16 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 16
ابلہ کی فتح، مسلمانوں کی خوش حالی، مسلمان خواتین کی بہادری، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ گورنر، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے حکام(گورنر)، تراویح میں ایک امام پر جمع کرنا، حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت ابن اُم مکتوم رضی اﷲ عنہ کی شہادت، حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت ابو زید انصاری رضی اﷲ عنہ کی شہادت، حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کی شہادت، حضرت ابو قحافہ بن عثمان رضی اﷲ عنہ کا انتقال، 14 ہجری کے چند شہداءرضی اﷲ عنہم کے نام
ابلہ کی فتح
حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ اِس کے بعد آگے بڑھکر ابلہ تک پہنچ گئے۔ابلہ وہ مقام ہے ،جہاں سمندر کے راستے سے چین اور ہندوستان کے لوگ آکر اُترتے تھے۔اور سلطنت فارس اور سلطنت روم کی سرحدیں بھی یہیں تک تھیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ابلہ کے مقام پر اسادرہ کی قوم میں سے پانچ سو عجمی سپاہی تھے،جو اُس مقام کی حفاظت کر رہے تھے۔کیونکہ وہ چین کی طرف سے آنے والے جہازوں کی بندر گاہ تھی۔اِس لئے حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ نے ّگے بڑھ کر ”اجانہ“کے مقام پر پڑاو¿ ڈال دیا۔یہاں وہ تقریباً ایک مہینے تک رک کر ابلہ کی بندر گاہ کا جائزہ لیتے رہے۔پھر اہل ابلہ لشکر لیکر اُن کے مقابلے پر آئے۔حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کی صف بندی کی،اور حضرت قطبہ بن سدوس اور حضرت قسام بن زہیر مارنی کو دس، دس گھڑ سوار دیکر اسلامی لشکر کے پیچھے متعین کیا،اور فرمایا؛”تم دونوں اپنے گھڑ سواروں کے ساتھ ہمارے پیچھے لگے رہنا،اور بھاگنے والوں کو روکنا،اور جو ہمارے پیچھے سے حملہ کرنے کا ارادہ کرے،اُس کا مقابلہ کرنا۔“اِس کے بعد جنگ شروع ہوئی ،اور حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر اتنا شدید حملہ کیا کہ جنگ صرف اتنی دیر چلی ،جتنی دیر میں ایک اونٹ ذبح ہو کر تقسیم ہوتا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو غالب کر دیا،اور دشمن شکست کھا کر بھاگنے لگے۔پھر دشمن کے سپاہی شہر میں داخل ہو گئے،اور دروازہ بند کر لیا،اور حضرت عتبہ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کو لیکر واپس آگئے۔اﷲ تعالیٰ نے دشمنوں کے دلوں پر مسلمانوں کی ایسی ہیبت طاری کر دی تھی کہ و ہ شہر سے نکل بھاگے۔اور ہلکا سا سامان لیکر لشتیوں کے ذریعے دریائے فرات پار کر کے بھاگ گئے۔مسلمانوں نے خالی شہر میں جاکر تمام سازو سامان ،ہتھیاروں اور دوسری اشیاءپر قبضہ کر لیا۔نقد مال بھی ہاتھ آیا،جسے انہوں نے آپس میں بانٹ لیا،اور ہر مسلمان کے حصے میں دو درہم آئے۔حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس نکال کر باقی مجاہدین میں تقسیم کر دیا۔اور فتح کی خوش خبری اور مال غنیمت کاخمس خلیفہ ¿دوم رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دیا۔ابلہ کی جنگ میں حضرت نافع بن حارث نے دشمن کے نو سپاہیوں کو قتل کیا۔اور حضرت ابو بکرہ نے چھ سپاہیوں کو قتل کیا۔ابلہ کی فتح ماہ ِ رجب یا ماہ ِ شعبان میں ہوئی۔
مسلمانوں کی خوش حالی
سلطنت فارس اور سلطنت روم کی فتوحات کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی خوش حالی کا دور آتا جا رہا تھا۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اِس بات کی فکر تھی ،کہ کہیں مسلمان دنیا میں مبتلا نہ ہو جائیں۔اسی لئے وہ وقتاً فوقتاً مسلمانو ں کو نصیحتیں کرتے رہتے تھے۔مسلمانوں کی خوش حالی کے بارے میں علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت غیابة بن عمیدحضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ کے ساتھ فتح ابلہ میں موجود تھے۔وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عتبہ رضی اﷲ عنہ نے حضرت منافع بن حارث کو فتح ابلہ کی اطلاع دینے کے لئے بھیجا ۔اِسی دوران دُست مسیان کے لوگ ہم سے جنگ کرنے کے لئے جمع ہو گئے۔حضرت عتبہ رضی اﷲ عنہ کو اُن کے جمع ہونے کی خبر ملی ،تو آپ رضی اﷲ عنہ ہمیں لیکر روانہ ہوئے،اور اُن کے سامنے صف بندی کر لی۔دُست میسا ن کے زمیندار حاکم نے ہم سے جنگ کی،اور آخر کار اُسے اور اُس کے ساتھیوں کو شکست ہوئی ،اور وہ گرفتار کر لیا گیا۔اُس کی قبا اور ٹپکا حاصل کر کے وہ چیزیں خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حضرت انس بن حجیہ یشکری کے ہاتھ بھیج دیا گیا۔جب امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے وہ چیزیں دیکھیں ،تو فرمایا؛”وہاں مسلمانوں کا کیا حال ہے؟“قاصد نے عرض کیا؛”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !دنیا (کی دولت)اُن پر برس رہی ہے،اور وہ سیم و زر میں کھیل رہے ہیں۔“یہ سن کر مسلمان بصرہ کی طرف متوجہ ہوئے،اور وہاں آکر آباد ہونے لگے۔
مسلمان خواتین کی بہادری
حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ نے حضرت مجاشع کو اپنی جگہ نائب بنایا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عتبہ رضی اﷲ عنہ جب دُست میسان کے حاکم سے جنگ کرنے کے لئے روانہ ہوئے ،تو انہوں نے بصرہ میں اپنی جگہ حضرت مجاشع بن مسعود کو نائب بنایا،اور دریائے فرات کی جانب روانہ کیا۔اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اُس وقت تک مسلمانوں کو نماز پڑھائیں ۔جب تک کہ حضرت مجاشع فرات کے علاقے سے واپس نہ آجائیں،جب وہ آجائیں گے تو وہی گورنر ہوں گے۔حضرت مجاشع فرات کے علاقے میں مصروف تھے کہ اِدھر ابن قباذ کے اکابر میں اے ایک عظیم شخصیت ”قیلکان“نے مسلمانوں کے خلاف ایک لشکر تیار کر لیا۔حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کو اطلاع ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر اُس کے مقابلے پر آگئے۔”مرغاب“کے مقام پر دونوں لشکروں میں جنگ ہوئی۔جنگ کے دوران سیدہ اردة بنت حارث بن کلدہ نے فرمایا؛”کاش ہم بھی مسلمان مردوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہوتے ،اور اُن کی مدد کرتے۔“یہ فرما کر انہوں نے اپنے ڈوپٹے کا جھنڈا بنا لیا،اور دوسری مسلمان خواتین نے بھی اپنے ڈوپٹوں کے جھنڈے بنا لئے ۔اور وہ سب مسلمان مردوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہونے کے ارادے سے نکلیں۔وہ سب اُس وقت میدان جنگ میں پہنچیں ،جب فریقین میں گھمسان کی جنگ ہورہی تھی۔جب دشمنوں نے جھنڈوں کو میدان جنگ کی طرف آتے دیکھا تو انہوں نے خیال کیا کہ مسلمانوں کی فوجی امداد کے لئے کمک آرہی ہے۔اس لئے وہ بھاگنے لگے،اور مسلمانوں نے اُن کاتعاقب کر کے انہیں کافی تعداد میں قتل کیا۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ گورنر
حضرت مجاشع فرات کے علاقے میں فتح حاصل کر کے لوٹ آئے تھے۔اور فتح کی خوش خبری اور تمام حالات لکھ کر خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے تمام حالات جاننے کے بعد حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ حضرت مجاشع جگہ آپ رضی ا ﷲ عنہ ہی تمام انتظامات سنبھالیں۔ یہ حکم ملنے کے بعد حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ واپس آرہے تھے کہ راستے میں آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہو گیا۔خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے اُن کی جگہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کو گورنر بنا دیا۔
خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے حکام(گورنر)
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت کے دوسرے سال ہی فتوحات کا سلسلہ بڑھ گیا۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے مختلف صوبوں پر مختلف حکام (گورنر) ۴۱ ھجری میں ہی مقرر فرما دیئے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ کے انتقال کے بعد خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کو بصرہ کا حاکم (گورنر) بنا دیا تھا۔دو سال گورنر رہنے کے بعد کچھ وجوہات کی وجہ سے انہیں ہٹا کر حضر ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو بصرہ کا گورنر بنادیا۔خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے ۴۱ ھجری میں مسلمانوںکو حج کرایا۔مکہ مکرمہ کی گورنری پر حضرت عتاب بن اُسید رضی اﷲ عنہ کو بر قرار رکھا۔یمن کا حاکم حضرت یعلیٰ بن منیہ کا بنایا۔ملک عراق کا حاکم حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔ملک شام کا حاکم حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔بحرین کا حاکم حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔اور کچھ علمائے کرام کے مطابق حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔اور ملک عمان کا حاکم حضرت حذیفہ بن محصن رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔
تراویح میں ایک امام پر جمع کرنا
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ماہ ِ رمضان ۴۱ ھجری میں مسلمانوں کو تراویح میں ایک امام پر جمع کیا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ اپنی اپنی تراویح پڑھتے تھے۔یہی کیفیت خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ کے زمانے میں بھی رہی۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ خلیفہ بنے ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو مشقت سے بچانے کے لئے تراویح کا امام حضرت اُبی بن کعب رضی اﷲ عنہ کو بنا دیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے ۴۱ ھجری میں لوگوں کو تراویح میں حضرت اُبی بن کعب رضی اﷲ عنہ کی امامت پر اکٹھا کر دیا۔اور بقیہ تمام شہروں میں بھی ماہ رمضان میں ایسا ہی کرنے کا حکم بھیج دیا۔حضرت ابن شہاب رحمتہ اﷲ علیہ (جلیل القدر تابعی)فرماتے ہیں؛”رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ،اﷲ تعالیٰ کی جوارِ رحمت میں چلے گئے،تو وہی حالت رہی۔خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں بھی وہی حالت رہی۔اور خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت کے شروع میں بھی یہی حالت رہی۔“حضرت عبد الرحمن رحمتہ اﷲ علیہ(جلیل القدر تابعی)فرماتے ہیں؛”میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ماہ ِرمضان کی ایک رات مسجد میں گیا،تو لوگوں کو الگ الگ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔کہیں ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا،کہیں کچھ لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا؛”میرے خیال میں انہیں ایک قاری پر جمع کر دیا جائے،تو زیادہ بہتر ہو گا۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت اُبی بن کعب رضی اﷲ عنہ کو اُن کا امام بنا دیا،اور سب کو اُن کی اقتداءپر جمع کر دیا۔پھر میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے ساتھ دوسری رات مسجد میں گیا،تو دیکھا کہ تمام لوگ حضرت اُبی بن کعب رضی اﷲ عنہ کی امامت میں نماز پڑھ رہے ہیں۔امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا؛”یہ کتنی اچھی بدعت ہے۔“
حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ کا انتقال
14 ھجری میں حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔کچھ علمائے کرام کے مطابق 16 ھجری میں ہوا۔واﷲ و اعلم ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عتبہ بن غزوان مازنی رضی اﷲ عنہ بنو عبد شمس کے حلیف اور بدری صحابی ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کے ایک سال بعد اسلام قبول کیا۔اور ”السابقون الاولون“میں سے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ہی خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دور ِخلافت میں اُن کے حکم سے سب سے پہلے بصرہ کی حد بندی کی۔آپ رضی اﷲ عنہ کے کارنامے اور فضائل بہت زیادہ ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے 14 ہجری میں وفات پائی۔بعض نے ۵۱ ہجری،بعض نے 16 ہجری ،بعض نے ۷۱ ہجری،اور بعض علمائے کرام نے 20 ہجری بھی بیان کیا ہے۔واﷲ اعلم۔وفات کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی عُمر پچاس سے متجاوز تھی۔اور بعض کا قول ہے کہ ساٹھ سے متجاوز تھی۔
حضرت ابن اُم مکتوم رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت عَمرو بن اُم مکتوم رضی اﷲ عنہ نابینا تھے،اور ”السابقون الاولون“ میں سے ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نابینا تھے،کہتے ہیں کہ آپ رضی اﷲ عنہ کا نام عبد اﷲ تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ سے پہلے اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اﷲ عنہ کے بعد مدینہ منورہ ہجرت کی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ میں حضرت مصعب بن عمیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھ انصار کو قرآن پاک کی تعلیم دیا کرتے تھے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کئی بار آپ رضی اﷲ عنہ کو مدینہ منورہ پر اپنا نائب مقرر فرمایا ہے۔ایک روایت کے مطابق رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو تیرہ(13) مرتبہ اپنا نائب بنایا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جنگ قادسیہ میں شامل ہوئے،اور ایک روایت کے مطابق وہیں شہید ہو گئے۔اور ایک اور روایت کے مطابق مدینہ منورہ واپس آئے اور انتقال ہوا۔وا ﷲ اعلم۔
حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال
اِسی سال 14 ہجری میں حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کا بھی انتقال ہوا۔خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ملک شام آدھا لشکر لیکر جانے لگے ،تو حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو ملک عراق (حیرہ)میں موجود آدھے لشکر کا سپہ سالار بنا دیا تھا۔علامہ عما د الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ بن مسلمہ بن ضمضم بن سعد بن مُرہبن ذہل بن شیبان شیبانی رضی اﷲ عنہ ملک عراق میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے نائب تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ہی خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو ملک عراق میں لشکر بھیجنے پر آمادہ کیا تھا۔اور جنگ جسر میں حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کے شہید ہونے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ ہی مسلمانوں کے سپہ سالار بنے۔اور اُس جنگ میں آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنی مہارت اور تدبر سے مسلمانوں کو فارسیوں (ایرانیوں ) سے بچایا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے وصال سے پہلے اپنے بھائی حضرت معنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو اپنی جگہ نائب بنایا۔اور وصیت کی کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ جب لشکر لیکر ملک عراق آئیں ،تو اپنا لشکر لیکر اُن کے لشکر سے مل جانا۔اور اُن کی قیادت میں جہاد کرنا۔اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ سے کہنا کہ وہ میری بیوہ سے نکاح کرلیں۔
حضرت ابو زید انصاری رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت ابو زید انصاری رضی اﷲ عنہ نے ۴۱ ہجری میں جنگ جسر میں شہادت کا مرتبہ حاصل کیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ابو زید انصاری رضی اﷲ عنہ کا نا م قیس بن سکن بن قیس بن زعوراءبن حزم بن جندب بن غنم بن عدی بن نجار ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ انصار کے اُن چار قاریوں میں سے ہیں،جنہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن پاک حفظ کیا۔یہ چاروں حضرت معاذ بن جبل، حضرت اُبی بن کعب،حضرت زید بن ثابت ،اور حضرت ابو زید رضی اﷲ عنہم ہیں۔حضرت ابو زید انصاری رضی اﷲ عنہ بدری صحابی ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ جنگ جسر میں بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے شہید ہوئے۔
حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کی شہادت
حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ بھی 14 ہجری میں جنگ جسر میں شہید ہوئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ابو عبید بن مسعود بن عَمرو ثقفی رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام قبول کیا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ کی بیٹی سیدہ صفیہ کا نکاح خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بیٹے حضرت عبد اﷲ بن عُمرفاروق رضی اﷲ عنہ سے ہوا۔خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت کے آخری دنوں میں حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ مزید کمک کے لئے ملک عراق سے آئے ۔اور اُن کے انتقال کے بعد خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت مثنی بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جانے کے لئے مسلمانوں کو ترغیب دی ،تو حضرت ابو عبید بن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ سب سے پہلے جانے کے لئے تیار ہوئے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے انہیں ملک عراق کا سپہ سالار بنا کر لشکر دیکر حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ بھیجا۔جہاں انہوں نے بہت سی فتوحات حاصل کیں ،اور آخر کارجنگ جسر میں شہید ہو گئے۔
حضرت ابو قحافہ بن عثمان رضی اﷲ عنہ کا انتقال
اِس سال 14 ہجری میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے والد حضرت ابو قحافہ بن عثمان رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔علامہ عمادد الدین ابن کثیر لکھتے ۔آپ رضی اﷲ عنہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے والد محترم ہیں۔فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کیا۔جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ انہیں لیکر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ،تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”اے ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ !انہیں کیوں تکلیف دی،مجھے کہتے ،میں خود حاضر ہو جاتا۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا؛”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !یہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں دوڑ کر آنے کے زیادہ حقدار ہیں۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہیں اپنے سامنے بٹھا لیا،اور اُن کے لئے دعا فرمائی۔جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہوا ،اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو مسلمانوں نے اپنا خلیفہ بنا لیا ۔تب حضرت ابو قحافہ رضی اﷲ عنہ کو یہ بات بتائی گئی کہ آپ رضی اﷲ عنہ کے بیٹے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو مسلمانوں نے خلیفہ بنالیا ہے،تو انہوں نے پوچھا؛”کیا بنو ہاشم اور بنو مخزوم نے خلیفہ تسلیم کر لیا ہے؟“لوگوں نے جواب دیا؛”ہاں۔“یہ سن کر آ پ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”یہ اﷲ کا فضل ہے ،وہ جسے چاہے دے دیتا ہے۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ کو اپنے بیٹے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا بھی غم برداشت کرنا پڑا۔ اور 14 ہجری میں آپ رضی اﷲ عنہ کابھی انتقال ہوگیا۔
14 ہجری کے چند شہداءرضی اﷲ عنہم کے نام
خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت میں 14 ہجری میں مسلمان اُس وقت کی دونوں سوپر پاور سلطنت روم،اور سلطنت فارس سے نبرد آزما تھے۔اور مسلسل فتوحات ہوتی جارہی تھیں،لیکن اِس کے لئے مسلمانوں کو قربانیاں بھی دینی پڑ رہی تھیں،اور مسلمان شہید بھی ہو رہے تھے۔مسلمان شہداءکی تعداد تو کئی ہزار ہے،لیکن ہم یہاں صرف چند شہدا کے نام آپ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر ،امام ذہبی کے حوالے سے لکھتے ہیں۔حضرت اوس بن اوس بن عتیک رضی اﷲ عنہ جنگ جسر میں شہید ہوئے۔حضرت بشیر بن عنبس ظفری رضی اﷲ عنہ بھی جنگ جسر میں شہید ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ صحابی ہیں،اور حضرت قتادہ بن نعمان رضی اﷲ عنہ کے چچا ذاد بھائی ہیں۔”حواکے شہسوار“کے نام سے مشہور تھے،”حوا“آپ رضی اﷲ عنہ کے گھوڑے کا نام تھا۔حضرت ثعلبہ بن عمرو نجاری رضی اﷲ عنہ بدری صحابی ہیں،جنگ جسر میں شہید ہوئے۔حضرت حارث بن عتیک نجاری رضی اﷲ عنہ صحابی ہیں،غزوہ اُحد میں شریک ہوئے تھے،جنگ جسر میں شہید ہوئے۔حضرت خزیمہ بن اوس اشہلی رضی اﷲ عنہ جنگ جسر میں شہید ہوئے۔حضرت ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب رضی ا ﷲ عنہ اِسی سال شہید ہوئے یا انتقال ہوا۔حضرت زید بن سراقہ رضی اﷲ عنہ جنگ جسر میں شہید ہوئے ۔حضرت سعد بن سلامہ اشہلی رضی اﷲ عنہ ،ایک قول کے مطابق حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ ،حضرت سلمہ بن اسلم رضی اﷲ عنہ جنگ جسر میں شہید ہوئے۔ حضرت ضمرہ بن غزیہ رضی اﷲ عنہ جنگ جسر میں شہید ہوئے۔حضرت عباد،حضرت عبد اﷲ اور حضرت عبد الرحمن رضی اﷲ عنہم بنو مریع کے جنگ جسر میں شہید ہوئے۔حضرت عبد اﷲ بن صعصعہ انصاری نجاری غزوہ اُحد اور اُس کے بعد کے معرکوں میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہے،جنگ جسر میں شہید ہوئے۔حضرت عقبہ اور اُن کے بھائی حضرت عبد اﷲ رضی اﷲ عنم اپنے والد محترم حضرت قمطی بن قیس رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جنگ جسر میں شامل تھے،اور دونوں بھائی شہید ہوئے۔حضرت عمرو بن یسر رضی اﷲ عنہ جنگ جسر میں شہید ہوئے۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کا اِسی سال انتقال ہوا۔حضرت نافع بن غیلان رضی اﷲ عنہ جنگ جسر میں شہید ہوئے۔حضرت نوفل بن حارث بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کا اسی سال انتقال ہوا۔حضرت ابو عبید بن مسعود ثقفی رضی اﷲ عنہ جنگ جسر میں شہید ہوئے ،آپ رضی اﷲ عنہ ملک عراق میں مسلمانوں کے سپہ سالار تھے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں