12 حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
قسط نمبر 12
یہودی منافق عبد اﷲ بن سبا کی سازش، حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ مدینۂ منورہ میں، حضرت ابو ذر تنہائی میں، یزد گرد کا فرار، یزد گرد (جرد) چوہے کی موت مارا گیا، 30 ہجری کے متفرق واقعات، حضرت معاویہ بن ابی سفیان پورے ملک شام کے گورنر،
یہودی منافق عبد اﷲ بن سبا کی سازش
اِسی سال 30 ہجری میں حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کی تلخی کا واقعہ پیش آیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ ملک شام میں مقیم تھے اور مسلمانوں کو تعلیم دیتے تھے اور فرماتے تھے : ” اے دولت مند لوگو ! تم غریبوں کے ساتھ ہمدردی کرو ۔وہ لوگ جو سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور انہیں اﷲ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے ! تم انہیں آگ میں ٹھکانے کی خوشخبری سنا دو جہاں اُن کی پیشانیوں ،پہلوؤں اور پشت پر داغا جائے گا ۔“ ایک منافق عبد اﷲ بن سبا جو یہودی تھا اور دکھاؤے کے لئے اسلام قبول کر لیا تھا لیکن در پردہ مسلمانوں میں اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کرتا تھا اُس نے حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ کی تعلیمات کو مسلمانوں میں غلط انداز میں پیش کرنا شروع کر دیا ۔اُس نے حضرت ابو الدردا رضی اﷲ عنہ کو بھڑکانے کی کوشش کی تو انہوں نے اُسے دھتکار دیا ۔پھر وہ منافق حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ عنہ کو بھڑکانے لگا تو آپ رضی اﷲ عنہ اُسے پکڑ کر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے پاس لے گئے جو ملک شام کے گورنر تھے ۔حضرت عبادہ بن صامت رضی اﷲ عنہ نے بتایا کہ حضرت ابوذر رضی اﷲ عنہ کی تعلیمات کو یہ منافق جو پہلے یہودی تھا غلط انداز سے لوگوں میں پیش کر رہا ہے اور آپ رضی اﷲ عنہ کے خلاف لوگوں کو بھڑکا رہا ہے ۔حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے اُسے ملک شام سے باہر نکال دیا ۔
حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ مدینۂ منورہ میں
حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ کے بارے میں لوگوں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو بتایا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ اِسی قسم کی تقریریں کرتے رہے ۔یہاں تک کہ غریب طبقے پر اِن باتوں کا بہت اثر ہوا اور انہوں نے دولت مندوں کو مجبور کیا تو دولت مند طبقہ نے شکایت کی ۔یہ حالت دیکھ کر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کو لکھا کہ حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ میرے لئے مشکلات کا باعث بن گئے ہیں اور ایسی ویسی باتیں کہتے پھرتے ہیں ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے جواب میں خط لکھا : ” فتنہ و فساد کی جڑیں نمودار ہو گئیں ہیں ،اب وہ پھوٹنا چاہتی ہیں تم اس ذخم کو مت چھیڑو بلکہ حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ کو میرے پاس بھیج دو اور اُن کے ساتھ نرمی اختیار کرو اور اُن کے لئے زاد ِ راہ مہیا کر کے ایک رہنما کے ساتھ بھیجو اور جہاں تک ممکن ہو سکے عوام کو روکے رکھو کیونکہ تمہارا یہ نظم و ضبط تمہارے کام آئے گا ۔“ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ نے حکم کے مطابق حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ کو مدینۂ منورہ بھیج دیا
حضرت ابو ذر تنہائی میں
سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ تبوک میں حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ شریک ہوئے تھے اور راستے میں آپ رضی اﷲ عنہ کا اونٹ بیٹھ گیا تھا اور اُٹھ نہیں رہا تھا جس کی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ لشکر سے پیچھے رہ گئے تھے ۔جب اونٹ نہیں اُٹھا تو آپ رضی اﷲ عنہ اپنا سامان لیکر پیدل ہی اکیلے چل پڑے ۔سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم لشکر کے ساتھ آگے بڑھکر پڑاو¿ ڈال چکے تھے کہ لوگوں کو ایک شخص اکیلا ہی اپنا سامان اُٹھائے ہوئے آتا دکھائی دیا ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ کو پہچان لیا اور فرمایا : ” ابو ذر کا بھی عجیب معاملہ ہے ! تنہا آرہے ہیں اور تنہائی میں ہی انتقال بھی ہو گا ۔“ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : جب حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں مدینہ¿ منورہ میں حاضر ہوئے تو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” کیا بات ہے کہ اہل شام آپ رضی اﷲ عنہ کی شکایت کرتے ہیں ؟ “ حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” دولت مندوں کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ مال و دولت جمع کر کے رکھیں ۔“ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” اے حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ ! میرا یہ فرض ہے کہ میں اپنے فرائض ادا کروں اور رعایا کے ذمہ جو واجبات ہوں انہیں وصول کروں اور میں انہیں زاہد بننے پر مجبور نہیں کر سکتا البتہ انہیں محنت کرنے اور کفایت شعار بننے کی تلقین کر سکتا ہوں ۔“ اِس پر حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” آپ رضی اﷲ عنہ مجھے مدینۂ منورہ سے باہر رہنے کی اجازت دیدیں کیونکہ مدینہ¿ منورہ اب میرا گھر نہیں رہ گیا ہے ۔“ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” کیا آپ رضی اﷲ عنہ مدینہ¿ منورہ کے بجائے اُس سے بدتر مقام پر رہنا چاہتے ہیں ؟ “ حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” مجھے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ جب مدینہ¿ منورہ کی تعمیرات ” سلع “ تک ہو جائیں تو میں وہاں سے نکل جاو¿ں ۔“(ابن کثیر) اِس پر حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : ” ایسی صورت میں آپ رضی اﷲ عنہ کو جو حکم ملا ہے اُس کی تعمیل کریں ۔“ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے انہیں ”ربذہ “ میں زمین دے دی اور اونٹوں کا ایک ریوڑ دیا اور غلام دیئے اور حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ ”ربذہ “ میں رہائش پذیر ہو گئے ۔حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے اُن سے فرمایا : ” آپ رضی اﷲ عنہ مدینہ¿ منورہ آیا کرنا اور بدو ( اعرابی یعنی دیہاتی ) نہ بن جانا ۔“ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں : ” حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ مدینہ¿ منورہ آیا جایا کرتے تھے لیکن آپ رضی اﷲ عنہ کوتنہائی اور خلوت نشینی زیادہ پسند تھی ۔“
یزد گرد کا فرار
خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ سلطنت فارس کا حکمراں کسریٰ یزد گرد فرار ہو کر سلطنت ِفارس اور ترکستان کے سرحدی علاقے ” جور “ میں پناہ گزین تھا ۔ہم نے اُس کا ذکر وہیں روک دیا تھا اور بتایا تھا کہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں یزد گرد کا ذکر کریں گے ۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : عبد اﷲ بن عامر نے سلطنت فارس کے سرحدی علاقے کی طرف مسلمانوں کا لشکر بھیجا تو یزدگرد ۰۳ ہجری میں ”جور “ سے بھاگ کر ارد شیر خیرہ پہنچا ۔عبد اﷲ بن عامر نے اُس کے تعاقب میں مجاشع بن مسعود کو اور بعض کہتے ہیں ہرم بن حبان یشکری یا عبسی کو لشکر دیکر روانہ کیا اور وہ کرمان تک تعاقب کرتے چلے گئے ۔یزد گرد گھبرا کر کرمان سے خراسان چلا گیا راستے میں ”سیر جان “ سے چھ یا سات کوس کے فاصلے پر برف باری ہوئی ۔مجاشع بن مسعود کے دستے کے سب لوگ برف باری کا شکار ہوگئے اور صرف مجاشع لشکر اسلام میں واپس آئے ۔یزد گرد نے جب اسلامی فتوحات کے سیلاب کو آگے بڑھتے دیکھا تو خراسان سے ” مرو“ بھاگ گیا ۔اُس کے ساتھ خر زاد ( رستم کا بھائی ) بھی تھا لیکن ”مرو “ کے حاکم ماہویہ کے مشورے سے خرزاد عراق لوٹ گیا ۔
یزد گرد (جرد) چوہے کی موت مارا گیا
یزد گرد (جرد) کو 31 ہجری میں قتل کر دیا گیا لیکن ہم یہیں ذکر کر دیتے ہیں تاکہ تسلسل بر قرار رہے ۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں : اِس کے بعد یزد گرد نے ترکستان جانے کا ارادہ کیا تو ماہویہ نے اُس سے کہا کہ سارا مال و دولت یہیں چھوڑ جائے ۔یزد گرد نے اُس کی طرف توجہ نہیں کی تب ماہویہ نے ترکوں سے سازش کر لی اور اُن کو خفیہ طور سے ”مرو “ بلا لیا ۔رات میں جب سب سو گئے تو ترکوں نے اُٹھ کر یزد گرد کے ساتھیوں کو قتل کر دیااور یزد گرد پیدل ہی بھاگا اور دریائے مرغاب کے قریب ایک گاؤں میں پہنچ کر ایک چکی چلانے والے کے گھر میں چھپ گیا ۔دن بھر کا تھکا ماندہ تھا لیٹتے ہی سو گیا ۔چکی چلانے والے نے اُس کی زرق برق پوشاک کے لئے اُسے قتل کر کے دریا میں ڈال دیا ۔بعض کہتے ہیں کہ ماہویہ نے ترکوں سے سازش نہیں کی تھی بلکہ جب یزد گرد کے ساتھیوں اور اہل مرو سے ان بن ہو گئی اور لڑائی شروع ہو گئی تو یزد گرد بھاگ کر ایک چکی چلانے والے کے یہاں پناہ گزین ہوا اور اُس نے اُس کو مار کر دریا میں ڈال دیا ۔اِس کے علاوہ بھی یزد گرد کے قتل کے بارے میں کئی روایتیں ہیں لیکن ایک بات تو طے ہے کہ یزد گرد چوہے کی موت مارا گیا اور اِس طرح ”سلطنت فارس “ کا صفایا ہوگیا اور اُس کے ہر طرح کے حکمرانوں کا خاتمہ ہو گیا ۔
30 ہجری کے متفرق واقعات
30 ہجری میں خلیفۂ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے جمعہ کی نماز میں ایک اور اذان کا اضافہ کیا ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : 30 ہجری میں حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے جمعہ کی نماز میں ایک اور اذان کا اضافہ کیا اور حج کے موقع پر منیٰ کے مقام پر پوری چار رکعت نماز پڑھی اور اِس سال مسلمانوں کے ساتھ حج کیا ۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں : اِس سال حضرت اُبی بن کعب رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا اور حضرت جبار بن صخر رضی اﷲ عنہ کا کا انتقال ہوا ۔آپ رضی اﷲ عنہ بدری صحابی ہیں اور ساٹھ سال کی عُمر میں انتقال ہوا ۔حضرت حاطب بن بلتعہ کا انتقال ہوا ۔آپ رضی اﷲ عنہ بدری صحابی ہیں اور بعد کے معرکوں میں بھی شرکت کی ۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہیں ملک مصر کے بادشاہ مقوقش کے پاس اپنا سفیر بنا کر بھیجا تھا ۔حضرت طفیل بن حارث رضی اﷲ عنہ کا بھی اِسی سال انتقال ہوا ۔آپ رضی اﷲ عنہ بدری صحابی ہیں اور حضرت عبد اﷲ بن کعب رضی اﷲ عنہ کا بھی اِسی سال انتقال ہوا ۔آپ رضی اﷲ عنہ بھی بدری صحابی ہیں اور اُس روز آپ رضی اﷲ عنہ کی ڈیوٹی خمس پر تھی ۔اِس سال حضرت عبد اﷲ بن مظعون رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا ۔آپ رضی اﷲ عنہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اﷲ عنہ کے بھائی ہیں اور ملک حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور بدری صحابی ہیں ۔اِس سال حضرت عیاض بن زہیر ، حضرت مسعود بن ربیعہ اور حضرت معمر بن ابی سرح رضی اﷲ عنہم کا بھی انتقال ہوا اور یہ تینوں بھی بدری صحابی ہیں ۔
حضرت معاویہ بن ابی سفیان پورے ملک شام کے گورنر
خلیفۂ دُوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت کے آخری چند مہینوں میں حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ ،حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ ، حضرت عُمیر بن سعد انصاری رضی اﷲ عنہ اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ ملک شام میں گورنر تھے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں : ” حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کے انتقال کے بعد حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اُن کی جگہ حضرت سعید بن خدیم جمعی رضی اﷲ عنہ کو گورنر بنا دیا اور اُن کی وفات کے بعد حضرت عُمیر بن سعد انصاری رضی اﷲ عنہ کو گورنر بنا دیا ۔حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کے انتقال کے بعد اُن کے بھائی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو اُردن کے ساتھ ساتھ دمشق کا بھی گورنر بنا دیا ۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ شہید ہوئے تو حضرت عُمیر بن سعد انصاری رضی اﷲ عنہ حمص اور قنسرین کے گورنر تھے اور حضرت علقمہ بن مجرز فلسطین کے گورنر تھے اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ دمشق اور اُردن کے گورنر تھے ۔خلیفہ¿ سُوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں جب حضرت عبد الرحمن بن علقمہ کنانی کی وفات ہوئی تو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو فلسطین کا بھی گورنر بنا دیا ۔اِس کے بعد حضرت عُمیر بن سعد انصاری رضی اﷲ عنہ سخت بیمار ہو گئے اور جب اُن کا مرض طول پکڑ گیا تو انہوں نے گورنری سے استفعےٰ دے دیا اور اپنے گھر جانے کی اجازت طلب کی تو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ نے انہیں اجازت دے دی اور اُن کے علاقے کا گورنر بھی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ کو بنا دیا ۔اِس طرح حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ عنہ پورے ملک شام کے حاکم بن گئے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں