ہفتہ، 5 اگست، 2023

16 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


16 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 16

ابن السواءعبداﷲ بن سبا کی منافقت، خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کی مخالفت، تحقیقاتی کمیشن، بد بخت منافق عبد اﷲ بن سبا کی فتنہ انگیزی، مخالفین اور منافقین کی سازش کا آغاز، مخالفین کی کوفہ آمد، 

ابن السواءعبداﷲ بن سبا کی منافقت

33 ہجری میں ابن السواءجس کا نام عبد اﷲ بن سبا تھا وہ منظر عام پر آیا ۔یہ پہلے یہودی تھا اور اسلام قبول کیا لیکن منافقت کرنے لگا اور خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے خلاف عوام کو بھڑکانے میں سب سے بڑا ہاتھ اِس منافق کا تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حکیم بن جبلہ نام کا ایک چور تھا جب مسلمانوں کی فوجیں لوٹتی تھیں تو وہ پیچھے رہ جاتا تھا اور فارس کے علاقے میں ذمیوں کو لوٹتا تھا اور پھر واپس آجاتا تھا ۔اُس کے پاس ابن السواءآکر ٹھہرا اور لوگوں کو خلیفہ¿ سُوم رضی اﷲ عنہ اور اُن کے گورنروں کے خلاف بھڑکانے لگا ۔اُس کے پاس کافی لوگ جمع ہونے لگے اُس نے اُن سے کافی مجمل باتیں کیں اور اُن کی تصریح نہیں کی تاہم لوگ اُن باتوں کو ماننے لگے اور انہیں اہمیت دینے لگے ۔عبد اﷲ بن عامر نے اُسے بلوایا اور پوچھا :” تم کون ہو ؟“ وہ بولا : ” میں یہودی تھا اب اسلام قبول کر لیا ہوں اور یہاں رہنا چاہتا ہوں ۔“ عبد اﷲ بن عامر نے کہا : ” تم یہاں سے چلے جاو¿ ۔“ وہ وہاں سے کوفہ چلا آیا اور پھر پوری مملکت اسلامیہ میں گھوم گھوم کر عوام کو خلیفہ¾ سُوم رضی اﷲ عنہ اور اُن کے مقرر کردہ گورنروں کے خلاف بھڑکانے لگا ۔حکم بن جبلہ کے خلاف اہل مہ اور اہل قیلہ نے شکایت کی تو عبد اﷲ بن عامر نے اُسے قید کردیا ۔

خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کی مخالفت

بد بخت عبد اﷲ بن سبا منافق پوری مملکت اسلامیہ میں گھوم گھوم کر تابعین کو کبار صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم ،خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور اُن کے مقرر کردہ گورنروں کی مخالفت پر عام مسلمان کو بھڑکاتا رہا ۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کو خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کے ہر کام میں کچھ نہ کچھ خرابی دکھائی دینے لگی ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : جس وقت اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ”کامل فتح “ عطا فرمائی اور ملت اسلامیہ کے قبضہ میں اکثر ممالک آگئے ۔اُس وقت اہل عرب (صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم اور اہل حجاز) نے اُن لوگوں کے درمیان جو بصرہ، کوفہ ،ملک شام اور ملک مصر کے باشندے تھے رہائش اختیار کر لی ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی شرف صحبت کی وجہ سے ممتا زاور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پورے پورے مقلد اور مسلمانوں کے ہادی،مہاجرین ، انصار ،قریش اور اہل حجاز تھے کیونکہ یہی لوگ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت سے سرفراز ہوئے تھے ۔ باقی عرب بنو بکر بن وائل ، بنو عبد القیس ، بنو ربیعہ ، بنو ازد ، بنو کندہ ، بنو تمیم اور بنو قضاعہ وغیرہ اِس عزت و شرف سے سرفراز نہیں تھے کیونکہ اُن کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی مقدس صحبت نصیب نہیں ہوئی تھی اور اگر کسی کو اِن میں سے کچھ صحبت نصیب ہوئی تھی تو نہایت مختصر ۔مگر فتوحات میں انہیں کا زیادہ حصہ تھا ،اِسی وجہ سے وہ اپنے آپ کو سابقین صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم سے افضل اور اپنے حقوق کو فائق سمجھتے تھے ۔عام لشکر کشی کے زمانے میں انہیں اِس بات کا بالکل احساس نہیں ہوا ۔لیکن فتوحات و کامیابی حاصل ہونے کے بعد جب مصلحتاً سلسلۂ فتوحات کو روکنا پڑا تو وہ اِس بات کو محسوس کر کے کہ اُن پر مہاجرین ، انصار ، قریش اور اُن کے علاوہ اور قبائل کے لوگ حکومت کر رہے ہیں دل ہی دل میں کشیدہ ہونے لگے ۔( یہ تمام خیالات اور جذبات تابعین میں بد بخت منافق عبد اﷲ بن سبا نے اُبھارے تھے ،جیسا کہ آگے آئے گا) اتنے میں امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا آخری زمانۂ خلافت آگیا اور لوگوں نے زبان ِ طعن و تشنیع مملکت ِ اسلامیہ کے گورنروں پر کھول دیں ۔امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے احکام کی تعمیل میں سستی کرنے لگے اور آپ رضی اﷲ عنہ کے انتظامات پر حرف گیری کرنے لگے ۔ کبھی کسی گورنر کی تبدیلی کی درخواست کرتے اور کبھی کسی گورنر کی معزولی کی مانگ کرتے ۔غرض ہر طرح سے امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی رائے کی مخالفت پر تل گئے تھے ۔

تحقیقاتی کمیشن

بد بخت منافق عبد اﷲ بن سبا عام مسلمان نوجوانوں کے اندر خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور اُن کے مقرر کردہ گورنروں کے خلاف بھڑکاتا جارہا تھا اور اُسے کامیابی بھی ملتی جارہی تھی ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِن سرگوشیوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ کے مقرر کردہ گورنروں کے خلاف بد دلی پیدا ہوگئی اور اِن گورنروں پر ظلم اور بے جا کاروائیوں کے الزامات لگائے جانے لگے ۔زیادہ زمانہ گزرنے نہیں پایا تھا کہ مدینۂ منورہ میں صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے کانوں تک بھی یہ باتیں پہنچ گئیں جس سے وہ لوگ بھی گورنروں کے متعلق شکوک و شبہات کا شکار ہو گئے اور گورنروں کی معزولیت کے بارے میں گفتگو کرنے لگے ۔صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم نے خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو رائے دی کہ گورنروں پر جو الزامات لگائے جارہے ہیں اُن کی تحقیقات کرائی جائے اور اُن کے علاقے میں اپنے نمائندے بھیج کر تمام صحیح حالات معلوم کئے جائیں ۔خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہ نے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اﷲ عنہ کو کوفہ کی طرف ، حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ کو بصرہ کی طرف ، حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو ملک شام کی طرف اور حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہ کو ملک مصر کی طرف روانہ کیا ۔اِس کے علاوہ دوسرے نمائندوں کو بھی مختلف شہروں تحقیقات کے لئے بھیجا گیا ۔سب نے واپس آکر بیان کیا کہ ہم نے شریعت کے خلاف کوئی عمل نہیں دیکھا اور عوام میں بھی کسی قسم کی چرچا نہیں سنی ۔صرف حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہ کو بعض مفسدوں نے اپنی طرف مائل کر لیا اور اپنا ہم نوا بنا لیا تھا ۔

بد بخت منافق عبد اﷲ بن سبا کی فتنہ انگیزی

پوری مملکت اسلامیہ میں خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور اُن کے گورنروں کے خلاف جو ماحول پیدا ہوگیا تھا اُسے بنانے میں بد بخت منافق عبد اﷲ بن سبا کا سب سے زیادہ ہاتھ تھا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : مفسدہ پردازوں میں سب سے نمایاں عبد اﷲبن سبا جو ” ابن السواء“ کے نام سے جانا جاتا تھا اور پہلے یہودی تھا ۔خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں مدینۂ منورہ آکر مال و دولت کے لالچ میں اسلام قبول کیا تھا مگر سچا مسلمان نہیں بنا بلکہ منافق بن گیا ۔”اہل بیت “ کی محبت کی آڑ میں لوگوں کو خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور ”شیخین “ ( خلیفۂ اوّل حضرت ابو بکر صدیق اور خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہم ) کے خلاف لوگوں کو اُکسانے لگا اور بہتان تراشنے لگا ۔اہل بصرہ اُس کی خباثت سے مطلع ہوئے تو انہوں نے اسے علاقہ بدر کر دیا تو وہ کوفہ گیا اور وہاں فتنہ انگیزی کرنے لگا تو کوفہ والوں نے بھی شہر بدر کر دیا ۔وہاں سے وہ ملک شام آیا اور وہاں کے لوگوں نے اسے علاقہ بدر کیا تو وہ ملک مصر چلا گیا اور وہاں فتنہ انگیزی کرنے لگا ۔وہ لوگوں کوامیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور اُن کے گورنروں کے خلاف خفیہ تعلیم دیتا تھا ۔اُس نے دھیرے دھیرے پوری مملکت اسلامیہ میں اپنا خفیہ نیٹ ورک بنا لیا اور مختلف شہروں کے لوگ اُس کے خفیہ نیٹ ورک کی وجہ سے اُس کی طرف مائل ہونے لگے اور اُن میں آپس میں خفیہ خط و کتابت ہونے لگی ۔اِسی گروہ میں خالد بن ملجم ،سودان بن عمران اور کنانہ بن بشر بھی تھے ۔( اِن کا خصوصی ذکر ہم نے یہاں اِس لئے کیا ہے کہ آگے چلکر اِن تینوں کا ذکر بہت ہی اہم معاملے میں آئے گا ۔) علامہ عبد الرحمن بن خلدون آگے لکھتے ہیں : عبد اﷲ بن سبا ءالمعروف ابن السواءنے بصرہ میں پہنچ کر حکیم بن جبلہ عبدی کے گھر مقیم ہوا ۔اُس نے اہل بیت کی محبت کے پردے میں امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ پر طعن و تشنیع کی تبلیغ شروع کی ۔جب حکیم بن جبلہ کو اِس کی اطلاع ہوئی تو اُس نے عبد اﷲ بن سبا کو اپنے مکان سے نکال دیا ۔عبد اﷲ بن سبا بصرہ سے نکل کر کوفہ آیا اور اہل کوفہ نے بھی نکال دیا تو وہ ملک مصر چلا گیا اور وہاں سے اپنے احباب جو بصرہ اور کوفہ میں تھے اُن سے خفیہ خط و کتابت کا سلسلہ شروع کیا اور اِس طرح پوشیدہ پوشیدہ خلیفہ¿ سُوم رضی اﷲ عنہ اور اُن کے گورنروں پر طعن و تشنیع کو عام کرنے لگا ۔

مخالفین اور منافقین کی سازش کا آغاز

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دورِخلافت میں مملکت اسلامیہ مشرق میں ایشیائے کوچک تک ،جنوب مشرق میں کابل تک ،شمال میں ترکی تک اور مغرب میں شمالی افریقہ تک پھیل چکی تھی ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے ملک شام اور ملک مصر کا مکمل اختیار حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی کو دے دیا تھا اور وہ اپنی مرضی کے مطابق اِن علاقوں میں گورنر مقرر کرتے تھے ۔اِسی طرح سعید بن عاص کو ملک عراق اور ملک ایران کا مکمل اختیار دے دیا تھا اور وہ اپنی مرضی کے مطابق اِن علاقوں میں گورنر مقرر کیا کرتے تھے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : سعید بن عاص نے حضرت اشعث بن قیس رضی اﷲ عنہ کو ”آذربائیجان“ کا گورنر بنایاکیا تھا اورسعید بن قیس کو ” رے “ کا گورنربنایا تھا ۔اِس سے پہلے سعید بن قیس ”ہمدان “ کے گورنرتھے وہاں سے اُن کو معزول کر کے نشیر عجلی کو ”ہمدان “ کا گورنر بنا دیا تھا ۔سائب بن اقرع کو ”اصفہان“ کاگورنر بنایا اور ملاک بن حبیب یربوعی کو ”ماہ“ کا گورنر بنایا ۔حکیم بن سلامہ حزامی کو ” موصل “ کا گورنر بنایا ۔حضرت جریر بن عبداﷲ بجلی رضی اﷲ عنہ کو قرقیسیا ءکا گورنر بنایا اور حضرت سلمان بن ربیع ”باب “ کی مہم کے نگران تھے اور جنگی گورنر حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ تھے ۔عتیبہ بن نہاس کو ”حلوان “ کا گورنر بنایا ۔اِس طرح کوفہ فوجی حکام اور کمانڈروں سے خالی ہو گیا اور صرف فتنہ پرداز لوگ رہ گئے تھے ۔اِن حالات میں یزید بن قیس نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو خلافت سے معزول کرنے کی سازش کا آغاز کیا ۔وہ کوفہ کی مسجد میں پہنچا اور وہاں بیٹھ گیا اور اُس کی طرف لوگ راغب ہونے لگے اور یزید بن قیس خط و کتابت کے ذریعے خفیہ طور سے ابن السواء(عبد اﷲ بن سبا ) ہدایات لیتا رہتا تھا ۔

مخالفین کی کوفہ آمد

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ کے خلاف بد بخت منافق عبد اﷲبن سبا ملک مصر میں بیٹھ کر پوری مملکت اسلامیہ میں خفیہ طور سے اپنی تحریک چلا رہا تھا اور ہر شہر اور ہر علاقے کے منافقین اُس کے رابطے میں تھے اور اُس کی ہدایات کے مطابق عمل کر رہے تھے ۔اِس بد بخت کا اصل مقصد اُمت ِ مسلمہ میں فرقہ بندی پپدا کرنا تھا تاکہ مسلمان فرقوں میں بٹ جائیں آپس میں لڑنے لگ جائیں اور یہ بد بخت منافق صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا دشمن تھا اور اُس کا ایک مہرہ یزید بن قیس تھا جس نے کوفہ کے لوگوں کو خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی عنہ کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو یزید بن قیس کی فتنہ انگیزی کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے اُسے مسجد سے نکل جانے کا حکم دیاتو اُس نے کہا : ” ہم سعید بن عاص کا استعفاءچاہتے ہیں ۔“ حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” تمہارا جوبھی مقصد ہو ،اُس کے لئے تم مسجد میں نہ بیٹھو اور اگر تمہیں سعید بن عاص سے کوئی شکایت ہے تو اس کی تلافی کی کوشش کرو۔“ یزید بن قیس اپنے گھر آگیا اور ایک شخص کو اُجرت دیکر مخالفین کے پاس ”الجزیرہ بھیجا اور انہیں خط لکھا :” تم لوگ خط ملتے ہی یہاں (کوفہ ) آجاؤ کیونکہ شہر والے ہم سے متفق ہو گئے ہیں ۔“ قاصد اُن کے پاس پہنچا اور یزید بن قیس کا خط اُن کو دیا تو انہوں نے قاصد کو ڈانٹ دیا لیکن اشتر نے قاصد سے کہا کہ میں تمہارے ساتھ چلوں گا ۔اُس کے جانے کے بعد اُن لوگوں نے کہا : ”اُس ( سعید بن عاص ) نے ہمیں کوفہ سے نکالا ہے اﷲ اُس کو نکالے ۔ اب ہمیں بھی وہی کرنا ہوگا جو اُس نے کیا ہے ۔بہرحال عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو علم ہو گا تو وہ ہمیں سچا نہیں سمجھے گا ۔“ پھر وہ سب اشتر کے پیچھے روانہ ہوئے لیکن اُس کو نہیں پاسکے کیونکہ وہ کافی آگے جا چکا تھا ۔جب حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو علم ہوا تو انہوں نے تعاقب میں گھڑ سوار بھیجے مگر اشتر اور اُس کے ساتھی میلوں دور جاچکے تھے ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : یزید بن قیس نے بقصد خلع خلافت امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور اُن کے گورنروں کے خلاف خروج کیا اور اُس کے ہمراہ ایک گروہ اُن لوگوں کا تھا جو عبد اﷲ بن سبا منافق کے خفیہ گروہ کا تھا اور اُس سے خفیہ خط و کتابت کرتا تھا ۔حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے جلد پہنچ کر اِس اُٹھتے ہوئے طوفان کوروکا اور یزید بن قیس کو گرفتار کر لیا ۔یزید بن قیس نے معذرت کی اور بولا : ” میں نے کسی اور قصد سے خروج نہیں کیا ہے اور نہ ہی میرا کچھ اور مقصد ہے بلکہ میرے ساتھیوں کو اور مجھے کوفہ کے گورنر سعید بن عاص کچھ شکایتیں پید ہو گئیں ہیں ۔“ حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے یہ سن کر اُسے چھوڑ دیا ۔اِس کے بعد یزید بن قیس نے خط و کتابت کر کے اُس گروہ کو بلا بھیجا جو ”حمص “ میں حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی ﷲ عنہ کے پاس تھا ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں