جمعرات، 3 اگست، 2023

14 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


14 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 14

فارسی ہاتھیوں کی دوبارہ آمد، حضرت شبر بن علقمہ کی بہادری، گھمسان کی جنگ، حضرت عمرو بن معدی کرب کی بہترین تلوار بازی، ہاتھیوں کی تباہی کی ترکیب، ہاتھیوں کی سونڈ اور آنکھوں پر حملے، ہاتھیوں میں بھگڈر، شدید جنگ، لیلة الحریر، حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کی دعا، لیلة الحریر نام کیوں پڑا، آخری کاری حملہ، رستم کا قتل، آہن پوش لشکر کا قتل عام، قادسیہ میں فتح، جالینوس کا قتل، جنگ قادسیہ کا اختتام

فارسی ہاتھیوں کی دوبارہ آمد

قادسیہ میں تیسرے دن حضرت ہاشم بھی مسلمانوں کے لشکر میں تھے۔اور اپنے لشکر کے ساتھ قلب میں فارسیوں کے مقابلے پر آئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب صبح ہوئی تو مسلمان مجاہدین میدان میں اپنی صفوں میں جم گئے۔فارسیوں کے سامنے اُن کے سپاہیوں کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔اور وہ اپنے مُردوں کے پاس نہیں جاتے تھے،لہٰذا اِن مقتولین کی موجودگی مسلمانوں کے حق میں مفید ثابت ہوئی ۔اور اِس سے مسلمانوں کے حوصلے بڑھ گئے ،اور انہیں تقویت پہنچی۔حضرت ہاشم نے ہدایت کی کہ جنگ کا آغاز سواروں کی لڑائی سے کیا جائے ،پھر تیر اندازی ہو گی۔پھر انہوں نے اپنی کمان پر تیر چڑھایا،اور مسلمانوں سے فرمایا؛”تمہارے خیال میں میرا تیر کہاں تک پہنچے گا؟“لوگ بولے۔”عتیق تک“انہوں نے تیر مارا تو وہ عتیق تک پہنچ گیا۔فارسی سپاہی رات بھر اپنے ہاتھیوں کے صندوقوں اور ہودوں کو درست کرتے رہے،یہاں تک کہ انہیں درست کر لیا،اور ہاتھیوں کو لیکر اپنے مورچے پر آئے،اور انہیں اُن کی جگہ متعین کر دیا۔اور پیدل فوج کو اِس بات پر متعین کر دیا کہ مسلمان ہاتھیوں کے ہودوں اور صندوقوں کو نہ کاٹ سکیں۔اور پیدل فوج کی حفاظت کے لئے سواروں کی فوج تھی۔لیکن آج وہ مسلمانوںکو زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکے ،کیونکہ مسلمانوں کے گھوڑے اب ہاتھیوں بدک نہیں رہے تھے۔بہر حال جنگ اسی طرح جاری رہی اور دن ڈھل گیا۔

حضرت شبر بن علقمہ کی بہادری

جنگ قادسیہ میں یوم عمواس کی صبح جب دونوں لشکر آمنے سامنے آئے ،تو فارسی لشکر سے ایک آدمی نکلا ،وہ کافی لمبا چوڑا تھا۔اُس نے گرج کر کہا ؛”کون مقابلے کے لئے آرہا ہے؟“مسلمانوں میں سے کسی نے جواب نہیں دیا تواُس وقت مسلمانوں کے درمیان سے حضرت شبر بن علقمہ نکلے،یہ بہت ہی پستہ قد اور بد صورت تھے۔انہوں نے فرمایا؛”اے مسلمانو!اِس شخص نے تمہارے ساتھ انصاف کیا ہے،مگر کسی نے اِس کا جواب نہیں دیا،اور نہ ہی کوئی مقابلے کے لئے نکلا۔اﷲ کی قسم ! اگر تم مجھے حقیر نہ سمجھو ،تو میں اِس سے مقابلہ کر سکتا ہوں۔“جب مسلمانوں میں سے کسی نے کوئی جواب نہیں دیا تو وہ آگے بڑھے،اور اُس فارسی سپاہی کے سامنے آگئے۔ آپ اُس کے سامنے بونے دکھائی دے رہے تھے۔یہ دیکھ کر وہ گھوڑے سے اُتر آیا،اور دونوں میں مقابلہ ہونے لگا۔اور یہ دیکھ کر دونوں لشکر والے حیران رہ گئے کہ حضرت شبر نے اُس لمبے چوڑے فارسی کواپنے سر کے اوپر اُٹھا لیا،اور پھر پٹک کر اُس کے سینے پر چڑھ بیٹھے۔انہوں نے اُس کا سر کاٹنے کے لئے تلوار نکالی تو اُسی وقت اُن کا گھوڑا بدک گیا۔یہ دیکھ کر فارسی لشکر کے لوگ چلانے لگے ،اور اُس فارسی کی حوصلہ افزائی کرنے لگے۔یہ سن کر آپ نے فرمایا؛”تم جس قدر چاہو چلاو¿،میں اِسے نہیں چھوڑوںگا،اور اﷲ کی قسم !اِسے قتل کر کے رہوں گا۔“یہ فرما کر آپ نے تلوار سے اُس کے اوپر اتنا زبردست وار کیا کہ اُس کی گردن تن سے جدا ہوگئی۔

گھمسان کی جنگ

اِس کے بعد جنگ مغلوبہ شروع ہو گئی،اوردونوں لشکر نے آگے بڑھ کر ایک دوسرے پر حملہ کردیا۔اور گھمسان کی جنگ ہونے لگی۔بہت شدید جنگ ہو رہی تھی ،اور دونوں فریق کا پلہ لگ بھگ برابر چل رہا تھا۔اِدھر سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کو ہدایت دے رہے تھے،اور اُدھر سے رستم فارسی لشکر کو ہدایت دے رہا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔”یوم عمواس“میں شروع سے لیکر آخر تک نہایت گھمسان کا رن پڑا۔اِس میں عرب و عجم دونوں کا پلہ بھاری رہا۔اِس کی وجہ یہ تھی کہ معمولی سے معمولی بات بھی کسریٰ تک پہنچ رہی تھی۔اور وہ انہیں امدادی کمک بھیج دیتا تھا،جس سے فارسیوں کے حوصلے بڑھ جاتے تھے۔ اگر اﷲ تعالیٰ مسلمانوں کی مدد نہ فرماتے تو مسلمانوں کا فتح حاصل کر پانا بہت مشکل تھا۔ایسے وقت میں مسلمانوں کے کمانڈر اُن کے حوصلے بڑھا رہے تھے۔حضرت قیس نے فرمایا؛”اے اقوام ِ عرب!اﷲ تعالیٰ کا یہ تم پر بہت بڑا احسان ہے کہ اُس نے تمہیں مسلمان بنایا۔اور حضرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زریعے تمہیں عزت بخشی،اور تم اﷲ کی مہربانی سے بھائی بھائی ہو گئے۔اب تمہاری دعوت ایک ہو گئی ہے،اور تم متحد ہو گئے ہو۔حالانکہ اِس سے پہلے تم میں سے ہر ایک دوسرے پر شیر کی طرح حملہ کرتا تھا،اور ایک دوسرے پر بھیڑیئے کی طرح جھپٹتے تھے۔اگر تم اﷲ کے دین کی مدد کرو گے، تو اﷲ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔اور وہ تمہارے ہاتھوں ملک فارس کو فتح کرائے گا۔جیسا کہ تمہارے بھائیوں کے ہاتھوں ملک شام فتح کرا رہا ہے۔اور وہاں کے سرخ و سفید محل اور قلعوں پر مسلمانوں کا قبضہ ہوتا جارہا ہے۔“

حضرت عمرو بن معدی کرب کی بہترین تلوار بازی

قادسیہ کے میدان پر تیسرے دن یوم عمواس کی جنگ جاری تھی،اور آج فارسی لشکر دوبارہ ہاتھیوں کو لیکر میدان میں آیا تھا۔لیکن مسلمانوں نے بھی ہاتھیوں کے اِس حملے کو ناکام بنا دیا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عمرو بن معدی کرب نے فرمایا؛”میں ہاتھیوں اور اُن کے اِرد گرد کی پیدل اور سوار فوج پر حملہ کرنے جا رہا ہوں۔تم مجھے قربانی کا جانور سمجھ کر چھوڑ نہ دینا،اگر تم لوگوں کو دیر ہو گئی تو ابو ثور(حضرت عمرو بن معدی کی کنیت ہے۔)کا کام تمام ہو جائے گا، پھر تمہیں ابو ثور جیسا شہسوار کہاں ملے گا۔اگر تم جلدی میرے پاس پہنچ گئے تو میرے ہاتھوں سے تلوار کا کمال دیکھنا۔“یہ فرما کر انہوں نے ہاتھیوں کے اطراف کی فوج پر حملہ کر دیا،اور فارسیوں پر اتنی شدیدتلوار چلائی کہ اُن کے گھوڑے کی ٹاپوں سے گر دو غبار چھا گیا۔اُن کے ساتھی مسلمانوں نے کہا؛”تم کیا انتظار کر رہے ہو؟اگر تم نے انہیں کھو دیا تو سمجھ لو کہ مسلمانوں نے اپنے ایک بہت بڑے شہسوار کو کھو دیا۔“اِس کے بعد انہوں نے مل کر حملہ کیا تو دیکھا کہ فارسیوں نے ہر طرف سے حضرت عمرو بن معدی کو گھیر رکھا ہے ،اور آپ بے جگری سے تلوار چلا رہے ہیں،اور ہر وار میں ایک نہ ایک فارسی کا سر ہوا میں اُڑتا تھا۔مسلمانوں نے ایک ساتھ حملہ کیا تو حضرت عمرو بن معدی کے اطراف کا فارسی گھیرا ٹوٹ گیا۔

ہاتھیوں کی تباہی کی ترکیب

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ دیکھ رہے تھے کہ ہاتھیوں کی وجہ سے ابھی بھی مسلمانوں کو بہت پریشانی پیش آرہی ہے۔تو آپ رضی اﷲ عنہ نے ہاتھیوں کی تباہی کی ترکیب سوچنی شروع کر دی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے دیکھا کہ ہاتھی مسلمانوں کے لشکر کو منتشر کر رہے ہیں،اور یوم ارمات کی طرح اپنا کام کر رہے ہیں۔تو انہوں نے مسلمان ہوئے فارسیوں ضخم،مسلم، رافع اور عشنق کو بلوایا،اور اُن سے دریافت کیا کہ ہاتھیوں کا کمزور مقام کون سا ہے؟انہوں نے کہا کہ سونڈ اور آنکھیں،اِن کے بعد وہ بالکل بے کار ہو جاتے ہیں۔یہ سن کر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے حضرت عاصم بن عمرو اور حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہم کو یہ پیغام بھیجا کہ مسلمانوں سے کہو کہ ہاتھیوں کی سونڈوں اور آنکھوں پر حملے کریں ۔اور تم دونوں مجھے سفید ہاتھی سے نجات دلاو¿۔یہ ہاتھی اُن کے سامنے تھا،اسی طرح حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے پورے اسلامی لشکر کے کمانڈروں کو پیغام دیا کہ وہ مسلمانوں سے کہیں کہ ہاتھیوں کی سونڈوں اور آنکھوں پر وار کریں۔

ہاتھیوں کی سونڈ اور آنکھوں پر حملے

حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کا پیغام پورے اسلامی لشکر میں پھیل گیا۔اب تمام مسلمانوں کی کوشش یہی تھی کہ ہاتھیوںکی سونڈ اور آنکھوں پر نشانہ لگایا جائے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت قعقاع اور حضرت عاصم رضی اﷲ عنہم دونوں بھائیوں نے ایک تیز اور سخت نیزے لئے،اور گھڑسواروں اور پیدل مجاہدین کو حکم دیا کہ سفید ہاتھی کو گھیر لیں۔جب انہوں نے اُسے گھیر لیا تو ہاتھی دائیں بائیں دیکھنے لگا۔ایسے وقت میں دونوں بھائیوں نے تاک کر ایک ساتھ سفید ہاتھی کی دونوں آنکھوں میں نیزہ گھسا کر پھوڑدیں۔سفید ہاتھی اندھا ہو گیا،اور اُس نے گھبرا کر اپنے فیل بان اور اپنے اوپر سواروں کو گرا دیا،جنہیں مسلمانوں نے فوراً قتل کر دیا۔ادھر جیسے ہی سفید ہاتھی نے اپنی سونڈ اوپر اُٹھائی ،اسی وقت دونوں بھائیوں نے ایک کے بعد ایک کر کے اُس کی سونڈ پر وار کیا ،اور کاٹ دیا۔سفید ہاتھی پہلو کے بل گر گیا،اور حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ کو شہید کرنے والا سفید ہاتھی مارا گیا۔

ہاتھیوں میں بھگڈر

مسلمانوں نے جب ہاتھیوں کی سونڈوں اور آنکھوں پر وار کرنا شروع کیا تو اِس کی وجہ سے ہاتھیوں کا زور ٹوٹ گیا،اور وہ بھاگنے لگے۔علامہ محمد جریر بن طبری لکھتے ہیں۔ہاتھیوں کی سونڈ کٹنے اور آنکھیں پھوٹنے کے بعد وہ سو¿روں کی طرح چلانے لگے۔اِس کے بعد ایک ہاتھی پیٹھ موڑ کر بھاگا،اور نہر عتیق میں کود گیا۔بقیہ ہاتھیوں نے اُس کی پیروی کی اور وہ فارسیوں کوروندتے ہوئے انہیں پار کر کے نہر عتیق میں پہنچے ،اور پھر اُسے بھی پار کر کے مدائن کی طرف بھاگ گئے،اور جو ہاتھیوں پر سوار تھے ،وہ سب ہلاک ہو گئے۔

شدید جنگ

ہاتھیوں کے جانے کے بعد فارسیوں کے مقابلے میں مسلمانوں کے حوصلے بلند ہو گئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب ہاتھی چلے گئے ،اور صرف مسلمان اور فارسی سپاہی رہ گئے تھے۔اُس وقت دن ڈھل چکا تھا،تب مسلمانوں نے پھر شدید حملہ کیا ،اور اُن کی حفاظت شہسواروں نے کی۔جو دن کے ابتدائی حصے میں جنگ کر رہے تھے،اور اُن کی بدولت پیدل مسلمانوں نے بہادری کے ساتھ جم کر مقابلہ کیا۔ہاتھیوں کے بھاگنے کے بعد رستم نے فارسی سپاہیوںکو حکم دیا کہ اونٹوں کو آگے کرو۔ یہ دیکھ کر مسلمانوں نے بھی اپنے اونٹوں کو آگے کر دیا۔شام تک شدید جنگ ہوتی رہی،اور جب رات ہوئی تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے ”لیلة الحریر“لہرا دیا۔اور جنگ بند ہو گئی۔لیکن دونوں حریف صفوں پر ڈٹے رہے۔اِسی لئے اِس رات کو ”لیلةُ الحریر“کہا گیا۔اِس کے بعد قادسیہ میں رات میں کوئی جنگ نہیں ہوئی۔آج کے دن کی جنگ لگ بھگ برابری پر ختم ہوئی ،لیکن مجموعی طور سے دیکھا جائے تو مسلمان مجاہدین کم شہید ہوئے،اور فارسی سپاہی بہت زیادہ تعداد میں قتل ہوئے۔اور پہلے دن جو دونوں لشکروں کے درمیان تعداد کا بہت زیادہ فرق تھا،وہ تیسرے دن کی جنگ کے بعد کم ہو کر لگ بھگ برابری پر آگیا تھا۔مجموعی طور سے تین دنوں میں فارسی لشکر کے چالیس ہزار سے زیادہ سپاہی قتل ہوئے تھے۔

لیلة الحریر

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے جنگ بندی کا حکم دینے کے بعد حضرت طلیحہ اور حضرت عاصم بن عمرورضی اﷲ عنہ کو گشت پر مقرر کیا۔دونوں اپنے اپنے دستے کے ساتھ فارسی لشکر کے قریب گشت لگا کر واپس آنے لگے۔تو حضرت طلیحہ اپنے دستے کو لیکر فارسی لشکر کے پیچھے نہر عتیق کے قریب پہنچ کر تین دفعہ نعرہ تکبیر لگا کر چلے آئے۔اِس تکبیر سے فارسی لشکر میں ہلچل مچ گئی۔علامہ محمد جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت طلیحہ دشمن کے لشکر کے پیچھے پہنچے ،تو تین مرتبہ نعرہ تکبیربلند کیا ،پھر چلے آئے۔دشمن اُن کی تلاش میں نکلے ،مگر انہیں نہیں معلوم ہو سکا کہ وہ کہاں چلے گئے۔جبکہ حضرت طلیحہ ندی عبور کر کے اپنے لشکر میں چلے آئے تھے،اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو اِس واقعہ کی اطلاع دی۔فارسیوں پر اِ س تکبیر کا بہت برا اثر ہوا،اور مسلمان خوش ہو گئے۔کیونکہ دشمن کو یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ نعرہ لگانے والے کون ہیں۔فارسیوں نے اپنے لشکر کو مرتب کرنا شروع کر دیا،اور انہیں صف بندی کرتے دیکھ کر مسلمانوں نے بھی صف بندی کر لی،اور فریقین میں رات میں ہی جنگ شروع کر دی۔جب مسلمان سواروں نے پیش قدمی کی تو فارسی لشکر کی طرف سے اُن پر تیر اندازی کی گئی،جس میں حضرت خالد بن نعیم تمیمی شہید ہو گئے۔مسلمان سوار پھر بھی آگے بڑھے،اور فارسی سواروں پر حملہ کر دیا۔حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے اُس مقام پر حملہ کیا،جہاں سے فارسی تیر اندازی کر رہے تھے۔پھر ہر طرف جنگ شروع ہو گئی ،حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے جنگ شروع کرنے کی تین تکبیروں میں سے دو ہی تکبیر کہی تھی کہ فارسی لشکر نے ایک ساتھ اسلامی لشکر پر حملہ کردیا۔اور مسلمان اپنے سپہ سالار رضی اﷲ عنہ کی تیسری تکبیر کہنے سے پہلے ہی فارسیوں پر جوابی حملے کرنے لگے۔

حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کی دعا

فارسی لشکر کے اچانک ہر طرف کے حملے کی وجہ سے مسلمانوں کو فوراً جوابی کاروائی کرنی پڑی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مسلمان حملہ کرنے میں جلدی کر رہے تھے،اور حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کی تکبیروں کا انتظار کر رہے تھے،اور(فارسیوں کے اچانک حملے کی وجہ سے) اُن کے بلند ہونے میں تاخیر محسوس کر رہے تھے۔لہٰذا جب حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے دوسری تکبیر بلند کی تو حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے فارسیوں پر جوابی حملہ کردیا،اور اپنے بھائی حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کے ساتھ فارسیوں سے جنگ میں شامل ہو گئے۔قبیلہ بنو نخع نے بھی حملہ کر دیا،اور اکثریت نے حملہ کر دیا،اور صرف لشکر کے کمانڈروں نے انتظار کیا،اور وہ بھی حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کی تیسری تکبیر کے بعد جنگ میں شامل ہو گئے۔جب ”لیلة الحریر“میں مسلمانوں نے عام حملہ کیا ،اور حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کے حکم کا انتظار نہیں کیا۔جب پہلی تکبیر کے بعد ہی قبیلہ بنو اسد آگے بڑھا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے اﷲ !اِن کو معاف فرما دے،اِن کی مدد فرما،اور ساری رات قبیلہ بنو اسد کو نصرت حاصل ہو۔“پھر انہیں بتایا گیا کہ قبیلہ بنو نخع نے حملہ کیا ہے،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کے لئے بھی مغفرت اور نصرت کی دعا فرمائی ۔پھر بتایا گیا کہ قبیلہ بنو بجیلہ نے بھی حملہ کر دیا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے اﷲ !اِن کی مغفرت فرما ،اور دستگیری کر۔بنو بجیلہ کیا ہی اچھا قبیلہ ہے۔“اس کے بعد بنو کندہ نے حملہ کیا،توآپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کی تعریف فرمائی ۔اِس کے بعد تیسری تکبیر سن کر تمام کمانڈروں نے حملہ کیا،اور صبح تک گھمسان کی جنگ ہوتی رہی۔اِس جنگ کو ”لیلة الحریر“کہا جاتا ہے۔

لیلة الحریر نام کیوں پڑا

قادسیہ میں یوم عمواس کی رات میں بھی جنگ ہوئی،اور مسلمانوں نے عشاءکی نماز کے بعد جب دیکھا کہ فارسی لشکر صفیں مرتب کر رہا ہے ،توانہوں نے بھی صف بندی شروع کر دی ،اور پھر جنگ ہونے لگی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مسلمان اُس رات آغاز ِشب سے لیکر صبح تک نہایت بہادری کے ساتھ جنگ کرتے رہے۔وہ زور سے نہیں بول رہے تھے،بلکہ بہت آہستہ سے گفتگو کرتے تھے۔اِسی وجہ سے اِس رات کا نام ”لیلة الحریر“مشہور ہو گیا۔حضرت انس بن جلیس فرماتے ہیں ؛”میں لیلة الحریر میں شریک تھا،اُس رات ہتھیاروں کے چلنے کی ایسی آواز آرہی تھی۔جیسا کہ لوہار اپنے لوہے کی چیزیں بنا رہے ہوں،اور ان کے اِس کام کی وجہ سے لوہے کے بجنے کی آوازیںآرہی ہوں۔جنگ کا سلسلہ صبح تک رہا،مسلمانوں نے زبردست صبر و استقلال کا ثبوت دیا۔جب صبح ہوئی تو فریقین نے جنگ بند کر دی ،اِس سے یہ ثابت ہوا کہ مسلمان سر بلند رہے،اور انہیں غلبہ حاصل ہوا۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے اُس رات جو پہلی آواز سنی ،جس سے انہیں رات کے آخری پہر فتح کا ثبوت ملا،وہ حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کی آواز تھی ۔جو یہ فرما رہے تھے؛”ہم نے پوری جماعت کو قتل کیا،ہم نے چار پانچ کو قتل نہیں کیا،بلکہ اُس سے زائد کا کام تمام کیا۔ہم گھوڑوں پر بیٹھے ہوئے شیر سمجھے جاتے ہیں،یہاں تک کہ جب شہید ہو جاتے ہیں،تو دوسرے مجاہد بلا لیتا ہوں۔اﷲ میرا پر وردگا ر ہے،میں نے ہر مسلمان جنگجو کی حفاظت کی۔

آخری کاری حملہ

لیلة الحریر کی صبح فارسیوں کے لئے بہت ہی مایوسی بھری تھی،اور مسلمانوں کے لئے بہت ہی حوصلہ افزا ءتھی۔کیونکہ فارسی لشکر کی صف بندی ٹوٹ چکی تھی،اور لشکر بکھر گیا تھا۔فارسی سپاہی الگ الگ ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے تھے۔مسلمان کمانڈروں نے یہ دیکھا تو آخری کاری وار کے لئے مسلمانوں کو تیار کرنے لگے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب لیلة الحریر کی صبح ہوئی تو مسلمان بہت تھکے ہوئے تھے،اور ساری رات اُن کی آنکھ بھی نہیں جھپکی تھی۔لہٰذا حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ مسلمانوں میں گشت کر کے اُن کے حوصلے بڑھاتے رہے،اور فرماتے رہے؛”تھوڑی دیر کے بعد فتح مندی ہے،تھوڑی دیر صبر سے لڑو۔کیونکہ نصرت صبر کے ساتھ ہے،لہٰذا گھبراہٹ پر صبر کو ترجیح دو۔“اُن کے پاس مسلمان کمانڈر جمع ہو گئے،اور اُن کا ارادہ رستم کو قتل کرنے کا تھا۔تمام کمانڈروں(جن میںحضرت قیس بن عبد یغوث ،حضرت اشعث بن قیس،حضرت عمرو بن معدی کرب ،حضرت ذوالمہسین نخعی،اور حضرت ذوالبر بن ہلا ل کے نام قابل ذکر ہیں)نے یہ تقریر کی؛”تمہارے دشمن اﷲ کے معاملے میں تم سے زیادہ سرگرم نہیں ہو سکتے ہیں۔اور نہ یہ عجمی موت کے لئے تم سے زیادہ دلیر بن سکتے ہیں۔اور نہ تم سے زیادہ دنیا و آخرت کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں۔“اِس پر مسلمانوں نے اپنے اپنے قریب کے دشمنوں کی ٹکڑیوں پر حملہ کر دیا۔یہاں تک کہ وہ دشمنوں سے گتھم گتھا ہو گئے،کچھ کمانڈر قبیلہ بنو ربیع کے پاس پہنچے ،اور کہنے لگے؛”تم لوگ ایرانیوں(فارسیوں)سے زیادہ واقف ہو۔اور گذشتہ زمانے میں اُن کے خلاف سب سے زیادہ دلیری سے مقابلہ کرتے تھے۔آج تمہیں اِس بات سے کون سی چیز روک رہی ہے،کہ تم اپنی سابقہ جرا¿ت سے بڑھ چڑھ کر دلیری کا ثبوت دو۔“

رستم کا قتل

اِن تقریروں نے مسلمانوں کے حوصلے اور بلند کر دیئے،اور رات بھر کی تھکان اور بیداری کو بھول کر وہ فارسیوں پر ٹوٹ پڑے۔ایسے وقت میں اﷲ تعالیٰ نے بھی مسلمانوں کی مدد کی،اور ریت اور گرد و غبار کا طوفان بھیج دیا،جس سے مسلمانوں کو بہت مدد ملی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب دوپہر ہو گئی تو فارسی لشکر پیچھے ہٹنے لگا،اور ہرمزان اور بیرزان پیچھے ہٹنے والے سب سے پہلے کمانڈر تھے۔اِس کے بعد دوسرے فارسی کمانڈر بھی اپنے اپنے دستوں کو لیکر پیچھے ہٹنے لگے۔اور قلب (مرکزی)کا مورچہ خالی ہو گیا،اور مسلمان اُن پر حاوی ہو گئے۔ایسے وقت میں اﷲ تعالیٰ نے ریت اور گرد وغبار کا طوفان بھیج دیا۔اور پورے قادسیہ میں گرد و غبار چھا گیا،اِس کا فائدہ اُٹھا کر حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ اپنے دستے کے ساتھ رستم کے تخت تک پہنچ گئے تھے۔اُس کا تخت طوفان کی وجہ سے گرا پڑا تھا،اور رستم اُن خچروں کے پاس کھڑا ہوا تھاجن پر مال لاد کر انہیں دنوں آیا ہوا تھا۔وہ ایک سامان لدے ہوئے خچر کے زیر سایہ چھپا ہوا تھا۔حضرت ہلال بن علقمہ نے اُس سامان پر تلوار کا وار کیا ،جس کے نیچے رستم تھا۔اُن کے وار سے بندھے ہوئے سامان کی رسیاں کٹ گئیں،اور ایک بوری رستم پر گر پڑی۔حضرت ہلال بن علقمہ نے رستم کو نہیں دیکھا،اورنہ ہی اُسے محسوس کیا۔وہ اگر خاموشی سے پڑا رہتا تو بچ جاتا،لیکن وہ اتنی بری طرح سے گھبرا گیا تھا کہ اُٹھ کر بھاگنے لگا،اور نہر عتیق میں کود گیا۔حضرت ہلال نے رستم کو پہچان لیا،اور اُس کے پیچھے نہر میں کود گئے۔انہوں نے تیرتے ہوئے رستم کی ٹانگ پڑی،اور اُسے کھینچ کرکنارے لائے ۔اوررستم کی پیشانی پر تلوار سے وار کر کے دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔پھر اُس کی لاش خچروں کی ٹانگوں کے درمیان پھینک کر اُس کے تخت پر کھڑے ہو کر نعرہ تکبیر بلند کیا،اور بلند آواز سے فرمایا؛”اﷲ کی قسم ! میں نے رستم کو قتل کر دیا ہے،میری طرف آؤ ۔“

آہن پوش لشکر کا قتل عام

فارسیوں کا سپہ سالار اعظم رستم کے قتل کا اعلان سن کر فارسیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے،اور وہ مسلمانوں سے جنگ کرنے کے بجائے بھاگنے کی کوشش کرنے لگے۔لیکن فارسیوں کا آہن پوش لشکر جو پوری طرح لوہے میں غرق تھا،وہ مقابلے پر جما رہا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔رستم کے قتل ہوتے ہی لشکر فارس میدان جنگ سے بھاگ نکلا۔جالینوس نے اُن کو روکنے اور جنگ جاری رکھنے کی کوشش کی ،لیکن بے سود تھی۔باقی رہا فارسیوں کا وہ لشکر جو سر سے پیر تک لوہے میں غرق تھا،وہ میدان جنگ میں ڈٹا رہا۔قبیلہ بنو حمیضہ نے اُس لشکر پر حملہ کر دیا،لیکن تلواریں لوہے کے لباس پر پڑ کر اُچٹ اُچٹ کر رہ گئیں۔مجبور ہو کر انہوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا تو اُن کے کمانڈر نے انہیں للکارا۔مجاہدین نے جواب دیا کہ تلواریں کام نہیں آرہی ہیں۔کمانڈر نے جوش میں آکر ایک آہن پوش سوار پر اتنی زور سے برچھے کا وار کیا کہ اُس کی کمر ٹوٹ گئی ،اور وہ تڑپ تڑپ کر مر گیا۔کمانڈر نے مجاہدین سے کہا کہ انہیں اِس طرح مارو۔یہ دیکھ کر مجاہدین نے تلواریں نیاموں میں رکھ لیں،اور برچھے لیکر آہن پوش لشکر پر ٹوٹ پڑے،اور سب کی کمریں توڑ کر موت کی نیند سلا دیا۔تیس ہزار کے آہن پوش لشکر میں سے بہ مشکل تیس لوگ ہی اپنی جان بچا سکے تھے۔

قادسیہ میں فتح

حضرت ہلال بن علقمہ نے رستم کو قتل کرنے کے بعد اُس کے قتل کا اعلان کیا تو ،مسلمانوں کے حوصلے بہت بلند ہو گئے۔ اور فارسیوں میں مایوسی پھیل گئی،اور اُن میں بھگڈر ہونے لگی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اِس کے بعد فارسیوںکی فوج ٹوٹ گئی،اور وہ شکست کھا کر بھاگنے لگے۔جالینوس پل پر کھڑا ہو کر فارسیوں کو پکارنے لگا،اور انہیں پل پار کرانے لگا۔اِس کے بعد گرد و غبار چھٹ گیا۔ وہ فارسی(ایرانی) فوج جنہوں نے اپنے آپ کو زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا،اِس قدر گھبرائی کہ وہ سب نہر عتیق میں گر پڑے۔اور مسلمانوں نے انہیں نیزے مار مار کر قتل کردیا۔اِن کی تعداد تیس ہزار تھی،اور ان میں سے کوئی بھی خبر دینے کے لئے نہیں بچ سکا تھا۔

مال غنیمت پر قبضہ

اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی ،اور تمام فارسی بھاگ گئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اہل فارس بھاگ گئے،خندق اور نہر عتیق کے درمیان اِن میں سے کوئی باقی نہیں رہا۔قدیس اور نہر عتیق کے درمیان کا میدان مقتولوں سے پٹا پڑا تھا۔اُس وقت حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے حضرت زہرہ رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ بھاگتے ہوئے فارسیوں کا تعاقب کریں۔آپ رضی اﷲ عنہ تیزی سے روانہ ہوئے ،اور اسلامی لشکر میں بھی اعلان کرتے جا رہے تھے۔حضرت قعقاع رضی اﷲ عنہ کو نچلے حصے کی طرف ،اور حضرت شرجیل کو اوپر کے حصے کی طرف تعاقب کے لئے روانہ کیا۔ اور حضرت خالد بن عرفطہ کو مال غنیمت جمع کرنے اور شہداءکی تدفین کرنے پر مقرر کیا۔لہٰذا ”لیلة الحریر“اور یوم قادسیہ کے شہداء”قدیس “کے اِرد گرد دفن کئے گئے۔اور ڈھائی ہزار نہر عتیق کے پیچھے مشرق کے سامنے دفن کئے گئے ،اور جو پہلے شہید ہوئے تھے انہیں مشرق کے مقام پر دفن کیا گیا تھا۔مال غنیمت اتنا زیادہ حاصل ہوا کہ اِس سے پہلے کبھی اتنا حاصل نہیں ہوا تھا۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے حضرت ہلال کو بلا کر فرمایا؛”تمہارا دشمن(رستم کی لاش) کہاں ہے؟“انہوں نے عرض کیا؛”میں نے اُسے خچروں کے پیچھے پھینک دیا تھا۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”جاو¿ !اُسے لیکر آو¿۔“جب وہ لاش لیکر آئے تو حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اِس کا سازو سامان اورلباس وغیرہ تمہارے ہیں۔“

جالینوس کا قتل

حضرت زہرہ بن حویہ پہلے ہی فارسیوں کے تعاقب میں نکل چکے تھے۔جب وہ پل کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ پل ٹوٹا ہوا ہے۔فارسیوں کے سپہ سالارجالینوس نے جاتے ہوئے پل کو توڑ دیا تھا ،تاکہ مسلمان اُن کا تعاقب نہ کر سکیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔حضرت زہرہ بن حویہ فارسیوں کے تعاقب میں روانہ ہوئے ،اور جب پل کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہ ٹوٹا ہوا ہے۔یہ دیکھ کر انہوں نے اپنے دستے سے فرمایا؛”اے بکیر !آگے بڑھو۔“اور اپنا گھوڑا پانی میں ڈال دیا۔اور اُن کے تین سو سواروں نے بھی اُن کی تقلید کی۔اِس کے بعد حضرت زہرہ نے فرمایا کہ باقی لوگ پل بنا کر نہر پار کریں۔آخر کار مسلمانوں نے بچے کچے فارسیوں کو پکڑ لیا۔جالینوس(جو رستم کے بعد سب سے بڑا سپہ سالار تھا)اُن کی حفاظت کے لئے سب سے پیچھے تھا۔حضرت زہرہ بن حویہ نے اُس پر حملہ کیا ،اور آخر کار تلوار کے د و وار کے بعد اُسے قتل کردیا۔اِس کے بعد سلحسین سے لیکر نجف تک دشمن کا صفایا کر دیا گیا۔شام کے وقت وہ لوٹ آئے ،اور رات قادسیہ میں گزاری۔

جنگ قادسیہ کا اختتام

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس نکالا،اور شہداءکے نام ،اور فارسیوں کے مقتولوں کی تعداد لکھوا کر یہ سب خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حضرت سعد بن نخیلہ فرازی کے ہاتھوں بھیج دیا۔اور باقی مال غنیمت اسلامی لشکر میں بانٹ دیا۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے حضرت قعقاع اور اُن کے بھائی حضرت عاصم رضی اﷲ عنہم کو اور حضرت شرجیل کو فارسیوں کے تعاقب میں روانہ کیاتھا۔انہوں نے ہر بلندی اور پستی کی طرف جانے والے فارسی سپاہیوں کا تعاقب کیا۔اور ہر گاو¿ں ،ہر جنگل،اور نہر اور چشمے کے کنارے جہاں کہیں اُن کو پایاقتل کر دیا۔اور شام ہونے سے پہلے واپس آگئے۔مسلمانوں نے حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کو جنگ قادسیہ میں فتح کی مبارکباد پیش کی۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اﷲ تعالیٰ کی حمد وثنا اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر درودو سلام بھیجنے کے بعد ہر قبیلہ کی تعریف کی،اور جنگ قادسیہ میں فتح کے بعد اختتام کا اعلان فرمایا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں