17 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 17
فتوحات ِسلطنت روم، فتح ذولکلاع، فتح مرج روم، حمص کا محاصرہ، طویل عرصے تک محاصرہ، فتح حمص، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کا حکم، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ نے ”اﷲ کی تلوار “کی تعریف کی، اہل قنسرین کی بد عہدی اور انجام، ہرقل کی ناکہ بندی، ہرقل قسطنطنیہ بھاگا، فتح حلب، انطاکیہ کی فتح
فتوحات ِسلطنت روم
خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے ذکر کے شروع میں ہم نے آپ کو تفصیل سے جنگ اجنادین ،جنگ یرموک کے حالات بیان کئے تھے۔اور ”فحل “تک کی فتوحات کا تفصیلی ذکر کیا تھا۔اِس کے بعد ملک شام میں شدید سردیوں کی وجہ سے مسلمانوں کی پیش قدمی رک گئی تھی۔اور اسِ دوران ملک عراق میں جنگ قادسیہ وغیرہ پیش آئی تھیں،اسی لئے ہم نے ملک شام کے حالات روک کر ملک عراق کے حالات پیش کئے تھے۔اب ۵۱ ہجری کی شروعات میں پہلے ہم ملک شام کے حالات پیش کریں گے،پھر انشاءاﷲ ملک عراق کے حالات پیش کریں گے۔حضرت بو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ ملک شام میں سپہ سالار ِ اعظم تھے،انہوں نے حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو دمشق کا گورنر بنا دیا تھا۔اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو اردن میں تعینات کیا تھا،اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو فلسطین کی طرف تعینات کیا تھا۔جبکہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا،اور اُن سے برابر مشورے کر کے آگے کا لائحہ عمل مرتب کرتے تھے۔
فتح ذولکلاع
حضرت ابو عبیدہ بن جرا ح رضی اﷲ عنہ نے ”فحل“میں فتح حاصل ہونے کے بعد باقی تمام سپہ سالاروں کو لشکر دیکر الگ الگ محاذوں پر روانہ کردیا۔اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو ایک لشکر دیکر اور خود ایک لشکر لیکر حمص کی طرف روانہ ہوئے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔فحل میں رومیوں کو شکست دینے کے بعد حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ بقصد ”حمص“روانہ ہو کر ”ذو الکلاع “میں پڑاو¿ ڈالا۔سلطنت روم کے شہنشاہ ہرقل نے توذر کو ایک لشکر دیکر مسلمانوں سے مقابلہ کرنے کے لئے بھیجا۔جس نے مرج روم پہنچ کر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر پڑاو¿ ڈالا۔ہرقل نے ایک لشکر دیکر شمس کو بھیجا ،جس نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر پڑاو¿ ڈالا۔تمام رات فریقین خوف و رجا سے سو نہیں سکے۔مسلمانوں کو جنگ کا اشتیاق بے چین کئے ہوئے تھا،اور رومیوں کو اپنی جان کا خوف تھا۔صبح ہوئی تو توذر نے اپنا لشکر لیکر دمشق کی طرف رُخ کیا،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بھی اپنا لشکر لیکر اُس کے پیچھے روانہ ہو گئے۔اُدھر دمشق میں حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کو توذر کی پیش قدمی کی خبر ملی،تو آپ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر اُس کے استقبال کے لئے دمشق سے باہر آگئے۔دونوں لشکروں کا سامنا ہوا ،اور جنگ شروع ہو گئی۔اِسی دوران حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنا لشکر لیکر توذر کے لشکر کے عقب میں پہنچ گئے،اور رومیوں پر پیچھے سے حملہ کر دیا۔اِس طر ح رومی ، مسلمانوں کے دوہرے حملے کی وجہ سے بری طرح گھبرا گئے۔اور لڑنے کے بجائے بھاگنے کی کوشش کرنے لگے۔لیکن اُن کے بھاگنے کا راستہ بھی مسلمانوں نے بند کر دیا تھا،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بے شمار رومیوں کا قتل عام ہوا ۔اور مسلمانوں فتح حاصل ہوئی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ توذر کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے قتل کیا۔فتح کے بعد تو حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہ دمشق لوٹ گئے۔اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنا لشکر لیکر تیزی سے مرج روم کی طرف واپس لوٹے۔
فتح مرج روم
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ مسلسل حرکت میں رہتے تھے،اور انہیں میدان جنگ بہت پسند تھا۔اِسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ فتح ذولکلاع کے بعد اپنے لشکر کو لیکر فوراً حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کی طرف واپس لوٹے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی روانگی کے بعد رومی لشکر کے سپہ سالار شمس نے اپنے لشکر کے ساتھ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے لشکر پر حملہ کر دیا۔ابھی یہ جنگ چل ہی رہی تھی،اور کوئی فیصلہ ہونے نہیں پایا تھا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنا لشکر لیکر پہنچ گئے،اور بلند آواز سے نعرۂ تکبیر لگایا۔جسے سن کر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ اور اُن کے لشکر کے حوصلے بلند ہو گئے،اور انہوں نے جوابی نعرۂ تکبیر بلند کیا،اور ایک نئے جوش سے رومیوں پر حملہ کر دیا۔مسلمانوں کے دونوں لشکروں نے ایک ساتھ حملہ کیا ،تو رومیوں کے پیر اُکھڑ گئے۔اور وہ بھاگنے لگے،اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے اِسی دوران اُن کے سپہ سالار شمس کو قتل کر دیا۔رومی میدان جنگ سے بھاگے ،اور ”حمص“ میں جاکر پناہ لی۔ہرقل کو جب دونوں رومی لشکروں کی شکست کی اطلا ع ہوئی ،تو اُس نے حمص میں اپنا ایک سپہ سالار متعین کیا،اور ”الرھا“چلا گیا۔
حمص کا محاصرہ
حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ مل کر آگے بڑھے،اور حمص کا محاصرہ کر لیا۔یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اُس وقت فلسطین،اردن ،اور لبنان الگ ملک نہیں تھے،بلکہ ملک شام کے صوبے کی حیثیت رکھتے تھے۔بعد میں انہیں ملک شام سے الگ کر کے الگ الگ ملک بنا دیا گیا۔ملک شام کے اُس وقت چھ بڑے صوبے تھے۔اِن میں سے دمشق،حمص،اردن،فلسطین،اور لبنان زیادہ مشہور تھے۔حمص کو انگریزی میں”ایما“کہتے ہیں،یہاں پر ”ہیکل شمس“تھا۔جس کی زیارت کو دور دراز ملکوں سے لوگ آتے تھے،اور قدیم زمانے میں حمص کی شہرت اِسی وجہ سے ہوئی۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے حمص کا محاصرہ کیا ،تو ہرقل نے اہل حمص کی امداد کے لئے اہل جزیرہ کے لوگوں کا ایک لشکر روانہ کیا۔لیکن اِسی دوران حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے ایک لشکر قرقیسیا کی طرف بھیج دیا تھا۔اور اُن سے مقابلے کی وجہ سے اہل الجزیرہ کا لشکر حمص نہیں پہنچ سکا تھا۔(اِس کا ذکر انشاءاﷲ ہم ملک عراق اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں تفصیل سے کریں گے۔یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں ”الجزیرہ“سلطنت روم اور سلطنت فارس کا سرحدی علاقہ ہے۔)
طویل عرصے تک محاصرہ
حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ملکر حمص کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ہرقل نے حمص کے گورنر یا سپہ سالار کو لکھ بھیجا کہ ”مجھے اطلاع ملی ہے کہ اِن عربوں(مسلمانوں)کھانا اونٹ کا گوشت اور پینا اونٹ کا دودھ ہے۔یہ مو سم سرما(سردی کا موسم) ہے۔اِس لئے تم اِن سے خنک جنگ کرو،اور محاصرے کو جتنی طوالت دے سکتے ہو ،اتنا ہی تمہارے لئے فائدے مند ہوگا۔اِس طرح موسم گرما(گرمی کے موسم) کے آغاز تک کوئی بھی اِن میں سے باقی نہیں رہ سکے گا۔“رومی ہر سرد دن میں صبح سویرے جنگ کرتے تھے،مسلمانوں نے وہاں بہت شدید سردی محسوس کی۔رومیوں نے محاصرے کو طول دے دیا،لیکن مسلمانوں نے بھی سردی کی شدت پر صبر کیا،اور مستقل مزاجی سے محاصرے پر ڈٹے رہے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔محاصرے کے وقت شدید سردی پڑ رہی تھی،اور اہل شہر نے اِس اُمید پر استقلال کا مظاہرہ کیا کہ سردی کی شدت مسلمانوں کو ہٹا دے گی۔رومی جوتوں کے ساتھ ساتھ موزے بھی پہنتے تھے،اِس کے باوجوداُن کے پیر پھٹ جاتے تھے،اور وہ مسلمانوں کی طرح حوصلہ نہیں دکھا پا رہے تھے۔جو صرف جوتوں پر ہی رہ کر اُن کا مقابلہ کر رہے تھے،وہ مسلسل اِسی حالت میں رہے ،یہاں تک کہ سردی کا موسم گذر گیا۔
فتح حمص
موسم سرما ختم ہونے کے بعد مسلمانوں نے محاصرہ میں سختی کر دی،اور حمص پر حملے کی تیاری کرنے لگے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب موسم سرما ختم ہوا تو رومیوں کے ایک بوڑھے شخص نے کھڑے ہو کر اُن سے کہا کہ وہ مسلمانوں سے صلح کر لیں۔مگر انہوں نے کہا کہ ہم کیسے مصالحت کر لیں جب کہ ہماری سلطنت اور شان و شوکت باقی ہے۔اور ہمارے اور اُن کے درمیان بہت زیادہ فرق ہے۔پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا ،اور بولا کہ موسم سرما چلا گیا ہے،اور اِس کے ساتھ یہ اُمید بھی ختم ہو گئی ہے،اب تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟دیکھو یہ قوم(مسلمان) سب تکالیف برداشت کر لیتی ہے۔اب اگر تم ان سے صلح کا عہد و پیمان کر لو تو یہ تمہارے لئے اِس بات سے زیادہ بہتر ہو گا ،کہ وہ لوگ تمہیں تلوار کے زور پر گرفتار کرلیں ،یا قتل کر دیں۔اُدھر حمص کی ”شہر پناہ“(فصیل وہ دیوار جو شہروں کے اطراف بنائی جاتی تھیں)کے اطراف مسلمانوں نے ایک ساتھ نعرہ¿ تکبیر لگایا۔جس سے رومیوںکو یوںلگا،جیسے حمص کے در و دیوار لرز گئے،اور رومی بہت زیادہ گھبراہٹ کاشکار ہو گئے۔جب مسلمانوں نے دوسری مرتبہ بلند کی تو رومیوں کو لگا کہ حمص شہر کا ہر گھر گر جائے گا۔اور وہ اتنا زیادہ خوفزدہ ہو گئے ،کہ سب لوگ صلح کرنے پر راضی ہو گئے۔اور شہر پناہ پر چڑھ کر ”صلح صلح “چلانے لگے۔مسلمانوں نے دمشق کی صلح کی شرائط پر حمص کے لوگوں سے صلح کر لی۔اور حمص پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔
خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کا حکم
فتح حمص کی خوش خبری خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کو دی گئی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا پانچوں حصہ اور حمص کی فتح کی خوش خبری خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ بھیجا،انہوں نے خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کو ہرقل کا حال بتایا کہ وہ منہ چھپائے مارا مارا پھر رہا ہے۔پہلے تو اُس نے دریا عبور کیا،اور” الجزیرہ “چلا گیا،اور الرھا میں تھا ۔اِس کے بعد وہ اِدھر اُدھر بھاگتا پھر رہا ہے۔اِس کے بعد خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کو ملک عراق حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیج دیا۔اور ملک شام میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو یہ حکم لکھ بھیجا؛”تم اپنے شہر (حمص) میں قیام کرو،اور ملک شام کے بہادر اور طاقتور عربوں کو دعوت دو،میں بھی انشاءاﷲ امدادی لشکر بھیجتا رہوں گا۔“اِس حکم کے بعد حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ حمص میں ہی رکے رہے،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو لشکر دیکر ”قنسرین“بھیجا۔جب آپ رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے ساتھ شہر کے قریب پہنچے ،تو رومیوں کا لشکر میناس کی قیادت میں شہر سے باہر آیا۔میناس ہرقل کے بعد سلطنت روم کا سب سے بڑا سپہ سالار تھا۔دونوں لشکروں میں جنگ شروع ہوئی ۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا اصول تھا کہ وہ ہر جنگ میں الگ الگ جنگی چالیں چلتے تھے۔اور موقع کی مناسبت سے فوراً اپنی جنگی چال بد ل دیتے تھے۔میناس بالکل بھی آپ رضی اﷲ عنہ کی جنگی چالوں کو نہیں سمجھ سکا،اور اُسے قتل کر دیا گیا۔رومی بھی کثرت سے مارے گئے۔رومیوں نے اپنے سپہ سالار کی موت کے بعد ہتھیار ڈال دیئے،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے عرض کیا کہ ہم آپ رضی اﷲ عنہ سے جنگ نہیں کرنا چاہتے تھے۔بلکہ ہمیں زبردستی جنگ کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُن کی معذرت قبول کی،اور انہیں اُن کی جاں بخشی کر دی۔اور انہیں اطمینا ن اور سکون سے اُن کے گھروں میں رہنے دیا۔
خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ نے ”اﷲ کی تلوار “کی تعریف کی
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے قنسرین کے لوگوں کو معاف کر دیا، اور قنسرین فتح ہوگیا۔اُس کی خوش خبری اور تمام حالات لکھ کر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی معافی کی خبر ملی،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اپنے آپ یہ حکم دیا؟اﷲ تعالیٰ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے،وہ مجھ سے زیادہ مردم شناس تھے۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ بننے کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو معزول کر دیا تھا،اور یہ فرمایا تھا؛”میں نے اِن کو کسی الزام یا شک و شبہ کی وجہ سے معزول نہیں کیا ہے،بلکہ اِس کی اصل وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے اِن دونوں کو بہت عظیم شخصیت سمجھ لیا تھا۔اِس لئے مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ اِن دونوں پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائیں۔“جب قنسرین کا یہ واقعہ ہوا ،توخلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ نے اپنی رائے سے رجوع کر لیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔جب فاروق ِ اعظم رضی اﷲ عنہ کو اِن واقعات کی اطلاع ملی تو بے ساختہ فرمایا؛”میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو اُس کے نفس کا سردار مقرر کرتا ہوں،اﷲ تعالیٰ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے،وہ مجھ سے زیادہ لوگوں کو پہچاننے والے تھے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے کسی اور وجہ سے معزول نہیں کیا تھا۔خیال یہ پیدا ہوا تھا کہ فتوحات کی کژت سے اِن دونوں میں کہیں غرور نہ آجائے۔بہر حال جنگ جسر میں حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کے شہید ہونے کے بعد جس طرح سے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے ثابت قدمی سے مسلمانوں کی حفاظت کی،اور ڈٹے رہنے سے فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے حضرت مثنیٰ رضی اﷲ عنہ کو پھر سے لشکر کی کمان سونپ دی تھی،اُسی طرح قنسرین کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو بھی دوبارہ امارت پر مامور کیا۔
اہل قنسرین کی بد عہدی اور انجام
حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اہل قنسرین کو بخش دیا تھا،اور انہیں اُن کے حال پر چھوڑ دیا تھا۔لیکن انہوں نے بد عہدی کی اور جنگی تیاری کر کے مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے۔ادھر اہل قنسرین کی طرف سے اطمینان ہونے کے بعد حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کو لیکر ”حلب “کی طرف روانہ ہوئے۔راستے میں انہیں خبر ملی کہ اہل قنسرین نے بد عہدی کی ہے ،تو انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو لشکر دیکر روانہ کیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔مہم قنسرین سے فارغ ہونے کے بعد حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ نے حلب کی طرف کوچ کیا۔اثنائے راہ میں یا حلب کے قریب پہنچ کر یہ خبر آئی کہ ”اہل قنسرین نے بد عہدی کی ،اور بلوہ کر دیا۔“علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ وہاں سے چل کر خاص شہر قنسرین کی طرف آئے تو اہل شہر قلعہ بند ہو گئے۔(یعنی شہر پناہ کے دروازوں کوبند کر لیا)یہ دیکھ کر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اگر تم بادلوں میں بھی ہو گے،تو اﷲ تعالیٰ ہمیں تمہاری طرف اُٹھا لے جائے گایا تمہاری طرف اُتار دے گا۔“اور شہر پناہ پر حملہ کر کے اُسے توڑنے لگے۔اِس پر وہ اپنے معاملات پر غور کرنے لگے،اور انہوں نے اہل حمص کا حشر یاد کر کے صلح کی درخواست کی۔لیکن حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے صلح قبول نہیں کی،اور قنسرین پر حملہ کر کے اُسے فتح کر لیا۔
ہرقل کی ناکہ بندی
مسلمانوں نے ہر طرف سے ہرقل کو گھیر لیا،حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ فلسطین کی طرف سے،حضرت یزید بن سفیان رضی اﷲ عنہ دمشق کی طرف سے،حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ اردن کی طرف سے اُسے گھیرے ہوئے تھے۔جبکہ حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ حلب کی طرف بڑھ رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حمص اور قنسرین ہاتھوں سے نکل گئے،تو ہرقل کو پیچھے ہٹنا پڑا۔اور اُس کی پسپائی کی وجہ یہ ہوئی کہ جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے میناس کو قتل کر دیا،اور اس کے بعد رومیوں کا صفایا ہوا،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے قنسرین کو فتح کرلیا۔تو حضرت عمر بن مالک کوفہ کی طرف سے نمودار ہو کر ”قر قیسیا “کی طرف نکل آئے۔اور ولید بن عقبہ قبیلہ بنو تغلب اور الجزیرہ کے عربوں کا لشکر لیکر نکلے،اور جزیرے کی رومی سرحدوں کو سیل کر دیا۔حضرت خالد بن ولید اور حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہم نے بھی اپنی طرف سے ناکہ بندی کر دی،اور تمام اسلامی سپہ سالار اپنے اپنے لشکر لیکر ہر قل پر دباو¿ ڈالنے لگے۔اِس سے پہلے اِس قسم کی ناکہ بندی کبھی نہیں کی گئی تھی۔
ہرقل قسطنطنیہ بھاگا
مسلمان ”بلاد شام “میں حاوی ہوتے جا رہے تھے،اور ہر طرف سے آگے بڑھ رہے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔اِس سال ہرقل اپنی فوجوں کے ساتھ واپس آگیا،اور ”بلاد شام “کو چھوڑ کر”بلاد روم “کی طرف چلا آیا۔علامہ محمد بن جریر طبری نے محمد بن اسحاق کے حوالے سے ایسے ہی بیان کیا ہے۔وہ کہتے ہیںکہ یہ ۵۱ ہجری کا واقعہ ہے،جبکہ سیف نے بیان کیا ہے کہ یہ ۶۱ ہجری کا واقعہ ہے۔ہرقل جب بھی ”بیت المقدس“کی زیارت کر کے بلاد روم کی طرف واپس جاتا تھا ،تو مسافروں والا سلام کہتاتھا۔لیکن اِس بار جب وہ جانے لگا ،اور شمشاط کی ایک پہاڑی پر چڑھاتو ”بیت المقدس“کی طرف متوجہ ہو کر بولا؛”اے سوریہ تجھ کو ایسا سلام ہو،جس کے بعد کوئی ملاقات نہیں ہو گی۔ہاں!میں تجھے جدا ہونے والا سلام کہہ رہا ہوں،اور تیری طرف جب بھی کوئی رومی آئے گا،تو خوفزدہ ہو کر آئے گا۔“اِس کے بعد وہ ”قسطنطنیہ “بھاگ گیا،اور بلاد روم میں اپنی حکومت کو مضبوط کرنے لگا۔اِسی دوران ایک رومی مسلمانوں کی قید سے رہا ہو کر ہرقل کے پاس پہنچا،تو اُس نے کہا؛”مجھے مسلمانوں کے بارے میں بتاو¿۔“رومی نے کہا؛”وہ دن میں بہادر شہ سوار ہوتے ہیں،اور دن میںشیروں کی طرح حملہ کرتے ہیں۔اور رات کو راہب(عبادت میں مصروف) ہوتے ہیں۔اور اپنی رعایا ،ذمیوں،اور معاہدین سے قیمت ادا کر کے کھاتے ہیں۔اور سلام کے ساتھ داخل ہوتے ہیں،اور جس سے جنگ کرتے ہیں،پہلے اُسے سمجھاتے ہیں۔پھر جب وہ نہیں مانتا ہے ،تو اُس کا قلع قمع کر دیتے ہیں۔“ہرقل نے کہا؛”اگر تو صحیح کہہ رہا ہے،تو وہ لوگ ضرور میرے اِن قدموں کی جگہ(قسطنطنیہ)پر قابض ہو ں گے۔“
فتح حلب
ملک شام میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ تمام سپہ سالاروں کے سپہ سالار تھے۔اور ”بیت المقدس “کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ ”حلب “پہنچے،اور اُس کے قریب ایک مقام”خناضر (یا خاضر)“میں پڑاو¿ڈال دیا۔یہاں پر عرب کے بہت سے قبیلے آباد تھے،جنہوں نے جزیہ دیکر صلح کر لی ،اور چند دنوں میں سب کے سب مسلمان ہو گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کی اور مسلمانوں کی آمد کی خبر سن کر اہل حلب قلعہ بند ہو گئے،اور شہر پناہ کے سب دروازوں کو بند کر لیا۔مسلمانوں نے شہر کا محاصرہ کر لیا۔حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ جو ”مقدمة الجیش“کے سپہ سالار تھے،اُن سے شہر کے لوگوں نے صلح کی درخواست کی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے دمشق اور حمص کی شرائط پر صلح اور امان کر لی۔حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ نے اِس صلح اور امان کو بر قراررکھا،اور معاہدہ لکھ کر دے دیا۔بعض کہتے ہیں کہ گرجوں اور شاہی عمارتوں کی تقسیم صلح سے ہوئی،اور بعض کہتے ہیں کہ عیسائی حلب چھوڑ کر ”انطاکیہ “چلے گئے تھے۔جب انطاکیہ بھی فتح ہو گیا تو اُس وقت عیسائی مصالحت کر کے حلب واپس آگئے۔
انطاکیہ کی فتح
اسلامی لشکروں کی ”بیت المقدس“کی طرف پیش قدمی جاری تھی۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ حلب کو فتح کرنے کے بعد ”انطاکیہ “کی طرف بڑھے۔انطاکیہ میں ہرقل قیصر کے شاہی محلات تھے،اور اکثر اوقات تبدیل ِآب و ہوا کی غرض سے یہاں قیام کرتا تھا۔یہاں پر مختلف مقامات سے عیسائی بھاگ بھاگ کر آئے تھے،اور اس کو اپنا مامن و ملجا سمجھ کر مقیم تھے۔مسلمانوں کی آمد کی خبر سن کر وہ لوگ انطاکیہ کے باہر صف آراہو گئے۔حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ نے بھی مسلمانوں کو صف آرا کردیا۔دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر حملہ کر دیا،لیکن حضرت ابو عبیدہ رضی ا ﷲعنہ نے مسلمانوں کے ساتھ پہلا ہی حملہ اتنا شدید کیا کہ رومیوں کے حوصلے پست ہو گئے۔اور وہ بھاگ کر شہر میں داخل ہو گئے۔اور مسلمانوں نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے حکم سے شہر (انطاکیہ) کا محاصرہ کر لیا۔چند روز بعد رومیوں (عیسائیوں)نے مجبور ہو کر جزیہ دینے یا جلا وطنی پر صلح کر لی۔جو رومی جزیہ نہیں دے سکا ،وہ انطاکیہ چھوڑ کر چلا گیا۔حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ عنہ ہر شہر میں ایک حاکم مقرر کر دیتے تھے،اور کچھ لشکر چھوڑ دیتے تھے۔تاکہ ذمی بد عہدی نہ کر سکیں۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں