ہفتہ، 5 اگست، 2023

14 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


14 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 14

امارت پر اختلاف، حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت ابو ذر غِفاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کا انتقال، 

امارت پر اختلاف

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں ترکستان سے مملکت اسلامیہ کی سرحد ملی ہوئی تھی ۔خلیفہ¿ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں ہی مسلمان یہاں تک کا علاقہ فتح کر چکے تھے اور اِسی دوران حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے ۔اِس سرحدی علاقے پر عبد الرحمن بن ربیعہ گورنر تھے ۔اُن کے شہید ہونے کے بعد سعید بن عاص نے سلمان بن ربیعہ کو اُس سرحدی علاقے کا گورنر بنا دیا تھا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” سعید بن عاص نے اس سرحد پر سلمان بن ربیعہ کو حاکم ( گورنر ) بنایا اور جب اہل کوفہ کو اُن کی جنگی امداد کے لئے بھیجا تو اُن کا سپہ سالار حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کو مقرر کیا ۔اِس سرحد پر اِس سے پہلے عبد الرحمن بن ربیعہ جنگ کر رہے تھے ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اپنی خلافت کے دسویں سال اِس سرحدی مقام کے لئے اہل شام کی امدادی کمک بھیجی جس کی قیادت حبیب بن مسلمہ کر رہے تھے ۔سلمان بن ربیعہ اُن کے بھی امیر مقرر ہوئے مگر حبیب بن مسلمہ نے اُن کی قیادت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ۔یہاں تک کہ اہل شام کہنے لگے : ” ہم نے ارادہ کیا کہ ہم سلمان بن ربیعہ کو زدو کوب کریں “ اِس پر اہل کوفہ نے کہا : ” ایسی صورت میں ہم بھی حبیب بن مسلمہ کو زدو کوب کریں گے اور اُسے قید کر دیں گے اور اگر تم مطیع نہ ہوئے تو ہمارے اور تمہارے درمیان مقتولوں کی تعداد بکثرت ہو جائے گی ۔“ اِس بارے میں کوفہ کے اوس بن مغراءنے یہ اشعار کہے : ” اگر تم سلمان بن ربیعہ کو مارو گے تو ہم تمہارے حبیب بن مسلمہ کو زدو کوب کریں گے اور تم ابن عفان ( خلیفۂ سُوم ) حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی طرف کوچ کر جاو¿ گے تو ہم بھی جائیں گے ۔اگر تم انصاف سے دیکھو تو حقیقت میں یہ سرحدی مقام ہمارے امیر کی سرحد ہے ۔یہ دیکھو امیر لشکر کو لیکر آرہے ہیں ۔ہم اِس سرحد کے حکام ہیں اور ہم ہی اِس کی حفاظت کرتے تھے جب کہ ہم اِس سرحد پر تیر اندازی کرتے تھے اور دشمنوں کو عذاب دیتے تھے ۔“ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ نے اختلاف کی اِس بات کو محسوس کیا لیکن انہیں نظر انداز کر دیا اور اِس سرحدی مقام پر تین جنگیں لڑیں اور تیسری جنگ کے موقع پر خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کی خبر ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ¿ سُوم رضی اﷲ عنہ کے قاتلین پر ملامت کی اور انہیں ملعون قرار دیا ۔

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہ کا انتقال

اِس سال 32 ہجری میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : ” حضرت عباس بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف القرشی الہاشمی ابولفضل المکی ہیں اور عباسی خلفاءکے جد امجد ہیں ۔آپ رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے دو یا تین سال بڑے ہیں ۔غزوہ¿ بدر میں قید ہوئے اور اپنا اور اپنے دونوں بھائیوں کے بیٹوں حضرت عقیل بن ابی طالب اور حضرت نوفل بن حارث کا مالی فدیہ دیا اور جب آ پ رضی اﷲ عنہ غزوۂ بدر میں قید ہو گئے اور رسیوں میں جکڑ دیئے گئے اور رات میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو نیند نہیں آئی ۔ صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے عرض کیا : ” یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ! آ پ صلی اﷲ علیہ وسلم کو کیا تکلیف ہے ؟ “ سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اپنے چچا عباس بن عبد المطلب کے کراہنے کی آواز سن رہا ہوںاِس لئے مجھے نیند نہیں آرہی ہے ۔“ ایک صحابی رضی اﷲ عنہ جلدی سے دوڑے اور حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کی رسیوں کو ڈھیلا کر دیا تو اُن کے کراہنے کی آواز تھم گئی اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی آرام فرمایا ۔پھر حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ فتح مکہ کے سال ہجرت کر کے” جحفہ“ جا کر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے ملے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ واپس آئے اور ” فتح مکہ “ میں شامل ہوئے ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم آپ رضی اﷲ عنہ کی بہت تعظیم کرتے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ کو والد کا مقام دیتے تھے اور فرماتے تھے : ” یہ میرے آباءکے چنے ہوئے شخص ہیں ۔“ آپ رضی اﷲ عنہ قریش سے بہت صلہ رحمی اور مہربانی کرنے والے اشخاص میں سے تھے اور نہایت عقل مند اور دانا آدمی تھے ۔دراز قد ، خوب صورت ، سفید رنگ اور فربہی کے ساتھ نرم جسم اور پتلی کھال والے تھے ۔لڑکیوں کے علاوہ آپ رضی اﷲ عنہ کے دس بیٹے ہیں ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے غلاموں میں سے ستر ( ۰۷ ) غلام آزاد کئے ۔صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بارش طلب کرنے کے لئے نکلے تو حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کو بھی اُن کے ذریعے بارش طلب کرنے کے لئے اپنے ساتھ لے گئے اور فرمایا : ” اے اﷲ ! جب ہم قحط زدہ ہو جاتے تھے تو ہم اپنے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذریعے تجھ سے توسل کرتے تھے ۔اب اُن کے چچا کے ذریعے توسل کرتے ہیں ۔“ راوی بیان کرتا ہے کہ وہ سیراب ہو جاتے تھے ۔حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کی وفات بارہ رجب المرجب کو جمعہ کے روز ہوئی اور بعض کا قول ہے کہ 32 ہجری کے رمضان المبارک میں اٹھاسی 88 سال کی عمر میں انتقا ل ہوا اور خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے آپ رضی اﷲ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے اور بعض کا قول ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال 33 ہجری اور بعض کے مطابق 34 ہجری میں ہوا ۔

حضرت ابو ذر غِفاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال

اِسی سال یعنی 32 ہجری میں حضرت ابو ذر غِفاری رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔آپ رضی اﷲ عنہ قبیلہ بنو غِفار کے ہیں اور اسلام قبول کرنے والوں میں سے ”اوّلین “ لوگوں میں یعنی ”السابقون الاولون “ میں سے ہیں ۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : مشہور قول کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ کا نام حضرت جندب بن جنادة ہے اور کنیت ابوذر ہے ۔مکہ¿ مکرمہ میں بہت پہلے اسلام قبول کیا اور آپ رضی اﷲ عنہ چوتھے یا پانچویں مسلمان تھے ۔آپ رضی اﷲ عنہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کو اسلامی سلام کیا ،پھر آپ رضی اﷲ عنہ اپنے قبیلے میں واپس آگئے اوروہیں رہنے لگے۔ یہاں تک کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مدینۂ منورہ ہجرت کی اور آپ رضی اﷲ عنہ نے ”غزوۂ خندق “ کے بعدہجرت کی ۔پھر سفر و حضر ہر جگہ سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور خلیفہ¿ اوّل حضرت ابو بکر کے وصال کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ ملک شام چلے گئے اور خلیفۂ دُ و م حضرت عُمر فاروق کے دورِ خلافت میں ملک شام کی تمام جنگوں میں شرکت کی اور خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی کے دورِ خلافت میں جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ پورے ملک شام کے گورنر بن گئے تو حضرت ابو ذر غفاری رضی اﷲ عنہ کا اُن سے کسی بات پر تنازعہ ہو گیا تو انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو مدینۂ منورہ بھیج دیا ۔خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے آپ رضی اﷲ عنہ کو ”ربذہ “ میں مقیم کر دیا ۔آپ رضی اﷲ عنہ وہیں رہے اور 32 ہجری میں یہیں آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس بیوی بچوں کے علاوہ کوئی شخص موجود نہیں تھا ۔اتفاق سے حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ ملک عراق سے مکہ¿ مکرمہ حج کرنے آئے تھے اور مدینۂ منورہ جا رہے تھے کہ راستے میں حضرت ابوذر رضی اﷲ عنہ سے ملاقات کرنے کے لئے ربذہ آئے تو وہاں دیکھا کہ آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوگیا ہے ۔حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور دفن کیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی خلافت کے آٹھویں سال ماہ ذوالحجہ میں حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔جب آپ رضی اﷲ عنہ کا آخری وقت آیا تو انہوں نے اپنی بیٹی سے فرمایا : ” اے میری بیٹی ! کیا تم کسی قافلے کو آتا دیکھ رہی ہو ؟“ وہ بولیں : ” نہیں “ پھر انہوں نے اپنی بیٹی سے کہا کہ وہ بکری ذبح کر کے پکائے اور جب کھانا تیار ہو گیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنی بیٹی سے فرمایا : ” جب وہ لوگ آجائیں جو مجھے دفن کریں گے تو اُن سے کہنا کہ ابو ذر تمہیں قسم دیکر کہتا ہے کہ کھانا کھا کر واپس جانا ۔“اس کے بعد فرمایا : ” اب جاکر دیکھو کہ کوئی قافلہ آرہا ہے کیا؟ “ بیٹی نے دیکھا تو ایک قافلہ آتے دکھائی دیا ۔اُس نے کہا : ” ہاں ! ایک قافلہ آرہا ہے ۔“ یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” مجھے قبلہ رخ کر دو ۔“ جب انہیں قبلہ رخ کر دیا توانتقال ہو گیا ۔آپ رضی اﷲ عنہ کی بیٹی قافلہ والوں کے پاس آئی اور بولی : ” اﷲ آپ لوگوں پر رحم فرمائے ،میرے والد ِ محترم ابو ذر رضی اﷲ عنہ کے پاس چلیں ۔“ انہوں نے پوچھا : ” وہ کہاں ہیں ؟“ بیٹی نے اشارہ کیا اور کہا : ” اُن کا انتقال ہو گیا ہے اور انہیں دفن کرنا ہے ۔“ وہ بولے : ” اﷲ تعالیٰ نے ہمیں کیا خوب سعادت عطا فرمائی ہے ۔“ اہل کوفہ کے اِس قافلے میں حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔جب قافلے والے اُن کی طرف متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ آپ رضی اﷲ عنہ رو رہے ہیں اور فرما رہے ہیں : ” رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تھا :” وہ ( حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ )تن تنہادنیا سے رخصت ہوں گے اور تن تنہا دوبارہ اُٹھیں گے ۔‘ ‘ پھر انہوں نے حضرت ابوذر رضی اﷲ عنہ کو غسل دیا اور کفن پہنایا اور نماز جنازہ پڑھی اور دفن کر دیا ۔جب وہ جانے کی تیاری کرنے لگے تو حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ کی بیٹی نے کہا: ” میرے والد حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ نے آپ سب کو سلام کہا ہے اور فرمایا ہے کہ کھانا کھا کر ہی جائیں ۔“پھر قافلے والوں نے کھانا کھایا اور حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ کے اہل و عیال کو لیکر مدینہ¿ منورہ آگئے اور خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو حضرت ابو ذر غفاری رضی اﷲ عنہ کے انتقال کی خبر دی ۔

حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کا انتقال

32 ہجری میں جلیل القدر صحابی حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کا بھی انتقال ہوا ۔ علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں : ” حضرت عبد اﷲ بن مسعود بن غافل بن حبیب بن فار بن محزوم بن صاہلة بن کاہل بن حارث بن تیم بن سعد بن ہذیل بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن معد بن عدنان ۔ مدرکہ پر آ کر حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کا سلسلہ¿ نسب سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم سے مل گیا ہے ۔آپ رضی اﷲ عنہ بنو زہرہ کے حلیف تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے پہلے اسلام قبول کیا ۔آپ رضی اﷲ عنہ کے اسلام قبول کرنے کی وجہ یہ ہوئی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اُن کے پاس سے گزرے ۔آپ رضی اﷲ عنہ اُس وقت بکریا ں چرا رہے تھے ۔آپ دونوں نے ان سے دودھ طلب کیا تو انہوں نے جواب دیا : ” میں ” امین “ ہوں ۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک ایسی بکری مانگی جس پر نر نہیں کودا ہو ۔اُسے پکڑ کر باندھ لیا پھر دودھ دوہا اور پیا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو بھی پلایا ۔پھر تھن سے فرمایا : ” سکڑ جا ۔“ تو وہ سکڑ گیا ۔میں نے کہا : ” مجھے یہ دعا سکھا دیں ۔‘ ‘ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تُو معلم غلام ( لڑکا ) ہے ۔“ محمد بن اسحاق لکھتے ہیں کہ حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد ”بیت اﷲ “(خانہ کعبہ ) کے پاس بآواز بلند قرآن پاک پڑھا جبکہ قریش اپنی مجالس میںموجود تھے آپ نے سورہ ”الرحمن “ پڑھی تو انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس آ کر آپ رضی اﷲ عنہ کو مارا ۔اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ زیادہ تر وقت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے جوتے اور مسواک اُٹھایا کرتے تھے ۔حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : ” آپ کو میری خالص اور عمدہ باتیں سننے کی اجازت ہے یہی وجہ ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ کو ”صاحب السواک و الوساد ( مسواک اور تکیے والے ) کہا جاتا ہے ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ملک حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر مکہ¿ مکرمہ واپس آگئے پھر مدینۂ منورہ کی طرف ہجرت کی اور غزوہ¿ بدر میں شامل ہوئے ۔جب عفراءکے دونوں بیٹوں نے ابو جہل کو چھید دیا تو آ پ رضی اﷲ عنہ ہی نے اُس کی گردن کاٹی تھی ۔آپ رضی اﷲ عنہ باقی کے تمام معرکوں میں شامل ہوئے اور ایک روز رسول اﷲصلی اﷲعلیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ سے فرمایا : ” مجھے قرآن پاک سناؤ۔“ انہوں نے عرض کیا : ” میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو قرآن پاک سناؤں جبکہ قرآن پاک آپ صلی اﷲ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے ؟ “ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں دوسرے آدمی سے قرآن پاک سننا پسند کرتا ہوں ۔“ پس آپ رضی اﷲ عنہ نے سورہ النساءکے آغاز سے تلاوت شروع کیاور جب آپ رضی اﷲ عنہ اِس آیت (ترجمہ) ” پھر وہ وقت کیسا ہوگا جب ہم ہر اُمت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور اِن لوگوں پر تمہیں ( یعنی سید الانبیاءصلی ﷲ علیہ وسلم کو )گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے ۔“ (سورہ النساءآیت نمبر 41)پر پہنچے تو سید الانبیا ءصلی اﷲ علیہ وسلم رو پڑے اور فرمایا : ”تمہارے لئے کافی ہے ۔“ حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ نے خلیفۂ اوّل ،خلیفۂ دُوم اور خلیفۂ سُوم رضی اﷲ عنہم کے دورِ خلافت میں بہت سی جنگوں میں حصہ لیا جن میں جنگ یرموک بھی شامل ہے ۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ ملک عراق ( کوفہ ) سے حج کرنے مکۂ مکرمہ آئے تو مقام ”ربذہ “ کے پاس سے گزرے اور اور حضرت ابو ذر غفاری رضی اﷲ عنہ کو دفن کیا اور مدینۂ منورہ آئے تو وہیں بیمار ہو گئے اور خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ عیادت کے لئے آئے اور پھر آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہو گیا ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں