند کر دیئے۔
ایلیاہ(یروشلم،بیت المقدس) کا محاصرہ
لگ بھگ پورا ملک شام فتح ہو چکا تھا،اور بلاد ِ شام سے سلطنت روم کا خاتمہ بالکل قریب تھا۔رومی جو عیسائی مذہب کے ماننے والے تھے،اُن کی اکثریت نے مسلمانوں کی بر تری تسلیم کر لی تھی۔بہت سے رومیوں نے اسلام قبول کر لیا تھا،اور انہیں مسلمانوں کے برابر کے حقوق مل رہے تھے۔جن رومیوں نے عیسائی مذہب پر رہنا پسند کیا تھا،وہ ذمیوں کی طرح رہ رہے تھے۔مسلمانوں کے تمام سپہ سالار فتوحات حاصل کرتے ہوئے ایلیاہ،یا یروشلم ،یا بیت المقدس پہنچ گئے تھے،اور اُس کا محاصرہ کر لیا تھا۔ایک طرف حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہم تھے۔تو دوسری طرف حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ تھے۔اسی طرح حضرت شرجیل بن حسنہ ،حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہم بھی” شہر پناہ “کے اطراف تھے۔”بیت المقدس“ مسلمانوں کا قبلہ ¿ اول ہے،اِس لئے ہر مسلمان چاہتا تھا کہ اِس مقدس شہر میں خون خرابہ نہ ہو۔اور یہ شہر صلح کی بنیاد پر فتح ہو جائے۔پورے ملک شام سے عیسائیوں کے بڑے بڑے علماءسمٹ کر” بیت المقدس“ میں آگئے تھے۔تمام مسلمان سپہ سالار اپنی طرف سے شہر والوں سے بات چیت میں لگے ہوئے تھے۔اور اِسی کوشش میں تھے کہ بغیر خون خرابے کے بیت المقدس فتح ہوجائے۔
اِس شہر کو فتح ”عُمر “نام والاشخص فتح کرے گا
بیت المقدس میں عیسائیوں کے بڑے بڑے علماءکے ساتھ ارطبون بھی پنا ہ گزین ہو گیا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ارطبون نے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو خط لکھا؛”آپ میرے دوست اور میرے مشابہ اور ہم پلہ ہیں۔آپ کی فوج میں وہی حیثیت ہے،جو میری ہے۔اﷲ کی قسم!آپ اجنادین کے بعد فلسطین کا کوئی حصہ بھی فتح نہیں کر سکیں گے۔آپ لوٹ جائیں،اور کسی قسم کا گھمنڈ نہ کریں۔ورنہ آپ کا بھی وہی حشر ہوگا،جو آپ سے پہلے آنے والوں کا ہوا تھا،اور وہ شکست کھا کر گئے تھے۔“حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے ایک ایسے آدمی کو بلایا،جو رومی اور عربی دونوں زبان جانتا تھا۔اُسے خط دیکر ارطبون کے پاس بھیجا ،اور فرمایا؛”تم انجان اور ناواقف بنے رہنا،اور وہ جو کہے اُسے غور سے سننا،اور اس کے بعد آ کر مجھے ساری بات بتانا۔“اس کے بعد انہوں نے ارطبون کو لکھا۔”آپ کا خط موصول ہوا،آپ اپنی قوم میں میرے ہم پلہ اور نظیر ہیں۔آپ جان بوجھ کر میری فضیلت سے ناواقف بنے ہوئے ہیں۔ورنہ آپ کو بخوبی معلوم ہو جاتا کہ میں اِس ملک کا فاتح ہوں۔آپ فلاں تین وزراءکو بلایئے،اور اُن کے سامنے میرا خط پڑھ کر سنایئے۔اور وہ اور آپ اِس خط پر غور کریں۔“قاصدوہ خط لیکر ارطبون کے پاس پہنچا،تو اُس نے (عیسائی علماءکو جمع کر کے)وہ خط سنایا۔خط سن کر وہ لوگ ہنسنے لگے۔اُس نے تعجب سے اُن کے ہنسنے کی وجہ پوچھی،تو انہوں نے بتایا کہ اِس آدمی کا نام ”عمرو“ہے۔اور یہ چار حرف ہیں،جبکہ بیت المقدس کوتین حرف والا”عُمر“نام کا شخص فتح کرے گا۔
رومیوں(عیسائیوں ) کی سب سے بڑے رہنما سے درخواست
حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے بیت المقدس کا چار مہینے تک محاصرہ جاری رکھا۔روزآنہ بلا ناغہ سخت جنگ ہوتی تھی،مسلمان سردی،برف باری،اور بارش پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ صبر کرتے تھے۔بیت المقدس کی عوام نے جب مسلمانوں کا سخت محاصرہ دیکھا ،اور اُن مصیبتوں کو جو اُن پر مسلمانوں کی طرف سے پہنچ رہی تھی اندازہ کیا۔تو پھر یہ سب قمامہ کی طرف گئے،اور پوپ(عیسائیوں کا سب سے بڑا مذہبی رہنما)کی خدمت میں حاضر ہوکر پہلے تعظیمی سجدہ کیا۔پھر اُس سے کہا؛”مقدس باپ!اِن عربوں کا محاصرہ ہم پر دائمی ہو گیا ہے۔ہمیں اُمید تھی کہ بادشاہ(ہرقل) کی طرف سے ہمارے لئے کوئی کمک یا مدد آئے گی۔مگر وہ بھی اپنے لشکر کی ہزیمت کی وجہ سے خود اپنی جان بچانے کی فکر میں پڑ گیا ہے۔روزآنہ دونوں طرف سے جانی نقصان ہو رہا ہے،مگر یہ عرب کے باشندے ہم سے بھی زیادہ لڑائی کے خواہشمند معلوم ہوتے ہیں۔جس دن سے انہوں نے ہمارا محاصرہ کیا ہے،ہم نے محض حقارت کی وجہ سے اِن سے ابھی تک کوئی بات نہیں کی ہے۔مگر اب پانی سر سے گزرتاہوا نظر آ رہا ہے،ہم چاہتے ہیں کہ آپ اُن کے پاس چل کر اُن کا مطالبہ سنیں۔اور یہ عندیہ معلوم کریں کہ آخر وہ چاہتے کیا ہیں؟اگر اُن کا مطالبہ معمولی اور ماننے کے قابل ہے،تو اُن کی خواہش کے مطابق ہم اسے پورا کر دیں گے۔اور اگر کٹھن اور دشوار یاعزت کے منافی ہو تو پھر ہم دروازہ کھول کر ایک فیصلہ کن جنگ کریں گے،یا انہیں مار دیں گے یا خود کٹ مریں گے۔پوپ نے اُن کی بات منظو کر لی،اور اپنا مقتدانہ لباس پہن کر شہر پناہ کی طرف چلا۔صلیب اُس نے آگے آگے رکھی،اور راہبوں اور پادریوں نے بخورات کی انگیٹھیاں اور کھلی ہوئی انجیلیں لے لے کر اُسے اپنے حلقے میں لے لیا۔اور یہ سب لوگ شہر پناہ کی دیوار پر اُس جگہ آیا،جس کے نیچے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ تشریف فرما تھے۔ایک شخص نے عربی زبان میں کہا؛”یا معشر العرب!نصاریٰ دین کا سب سے بڑا عالم شریعت ِ مقدسہ عیسوی کا اسقف اعظم اور صاحب ِ شریعت تمہارے پاس آیا ہے،تاکہ تم سے گفتگو کرے۔لہٰذا مناسب ہے کہ تمہارا سردار ہمارے پاس آئے۔“(فتوحات ِ شام)
بیت المقدس پر ہمارا حق زیادہ ہے
حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو اِس کی اطلاع دی گئی،اور وہ الفاظ دہرائے گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اﷲ کی قسم !میں بھی اُسے اُسی طرح سے جواب دوں گاجس طریقے اور حیثیت سے اُس نے مجھے بلایاہے۔یہ فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ کھڑے ہوئے،اور کئی صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کو ساتھ لیا،اور ترجمان کو لیکر اسقف اعظم(پوپ) کے سامنے پہنچ گئے۔ترجمان نے کہا؛”یہ ملک عرب کے سردار ہیں،جو کچھ کہنا چاہتے ہو کہو۔“پوپ نے ترجمان کے ذریعے کہا؛”آپ حضرات ہم ارض ِ مقدس کے باشندوں سے کیا چاہتے ہیں؟یاد رکھو !یہ شہر نہایت مقدس ہے،جو بُری نیت سے اِسکی طرف آنکھ اُٹھائے گا،اور اسے فتح کرنے کا قصد کرے گا۔تو سمجھ لو کہ اﷲ تعالیٰ کا غضب بہت جلد اُس پر نازل ہونے والا ہے،اور عنقریب وہ ہلاک ہو جائے گا۔“حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”ہاں!بے شک یہ شہر واقعی بزر گ اور مقدس شہر ہے،اور ہم اِس کی بزرگی اور شرافت سے واقف ہیں۔اِسی شہر سے ہمارے آقا و مو لا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے پروردگار کے پاس آسمانوںمیں تشریف لے گئے تھے۔اور اپنے رب العزت سے دو گوشہ کمان کے برابر بلکہ اُس سے بھی زیادہ قریب ہو گئے تھے۔یہی شہر انبیاءعلیہم السلام کو معدن اور وصال ِ حق کے بعد اُن کا مسکن (قبور) رہا ہے۔اِس پر ہمارا حق تم سے زیادہ ہے،ہم اِس پر اُس وقت تک برابر محاصرہ جاری رکھیں گے،جب تک اﷲ تعالیٰ دوسرے شہروں کی طرح ہمیں اِس کا مالک نہ بنا دے۔“(فتوحات شام)
اسلام کی دعوت
حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کا جواب سن کر پوپ نے کہا؛”آخر تم چاہتے کیاہو؟“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تین باتوں میں سے ایک بات قبول کر لو۔پہلی بات یہ کہ اسلام قبول کرلو،اور کلمہ¿ توحید لا الٰہ الا اﷲ محمد الرسول اﷲکے قائل ہو جاﺅ۔اگر تم نے اسلام قبول کر لیا ،تو تم ہمارے برابر ہو جاو¿ گے،اورجو کچھ ہم پر فرض ہے،وہ تم پر بھی فرض ہو جائے گا۔“پوپ نے کہا؛”یہ کلمہ نہایت عظیم کلمہ ہے،ہم اِس کے پہلے سے ہی قائل ہیں،فرق صرف اتنا ہے کہ ہم تمہارے نبی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو رسول نہیں کہتے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے اﷲ کے دشمن!تو نے جھوٹ بولا ہے،جبکہ تُو وحدانیت کا شمہ برابر بھی قائل نہیں ہے۔ہمیں اﷲ تعالیٰ اپنی کتاب قرآن پاک میں یہ خبر دی ہے کہ تم لوگ(عیسائی)یہ کہتے ہو کہ حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام (نعوذ باﷲ)اﷲ کے بیٹے ہیں۔(ترجمہ)”اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے،وہ پاک ہے۔اور وہ اُس چیز سے ”وراءالورائ“ہے،جو یہ ظالم اُس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔“پوپ نے کہا؛”دوسری بات کیا ہے؟“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم اپنے شہر کے اوپر ہماری سیادت تسلیم کر لو،اور مصالحت کے بعد ہمارے ما تحت ہو کر ہمیں ملک شام کے دوسرے شہروں کی طرح جزیہ ادا کرتے رہو۔پوپ نے کہا؛”یہ پہلی بات سے زیادہ دشوار ہے،ہم کبھی قیامت تک بھی ذلت و حقارت کی زندگی بسر نہیں کر سکتے ہیں۔“حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”پھر تیسری بات تلوار ہے،ہم اُس وقت تک اسے میان میں نہیں ڈالیںگے،جب تک کہ اﷲ تعالیٰ ہمیں تمہارے اوپر فتح نہ عطا فرما دے۔یاد رکھو!فتح حاصل کرنے کے بعد ہم تمہاری اولاد کو غلام اور تمہاری بیویوںکو باندیاں بنائیں گے۔اور جو شخص کلمہ¿ توحید کی مخالفت کرکے کفر پر قائم رہے گا،اُسے ہم قتل کر دیں گے۔“
بیت المقدس عُمر فاروق نام اورلقب والا فتح کرے گا
حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے تین باتیں پوپ کے سامنے رکھ دی تھیں۔تیسری بات کے جواب میں اُس نے کہا؛”جب تک ہمارے درمیان ہمارا ایک بھی شخص زندہ رہے گا،اُس وقت تک ہم کبھی اِس شہر کو تمہارے حوالے نہیں کریں گے۔اور کس طرح کر دیں؟جبکہ ہمارے پاس جنگ کا تمام ذخیرہ ،آلات ِ حرب، سامان حصار،بہترین اسلحہ،اور سخت جنگ کرنے والی فوج موجود ہے،جن سے آج تک تمہاری مڈ بھیڑ نہیں ہوئی ہے۔اور جن لوگوں نے تمہاری اطاعت میں داخل ہو کر جزیہ دینا قبول کیا ہے،ہم ویسے نہیں ہیں۔اُن پر تو مسیح کا غضب نازل ہوا ہے،اور ہم تو ایک ایسے شہر میں آباد ہیں،کہ جس وقت مسح علیہ السلام سے کوئی دعا کرتے ہیں،تو وہ فوراًاجابت تک جا پہنچتی ہے۔اور مسیح علیہ السلام اُس کو فوراً قبول کر لیتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے اﷲ کے دشمن!اﷲ کی قسم!تُو نے جھوٹ کہا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے؛ترجمہ”مسیح بن مریم علیہ السلام محض اﷲ کے رسول ہیں،جیسے کہ اُن سے پہلے کئی رسول گزر چکے ہیں۔اور اُن کی والدہ صدیقہ تھیں،یہ دونوں ماں بیٹے کھانا کھایا کرتے تھے۔“اور اﷲ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے؛ترجمہ”انہیں اﷲ نے مٹی سے پیدا کیا ہے،پھر اُس مٹی کو فرمایا کہ ہو جا،تو وہ ہو گئی۔“پوپ نے کہا؛”میں مسیح علیہ السلام کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر تم بیس سال بھی ہمارا محاصرہ کئے پڑے رہو گے۔تب بھی ہمارے اِس شہر کو فتح نہیں کر سکو گے ،اِسے صرف ایک ہی شخص فتح کر سکتا ہے۔جس کی علامات اور صفات ہماری کتابوں میں لکھی ہوئیں ہیں،اور میں وہ صفات اور علامات تمہاے اندر نہیں دیکھ رہا ہوں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”وہ صفات اور علامات کیا ہیں؟جو اِس شہر کے فاتح کے اندر ہو ں گی۔“پوپ نے کہا؛”وہ صفات تو میں تم سے بیان نہیں کر سکتا،ہاں!اتنا بتا دیتا ہوں کہ ہم نے اپنی کتاب میں کو کچھ دیکھا اور پڑھا ہے۔اُس کا لب لباب یہ ہے کہ اِس شہر کا فاتح محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم) کا ایک صحابی ہے،جس کا نام عُمر ہے،اور لقب فاروق ہے۔وہ مردِ خدانہایت سخت اور اﷲ کے کاموں میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے بالکل نڈر اور بے باک ہو گا۔اور یہ تمام صفات میں تمہارے اندر نہیں دیکھ رہا ہوں۔“(فتوحات شام)
خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کو بیت المقدس آنے کی دعوت
حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے جب پوپ کی یہ بات سنی،تو آپ رضی اﷲ عنہ ہنس پڑے،اور فرمایا؛”ربِّ کعبہ کی قسم!ہم نے اِس شہر کو فتح کر لیا ۔“اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ پوپ کی طرف متوجہ ہوئے ،اور فرمایا؛”کیا تُو اُس شخص کو دیکھ کر پہچان لے گا؟“اُس نے کہا؛”ہاں کیوں نہیں!جبکہ اُس کی تمام صفات ،حتیٰ کہ اُس کا حسب نسب اُس کی عُمر کے سال اور دن تک ہماری کتاب میں لکھے ہوئے موجود ہیں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اﷲ کی قسم!وہی شخص اِس وقت ہمارا خلیفہ ہے،اور ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا صحابی ہے۔“اُس نے کہا؛”اگر ایسا ہے،تو پھر ہمیں تمہارے قول کی صداقت معلوم ہو گئی ہے۔اِس خون ریزی کو ختم کرو،اور اپنے خلیفہ کے پاس خبر بھیج دو کہ وہ یہاں بہ نفس نفیس تشریف لے آئیں۔جس وقت ہم انہیں دیکھ لیں گے،اور اُن کی تمام صفات اور علامات پہچان لیں گے،اور اُن کے حلیہ سے یہ بات پایہ تصدیق کو پہنچ جائے گی،تو ہم خود بخود شہر کے دروازے کھول دیں گے،اور بلا چوں چرا کئے جزیہ دینے لگیں گے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”ٹھیک ہے!میں ہمارے خلیفہ کی خدمت میں عرضداشت بھیج کر درخواست کرتا ہوں،مگر جب تک وہ تشریف لائیں،تب تک تم جنگ کرنا چاہتے ہو،یا جنگ بندی کرنا چاہتے ہو؟“پوپ نے کہا؛”یا معشر العرب!ہم نے خون ریزی ختم کرنے کے لئے تم سے سچی بات کہہ دی ہے،اب تمہارے فیصلے کے منتظر ہیں۔“یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔اور پوپ واپس چلا گیا۔(فتوحات شام)
خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے نام خطوط
حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے ارطبون کے اپنا قاصد بھیجا تھا،اِس کا ذکر ہم اوپر کر چکے ہیں۔ارطبون اور عیسائی مذہبی رہنماو¿ں نے آپس میں جو بات کی تھی،وہ آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس آکر قاصدنے تفصیل سے بتا دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔قاصد نے آکر پوراوقعہ سنایا،تو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سمجھ گئے کہ وہ ”عُمر“حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ ہیں۔انہوں نے خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کو خط لکھا۔”میں بہت سخت جنگ لڑ رہا ہوں،تاہم میں نے ملک کو آپ رضی اﷲ عنہ کے لئے تیار کر دیا ہے،آگے جیسی آپ رضی اﷲ عنہ کی رائے ہو۔“علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں۔جب حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ دمشق سے فارغ ہو گئے،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے ایلیاہ(بیت المقدس) والوں کو خط لکھا ،اور اسلامی کی دعوت دی۔اور آگے لکھا کہ اگر انہیں اسلام قبول کرنا منظور نہیں ہے ،تو وہ جزیہ دیں یا جنگ کے لئے تیار ہو جائیں۔انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کی دعوت کو رد کر دیا۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے دمشق پر حضرت سعید بن زید رضی اﷲ عنہ کو قائم مقام مقرر کیا۔اور لشکر لیکر بیت المقدس آئے،اور محاصرہ کر لیا۔کئی دنوں کے محاصرے کے بعد جب آپ رضی اﷲ عنہ نے سختی کی تو بیت المقدس کے بڑے بڑے عیسائی علماءنے اِس شرط پر صلح کرنا قبول کیا ،کہ امیر المومنین حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر صلح کریں گے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں