ہفتہ، 5 اگست، 2023

13 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ Khilafat e Rashida 3


13 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 13

بحری جنگ کی تیاری، رومیوں کے بحری بیڑے سے سامنا، گھمسان کی جنگ اور رومیوں کو شکست، باغیانہ خیالات، 32 ہجری :ترکوں کی مداخلت، اہل کوفہ اور اہل شام میں اختلاف، 

بحری جنگ کی تیاری

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں مسلمان سب سے بڑی سوپر پاور بن چکے تھے ۔دو سوپر پاور میں سے ”سلطنت ِ فارس “ تو ختم ہو چکی تھی اور ”سلطنت روم “ کا ملک شام سے خاتمہ ہو گیا تھا اور وہ صرف یورپ تک محدود ہو کر رہ گئی تھی لیکن ابھی بھی اتنی طاقتور تھی کہ مسلمانوں سے ٹکرا سکتی تھی ۔مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان صرف بُحیرۂ روم تھا اور ملک شام کا اچھا خاصا علاقہ بُحیرہ روم کا ساحلی علاقہ تھا اور ملک شام کے گورنر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ کسی بھی وقت رومی بحری بیڑہ بُحیرہ روم پار کر کے حملہ کر سکتا ہے ۔اِسی لئے انہوں نے خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے بحری جنگ کی اجازت مانگی تھی جو انہوں نے نہیں دی تھی لیکن جب خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے بحری جنگ کی اجازت مانگی تو انہوں نے دے دی ۔اِس کے بعد وقتاً فوقتاً مسلمانوں اور رومیوں میں بحری جھڑپیں ہوتی رہیں لیکن کوئی بڑی جنگ نہیں ہوئی یہاں تک کی 31 ہجری آگئی اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ جب پورے ملک شام کے گورنر بن گئے تو انہوں نے رومیوں سے بحری جنگ کی طرف توجہ دی ۔

رومیوں کے بحری بیڑے سے سامنا

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے حکم سے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے بحری بیڑہ یعنی لشکر بنایا اور اُس کا سپہ سالار عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح کو بنایا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” چونکہ مسلمانوں نے افریقہ میں رومی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اِس لئے قسطنطین بن ہرقل بھی ایک ایسالشکر جرّار لیکر روانہ ہوا جو مسلمانوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ ادھر مسلمانوں نے بھی اپنا بحری بیڑا بُحیرۂ روم میں اتار دیا تھا ۔اہل روم پانچ سو کے بیڑے میں نمودار ہوئے اور مسلمانوں سے اُن کا مقابلہ ہوا ۔ابتداءمیں فریقین میں عارضی امن قائم ہوا یہاں تک کہ مشرکین اور مسلمانوں کی کشتیاں ایکدوسرے کے قریب لنگر انداز ہو گئیں ۔حضرت مالک بن اوس بن عدنان کہتے ہیں : ” میں اُس بحری جنگ میں تھا ،سمندر میں ہماری دشمنوں سے مُڈ بھیڑ ہو گئی ۔ اُن کا ایسا بحری بیڑا ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ہوا ہمارے مخالف تھی اِس لئے ہم تھوڑی دور پر لنگر انداز ہوئے ۔(یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اُس وقت انجن والے جہاز اور کشتیاں ایجاد نہیں ہوئے تھے اور صرف بادبانی جہاز اور کشتیاں تھیں ۔یہ ہوا سے چلتے تھے ،بادبانوں میں ہوا بھر جاتی تھی اور ہوا کے موافق جہاز اور کشتیاں چلتے تھے ) اور پھر وہ بھی ہمارے قریب لنگر انداز ہو گئے ۔ہوا پُر سکون تھی اور ہم نے کہا : ” تمہارے اور ہمارے درمیان امن و صلح ہونی چاہیئے۔“ وہ بولے : ” تمہیں امن دیا جاتا ہے اور اِسی طرح ہمیں بھی امن و صلح حاصل ہونی چاہیئے ۔“ ہم نے کہا : ” اگر تم پسند کرو تو ساحل پر جنگ ہو تاکہ ہم میں اور تم میں کو کوئی جلد باز ہو وہ مر جائے اور اگر تم چاہو تو سمندر کے اندر جنگ ہو ۔“ انہوں نے بیک زبان غرور و نخوت سے کہا: ” پانی میں جنگ ہو گی ۔“ اِس پر ہم اُن کے قریب پہنچ گئے ۔ 

گھمسان کی جنگ اور رومیوں کو شکست

سمندر میں دونوں بحری بیڑے ایکدوسرے کے مقابل آگئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” جب مسلمان دشمنوں کے بحری بیڑے کے قریب ہوئے تو وہاں پانچ سو یا چھ سو کشتیوں میں رومی سپاہی تھے ۔اِس میں قسطنطین بن ہرقل بھی تھا ۔اُس نے اپنے کمانڈروں سے کہا : ” تم مجھے مشورہ دو “ وہ بولے :” ہم رات کو غور و فکر کریں ۔“ رات پھر رومی ناقوس بجاتے رہے اور مسلمان نمازیں پڑھتے رہے ۔جب صبح ہوئی تو قسطنطین نے جنگ کرنے کا عزم مصمم کر لیا تھا ۔اُس نے رومیوں کو اپنی کشتیوں کو ایکدوسرے کے قریب کرنے کا حکم دیا اور یہ دیکھ کر مسلمانوں نے بھی اپنی کشتیوں کو ایکدوسرے کے قریب کر لیا اور انہیں آپس میں باندھ لیا ۔حضرت عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح نے کشتیو ں کے اندر ہی مسلمانوں کی صف بندی کر لیتھی اور انہیں ہدایت کی کہ وہ قرآن پاک کی تلاوت کریں اور صبر و استقلال اختیار کریں ۔رومیوں نے مسلمانوں کی کشتیوں پر صف بندی کی حالت میں ہی حملہ کر دیا ۔ مسلمان صف بندی توڑنے پر مجبور ہو گئے اور صف بندی کے بغیر ہی جنگ کرتے رہے ۔یہ گھمسان کی جنگ تھی آخر کار اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح و نصرت عطا فرمائی اور انہوں نے دشمنوں کا صفایا کر دیا اور بھاگنے والوں کے علاوہ رومیوں میں سے کوئی نہیں بچ سکا ۔علامہ محمد بن جریر طبری مالک بن اوس بن عدنان کی زبانی آگے لکھتے ہیں : ” ہم نے اپنی کشتیوں کو ایک دوسرے سے اِس طرح باندھ لیا تھا کہ ہم مل کر کشتیوں پر حملہ کر سکتے تھے ۔ہم نے گھمسان کی جنگ لڑی اور فریقین ثابت قدمی سے جنگ کرتے رہے اور کشتیوں پر تلواروں اور خنجروں سے جنگ ہوتی رہی ۔یہاں تک کہ خون کی ندیاں ساحل سمندر تک بہنے لگیں اور سمندر کی لہریں لہو لہان ( خونی ) ہوگئیں اور موجوں کے ذریعے سمندر میں لاشوں کے انبار تیرنے لگے ۔اُس وقت اِس جنگ کی وجہ سے ساحل پر خونی لہریں ٹکرا رہی تھیں اور سمندر اور ساحل کے درمیان لاشوں کے انبار تیرتے ہوئے نظر آر ہے تھے اور پانی پر خون غالب آگیا تھا ۔ اِس جنگ میں مسلمانوں کی بڑی تعداد شہید ہوئی اور کافروں کے بے شمار سپاہی مارے گئے ۔اِس جنگ میں مسلمانوں نے صبر اور استقلال کا بے مثال مظاہرہ کیا ۔یہاں تک کہ اﷲ نے اہل اسلام پر فتح و نصرت نازل کی اور قسطنطین ( روم کا بادشاہ ) پیٹھ دکھا کر بھاگ گیا ۔وہ اپنے مقتولوں اور زخمیوں کا درد ناک نظارہ نہیں دیکھ سکا اور خود قسطنطین بھی بہت زخمی ہوا اور وہ کافی عرصے تک ذخموں میں چور رہا ۔حضرت عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح نے ”ذات الصواری “ میں چند دنوں تک قیام کیا پھر واپس آگئے ۔

باغیانہ خیالات

اِس جنگ کے دوران خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے خلاف باغیانہ خیالات سامنے آئے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” امام زہری ( جلیل القدر تابعی اور مفسر ) فرماتے ہیں :” محمد بن ابی حذیفہ اور محمد بن ابو بکر دونوں اُس سال منظر عام پر آئے جس سال عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح ( بحری جنگ کے لئے )روانہ ہوئے تھے ۔یہ دونوں افراد خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے عیوب اور اُن کی تبدیلیوں کا کھلم کھلا اظہار کرتے تھے ۔وہ کہتے تھے : ” حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے حضرات ابو بکر صدیق اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہم کے طریقے کی مخالفت کی ہے اِس لئے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا خون ( نعوذ باﷲ ) حلال ہے ۔“ وہ دونوں کہتے تھے : ” انہوں نے ایک ایسے شخص کو حاکم ( گورنر) مقرر کیا ہے جس کے خون کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مباح قرار دیا تھا اور قرآن پاک نے جس کے کفر کا اعلان کیا تھا ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک جماعت کو نکال دیا تھا مگر انہوں نے اُن لوگوں کو واپس بلوا لیا اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابہ ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کو نکال دیا اور انہوں نے سعید بن عاص اور عبد اﷲ بن عامر کو حاکم ( گورنر ) مقرر کیا ۔جب عبد اﷲ بن سعد بن ابی سرح کو یہ بات معلوم ہوئی تو اُس نے کہا : ” تم دونوں ہمارے ساتھ سوار مت ہونا ۔ “ اِسی لئے وہ دونوں ایسی کشتی میں سوار ہوئے جس میں کوئی مسلمان نہیں تھا جب دشمنوں سے مقابلہ ہوا تو اِن دونوں نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر جنگ میں حصہ نہیں لیا اور جب اُن دونوں سے پوچھا گیا تو وہ بولے : ” ہم اُس شخص کے ساتھ مل کر کیسے جنگ کر سکتے ہیں جو ہمارا حاکم بننے کے قابل نہیں ہے ۔عبد اﷲ بن سعد کو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے حاکم مقرر کیا ہے جس نے ایسے اور ایسے افعال کا ارتکاب کیا ہے ۔“ اِس طرح یہ دونوں اشخاص لشکر کے مجاہدین کو گمراہ کرتے رہے اور خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ پر سخت اعتراضات کرتے رہے ۔

32 ہجری :ترکوں کی مداخلت

خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے سعید بن عاص کو حکم دیا کہ وہ ایک لشکر ”باب “ کی طرف روانہ کریں ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے سعید بن عاص کو تحریر کیا کہ وہ سلمان بن ربیعہ کو ” باب “ کی جنگ کے لئے لشکر دیکر روانہ کرے ۔ انہوں نے عبد الرحمن بن ربیعہ کو جو ” باب “ کے گورنر تھے یہ تحریر کیا : ” رعایا کے اکثر افراد کو شکم پری ( بھرے ہوئے پیٹ ) نے خراب کر دیا ہے ۔اِس لئے مسلمانوں کو لیکر آگے نہ بڑھو اور دشمنوں کے علاقے میں نہ گھسو کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ کسی مصیبت میں مبتلا نہ ہو جائیں ۔“ مگر عبد الرحمن بن ربیعہ کے مقصد میں یہ خط بھی حائل نہیں ہواکیونکہ وہ ”ہلنجر “ کے علاقہ میں جہاد کرنے میں کوتاہی نہیں کیا کرتے تھے ۔انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت کے نویں سال ہلنجر پر حملہ کیا اور جب وہ وہاں پہنچے تو وہاں کے لوگوںنے ”شہر پناہ کی فصیل پر منجنیقیں اور دوسرے جنگی سامان نصب کر رکھا تھا ۔اِ سی لئے جب کوئی ان کے قریب پہنچتا تھا تو وہ اسے زخمی کرتے یا قتل کر دیتے تھے ۔اِس طرح مسلمانوں نے بہت نقصان اٹھایا اور متعدد اِس معرکے میں شہید ہوئے ۔ ترکوں نے فوج بھیجنے کا وعدہ کر رکھا تھا اِسی لئے جب ترکوں کی مدد پہنچ گئی تو اہل ہلنجر شہر سے باہر نکل آئے اور جنگ کرنے لگے ۔اِس جنگ میں عبد الرحمن بن ربیعہ شہید ہوگئے انہیں ” ذوالنون “ بھی کہا جاتا تھا۔اِس جنگ میں مسلمانوں کو شکست ہوئی اور وہ منتشر ہو گئے ۔ جن لوگوں نے سلمان بن ربیعہ کا طریقہ اختیار کیا تھا وہ ” باب “ سے صحیح سلامت نکل آئے ۔کچھ حضرت نے اہل خزر کے علاقے کا راستہ اختیار کیا تھا وہ ”جیلان “ اور ”جرجان “ پہنچے ۔انہیں حضرات میں حضرت سلمان فارسی اور حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہم بھی تھے ۔دشمن نے حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ کی لاش پر قبضہ کر لیا اور اُسے ایک صندوق میں رکھا ۔ وہ اُن لوگوں کے قبضے میں رہی اور وہ اس کی برکت سے بارش کی دعائیں مانگتے تھے اور فتح اور نصرت حاصل کرتے تھے۔ 

اہل کوفہ اور اہل شام میں اختلاف

ہلنجر کی جنگ کے بارے مین علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں :” سعید بن عاص نے سلمان بن ربیعہ کو لشکر کا سپہ سالار بنایا اور انہیں ” باب “ سے جنگ کرنے کا حکم دیا اور وہاں کے گورنر عبد الرحمن بن ربیعہ کو ان کی مدد کرنے کا حکم دیا ۔وہ روانہ ہو کر ”ہلنجر “ پہنچ گئے اور اُس کا محاصرہ کر کے مجنیقیں نصب کر دیں ۔پھر اہل ہلنجر ان کے مقابلے پر آئے اور ترکوں نے ان کی مدد کی اور باہم شدید جنگ ہوئی اور تُرک مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے سے ڈرتے تھے اور اُن کا خیال تھا کہ مسلمانوں کو موت نہیں آتی ۔حتیٰ کہ بعد میں انہوں نے مسلمانوں کے خلاف جرا¿ت کی ۔پس جب آج کا دن آیا تو انہوں نے ان کے ساتھ مڈبھیڑ کر کے جنگ کی اور اُس روز عبد الرحمن بن ربیعہ شہید ہو گئے جنہیں ”ذو النون “ کہا جاتا تھا اور مسلمان شکست کھا کر دو پارٹیوں میں تقسیم ہو گئے ۔ایک پارٹی بلاد خزر کی طرف اور دوسری پارٹی جیلان اور جرجان کی طرف چلی گئی اور اِن میں حضرت ابو ہریرہ اور حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہم بھی شامل تھے اور ترک عبد الرحمن بن ربیعہ کے جسم کو لے گئے ۔آپ سادات اور بہادر مسلمانوں میں سے تھے اور آپ کو اپنے ملک میں دفن کر دیا اور وہ آج تک ان کے پاس بارش طلب کرتے ہیں ۔جب حضرت عبد الرحمن بن ربیعہ شہید ہو گئے تو سعید بن عاص نے سلمان بن ربیعہ کواُن کا گورنر مقرر کیا ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اہل شام کے ذریعے اہل کوفہ کو مدد دی جن کے امیر حبیب بن مسلمہ تھے ۔پس امارت کے بارے میں حبیب بن مسلمہ اور سلمان بن ربیعہ میں آپس میں تنازعہ کیا حتیٰ کہ دونوں میں اختلاف ہو گیا ۔ یہ پہلا اختلاف تھا جو شامیوں اور کوفیوں کے درمیان ہوا حتیٰ کہ اِس کے متعلق کوفہ کے اوس نامی شخص نے یہ اشعار کہے : ” اگر تم نے سلمان کو مارا تو ہم تمہارے حبیب کو ماریں گے اور تم ابن عفان ( خلیفۂ سُوم ) رضی اﷲ عنہ کے پاس جاو¿ گے تو ہم بھی جائیں گے ۔ اور اگر تم تم انصاف کرو تو سرحد ہمارے امیر کی ہے اور یہ امیر لشکریوں میں مقبول ہیں اور ہم سرحد کے والی ہیں اور ہم ان راتوں میں اس کے محافظ تھے جب ہم سرحد پر تیر اندازی کرتے تھے اور سزا دیتے تھے ۔“

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....؟


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں