17 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
قسط نمبر 17
مالک اشتر کی شر انگیزی، خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کا اپنے گورنروں سے مشورہ، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کوفہ کے گورنر، بد بخت منافق کی پوری مملکت اسلامیہ میں فتنہ انگیزی،
مالک اشتر کی شر انگیزی
وہ نو یا دس لوگ جنہیں سعید بن عاص نے ملک شام حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے پاس بھیجا تھا اور اُس گروہ نے اُن کے ساتھ بد تمیزی کی تو انہیں ملک شام سے نکال دیا گیا تو وہ الجزیرہ چلے گئے تھے ۔وہ لوگ یزید بن قیس کا خط پاکر کوفہ روانہ ہوئے لیکن مالک اشتر اُن سے پہلے کوفہ پہنچ گیا ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اشتر اپنے ساتھیوں کے ساتھ حمص سے کوفہ روانہ ہوا اور کوفہ کے قریب پہنچ کر اپنے ساتھیوں سے الگ ہو گیا اور اُن سے پہلے کوفہ میں داخل ہو کر جمعہ کے دن مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا : ” اے لوگو ! میں تمہارے امیر المومنین حضرت عثمان (غنی رضی اﷲ عنہ )کے پاس سے آیا ہوں اور میں نے سعید بن عاص کو اِس حالت میں چھوڑا تھا کہ وہ خواتین کے سو درہم کم کرانے کی کوشش کر رہا تھا اور وہ یہ تجویز بھی پیش کر رہا تھا کہ بہادر سپاہیوں کا وظیفہ صرف دو ہزار رکھا جائے اور سعید بن عاص یہ بھی کہتا ہے کہ تمہارا مال غنیمت قریش کا باغ ہے ۔میں ایک منزل تک اُس کے ساتھ چلا وہ اِسی قسم کی دھمکی آمیز باتیں کرتا رہا ہے ۔“ حاضرین مجلس مالک اشتر کے اِس فعل سے برہم ہو گئے ۔مسجد میں جو ذی ہوش اور صائب الرائے تھے انہوں نے اشتر کو روکنے کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔یزید بن قیس نے مسجد سے باہر نکل کر آواز لگائی: ” جس کا جی چاہے سعید بن عاص کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کے لئے یزید بن قیس کا ساتھ دے ۔“ اِس آواز کو سن کر عوام الناس کا ایک گروہ یزید بن قیس کے ساتھ ہو گیا ۔سرداران کوفہ اور اہل الرائے نے ہر چند سمجھایا ۔وعظ و نصیحت کی لیکن اُن میں سے ایک نے بھی سماعت نہیں کی بلکہ سب کے سب یزید بن قیس کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے ۔سعید بن عاص اُس وقت مدینہ¿ منورہ گئے ہوئے تھے اور اُن کے نائب عمرو بن حارث منبر پر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو واپس آنے اور اپنے امیر کی اطاعت کرنے کی ہدایت کی ۔حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” تم سیلاب کو جوش کی حالت میں روکنا چاہتے ہو ،صبر کرو ،یہ لوگ فساد کئے بغیر نہیں رُکیں گے ۔“ عمرو بن حارث یہ سن کر اُتر آئے اور اِسی دوران مسجد خالی ہوگئی اور صرف شرفا اور رو¿سائے کوفہ ہی عمرو بن حارث کے پاس رہ گئے تھے ۔
خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کا اپنے گورنروں سے مشورہ
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور اُن کے گورنروں کے خلاف خفیہ طور پر بد بخت منافق عبد اﷲ بن سبا عام مسلمانوں کو بھڑکا رہا تھا اور منافقین کا پورا ایک نیٹ ورک چلا رہا تھااور بھولے بھالے مسلمان اِن منافقین کے بہکاو¿ے میں آرہے تھے ۔امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو عوام کی اِس بد نظمی کی خبر مل رہی تھی اِسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے تمام بڑے گورنروں کو مشورے کے لئے مدینۂ منورہ بلایا ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال 34 ہجری میں خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے منحرف لوگوں نے آپس میں خط و کتابت کی جن کی اکثریت کوفہ سے تعلق رکھتی تھی اور وہ حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی گورنری میں رہتے تھے اور کوفہ سے جلاوطن کئے گئے تھے ۔انہوں نے کوفہ کے گورنر سعید بن عاس کے خلاف محاز کھول دیا اور اُن کی عداوت پر متفق ہو گئے اور اُن کو اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی طرف اُن کے افعال کے متعالق اور انہوں نے جو بہت سے صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کو معزول کر کے بنو اُمیہ میں سے اپنے رشتہ داروں کی ایک جماعت کو گورنر مقرر کیا تھا ۔اِس کے متعلق مناظرہ کے لئے آدمی بھیجا اور آپ رضی اﷲ عنہ سے سخت کلامی کی اور آپ رضی اﷲ عنہ سے مطالبہ کیا کہ آپ رضی اﷲ عنہ اپنے گورنروں کو معزول کر دیں اور اُن کی جگہ دوسرے سابقین اور صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کو امام بنائیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ کو یہ بات بہت گراں گزری اور آپ رضی اﷲ عنہ نے گورنروں کو مشورہ کے لئے بلا بھیجا ۔ملک شام کے گورنر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ ، ملک مصرکے گورنر حضرت عمرو بن ابی العاص رضی اﷲ عنہ ،مغربی علاقے سے حضرت عبد اﷲ بن ابی سرح ،کوفہ کے گورنر سعید بن عاص ،بصرہ کے گورنر عبد اﷲ بن عامر وغیرہ آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن سے ہونے والے واقعات اور انتشار کے بارے مشورہ طلب کیا ۔حضرت عبد اﷲ بن عامر نے مشورہ دیا :”وہ شر کی جس روش کو اختیار کئے ہوئے ہیں آپ رضی اﷲ عنہ انہیں اِس سے غافل کر کے جنگ میں مشغول کر دیں ،پس ہر ایک کو اپنی جان کی پڑ جائے گی اور وہ اپنی سواری اور اپنے بالوں کی جوو¿ں میں ہی الجھا رہے گا ۔بے شک کمینے لوگ جب فارغ اور اور بے کار ہوں تو بے فائدہ باتوں میں مشغول ہو جاتے ہیں اور نامناسب باتیں کرتے ہیں اور جب پراگندہ ہو جائیں تو اپنے آپ کو اور دوسروں کو فائدہ دیتے ہیں ۔“ سعید بن عاص نے مشورہ دیا :” آپ مفسدین کی بیخ کنی کریں اور اُن کی جڑ کاٹ دیں ۔“ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے مشورہ دیا : ” آپ رضی اﷲ عنہ اپنے گورنروں کو اُن کے صوبوں میں واپس بھیج دیں اور اُن کی طرف التفات نہ کریں اور انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کے خلاف جو معاندانہ جنگی اتحاد کیا ہے اُس کے متعلق گذارش ہے کہ وہ بہت کم اور نہایت کمزور فوج کے حامل ہیں ۔“ عبد اﷲ بن ابی سرح نے مشورہ دیا :” مال سے اُن کی تالیف قلب کریں اور انہیں اتنا دیں جو اُن کے شر کو روک دے اور اُن کی ہلاکت سے امن دے اور اُن کے دلوں کو اپنی طرف مائل کر دے ۔“ حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے مشورہ دیا : ” اے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ ! آپ رضی اﷲ عنہ نے لوگوں کے لئے ایسے کام کئے ہیں جنہیں وہ پسند نہیں کرتے ہیں ۔یا تو آپ رضی اﷲ عنہ اُن کو معزول کر دیں جنہیں وہ پسند نہیں کرتے ہیں یا پھر آگے بڑھ کر اپنے گورنروں سے اُن کاموں میں جنگ کریں جو وہ کر رہے ہیں ۔“ اِس طرح انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے سخت کلامی کی اور پھر اکیلے میں آپ رضی اﷲ عنہ سے معذرت بھی کی کہ انہوں نے یہ بات اِس لئے کہی ہے کہ لوگوں میں سے جو لوگ وہاں موجود تھے وہ اُن تک یہ بات پہنچا دیں کہ وہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے اِس بات کی وجہ سے راضی ہو جائیں ۔اِس موقع پر امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اپنے گورنروں کو اُن کی جگہ قائم رکھا اور اُن لوگوں کی مال سے تالیف قلب کی اور حکم دیا کہ انہیں سرحدوں پر جنگ کرنے کے لئے بھیج دیا جائے ۔اور جب سب گورنر اپنے اپنے علاقے کی طرف واپس گئے تو اہل کوفہ نے سعید بن عاص کو کوفہ میں داخل ہونے سے روک دیا اور ہتھیار پہن لئے اور حلف اُٹھایا کہ جب تک حضرت سعید بن عاص کو معزول کر کے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو کوفہ کا گورنر نہیں بنایا جائے گا تب تک وہ انہیں کوفہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے اور وہ مقام ”جرعہ “ پر جمع ہوگئے ۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کوفہ کے گورنر
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے ملاقات کرنے کے بعد جب سعید بن عاص کوفہ واپس آئے تو راستے میں ” جرعہ “ کے مقام پر انہیں روک لیا گیا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : یزید بن قیس اپنے ساتھیوں کے ساتھ کوفہ سے روانہ ہو کرقادسیہ کے قریب مقام ”جرعہ “ میں سعید بن عاص کو روکنے کی غرض سے آٹھہرا۔سعید بن عاص وہاں پہنچے تو یزید بن قیس کے ساتھیوں نے کہا : ” (مدینۂ منورہ ) لوٹ جاؤ !ہم کو تمہاری ضرورت نہیں ہے ۔“ سعید بن عاص نے کہا : ” اِس سخت کلامی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اتنا ہی کافی ہے کہ تم لوگ میرے ساتھ اپنا ایک آدمی امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیج دیتے ۔“ سعید بن عاص کا ایک غلام بول پڑا : ”یہ ممکن نہیں ہے کہ سعید بن عاص (مدینۂ منورہ ) واپس جائیں ۔“ مالک اشتر نے اُس غلام کا پاؤں پکڑ کر اُسے اونٹ پر سے کھینچ کر نیچے گرا دیا اور ایک ہی وار میں اُسے قتل کر کے بولا : ” جاؤ !امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے کہوکہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو کوفہ کا گورنر بنا کر بھیجیں۔ “ سعید بن عاص واپس مدینۂ منورہ آئے اور امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کوکوفہ کا گورنر بنا کر بھیج دیا اور اہل کوفہ کو ایک خط لکھا : ” تم لوگ جس کو چاہتے تھے میں نے اُسی کو تمہارا گورنر مقرر کر دیا ہے ۔تم لوگ سعید بن عاص سے بد ظن تھے اور اُس کی گورنری پسند نہیں کرتے تھے۔ اِسی وجہ سے میں نے اُس کے بجائے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو تمہارا گورنر بنا کر بھیجا ہے ۔ اﷲ کی قسم ! میں اپنے فرائض کو نہایت خوبی سے ادا کروں گا اور تمہاری زیادتیوں کو برداشت کرتا ہوا تمہاری اصلاح کی کوشش کرتا رہوں گا ۔“ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کوفہ پہنچے تو اہل کوفہ نے استقبال کیا اور آپ رضی اﷲ عنہ نے جمعہ کے دن منبر پر یہ خطبہ دیا ۔جس میں مسلمانوں کو جماعت سے علیحدہ نہیں ہونے اور امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی اطاعت کی تاکید کی ۔جسے لوگوں نے بسرو چشم قبول کر لیا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اُن کو یہ خط لکھا: ” بسمہ اﷲالرحمن الرحیم !میں نے تم پر اُسے گورنربنایا ہے جسے تم پسند کرتے ہو اور سعید بن عاص کو معزول کر دیا ہے ۔اﷲ کی قسم ! میں تمہارے لئے اپنی عزت قربان کر دوں گا اور تمہارے لئے صبر کروں گا اور مقدور بھر تمہاری بھلائی چاہوں گا ۔تم ہر ایسی بات کا مطالبہ کر سکتے ہو جس میں اﷲ کی نافرمانی نہیں کی جائے اور جو بات تمہیں پسند نہیں ہو اُس سے تمہیں مستثنیٰ رکھا جا سکتاہے بشرطیکہ اس سے اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں ہوتی ہو ۔میں نے تمہاری پسند کے مطابق کام کیا ہے تاکہ تم میرے خلاف ( اﷲ کی بارگاہ میں ) حجت نہ لاسکو ۔“
بد بخت منافق کی پوری مملکت اسلامیہ میں فتنہ انگیزی
خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کو متحد اورمنظم رکھنے کی کوشش کر رہے تھے اور بد بخت منافق عبدا ﷲ بن سبا ( المعروف ابن السواء) پوری مملکت اسلامیہ میں مسلمانوں فرقہ بندی میں تقسیم کرنے اور انہیں آپس میں لڑانے کے لئے ہر ممکن سازش کر رہا تھا ۔یہ بد بخت پہلے یہودی تھا اور قوم یہود کو اﷲ تعالیٰ نے بہت ذہانت عطا فرمائی ہے لیکن اِن بد بختوں نے اپنی ذہانت کا استعمال بُرائیوں کو پھیلانے میں کیا اور اﷲ کے غضب کا شکار ہوئے ۔آج بھی یہ بد بخت قوم پوری دنیا میں ٹی وی ، موبائل اور انٹرنیٹ کے ذریعے برائی پھیلانے میں اپنی ذہانت استعمال کر رہی ہے ۔اِس بد بخت قوم کا ایک فرد عبدا ﷲ بن سبا تھا اور اُس نے اسلام اِسی لئے قبول کیا تھا کہ وہ مسلمان بن کر مسلمانوں میں شامل ہو کر مسلمانوں کو آپس میں لڑائے اور فرقہ بندی میں مبتلا کردے ۔اِس کے لئے اُس بد بخت نے پوری مملکت اسلامیہ میں اپنا خفیہ نیٹ ورک بنایا ہوا تھا اور کمزور ایمان والے مسلمانوں کو منافق بنا کر اپنے فائدے کے لئے استعمال کر رہا تھا ۔اُس بد بخت کا خاص نشانہ امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ تھے اور اُس کی فتنہ انگیزی کی وجہ سے پوری مملکت اسلامیہ میں آپ رضی اﷲ عنہ کے مخالفین پیدا ہونے لگے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : عبد اﷲ بن سبا صنعاء کا یہودی تھا اُس کی والدہ سیاہ تھی ۔وہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے زمانہ¿ خلافت میں دکھاؤے کا مسلمان ہوا ۔پھر وہ مسلمانوں کے شہروں میں گھوم گھوم کر انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہا ۔پہلے وہ حجاز گیا ،پھر بصرہ پھر کوفہ گیا پھر ملک شام بھی گیا مگر وہ اہل شام میں سے کسی کو گمراہ نہیں کر سکا اور انہوں نے اُسے وہاں سے نکال دیا ۔وہاں سے وہ ملک مصر گیا اور وہیں آباد ہو گیا اور وہیں سے اپنا خفیہ نیٹ ورک چلانے لگا ۔اُس نے اپنی تحریک کا پروپیگنڈا کرنے والوں کو خفیہ طور سے پوری مملکت اسلامیہ میں بھیجا اور وہ جو شہروں میں فساد کر رہے تھے اُن سے خفیہ خط و کتابت کی اور وہ لوگ اُس بد بخت منافق سے خط و کتابت کرتے رہے ۔یہ لوگ پوشیدہ طور پر اپنی تحریک کی طرف عوام کو دعوت دیتے رہے مگر بظاہر وہ نیک کاموں کا حکم دیتے تھے اور برائی سے روکتے تھے ۔یہ لوگ مختلف شہروں کے لوگوں کے ساتھ خطوط بھی بھیجتے تھے اور بظاہر اِن خطوں میں اپنے حکام پر نکتہ چینی کرتے تھے ۔دوسرے ساتھی بھی اِس طرح اُن سے خط و کتابت کرتے تھے ۔اِس کے علاوہ ایک پوشیدہ سازشی جماعت ہونے کی حیثیت سے ہر شہر کے لوگ دوسرے شہر کے لوگوں کو اپنی کار گزاری سے مطلع کرتے رہتے تھے ۔مثلاً ہر شہر کے لوگ یہ کہا کرتے تھے : ” ہم خیرو عافیت کے ساتھ ہیں اور اُن چیزوں میں مبتلا نہیں ہیں جن میں لوگ مبتلا ہیں سوائے اہل مدینہ¿ منورہ کے ۔“ اِس قسم کی اطلاعات تمام شہروں سے آئی تھیں ”ہم جس چیز میں مبتلا ہیں اُس سے بخیرو عافیت ہیں ۔“ یہ خبریں اہل مدینہ¿ منورہ تک پہنچیں تو وہ خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں