جمعرات، 3 اگست، 2023

13 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


13 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 13

ملک شام سے کمک کی آمد، حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کی بہادری، یوم اغواث، مسلمانوں کی نئی ترکیب، چار بیٹوں کی والدہ کا جذبۂ جہاد، مسلمانوں کا جذبہ شہادت اور دلیری، آدھی رات تک جنگ، یوم اغواث ،فتح کادن، حضرت ابو محجن، حضرت محجن کی پشیمانی، حضرت ابو محجن کی بہادری، حضرت ابو محجن کی رہائی، شہداءکی تدفین اور فارسیوں کی لاشیں، یوم عمواس

ملک شام سے کمک کی آمد

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے زخمیوں کی دیکھ بھال کے لئے مسلمان خواتین کو مقرر کر دیا۔اور شہیدوں کو عذیب اور عن الشمس کے درمیان دفن کیا۔فارسیوں کے کئی ہزار سپاہی قتل ہوئے تھے۔دوسرے دن لشکروں کی ترتیب سے پہلے مسلمانوں کو ایک خوشخبری ملی،اور ملک شام سے امدادی لشکر آگیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔شہداءاور زخمیوں کو میدان جنگ سے لے آیا گیا،اور مسلمان خواتین کو زخمیوں کی تیمار داری پر لگا دیا گیا۔صبح کے وقت شہداءکواونٹوں پر لاد کر مشرق کے مقام پر دفن کر دیا ،جو عذیب اور عین الشمس کے درمیان ہے۔جب شہداءکو دفن کرنے کے لئے لے جا رہے تھے تو اُس وقت ملک شام کی طرف سے گھڑ سوار آتے دکھائی دئے۔دمشق کی فتح قادسیہ کی جنگ سے ایک مہینے پہلے ہوگئی تھی۔اِسی لئے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ملک شام میں مقرر سپہ سالار حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ملک عراق سے آئے ہوئے لشکر کوحضرت سعد بن ا بی وقاص رضی اﷲ عنہ کے پاس واپس بھیج دیں۔اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے بارے میں حکم دیا تھا کہ انہیں اپنے پاس رکھو۔اسی لئے انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو اپنے پاس روک لیا ،اور اُن کے ساتھ آئے ہوئے چھ ہزار کے لشکر کو ملک عراق حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کے پاس واپس بھیج دیا۔اس میں حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ ”مقدمة الجیش“پر تھے۔یہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے شاگرد ہیں،اور اُن کے ساتھ بہت سی جنگوں میں شرکت بھی کی ہیں۔لشکر کے سپہ سالار حضرت ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص تھے۔

حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کی بہادری

جنگ کے دوسرے دن صبح دونوں لشکر آمنے سامنے آئے ،اور صف بندی کر لی۔آج مسلمانوں کے لشکر میں ملک شام سے آیا ہوا لشکر بھی تھا۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے اِس لشکر کو اگلے حصے پر رکھا۔اور حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ صفوں کے آگے اپنا گھوڑا دوڑا رہے تھے ،اور فرما رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے مجاہدین!تم وہ کرو ،جو میں کر رہا ہوں۔“یہ فرما کر وہ آگے بڑھے ،اور فارسیوں کوانفرادی مقابلے کےلئے للکارا۔حضرت قعقاع رضی اﷲ عنہ کے بارے میں خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”وہ لشکر نا قابل ِ شکست ہے،جس میں حضرت قعقاع رضی اﷲ عنہ جیسے شخص موجود ہوں۔“آپ رضی اﷲ عنہ کی للکار سن کر ذوالحاجب فارسی لشکر سے باہر نکل کر آیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم کون ہو؟“اُس نے جواب دیا؛”میں بہمن جاذویہ ہوں“آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس کا جواب سن کر فرمایا؛”آج حضرت ابو عبید ثقفی رضی اﷲ عنہ ،حضرت سُلیط رضی اﷲ عنہ اور جنگ حسبر (یا جسر) کے شہداءکا انتقام لیا جائے گا۔“پھر دونوں میں مقابلہ شروع ہوا،اور وہ ایک دوسرے پر وار کرنے لگے۔آخر کار آپ رضی اﷲ عنہ نے تلوار کا ایسا وار کیا کہ اُس کی گردن اُڑ کر کافی دور جا گری۔حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے اِس کے بعد پھر للکارا؛”اور کون ہے ،جو مقابلے کے لئے آتا ہے؟“اِس للکار پر فارسی لشکر سے دو آدمی نکلے،اُن میں سے ایک کا نام میرزان تھا،اور دوسرے کا نام بندوان تھا۔لہٰذا حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کے ساتھ قبیلہ بنو تمیم الآن کے ایک شخص حضرت حارث بن ظبیان بھی شامل ہو گئے۔حضرت قعقاع رضی اﷲ عنہ نے میرزان سے جنگ کی۔اور شمشیر زنی کر کے اُس کا سر کاٹ دیا۔ابن ظبیان نے بندوان سے جنگ کی،اور اُس کا سر کاٹ دیا۔

یوم اغواث

حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کی انفرادی مقابلے میں کامیابی دیکھ کر رستم نے فارسیوں کو ایک ساتھ حملہ کرنے کا حکم دے دیا،اور مسلمان شہسوار بھی فارسیوں پر ٹوٹ پڑے۔حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ بار بار تاکید کر رہے تھے؛”اے مسلمانو!تم اِن لوگوں کی تلواروں سے خبر لو،کیونکہ تلواروں سے ہی اِن کی بیخ کنی ہو گی۔اِس طرح مسلمانوں میں تعاون کا جذبہ کار فرما رہا،اور وہ شام تک بہادری سے جنگ کرتے رہے۔آج اہل عجم (فارسی،ایرانی)نے کوئی موافق کارنامہ انجام نہیں دیا،بلکہ وہ مسلمان انہیں قتل کرتے رہے۔آج وہ ہاتھیوں سے کوئی جنگ نہیں کر سکے،کیونکہ اُن کے صندوق گزشتہ روز ٹوٹ گئے تھے۔اِس لئے وہ صبح سے ہی اُن کی درستی میں مشغول رہے،یہاں تک کہ دن گذر گیا۔آج کے دن قبیلہ بنو یربوع کی شاخ بنو رباح کے تین افرادحضرت قعقاع رضی اﷲ عنہ کی مدد کرتے رہے۔جب کبھی مسلمانوں کا کوئی دستہ نمودار ہوتا تو حضرت قعقاع رضی اﷲ عنہ نعرہ ¿ تکبیر بلند کرتے ،اور یہ تنیوں بھی نعرہ تکبیر بلند کرتے ،اور دشمنو ں پر حملہ کر دیتے،یہ دیکھ کر مسلمانوں کا دستہ بھی نعرہ تکبیر بلند کرتا ،اور اُن کے ساتھ ملکر حملہ کر دیتا تھا۔اِن تنیوں کے نام حضرت نعیم بن عمرو،حضرت عتاب بن نعیم،اور حضرت عمرو بن شبیب ہیں۔

مسلمانوں کی نئی ترکیب

قادسیہ میں ”یوم اغواث“کے دن مسلمانوں نے ایک نئی تیکنک کا استعمال کیا،اور اِس کی وجہ سے انہیں بہت کامیابی حاصل ہوئی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جنگ کا آغاز سواروں کی جنگ سے ہوا،اور ہر سمت سے لوگ نکل آئے۔نیزہ بازی ،اور تلوار بازی ہونے لگی۔حضرت قعقاع رضی اﷲ عنہ کے چچا ذاد بھائیوں نے اونٹوں پر سوار ہو کر حملہ کر دیا۔انہوں نے اونٹوں کو جھول پہنا کر پوشیدہ کر(چھپا) دیا۔اُن کے گھوڑے سوار اطراف میں رہ کر اُن کی حفاظت کر رہے تھے۔اور اونٹوں کے سواروں کو حکم دیا گیا تھا کہ دونوں صفوں کے درمیان دشمن کے گھڑ سواروں پر حملہ کریں،تاکہ وہ ہاتھیوں کے مشابہ معلوم ہوں۔مسلمانوں نے ”یوم اغواث “میں وہی طریقہ اختیار کیا،جو فارسیوں نے ”یوم ارمات“میں استعمال کیا تھا۔اِسی لئے یہ اونٹ جہاں بھی پہنچ جاتے تھے،وہاں کے فارسی گھوڑے بدک جاتے تھے،اور مسلمانوںکے گھڑ سوار اُن کا قتل عام کرنے لگتے تھے۔اِس طر ح مسلمانوں کے پوشیدہ اونٹوں نے یوم اغواث میں فارسیوں کو اُس سے زیادہ نقصان پہنچایا،جتنا نقصان فارسیوں نے مسلمانوں کو ہاتھیوں کے ذریعے یوم ارمات میں پہنچایا تھا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت قعقاع رضی اﷲ عنہ نے اِس جنگ میں ایک چالاکی کہ دس دس اونٹوں کو ایک قطار میں کر کے ان پر جھولیں ڈال دیں تھیں،اور اُن پر بڑے ہوشیار تیر اندازوں کو بٹھا کر فارسیوں پر تیروں سے حملہ کرنے کا حکم دیا۔اور اُن کے آس پاس گھڑ سواروں کو اُن کی حفاظت کے لئے متیعن کر دیاتھا۔حضرت قعقاع رضی اﷲ عنہ کی یہ تدبیر کامیاب رہی ،اور فارسی لشکر کے گھوڑے اِن مصنوعی ہاتھیوں کو دیکھ کر بے قابو ہو گئے،اور بھاگ کھڑے ہوئے۔فارسی سواروں نے اُن کو پھیرنے کی بہت کوشش کی،لیکن کامیاب نہیں ہو سکے۔فارسی لشکر کو اِن مصنوعی ہاتھیوں سے اُس سے زیادہ نقصان پہنچا ،جتنا مسلمانوں کو اصلی ہاتھیوں سے برداشت کرنا پڑا تھا۔

چار بیٹوں کی والدہ کا جذبۂ جہاد

قادسیہ میں یوم اغواث کے دن چار بھائیوں نے بہت بہادری سے زبردست جنگ کی۔اُن کی اِس بہادری کی وجہ اُن والدہ محترمہ تھیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔قبیلہ بنو نخع کی ایک خاتون بھی جنگ قادسیہ میں موجود تھیں۔وہ خاتون اپنے بیٹوں سے کہنے لگیں؛”تم مسلمان ہونے کے بعد بھی تبدیل نہیں ہوئے۔(یعنی اﷲ کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ نہیں آیا)تم نے ہجرت کی،مگر تکالیف اور قحط سالی میں مبتلا نہیں ہوئے۔پھر تم اپنی بوڑھی والدہ کو لیکر آئے ،اور فارسیوں کے سامنے بٹھا دیا۔اﷲ کی قسم ! تم ایک ہی مرد اور ایک ہی عورت کے بیٹے ہو،میں نے تمہارے والد کے ساتھ خیانت نہیں کی ہے،اور نہ ہی تمہیں ذلیل و رسوا کیا ہے۔تم جاو¿ اور جنگ کی ابتداءسے لے کر آخر تک بہادری سے لڑو،اورفتح حاصل کر کے آو¿۔اگر تم شہید ہوئے ،تو مجھے زیادہ خوشی ہوگی۔“یہ سن کر چاروں بھائی اپنی والدہ سے اجازت لیکر فارسیوں پر ٹوٹ پڑے،اور شدیدحملے کرنے لگے۔جب تک وہ دکھائی دیتے رہے ،اُن کی والدہ دیکھتی رہی۔اور جب وہ نظروں سے اوجھل ہو گئے،تو اُس نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا دیئے،اور یوں دعا مانگی؛”اے اﷲ تعالیٰ !تُو میرے بیٹوں کی حفاظت فرما۔“اُس کے بیٹے خوب جنگ کرتے رہے ،اور اُن میں سے کوئی بھی زخمی نہیں ہوا ،اور صحیح سالم وہ سب واپس آئے۔انہوں نے دو دو ہزار کا وظیفہ حاصل کیا،اور وہ تمام اپنی والدہ کی گود میں لے جا کر ڈال دیا۔والدہ نے انہیں وہ رقم واپس کردی،اور اسے اُن کی بھلائی اور مرضی کے مطابق تقسیم کیا۔

مسلمانوں کا جذبہ شہادت اور دلیری

قادسیہ کے میدان میں یوم اغواث کے دن مسلمانوں کا جذبہ ¿ شہادت اوردلیری دیکھنے میں آئی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔قبیلہ بنو تمیم کے ایک شخص جن کا نام حضرت سواد تھا،اور وہ دس آدمیوں کی حفاظت پر مقرر تھے۔وہ شہید ہونے کے لئے بہت بے چین تھے۔وہ دشمنوں پر شدید حملے کرتے رہے،جب وہ اِس کے باوجود شہید نہیں ہوئے تو رستم سے مقابلہ کرنے کے لئے آگے بڑھے،اور اُس کے حفاظتی دستے(باڈی گارڈوں)پر حملہ کر دیا۔اور رستم تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگے،اور اِسی کوشش میں شہید ہو گئے۔حضرت علبائن جحش عجلی نے ایک فارسی سے مقابلہ کیا،اور اُسے گرا دیاتو اُس کی مدد کے لئے دوسرا فارسی آگیا۔تب تک وہ اُس فارسی کو ذبح کر چکے تھے،اور اُسی حالت میں جھکے ہوئے دوسرے فارسی کے پیٹ پر تلوار ماری ،جس سے اُس کا پیٹ پھٹ گیا،اور انتڑیاں باہر آگئیں۔وہ اُسی حالت میں گر گیا تو آپ آگے بڑھ گئے۔اُس دوسرے فارسی نے کھڑے ہونے کی کوشش کی،لیکن باہر نکلی انتڑیوں کی وجہ سے کھڑا نہیں ہو پا رہا تھا۔اُس نے انتڑیوں کو پیٹ میں داخل کرنے کی کوشش کی ،لیکن نہیں کر سکا۔اتنے میں ایک مسلمان قریب سے گذرا تو اُس فارسی نے کہا کہ میرے پیٹ کو درست کر دو،اُس مسلمان نے اُس کی انتڑیاں اُس کے پیٹ میں کافی دقت کے بعد ڈال دیں،تو وہ کھڑ ہوا اور فارسی لشکر کی طرف جانے کی کوشش کرنے لگا۔لیکن ابھی وہ تیس گز بھی نہیں چل سکا تھا کہ گر پڑا،اور وہیں مر گیا۔حضرت اعرف بن اعلم عقیلی کے مقابلے پر ایک فارسی آیا تو آپ نے اُسے ایک ہی وار میں قتل کردیا۔ دوسرا آدمی آیا تو اُسے بھی ایک ہی وار میں قتل کر دیا۔اِس کے بعد کئی فارسی سپاہیوں نے آپ کو گھیر لیا،اور اُن سے لڑنے میں آپ کے ہتھیا ر بھی چھن گئے۔لیکن اُس وقت آپ نے کمال چالاکی کا مظاہرہ کیا،اور دھول اُٹھا کر اُن کی آنکھوں میں جھونک دی ،اور مسلمانوں کی طرف لوٹ آئے۔

آدھی رات تک جنگ

حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے اُس دن تیس حملے کئے۔جب کوئی فارسیوںکا دستہ دکھائی دیتا تو آپ رضی اﷲ عنہ اُس پر حملہ کر کے اُسے نقصان پہنچاتے۔ اِن تیس حملوں میں تیس فارسی قتل کئے،ہر حملے میں وہ کسی نہ کسی فارسی کو قتل کرتے تھے۔اُن کا آخری مقتول بزر جمہر ہمدانی تھا۔دونوں لشکروں کے سپاہی ایک دوسرے پر بڑھ بڑھ کر حملے کر رہے تھے۔صبح سے دوپہر تک سواروں کے درمیان جنگ ہوتی رہی،دوپہر بعد پیدل سپاہی بھی جنگ میں شامل ہو گئے۔اور شام تک جنگ چلتی رہی،شام ہونے کے بعد بھی جاری رہی۔اور رات میں بھی دونوں طرف کے سپاہی حملے کرتے رہے،اور آدھی رات تک جنگ ہوتی رہی۔یوم ارمات کی رات ”پُر سکون رات “کہلائی جاتی ہے۔اور یوم اغواث کی رات ”سیاہ رات “کہلائی جاتی ہے۔

یوم اغواث ،فتح کادن

جنگ قادسیہ کے دوسرے دن ”یوم اغواث“کو مسلمان ”فتح کا دن بھی کہتے تھے۔کیونکہ اُس دن کی کامیابیوں نے مسلمانوں میں بے انتہا حوصلہ پیدا کیا۔علامہ محمد بن جریر بن طبری لکھتے ہیں۔مسلمان یوم اغواث کو فتح کا دن بھی کہتے تھے۔کیونکہ اُس دن انہوں نے سلطنت فارس کے ممتاز لوگوں کو قتل کر دیاتھا۔اُس دن ”قلب“مرکزی لشکر کے سوار بھی خوب لڑتے رہے ،اور پیدل بھی ثابت قدم رہے۔اگر مسلمانوں کے گھڑ سوار واپس نہیں آگئے ہوتے تو رستم بھی گرفتار ہو جاتا۔جنگ ختم ہونے کے بعد مسلمانوں نے وہ رات اُسی طرح گذاری ،جس طرح فارسیوں نے یوم ارمات کی رات گذاری تھی۔مسلمان خوشی کے نعرے بلند کر رہے تھے۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے اپنے دست راست سے فرمایا؛”اگر مسلمان خوشی مناتے رہے تو مجھے نہ جگانا،کیونکہ وہ دشمنوں پر طاقتور ہوں گے۔اور اگر وہ خاموش ہو جائیں،اور دشمن بھی خوشی نہ منائیںتو تب بھی مجھے نہ جگانا،کیونکہ دونوں مساوی حالت میں ہوں گے۔اور اگر دشمن کو خوشیاں مناتے دیکھو تو ایسی صورت میں مجھے جگا دینا ،کیونکہ اُن کی یہ آواز برائی پر مبنی ہو گی۔

حضرت ابو محجن

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے محل میں جنگ قادسیہ کے دوران ایک قیدی حضرت ابو محجن تھے۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے شراب پینے کے جرم میں اُن پر حد جاری کی تھی۔اور اِس سے پہلے بھی کئی بار حد جاری کر چکے تھے۔اِس لئے اِس بار اُن کے پیروں میں بیڑیاں ڈال کر قید کر دیا تھا۔انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ سے معافی مانگی،اور آزاد کرنے کی درخواست کی،تاکہ وہ بھی جنگ میں حصہ لے سکیں۔لیکن آپ رضی اﷲ عنہ نے اجازت نہیں دی،کیونکہ آپ رضی اﷲ عنہ کو اندیشہ تھا کہ حضرت ابو محجن جنگ کے بہانے آزاد ہو کر چھپ کر شراب پئیں گے۔اسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں ڈانٹ دیا ،اور قید میں ہی رکھا۔

حضرت محجن کی پشیمانی

حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے جب حضرت محجن کو ڈانٹ کر قید کر دیا،تو آپ رضی اﷲ عنہ کی بیوی سیدہ سلمیٰ کسی کام سے اُدھر سے گذری ،جہاں حضرت ابو محجن قید تھے۔انہوں نے درخواست کی؛”اے سلمیٰ بنت آل خصفہ!کیا آپ نیکی کا کام کریں گی؟“انہوں نے پوچھا ؛”وہ کیا کام ہے؟“حضرت ابو محجن نے کہا؛”آپ مجھے آزاد کر دیں،اور یہ بلقاءگھوڑا(حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کا گھوڑا)مجھے مستعار دیں،اﷲ کی قسم ! اگر اﷲ نے مجھے زندہ اور سالم رکھا تو میں خود واپس آکر اپنے ہاتھوں اور پیروں میں بیڑیاں پہن لوں گا۔سیدہ سلمیٰ نے فرمایا؛”میں یہ نہیں کر سکتی۔“یہ سن کر حضرت ابو محجن کو بہت پشیمانی ہوئی ،اور انہوں نے بلند آواز سے کہا؛”میرے لئے یہ رنج و غم کیا کم ہے کہ جب گھوڑے نیزوں کے ساتھ دوڑ رہے ہوں،اُس وقت میں زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑا بیٹھا رہوں۔جب میں کھڑا ہونا چاہتا ہوں تو لوہے کی بیڑیاں مجھے روک لیتی ہیں،حالانکہ میرے سامنے (جنگ میں) گرنے اور مرنے کے ایسے مناظر آ رہے ہیں،جو پکارنے والے کو تڑپا دیتے ہیں۔میں بہت مال دار تھا،اور میرے بہت(مسلمان) بھائی تھے۔مگر اب انہوں مجھے ایسی حالت میں تن تنہا چھوڑ دیا ہے،جیسے کہ میرا کوئی بھائی ہی نہیں ہے۔میں نے اﷲ سے پختہ عہد کیا ہے،جسے ہر گز نہیں توڑوں گا،کہ اگر مجھے رہا کر دیا جائے تو میں شراب کی دوکان کے پاس بھی نہیں پھٹکوں گا۔“

حضرت ابو محجن کی بہادری

سیدہ سلمیٰ نے حضرت ابو محجن کی پشیمانی دیکھی،اور الفاظ سنے تو آپ کے پاس آئیں،اور فرمایا؛”میں نے اﷲ سے استخارہ کیا ہے ،اور تمہارے عہد پر اعتبار کرتی ہوں۔“یہ فرما کر انہوں نے حضرت محجن کی بیڑیا ں اور زنجیریں کھول دیں۔پھر فرمایا؛”میں یہ بلقاءگھوڑا تمہیں نہیں دے سکتی۔“یہ فرما کر وہ چلی گئیں۔اور حضرت ابو محجن نے بلقاءکو کھول کر اُسے محل کے اُس دروازے سے نکال لے گئے،جو خندق کے قریب تھا۔وہ اُس پر سوار ہوئے ،اور میمنہ میں جاکر نعرہ تکبیر بلند کیا،اور شدید حملہ کر کے فارسیوں کا قتل عام کرنے لگے۔آپ کے نیزے اور تلوار کے حملوں کو دیکھ کر ہر کوئی حیران تھا۔اِس کے بعدآپ میسرہ میں گئے ،اور وہاں بھی فارسیوں کاقتل عام کرنے لگے۔اِس کے بعد وہ قلب(لشکر کے درمیانی حصے میں آئے ،اور وہاں بھی فارسیوں کا قتل عام کرنے لگے۔انہوں نے اپنے چہرے پر کپڑا باندھا ہوا تھا،اور وہ گرجتے برستے ہوئے فارسیوں پر زوردار حملے کر رہے تھے۔آپ کو دیکھ کر مسلمانوں کو بھی تعجب ہو رہا تھا ،کیونکہ وہ آپ کو پہچان نہیں پا رہے تھے،لیکن بلقاءکو ضرور پہچانتے تھے۔

حضرت ابو محجن کی رہائی

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ اپنے محل کے جھروکے سے جنگ کا مشاہدہ کر رہے تھے۔انہوں نے ایک کپڑا باندھے ہوئے گھڑ سوار کو بجلی کی طر ح کبھی میمنہ ،کبھی میسرہ،اور کبھی قلب میں دیکھا،اور حیران رہ گئے۔انہوں نے اپنے گھوڑے بلقا ءکو پہچان لیا،اور فرمایا؛”یہ گھوڑا تو یقینا میرا گھوڑا بلقاءہے ،لیکن اُس پر سوار کے بارے میں یقین نہیں ہے۔حالانکہ اُس کے لڑنے اور حملہ کرنے کا انداز تو پورا ابو محجن کا ہے،لیکن ابو محجن تو قید میں ہے۔“اُدھر میدان جنگ میں مسلمان مجاہدین الگ الگ رائیں قائم کر رہے تھے۔کسی کی رائے تھی کہ اگر حضرت خضر جنگوں میں شریک ہو سکتے ،تو ہم کہتے کہ بلقاءپر حضرت خضر سوار ہیں۔کوئی کہہ رہا تھا کہ اگر فرشتے براہ راست جنگوں میں شریک ہوتے ،اور دکھائی دیتے تو ہم کہتے کہ ایک فرشتہ ہماری حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔حضرت ابو بحجن کا کوئی بھی ذکر نہیں کر رہا تھا،کیونکہ اُن کے خیال میں تو وہ قید میں تھے۔جب آدھی رات ہو گئی تو فارسیوں نے جنگ بند کردی،اور مسلمان بھی لوٹ آئے۔اُس وقت حضرت ابو محجن ثقفی بھی بلقاءکو لیکر اُسی راستے سے محل میں واپس آگئے،جس راستے سے گئے تھے۔اور بلقاءکو اُس کی جگہ باند ھکر خود اپنے ہاتھوں اور پیروں میں زنجیریں اور بیڑیاں پہن لیں۔سیدہ سلمیٰ نے حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کو حضرت ابو محجن ثقفی کے بارے میں بتایا۔تو آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں بلوایا ،اور آزاد کرتے ہوئے فرمایا؛”جاو¿ !میں تمہیں کسی بات پر اُس وقت تک نہیں پکڑوں گا،جب تک تم عملی طور پر اسے انجام نہیں دو گے۔“

شہداءکی تدفین اور فارسیوں کی لاشیں

آدھی رات میں جنگ ختم ہونے کے بعد مسلمان اپنے شہدا ءکو اُٹھاکر لے آئے،اور زخمیوں کو خواتین کے حوالے کیا،جنہوں نے اُن کی دیکھ بھال اور مرہم پٹی کی۔مسلمانوں کے ڈھائی ہزار مجاہدین شہید ہوئے تھے،اور فارسیوں کے دس ہزار سے زیادہ سپاہی قتل ہوئے تھے۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے اجازت دی کہ اگر چاہو تو شہداءکو غسل دے کر دفن کرو،یا پھر بغیر غسل کے دفن کرو ،جو بہتر ہے۔تاکہ شہداءقیامت کے دن اِسی حال میں اﷲ کی بارگاہ میں حاضر ہوں۔شہداءکے نگراںحضرت حاجب بن زید تھے،خواتین اور بچوں نے قبریں کھودیں، اور جنگ میں شہید ہوئے ڈھائی ہزار شہداءکو دفن کیا۔جبکہ فارسیوں نے اپنے مقتولوں کی لاشوں کو نہیں اُٹھایا،اور وہ وہیں میدان میں بے گورو کفن پڑی رہیں۔اور پورا میدان فارسیوں کی لاشوں سے بھرا پڑا تھا۔

یوم عمواس

قادسیہ میں تیسرے دن جو جنگ ہوئی ،اُسے ”یوم عمواس“ کہا جاتا ہے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب جنگ کا تیسرا دن شروع ہوا تو مسلمان اور اہل عجم اپنے اپنے مورچے پر آگئے۔اِس جنگ میں اب تک مسلمانوں کے دوہزار مجاہدین زخمی اور شہیدہو چکے تھے۔اور فارسیوں کے دس ہزار سے زیادہ قتل ہو چکے تھے۔اور اتنے ہی زخمی ہو چکے تھے۔حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ رات بھر مسلمانوں کو ہدایات دیتے رہے،اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ وہ اپنے انہی مورچوں پر ڈٹے رہیں،جن پر کل متعین تھے۔صبح ملک شام سے آنے والا پورا لشکر آگیا،پورے لشکر کے سپہ سالار حضرت ہاشم تھے،اور انہوں نے حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو لشکر کے ”مقدمة الجیش “پر مقرر کر کے پہلے ہی بھیج دیا تھا،اور وہ ایک دن پہلے ہی پہنچ گئے تھے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں