بدھ، 2 اگست، 2023

15 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


15 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 15

جنگ قادسیہ کے بھگوڑے فارسی کمانڈر، خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی انکساری، فتح کی خوش خبری کا خط، میں بادشاہ نہیں ہوں، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے نام خطوط، صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ، صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کا متفقہ فیصلہ، خلیفۂ دوم کا جواب، شاہی خاندان کی زمینیں، بصرہ ”ارض الہند“(ہند ستان کی سرحد)کی طرف لشکر کی روانگی, ارض الہند میں فتح، بصرہ کی تعمیر

جنگ قادسیہ کے بھگوڑے فارسی کمانڈر

مسلمانوں کو جنگ قادسیہ میں فتح حاصل ہوئی،اور فارسیوں کو شکست فاش ہوئی۔اِس جنگ سے بہت سے فارسی کمانڈر بھاگ گئے۔لیکن کچھ فارسی خوش نصیب بھی تھے،انہوں نے اسلام قبول کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔دیلم اور بعض دوسری فارسی فوجی چوکیوں کے افسران نے جزیہ دینا منظور کر لیا تھا۔جنگ قادسیہ سے پہلے انہوں نے حضرت سعد رضی اﷲ عنہ سے فارسیوں کے خلاف جنگ میں شامل ہو نے کی درخواست دی،جسے آپ رضی اﷲ عنہ نے قبول کر لیا۔پوری جنگ قادسیہ میں وہ مسلمانوں ساتھ رہے،اور جب مسلمانوں کو فتح حاصل ہو گئی تو انہوں نے کہا؛”ہمارے وہ فارسی بھائی جنہوں نے شروع سے اسلام قبول کر لیا تھا،وہ ہم سے زیادہ عقلمند اور بہتر ہیں۔اﷲ کی قسم!اہل فارس رستم کے مرنے کے بعد بھی کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔سوائے اِس صورت کے ،کہ وہ اسلام قبول کر لیں۔“اور اِسکے بعد انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔جنگ قادسیہ میں شکست کھانے کے بعد جو کمانڈر بھاگے ،اُ ن میں سے چند کے نام یہ ہیں۔(1)ہرمزان،جو حضرت عطارد کے مقابلے پر تھا۔(2)اہود،جو حضرت حنظلہ بن ربیع رضی اﷲ عنہ (کاتب وحی) کے مقابلے پر تھا۔(3)زاذ بن بھیش،جو حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر تھا۔(4)قارن،جو حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر تھا۔اِن کے علاوہ جو فارسی کمانڈر قتل ہوئے ،اُن میں سے چند کے نام یہ ہیں۔(1)شہر یار بن کنارہ،جو حضرت سلمان کے مقابلے پر تھا۔(2)ابن الہرید،جو حضرت عبد الرحمن کے مقابلے پر تھا۔(3)فرخان اہوازی،جو حضرت بسر بن ابی اہم جہنی کے مقابلے پر تھا۔خسرو شنوم عبدانی ،جو حضرت ابن الہذیل کابلی کے مقابلے پر تھا۔

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی انکساری

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا یہ معمول تھا کہ خلافت کے تمام اُمور نبٹانے کے بعد مدینہ منورہ کے باہر آکر ٹھہر جاتے ،اور ہر آنے جانے والے سے ملک شام ،اور ملک عراق کے حالات دریافت فرماتے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کو قادسیہ کے میدان میں رستم کے آنے کی اطلاع ملی تو وہ (مدینہ منورہ میں)آنے والے سواروں سے قادسیہ کے بارے میں دریافت کرتے تھے۔جب قادسیہ میں مسلمانوں کی فتح کی خوش خبری دینے والا قاصد پہنچا،تو آپ رضی اﷲ عنہ اُس کے پاس بھاگ کر پہنچے۔اور اُس کے اونٹ کے ساتھ دوڑتے ہوئے پوچھا کہ وہ کہاں سے آرہا ہے؟قاصد نے جواب دیا کہ قادسیہ سے آرہا ہوں،اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی ہے،اور دشمنوں کو شکست دے دی ہے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اُس کے اونٹ کے ساتھ دوڑتے جا رہے تھے،اور حالات دریافت کرتے جا رہے تھے۔قاصد اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر جا رہا تھا،وہ آپ رضی اﷲ عنہ کو پہچانتا نہیں تھا۔جب آپ رضی اﷲ عنہ اُس کے ساتھ دوڑتے ہوئے مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو وہاں کے مسلمان انہیں ”امیر المومنین“کے خطاب سے سلام کرنے لگے۔اُس وقت قاصد نے بھی آپ رضی اﷲ عنہ کو پہچانا ،اور جلدی سے اونٹ روک کر نیچے اُتر آیا،اور بولا؛”اﷲ تعالیٰ ۔آپ رضی اﷲ عنہ پر رحم فرمائے،آپ رضی اﷲ عنہ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے بھائی!کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔“امام ابن اثیر لکھتے ہیں۔اونٹ سوار قاصد کی رکاب پکڑے ہوئے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ دوڑتے جا رہے تھے،اور برابر حالات پوچھتے جارہے تھے۔جب مدینہ منورہ میں پہنچے تو اونٹ سوار نے دیکھا کہ جو لوگ ملتے ہیں،وہ اِن کو ”امیر المومنین“کہہ کر پکارتے ہیں۔یہ دیکھ کر وہ خوف سے کانپ اُٹھا،اور جلدی سے عرض کیا؛”امیر المومنین!آپ رضی اﷲ عنہ نے مجھے اپنا نام کیوں نہیں بتایا؟مجھ سے یہ بہت بڑی گستاخی ہوگئی ہے۔“حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”بھائی کوئی حرج نہیں ہے،تم سلسلہ¿ کلام منقطتع نہ کرو۔“ 

فتح کی خوش خبری کا خط

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں فتح کی یہ خوش خبری لیکر آنے والے حضرت سعد بن عمیلة فرازی تھے۔وہ خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کو نہیں پہچانتے تھے،لیکن جیسے اُنہیں یہ معلوم ہوا تو وہ فوراً اپنے اونٹ سے اُتر گئے،اور حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے ہاتھوں لکھا ہوا فتح کی خوش خبری کا خط خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کو دیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو خط لکھا۔جس میں آپ رضی اﷲ عنہ کو فتح کی خوش خبری دی،اور مسلمانو ں کے شہیدوںاور فارسیوں کے مقتولوں کے متعلق بتایا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے یہ خط حضرت سعد بن عمیلة فرازی کے ہاتھوں بھیجا تھا۔جس کی تحریر یہ ہے۔ ”امابعد!اﷲ تعالیٰ نے ہمیں فارسیوں(ایرانیوں) پر فتح عطا فرمائی ہے۔اور طویل قتال اور شدید مصائب و خطرات کے بعد ہم نے انہیں اُن طریقوں کی اجازت دے دی ،جو اُن سے پہلے اُن کے اہل دین کو حاصل تھے۔اور انہوں نے مسلمانوں سے اتنے زیادہ مقدار کے سامان سے جنگ کی کہ دیکھنے والوں نے اِس سے پہلے اتنی مقدار کبھی نہیں دیکھی تھی۔پس اﷲ تعالیٰ نے انہیں اُس سے فائدہ اُٹھانے نہیں دیا،بلکہ اُن سے سامان چھین کر مسلمانوں کو عطا فرما دیا۔اور مسلمانوں نے دریاو¿ں،جنگلوں،گنجان درختوں کی قطاروں،اور پہاڑی دروں میں اُن کا تعاقب کیا۔اور مسلمانوں میں سے حضرت سعد بن عبید قاری اور فلاں فلاں شہید ہوئے۔اور مسلمانوں میں سے ایسے آدمی بھی شہید ہوئے ،جنہیں اﷲ تعالیٰ کے سوا کو ئی نہیں جانتا ہے۔اور جب رات چھا جاتی تھی ،تو وہ شہد کی مکھیوں کی طرح قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے،اور دن کو شیر بن جاتے تھے۔اور شیر بھی اُن کی طرح نہیں کرسکتے تھے۔اور اِن میں سے شہید ہونے والے ،زندہ رہنے والوں شہادت کی فضیلت کی وجہ سے بڑھ گئے ہیں۔“

میں بادشاہ نہیں ہوں

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ کی خدمت میں جب قاصد قادسیہ کی فتح کی خوش خبری لیکر آیا،اور مال غنیمت آگیا۔تب آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو جمع کر کے خطبہ دیا،اور مال غنیمت مسلمانوں کے درمیان تقسیم فرما دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے پاس فتح نامہ پہنچا تو وہ مسلمانوں سے مخاطب ہو کر اُسے سنایا۔اور لوگوں سے فرمایا؛”میری انتہائی کو شش ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ،میں مسلمانوں کی ہر ضرورت کو پورا کروں۔اگر ہماری کوئی ضرورت نہ پوری ہو سکے ،تو ہم کفایت شعاری سے کام لیں،تاکہ معیار زندگی برابر رہ سکے۔میں چاہتا ہوں کہ تم میری ذات سے اچھی طر ح واقف ہو جاؤ،کیونکہ میں صرف عمل کے ذریعے تعلیم دوں گا۔میں بادشاہ نہیں ہو ں کہ تمھیں غلام بنا لوں،بلکہ میں صرف اﷲ کا ایک بندہ ہوں۔مجھے (خلافت کی)امانت ذمہ داری سونپی گئی ہے،اگر میں اِس سے انکار کر دوں ،اور لوٹا دوں۔(اِس حال میں کہ)تم اپنے گھروں میں شکم سیر ہو کر ،اور سیراب ہو کر زندگی بسر کرو۔اور میں تمہاری اتباع کروں تو میں اپنے آپ کو بہت خوش نصیب سمجھوں گا۔اگر میں اِس امانت کے بوجھ کو اُٹھا کر تمہیں اپنے فائدے کے لئے تابعدار بنا لوں ،تو یہ میری انتہائی بد نصیبی ہو گی۔اور اِس عمل سے مجھے تھوڑی خوشی ہو گی،اور رنج زیادہ ہو گا،اور میں کبھی معاف نہیں کیا جاو¿ں گا۔در حقیقت جو کوئی اپنی نفسانی خواہش کی پیروی اور نافرمانی کرے گا،اُس کا حصہ ساقط ہو جائے گا،اور وہ صرف اپنا ہی نقصان کرے گا۔اور جو کوئی سنت اور شریعت پر عمل کرے گا،اور سیدھے راستے پر چلے گا۔وہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں ثواب کا خواہاں ہو گا،جو اُس نے فرماں برداروں کے لئے رکھا ہوا ہے۔تو اُس کا کام درست ہو گا،اور وہ اپنی زندگی میں کامیاب ہو گا۔کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے؛(ترجمہ)”انہوں نے جو عمل کیا ہے،وہ اُسے موجود اور حاضر پائیں گے،اورتمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا ہے۔“امام ابن اثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اہل مدینہ منورہ کو جمع کرکے قادسیہ میں فتح کی خوش خبری سنائی ۔اور ایک نہایت پُر اثر خطاب فرمایا،جس کے آخری الفاظ یہ ہیں؛”بھائیو!میں بادشاہ نہیں ہوںکہ تم کو اپنا غلام بناو¿ں۔میں تو خود اﷲ تعالیٰ کا غلام ہوں،البتہ خلافت کا بوجھ ضرور میرے سر پر ہے۔اگر میں اِس طرح کام کروں کہ آپ لوگ اپنے مکانوں میں آرام سے سوو¿،تو یہ میری خوش نصیبی ہو گی۔اور اگر میری یہ خواہش ہو کہ تم میرے دروازے پر حاضر ہو ،تو یہ میری بد بختی ہو گی۔میں تم کو قول سے نہیں بلکہ عمل سے تعلیم دیتا ہوں۔“

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کے نام خطوط

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے قادسیہ میں فتح کے بعد مسلسل کئی خطوط خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے پاس لکھے۔اور اِن میں آگے کے لئے ہدایات مانگیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے پہلے خط میں قادسیہ کی جنگ کی تفصیل اور فتح کی خوش خبری لکھ کر بھیجی تھی،اور دوسرے خط میں ملک شام سے آئے ہوئے امدادی لشکر کے بارے میں ہدایات مانگی تھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ملک عراق کے وہ مجاہدین جو ملک شام حضرت خالد بن ولید رضی اﷲعنہ کے ساتھ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کی امداد کے لئے گئے تھے،وہ خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے حکم سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی امداد کے لئے ملک عراق واپس آگئے تھے۔اُن کا آخری امدادی لشکر قادسیہ میں فتح کے دو دن بعد آیا۔اِس میں بنو مُراد اور بنو ہمدان کے قبائل کے اور دوسرے مختلف قبائل کے مجاہدین شامل تھے۔اِن کے بارے میں خلیفہ ¿ دوم کے پاس خط لکھا گیاکہ اِن کے بارے میں کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟یہ قادسیہ میں فتح کے بعد دوسرا خط تھا،جو حضرت نذیر بن عمرو کے ہاتھوں بھیجا گیا۔اِس میں لکھا تھا کہ ”اہل سواد (ملک عراق کے دیہاتی)نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے پہلے سے ہی (حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے)سے معاہدے کر رکھے ہیں۔جہاں تک ہمیں معلوم ہے،اہل بانقبا و سما،اور اہل اُلیس معاہدوں پر قائم رہے۔اور دوسرے لوگوں نے معاہدے کی پابندی نہیں کی۔یہ اہل سواد لوگ معذرت کرتے ہیں کہ فارسیوں نے انہیں مجبور کر کے اپنے ساتھ ملایا تھا۔لہٰذا انہوں نے (اپنی مرضی سے )ہماری مخالفت نہیں کی،اور نہ وہاں سے گئے۔“ہم ایک ایسی نہایت عمدہ سرزمین میں ہیں،جو اپنے رہنے والوں سے خالی ہے۔ہماری تعداد قلیل ہے ،اور اہل صلح زیادہ ہو گئے ہیں،دشمن کو کمزور کرنے کے لئے اُن کے ساتھ رعایت کرنے کی ضرورت ہے۔“

صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو قادسیہ سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے جو خطوط روانہ کئے ۔انہیں پڑھنے کے بعد خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ کو جمع فرماکر اُن سے مشورہ طلب فرمایا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سے فرمایا؛”گذشتہ جنگوں کے مجاہدین اور قادسیہ کے فاتح اپنے علاقوں پر قابض ہو گئے ہیں،اور وہاں کے فارسی لوگ جلا وطن ہو گئے ہیں۔اِس کے بعد وہ لوگ آئے،جو اپنے معاہدے پر قائم تھے۔اُن لوگوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟جن کو زبردستی کر کے مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شامل کیا گیا تھا،اور اِس پر معذرت کر رہے ہیں۔اِن کے علاوہ کچھ ایسے لوگ ہیں،جو نہ تو اِس قسم کا کوئی دعویٰ کرتے ہیں،اور نہ وہ اِس علاقے میں(جنگ کے دوران) رہے،بلکہ اپنے علاقے سے چلے گئے تھے۔اور کچھ ایسے ہیں،جو وہیں مقیم رہے،اور وہاں سے نہیں گئے۔اور کچھ ایسے ہیں ،جنہوں نے اطاعت قبول کر لی ہے۔

صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کا متفقہ فیصلہ

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی بات سن کر تمام صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے مشورہ کیا،اور اتفاق رائے سے ایک فیصلے پر قائم ہو گئے۔اور انہوں نے خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کو ایک ہی مشورہ دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔لہٰذا صحابہ¿ کرام نے اتفاق ِرائے سے یہ مشورہ دیا۔”جو وہیں مقیم رہے،اور جنگ سے باز رہے،تو اُن کے معاہدے کی پابندی کی جائے،اور اُن سے ایفائے عہد کیا جائے۔اور جو معاہدے کے دعویدار ہوں،اور اُن کے معاہدے کی تصدیق ہو جائے،یا اُن کی معاہدے پر پابندی ثابت ہو جائے،تو اُن کا بھی یہی حکم ہے۔اور جن کے دعوے جھوٹے ثابت ہوں،تو اُن کے دعوے رد کر دیئے جائیں۔اُن کے ساتھ دوبارہ نئے سرے سے صلح کی جائے۔اور جو لوگ اپنی زمینوں پر چلے گئے ہیں،تو اُن کا فیصلہ وہیں کے مسلمانوں پر چھوڑ دیا جائے۔اگر وہ چاہیں تو اُن سے مصالحت کرلیں،اور وہ لوگ مسلمانوں کے ذمی بن جائیں۔اور اگر وہ مناسب سمجھیں تو اُن کی زمینیں انہیں نہیں دیں،اور اُن سے جنگ کریں۔اور جو اقامت اختیار کرے ،اور اطاعت قبول کرلے، تو اِس کے بارے میں انہیں اختیاردیا جائے کہ وہ یا تو جزیہ دیں،یا جلا وطن ہو جائیں۔یہی حالت کسانوں کی بھی ہو گی۔“

خلیفۂ دوم کا جواب

حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشور ہ کرنے کے بعد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو لکھا۔”حمد و ثناءکے بعدواضح ہو کہ اﷲ بزرگ و برتر نے ہر چیز میں بعض حالات کے مطابق سہولت اور رعایت رکھی ہے۔مگر دو چیزوں میں رعایت نہیں ہے۔ایک ”عدل و انصاف“اور دوسری چیز”عبادت و ذکر “ہے۔ذکر و عبادت میں تو کسی بھی حالت میں رعایت نہیں ہے،اور ذکر کثیر کے بغیر اﷲ تعالیٰ رضا مند نہیں ہو تا ہے۔عدل و انصاف میںبھی قریب و بعید ،سختی و نرمی،کسی حالت میں بھی رعایت نہیں ہے۔عدل وانصاف نرم نظر آتا ہے،مگر یہ سب سے زیادہ طاقتور چیز ہے۔یہ ظلم و ستم کی آگ کو بجھاتا ہے،اور جور و ظلم سے زیادہ باطل پرستی کا قلع قمع کرتا ہے،اور کفر کو سرنگوں کرتا ہے۔لہٰذا اہل سواد میں سے جو کوئی اپنے معاہدے پر قائم ہو، اور اُس نے تمہارے خلاف دشمن کی مدد نہیں کی ہو۔تو وہ تمہاری ذمی رعایا ہیں،اور اُن پر جزیہ ادا کرنا لازمی ہے۔مگر جو کوئی یہ دعویٰ کرے کہ اُس پر زبردستی کی گئی تھی،اور وہ وہاں سے چلا گیا تھا، تو اُس کے دعووں کو رد کر دو،اِس کے باوجود انہیں حفاظت سے امن کی جگہ پہنچا دو۔جو لوگ اپنے مقام پر جمے رہے،اور وہاں سے چلے نہ گئے ہوں،اور انہوں نے کوئی معاہد ہ نہ کیا ہو۔ تو چونکہ وہ تمہارے لئے اپنی جگہ برقرار رہے،اور تمہاری مخالفت نہیں کی ۔اِسی لئے اُن کا یہ رویہ معاہدے کے برابر ہے۔کسان اور کھیتی باڑی کرنے والے (فلاحین)بھی اگر یہ رویہ اختیار کریں تو اُن کے لئے بھی یہی حکم ہے۔جو کوئی اِس بات کا دعویٰ کرے ،اور اُس کا دعویٰ صحیح ثابت ہو جائے ،تو وہ ذمی ہے۔اور اگر اُن کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہو تو اُسے رد کر دو۔اگر تم چاہو تو اُنہیں اِس بات کی دعوت دو کہ اپنی اراضی میں مقیم ہو جائیں ۔ اور جزیہ دے کر مسلمانوں کی ذمہ داری میں آجائیں،اور اگر وہ نہیں آنا چاہیں تو اُن کی زمینوں کو اپنا سمجھ کر آپس میں تقسیم کر لو۔“حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے اِن تمام ہدایات پر عمل کیا۔

شاہی خاندان کی زمینیں

قادسیہ کی جنگ میں جو سپہ سالار مارے گئے ،یا بھاگ گئے،اُن کی زمینوں اور جاگیروں کو مال غنیمت میں شامل کر لیا گیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔صلح اور معاہدے میں وہ زمینیںاور جاگیریں شامل نہیں کی گئیں،جو شاہی خاندان کی تھیں۔یا اُن لوگوں کی تھیں جو فارسی حکام کے ساتھ سلطنت فارس کے دارالحکومت چلے گئے تھے۔اور انہوں نے اِن دو چیزوں میں سے کسی ایک کو تسلیم نہیں کیا تھا۔(1)اسلام قبول کر لیں،(2)جزیہ دینا قبول کر لیں۔اِسی لئے اُن کی زمینیں اور جاگیریں مال غنیمت میں شامل ہو گئیں۔اور وہ تمام علاقہ مسلمانوں نے اپنے قبضے میں لے لیا۔باقی سواد کا علاقہ ذمیوں کے ہاتھوں میں رہا۔اور اُن سے کسریٰ کے خراج کے مطابق ہی وصول کیا جاتا تھا۔کسریٰ کا خراج مردوں پر اُن کے مقبوضہ مال اور حصوں کے مطابق ہوتا تھا۔مال غنیمت میں شاہی خاندان اور اُن کے متعلقین اور اُن کے اہل و عیال کی جائدادیں،جاگیریں اور زمینیں شامل تھیں۔آتش کدوں(فارسی آتش پرست یعنی آگ کی پوجا کرنے والے تھے)،جنگلوں ،تالابوں،اور گلیوں وغیرہ کی زمینیں شاہی خاندان اور اُن کے متعلقین سے الگ تھیں۔کیونکہ یہ ملک عراق کے تمام دیہاتوں میں پھیلی ہوئی تھی۔

جنگ قادسیہ کی تاریخ میں اختلاف

اﷲ تعالیٰ نے جنگ قادسیہ میں مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔یہ جنگ کب ہوئی ؟اِس بارے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔کچھ علمائے کرام کے مطابق جنگ قادسیہ 14 ھجری میں ہوئی،کچھ علمائے کرام کے مطابق 15 ھجری میں ہوئی ،اور کچھ علمائے کرام کے مطابق 16 ھجری میں ہوئی۔اب حقیقت کیا ہے؟اِس کا علم صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ علامہ محمد بن جریر طبری یقینی طور سے کہتے ہیں کہ جنگ قادسیہ 14ھجری میں ہوئی۔

بصرہ ”ارض الہند“(ہند ستان کی سرحد)کی طرف لشکر کی روانگی

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ کو ایک چھوٹا سا لشکر دیکر” ارض الہند “کی طرف بھیجا۔اب وہاں بصرہ نامی ایک بہت بڑا شہر آباد ہے۔جسے انہوں نے ہی بسایا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مہران مسلمانوں سے جنگ کے دوران ماہِ صفر المظفر ۴۱ ھجری میں قتل ہوا ۔اِس موقع پر خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ سے فرمایا؛”اﷲ بزرگ و برتر نے تمہارے ساتھیوں کو فارسیوں اور اُس کے گردو نواح کے بھائیوں پرفتح عطا فرمائی ہے،اور دشمنوں کی ایک بہت بڑی شخصیت ماری گئی ہے۔ اِس لئے مجھے اندیشہ ہے کہ اہل فارس اُن کی امداد کریں گے۔لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ میں تمہیں ہند کی سرحد کی طرف روانہ کر دوں۔تاکہ تم اُس علاقے کے فارسیوں سے اپنے بھائیوں کی حفاظت کرو۔اور انہیںمسلمانوں کے خلاف فارسیوں کی مدد کرنے کے لئے پہنچنے نہ دو۔اور اگر اُن سے جنگ کی نوبت آئے تو یقینا اﷲ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ کو تین سو تیرہ مجاہدین کا لشکر دیکر بصرہ کے علاقے کی طرف بھیجا،اور اعرابی (دیہاتی)بھی آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ شامل ہو گئے۔جس کی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ کے لشکر کی تعداد پانچ سو ہو گئی۔آپ رضی اﷲ عنہ وہاں ماہ ِ ربیع الاول ۴۱ ھجری میں اُترے۔اُن دنوں بصرہ کو ”ارض الہند“کہا جاتا تھا۔وہاں پر سفید کھردرے پتھر تھے،اور آپ رضی اﷲ عنہ وہاں پڑاو¿ ڈالنے کے لئے جگہ تلاش کرنے لگے۔یہاں تک کہ وہ ایک چھوٹے پُل کے سامنے آگئے،وہاں انہوں نے دیکھا کہ ڈب اور سرکنڈے اُگے ہوئے ہیں۔انہوں نے وہیں پڑاؤ ڈال دیا۔

ارض الہند میں فتح

حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ نے ایک غیر آباد جگہ پر پڑاو¿ ڈالا۔اُس زمانے میں ہندوستانی سمندر کے راستے سے اِس علاقے میں آکر اترتے تھے اوریہیں سے ملک عراق میں داخل ہوتے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔بصرہ اُس زمانے میں ارض الہند (ہندوستان کی سرحد )کہلاتا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ ”خربیہ“کے مقام پر اُترے۔وہاں پہنچ کر انہوں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اِس مقام کا حال لکھ بھیجا۔خلیفہ¿ دوم رضی ا ﷲ عنہ نے تحریر فرمایا؛”آپ رضی اﷲ عنہ سب مسلمانوں کو ایک ہی مقام پر رکھیں،اور منتشر نہ ہونے دیں۔“حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ وہاں کئی مہینے قیام پذیر رہے،اِس دوران کوئی بھی مقابلے کے لئے نہیں آیا۔قریب میں ہی حاکم فرات کی حکومت تھی،وہ فارسیوں کی مدد کے لئے جانا چاہتا تھا،لیکن اُس کے راستے میں مسلمان حائل تھے۔اُس نے کئی مہینے انتظار کیا کہ مسلمان یہاں سے واپس چلے جائیں ،لیکن جب اُس نے دیکھا کہ مسلمان وہاں سے ہٹ نہیں رہے ہیں ۔توآپ رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر حاکم ِ فرات چار ہزار تیر اندازوں کے ساتھ آیا۔دونوں لشکروں کے درمیان شدید جنگ ہوئی ،چونکہ مسلمان مجاہدین جذبہ¿ شہادت سے سرشار تھے۔اِس لئے بڑھ بڑھ کر حملہ کر رہے تھے،اور حاکم ِ فرات اور اُس کی فوج کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ مسلمانوں کے جوش و جذبے کا کس طرح مقابلہ کریں۔آخرکا ر انہیں شکست ہوئی ،اور حاکم فرات کو قید کرلیا گیا۔

حضرت عتبہ بن غزوان کا خطاب

حضرت عتبہ بن غزوانر رضی اﷲ عنہ اور مسلمانوں کو اﷲ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر آگے لکھتے ہیں۔اِس کے بعد حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ نے مجاہدین کے سامنے کھڑے ہو کر خطاب فرمایا؛”اما بعد!بے شک دنیا نے اپنے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے،اور پیٹھ پھیر کر مقابل سے چلی گئی ہے۔اور اِس میں اِتنا ہی باقی رہ گیا ہے ،جتنا برتن میں بچا کھچا پانی ہوتا ہے۔اور تم دنیا کو چھوڑ کر ”دارالقرار“میں منتقل ہونے والے ہو۔پس تم اپنے جمع کئے ہوئے اعمال کے ساتھ منتقل ہو گے۔اور مجھے بتایا گیا ہے کہ اگر جہنم کے کنارے سے پتھر پھینکا جائے تو وہ ستر سال تک گرتا ہی چلا جائے گا،تب وہ اُس کی سطح پر لگے گا۔کیا تم حیران ہوتے ہو؟اور مجھے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنت کے دو کواڑوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت ہے۔اور ضرور اُس پر ایسا دن آئے گا کہ وہ (جنت میں داخل ہونے والی لوگوں کی)بھیڑ کی وجہ سے تنگ ہو جائے گا۔اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں ساتوں میں ساتواں تھا۔میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ تھا،اور ببول کے پتوں کے سوا ہمارا کوئی کھانا نہیں تھا۔یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہوگئیں،اور میں نے ایک چادر اُٹھائی ،اور اُسے اپنے اور حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کے درمیان پھاڑ کرتقسیم کر دیا۔اور ہمارے اِن ساتوں آدمیوں میں سے ہر ایک کسی نہ کسی شہر پر امیر مقرر ہے،اور ہمارے بعد کے لوگ تجربہ کر لیں گے۔“

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کا خط

حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ نے فتح کی خوش خبری اور مال غنیمت کا خمس خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں مدینہ منورہ بھیجا ۔اِس کے جواب میں امیر المومنین نے ایک خط انہیں بھیجا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے جب حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ کو بصرہ کی طرف بھیجا،تو انہیں لکھا۔”اما بعد!اے عتبہ رضی اﷲ عنہ !میں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو ارض الہند پر گورنر مقرر کیا ہے،اور وہ دشمنوں کی جولان گاہ ہے۔اور مجھے اُمید ہے کہ اﷲ تعالیٰ اُس کے اِرد گِرد کے علاقے پر آپ رضی اﷲ عنہ کی کفایت کرے گا،اور اُن کے خلاف آپ رضی اﷲ عنہ کی مدد کرے گا۔اور میں نے حضرت علا بن حضرمی رضی اﷲ عنہ کو لکھا ہے کہ وہ حضرت عرفجہ بن ہر ثمہ کے ذریعے آپ رضی اﷲ عنہ کی مدد کریں۔پس جب وہ آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس آئیں ،تو اُن سے مشورہ کرنا۔اور انہیں مقرب بنانا،اور دعوت الی اﷲ (اسلام کی دعوت)دیتے رہنا۔اور جو کوئی اسلام قبول کر لے ،اُسے اپنا لو،اور جو انکار کرے،اُس سے کہو کہ وہ ذلت کے ساتھ جزیہ ادا کرے ،ورنہ تلوار سے اُس کی خبر لو۔اور جس چیز کی ذمہ داری آپ رضی اﷲ عنہ کو سونپی گئی ہے،اُس کے بارے میں اﷲ سے ڈرو۔اور اِس بات سے بچو کہ آپ رضی اﷲ عنہ کا نفس کھینچ کر کہر کی طرف لے جائے،اور آخرت خراب کر دے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے، اور ذلت کے بعد معززاور کمزوری کے بعد طاقت ور ہو گئے ہیں۔حتیٰ کہ آپ رضی اﷲ عنہ با اختیار امیر بن گئے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ بات کرتے ہیں،تو اُسے سنا جاتا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ حکم دیتے ہیں،تو اُس کی اطاعت کی جاتی ہے۔پس اِس احسان کے کیا کہنے!آپ رضی اﷲ عنہ اپنی قدر سے آگے نہ بڑھیں،اور اپنے سے کمتر پر اترا نہ جائیں۔جس طرح معصیت سے آپ رضی اﷲ عنہ اپنے آپ کو بچاتے ہیں،اُسی طرح نعمت سے بھی اپنے آپ کو بچائیں۔میں آپ رضی اﷲ عنہ کو اور اپنے آپ کو اﷲ کی پناہ میں دیتا ہوں۔بے شک لوگوں نے اﷲ کی طرف جانے میں جلدی کی ہے،یہاں تک کہ دنیا اُ ن کے لئے بلند کر دی گئی،اور انہوں نے اُسے حاصل کرنا چاہا۔پس اﷲ کو چاہو،اور دنیا کو نہ چاہو۔اور ظالموں کے پچھڑنے کی جگہوں سے بچو۔“

بصرہ کی تعمیر

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ نے جہاں آج بصرہ ہے ،اُس کے آس پاس قیام فرمایا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت عتبہ بن غزوان مازنی رضی اﷲ عنہ ”مدائن“سے ”ہند کی سرحد“ کی طرف روانہ ہوئے تو وہ جزیرہ نما عرب کے سامنے سمندر(بحیرہ¿ عرب)کے کنارے قیام پذیر ہوئے۔وہاں کچھ عرصہ قیام پذیر رہنے کے بعد یہ مقام اسلامی لشکر کے لئے ناموافق ثابت ہوا ۔اِسکی اطلاع خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کو دی تو انہوں نے حکم دیا کہ سفر کرو ،اور تین منزلوں کے بعد چوتھی منزل پر قیام کر دو۔حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ نے چوتھی منزل پر قیام کیا۔(اُس زمانے میں ایک منزل لگ بھگ ایک سو دس کلومیٹر یا میل ہوتی تھی)۔یہاں چونے کے پتھر بہت زیادہ کثرت سے تھے،اور کوئی آبادی نہیں تھی۔بعد میں یہیں پر ”بصرہ“شہر تعمیر ہوا۔”بصرہ “ہر اُس سر زمین کو کہا جاتا ہے،جہاں کے پتھر چونے کے ہوں۔انہیں دریائے دجلہ سے ایک نہر کھودنے کا حکم دیا گیا،کوفہ اور بصرہ دونوں کی آبادی اور تعمیر ایک ہی مہینے میں ہوئی تھی۔اہل بصرہ کا مقام دریائے دجلہ کے کنارے پر تھا۔وہ مختلف مقامات پر ٹھہرتے رہے،اور آگے بڑھتے رہے۔آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ نہر بھی کھودتے جا رہے تھے۔یہاں تک کہ وہ بصرہ کے مقام پر آئے۔بصرہ کا شہر بھی اسی طرح بسایا گیا ،جس طرح کوفہ بسایا گیا ۔بصرے میں مسلمانوں کو بسانے کے کام پر حضرت عاصم بن دلف تمیمی مقرر ہوئے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں