12 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 12
رستم کی صف بندی، کسریٰ کا خبر رسانی کانتظام، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی معذوری اور خطبہ، کمانڈر حضرت عاصم بن عمر و کی تقریر، مسلمان عمائدین کی تقریریں، حضرت قیس اور حضرت غالب کی تقریریں، حضرت ابن ہذیل اور حضرت بسر بن ابی اہم کی تقریریں، حضرت عاصم بن عمرو اور حضرت ربیع بن بلاد کی تقریر، حضرت ربعی بن عامر کی تقریر، دونوں لشکروں کی کیفیت، جنگ کے متعلق ہدایات، انفردی مقابلے، ہاتھیوں کی وجہ سے پریشانی، بنو اسد اور بنو کندہ کی بہادری، شدید جنگ، ہاتھیوں پر حملہ اور تباہی، یوم ارمات
رستم کی صف بندی
فارسی لشکر نہر عتیق پار کر کے مسلمانوں کے مقابلے پر آگیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب اہل فارس نے دریا عبور کر لیاتو وہ اپنی صفوں میں پہنچ گئے۔رستم اپنے تخت پر بیٹھا،اور اُس نے قلب (درمیانہ لشکر) کے لئے اٹھارہ ہاتھی مقرر کئے،جن پر صندوقوں کے ساتھ آدمی سوار تھے۔دونوں بازوو¿ں پر سات یا آٹھ ہاتھی تھے،جن پر صندوقوں کے ساتھ آدمی سوار تھے۔اُس نے اپنے اور میمنہ کے درمیان جالینوس کو مقرر کیا،اور اپنے اور میسرہ کے درمیان بیرزان کو مقرر کیا،”پل“دونوں فریقین یعنی مسلمانوں اور فارسیوں کی سوار فوجوں کے درمیان تھا۔جس وقت دونوں لشکر نے ایک دوسرے کے سامنے پڑاو¿ ڈالا تو ظہر کی نماز کا وقت قریب تھا۔مو¿ذن نے اذان دی تو مسلمان نماز کے لئے جمع ہونے لگے ،رستم نے انہیں جمع ہوتے دیکھ کر اپنی فوج میں بھی اعلان کرا دیا کہ وہ جنگ کے لئے تیار ہوجائیں۔لوگوں نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے؟تو رستم نے کہا کہ تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ وہاں اعلان ہوا ہے ،اور وہ لوگ ہمارے مقابلے کے لئے جمع ہو رہے ہیں۔لیکن جب کچھ دیر بعد اُس نے مسلمانوں کو با جماعت نماز ادا کرتے دیکھا تو ایک ساتھ قیام، رکوع ،سجدہ اور قعدہ کرتے دیکھ کر حیرت میں پڑ گیا۔
کسریٰ کا خبر رسانی کانتظام
سلطنت فارس کے بادشاہ کسریٰ نے جب رستم کو لشکر دیکر مسلمانوں سے لڑنے کے لئے بھیجا تو اُس نے خبر رسانی کا بہت بہترین انتظام کیا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔کسریٰ یزد گرد نے جب رستم کو روانہ کیا تو اُس وقت سے اُس نے اپنے ایوان شاہی کے دروازے پر ایک آدمی مقرر کر دیاتھا۔جو ہمیشہ وہاں موجود رہتا تھا،اور اُسے خبریں پہنچایا کرتا تھا۔دوسرا آدمی وہاں مقرر کیا تھا ،جہاں سے وہ گھر بیٹھے خبریں سن سکے۔تیسرا گھر کے باہر ہوتا تھا،اِس طرح اُس نے ہر اہم مقام پر ایک آدمی مقرر کیا تھا۔جب رستم نے قادسیہ میں مسلمانوں کے لشکر کے سامنے پڑاو¿ ڈال تو وہاں کا شخص اگلے کو خبر دیتا ،تو وہ اگلے کو پہنچاتا تھا،اور وہ اگلے کو۔اِس طرح درجہ بدرجہ خبریں کسریٰ کے پاس مسلسل پہنچ رہی تھیں۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی معذوری
جب دونوں لشکروں نے ایک دوسرے کے سامنے پڑاو¿ ڈالا تو اُس وقت حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی بیٹھک اور پیٹھ پر پھوڑے نکل آئے تھے،اور عرق النساءکی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ گھوڑے پر سوار نہیں ہوسکتے تھے،اور نہ ہی آرام سے ٹیک لگا کر بیٹھ سکتے تھے،صرف اوندھے لیٹ سکتے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب رستم نے دریا عبور کیا تو مسلمانوں کے لشکر میں حضرت زہرہ اور فارسیوں کے لشکر میں جالینوس کے تبادلے ہوئے۔حضرت زہرہ کو ابن السمط کی جگہ مقرر کیا گیا،اور رستم نے جالینوس کو ہر مز کی جگہ مقرر کیا۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو عرق النساءکا مرض تھا،اور پھوڑے بھی نکلے ہوئے تھے۔وہ اوندھے لیٹے رہتے تھے،انہوں نے اسلامی لشکر پر اپنا نائب حضرت خالد بن عرفطہ کو بنایا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو عرق النساءاور جسم پر پھنسیوں کی تکلیف ہو گئی ۔جس کی وجہ سے وہ سوار نہیں ہو سکتے تھے،اور وہ محل میں تکیے پر اپنے سینے کے سہارے لیٹے میدان جنگ میں دیکھ رہے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے جنگ کا معاملہ حضرت خالد بن عرفطہ کے سپرد کر دیا تھا۔اور میمنہ پر حضرت جریر بن عبد اﷲ بجلی رضی اﷲ عنہ کو سپہ سالار بنایا تھا۔میسرہ پر حضرت قیس بن مکثوح کو سپہ سالار مقرر کیا تھا۔حضرت قیس اور حضرت مغیرہ رضی اﷲ عنہم جنگ یرموک میں شامل ہونے کے بعد حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کی طرف سے ملک شام سے بھیجی ہوئی کمک کے طور پر آئے تھے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کا خطبہ
ظہر کی نماز کے بعد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے اسلامی لشکر کے سامنے خطبہ دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے محرم لحرام ۴۱ ھجری میں پیر کے دن خطبہ دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حمد و ثناءاور درود و سلام کے بعد فرمایا؛”اﷲ بر حق ہے،اُس کی بادشاہت میں کوئی شریک نہیں ہے۔اور وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا ہے۔اُس نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ؛ترجمہ”ہم نے زبور میں لکھ دیا تھا کہ اِس سرزمین کے میرے نیک بندے وارث ہوں گے۔“یہ سرزمین تمہاری میراث ہے،اور تمہارے پر وردگار نے اِس کا وعدہ کیا ہے۔بلکہ تین سال سے اِس سرزمین کو تمہارے لئے حلال کر رکھا ہے۔تم اِسی زمین سے خوراک حاصل کر کے کھا رہے ہو۔اِن سے خراج وصول کر رہے ہو،اِن کے باشندوں کو قید کر رکھا ہے۔اور بعض لوگوں کا کام تمام کیا ہے۔اور آج تک یہ سلسلہ چلا آرہا ہے ،اور تمہارے مجاہدین نے اِن پر فتح حاصل کی ہے۔اب اِن کی یہ جماعت تمہارے مقابلے پر آئی ہے۔تم شرفائے عرب ہو،اور اُن کے معزز سردار ہو۔ہر قبیلہ کے بہترین افراد یہاں موجود ہیں۔تم اپنے ملک کی عزت و آبرو رکھنے والے ہو۔اگر تم دنیا سے بے رغبتی اور آخرت سے دلچسپی رکھو گے ،تو اﷲ تعالیٰ تمہیں دنیا اور آخرت دونوں عطا فرمائے گا۔اور اگر تم بزدلی اور کمزوری کا اظہا رکرو گے،تو تمہاری دنیا میںساکھ ختم ہو جائے گی،اور آخرت میں بھی تباہ و برباد ہو جاؤ گے۔“
کمانڈر حضرت عاصم بن عمر و کی تقریر
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے اسلامی لشکر میں ہر قبیلے میں اُن کے کمانڈر بنائے تھے،جو اپنے اپنے قبیلے کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔فوجوں کے ایک کمانڈر حضرت عاصم بن عمرو کھڑے ہوئے اور تقریر فرمائی؛”اﷲ تعالیٰ نے اِس ملک کو تمہارے لئے حلا ل کر رکھا ہے،اور اِس کے باشندے تمہارے ماتحت ہیں۔تم تین سال سے انہیں زک پہنچا رہے ہو،اور وہ تم پر غالب نہیں آسکے ہیں۔بلکہ ہمیشہ تم سربلند رہے،اﷲ تمہارے ساتھ ہے۔اگر تم صابر رہے،اور تم شمشیر زنی اور نیزہ بازی میں میں سچے ثابت ہوئے۔تو تمہارے قبضے میں اُن کے مال وزر،زن(عورتیں)و فرزند (بیٹے) ہو ں گے۔اور اگر تم نے بزدلی یا کمزوری دکھائی ،تو تمہاری یہ جمعت باقی نہیں رہے گی۔تم اﷲ کو یاد کرو،اور اُن دنوں کو یاد کرو،جب اﷲ تعالیٰ نے تمہیں فتو حات دیں تھیں۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ تمہارا ملک بنجر اورویران ہے،اور بے آب و گیا ہ ہے۔اور نہ ہی وہاںقلعے ہیں،جن میں تم محفوظ ہو کر بیٹھ رہو۔تم اپنی پوری توجہ آخرت پر مبذول کرو۔“
مسلمان عمائدین کی تقریریں
حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے لشکر کے کمانڈروں اور ہر قبیلے کے سرداروں کو حکم دیا کہ وہ اپنے اپنے ماتحت مجاہدین کی حوصلہ افزائی اور جہاد کی تحریک کے لئے تقریریں کریں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم جاؤ!اور مجاہدین کے پاس جاکر اپنا حق ادا کرو،اور انہیں اُن کے فرائض جنگ سے آگاہ کرو۔تم ملک عرب کے شعرائ،خطبائ،دانشور،اور سورما سردار ہو۔تم مسلمانوں میں گشت کرو،انہیں نصیحتیں کرو،اور انہیں جنگ پر آمادہ کرو۔“تمام مسلم عمائدین اپنے اپنے لشکر اور قبیلے کے مجاہدین کے پاس آئے،اور انہیں جہاد کی ترغیب دی۔
حضرت قیس اور حضرت غالب کی تقریریں
حضرت قیس نے تقریر میں فرمایا؛”اے مجاہدین!اے مسلمانو!اﷲ کی حمد و ثناءکرو،اُس نے تمہیں ہدایت دی،اور تمہیںآزمایا۔وہ مزید نعمت عطا فرمائے گا،تم اﷲ کے احسانات یاد کرو،اور اُسی کی طرف متوجہ رہو۔کیونکہ تمہارے سامنے ”جنت “یا ”مال غنیمت“ہے۔اِس قصر کے پیچھے بنجر اور ویران زمین اور جنگلوں کے سوا کچھ نہیں ہے۔“حضرت غالب نے فرمایا؛”اے مجاہدین!اے مسلمانو!تم اﷲ کی تعریف بیان کرو،جس نے تمہیں آزمائش میں ڈالا ہے۔تم اُسی سے مانگو،وہ تمہیں مزید نعمتیں عطا فرمائے گا۔اُسی کو پکارو،وہ تمہاری آواز سنے گا۔اے اقوام ِ معد!(رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے آباءو اجداد میں سے ایک حضرت معد بن عدنان ہیں)تم کمزور نہیں ہو،تمہارے گھوڑے تمہارے قلعے ہیں۔تمہارے پاس وہ چیز ہے ،جو ہر وقت تمہاری تابع ہے،اور وہ چیز تمہاری تلوار ہے۔تم یاد کرو کہ مستقبل کے لوگ تمہارے بارے میں کہیں گے۔کیونکہ تمہارے کارناموں سے مستقبل کا آغاز ہو گا،اور تمہارے بعد کے زمانوں سے اُس کو تقویت پہنچے گی۔“
حضرت ابن ہذیل اور حضرت بسر بن ابی اہم کی تقریریں
حضرت ابن ہذیل اسدی نے فرمایا؛”اے اقوام معد!تم تلواروں کو اپنا قلعہ بناؤ،اور جنگل کے شیروں کی طرح مقابلہ کرو،اور چیتے کی طرح دشمنوں کے ساتھ جنگ کرو۔اور اﷲ پر بھروسہ رکھو،اور نظریں نیچی رکھو،اگر تلواریں کند ہو جائیں ،تو سمجھو کہ اﷲ کا یہی حکم ہے۔تم دشمنوںپر نیزہ بازی کرو،کیونکہ یہ وہاں پہنچ جاتے ہیں،جہاں تلواریں نہیں پہنچ سکتیں ہیں۔“حضرت بسر بن ابی اہم نے فرمایا؛”تم اﷲ کی حمد و ثناءکرو،تم عمل کے ذریعے اپنے قول کی تصدیق کرو۔تم نے اﷲ کی حمد کی ہے،جس نے تمہیں ہدایت دی ہے۔تم توحید کے قائل ہو،کیونکہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔تم اُس کی عظمت کو تسلیم کرتے ہو،اُس کے نبیوں،اور رسولوں پر ایمان لائے ہو۔اِس لئے تم ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہونا،تمہارے نزدیک دنیا سے زیادہ کوئی چیز حقیر نہیں ہونی چاہیئے۔کیونکہ دنیا اُسی کے پاس آتی ہے،جو اُسے حقیر سمجھتا ہے۔تم اُس کی طرف راغب نہ ہو جانا،ورنہ وہ تم سے گریز کرے گی۔تم اﷲ کی مدد کرو ،وہ تمہاری مدد کرے گا۔“
حضرت عاصم بن عمرو اور حضرت ربیع بن بلاد کی تقریر
حضرت عاصم بن عمرو نے فرمایا؛”اے اہل عرب !تم ملک عرب کے سردار ہو،تمہارا مقابلہ عجم کے سرداروں سے ہے۔تم جنت حاصل کرنے کے لئے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہو،اور یہ لوگ دنیا حاصل کرنے کے لئے مقابلہ کر رہے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ یہ دنیا والے ،تم طالبان آخرت کے مقابلے میں زیادہ محتاط اور ہمت والے ثابت ہو جائیں۔تم آج کوئی ایسا کام نہ کرو،جو مستقبل میں عربوں کے لئے ننگ و عار کا باعث بنے۔“حضرت ربیع بن بلاد نے فرمایا؛”اے اہل عرب ! تم دین و دنیا کے لئے جنگ کرو،اور اپنے پر وردگار سے مغفرت اور ایسی جنت حاصل کرنے میں جلدی کرو۔جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے،یہ جنت پرہیز گاروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔اگر شیطان تمہارے سامنے اِس جنگ کو بہت بڑا کر کے دکھائے ،تو تم یاد کرو کہ موسم حج میں تم لوگوںکے متعلق خبریں سنائی جائیں گی۔لہٰذا تم اپنے آپ کو اچھی خبروں اور کارناموں کے مستحق بناؤ۔ “
حضرت ربعی بن عامر کی تقریر
حضرت ربعی بن عامر نے فرمایا؛”اﷲ تعالیٰ نے تمہیں اسلام کی ہدایت دی ،اور تمہیں اس کی بدولت متحد کیا۔اُس نے تم پر بہت زیادہ احسانات کئے ،اور صبر کو راحت قرار دیا ۔لہٰذا اپنے آپ کو صبر و استقلال کا عادی بناو¿،اور بہت جلد اِس کے عادی ہو جاو¿ گے۔گھبراہٹ اور پریشانی کا اظہار نہ کرو ،ورنہ تم اس کے عادی ہو جاو¿ گے۔“ہر ایک کمانڈر اور قبیلے کے سردار نے اس طرح گفتگو کی ،اور مسلمانوں میں آپس میں خود اعتمادی اور مقابلہ کرنے کا عہد و پیمان کیا،اور اِس سلسلے میں مناسب کاروائی کی گئی۔
دونوں لشکروں کی کیفیت
مسلمانوں کی طرح فارسیوں نے بھی آپس میں عہد و پیمان کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اسی طرح اہل فارس نے بھی اہم عہد و پیمان کیا،اور ایکدوسرے کو زنجیروں سے باندھ لیا۔اِس قسم کی فوج تیس ہزار تھی۔حضرت شعمی فرماتے ہیں۔اہل فارس کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار تھی۔اُن کے تیس ہاتھی تھے،اور ہر ہاتھی کے ساتھ چار ہزار فوج تھی۔حضرت مسعود بن خراش روایت کرتے ہیں ۔فارسیوں کی فوجیں نہر عتیق کے کنارے پر تھیں،اور مسلمانوں کا لشکر قدیس کی دیوار کے ساتھ ساتھ تھیں ،اور خندق اُن کے پیچھے تھی۔اِس طرح مسلمانوں اور فارسیوں کے لشکر خندق اور نہر کے درمیان تھیں۔اُن کے ساتھ تیس ہزار زنجیر سے جکڑی ہوئی فوجیں تھیں ،اور تیس جنگی ہاتھی تھے۔اور ایسے ہاتھی بھی تھے،جن پر اُن کے بادشاہ بیٹھے ہوئے تھے۔جو جنگی کاموں کے لئے نہیں تھے۔
جنگ کے متعلق ہدایات
اُدھر فارسی لشکر نہر پار کر رہا تھا،اور اپنی صفیں مرتب کر رہا تھا۔اور اِدھر اسلامی لشکر میں تمام کمانڈر اور سردار تقریریں کر رہے تھے۔اور لشکر مرتب کر رہے تھے۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ محل کے جھروکے پر لیٹے وہاں سے مسلمانوں کو ہدایات دے رہے تھے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے لشکر کے کمانڈروں اور سپہ سالاروں سے فرمایا؛”اے غازیان اسلام!اپنے اپنے مورچے پر پہاڑ کی طرح جمے رہنا،اور جب متحرک ہونا تو دریا کے پُر جوش سیلاب کی طرح جنبش کرنا۔میں نماز ظہر کے بعد پہلی تکبیر کہوں گا،تم لوگ بھی تکبیر کہنا،اور لشکر کی صفوں کو درست کر کے مستعد ہو جانا۔اور جب میں دوسری تکبیر کہوں ،تو تم بھی تکبیر کہنا،اور مسلح ہو کر نوک دار نیزوں کو دشمنوں کے سینوں میں پیوست کرنے کے لئے سامنے کر لینا،اور شمشیر بکف ہو جانا۔پھر جب میں تیسری تکبیر کہوں تو اپنے لشکر کو موقع موقع سے لے جاکر لڑائی پر تل جانا۔جب میں چوتھی تکبیر کہوں،تو تم بھی تکبیر کہتے ہوئے دشمنوں کی صفوں میں گھس جانا،اور” لا حول ولا قوة“کہہ کر دست بدست لڑنے لگنا۔“
انفردی مقابلے
قادسیہ میں دونوں لشکر ایکدوسرے کے سامنے صف بندی کر چکے تھے۔اور قاعدے کے مطابق پہلے انفرادی مقابلے شرو ع ہوئے۔امام ابن اثیر لکھتے ہیں۔تیسری تکبیر سنتے ہی اسلامی لشکر سے حضرت غالب بن عبد اﷲ اسدی باہر نکلے،اور فارسی لشکر سے ہرمز نکل کر آیا۔یہ زرین تاج پہنے ہوئے تھا،اور فارس کے مشہور بادشاہوں میں سے تھا۔حضرت غالب نے اُس سے کچھ دیر مقابلہ کیا ،پھر اُسے گرفتار کر کے حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچا کر لشکر میں آگئے۔اس کے بعدحضرت عاصم بن عمرو اسلامی لشکر سے باہر نکلے ،اور مقابلے کے لئے للکارا ،تو فارسی لشکر سے ایک گھڑ سوار نکل کر مقابلے کے لئے آیا۔حضرت عاصم بن عمرو نے نیزے سے اُس پر وار کیا،اُس نے نیزے کے وار کو ڈھال پر روک لیا۔فوراً حضرت عمرو نے دوسرے ہاتھ سے تلوار کھنچ کر اُس پر اتنا شدید حملہ کیا کہ وہ گھبرا کر فارسی لشکر کی طرف بھاگا۔حضرت عاصم نے اُس کا تعاقب کیا،اور فارسی لشکر کے قریب سے اُسے گرفتار کر کے لے آئے۔یہ فارسی لشکر کے باورچی کا مہتمم تھا،اِس کے پاس کھانے کی چیزیں تھیں،جن کو اگلے مورچے کے لوگوں نے کھایا۔حضرت عاصم کی یہ دلیری دیکھ کر فارسی لشکر سے ایک شخص چاند ی کا گرز لئے جڑاو¿ تاج پہنے گھوڑے کو کداتا ہوا نکلا۔اسلامی لشکر سے حضرت عمرو بن معدی کرب مقابلہ پر آئے۔اُس نے اُن پر گرز چلایا،تو انہوں نے اس کے وار کو خالی دے کر کمر میں ہاتھ ڈال کر اُٹھا لیا۔اور گھوڑے پر بٹھا کر لائے ،اِس کے بعد رستم نے ہاتھیوں کو بڑھنے کا حکم دیا ،اور اُسی وقت جنگ مغلوبہ شروع ہو گئی۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔پہلا شخص اِس جنگ میں جو گرفتار کیا گیا،وہ شہزادگان ِ فارس میں سے ہرمز نامی ایک شہزادہ تھا۔اِس کو حضرت غالب بن عبد اﷲ اسدی میدان جنگ سے گرفتار کر کے حضرت سعد رضی اﷲ عنہ کے پاس لائے،اور پھر لڑنے چلے گئے۔اِس دوران دوسرا شہسوار فارسی لشکر سے نکل کر میدان میں آیا۔حضرت عمرو بن معدی کرب اسلامی لشکر سے نکلے ،اور اُسے گھوڑے سے اُٹھا کر زمین پر پٹک دیا ،اور اُس کے سینے پر چڑھ کر ذبح کر ڈالا۔اور اُس کی زرہ اور ہتھیار اپنے قبضے میں کر لیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عمرو بن معدی کرب اسلامی لشکر کے سامنے اپنا گھوڑا دوڑا رہے تھے،اور فرمارہے تھے؛”یہ ایرانی(فارسی )سپاہی مینڈھوں کی طرح لڑتے ہیں۔“اِسی دوران ایک فارسی سپاہی نکل کر میدان میں آیا ،اور آپ پر تیر چلا دیا۔حضرت عمرو بن معدی کرب نے اُس کے تیر سے اپنے آپ کو بچایا ،اور آگے بڑھکر اُسے گھوڑے پر سے اُٹھا کر پٹک دیا ،اور ذبح کر دیا،اور فرمایا؛”تم اِن لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک کرو۔“
ہاتھیوں کی وجہ سے پریشانی
انفرادی مقابلے میں مسلمان حاوی ہوگئے،اور فارسیوں میں گھبراہٹ پھیلنے لگی،یہ دیکھ کر رستم نے ہاتھیوں کو آگے بڑھا دیا۔ابھی حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے چوتھی تکبیر نہیں فرمائی تھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب سواروں کے مقابلے میں فریقین میں جنگ شروع ہوئی تو ہاتھی والے لشکر نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ہاتھیوں کو دیکھ کر مسلمانوں کے گھوڑے بدکنے لگے،اور اِس کی وجہ سے مسلمانوں کے گھڑ سوارمنتشر ہو گئے۔اور ہاتھیوں کے سامنے قبیلہ بنو بجیلہ کے پیدل ہی کھڑے رہ گئے۔اِن بہادر مجاہدین نے پیدل ہی ہاتھیوں کا سامنا کیا،اور مقابلہ کرنے لگے۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے فوراًقبیلہ بنو اسد کے حضرت طلیحہ کو حکم دیا کہ بنو بجیلہ کو کور کریں،اور اُن کی مدد کریں۔حضرت طلحہ کھڑے ہوئے ،اور اپنے قبیلے کے مجاہدین سے فرمایا؛”اے میری قوم!ہمارے سپہ سالار نے بھروسے کے لوگوں سے امداد طلب کی ہے۔اگر انہیں معلوم ہوتا کہ تمہارے علاوہ کوئی دوسرا قبیلہ بھی اُن کی مدد کر سکتا ہے،تو وہ ضرور اُسی سے طالب امداد ہوتے ۔تم دشمنوں پر زور کا حملہ کرو ،اور بہادر شیروں کی طرح آگے بڑھو۔کیونکہ تمہارا نام ”اسد“(شیر)اِسی وجہ سے رکھا گیا ہے،کہ تم شیروں جیسے کام کرو۔آگے بڑھکر حملہ کرواور پیچھے نہ ہٹو،جنگ کرتے رہو اور راہ فرار اختیار نہ کرو،تم اپنے مورچے پر ڈٹے رہو۔اﷲ تمہاری مدد کرے گا،اﷲ کا نام لیکر دشمنوں پر حملہ کرو۔اﷲ کی قسم! تم ان پر حملہ کرتے رہو۔“
بنو اسد اور بنو کندہ کی بہادری
حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے ابھی چوتھی تکبیر نہیںفرمائی تھی۔اور جنگ صرف بنو بجیلہ ،بنو اسد،اور بنو کندہ کی طرف ہو رہی تھی۔بنو اسد نے بنو بجیلہ کو بہت اچھی طرح کور کیا،اور بہت تیزی سے نیزوں اور تلواروں سے شدیدحملہ کیا،اور ہاتھیوں کا زبردست مقابلہ کرنے لگے۔ایسے وقت میں حضرت اشعث بن قیس کندی نے اپنے قبیلے بنو کندہ سے فرمایا؛”اے بنو کندہ!اﷲ بنو اسد کا بھلا کرے،دیکھو وہ کس طرح بہادری اور بے جگری کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں۔انہوں نے اپنے قریب کے مجاہدین کو امداد سے بے نیاز کر دیا ہے۔مگر تم اِس بات کا انتظار کر رہے ہو،کہ کون تمہاری مدد کرتا ہے؟میں گواہی دیتا ہوں،کہ تم نے عربوں کے سامنے اپنی قوم کا عمدہ نمونہ پیش نہیں کیاہے۔اہل عرب جنگ لڑ رہے ہیںاور شہید ہو رہے ہیں،مگر تم گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے تماشہ دیکھ رہے ہو۔آگے بڑھو ،اور حملہ کرو۔“آپ تقریر سے بنو کندہ اتنے جوش میں آگئے اور اتنا زبردست حملہ کیا کہ تینوں قبیلے کے مجاہدین نے ہاتھیوں کو پیچھے دھکیل دیا۔
شدید جنگ
اُدھر بنو بجیلہ ،بنو اسد،اور بنو کندہ فارسیوں کے لشکر سے زبردست مقابلہ کر رہے تھے۔اور باقی قبائل کے مسلمان مجاہدین صفوں میں اپنی اپنی جگہ بالکل تیار کھڑے تھے۔اچانک رستم کے حکم سے فارسیوںنے ایک ساتھ اسلامی لشکر پر حملہ کر دیا ۔اُن کی قیادت جالینوس اور ذوالحاجب کر رہے تھے۔تمام مسلمان مجاہدین صبر سے صفوں میں کھڑے فارسیوں کے قریب آنے اور حضرت سعد کی چوتھی تکبیر کا نتظار کر رہے تھے۔جیسے فارسی سپاہی قریب پہنچے،اُسی وقت حضرت سعد رضی اﷲ عنہ بلند آواز سے چوتھی تکبیر فرمائی۔اور پہلے سے تیار اسلامی لشکر نے اتنی تیزی سے ایک ساتھ آگے بڑھ کر حملہ کیا کہ فارسیوں کے ہوش گم ہو گئے۔مسلمانوں نے عام دھاوا بول دیا،اور فارسی گھڑ سواروں کے سر کٹ کٹ کر فضا میں اُڑنے لگے۔یہ دیکھ کر رستم نے پورے فارسی لشکر کے آگے ،ہاتھیوں کو بڑھا دیا۔
ہاتھیوں پر حملہ اور تباہی
فارسی لشکر کے آگے ہاتھی آگئے،اور مسلمانوں کے گھوڑے انہیں دیکھ کر بد کنے لگے۔اِس موقع پر پیدل مجاہدین پر شدید دباو¿ پڑنے لگا۔حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے سواروں کے سپہ سالار حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ سے فرمایا؛”اے قبیلہ بنو تمیم!کیا تم اونٹوں اور گھوڑے والے نہیں ہو؟کیا تمہارے پاس اِن ہاتھیوں سے نجات حاصل کرنے کی کوئی تدبیر نہیں ہے؟“حضرت عاصم رضی اﷲ عنہ بولے۔”ضرور ہے۔“اور فوراً اپنے تیر اندازوں کو متعین کیا،اور اُن کے آگے جنگجوو¿ں کو صف بند کیا۔اور تیر اندازوں سے فرمایا؛”اے ماہر تیر اندازو!تم آج اپنی بہترین تیر اندازی کا مظاہرہ کرو،اور اِن ہاتھیوں کا مقابلہ کرو۔اور جنگجو مجاہدین سے فرمایا؛”تم اِن ہاتھیوں کے پیچھے جا کر اُن کے ہودوں کو کاٹ دو۔“پھر خود بھی اُن کی حفاظت کے لئے نکلے،اُس وقت بھی جنگ کی چکی شدید طور سے قبیلہ بنو اسد پر گردش کر رہی تھی۔حضرت عاصم رضی اﷲ عنہ کے تیر اندازوں نے ہاتھیوں پر شدید تیر اندازی کی،اور جنگجوو¿ں نے اُن کے ہودوں کو کاٹ دیا۔اب ہاتھی بُری طرح زخمی ہونے لگے،اور اُن پر سوار نیچے گرنے لگے۔یہاں تک کہ تمام ہاتھی سوار ختم ہوگئے،اور زخمی ہاتھی فارسی لشکر کی طرف بھاگنے لگے۔اور تمام مسلمان اپنے صحیح مورچے پر آگئے۔
یوم ارمات
حضرت عاصم بن عمرورضی اﷲ عنہ کی تدبیر کامیاب رہی،اور ہاتھیوں کا حملہ ناکام ہو گیا۔اور قبیلہ بنو اسد پر جو شدید دباو¿ پڑ رہا تھا،وہ دور ہو گیا۔اب ہر طرف سے مسلمان مجاہدین بڑھ بڑھ کر فارسیوں پر حملے کر رہے تھے۔ فارسیوں کی تعداد مسلمانوں کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی،اور وہ اسی وجہ سے کچھ حد تک مقابلے کی حالت میں تھے۔لیکن مسلمان مجاہدین تعداد کی پر واہ کئے بغیر لڑ رہے تھے،اور شدید حملے کر رہے تھے۔یہ جنگ سورج ڈوبنے تک جاری رہی ،بلکہ رات کا ایک حصہ بھی گذر گیا۔اِس کے بعد فریقین نے لڑائی بندکردی۔اِس دن جنگ بند ہونے تک قبیلہ بنو اسد کے پانچ سو مجاہدین شہید ہوئے۔اس دن مسلمانوں کے تمام قبائل اور اُن کے جنگی دستے حرکت میں آئے،اور بنو اسد اسلامی لشکر کی بہت مدد کرتے رہے۔حضرت عاصم رضی اﷲ عنہ نے دشمنوں پر سخت حملے بھی کئے ،اور مسلمانوں کی مدا فعت اور محافظت بھی کی۔یہ جنگ قادسیہ کا پہلا دن تھا،اور اِسے ”یوم ارمات“کہتے ہیں۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں