ہفتہ، 5 اگست، 2023

15 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


15 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 15

حضرت عبد الرحمن بن عوف کا انتقال، ترکوں کا حملہ، ترکوں کو شکست، 33 ہجری :بغاوت کی چنگاری، مخالفین کی گستاخیاں، مخالفین الجزیرہ میں، 

حضرت عبد الرحمن بن عوف کا انتقال

اِسی سال 32 ہجری میں حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عبد الرحمن بن عوف بن حارث بن زہرہ بن کلاب بن مُرہ قرشی اور زہری ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی تحریک پر اسلام قبول کیا اور ”السابقون الاولون “ میں سے ہیں۔ملک حبشہ اور مدینۂ منورہ ہجرت کی اور سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ اور حضرت سعد بن ربیع رضی اﷲ عنہ کے درمیان ”مواخات “ کرائی ۔آپ رضی اﷲ عنہ ”بدری صحابی “ ہیں اور بعد کے سب معرکوں میں بھی شامل ہوئے ۔جب سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو لشکر دے کر بنو کلب کی طرف بھیجا تو سپہ سالار کی علامت کے طور پر آپ رضی اﷲ عنہ کے دونوں کاندھوں کے درمیان شملہ ڈھیلا کرنے کا حکم دیا تھا ۔آپ رضی اﷲ عنہ ” عشرۂ مبشرہ “ میں سے ہیں اور اسلام قبول کرنے والوں میں آٹھویں ہیں اور خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے مقرر کئے ہوئے چھہ” اصحابِ شوریٰ “ میں سے ہیں ۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں چار ہزار دینار اﷲ کی راہ میں دیا ، پھر چالیس ہزار دیا ،پھر چالیس ہزار دینار دیا ،پھر پانچ سو گھوڑے اﷲ کی راہ میں دیئے پھر پانچ سو اونٹ بھی اﷲ کی راہ میں دیئے ۔حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا اپنے گھر میں تھیں کہ مدینہ¿ منورہ میں شور اُٹھا ۔آپ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : ” یہ کیا ہے ؟“ لوگوں نے کہا : ” ملک شام سے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کا قافلہ ضرورت کی ہر چیز لئے ہوئے آیا ہے ۔“ وہ سات سو اونٹ تھے اور پورے مدینۂ منورہ شور مین کہرام مچ گیا ۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : ” میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ”میں نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کو گھٹنوں کے بل جنت میں داخل ہوتے دیکھا ہے ۔“ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کو اِس بات کی اطلاع دی گئی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اگر مجھے استطاعت ہوئی تو میں کھڑے ہو کر جنت میں داخل ہوں گا ۔“ اور آپ رضی اﷲ عنہ نے پورے سات سو اونٹوں پر لدا ہوا سامان اﷲ کی راہ میں دے دیا ۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کا جب انتقال ہونے لگا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے ”بدری صحابہ “ میں سے جو لوگ زندہ تھے اُن میں سے ہر ایک

کے لئے چار سو دینار کی وصیت کی ۔سب نے وہ دینار لئے حتیٰ کہ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی اور خلیفۂ چہارم حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے بھی وہ دینار لئے ۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ نے ہر اُمہات المومنین رضی اﷲ عنہم کے لئے اتنی بڑی رقم وصیت کی کہ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرمایا کرتی تھیں کہ ”اﷲ تعالیٰ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کو ”سلسبیل “سے سیراب کرے ۔“ اتنے سب کے علاوہ آپ رضی اﷲ عنہ بہت زیادہ مال چھوڑا تھا ۔اُس میں سونا اتنا تھا کہ اُسے تقسیم کرنے کے لئے کلہاڑوں سے توڑا گیا ،یہاں تک کہ توڑنے والوں کے ہاتھوں میں چھالے آگئے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ایک ہزار اونٹ ،ایک سو گھوڑے اور تین ہزار بکریاں بقیع میں چرتی ہوئی چھوڑیں ۔انتقال کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی چار بیویاں تھیں جن میں سے ہر ایک کو آٹھویں حصے کا چوتھائی ( پاؤ) حصہ اسی (80) ہزار دینار ملے ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے آپ رضی اﷲ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی اور ” جنت البقیع “ میں دفن کیا ۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ کا پچھتر(75) سال کی عُمر میں انتقال ہوا ۔

ترکوں کا حملہ

اِس سال کے آخر میں ترکوں نے مسلمانوں پر سرحدی علاقے خراسان پر حملہ کر دیا ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : 32 ہجری کے آخر میں خراسان پر ترکوں نے حملہ کیا اور اہل بادنمیں ، اہل ہرات اور اہل قوہستان نے اُن کا ساتھ دیا ۔چالیس ہزار کا لشکر لیکر ترکی کا بادشاہ قار ن خراسان کی طرف بڑھا ۔خراسان میں اُن دنوں قیس بن ہیشم گورنر تھے اُن کوعبد اﷲ بن عامر نے خراسان کا گورنر بنایا تھا ۔اُن کے ساتھ اُن کا چچا زاد بھائی عبد اﷲ بن حاز م بھی تھا ۔اُس نے عبد اﷲ بن عامر سے درخواست کی کہ مجھے لکھ کر دیں کہ قیس بن ہیشم کے بعد مجھے خراسان کا گورنر بنایاجائے ۔عبد اﷲ بن عامر نے اُسے لکھ کر دے دیا۔جب ترکی کالشکر خراسان کے قریب پہنچ گیا تو قیس بن ہیشم نے عبد اﷲ بن حازم سے پوچھا : ” تمہاری کیا رائے ہے ۔“اُس نے کہا : ” آپ گورنری سے استعفاءدے دیں اور واپس چلے جائیں کیونکہ میں اب یہاں کا گورنر ہوں ۔“ یہ کہہ کر اُس نے عبد اﷲ بن عامر کی دی ہوئی سند بتائی تو قیس بن ہیشم خاموشی سے عبد اﷲ بن عامر کے پاس آگئے ۔

ترکوں کو شکست

اِس کے بعد عبد اﷲ بن حازم مسلمانوں کا لشکر لیکر ترکوں کے لشکر کے مقابلے پر آئے ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : عبد اﷲ بن حازم چار ہزار مسلمانوں کا لشکرلیکرترکوں کے مقابل آئے اور دونوں لشکروں کی مڈ بھیڑ کھلے میدان میں ہوئی ۔رات میں عبد اﷲ بن حازم نے ترک لشکر پر شب خون مارنے کا منصوبہ بنایا اور چند سو مسلمانوں کا ایک لشکر شب خون مارنے کے لئے ترتیب دیا ۔باقی پورے لشکر سے کہا کہ رات میں اپنے اپنے نیزوںپر کپڑا لپیٹ کر تیل سے تر کر کے روشن کر لیں ۔ ترکوں نے چاروں طرف مشعلیں روشن دیکھ کر ہمت ہار دی اور عبد اﷲ بن حازم نے انہیں ہر طرف سے گھیر کر حملہ کر دیا ۔ترک بادشاہ قرن مارا گیا اور ترکی فوجی میدان جنگ سے بھاگنے لگے مسلمان مجاہدین نے اُن کا تعاقب کیا اور ہزاروں کو قتل اور قید کیا ۔فتح حاصل ہونے کے بعد عبد اﷲ بن حازم نے عبد اﷲ بن عامر کے پاس فتح کی خوش خبری اور مال غنیمت کا خمس بھیجا ۔اِس کے بعد عبد اﷲ بن حازم جنگ جمل تک خراسان کے گورنررہے ۔

33 ہجری :بغاوت کی چنگاری

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے خلاف بغاوت کی پہلی چنگاری 33 ہجری میں بھڑکی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : سعید بن عاص جن کو ولید بن عتبہ کے بعد خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے کوفہ کا گورنر بنایا تھا وہ رات کے وقت کوفہ کے معزز لوگوں کو جمع کر کے داستان گوئی کرتے تھے۔ایک رات محفل میں دوسرے لوگوں کے ساتھ یہ چار افراد بھی شامل تھے ۔ (1) مالک بن کعب ارعبسی (2) اسود بن یزید نخعی (3) علقمہ بن قیس نخعی (4) مالک الاشتر۔اُس رات سعید بن عاص نے کہا : ” یہ سواد ِ کوفہ قریش کا باغ ہے ۔“ اِس پر اشتر نے کہا : ” کیا تمہارا خیال ہے کہ یہ علاقے جسے اﷲ نے بزور شمشیر مال غنیمت میں ہمیں دیا ہے تمہارا اور تمہاری قوم کا باغ ہے ؟ اﷲ کی قسم ! تمہارا بڑے سے بڑا حصہ دار بھی ہمارے برابرہے ۔“ اُس کی تائید میں دوسرے لوگ بولنے لگے ۔ عبد الرحمن اسدی کو سعید بن عاص نے کوفہ کا کوتوال بنایا تھا ۔اُس نے کہا :” کیا تم امیر کی گفتگو کی مخالفت کر رہے ہو ؟“ اور انہیں سخت سست کہا ۔اِ س پر اشتر نے کہا : ” دیکھو یہ شخص جانے نہ پائے ۔“ اُس پر لوگ ٹوٹ پڑے اور اُسے اِس قدر مارا کہ وہ بے ہوش ہو گیا پھر اُس کی ٹانگ کھینچ کر اُسے لٹا دیا ۔جب اُسے ہوش آیا تو سعید بن عاص نے اُس سے پوچھا : ” کیا تم زندہ ہو ؟“ اُس نے کہا : ” مجھے آپ کے انتخاب کردہ رہنماؤں نے مار ڈالا ۔“ اِس پر سعید بن عاص نے کہا : ” اﷲ کی قسم ! اب میری مجلس میں اِن میں سے کوئی شریک نہیں ہو گا ۔“ اِس واقعہ کے بعد یہ لوگ اپنی مجلسوں اور گھروں میں بیٹھ کر خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور سعید بن عاص کے خلاف بولنے لگے اور لوگوں کو بھڑکانے لگے ۔اِن لوگوں کے پاس دوسرے لوگ بھی آنے لگے اور جب یہ تعداد زیادہ بڑھ گئی تو سعید بن عاص نے خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو خط لکھا : ” کوفہ کے چند لوگ جن کی تعداد دس (10) تک ہے ۔وہ جمع ہو کر آپ رضی عنہ اور میرے خلاف عیب گوئی کر رہے ہیں اور لوگوں کو بھڑکا رہے ہیں اور ہماری دینداری پر بھی طعن و تشنیع کر رہے ہیں ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر اِن لوگوں کا یہ سلسلہ اِسی طرح جاری رہا تو مخالفین کی تعداد زیادہ ہو جائے گی ۔“

مخالفین کی گستاخیاں

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو جب سعید بن عاص کا خط ملا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں لکھا کہ مخالفین کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے پاس بھیج دو ۔وہ انہیں سمجھا دیں گے ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے انہیں لکھا کہ مخالفین کو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیج دو اور ملک شام کے گورنر حضرت معاویہ بن ابی سفیان کو لکھا کہ آپ کے پاس کچھ قاری آرہے ہیں ،اُن کی مہمان نوازی کریں اور اُن کا اکرام کریں اور اُن سے دوستی کریں ۔جب یہ لوگ ( مخالفین) آئے تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے اُن کی مہمان نوازی کی اور اکرام کیا اور اُن کے ساتھ مل بیٹھے اور انہیں وعظ و نصیحت کی ۔اُن کے ترجمان نے آپ رضی اﷲ عنہ کو ایسی گفتگو میں جواب دیا جس میں قباحت اور شناعت پائی جاتی تھی ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان نے اپنے حلم کی وجہ سے برداشت کیا اور انہیں دوبارہ نصیحت کی مگر وہ اپنی سرکشی میں بڑھنے لگے اور اپنی حماقت اور جہالت پر ڈٹنے لگے ۔اِس موقع پر آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں ملک شام سے جلا وطن کردیا کہ وہ کمینے لوگوں کی عقلوں کو مسخ نہ کردیں ۔یہ لوگ خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ اور سعید بن عاص کو سب و شتم کرتے تھے اور یہ دس آدمی تھے اور بعض کا قول ہے کہ نو آدمی تھے ۔ (1) کمیل بن زیاد (2) اشتر نخعی اِس کا نام مالک بن یزید ہے (3) علقمہ بن قیس نخعی (4) ثابت بن قیس نخعی (5) جندب بن زہیر عامری (6) جندب بن کعب ازدی (7) عروة بن جعد (8) عمرو بن حمق خزاعی (9) صعصعہ بن صوحان ( علامہ محمد بن جریر طبری کے مطابق اِسی نے ترجمان کے فرائض انجام دیئے تھے ) اور (10) زید بن صوحان ۔علامہ ابن کثیر کے مطابق آخری کے دو آدمیوں کے نام مصری نسخہ میں لکھے ہیں ۔

مخالفین الجزیرہ میں

جب یہ لوگ دمشق سے نکلے تو ” الجزیرہ “ میں جا کر پناہ لی ۔( الجزیرہ پرانے زمانے میں سلطنت روم اور سلطنت فارس کے درمیان کا آزاد علاقہ تھا ۔جب مسلمانوں نے دونوں حکومتوں کا خاتمہ کیا تو الجزیرہ بھی فتح ہو گیا اور ملک شام کے قریب ہونے کی وجہ سے یہ اس کے ماتحت ہو گیا ) الجزیرہ میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو نائب بنایا تھا پھر بعد میں ”حمص “ کے گورنر بنے ۔انہوں نے اِن سے ملاقات کی اور انہیں ڈرایا دھمکایاتو انہوں نے معذرت کی اور اپنی روش سے باز آجانے کی طرف رجوع کیا ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مالک اشتر نخعی کو اپنے ساتھیوں کی طرف سے خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے پاس معذرت کرنے کو بھیجا ۔خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اُن کی معذرت کو قبول کیا اور انہیں اختیار دے دیا کہ وہ جہاں چاہیں مقیم ہو جائیں ۔انہوں نے حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے علاقے میں رہنا پسند کیا اور حمص آگئے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں سمندر کے کنارے رہنے کا ٹھکانہ دیا اور اُن کے وظائف جاری کر دیئے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں